Index             |        Main Page       |      Research Agenda      |      Feedback

گلوبلائزیشن کےتباہ کن چیلنجز اور ان کا لاثانی سائنسی حل
تحریر : اکرام اللہ خان

ہم ہیں مسلم، ہےسارا جہاں ہمارا
خودی کی زد میں ہےساری خدائی
خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورة البقرہ) ساری کائنات ہم نےآپ لوگوں کےلئےتخلیق فرمائی ہے ۔وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (سورة یونس)
اور جنوں اور انسانوں کو صرف اور صرف (اپنی عبادت) حق کی بجاآوری کےلئےہی تخلیق کیا ہی۔
تہذیبی اعتبار سےدنیا آج جس دور سےگزر رہی ہےیہ ایک مادی دور ہی۔ علمِ سائنس کی ترقی اور اس کی بےشمار ایجادات نےانسان کو انتہائی حد تک مادہء پرست بنا دیا ہےاور نوبت یہاں تک پہنچی ہےکہ یہ انسانیت کو صرف اور صرف مادی کسوٹی پر ہی پرکھتا ہی۔ اسی مادی کسوٹی کی ہی بنیاد پر جملہ انسانیت کو تین دنیا (١) یورپین یا ترقی یافتہ اقوام First world یعنی (Advanced/Developed Nations) اور (٢) Second World یعنی (Middle East) عرب اقوام اوران کےStatus کی دوسری اقوام اور Third World یا ترقی پذیر ممالک کی اقوام ، جیسا کہ ایشیا ءاور براعظم افریقہ کی بہت ساری غریب ترین سلطنیں، یہ تو گلوب کی تقسیم بحیثیت اقوام دنیا کےنقشےپر پہلی اور دوسری جنگ عظیم کےبعد رونما ہوئی جو کہ اب تک اکیسویں صدی میں بھی اقوام متحدہ (UNO) کےکنٹرول میںہی۔جب ہمUNO Organization پر تحقیق کرتےہیںتو سلامتی کونسل (Security Council ) میں ہمیں پوری دنیا کا (١)سماجی (٢) سیاسی (٣) اقتصادی (٤) قانونی اور (٥) دفاعی نظام نظر آتا ہی۔ کیونکہ پانچ فیصلہ کن طاقتیں (Veto Powers ) امریکہ، برطانیہ ، فرانس، روس اور چین ہی کےفیصلےحرفِ آخر نظر آتےہیں، بلکہ گلوبلائزیشن ERA میں تو صرف اور صرف امریکہ کی کمانڈ اور کنٹرول ہی سارےعالم پہ چھائی ہوئی ہےاور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بالائےطاق رکھ کر امریکہ اور اس کےاتحادیوں نےبدمعاش ممالک (Rouge States ) کےخلاف پیشگی حملہ (Pre-emptive attack ) کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہےلہذا موجودہ فضا کو دیکھتےہوئےہم کہہ سکتےہیں کہ سیاستِ عالمی اب دو Status میں تبدیل ہو چکی ہی۔ طاقتور اور کمزور اقوام یا ممالک طاقتور ممالک اقتصاد و ہتھیار اور افواج کےمرہون منت ہیں۔ گویا پورےگلوب کا کمانڈ اور کنٹرول فی زمانہ Armed Forces کےپاس ہی۔ اس طرح کہ پوری دنیا کادفاعی بجٹ زیادہ ہی۔ اسی بنا پر دنیا میں Arms Export زیادہ ہی۔ جون 2006 میںروس میں G-8 ترقی یافتہ ممالک کی کانفرنس ہوئی تو اس دوران نہایت اہم نکتہ منظر عام پر آیا کہ پوری دنیا میں Arms Sale کا بجٹ پورےگلوب کےWelfare Budget سےکئی گنا زیادہ ہی۔ لہذا اکیسویں صدی کی سیاست ہتھیاروں کی اور مال کی سیاست ہی۔ اسی لئے(١) Land (٢) Sea (٣) Air (٤) Space (٥) Information پر حکمرانی کےلئےامریکہ نےمنصوبہ بندی کرتےہوئےتاکہ پوری دنیا پرAtomism&Capitalism اور Cosmopolitical Democraticism حاوی رہی۔ سامراجی اور استحصالی قوتیں چھائی رہیں۔ اس منصوبہ نےاپنی جولانی و طغیانی معروف امریکی صدر جناب ریگن صاحب کےدور میں دکھائی Starwars * اور Armageddon کےعملی مظاہرےحرکت میں آئےاور اب یہ عالمی حکمرانی New World Order کی تحریک جس کےبانی و آقا سرکار یہودی ہیں ۔ عیسائی دنیا ان کےاتحادی، آلہءکار ، مسلم اور کمزور اقوام اس کا First Target ہیں۔ موجودہ Superiority کی جنگ کا حتمی ٹائم فریم جو کہ امریکی منصوبہ کاروں نے دیا ہے2020 ءتک ہی۔
) Ref: http ://www.fas.org/spp/starwars/programs/nmd
گلوبلائزیشن کی عالمی جنگ چار محاذوں پر لڑی جا رہی ہی۔
(١) Globalization of the economy:
(2) politics:
(3) culture and (4) Law ( Ref: http://www.globapolicy.org/
The Most Popular Traffic Exchange اس نہایت ہی بھیانک خونریز اور ہولناک جنگ کی پالیسی کےچار ہی اہم نکات ہیں اور ان ہی پالیسی Mattersکےگر د ہی یہ جنگ اپنا دائرہ کار وسیع کئےہوئےہےجس کا دائرہ جناب امریکی صدر ریگن صاحب سےگردش میں کچھ زیادہ ہی تیز ہوا ہےاور اپنی پالیسیوں کو آگےبڑھاتا ہوا نظر آتا ہی۔موجودہ امریکی صدرGeorge W.Bush تک اس کا Status درج ذیل ہی۔ : موجودہ امریکی ،اسرائیلی اور ان کےاتحادی انہی خیالات کےپرزور حامی ہیں۔
Reagon's support of gung-ho neo-conservatives can only be understood in the light of the President's millinnialists thinking, "why waste time and money preserving things for the future? why be concerned about conservation? It follows that all domestic programms, especially those that entail capital outlay, can and should be curtailed to free up money to wage the war of Armageddon. The dispensationalists who preach Armageddon theology are a relatively new-cult-less than 200 years old. There are four main aspects of their belief system: (1) They are anti-Semtic.They profess a fervent love for Israel. Their support to Israel does not, however, arise out of a true love for the Jews and their sufferings. Rather, their "love and support" is based on their wanting Israel. In place for the "second coming of Christ (PBUH)" when they expect most Jews to be destroyed. (2) The dispensationalists have a very narrow view of God and the six billion people on the earth planet. They worship a tribal god who is only concerned with two people Jews and Chrsitians, who said tribal god intends to pit against one another for His favour. The other five billion people on the earth planet are just not on this God's radar except to be killed in the final battle. (3) The dispensationalists are certain sight down to their bones that they understand the Mind of God. They provide a scenario, little a movie script, that
unfolds with time sequences, epoches or " dispensations" all ending happily with an end-time escapism called the rapture-for a chosen few like themselves. They appeal to those who want to feel that they are on the "inside" of a "special group", with secret, profound knowledge.This desire for certitude causes millions of the followers of dispensationalism to trust their leaders to an extraordinary degree. (4) Fatalism is the fourth aspect of Dispenstionalists. The World, they say, is getting steadily worse and we can do nothing, so there is no point in doing any thing. The teachers teach about the wrath of a vengeful God and declare that God does not want us to work for peace, that God demands that we wage a nuclear war: Armageddon that will destroy the earth planet. The frightening by-product of these beliefs is that, since the cult is in power in the United States, it is so easy to create the very situations which are described, thus ensuring the fulfillment of the ideas of the Dispensationalists : the cult that wants to Create Armageddon and needs 5 billion people on the planet to go willingly to the sacrificial altar, and the Muslims have been chosen to be first. This is the most dangerous cult in the world .Ref: The Most Dangerous Cult in the World by : Lawrd Knight- Tacde zyk (july 30, 2005)
(٦) بیان کردہ چار مقاصد کےحصول کےلئی، چار اہداف پر چار نظریات کی مختلف ظاہری مادی (Physics) کی پیروکار اقوام، یہودی، عیسائی، منافقین اور مشرکین نےمشترکہ پلیٹ فارم پر دنیا کی بہترین ملٹی نیشنل کارپوریشنز کےذریعی(امریکہ اور اس کےاتحادیوں نےگویا US-war on terror کےعنوان یعنی Terrorism دہشت گردی کےخلاف 9/11 ستمبر کےحادثہ کےبعد افغانستان ، عراق اور کولمبیا میں جنگ چھیڑی ہوئی ہی، جس کا دائرہ کار دن بدن وسیع تر ہوتا جا رہا ہی، اس خطرہ کےپیش نظر کہ شاید حالیہ جنگ کہیں Third world war میں نہ بدل جائےاور اپنےارتقائی روائتی انداز کو تبدیل کرتےہوئےجنگی Strategy کہیں WEAPONS OF MASS DESTRUCTION کی حد تک نہ پہنچ جائےکیونکہ خوف و ہراس کےعالم میں جیسا کہ امریکہ، یورپی اقوام اور ان کےاتحادیوں پر طاری ہی۔ Political powers بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر دوبارہ اس حماقت کا پہلےسےکہیں زیادہ ارتکاب کر سکتی ہیں ،جیسا کہ ناگاساکی اور ہیروشیما میں Second world war میں امریکہ اور اس کےاتحادیوں نےکر ڈالا۔ اب تو خطرہ کہیں اس سےبھی کروڑ گنا The Most dangerous ہو گیا۔ کیونکہ جب 1956 ءمیں(٥١ میگاٹن) کےتھرمونیوکلر بم کا تجربہ کیا گیا تو اس کا Lethal effect سات ہزار مربع میل کےرقبہ پر تھا لیکن اس کیRadiations کا دائرہ کار ایک لاکھ مربع میل تک Judge کیاگیا پھر اس کےfatalism کا دارومدار بھی تو Environmental Effect سپیشل ہوا کےرخ ، Velocity اور دباوپر کرتا ہی، جیساکہ جدیدوقدیم اٹامزم کےہیرو،لاثانی محقق اور Master of all trades حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنی بہترین علمی لاثانی شاہکار کتاب حطمہ میں بیان کرتےہوئےفرما یا ہےکہ Radiations کا دائرہ کار اتنا وسیع ہےکہ پورےگلوب کےنظام کو Cover کرنےکی بھر پور صلاحیت رکھتا ہےاور Stratosphere کی Zone جس کا لیول زیرو سےبیس میل بلندی تک اپنی Operational صلاحیت اجاگر کرتا ہوا گلوب کا تدریجی مراحل میں رخ کرتا ہوا Radiations کا سپرےکرتا ہوا ہر جاندار اور بےجان کےسیل(Cell) اور نیوکلس کو کرش کرتا ہوا بذریعہ Respiration ، Blood circulatory سسٹم Genes mutation کرکےہڈیوں کےگودےمیں تابکار مادہ بیٹھ جاتا ہےجو کہ کئی سالوں تک خفیہ طریقےسےانسانیت کی ذلت ورسوائی کا سبب بنارہتا ہی۔ کیونکہ اس کاعلاج و کنٹرول فی الحال سائنس دان کےلئےناممکنات میں سےہی۔ منطقی انجام کےاعتبار سےہم کہہ سکتےہیں کہ موجودہ عالمی جنگSpace ,Air,Sea,Land, اور Information پر خفیہ کنٹرول کی بجائےکائنات کےInfrastructure کو کئی بار تباہ کرنےکی کلیتہََ خاصیت کی حامل ہی۔ اس جنگ کےBack پر چار Pillars نہایت ہی اہمیت کےحامل ہیں۔ جن کو War disaster profiteers کی Term میں باور کیا جاتا ہی۔
1) Oil, Gas & Energy Companies (US Department of Energy) 2)US Govt. officials(because they love you) 3) Military and defence contractors 4) Heads of Industry, Finance, Media, Policy and Hype.
مزید Elaboration کےلئے: Production Promisesکی طرف رجوع کرنا بھی نہایت ہی ضروری ہی، ویسےتو ان campaign contributors کی تعداد ہزاروں تک ہے۔بحر حال ان میں سےہم امریکہ کی Ten top military contractors اور Laboratories کا ذکر کریںگےاور ساتھ ہی اس کےاتحادیوں کےبھی تھوڑےسےاشارےAdd کرکےان کےنہایت ہی تباہ کن ترین ہتھیاروں کی نشان دہی ان کی Deployment کےحوالےسےکریں گےتاکہ اس دھرتی کےسینےپر رہنےوالی اشرف المخلوقات حضرت انسان کو تجزیہ ہو کہ میرےامن کےلئےجدید سائنسی دور کےعظیم ترین سائنسدانوں، دانشوروں، سیاستدانوں اور اعلیٰ طبقات Elites نےکیا کیا گل کھلا اور بکھیر کر میری راہ میں کتنی ہی تازہ سرسبزو شاداب پتیاں آراستہ و نچھاور کرکےواقعی مجھےاعلیٰ ترین پروٹوکول فراہم کر رکھا ہےیاتباہی کےکنارےپہ لا کھڑا کیا ہی۔ اس پروپیگنڈا کےساتھ کہ "After winning of the war against the terrorists,future is the brightest" کاتجزیہ کرتےہیںکہ حال کیا ہےماضی تو ہمیں خوب معلوم ہی۔ حال کو سامنےرکھتےہوئےمستقبل کی منظر کشی کی جا سکےگی۔ انشاءاللہ تعالیٰ العزیز۔ US Companies کیا کچھ بنا رہی ہیں۔
(جو دنیا کا سب سےبڑا طیارہ ہے)۔1) Boing : aside from 747,
boing makes: Smart bombs, F-15 fighters and apache helicopter
امریکی احتسابی کمپنی( Corpwatch,audit corporation accountable )کی ستمبر 2006 کی رپورٹ کےمطابق Boing has paid tens of millions in fines for selling flawed parts that led to thousands of unnecessary lendings and at least one fatal crash and has been plauged by scandals connected to the company's inluence- peddling. 2)Lockheed Martin: The world # 1 Military contractor ۔F/A-22,F-16 (fighters) ,U-2 ,SR -71 (Reconsses ),Javelin Missiles.
They have also made millions through insider trading, falsifying accounts, and bribing officials.3) Northrop Grumman :B-2 Stealth bomber. یہی وہ کمپنی ہےجس نےسعودی شہزادوں کو عراقی نیشنل آرمی کےخلاف Tune کرکے$48 millions کی رشوت دی اور عراق کو مروایا۔"Above board, their job is simply selling death
(4) General Dynamics : F-16, Abrams tanks and trident subs.بلین ڈالرز کی ٹریڈنگ کرتی ہی۔ )
(5) Raytheon: Means " light from the gods".
گلوبلائزیشن کی عالمگیر تحریک میں یہی کمپنی امریکہ اور اس کےاتحادیوں کی دفاعی backbone سمجھی جاتی ہی۔ اس کےاندر ایک sub-section ہےجو MDA of raytheon سےموسوم ہی۔ ( Missile defence agency of raytheon) جس کی ٹائیگر ٹیم ,
(Ballistics Missile Defense Organization(BMDO)
,Department of defense(DOD)
Pentagon اور USAF امریکی ایئر فورس کو ,National Missile Defense (NMD) امریکن اور ان کےاتحادیوں کی Latest research ہی جو کہ روس کی توڑ پھوڑ کےبعد Donald Ramsfeld کی سرپرستی میں 1996 ءمیں شروع کی گئی ہی، اس پر بلین ڈالرز
اور دوسرےوسائل خرچ ہوچکےہیں لیکن تاحال کامیابی نہ ہو سکی ہی، اسی پروگرام اور سسٹم پر امریکہ اور اس کےاتحادیوں کی حالیہ جنگWar On terror کادارومدار ہی، آج تک منصوبہمکمل نہ ہو سکا ہی۔ اس کی کچھ قومی اور بین الاقوامی کمزوریاں ہیں جس کی بنا پر تاحال NMD ہچکولےکھا رہاہی۔ ناکامی کےاسباب مندرجہ ذیل ہیں:۔
This system is rushing to failure in case of America'sا
war on terror spreading day by day and has no solution to control nuclear weapons at international level or small range missile attack to the US coastal states through smuggling as Richard L.Garwin say 50 years expert involvement in nuclear weapons and ballastic Missiles .Ref. 03605NMD P Draft 1 of 03/05/05.
The threat by S.Korea Missile programme to toepo-dong-1,and TD-2 Long range ICBM.
National Intelligence estimate emerging missile threat to North America during the next five years.
The evolution in the threat assessments culminated with the 15 July 1998 of the Commission report to access ballistic missile threat, chaired by US Defence Secretary Donald Rumsfeld.
Russia, China, S.Korea objections.
Totally depend on RADAR Tech(i.e. X-band-(Space base infrared sys) (SBIRS) by USAF- weak performance. Upgrade Early Warning RADAR (UEWR)
Space + Missile tracking system.
More budgetary and huge infrastructure.
Capable to conventional defense at limited range.
Booster assembly+electrical system is beyond scientists grip.
Accelerated+re-empty system.
Fixed based not mobile, dormant ,ready for use.
Wastage of time, manpower, material, budget and other resources etc.
Non availability of "Genius", lack of confidence in case of failure during tests/trials of NMD.
According to Lt.Col.Rick Lehner a spokeman for the pentagon (BMDO) " An emergency defense sytem, Ref: FAS (Federation of American Scientists) Report vol.52, No. 6 Nov.Dec.1999.
With comments of President Bill Clinton, politicians and Lt.Gen.Lester L Lyles, Dir.Ballestic Missile Defense Organization. 20 Januvery, 1999 (BMDO)
امریکہ اور اس کےاتحادیوں کےدفاعی مشن کا اصول بھی چار زاویوں پر مشتمل ہی۔
1) Field a missile defense system that meets the ballistic missile threat at the time of a deployment decision.
2) Detect the launch of every ballistic missile(s) and track.
3) Continue tracking of ballistic missile(s) using ground base radars.
4) Engage and destroy the ballistic missile warhead above the earth's atmosphere by force of impact.
امریکیوں اور ان کےاتحادیو ں کی current جنگی حکمت عملی pre-emptive, attack strategy کا دارومدار Booster Phase Interceptor (BPI)(1999) پر ہی۔ جس Concept کےبانی تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں اور بیلیسٹک میزائل کےپچاس سالہ تجربہ کار (Richard Garwin ) ہیں۔ 2003 ءمیں America Physical Society Study Group(APS)نےبہترین مستندرپورٹ دیتےہوئےکہا کہ روس اور چین کےvast (وسیع) زمینی اور سمندری نظام میں BPI کارگر نہیں ہی۔
Ref: www.fas.org/RLG اس ریسرچ سےخوب تجزیہ ہو جاتاہےکہ امریکہ اور اس کے مایہ ناز اتحادیوں کےدفاعی و فوجی نظام میں کئی Flaws (خامیاں) پائی جاتی ہیں اور ان کےبہترین Countermeasure موجود ہیں۔ وہ ہم آگےچل کر حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کی اکمل ترین Nuclear Neutralization پالیسی میں بیان کریں گی۔ اس سےقبل عالمی دفاعی توازن کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے۔ورنہ وہی ہو گا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ بیماری کی باریک بین تشخیص ضروری ہی۔ اس کےبعد ہی شافی علاج ممکنات میں سےہی۔ انشاءاللہ التعالیٰ العزیز۔
Raytheon Company: " Nuclear bunker buster, bombs, tomahawk missileاکیسویں صدی کےنیوکلر بنکر بسٹر بم ، پیٹریاٹ میزائل ، مینوفیکچر کرتی ہی۔ وہی Tomahawk میزائل جو حالیہ عراق کی جنگ میں پہلےنمبر پر فائر کرکےAbove ground ملبہ کو اڑایاگیا، بعد میں 2000Lbs کےGP جنرل Purpose بم گرا کر Underground ٹارگٹ تباہ کئےگئی۔
This company loves big noises and large civilian casualty counts, when a misile killed 62 civilians in a Baghdad market, that was light from the Gods.
United Technology:UT,a.k.a, sikorsky, sells black hawk and comanche helicopter and various missile systems design to inspire terror in civilians from Palestine to Colambia and beyond.
Halliburton: This company truly has a Guardian angel: former hallibruton CEO and non Vice President Dick Cheney who looks out for its interests from the White House. The result? $2 billion in contracts" rebuilding" Iraq in 2003.
General Electric: Run untill 2001 by "Neutron" Jack Welch, who made it a matter of principle to lay it off 10% of his workers per year; the world biggest company churns out plastics, aircraft engines and nuclear reactors, media spin through NBC,CNBC, Telemundo and msnbc.com.(Ref.1611 telegraph avenue 702 oakland, CA94612 USA 510-271-8080)
Science application International Corporation(SAIC) : Awarded the control of the Iraqi Media Network, was not able to spin US propaganda in Iraq and ended up being forced to withdraw from the contract. But their financial prospects remain solid as supplier of survilliance technology to US spy agencies.
CSC Dyncorp: This world's premier rent-a-cop business runs the security show in Afghanistan, Iraq and the US Mexico border. They also seem the coca crop-dusting business in Colombia, and occasional sex trafficking sorties in Bosnia. But what can you expect from a bunch of mercenaries?
علاوہ ازیں Matra of France,MBDA of France, UK, Italy, Germany, Spain,IAT(Israel Aircraft Industry) Aeronautics defense system ltd. Elbit sys Ltd. Rafael,Almazshipbuilding Co. (Russian Federation), Arms defense technologies review tactical missile corporate JSC, Fsue zelenodolsk design bureau.
ان مشہور کمپنیوں کےعلاوہ دنیامیں 500 سےزیادہ اور بھی World defendry پائی جاتی ہیں۔ زیادہ ترGreec(یونان) میں واقع ہیں۔ ان Multinational کمپنیوں کےعلاوہ لیبارٹریز کی تفصیل درج ذیل ہی۔ جوکہ US Department of Energy(DOE) کےزیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔National Laboratories and technologies centres یہاںپرسائنسدان اور انجینئرCutting-edge-research سرگرمیاں انجام دیتےہیں۔ ہر طرح کی سہولیات مہیا ہیں۔ Ames Laboratories:، Synthesis Process کا نیشنل سنٹر ہی۔ جہاں پر زمینی معدنیات کےفزیکل، کیمیکل اور ریاضیاتی نظام بروئےکار لائےجاتےہیں۔ سپیشل سٹوریج کےحوالےسےArgonne National Laboratory، Multidisciplinary research centre کہلاتا ہی۔ اس میں Energy resources اور National Security کےانتظام پر کام ہوتا ہی۔ Brookhaven National Laboratory
۔اس لیبارٹری میں فزکس، ماحولیاتی سائنسز، انرجی ٹیکنالوجیز اور یونیورسل گورنمنٹ میں ریسرچ کا سازوسامان پایا جاتا ہی۔ Fermi National Accelerator Laboratory (Fermi Lab) اس لیبارٹری میں مادےاور انرجی کی بنیادی صفات کےساتھ ساتھ Leadership کی بنیادی تحقیات کروائی جاتی ہیںIdaho National Laboratory ,(INL) Applied Engineering لیبارٹری ہےجس کی ذمہ داری امریکی شعبہ توانائی برائےماحولیات ، انرجی، سائنس اور قومی سلامتی کےامور سےہی۔ Lawrwnce Berkley National Laboratory یہ لیبارٹری بہت وسیع پیمانےپر سائنس ،کائناتQuantitative bio, nanoscience, نیوانرجی سسٹم سلوشنز اور کمپیوٹر میں Disc کےلئیIntegration کاکام سرانجام دیتی ہی۔Lawrence Livermore National Laboratory (LLNL) لیبارٹری کی بنیاد ستمبر 1952 ءمیں بطور ایٹمی ہتھیاروں کی ایجادات اور انجینرنگ Design کےلئےرکھی گئی تاکہ امریکہ کی نیوکلر ساکھ قائم رہ سکی۔Los Alamos National Laboratory لیبارٹری امریکی انتظامیہ حکومت Administration کا اہم حصہ ہےجو کہ قومی سلامتی اور Nuclear Deterrence کا ذمہ دار ہے۔National Energy Technology Laboratory (NETL) ۔ادارہ ایڈوانس سائنس کےعلوم کو وسیع پیمانےپر پھیلانےاورہر قسم کی توانائی کی بحالی اور ایجادات کا مرہون منت ہی۔New Brumswick Laboratory امریکی وفاقی ادارہ ہےجو کہ ایٹمی مواد کےناپ تول کےنظام بمع Reference کےقومی اختیار میں رکھتا ہی۔Oak Ridge Institute for Science and Education (ORISE) ادارہ صحت عامہ، ماحول کی صفائی ، ایٹمی تابکاری، Radiationsمیں باہمی مدد، قومی سلامتی اور ہنگامی حالات میں تیار رہنےاور سائنسدانوں کی تعلیم کا ذمہ دار ہی۔Oak Ridge National Laboratory (ORNL) قومی سلامتی کےامور کی تحقیق کا ادارہ ہی۔Pacific Northwest National Laboratory (PNNL) توانائی اور سلامتی کےبڑھتےہوئےبڑےمسائل کا حل، بہترین صلاحیت اور توانائی کےعواملِ مشترکہ ، اعلیٰ کارکردگی کےساتھ بنھانا۔
Princeton Plasma Physics Laboratory(PPPL) بین الاقوامی سطح کا Fusion اورDefusion کا ادارہ ہی۔
Radiological & Environmental Sciences Laboratory انرجی کےمتعلق ہر طرح کی کوالٹی کی اعلی یقین دہانی کا مرکز ہی۔
Sandia National Laboratories قومی سلامتی کا بذریعہ سائنس اور ٹیکنالوجی ذمہ دار ہی۔
Savanah River Ecology Laboratory . سوانا دریا کےاتار چڑھاوکی تحقیق کا ادارہ ہی۔ ساتھ ہی تعلیمی میدان میں سرگرم ہی۔
Savanah River National Laboratory ۔ٹیکنالوجی کی اپلیکیشنز کی ترقی کا ادارہ ہی۔
Stanford Linear Accelerator Centre (SLAC) الیکٹران اور الیکٹرونکس کی Acceleration (اسراع) اور High energy physics کی تحقیق کاادارہ ہی۔
Thomas Jefferson National Accelerator Facility (Jefferson Lab)الیکٹرونکس، نیوکلائی اور نیوکلر سائنس میں نیوکلیان سےنکلنےوالی مسلسل High energy beams کو کنٹرول وعوامل کا ادارہ ہی۔ اس لیبارٹری میں دنیا میں پائےجانےوالےتمام Substances (عناصر) کےبارےمیں بھی تفصیلی معلومات بمع ان کےانتظامات Physical اور Chemicalصفات و استعمالات کےانتظامات موجود ہیں۔
قاری محترم! ان کےمایہ نازو زمانہ ساز عظیم Word Buildersپیداواری و ترقیاتی اہرام Production اورDigital Promises کےباوجود کچھ نہایت ہی اہم خفیہ فیکٹریاں بھی گمنامی کی حالت میں بااثرشخصیات و پراسرار تنظیمات US CIA,FBI,HOMELAND SEC, MOSAD,RAW, KGB,BUILDER BURDGEاور کئی دوسری NGOS
کےزیر سایہءکارہائےنمایاں انجام دےرہی ہیں۔ انداز مسلسل، منظم اور معیاری۔ کیا خوب جنگ کی تیاری، ہر طرف Terrorism کی آبیاری ،فصل بڑی پیاری، کٹائی جس کی عیاری، پیچھےWar Profieteers کھلاڑی اور نتیجہ تباہی اور تباہی۔
معزز قارئین کرام و تجزیہ نگار و ذی شعور صاحبان! ان عظیم منظم اداروں کو بہترین انداز سےچلانےوالوں کی بھی فوج ظفر موج موجود ہےجن میں کچھ کا تعارف نہایت ہی دلچسپی کا باعث ہی۔
1) FAS (Federation of American Scientists), DC Washington. www.fas.org/
امریکہ کےچوٹی کےتقریباََ266 نوبل پرائز یافتہ سائنسدانوں کےعلاوہ ہزاروں ایٹمی سائنسدانوں ، انجینروں، ٹیکنالوجسٹ پر مشتمل عالمی تنظیم جس کی موجودہ سربراہ چیئرپرسن Dr.Tulle صاحبہ ہیں۔US Biosecurity کی بھی ذمہ دار ہیں۔
2) Union of Concerned Scientists:
امریکی ایٹمی سائنس دانوں ، انجینروں اور ٹیکنالوجسٹ کی عظیم تنظیم گلوبل سیکورٹی کی زمہ دار ہی۔



3) US Dept of Energy
4) National Ministries Division
5) National Security Council
6) US Chain of Command (High officials)
(7)UNO, NATO, G-8,WTO,IDRC, WEU, Commonwealth, NMAS, DGP,CNAD,MOR,AHWG,AGARD,EADS,MEADS,NOBLE FOUNDATION, IAEA, CERN, DIRECTORS OF ARMAMENTS, OTHERS DIRECTORS, IMF, WORLD BANKGROUP,EXPORT CREDIT AGENCIES, GEORGE W.BUSH, CLINTON (Former US President), COLLIN POWELL, RUMSFELD, DICK CHENEY, JOE LOPEZ, THOMAS WRABAUT,JAY GARNER, VANCE D. COLFNAN, PHILIP M.CONDIT (CHAIRMAN Boeing), , DANIEL P BURMHAM (Chairman Raytheon), RONALD SUGAR,NICHOLOS D CHABRAJA (Chairman's General Dynamics), GEORGE DAVID ( Chairman, CEO United Technology ) Sam Num, General Carl E Vaono, George Schultz, James A Baker III, K.Rupert Murdoch, William Kristol, Robert J.Stevens,Sanford, Sandy, Weill, Lowry Mays, Jon Hemingway, Glen A Barton, Gen. Brent Scowcraft, Thorne G Auchter, David Novak, Export Credit Agencies Group, Richard Cheney, Henry Kissinger,Donald Rumsfeld,(Secretary of Defense), John Ashcroft, Richard Perle, Poul Wolfomitz, (Deputy Secretary of Defense),Tom Ridge (Secretary of Homeland Security) ,Colin Powell (Former Secretary of State), John Negroporte, (US Ambassador in the UNO),Candoleeza Rice (National Security Advisor+ Secretary of State), Colonel Richard D.Downie.WTO (World Trade Organization), Global Govt. George W.H.Bush (former President), Lee Raymond, David J O Reilly, Ken Derr Phillip J Carroll, Ray Irani, The Lord John Browne of Modingles, Charles R. Williamson, Thomas Kean , Red Convancy, Zalmay Khalilzad (US Presidential Secretary, (secy in Afghanistan and Iran ,Frank Murkowski.
IMFکےاقتصادی و معاشی سود خور، جوا باز جنگجو ،کھلاڑیوں کو ترقی یافتہ دنیا میں
war profteers card deck clubs کےنام سےمتعارف کروایا گیا ہےاور سب کا تعارف بصورت تاش Gamersمیں کروایا گیا ہی۔مزید تفاصیل کےلئےBrowse intenet تہذیبی ،سوشل، سماجی، معاشی و فوجی لحاظ سےمتعارف بالا شخصیات کےکیا کیا پروگرام ہیں؟ ان کا Scope دائرہ کار اور ہدف Target یا Goal کیا ہی؟۔ان کےاداروں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اس کی بحث گلوبلائزیشن کی بنیاد ہی۔
a) The World Bank Group (WBG) Under the guise of "poverty eradication" the WB Funds massive international schemes like dams, power plants and oil pipelines and pays war projects like Exxon Mobil and Unocal to execute them. Too bad about the tense of millions of people displaced along the way.
مزید تفصیلات کےلئےانٹرنٹ پر خاصی انفارمیشن موجود ہی۔ براوز کرنا ضروری ہی۔
1) The World Bank Group Home page
2) Brazillian landless workers movement/movements.
3) DOS Trabal hadares Ruraise Sen Terra
4) CEE Bank Watch Network
5) Centre of Economic and Policy Research
6) Ehlace civil/Mexico
7) Essential Action
8) Fifty Years is enough
9) Jubillee USA Network
10) Mobilization for Global Justice
11) Sustainable Energy & Economy Network
12) Whirled Bank
13) The World Bank Bonds Baycott.
14) International Monetary Fund (IMF)
The IMF proves the way for the World Bank (WB) by covering poor nations to restructure their economies for easy corperate access. The receipe is simple : privatize resources, remove worker protections, flood markets with import, and thank social spending. A powerless nation is easy prey for "free" trade. Therefore I comment :
IMF the World Bank the Hardest chain:
captured many a country through debit blame.
15) These govt-funded banks give taxpayer money to War
profiteers to build mega-projects for mega-profits. They also issue these projects against political instability (read: riots). See also : United State Agency for International Development (USAID). ECAs might just be the dirtiest secrets of Globalization.
مندرجہ بالا ایجنسیز کا US$50-US$70 بلین تک سالانہ صنعتی اور Infrastructure projects پر خرچ ہوتا ہی۔ (زیادہ ترجنگی امورپر)
(ECA's are frequently involved in supporting the export of arms and military equipment to war- torn countries i.e. UK made Hawk fighter jets and US made Black Hawk helicopters are exported to Indonesia, Colombia and other countries known for their repressive regimes. These sales are facilitated by ECAS.
Once these deadly weapons are out of the control of the exporters, hands and into the control of the government, these arms can be used to intimidate and kill innocent poeple.
This not only creates human rights nightmares, but increases the likelihood of conflict, the risk of war.
(Browse internet)مزید معلومات کےلئے
Center for international environmental law ,ECA Watch, Friends of the Earth,International Rivers Network, Multinational Resources Center, World Trade Organization (WTO),
عالم گیر تجارتی اداری(WTO) کی بنیاد 1995 میں یہودیوں(اور ان کےاتحادیوں نے(رکھی تاکہ پوری دنیا کےتجارتی نظام کو براہ راست کنٹرول کرکےاپنی بالادستی قائم کی جائی۔WTO جیسےنہایت ہی اہم ادارےکہ جس کی بنیاد ہی دراصل گلوبل گورنمنٹ ہےقائم کرنےکےیہودی( اور ان کےاتحادی) سہانےخواب دیکھ رہےہیں جس کی تعبیر شاید ان کےگلےکا ہار نہ بن جائی۔ اس کےمقاصددرج ذیل ہیں۔
It is no overstatement to say that this secretive 146 member nation body is the global government .They make the rules of the global economy and they ensure that labor rights, environmental protection, democracy and human rights do not get in the way. WWW.war profiteers Cards :Ace of spades.
زیادہ انفارمیشن کےلئی
WTO Homepage,International Forum of Globalization,
Global Exchange,Citizens Trade Campaign,Peopl's Global Action.
مندرجہ بالا عالمی اداروں اور دوسری ملٹی نیشنل کمپنیوں کےسربراہوںاور اداروں کا موازنہ کیا جا ئےتو اس وقت WTOہی سب سےزیادہ The most powerful ادارہ ہی۔
The WTO represents the rules-based regime of the policy of economic globalization. The central operating principal of WTO is that commmercial interests should supersede all others. Any obstacles in the path of operations and expansion of oglobal business enterprise must be subordinate. In practice these obstacles are usually policies or democratic processes that act on behalf of working peopl, , labor rights, environmental protection, human rights, consumer rights, social justice, local culture and national sovereignty. WTO Rules and Regulations, agreements , Current Policies.
زیادہ معلومات کےلئےدیکھیں :
WWW.Globalization and the world trade organization browse : International Forum on Globoalization (IFG)
New IFG publications on the WTO: Invisible Government - The WTO: Global Government for othe New Millennium? (See report summary) $5 for members, $8 for non members (50 pages) Authors Debi Barker and Jerry Mander* view from the South: The effects of globalization +WTO on 3rd World countries. .Authors :Matin Khor, Vandana Shiva, Wallden Bello, Or Oronto Douglas, Sarra Larrain, Annuradha Mittals. Forwrord by Jerry Mander.Editor Sarrah Anderson. Price: $ 10 for members $15 for non-members (100 pages)* Free trade, free logging (how the WTO undermines global forest conservation. Author: Victor Menotti, Chair of the IFG Environment Committee. $ 8 for members $12 for non-members .30 pages .By what authority: Unmasking and challenging the legitimacy of global corporation in their

assault on democracy through WTO $ 8 for members $12 for non-members .After the WTO: Turning away from failure- a special report on New rules for a citizen, millennnial agenda editor: John Cavanagh, chair IFG committee on Global Financfe. e mail: jcavanagh@igc.org.
نہایت ہی معلوماتی کتاب ہی۔Globalization کےسپیشل Cases مثلاََانسانیت، مساوات، جمہوریت ، صحت عامہ، ماحولیات، اداروں کےاثاثہ جات و ملکیت ۔ کون حکمران ہو گا؟ جو ایجنڈےابs Corportation کنٹرول کر رہی ہیں، شہری کیسےکنٹرول کریں گی؟ دنیا کیسےChange ہو گی؟ سب سےاہم بات WTO, then what are you for? یہی WTO اور Globalization کااہم مسئلہ، چیلنج اور سوال ہےجس کا حل ناگزیر ہی۔ اس کےحل کےذمہ دار صرف اور صرف آزاد، حریت پسند اور خود دار لوگ ہیں جن کا وجود ا س دور کےسب سےبڑےبت یعنی دولت کی دیوی، حرص و ہوا و ہوس ولالچ سےپاک ہو، دل کا نیوکلس اور اس کےاند ر قوت حریری کم از کم Thermonuclear weapon سےزیادہ قوی و موثر اور ان کی ذہانت روح Stratosphere کی Zones کو پھلانگ کر المعارج کی رفرف پر محو پرواز ہو کر فنا و بقاکی منزلیں طےکرتی ہوئی عرش معلیٰ کو چھوتی ہوئی اللہ تعالیٰ سےلقا حاصل ہو ۔ ساتھ ہی لللہ الواحد القھار کی لازوال زبردست غالب قوت قاہرہ سےساری کائنات کےنظام کو قابو کرکےCommand & control کی صلاحیت رکھتی ہو،
خودی کو نظرجب آتی ہےقاہری اپنی کہتےہیں اسی کو مقام ِسلطانی
ان مقدس ہستیوں کو صاحب امر بھی و اولی الامر بھی کہتےہیں: عشاق و آئمہ Leader of the time r کہلاتےہیں۔ ان ہی بابرکت و صاحب جلال و جمال با کمال شخصیات کو حضرت حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبال ضرب کلیم میں فاتح عالم فرماتےہیں اور یہی Globalization کےانشاءاللہ تعالیٰ حکمران ہیں۔
For further information on the WTO please consult:
IFGMedia Briefing on the WTO, Nov 4, 1999 .Why Developing countries cannot Afford New issues in the WTO Seahle Conference, by Mortin Khar, Director, Third World Network .
Public citizens Global Trade Watch (includes a citizen's guide to the WTO),Third World Network,Friends Of The Earth, International Corporate Europe Observatory,A SEED Europe
مندرجہ بالا بیان کردہ عالمگیر شخصیات ،اہم ادارےاوران کےمقاصد کےتحت عالمگیر عالمی پروگرامز جو کہ رواں دواں ہیں درج ذیل ہیں۔ جن کو Star Warsکہتےہیں۔
PROGRAMS:
1)Arms Control And Non-Proliferation,
2) Command & Control and Intelligence,
3) Domestic preparedness and CBW (Chemical Based Weapon) Defense Counterforce.
Triangle Formula گویا فتنہ دجال اور یاجوج و ماجوج کی جنگ کابیس Base تین Strategies جو کہ اوپربیان ہوئی ہیں۔ان کےتحت ہی۔ ان کی پشت پر بھی تین بڑےاتحاد ہیں۔ لیڈر اس اتحاد کےآقا و مالک، کرتےدھرتےNo-1 nation یہودی ہیں ۔ ان کےپر فریب دجالی جال میں عیسائی اور ان کےاتحادی منافقین و مشرکین شامل ہیں۔ منافقین کی عالمی منڈی ،عالم اسلام کی لیڈر شپ وعوام کی صورت میں، یہود کےاتحادی انڈیا کےہندوہنود، سکھ وغیرہ مشرکین ، روسی، چینی، جاپانی اور دوسرےمشرکین بھی اندرو ن خانہ یہودیوں کےہی اتحادی ہیں۔ (افرنگ کی رگ و جاں ہےپنجہءیہود میں ) یہ اتحاد کیسےبنتا ہی؟ ان کی پارٹنر شپ کیا ہی؟ خفیہ سازشیں ، جنگی حکمت عملیاںاور جنگ کا طریقہ کار کیا ہی؟ اس کی کل تفصیل سورة الحشر میں دیکھی جا سکتی ہی۔ Triangular alliance= Jews+Hypocrites+ idolators (secret war) میں یہودی اور عیسائی بھی حقیقی اعتبار سےمشرک ہیں کیونکہ تین الہ کےقائل ہیں۔ جسےTrinity (تثلیث) کہتےہیں جو کہ ضد ہے Unity یعنی توحید کی اور یہی جنگ ازل سےاب تک جاری و ساری ہی۔ موجودہ دور کےتمام عیسائی جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ ، امر اللہ، کلمتہ اللہ کی صلیب کا عقیدہ رکھتےہیں۔ حقیقتاََ یہودی ہیں کیونکہ یہ عقیدہ یہودیوں کا ہی۔ دیکھئےقرآن حکیم کی سورة النساءپارہ پانچ آیت نمبر 157 )۔لہذا ہماری تحقیق کےمطابق گلوب(Globe ) پہ دو ہی طاقتیں برسرپیکار ہیںِ۔ مومنین و مشرکین (توحید و مشرک) رحمنبمقابلہ شیطان ۔شکل انسانی کا شیطان ( من الجنت والناس ) کی تعبیر مشرکین انسان ہیں۔ شیطان نما انسانوں نےانسانیت کو عالمگیر پیمانےپہ Seduction (بہلاوا پھسلاوا) یعنی مادی ترقی و فلاح و بہبود کےسبز باغ دکھا کر بظاہر امن کاراگ الاپتےہوئےخفیہ بنیادوں پر نہایت خطرناک ترین تباہ کن، ہولناک، بھیانک اور انسانیت سوز پروگرام جاری کئےہوئےہیں۔ نام ان کو Active defense کا دےرکھا ہی۔حقیقتاََ Offense ہےجس کی Resultant quantity+ quality یقیناََ Continious +systematic offense ہی۔ کیونکہ Golden rule and universal truthسنہری اصول اور عالمگیر صداقت ہےکہ No offense and defense is without weapon,
Active Defense.
Theater Missile Defense (TMD)
1)Hawk.MEADS, Navy area, patriot, Thaad, Navy Upper tier, airborne laser, boost phase intercept, arrow, thell/nautilius, lccmd, others programms,
2).National Missile Defense (NMD)
Ground Base Interceptor
SENSORS
X-band/Ground Based Radar (GBR)
Upgraded Early Warning Radar(UEWR)
Space Base Infrared System (SBIRS)
Space and Missile Tracking System (SMTS)
Jlens, Midcourse Sensor Equipment (MSE)
Dundee, targets and decoys
3). Battle Management
NMD battle management, command and control (BMC-2), NMD In-flight Interceptor Commununication System, (IFICS)
4). Others Programms
Directed Energy Weapons (DEW)
Space Base Laser (SBL)
Clementine, small business, innovative research modelling and simulation. (completed programs)
جناب والا! یہ ہیں بہترین تحفےو ھدایا و نذرانےجو کہ حضرت انسان کےعلاوہ زندگی کےتمام متعلقہ جاندارو بےجان کی ضیافت و خاطر تواضع کےلئےتیار کئےگئےہیں جو کو Weapons of Mass Destruction(WMD) کہلاتےہیں جو کہ "Complete annihilation of life" کی صلاحیت سےمالا مال ہیں ، جن کی ہلکی سی جھلکی ہم اس وقت اسرائل کےعملی مظاہر کی صورت میں اہل فکر و دانش و نظر کےگوش گذار کریں گےتاکہ یہودیوں کی جنگی تیاریوں کاکسی قدر اندازہ ہو سکی۔ اسرائیل کی Centre for Non Proliferation Studies (CNS) کےمطابق Weapons Of Mass Destruction in the Middle East .
1). Nuclear.Sophisticated nuclear weapons program with an estimated 100-200 weapons, which can be delivered by ballistic missiles on aricraft.
2).Nuclear arsenal may include thermonuclear weapons.
3).150 MW heavy water reactor and plutonium reprocessing facility at Dimona, which are not under IAEA safeguards.
Not a signatory of NPT: Signed the CTBT on 25/9/1996.
4).Chemicals: Active weapons program, but not believed to have deployed chemical warheads on ballistic missiles .
Production capability for mustard and nerve agents.
Signed the CWC on 13-1-1993 currently debating its ratification.
5)Biological: Production capabiality and extensive research reportedly conducted at the biological research institute in NESSZIONA.
No publicly confirmed evidence of production.
Note a signatory of BTWC.
6). Ballistic missiles: approximately 50 jericho-2 missiles with 1,500 km range and 1,000 kg payload, nuclear warheads may be stored in close proximity.
approximately 50 Jericho-1 missile with 500 km range and 500 kg plyload.
MGM-52 Lance missiles with 130 km range and 150 kg to 250 kg payload.
Sharvit Space launch Vehicle (SLV) with 4500 km and 150 kg to 250 kg payload.
Unconfirmed report of Jericho-3 program under development using sharvit technologies, with a range up to 4,800 km and 1,000 kg payload.

Developing Next (sharvit upgrade) SLV with unknown range and 300 to-500 kg payload.
7).Cruise Misisiles: Harpy lethal unmanned aerial Vehicle (UAV) with 500 km range and unknown payload.
Delilah /Star-1 UAV with 400 km range and 50 kg payload.
Gabriel-4 anti-ship cruise missile with 200 km rangeand 500 kg payload.
Harpoon anti-ship cruise missile within 120 km range and 220 kg payload (Israel not member (MTCR) (Missile technology control regime).
8).Other delivery systems: Fighter and ground attack aircraft include: 2 F-151,6 F-15D. 18F-15C 2 F-15 B,36F-15A,54F-16D,76 F-16C,8F-16 B, 67F-16A, 50F-4E-2000, 25F-4E, 20 Kfir C7, and 50A-4N.
Ground systems include artillery and rocket launchers aslo, popeye-3 land attack air-launched missile with 350 km range and 360 kg polyload, and popeye-1 land attack air-launched missisle with 100 km range and 395 kg payload.
یہ معلومات تو public کی طرف سےہیں ورنہ اسرائیل کےپاس اس سےبھی زیادہ خطرناک ہتھیار موجود ہونےکےchances ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اپنےخفیہ Strategic راز ہمیشہ کےلئےچھپا کےرکھتا ہےاور تمام بین الاقوامی معاہدوںABMT,MTCR,CTBT,NPT, کو بالائےطاق رکھتےہوئےاپنےمفادات کی خاطر تن من دھن کی بازی لگا کر اپناTarget حاصل کرتا ہی۔ جس کی بہترین مثالیں مسئلہ فلسطین ،بوسنیا، انڈونیشیا ئ، (مشرقی تیمور) کو لیمبیا ،افغانستان ، چیچنا ، کشمیر ، عراق ، لبنان، ایران اور شمالی کوریا کےBurning Issues ہیں۔ جن Issues کو آج تک عالمی برادری حل کرنےمیں ناکام رہی ہےاور یہودی جنگ کی آگ بھڑکائےجا رہا ہےبلکہ انسانیت کو مولی گاجر کی طرح کاٹےجارہا ہی۔
نہایت ہی مضحکہ خیز دلخراش بات ہےکہ روس اور امریکہ کےدرمیان Cold war ختم ہو چکی ہی۔June,1992 17میں امریکہ اور روس کےتین نکات پرGlobal Protection System(GPS) کےمعاہدہ پر امریکی صدر George Bush اور روسی صدر Boris Yeltsin کےدستخط ہو چکےہیں لیکن اس کےباوجود بھی امریکہ نےچھ ہزار نیوکلر وارہیڈز اور روس نےپانچ ہزار نیوکلر وار ہیڈز ایک دوسرےکےمدمقابل Deploy کر رکھےہیں۔ واہ شاباش من مانی اور دوغلی پالیسی ، بین الاقوامی فراڈ، تیرےانصاف کو سلام بلکہ صد سلام ، قصہ ہوا تمام ، صبح ہوئی شام۔ 21 ویصدی میں امریکہ نےخصوصااور دوسرےترقی یافتہ ممالک نےعموماََ دہشت گردی کےخلاف جنگ کےخوف کی وجہ سےاندوہناک قسم کےنیوکلر ہتھیار بنام Radiological Weapons (Dirty bombs) bunker buster, low and high yield earth penetrating weapons, space mines, ASAT weapons, orbital debris and others.(Land, sea and space weapons بنائےجا رہےہیں۔ تاکہ
) hook and by crook (by با لادستی Superiority قائم کی جائی۔
محترم قارئین کرام ! اکیسوی صدی ، سائنس و ٹیکنالوجی کی صدی ہی۔ علم اورعقل و دانش کی صدی ہی۔ سائنس و ٹیکنالوجی ، علم و حرفت، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹرانسپورٹیشن کی بدولت اور تیز رفتار پیمانےپر ترقی یافتہ Ideas کی روشنی میں گلوبلائزیشن کی صدی ہےمگر نہایت ہی افسوس سےکہنا پڑتا ہےکہ اس وقت دہشت گردی و خوف و ہراس کےعالم سےدوچار ہی۔ بدامنی، بداخلاقی ، بدکاری ، معاشی ناہمواری، غربت و افلاس و مہنگائی زندگی کےتمام شعبوں کو بری طرح متاثرکرتی ہوئی انسانیت کو دردناک انجام تک پہنچائےجا رہی ہی۔ چار سو انارکی پھیلائےجا رہی ہی۔ امریکہ سمیت دنیا کےتمام ممالک کو دہشت گردی کی لپیٹ میں لئےجا رہی ہے۔ دہشت گردی کی حالیہ جنگ جس کا سب سےزیادہ خطرناک تباہ کن پہلو جس کو تمام ممالک آہستہ آہستہ بڑھائےجا رہےہیں وہ ہےنیوکلر ٹیکنالوجی کا پھیلاو و ارتقاءخاص کر ایٹمی توانائی برائےامن کےنام سےStrategic partnership (حالیہ امریکی و انڈین سول نیوکلر معاہدہ) جس کےردعمل میں شمالی کوریا اور ایران بھی پر زور طریقےسےاپنےپروگرام بڑھا رہےہیں۔ ساتھ ہی جاپان اور ترکی جیسےممالک بھی پر تول رہےہیں، چائنا اور بنگلہ دیش و پاکستان بھی سول ا یٹمی معاہدےکرکےنظام بڑھارہےہیں۔ اس اصول پر ساری دنیا کےلئےا س دور کا خطرناک ترین چیلنج ہی دراصل نیوکلر چیلج ہےجس کےپیچھےبہت بڑاسودی معاشی و اقتصادی عالمی نظام ہی۔ لہذا اس دور کےعظیم ترین شہنشاہ فقر و نظر، علم کل و عقل کل کےمالک، ہر فن مولا، نایاب و لاثانی فلاسفر و ایٹمی سائنس دان و تاریخ دان، محدث و مفسر، حکیم و شاعر، سب سےبہترین دوربین و دانش ور اور عظیم ترین عالمی امن کےنوبل ترین حکمت کا رو مددگار، محسن و معظم ہمدرد، باطنی علوم اور Secret services کےشہوار و قلمکار ، معرفت کےسلطان، اندر کےرازدان، الحاد کےخیبر کو توڑنےوالےحضرت علامہ محمد یوسف جبریل Savior موجود دور کےآنےوالےخطرات سےانسانیت کو اپنی عظیم شہرہ آفاق و تہلکہ خیز کتاب Nuclear Neutralizer,chapter-8 ایٹمی بم اور تابکاری کو نابود کرنےوالا فارمولہ میں یوں موتی بکھیر رہےہیں۔ ہر انسان کواپنا مقام دکھا کر متفکر بنا رہےہیں۔ تاکہ اس کی تقدیر کو تدبیر سےبدلا جائی۔
آٹھویںباب کا عنوان ہی: ایٹمی قیامت کا قرنا یعنی صور اسرافیل علیہ ا لسلام۔ چونکہ صور اسرافیل سائنسی اعتبار سےSound energy کی انتہائی شکل Entropy ہےجو کہ Meta physical سائنسز میں قیامت کا وقوعی دور ہی۔ اس vision کو مدنظر رکھتےہوئےہم Entropical اصول کےتحت کہہ سکتےہیں کہ اس مادی دنیا کا فنا و بقا Nuclear science پر ہی۔ پھر نیوکلر سائنس میں فنا کاراز بذریعہ Triggering Energy ( Blast) میں ہےجو کہ تین ا نرجی کا منبع و ملبہ ہی۔ Heat, light and sound energy جیسا کہ بارود Explosive کابین الاقوامی اصول ہی۔
"Explosives are sensitive due to heat shock and friction and produce the heat,light and sound energy".
یہی وجہ ہےکہ نیوکلرity Sensitiv بذریعہ fission یا fusion نیوکلر blast کہلاتا ہےجوکہ Radiation Heat flash اور دھماکہ کا مجموعہ ہی۔ دورحاضر کےلاثانی و نایاب لیڈر برحق، امام زمانہ، (صور اسرافیل) بلند کرتےہوئےنظر آتےہیں۔حضرت علامہ یوسف جبریل فرماتےہیں:۔
ایٹمی قیامت کا قرنایعنی صور اسرافیل اس دور کےشہنشاہ ، صدور، وزرائےاعظم ، مذہبی پیشوا ، سائنس دان، فلسفی اور عوام سن لیں ،جان لو کہ یہ دنیا اب ایٹمی تباہی کےکنارےکھڑی ہی۔ اچھی طرح سےسُن لو اور ہر قسم کی خام خیالی اپنےدماغ سےنکال دو۔ تمھارےسامنےایٹمی جہنم بھڑکا ہوا ہے۔تمھارےپیچھےسےاقتصادی بلڈوزر تم کو بےتحاشا آگےدھکیل رہا ہی۔ دنیا کی کوئی طاقت تمہیں اس انجام سےنہیں بچا سکتی۔ یہ قوانین قدرت کےعمل کا منطقی نتیجہ ہےلہذا اٹل ہی۔ علم، غرور، دولت، لشکر غرضیکہ کچھ بھی تمہیں اس دردناک انجام سےنہیں بچا سکتا ۔تمھارےسامنےدو ہی راستےہیں۔ اولاََ ایٹم بموں سےفوری تباہی، استحقاق کی بنا پر یا ایٹمی توانائی برائےامن کی تابکاری شعاوں سےرفتہ رفتہ، آہستہ آہستہ المناک عذاب میں مبتلا ہو کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر فنا فی النار ہو جانا، استحقاق کی بنا پر، نہ کوئی سمان تم پر روئےگا نہ فرشتےماتم برپاکریں گےبلکہ جو بویا سو کاٹا کےاصول پر حساب بےباق ہو جائےگا اور سب سےزیادہ عذاب مجھ پرمسلط ہوا کہ تم کو صورتِ حال سےآگاہی دلانےکافریضہ مجھ پر عائد ہوا مگر تقدیر کےسامنےکچھ چارہ نہیں ۔ یاد رکھو ! ایٹم بم سےبچاو کی کوئی تدبیر ہےنہ ایٹمی توانائی برائےامن کی تابکاری سےبچا وکا کوئی حیلہ ۔ جو شخص بھی تمھیں اس امر میں کوئی امید دلاتا ہےیا دلاسا دیتا ہےوہ جھوٹا ہےوہ خوو فریبی میں مبتلا ہی،تم کو فریب میں مبتلا کر رہا ہےاور تم فریب میں مبتلا ہونےمیں کچھ تامل نہ کرو گی۔ انسان اس آتشیں ایٹمی دیو کےمقابلےمیں ایک حقیر مبتلائےفریب بونا ہی۔ ایٹمی توانائی کی تابکاری کےمعاملےمیں سائنس دان ایک مجبور تماشائی سےزیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور اس بیکنی ترقی کےمعاملےمیں فلسفی ایک سحر زدہ،مریض کی سی ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہی۔ سیاست دان ایک جنونی چرواہےکی طرح اپنی قوم کوایٹمی جہنم کی جانب ہانکےجارہا ہی۔ تم سائنس دان سےباز پُرس کرو۔کیا یہ ٹھیک ہے؟تم فلسفی اور دانش ور کےکام کو خود سوچو۔کیا وہ ٹھیک ہے؟ سیاست دان کی راہوں کو تاکو کیا آگےایٹمی جہنم کےشعلےبھڑکتےنظر نہیں آتے؟نہیں بلکہ بنیادی وجو ہات نےاور آنےوالےعذاب کی دردناکی نےتم کو اندھا ، بہرہ اور گونگا کر دیا ہےاور تم خوشی خوشی اور نعروں کی گونج میں جھوٹی امیدوں کےنشےمیں سرشار ہو کر ایٹمی جہنم کےشعلوں کی جانب کھچتےہوئےجا رہےہومگرسُن لو کہ معاملہ اسی دنیوی ایٹمی جہنم پر ختم نہیں ہو گا اگلےجہان کا دائمی ایٹمی جہنم تمھاری انتظار میں ہےاور میں اپنےاس اعلان کا ہر لفظ سوچ سوچ کر اور تول تول کر اور ناپ ناپ کر اور جانچ جانچ کر لکھ رہا ہوں اور سائنس اور قرآن اور انجیل کےحتمی ثبوت کی بنا پر لکھ رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں بالکل بقائمی ہوش و حواس کہہ رہا ہوں بےخوف، بےخطراور بےپروا ہو کر کہہ رہا ہوں۔ سوچو گےتو بچ جاو گےنہیں سوچ سکو گےتو ایک دردناک اورشرمناک عذاب سےچھٹکارےکاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اھلاًً و سہلاً مرحبا آگےبڑھو تم بڑےسمجھ دار ہو اور تمہارا سائنس دان معجزوں کا مالک تمھارا فلسفی اور دانش ور آسمان کی خبریں دینےوالااور تمھارا سیاست دان عرش رس بصیرت کاحامل ہی۔(٢) سمجھ لوکہ تمھاری یہ سائنس گزیدہ، منظم،مسلسل ، روز افزوں اور لا امتنا ہی بیکنی ترقی حصول دولت و اقتدار کا ایک ایسا مکمل عمل ہے۔ جسکا منطقی اور سائنسی انجام ایٹمی جہنم کےسوا کچھ بھی نہیں اور یہ ترقی فنا پر منتج ہونےوالی ہےخواہ یہ فنا توانائی کی ناپیدگی کےسبب سےواقع ہو جائےخواہ ایٹمی توانائی برائےامن کی تابکار شعاوں کےمہلک اثرات سےاور تمھاری مثال اس وقت ایک پائلٹ کی ہی۔خواہ جہاز کےآگ پکڑنےسےپیشتر کود جاو یا آگ کےشعلوں کی لپیٹ میں آکر جہاز کےساتھ بھسم ہو جاو۔ یہ بیکنی ترقی روز افزوں ہےاور لامحدود ہےلا امتناہی ہےتو اےفلسفیو ! کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھ سکتےکہ روز افزونیت بتدریج اس ترقی کو انسانی ذہن اور وقت پر قبضہ جماتی ہوئی بتدریج آخرت اور دین کےخیال کو انسانی ذہن اور وقت سےباہر دھکیلتی جائےگی اور لا امتناھیت بالآخر کلی طور پر آخرت اور دین کےخیال کو معدوم کر دےگی اور کیا تم جانتےہو کہ آخر ت اور دین کےخیال کےبغیر انسانیت کا وجود نامکمل ہی۔ تم کس خیال میں پھرتےہو۔ تم کیمونزم میں پناہ لینےپر مجبور ہو گےتو دین سےبھی جا وگے۔ دنیا بھی تباہ کر بیٹھو گےاور جان لو کہ یہ بیکنی ترقی اور دین باہم یکجا نہیں ہوسکتے۔ نہ ہی دین اور یہ بیکنی سائنس یکجا رہ سکتےہیں کیونکہ یہ سائنس محض اس مادی ترقی کی ایک لونڈی ہےاور سائنس کےیہ مشینی اہرام محض فریب نظر ہیں۔ ایک ایسافریب جسےایک ایٹمی جنگ لمحےبھر میں ناپید کر سکتی ہےیا تابکاری اس زندگی کوفنا کرکےان بلڈنگوں کو ایک ہوسکار انسانیت کی حماقتوں کی یادگار کےطور پر خالی چھوڑ سکتی ہی۔ (٣) تباہی قریب ہے، مہلت تھوڑی ہےلہذا سوچ لو،تمھیں زیادہ خوراک کےبدلےایٹمی توانائی کی دردناک تباہی منظور ہےیا کم خوراک کےساتھ امن و سلامتی۔ البتہ ایک جھٹکا ضرور لگےگا اور یہ تمھارا اپنا پیدا کیا ہواہی۔ خود کردہ را علاجےنیست ۔ افسوس اس بات کا ہےکہ اس دنیا میں آج سائنس دان سےلےکر بادشاہ تک سوائےچند آدمیوں کےہر شخص ایٹمی سائنس سےنابلد ہےورنہ اگر ایک ہلکا سا جھونکا ایٹمی جہنم کا تم تک پہنچ جائےتو تم دس ہزار لعنت اس ترقی ان سائنسی سہولتوں اور اس ایٹمی توانائی پر بھیجتےہوئے، خوف و ہراس کےعالم میں اقطار السموات والارض سےفرار ہونےکی کو شش کرو اور تمھیں بھول ہےکہ تمھارےایٹمی سائنس دان ایٹمی سائنس کےمتعلق بہت کچھ جانتےہیں۔ نہیں بلکہ ایٹمی سائنس کا علم صرف ابجد کی حدوں میں ہےاوراس سےآگےبڑھ نہیں رہا نہ ہی اس سےآگےبڑھنےکاکوئی امکان ہی ہے۔ ایٹمی سائنس اندھی ہو چکی ہی۔ تمھیں یقین نہ آ سکےگا نہ آئے۔ ایٹمی جہنم عذاب الہی ہےاور تقدیر نےتمھیں اندھا کر دیا ہےاور تم نہیں جانتےکہ اس کی پیدائش کےاسباب کیا ہیں اور کن وجوہات کی بنا پر یہ عذاب تم پر مسلط ہوا البتہ وہ گناہ جس کی پاداش میں یہ ایٹمی جہنم نمودار ہواتم اس کو گناہ ہی نہیں سمجھتےمگر لاعلمی سزا سےبچنےکا جواز نہیں پیدا کر سکتی۔ (٤) تم یہ سن کر حیرت میں پڑ جاوگےاور تمھاری حیرت پر مجھےہرگز حیرت نہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نےمحض اپنی مہربانی سےتمھیں اس دردناک عذاب اور المناک تباہی سےبچانےکا سامان کر دیا ہی۔1942 ءمیں میری عمر کےپچیسویں سال میں ابراھیمی مشن کےلئےحضرت خضر علیہ السلام نےحضرت ابراھیم علیہ السلام سےمصیب نزدبغداد شریف بحالت خواب اس بندہءناچیز کی سفارش کرکےایک طویل المیعاد المیےمیں مبتلا کر دیا ہی۔ علم اور سائنس کےاس دور میں علم اور سائنس کےمیدان میں یہ نادر الوجود معرکہ سر کرنےکےلئےمجھےعلم اور سائنس کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ 40 برس تک مسلسل سخت نامساعد حالات میں اور دل شکن مصائب و آلام کےلا امتناہی طوفانوں سےدو چار رہ کر اور بغیر کسی استاد کےمیں نےالسنتہ، ادبیا ت، تواریخ، فلسفہ، سائنس ، الہامی کتب اور دیگر علوم ظاہری و باطنی کی تحصیل کی جن کی تفصیل کایہاں نہ موقع ہےنہ محل۔ البتہ اس جدوجہد کےنتیجےمیں تین ہزار صفحات پرمشتملوہ نسخہ جو اس انسانیت کو ایٹمی جہنم سےبچا سکتا ہی۔ میں نےاللہ تعالیٰ کی مہربانی سےبہم پہنچا دیا اور جس کےمتعلق میرا زعم یہ ہےکہ اس جدید دور کےسارےفلسفی اور سائنس دان مل کر بھی بمشکل پیدا کرسکتےہیں اوراس دنیا میں نہ کوئی ایسا جان بن یان ہےجسےان مصائب و شدائد کےبیان کایارا ہو جو میں نےاس علمی حج کےدوران برداشت کئےنہ ہی کوئی فرایئڈ ہی ہےجو اُ س طریقےکانفسیاتی تجزیہ کر سکےجو میں نےبغیر اُ ستاد کےاس قسم کےمضامین کوسمجھ لینےمیں اختیار کیا۔ آج میں اس دنیا کےسامنےیہ دعوی کرتاہوں کہ کوئی طریقہ اس انسانیت کو ایٹمی تباہی سےنہیں بچا سکتا ۔ سوائےاس کےجو قرآنِ حکیم کےحوالےسےپیش کیا ہےمگر اس کےساتھ یہ بھی یاد رہےکہ میرا یہ سارا کام میرےکسی بھی روحانی دعوےپر ہرگز مبنی نہیں بلکہ تمام تر انحصار سائنس اور منطق پر ہے۔ اگر خواب دیکھا ہےتو میں نےخود دیکھا ہےاور وہ میرا ذاتی معاملہ ہےتمھیں ا س سےکوئی غرض نہیں ہونی چاہیئی۔ اگر ابراھیمی مشن کی سپردگی ہوئی ہےتو مجھ کو ہوئی ہی۔ تمھارا اُ س سےکوئی سروکار نہیں ۔ تم میرےکام کو سائنس اور منطق کی کسوٹی پرپرکھو ۔ اگر معیار پر پورا اُ ترےتو جو چاہو کرو اگر پورا نہ اُ ترےتو بےدریغ رد کر دو۔ مگر تم ایسا نہیں کر سکو گےجب تک تمھارےسروں پر تمھاری شامتِ اعمال سوار نہ ہو ۔(٥)میرےہاتھ میں اس انسانیت کی تقدیر کی کنجی ہےاور یہ کنجی قرآن حکیم کی دی ہوئی پیشین گوئی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت تمھیں ایٹمی جہنم سےبچا نہیں سکتی مگر صرف اور صرف یہ قرآن حکیم کی پیشین گوئی ہی۔ یہ پیشین گوئی کشتیءنوح کی حیثیت کی حامل ہےاور بہ مرتبہ ءعصائےموسوی کےہےجوسائنسی جادوگروں کےسانپوں کو معدوم کر دےگا اور چونکہ یہ پیشین گوئی ایٹمی سائنس کےمیدان میں ہےلہذا نہ تو کوئی ایٹمی سائنس دان ، نہ ہی ایٹمی فلاسفر اس کےمعجزہ ہونےسےانکار کر سکتا ہے۔ہر نیک نیت سائنس دان اس کےسامنےجھکےگا اگرچہ سائنس طبعاً معجزےکےوجود کی منکر ہی۔ ہر بد نیت انسان اس سےاس طرح بھاگےگا ۔ جس طرح آسمانی شعلےسےشیطان بھاگتا ہےاور اس دنیا میں نہ تو اس پیشینگوئی سےروشنی لئےبغیر کوئی تحریک ایٹمی خطرےکےخلاف موثر طور پر چلائی جاسکتی ہےاور نہ ہی کسی دین کےاحیاءیا نشاةثانیہ یاموثر نفاذ کا ہی کوئی امکان ہی۔ بیکنی تباہی سےنجات آج اس بیکنی کلچر نےاس کےمنطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کےخطرہ کی وجہ سےانسانیت کےوجود تک کو معرض خطرہ میں ڈال دیا ہےاورایک عظیم تباہی اور دردناک عذاب کا سامنا ہے۔اس عظیم اور دردناک عذاب کو ٹالنےکےلئےجس عالم گیر لائحہ عمل کی ضرورت ہےوہ بنیادی طور پر اس بیکنی کلچر، اس بیکنی ترقی اور اس بیکنی سائنس کےمکمل دمارو انقطاع کا متقاضی ہےلیکن حالات کو دیکھتےہوئےکوئی بھی انسان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تحقیق یہ بات بادی النظر میں اتنی عجیب معلوم ہوتی ہےکہ ایسی بات کہنےوالےکی اس بات کو کسی ذہنی عارضےکا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہی۔ بعینہ اسی طرح جس طرح کہ سندھ کےتین آدمیوں نےپچھلےمہینوں میںبتدریج مہدی، میکائل اور خدا ہونےکا دعوی کیا تو انہیں دماغی امتحان کےلئےڈاکٹر کےحوالےکر دیا گیا لیکن یہاں صورت اور ہی۔ اس دنیا کےچار ارب باشندےسوائےایک کےسبھی اس ترقی پر ایمان کی حد تک یقین رکھتےہیں اور ان میں سےدو چار کےسوا ایک بھی ایسا نہیں جسےاس ترقی کےمنطقی انجام کی خبر ہو یا اس کی خبر ان پر کچھ اثر کر سکےلیکن اگر حقیقی تجزیہ اس انجام کی دردناکی کاپیش کیا جائےاور اس کےبعد بھی ان کا ایمان اس ترقی سےمتزلزل نہ ہو اور اپنی ہانکےجائیں تو بلاشبہ اور درست طور پر یہ کہا جاسکتا ہےکہ اس دنیا کےان چار ارب باشندوں کی دماغی حالت درست نہیں ہےنہ ہی ان کےنفسیاتی ماہرین کی یہ سب کےسب بیکنی مالیخولئےمیں مبتلا ہیں۔ سوائےایک کی۔
لاریب اس بیکنی نظام کی جڑیں اس دنیا میں اتنی گہریں ہیں اور یہ بیکنی نظام اس بری طرح سےانسانی زندگی کےہر شعبےاور زندگی کےہر وسیلےکےعلاوہ انسانی قلب و ذہن پر مسلط ہےاور ایک زبردست قوت یعنی جاہ و مال کی انسانی خواہش سےاس طرح ہم آہنگ ہےکہ ایسےنظام کو کالعدم کرکےصعیداََ جرزا کرنےکےلئےایک ایسےعالم گیر زلزلےکی ضرورت ہےجو اس کو اس طرح ہلا کر رکھ دےکہ اس کی ساری عمارت کو زمین بوس کر دی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ یہ زلزلہ کس نوعیت کا ہو؟ ظاہر ہےکہ ان موجودہ حالات میں لڑائی بھڑائی اور جنگ و جدل کی تو کوئی صورت سامنےنہیں جو اس مقصد کےحصول میں مفید ثابت ہو سکےکیونکہ معاشرتی وسائل کےعلاوہ جنگی وسائل بھی اسی بیکنی نظام کےہاتھ میں ہیں لہذا دوسری صورت ہی سامنےآتی ہےیعنی یہ کہ انسانیذہن کو بدلا جائےاور اس کا طریقہ یہ ہےکہ اس بیکنی نظام کےدردناک منطقی اور قطعی انجام کی وضاحت کی جائےاور خوداس نظام کی اصلی حقیقت کو واشگاف کیا جائی۔ واضح ہےکہ یہ انقلاب فکری نوعیت کا ہو گا۔ مرحوم برٹرینڈ رسل معروف زمانہ انگریز فلسفی جسےبجا طور پر اپنےوقت کا عظیم ترین ذہن گردانا گیا ہےنےبھی انسانیت کو ایٹمی جنگ سےبچانےکےلئےایک عالم گیر تحریک چلائی تھی مگر وہ تحریک نہ تو رسل کی زندگی میں ہی کوئی معتدبہ کامیابی حاصل کر سکی نہ ہی موصوف کی وفات کےبعد ہی اپنا وجود برقراررکھ سکی۔بےچاری ان موجودہ حالات کی سختی کی وجہ سےدم توڑ گئی۔ رسل اس امر میں انسانیت کےدلی شکریئےکےمستحق ہیںاگرچہ اس کی تحریک ناکام رہی۔ لیکن اس کی قابلیت اور خلوص نیت میں شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ برٹرینڈ رسل کی ناکامی رسل کی تحریک کی ناکامی کی وجوہات ہیں۔ مسئلےکا انتہائی مشکل اور سنگین ہونا۔ ایٹمی جنگ تک اپنی تحریک کو محدود رکھنا اور ایٹمی توانائی کےبارےمیں نرم رویہ اختیار کرنا اور مسئلےکےتجزیئےکو آخری بنیادی کڑی تک پہچانالیکن ہمیں رسل کےساتھ انصاف کرنا ہو گا اور اس کی مشکلات کو سمجھنا ہو گا اور اس کی مجبوریوں کا لحاظ رکھنا ہو گا اور اس کےبعد ہم اس کی عظمت کا اعتراف کئےبغیرنہیں رہ سکتی۔ اب میرا معاملہ دیکھئی، اگرچہ رسل کی وفات کےبعد یعنی گزشتہ چند برسوں میں دنیا کو ایٹمی توانائی کےخدشات کےبارےمیں کچھ مزید سدھ بدھ ہو گئی ہےاور دنیا کےترقی یافتہ ممالک کےعوام الناس اس معاملےمیں مضطرب ہی نہیں بلکہ اپنےاضطراب کا برملا اظہار بھی کرنےلگےہیں تاہم اس بات کو سمندر کی سطح پر اٹھنےوالی لہروں سےزیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ سمندر اندر سےابھی تک پرسکون ہےاور دنیا ترقی کےمیدان میں اسی طرح دیوانہ وار بڑھنےکی کوشش میں مصروف ہےاور معاملہ اتنا ہی سنکین ہےبلکہ تیل کی کی پیداوار کی کمی کےساتھ اور تیل کی قیمتوں میں اضافےکےسبب ایٹمی توانائی کی اہمیت بڑھ جانےسےمعاملہ بتدریج سنگین تر نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہی۔ لیکن میرا تجزیہ مکمل ہےاور میرےکام کی بنیاد سائنس کےعلاوہ قرآن حکیم پر ہےاور قرآن حکیم نےاس معاملےمیں وہ بےنظیر معجزہ کر دکھایا ہےجو بغیر کسی شک و شبہ کےاس دنیا کےعالم افکار میں زلزلہ برپا کر سکتا ہےاب یہ معاملہ نہ رسل کا ہےنہ میرا ہےیہ معاملہ اب قرآن حکیم کا ہےاور خدا کا ہےاور اس بیکنی کلچر اور اس کےمنطقی دردناک اور تباہ کن انجام کامعاملہ اتنا سنگین اور در حقیقت اتنا واضح ہےکہ کوئی وجہ نہیں کہ عالم افکار میں زلزلہ برپا نہ ہو اور اس بیکنی کلچر کا انہدام واقعہ نہ ہوجائےاوراگر اس طرح بھی افکار عالم میں زلزلہ برپا نہیں ہو سکتا تو پھر اس دنیا کا انجام المناک ایٹمی تباہی کےسوا اور کیا ہو سکتا ہی۔ اتناالمناک کہ انالللہ کا جملہ بھی اس کےتصور سےگلےمیں اٹک جاتا ہی۔ اتنی ذلت آمیز تباہی اور اتنا جگر گداز انجام ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔
حضرت علامہ محمد اقبال اور حضرت امام مہدی علیہ السلامسنیئےحضرت علامہ محمد اقبال کیا فرماتےہیں :
سب اپنےبنائےہوئےزندان میں ہیں محبوس

خاور کےثوابت ہوں کہ افرنگ کےسیار
پیرانِ کلیسا ہوں کہ شیخانِ حرم ہوں

نےجدتِ گفتار ہےنےجدتِ کردار
ہیں اہل سیاست کےوہی کہنہ خم و پیچ

شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہےاس مہدیءبرحق کی ضرورت

ہو جس کی نگہہ زلزلہءعالم افکار
(ضرب کلیم)
خاور کےثوابت، افرنگ کےسیار، پیران کلیسا، اور شیخان حرم سیاست اور شعر و ادب کےعلم دار، اورروئےزمین کےعوام الناس ترقی کی بات کر رہےہیں۔ ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں لیکن یہ سب کچھ بیکنی فلسفےکےحصار میں محبوس ہی۔ اور جس طرح زمین کےگرد ایک سیارہ چکر میں لگ جاتا ہی۔ یہ انسانیت اس بیکنی کلچر کےگرد چکر میں لگی ہوئی ہےنہ تو اس چکر سےنکلنےکی کوشش ہی ہو رہی ہےنہ ہی کوئی دوسری دنیا ہی ان کی نظر میں ہی۔ سب سےبڑی لاعلمی جو اس دور کےبندوں کو لاحق ہےو ہ سائنس کےمعاملےمیں ہی۔لوگ سمجھتےہیں کہ سائنس ترقی کی منزلیں طےکر رہی ہی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہےکہ یہ ایٹمی سائنس اب اندھی ہوکر رک گئی ہےاور اس پر ایک جمود کی کیفیت طاری ہی۔ نہ تو تابکاری پر کنٹرول ہو سکتا ہےنہ ایٹم بم سےبچاو کی کوئی تدبیر ممکن ہےلہذا دوسرےمحکموں کےساتھ جمود کی کیفیت میں سائنسی برادری کو بھی شامل کر لیا جائی۔ اس مجموعی جمود کو جو اس بیکنی ترقی کی محبوس دنیاپر طاری ہی۔ توڑنےکےلئےجس زلزلےکی ضرورتہی۔ وہ قرآن حکیم نےایٹمی جہنم کےمتعلق اپنی پیشین گوئی ( سورہ الھمزہ) میں برپا کر دیا ہی۔
اس بیکنی ترقی کی بنیاد حب دنیا، طلب زر، اور موت اور آخرت کےخیال سےگریز پر مبنی ہی۔ اس کاعلاج حضرت علامہ محمداقبال نےمندرجہ ذیل نظم میں بیان کر دیا ہی۔

تو نےپوچھی ہےامامت کی حقیقت مجھ سی
حق تجھےمیری طرح صاحبِ اسرار کری
ہےوہی تیرےزمانےکا امامِ برحق
جو تجھےحاضر و موجود سےبیزار کری
موت کےآئینےمیں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
زندگی تیرےلئےاور بھی دشوار کری
دےکےاحساسِ زیاں تیرا لہو گرما دی
فقر کی سان چڑھا کر تجھےتلوار کری
فتنہءملت بیضا ہےامامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کری

(ضرب کلیم)
سلاطین کوخراطین سےبدل دیا جائےتو تصویر اس بیکنی ترقی کےمعاملےکی تصویر میں بدل جاتی ہی۔ خراطین کےمعنی ہیں مٹی کےکینچوےپس معلوم ہوا کہ ترقی کی اس مادہ پرستانہ روش سےبیزاری اور فقر کی بنیادوں پر اس دنیا میں پائےجانےوالےجمود کو توڑا جائےگا اور یہی بات ہےجس کی بنا پر قرآن حکیم نےایٹمی جہنم کےمتعلق اپنی پیشین گوئی میں زلزلہ اٹھایا ہی۔ اس دنیا کےان موجودہ حالات کی روشنی میں بیکنی ترقی کےانہدام کےاس پروگرام میں جو دقت محسوس ہو سکتی ہےاس کی روشنی میں پالیسی اختیار کرنےکا ایک نکتہ جو حضرت علامہ اقبال کےکلام میںملتا ہی۔ وہ یہ ہی:۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
یقین ِ محکم عمل ِ پیہم محبتِ فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
ان موجودہ حالات میں جو ہو سکتا ہےوہ یہ ہےکہ اس بیکنی کلچر اس بیکنی ترقی اور اس کےمنطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کی حقیقت کو جو قرآن حکیم نےایٹمی جہنم کی پیشین گوئی میں بیان کی ہی۔ بین الاقوامی آگاہی کےلئےروئےزمین کی قوموں میں عام کیا جائےتاکہ یہ انسانیت اس کی روشنی میں اس ایٹمی عذاب سےنجات حاصل کرنےکےلئےکوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کر سکی۔ لاریب یہ پیشین گوئی اس بیکنی ترقی کےجمود کےحصار میں ایک زلزلےکی حیثیت رکھتی ہی۔ البتہ یہ خیال پیش نظر رہےکہ مہلت کم ہی۔ کسی بھی وقت ایٹمی دھماکہ سب کئےکرائےپر پانی پھیر سکتا ہی۔ اس بیکنی فتنہ کےمتعلق ایک عجیب اشارہ حضرت علامہ محمد اقبال کےکلام میں ملتا ہی۔ ملاحظہ ہو۔ حضرت نےفرمایا:۔

کھول کر آنکھیں مرےآئینہءگفتار میں
آنےوالےدور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ
آزمودہ فتنہ ہےاک اور بھی گردوں کےپاس
سامنےتقدیر کےرسوائیءتدبیر دیکھ

(بانگ درا)
یہ آزمودہ فتنہ کیا ہی؟ اس کی اصلی حقیقت اس کی ساری تاریخ اور اس کا منطقی انجام میری آنکھ کےسامنےاسی طرح موجود ہےجس طرح حضرت علامہ اقبال کا متفکر چہرہ ، یہ آزمودہ فتنہ ہےشیطان کا جب اس نےآدم کو ورغلایا۔ دوسری بار انسانی تاریخ میں اسےشیطان ثانی یعنی فرانسس بیکن ( 1561-1626) نےدہرایا۔ شیطان نےآدم کو فرشتہ بننےاور ایک لازوال حکومت حاصل کرنےاور اسرار باطنیہ کےسمجھ لینےکےچکر میں ڈال کر اسےگندم کا دانہ کھانےپر آمادہ کرکےجنت سےنکلوا دیا۔ بیکن نےکائنات پر تسلط، مادی بہشت، اور سائنس کےذریعےاسرار کونینیہ کےانکشاف کاچکر دےکر انسان کو ایٹمی جہنم میں ڈلوادیا ۔ آدم کےلئےکم از کم دوبارہ بہشت حاصل کرلینے کاامکان تو موجود تھا۔ بیکن کےمارےہوئےابن آدم کےلئےیہاں ایٹمی جہنم ہےاور اگلی دنیا میں حطمہ ہی۔ حضرت علامہ اقبال نےجو تقدیر کےسامنےتدبیر کی رسوائی کا ذکر کیا اس کو بھی اسی روشنی میں دیکھ لیا جائی۔ تقدیر کےسامنےآدم کی عقل جواب دےگئی اور بیکنی ترقی کی تدبیر ایٹمی جہنم پرمنتج ہوئی۔ ابراہیمی مشنپردہ آنکھوں سےہٹا اور دیکھ! دیموقراطیس (قدیم اٹامزم کےبانی) کی روح اس انسانیت کےلئےایٹمی چتا بھڑکانےمیں مصروف ہےمگر یہ کس کی روح ہےجو اس آگ کو بجھانےکےلئےجدوجہد کر رہی ہی۔ جان لی! یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روح ہی۔ وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کو نمرود نےجلتی چتا میں ڈالا تھامگر جو بال بیکا ہوئےبغیر اس آگ سےصحیح سلامت نکل آئےتھےکہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی روائتی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ ہےاور اللہ تعالیٰ کی طبعی رحیمی اور کریمی کا کرشمہ ہےورنہ یہ بیکنی انسانیت اپنےطبعی انجام کو پہنچ رہی ہی۔ دیموقراطیس ابراہیم کامقابلہ آج کانہیں اس وقت سےشروع ہی۔ جب سےاس نئےبیکنی دور کی ابتدا ہوئی ہی۔ دیکھئی۔جدید اٹامزم کےبانی فرانسس بیکن ( 1561-1626) کےغائنبانہ مقابلےمیں حضرت مجدد الف ثانی(1564-1624) اور سپی نوزا، مادی وحدت الوجود کےبانی (1632-77)کےغائبانہ مقابلےمیں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 1703-63)) یہ محض تاریخوں کا اتفاق نہیں بلکہ تحقیق اس امر میں انکشاف کرتی ہےکہ موضوعی مطابقت بھی اس مقابلےمیںواضح نظر آتی ہی۔ اس مضمون کو ابھی تک اس زاویئےسےنہیں دیکھاگیا اور حقیقت یہ ہےکہ وہ دروازہ جو اس مضمون کی تحقیق سےکھلتا ہےاس دور کاانتہائی ضروری دروازہ ہی۔ ایک طرح سےیہ ایٹمی جہنم سےباہر نکلنےکا دروازہ ہی۔ پھر ٥٠٩١ ءکی اہمیت کو پیش نظر رکھیئی۔ یہی وہ سال ہےجس میں حکیم آئن سٹائن نےاپنامعروف زمانہ اضافیت کاخصوصی نظریہ پیش کرکےایٹمی توانائی کو اس بھنور سےنکال باہرکیاتھا جس میں اس وقت کےسائنس دان ناامیدی کی حد تک الجھ چکےتھےاور پھردیکھئی۔ حضرت علامہ اقبال ٥٠٩١ ء میں ہی یورپ جاتےہیں۔ اگر آپ یورپ نہ جاتےتو آپ ہند کےایک عظیم قومی شاعر کی حیثیت میں وفات پاتےاور احتمال یہ بھی ہےکہ شاعری کو ایک کسب فضول گردان کر اسےخیر باد کہہ دیتےمگر یورپ نےان کی کایا پلٹ دی۔ وہاں ان کی آنکھ اس دور کی حقیقت پر وا ہوئی اوروہاں ان کی آنکھ ابراہمی مشن پرکھلی اورا نہیں محسوس ہوا ۔ یہ دور اپنےبراہیم کی تلاش میں ہے اور پھر یہ منظر دیکھا ۔ آگ ہےاولاد ابراہیم ہےنمرود ہی۔ کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے اور پھر اپنا رول اس ابراھیمی مشن میں بیان کیا ۔ مجھے ہےحکمِ اذاں لا الہ الا اللہ ۔ یہ نظم پوری پڑھئے۔ ابراھیمی مشن کا دستور اور منشور ہی۔ الحق کہ جس نےحضرت علامہ محمداقبال کو سمجھنا ہو وہ حضرت علامہ محمد اقبال کو ابراھیمی مشن کی عینک سےدیکھے۔1942 ءمیں عظیم اطالوی سائنس دان فرمی نےشگاگو میں پہلی بار یورانیم فژن چین ری ایکشن Uranium Fission Chain Reaction کا کامیاب تجربہ کرکےایٹمی آگ کا در اس دنیا پر وا کر دیا۔ 1945ءمیں ہیروشیما اور ناگاساکی اس آگ کی لپیٹ میں آ کر نیست و نابود ہو گئی۔ 1942ءمیں ہی میری عمر کےپچیسویں سال میں مُصّیب نزد بغداد کےمقام پر خواب میں حضرت خضر علیہ السلام نےحضرت ابراھیم علیہ السلام سےاس بندہءعاجز کےحق میں ابراھیمی مشن کےلئےسفارش کی ۔ اسی خواب میں مجھےسورة النجم کی پہلی اٹھارہ آیات کی تفسیر منظر بہ منظر بشمول سدرة المنتہی دکھائی گئی ۔ اس وقت میں قرآن حکیم صرف ناظرہ پڑھ سکتا تھا ۔ مطالب و معانی کی آگہی نہ تھی۔ 1942ءسے1982ءتک میرےلئےقدیم و جدید علمی تحصیل و تحقیق و تدقیق و تصنیف کا ایک پُرآشوب دور رہا جس کےنتیجےمیں اب پانچ ہزار صفحات کی انگریزی اردو ،فارسی تصانیف مسودوں کی صورت میں میرےپاس ہیں ۔ ان میں سےتین ہزار صفحےایٹمی جہنم کےمتعلق قرآن حکیم کی36 لفظی پیشین گوئی کی تفسیر بزبان انگریزی پر مشتمل بارہ جلدوں میں ہیں جن کےمتعلق میرا گمان ہےکہ اس دور کےتمام نامور فلسفی اور سائنس دان مل کر بھی مشکل سےپیدا کر سکیں اور میں نےکسی ا ُ ستاد سےنہیں پڑھا ۔ البتہ مجھےایٹمی جہنم میں ڈال دیا گیا اور وہیں میں نےاس مضمون کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا ۔ اس تمام عرصےکےدوران جن دردناک حالات سےمیں دوچار رہا ہوں۔ اُ س کی تفصیل کےلیےکسی جان بنیان کا دل گردہ نہیں اور جس طریقےسےمیں نےعلم حاصل کیا اور جس مقدار میں حاصل کیا اس کا نفسیاتی تجزیہ کسی فرائیڈ یا ولیم جیمز کےدائرہ کار سےباہر ہےمگر یاد رکھیئےمیرا سارا کام نہ میرےروحانی دعوےپر منحصر ہےنہ ہی قرآن حکیم کےالہامی دعوےپر، سائنس اور منطق معیار ہے۔ کیونکہ سائنس ہی اس دور کا معیار ہی۔ برٹرینڈ رسل سےخط و کتابت 1964 ءمیں برٹرینڈ رسل نےمیرےخط کےجواب میں اپنا فیصلہ یہ دیا کہ جب سےآدم اور حوا نےگندم کا دانہ کھایا ہےاس وقت سےآدمی نےہر اس حماقت سےگریز نہیں کیا جس کےارتکاب کا کہ وہ اہل تھا اور انجام ایٹمی تباہی ہے۔ رسل کا تجزیہ بالکل درست تھا لیکن ایٹمی جہنم کےمتعلق قرآن حکیم کی وہ پیشین گوئی جس کےمتعلق مجھےانکشاف ہو چکا تھا میرےلئےشعاعئِ امید ہو کر ابھری۔ کیونکہ اس پیشین گوئی میں ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بیان کی گئی تھیں اور ان وجوہات کو ختم کرکےایٹمی تباہی کےخطرےسےانسانیت کےبچ جانےکا امکان موجود تھا۔یہ پیشین گوئی سائنس کی دنیا میں اور فلسفےکی دنیا میں ایک ایسا معجزہ ہےجس سےانکار کی نہ تو سائنس دان کو گنجائش ہےنہ فلسفی کواور اس ہدائت کےسوا کوئی دوسرا ذریعہ اس ایٹمی تباہی سےبچنےکا نہیں ۔ سائنس دان اور سیاست دان دونوں اس امر میں مجبور ہیں ۔ یہ پیشین گوئی اس ایٹمی آگ کےطوفان میں کشتیئِ نوح کی حیثیت کی حامل ہےنیز اس کی روشنی اپنائےاور اس کی ہدایات پر عمل کئےبغیر نہ کوئی تحریک موثر طور پر اس ایٹمی خطرےکےخلاف اس دنیا میں چلائی جا سکتی ہےنہ ہی کسی دین کا احیاء یا کسی دینی نظام کا نفاذ ہی موثر طریقےسےہو سکتا ہےاور اس دنیا کا ایٹمی جہنم اگلی دنیا کےحُطَمَہ کا دنیوی نمونہ ہےاور یہ پیشینگوئی قرآن حکیم کی الہامی حیثیت کا ناقابلِِ تردید ثبوت ہی۔ اس پیشین گوئی کی تاثیر یہ ہےکہ ستمبر1963 ءمیں معروف جرمن یہودی سکالر مس اینی میری شمل نےپنجاب یونیورسٹی میں قرآن حکیم کی الہامی حیثیت کےانکار پر مبنی اپنی تقریر کےدوران میں میرےمنہ سےقرآن حکیم کی الہامی حیثیت کےثبوت میں اسی پیشین گوئی کی تفسیر سنی تو چکرا کر کُرسی پر گری اور چائےکا گھونٹ اس کےحلق سےنیچےنہ اتر سکا اور واپس گئی تو دس برس تک پاکستان کو نہ لوٹی اور جب آئی تو موضوع قرآن حکیم کی الہامی حیثیت نہ تھا بلکہ حضرت علامہ محمد اقبال ،حضرت امیر خسرو ، حضرت سلطان باہو اور مسلمانوں کی خطاطی تھا۔ ورنہ اپنی علمی حیثیت کےسبب وہ احترام اور مقبولیت کی مستحق ہے۔ متذکرہ بالا مناظرےکےبعد بےحد مسرور علماءکےاصرار پر علامہ علاوالدین صدیقی اس وقت صدر شعبہءاسلامیات اور بعد میں وائس چانسلر نےالحمد لللہ میرا تعارف کراتےہوئےکہا ۔ حضرات ! یہ شخص قدرت نےمحض اتفاق سےاس قوم میں پیدا کر دیا ہی۔ وہ قرآنی بصیرت جو اللہ تعالیٰ نےاس کےسینےمیں تفویض فرمائی ہے۔ اگر یہ قوم اس سےحاصل نہ کر سکی تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قیامت تک معاف نہیں فرمائےگا پھر ایسا آدمی پیدا نہ ہو گا ۔ البتہ اب بےچاری مس شمل
اس میدان میں میلوں دور رہ گئی ہیں۔ اب آئن سٹائن اور رسل جیسےماہرین ِ فن درکار ہیں۔ یہ پیشینگوئی روئےزمین کےسائنس دانوں اور فلسفیوں کی توجہ کی مستحق ہے۔ یہی پیشین گوئی مغربی ا لحادکاخیبر توڑےگی تو علماءکرام کو تبلیغِ اسلام کےلئےداخلہ ملےگا ۔
میری مشکلات میری مشکلات کا اندازہ میرےموضوع کی بین الاقوامی وسعتوں اور اس کی ناگوار تلخیوں سےکر لو۔ ایک شخص تن تنہاءاس دنیا کےچار ارب انسانوں کی دنیوی آرزووں کےریلےکےسامنےکھڑا ہو کر ان کو ایٹمی جہنم کی راہ پر چلنےسےروکنےکی کوشش میں ہے۔ اسی سےموضوع کی تلخی کا اندازہ کر لو مگر اس میں میرا ذرہ بھر قصور نہیں ہے۔ میں نےوہی کچھ کہا جو قرآن حکیم نےکہا ۔ پھر قرآن حکیم کا نام بذاتِ خود میری مشکل کا باعث ہو رہا ہی۔ اس کےماننےوالےاپنی مشکلا ت اور مجبوریوں میں پھنسےہوئےہیں اور جو قرآن حکیم کو نہیں مانتےہو سکتا ہےکہ باوجود اس امر کےکہ میں اپنےہاتھ میں انسانیت کی تقدیر کی کنجی لہرا رہا ہوں اور میرےاردگرد انکشافات و حقائق کےنوادرات ہیرےجواہرات کےڈھیروں کی صورت میں بکھرےپڑےہیں ۔ وہ لوگ محض قرآن حکیم کےنام کی وجہ سےمیرےکام کےمعاملےمیں بےاعتنائی کا مظاہرہ کریں۔ ایک خاص مشکل میری یہ ہےکہ مضمون اتنا بلند باریک اور پیچیدہ ہےکہ انسانیت کی بہت بڑی اکثریت جس میں ایک بڑا حصہ فضلاءکا بھی شامل ہے اس سےبلد نہیں اور فقط تبصرہ حاصل کرنےکےلئےمجھےسات سمندر پار جانا ہو گا۔ کہاں ہےوہ فاضل جسےایٹمی سائنس اور فلسفےاور قرآن حکیم پر یکساں اور مطلوبہ معیار کی حد تک عبور ہو۔ افسو س کہ میرا معاملہ ایک فریب خوردہ اور سحر زدہ انسانیت سےہے۔ ورنہ آج اگر حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام یا کرشن مہاراج یا مہاتما بدھ ہوتے، تو وہ قرآن حکیم کی اس واضح اور نادرالوجود ہدائت کو سینےسےلگا تےاور اس کی تشہیر و نفاذ کےلئےہمہ تن کوشاں ہوتی۔
مسلمانوں سےالتماس اور ان کی ذمہ داریاںمسلمانوں سےیہ عرض کرنا ہےکہ ایٹمی جہنم کےمتعلق اس قرآنی پیشین گوئی سےجو ایک انداز میں اللہ تعالی کا اس انسانیت سےاتمامِ حجت ہےاور جو اس انسانیت کو اس دردناک ایٹمی عذاب سےبچانےکا واحد ذریعہ ہی۔ اس کی اشاعت میں پس و پیش کرکےخدا کی اس مخلوق کو محروم کرنا ایسا ہےجیسا کہ ایک غضبناک آتش فشاں پہاڑ کا منہ بند کر دینا ۔ یہ پیشین گوئی لازماً آتش فشاں پہاڑ کی مانند پھٹےگی اور اس کےبعدکےعواقب دوسری قوموں کےساتھ ایٹمی جہنم کی نذر ہو جانا اور قیامت کےروز اللہ تعالی کےحضور میں باز پرس اور شرمندگی ۔ بود کہ یار نہ پرسد گناہ ز خلق کریم کہ از سوال ملومیم و از جواب خجل اور یہی نہیں بلکہ اگلی دنیا کےابدی ایٹمی جہنم حُطَمَہ میں ڈال دیئےجانےکادردناک انجام ۔کیونکہ اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش اور اگلےجہاں کےحُطمہ کی سزا کی وجوہات بالکل ایک ہی ہیں۔ اس لئےجو اس دنیا میں استحقاق کی بنا پر اس دنیوی ایٹمی جہنم میں فنا ہوا ۔اسکےلئےاگلی دنیا کا ابدی حُطمہ منتظر ہےبلکہ اگر باوجود استحقاق کےاس دنیوی ایٹمی جہنم سےبچ نکلا تو بھی اگلی دنیا کےحُطَمَہ سےبچنا محال۔ یہ دنیوی ایٹمی جہنم اگلی دنیا کےایٹمی جہنم یعنی حُطَمَہ کا نمو نہ ہے اسی طرح جس طرح کہ عام آگ عام جہنم کا نمونہ اس دنیا میں ہے۔ مومن اور کافر کا فرق یہ ہےکہ جہاں کافر ہمیشہ ہمیشہ کےلئےحُطَمَہ میں رہےگا۔ مومن اسوقت تک رہےگا جبتک اللہ تعالی چاہےگا ۔یہی مفسرین کرام کی رائےہے۔ یہ ترقی مسلمان کریں یا کوئی دوسرا کرےلازماً ایٹمی جہنم کی جانب پیشقدمی کےمترادف ہی۔ اس وقت موجودہ بین الاقوامی حالات کو دیکھتےہوئےیہی کہا جا سکتا ہےکہ قرآنی پیشین گوئی کودنیا میں مشتہرکرکےاس بیکنی کلچر کی حقیقت اور اس کےمنطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کو واشگاف کیا جائےتاکہ انسانیت آگاہی پا کر متفقہ اور مشترکہ طور پر اس دردناک انجام سےبچنےکےلئےکوئی لائحہ عمل تیار کرسکی۔ کوئی ایک ملک تنہا اس امر میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ مسلمان اگر اس قرآنی پیشین گوئی کی تفسیر کو چھاپ کر اور اسےدنیا میں مشتہر کرکےاور اس مقصد کو حاصل کرکےاپنا فریضہ ادا کردیں تو یہ امر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، قرآن حکیم کی سربلندی اور انسانیت کےدلی شکرئیےکا باعث ہو گا ۔ پندرھویں صدی ھجری کی تقریبات میں قرآنی پیشین گوئی کی یہ تفسیر امت مسلمہ کی جانب سےانسانیت کےلئےایک ایسا تحفہ ہےجس سےبہتر متصور نہیں ہو سکتا ۔ و آخردعوانا انِ الحمد لللہ رب العلمین ۔
نہ ہی غیر مسلم اقوام اس پیشین گوئی کی اشاعت سےبری الذمہ قرار دی جا سکتی ہیںکیونکہ یہ ساری انسانیت کو ایک دردناک انجام سےنجات دلاتی ہے۔ ایک ایسا انجام جو ساری انسانیت کےباہمی تعاون کےبغیر ٹالا نہیں جا سکتا ۔آخری بات یہ کہوں گا کہ ایٹم بم ایٹمی جہنم کی پیدائش اور حُطَمَہ آخروی ایٹمی جہنم میں سزا کی وجوہات ایک ہی ہیں ۔ اس دنیوی ایٹمی جہنم کا مستحق اگر بالفرض اس سےبچ کر بھی نکل گیا تو بھی اگلی دنیا کےابدی ایٹمی جہنم سےنہ بچ سکےگا تو کیا پھر اس بات پر غور نہیں کرو گے؟ اور کیا تم نےسورہ الھمزہ میں پڑھ نہیں لیا کہ دولت جمع کرنےوالےاور دولت کےعمل کو ابدی سمجھنےوالےعیب جُو کی سزا حُطَمَہ ابدی ایٹمی جہنم ہےتو کیا میں نےتمھیں سمجھانےکا حق ادا نہیں کر دیا ۔ اللہ تیرا شکر ہے۔ (بیکن دجال اور علامہ اقبال سےلیا گیامضمون)
ترقی یافتہ وسیع البنیاد سائنسی و اقتصادی دور میں المیہ ءلیڈر شپ بھی زیر بحث چلا آ رہا ہی۔ انسانیت کو دہشت گردی کی جنگ سےصرف اور صرف وہی ٹیم چھٹکارا دلواسکتی ہےجو دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور ان کےتدارک کا کافی علم رکھنےکےساتھ ساتھ حل
کرنےکا ڈھنگ بھی پرامن طریقہ سےنافذ کرکےاستحکام بخشنےکی صلاحیت سےمزین ہو اور اس ٹیم کا لیڈر اکمل جامع فقیر: Perfect ہنرمند Technologist ہو۔نابغہ روزگار شخصیت و اعلی ٰصفات انسانی کا حامل ہو ۔ ساتھ ہی ایٹمی ہتھیاروں کو نیست و نابودDemolition کرنےکےفن کا بھی چوٹی کا ماہر ہو۔ اس سلسلہ میں سیدنا حضرت علامہ محمد یوسف جبریل ہماری فکری اور سائنسی اعتبار سےیوں رہنمائی فرما کر لیڈرشپ کےفقدان کےچیلنج کا بھی معرکہ سر کرتےہوئےنظر آتےہیں۔
آپ Physical and metaphysical sciences کا Balance کرتےہوئےعالمی برادری کو
Integrated meditations-multi-inter- scientific discipline -pannacea leaded integrated system and discrimination
کےاصولوں کےتحت ہومیوپیتھک سائنس فارماسیٹیکل کےہائی پوٹسنی ایٹمی نظام کی رمز سمجھاتےہوئے Supreme Purge technology کےذریعےانسانیت کی جملہ ظاہری و باطنی طہارت External and Internal Purification کا تریا ق فراہم کیا ہی۔ نیوکلر سائنسز میں نیوکلر نیوٹرلایزیشن فارمولا
SWExMC2-(NH)T-D(NH)E٪CPH
multirole offensive + defensive formula فراہم کر کےتمام دکھوں کامداوا کرتےہوئےPanacea کا رول ادا کرتےہیں۔ فکری اعتبار سےس ف ک (سفک) س سخاوت، جو کہ شجاعت کی ماں ہےاور پروپیگنڈاکی قاطع ہی۔ ف سےمراد فقر ہےجو قاطع ہےحرص و ہوا لالچ اور دولت اندوزی کا، جس کی طاقت سےدولت کا بت پاش پاش ہو جاتا ہی۔ ک سےمرادانکساری ہےجو کہ توڑ ہےاس دور کےمخصوص انسانی غرور کا ۔ غرور بمعنی فریب دھوکا۔ سائنسی اور تکنیکی اعتبار سےCPH آگ کےطوفان کو بجھانےکی صلاحیت رکھتا ہی۔
Composition : Carbon x phosphorous x hydrogen
application of synthesis and anti-synthesis بذریعہ
offensive sword+defensive shield))
چونکہ کاربن کا وزن آکسیجن سےہیوی ہی۔ کاربن کی موجودگی میںآکسیجن اAutomatically ، Repell ہو جاتی ہی۔ لہذا آکسیجن کی غیر موجودگی میں Radiations کے اثرات کا کم ہونا ا ور تھرمونیوکلر وپین کا Activate نہ ہونا پھر Friction تھیوری کا خیال مدنظر رکھنا تاکہ Stratosphere کی Operational حدود Zones کوSilver Stair ٹیکنالوجی کےتحت پھلانک کر Altitutude بڑھایا جائےاورStarwars کےہتھیاروں Arrow یا NMD اور دوسرےپروگرامز کو Neutralize کیا جائےممکنہ حدود تک۔
GENE MUTATIONS
کی بحث کےزیر عنوان آپ کی رہنمائی میں Believers and disbelievers کےGenes کو Discrimate کیا جا سکتا ہی۔ پھرBiosecurity Uni-multicellular ) کا Botany (uphorbium( plomeol, monocortic dicort کا معاملہ حل کیاجاسکتا ہی۔ بشرطیکہ نئےنظریہ Supreme global system کےتحت تمام علوم کی Faculty کی ماہر مایہءناز تجربہ کار شخصیا ت وتنظیمات کا انتخاب کرکےPracticability بروئےکار لائی جا سکتی ہی۔ چناو کاطریقہ کاراور کامیابی کا راز فقط اس رحمت بھری وزنی بات میں موجود ہی۔
کی محمد سےوفاتو نےتو ہم تیرےہیں

یہ جہاں چیز ہےکیا لوح و قلم تیرےہیں
نوٹ : (١) امریکہ دنیا میں سب سےزیادہ ہتھیار بنانےاور بیچنےوالا ملک ہی۔
(٢) عالمی نظام کی تیز رفتار اور وسیع البنیاد ترقی میں چین،بھارت، برازیل، اور ترکی اہم کردار ادا کررہےہیں۔
(٣) اسلامی دنیا میں چار ممالک، ترکی، مصراور پاکستان اور افغانستان کافی اہمیت کےحامل ہیں۔
معاشی مسئلہ کا حل: عفو، انسانی مساوات و حقوق میں برابری اوراسلامی اخوت ایثار و قربانی میں موجود ہی۔
علامہ مکرم کی راہنمائی میں جدوجہد کےلئےانسانیت میں انصاف کےحامی اور ظلم کےخلاف کمربستہ ہونےوالےعظیم Genus ہستیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر عملا کام کےلئےامت کو چند کارہائےنمایاں بجا لا نےہیں۔ چونکہ بڑی رکاوٹ اس وقت عالم اسلام خود ہےکہ حق کا نظام (دین الحق) کسی بھی برائےنام اسلامی ملک میں نافذنہیں۔ لہذا دور حاضر کےمسلمان من حیث القوم دنیا کی دوسری اقوام و ملل سےزیادہ مجرم ٹھہرےکہ حق جانتےہوئےبھی کتمان حق عملاََکررہےہیں۔ مثلا سود جانتےہوئےبھی کہ جنگ ہےاللہ تعالیٰ اوراس کےپیارےرسول اللہ کےخلاف، لیکن سعودی عرب سےلےکر تمام اسلامی ممالک میں Worlwide سودی نظام عملا کارفرما ہی، حتی کہ طواف کعبہ بھی بذریعہ بینکینگ سسٹم کےتحت یہودیوں کےسودی نظام کےتحت ہو رہا ہےاور مسلمان ٹس سےمس نہیں ۔گھناونےجرم کو عبادت سمجھ کےکیا جا رہا ہی۔ بھلا گمراہی اور Confusion کی بھی کوئی حد ہوتی ہی۔چونکہ پورےگلوب کا مرکز خانہ کعبہ ہی۔ جسےاللہ تعالیٰ نےپوری انسانیت کےلئےامن کا مقام ٹھہرایا ہےمگر سودی نظام کےتحت خانہ کعبہ اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہی۔ اس کےمتولی یا وارث جیسا کہ سورة التوبہ میں ارشاد ہی۔ ان اولیاء ہ الاالمتقون متقین ہیں۔مگر موجودہ سعودی حکمرانوں کا کردار ہمارےسامنےہی۔
(١) ان حالات کےپیش نظر حاکم سےمحکوم تک مسلمان توبہ تائب ہو کر توبتہ النصوح حاصل کریں۔(٢) اپنی سٹریجی Revise کرتےہوئےانفرادی معاملات کےمقابلہ میں اجتماعی معاملات کو ترجیح دیں۔(٣) اسلام کےفلسفہ ترجیح یعنی Priority کےاصول کو تمام شعبوں پہ غالب کر دیں اور وہ اصول ہےسورة التوبہ۔ احب الیکم من اللہ و رسولہ و جہاد فی سبیلہیعنی اللہ تعالیٰ اور اس کےپیارےرسول کریم علیہ الصلوة والسلام اوراس کی راہ میں جہاد ہی دراصل Superior پالیسی ہی۔ اس پالیسی کو ترک کرکےمسلمان ذلت کاشکار اور دنیاکی ذلیل ترین قوم یہودی ان پر شرق سےغرب تک بصورت عذاب مسلط ہی۔ اس کائنات میں جتنےبھی فتنےبرپا ہوئےیا ہوںگی۔ ان
میں زیادہ خطرناک فتنےدو ہی ہیں۔ فتنہ دجال اور یاجوج و ماجوج ۔ لیکن قربان جایئےدونوں فتنوں کا سدباب فقط اور فقط قتال میں رکھا گیا اور سدباب کےلئےامام مہدی علیہ السلام اور سیدنا عیسی علیہ السلام کا چناو کیاگیا۔ Similarity دونوں میں امامِ قتال کی ہی۔ علامہ صاحب بیکن دجال والےکتابچےمیں سونےپر سہاگہ کرتےہوئےفرماتےہیں کہ دجال یہود میں سےہی۔ اس کو حضرت عیسی علیہ السلام کےعلاوہ کوئی نہیں مار سکتا۔ حضرت عیسی علیہ السلام روح اللہ ہیں اور روح کی حقیقت کل الروح من امر ربی میں موجود ہی۔ یہی روح قرآن حکیم میں بھی کارفرما ہےکیونکہ قرآن حکیم امر ربی ہی۔ گویا ہر فتنہ و ارتداد کا حل قرآن حکیم میں موجود ہےجیسا کہ حضرت ذوالقرنین علیہ الصلوة والسلام نےعملا Mild steel+molten copper کےذریعےیاجوج ماجوج کےحملےروک دیئےاور یاجوج و ماجوج defenseless ہو گئی۔ دور جدید میں بھی وہی ٹیکنالوجی Form up کرکےآج کےیاجوج ماجوج کو بھی زیر کرنا ناممکنات میںسےنہیں صرف ہمت و حکمت عملی کی ضرورت ہی۔ (حوالہ سورة الکھف ٦١ پارہ)
قرآن میں ہو غوطہ زن اےمرد مسلماں اللہ کرےتجھ کو عطا جدتِ کردار
(ضرب کلیم حضرت علامہ اقبال)
مسلمانوں کو (شواظ من النار و نحاس) سورة الرحمان Fire flames+molten brass technology, کی ریسرچ کرکےجلد از جلد Form کرنی ہےتاکہ جن و انس کےTroops (Defenceless ) ہو جائیں۔ Starwars کا مقابلہ چونکہ قلندرانہ مزاج کےمسلمان ہی کرکےغلبہ حاصل کرسکتےہیں۔ جیساکہ حضرت علامہ محمد اقبال ہمیں گائید فرماتےہیں۔
مہر و ماہ و انجم کا محاسب ہےقلندر
میرا جوہر جب بھی جہاں میں آشکار ہوا

ایام کا مرکب نہیں راکب ہےقلندر
قلندری سےہوا ہےتونگری سےنہیں
طریقہ کار اور مواد حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کی ایٹمی جہنم بجھانےوالا قرآنی فارمولا ، فلسفہءتخلیق کائنات ، اسلامک بم، حطمہ، فقر غیور، اور ان کی دوسری کتابوں میں Genus کی رہنمائی کےلئےموجود ہی۔ لیکن عملاََLaunching کرنےکےلئےمسلمانوں کو ذہنی ہم آہنگ مربوط سوچ کی مالک اقوام کو ساتھ لےکر ایک عظیم الشان بین الاقوامی ادارہ قائم کرنا ہی۔ جس کی اساسی پالیسی میثاق مدینہ کےطرز پر ہو۔ قربت والی پالیسی کو رواج دیا جائی۔ یہودیوں کےمذہبی معاملات میں مداخلت بند کرکےان کی مملکت کو تسلیم کرتےہوئےان کےساتھ میثاق مدینہ کی طرز پر معاہدہ کرکےاپنےسفارت خانےکھولےجائیں تاکہ کام آسان ہو جائی۔ کیونکہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائےدور کا بھیدی مار کھائی۔ لہذا تمام اقوام کو آپس میں اقوام متحدہ اور دوسری عالمی تنظیموں کےمحاذ پر کم از کم دس سال تک جنگ ترک کرنےکا معاہدہ کرناضروری ہی۔
مکےنےدیا خاک جینوا کو یہ پیغام جمیعت اقوام کہ جمیعت آدم

تاکہ انسانیت کےدرمیان انسانی بنیادوں پہ نہ کہ قومی بنیادوں پہ اتحاد قائم ہو سکی۔ اس کاطریقہ کار یہ ہےکہ ان تمام باتوں میں اتفاق کر لیا جائےجو سارےانسانوں کےدرمیان قدر مشترک ہیں۔یااھل الکتاب تعالوا الی کلمتہ سواءبیننا و بینکم (القرآن سورة آل عمران 64:3 ) ترجمہ؛ اےاہل کتاب ! آو اس بات پر اتفاق کر لیں جو ہمارےاور تمہارےدرمیان مشترک ہی۔ مثلاََ انسانی حقوق میں تمام انسان برابر ہیں بغیر کسی رنگ و نسل ، ذات پات اور مذیب کی۔ان مقاصد کےحصول کےلئےانسانیت کو منظم طریقےسےاداروں کی شکل میں Management قائم کرکےتاکہ ہم آہنگی اور استحکام حاصل ہو سکےاور گلوبل سیکورٹی کی ضمانت فراہم ہو سکی۔ اقوام متحدہ کی طرز پہ جمیعت آدم کےلئےیونیورسل ادارہ قائم کرنا موجودہ گلوبلائزیشن کی فضاءمیں نا گزیر ہی۔ جو انسانیت کی فلاح و بہبود کےلئےانصاف کی بنیادوں پہ کام کر سکی۔ اس ادارےکا نام Supreme Global Research & Development Centre(SGRDC) رکھا جائےکیونکہ گلوب پر Super طاقتUSA حاوی ہی۔ Super سےاوپر کی ڈگری سپریم ہی۔ موجودہ حالات میں صرف سپریم پاور ہی غلبہ حاصل کر سکتی ہی۔ اس ادارےکا کام عالمی امن قائم کرنا ہےجس کی Achievementsکےلئےدرج ذیل اقدامات ضروری ہیں۔
١۔افرادی قوت:عظیم لوگوں کو بڑی ہی جانفشانی اور عرق ریزی سےچھانٹ کر لایا جائی۔ Criteria کی بنیاد کردار کےمیرٹ پرہو گی۔ ایسی افرادی قوت کی کلی دستیابی ہمیں یہاں سےہو گی۔اس افرادی قوت کو ڈھونڈھنےکےلئےدورس، دوربین نگاہ چاہیئی۔
وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانی
افرنگ سےبہت آگےہےمنزلِ مومن
کھلےہیں سب کےلئےغریبوں کےمیخانی
اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہےتری
سنیں گےمیری صدا خانزادگان کبیر؟
فطرت کےمقاصد کی کرتاہےنگہبانی
دنیا میں محاسب ہےتہذیبِ فسوں گر کا یہحسن و لطافت کیوں، وہ قوت و شوکت کیوں
اےشیخ ! بہت اچھی مکتب کی فضا لیکن
صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہےحریف اس کا

ہو جس میں فقط مستیءکردار
نگاہ وہ ہےکہ محتاج مہر و ماہ نہیں
قدم اٹھا! یہ مقام انتہائےراہ نہیں
علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
تیرےبدن میں اگر سوز لاالہ نہیں
گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں
یا بندہءصحرائی یا مرد کوہستانی
ہےاس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی
بلبل چمنستانی شہباز بیابانی
بنتی ہےبیاباں میں فاروقی و سلمانی
تلوار ہےتیزی میں صہبائےمسلمانی
تہذیبی یلغار کی کشمکش و تصادم کو کرش کرنےکےلئےپالیسی ارمغان حجاز میں موجود ہی۔ بڈھےبلوچ کی نصیحت بیٹےکو ۔

ہو تیرےبیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
جس سمت میں چاہےسیل رواں چل
غیرت ہےبڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
حاصل کسی کامل سےیہ پوشیدہ ہنر کر
افراد کےہاتھوں میں ہےاقوام کی تقدیر
محروم رہا دولت دریا سےوہ غواص
دین ہاتھ سےدےکےاگر آزاد ہوملت
دنیا کو ہےپھر معرکہءروح و بدن پیش
اللہ کو پامردیءمومن پہ بھروسا
تقدیر امم کیا ہےکوئی کہہ نہیں سکتا
اخلاصِ عمل مانگ نیاگانِ کہن سے

اس دشت سےبہتر ہےنہ دلی نہ بخارا
وادی یہ ہماری ہےوہ صحرا بھی ہمارا
پہناتی ہےدرویش کو تاجِ سردارا
کہتےہیں کہ شیشےکو بناسکتےہیں خارا
ہرفرد ہےملت کےمقدر کا ستارا
کرتا نہیں جو صحبت ساحل سےکنارا
ہےایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
تہذیب نےپھر اپنےدرندوں کو ابھارا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کاسہارا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہےاشارہ
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا
wer (Genius+ Loyal Manpo
1). Leadership:
Outstanding, knowledgeful, powerful, sincere, brave, military command (politicians, scholars, journalists, traders, importers and exporters)
(2) Security:
Top secret, highly vigilant experts and the most sophisticated security equipments.
(3) Administration:
Awareness in international law, administrative affairs and management.
(4) Finance:
"Honesty is the best policy. (Guardianship and knowledge of international economics, especially IMF, World Bank, Export Credit Card Agencies (ECAS) and WTO etc.
5). Genetics
6). Biotechnologists
7).Chemists/Chemical engineers (analytics)
8). Bio physics+ bio chemists.

9). Botanists + Hakeems+ Homoepathists
10). Engineers + Technicians
(a) Atomists(b) electronics (c) aerodynamics (d) Armaments (e) Logistics (f) material sciences metalllurgical+ earth sciences (g) design and drafting (h) IT specialists (Hardware and software developers) (j) Experts of technical library+ resourcing ( especially human and material) (k) Universal sciences (experts on all faculty)
Note: The development shall be carried out on priority basis with mutual coordination and consultation.
فطرت افراد سےاغماض بھی کر لیتی ہی۔ کبھی کرتی نہیں ملت کےگناہوں کو معاف
تہذیبی تصادم اور فخاشی Sex free کلچر کا سدباب بھی ہومیوطریقہ علاج کےتحت نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرکےاعتدال تک لایا جا سکتا ہےتاکہ روشن خیالی کی منزل سےآگےکی تہذیبی منزل روشن ضمیری ، حاصل ہو سکی۔ روشن ضمیری،بےضمیری اور بےغیرتی کا خاتمہ کر دیتی ہےجس سےعملا ان شائنک ھوالابتر کی تعبیر ممکنات میں سےہی۔ اس لئیGenes کو تبدیل کرنےکی دوائیں استعمال کرائی جائیں گی۔ اسکےلئےایسی گیسز کااستعمال کروایا جائےگا جو Genes پر اثر انداز ہو کر نفسانی خواہشات کو Balanced کر نےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مثلاَNeucleic Acid یاNeucleon +Nitrogen gas وغیرہ کا استعمال نہایت ہی اہم نکتہ کہ جس پر اس عظیم ترین عالمی امن کےمنصوبےکادارومدار ہی۔یاد رکھئےگا کہ Believers اور Disbelievers کےGenes میں Discrimination اما شاکراو اما کفورا ، (سورة الدھر) کےتحت موجود ہی۔ جس کا تریاق Euphorbium ہے۔ محسن اعظم سیدنا حضر ت علامہ محمد یوسف جبریل میں تقدیر عالم کو بدلنےکاشعور نعرہ جبریل میں ایسےمرحمت فرماتےہیں :۔
مسلمان داغ دےاب نعرہء تکبیر دنیا میں بدلنا ہےتیری تکبیر سےتقدیر عالم نے
تدبیرX تقدیر = احکام الہیٰ
تقدیر عالم کو بدلنےکےلئےمسلمانوں نےخصوصاََ اور غیر مسلموں کو عموماََ بےضرر CPH ٹیکنالوجی تیار کرکےہی دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہےکیونکہ کرتا آخر کار بیوقوف بھی وہی ہےجو عقل مند کرتا ہیلیکن کافی نقصان اٹھانےکےبعد۔ تقدیر عالم بدلنےکےلئےہمیں علامہ مکرم کی وہ داستان بھی ہمیشہ ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیئےکہ شہزادی نےبادشاہ کےقاتلوں سےکس حکمت عملی سےبدلہ لیا۔ شیر دوبارہ کس حکمت عملی سےپنجرےمیںبند کر دیا گیا ۔ انہی Tactics اور Strategies کےپیش نظر دور جدید کےخونخوار بھیڑیوں کو بھی جو پنجروں سےنکل چکےہیں دوبارہ پاپند سلاسل کیا جا سکتا ہےانشاءاللہ تعالی العزیز۔ پہلےمرحلےمیں دجالی تہذیب کو قابو میں لانےکےلئےGenius کو چیدہ چیدہ عالمی تنظیمات کےسربراہوںElites سےروابط قائم کرکےان کی Confusion اور Misunderstanding کوحضرت مکرم کےپیغام کےذریعےمتفکر کرکےدور کیا جا سکتا ہی۔ رابطہ کےلئےہر طرح کےSources and resources استعمال کرنےہوں گی۔ مثلاََ IT,Email,Telephone,Postal یا دوسرےذرائع خاص کر بذریعہ انسان، پرنٹ میڈیا یا موقع محل کی مناسبت سےSource مثلا ََ
(1) Global Policy Forum(GPF)

UNO security Council, Gen Assembly سےکام کاآغاز کرکےUNESCO,UNICEF, WHO,ICJ, اور UNOکےدوسرےاداروں سےرابطہ قائم کرکےعلامہ صاحب کا پیغام پہنچانا ضروری ہی۔ رابطہ معلومات کےلئےwww.globalpolicy.org/ ۔
Global Policy Forum New York.
Global Policy Forum 777 UN Plaza, Suit 3 D New York, NY 10017 USA
Phone No. +1-212-557-3161 Fax No +1-212-557-3165
E mail : gpf @globalpolicy.org
Global Policy Forum Europeon Bertha-von.suttner Platz 13
D-53111 Bonn. Germany
Ph.+49-228-9650510
Fax : +49-228-9638206
E mail : europe @ globalpolicy.org
Website: www global.org/eu/index.1
(2)The National Security Archive
The George washington University
Email: nsarchiv@gwu.edu
حالات حاضرہ کےعلاوہ نیوکلر ٹیسٹنگ اور CIA کی معلومات بھی یہاں پر موجود ہیں۔
(3) Corpwatch and (IFG)internal Forum on Globalization
کےتحت تمام عالمی تنظیموں سےرابطہ ممکن ہی۔ Website پر جانا لازمی ہی۔
(4) FAS (Federation of American Scientists Washington (DC)
(5) Union of Concerned Scientists (Global security.org) گلوبل سیکورٹی کی ذمہ دار تنطیم ((US Department Of Energy. (6)نہایت ہی اہم ادارہ ہی۔ (7) The Council For Livable World.(8) Muslim-Christian Institute on the Nuclear Weapons danger. http://www.mci-nwd.org/
(9) Presbyterian Church (USA)
(10) CGSR (Center for Global Security Research)
(11) Radiation Detection Center ( rdc@llnl.gov)
(12) The Nixcon Center (www.nixon center/ org)
(13) National Ministries Division.
(14) AICHE
(15) MBDA of France
(16) International Assessment and Strategy Center

ان اداروں کےعلاوہ اس آرٹیکل میں جتنی لیبارٹریز و انڈسٹریز کا پہلےذکر ہو چکا ہےان کےعلاوہ دنیا کےتمام تعلیمی و صحت کےمراکز پر عالمی امن کےکام کو تیزی سےآگےبڑھایا جاسکتا ہےلیکن یادرکھئےگا کہ منطقی انجام یا خاطر خواہ موثر نتائج حکمران پارٹی Elites طبقہ امرا کےذریعہ ہی بروئےکار لائےجا سکتےہیں۔

وہی زمانےکی گردش پہ غالب آتا ہے جو ہر نفس سےکرےعمرِ جاوداں پیدا
گردش زماں پر غلبہ کےلئےعلامہ صاحب فرمایا کرتےتھےکہ خذوالکتاب بقوة قرآن حکیم کو مضبوطی سےتھام لو ۔قرآن حکیم ہی میں ہر مثل موجود ہی۔ یہی قرآن عظیم کا اعجاز ہی۔ یہی غلبےکا رازہی۔ استحصالی و سامراجی نظام باطل کو مٹانےکےلئےاس عظیم راز و پراسرار Strategy کےتحت سامراجی و استحصالی نظام کو پچھاڑنےکا واحد راستہ ہی Intelligence Policy ہےکیونکہ بڑی قوت کو باطنی حکمت عملی سےتو گرایا جا سکتا ہی۔ عقل و دوربینی سےکام لیا جا سکتا ہی۔ ظاہری ذرائع کےذریعہ بڑی قوت ہمیشہ چھوٹی قوت پر غالب رہتی ہی۔ سورج کی موجودگی میں ستاروں کی روشنی ماند پڑ جاتی ہی۔ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو ہڑپ کر جاتی ہیں لیکن بہترین حکمت عملی کےتحت چینوٹیاں سانپ و ہاتھی کو اور دیمک و زنگ لکڑی و لوہےکو کھا جاتی ہیں۔ حکمت کا روں کےلئےاس میں بڑی نشانیاں پنہاں ہیںاور راستہ معین کرکےمنزل مقصود پانےکا نہایت ہی وزنی و موثر راز موجود ہی۔ قرآن حکیم کےوہ پورپشن جن میں باطنی علوم علم لدنی جیسےسورة الکہف میں حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام اور اصحب کہف، اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا ملکہ سبا کےتخت کو فیوذن اور ڈیفوزن ٹیکنالوجی (علم تصرف) سےٹرانسفر کروانا اور پھر شیشےکی ٹیکنالوجی سےModification کروانا کہ ظاہرا تخت کےاندر سےپانی گذرتا ہوا نظر آتا ہےلیکن حقیقی اعتبار سےپانی کا موجود نہ ہونا ۔جس سےملکہ سبا کی Intelligence مغالطےکا شکار ہو کر صحیح Judgement نہ کر سکی۔ اسی حکمت عملی میں مشرکین کی تمام Guidance system یا لیڈرشپ کا عملاََ توڑ موجود ہی۔ اس ٹیکنیکل Phenomenon کےتحت تمام کیمونیکشن ریڈار ،Guidance ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ، میزائل battle management ، سٹلائٹ،اور SBIRS کو Countermeasure کرنانہایت ہی آسان ہی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا بن یامین علیہ السلام کی غلےوالی بوری میں Measuring equipment بحکم الہی ٰ ڈلوادینا ، بوری کی تلاشی آخر پہ کروانا، حضرت بن یامین علیہ السلام پہ ظاہری اعتبار سےچوری کا ثبوت حقیقی اعتبار سےچوری کا مرتکب نہ ہونامصر کےکالےیا جنگل کےامیگریشن لا (قانون) کا توڑ حکمت عملی سےکرواناپھر بن یامین علیہ السلام کو اپنےپاس ٹھہرانا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا بھائیوں کےساتھ جنگ میں اپنےآ پ کو آخر ی سٹیج پر متعارف کروانا۔سب ظاہری و باطنی علوم کی Infinity ہی۔
عالمی دنیا کی طاقت کو جانچ کر اگر موازنہ کیا جائےتو 30 اکتوبر 2006 (روزنامہ جنگ) راولپنڈی کی سروےرپورٹ کےمطابق ارب پتی لوگ سب سےزیادہ امریکن ہیں۔ دنیا کا امیر ترین آدمی بل گیٹسMicrosoft company کا سربراہ امریکن ہےیہی وجہ ہےکہ بےپناہ اقتصادیات کےذریعہ سب سےزیادہ اسلحہ بنانےوالا اور Arms export کرنےوالا ملک بھی امریکہ ہی۔ سب سےزیادہ دھوپ والی امریکی ریاست ایریزونا ہے( Temperature ) دنیا وی جہنم، امریکی ریاست کیلیفورنیا کہلاتی ہی( اپنےنیوکلر انرجی سیٹ اپ کی وجہ سےجو کہLawrence Livermore National Laboratory کےتحت قائم ہی) تاہم امریکی سسٹم کو داد دینی چاہیئےکہ سات سمندر پار جنگ لڑ رہا ہی۔ کانگریزنل ریسرچ سروس سی آر ایس کی اقتصادی رپورٹ کی
مطابق اس وقت سب سےزیادہ بجٹ دہشت گردی و انتہا پسندی کےخلاف جنگ پر خرچ ہو رہا ہی۔ کل بجٹ 2002 سے2007 تک 16.64 ارب ڈالر مختص کئےگئےہیں جس میں سے13 ارب 60 کروڑ ڈالر اب تک خرچ ہو چکےہیں۔ پاک وطن فرنٹ لائن کا اتحادی ہی۔ اس نےسب اتحادیوں سےزیادہ معاوضہ وصول کیا ہی۔مثلاََ 1.5 ارب ڈالر اور مالی سال 2007 کےلئے900 ملین ڈالر مزید اس کےلئےمختص ہوئےہیں۔
عالمی سطح پر سب سےبڑی فوج چائنا کی ہےلیکن امریکہ اور اس کےاتحادیوں کا مقابلہ اس لئےنہیں کر سکتی کیونکہ ٹیکنالوجی میں پیچھےہے۔ ابھی تک چائنا میزائل کا انجن تیار نہیں کر سکا ہی۔ ٹیکنالوجی رشین فیڈریشن سےImport کرتا ہےالبتہ موجودہ تیز رو رفتار و سیع البنیاد سائنسی و اقتصادی ترقی میں عالمی نظام گلوبلائزیشن کےلئےچین، بھارت، برازیل، ترکی اور شمالی افریقہ نمایاں کردار ادا کر رہےہیں۔
اسلامی دنیا میں پیارا پاک وطن،افغانستان ، ترکی اور مصر نہایت اہمیت کےحامل ہیں۔ جغرافیائی ،سماجی، سیاسی اور فوجی و دفاعی اعتبار سےپاکستان، ترکی اور مصر کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں نہایت ہی دوراندیشی و تدبر والی ہیں۔ ترکی اور مصر کےاسرائیل کےساتھ دفاعی معاہدےہیںجو پاکستان، افغانستان کو سپیشلی اہم عالمی کردار ادار کرنےکےلئےاور عموماََ دوسرےاسلامی ملکوں کو اسرائیل و مغرب کےقریب لا کر غلط فہمیوں کا ازالہ کروا سکتےہیں۔ ان چار ممالک کیStrategic Partnership عالمی سطح پر دہشت گردی و انتہا پسندی کی جنگ کو شکست فاش دینےکےقابل ہےکیونکہ صبر و تحمل کی سیاسی و فوجی حکمت عملی کےساتھ ساتھ ان ممالک کی میزائل ٹیکنالوجی ،انٹیلیجنس فورسزاور ایرفورس بھی ایک حد تک فنی صلاحیت رکھتی ہی۔Globalization era کا سب سےاہم پہلو جو عملی جنگی حکمت عملی Strategy (Starwars ) کےنام سےجاری و ساری ہی۔ اس حکمت عملی کا سب سےاہم پروگرام جو امریکی ریاستوں اور اتحادیوں کےدفاع کا اہم ترین ذریعہ ہی۔ (NMD) National Missile Defence کہلاتا ہی۔ land,sea,space اور Information پہ کلی کنٹرول و غلبےکا نام ہی۔ یہی عالمی نظام کی اس وقت Priority ہےجس پر Billions of dollars خرچ کئےجارہےہیں۔ اکتوبر 2006 میں جب برطانیہ کےدو شہروں میں اس کےRadar کی تعیناتی کی گئی تو برطانوی شہر Yorkshire میں اس کےخلاف بہت بڑا احتجاج بنام (CND) Compaign For Nuclear Disarmament, ہوا۔ 60 فی صد سےزیادہ عوام نےاس کےخلاف رائےدی مگر Armed Forces نےاپنا ایجنڈا پورا کرتےہوئےNMD پروگرام آگےبڑھادیااور احتجاج کی ہرگز پرواہ نہ کی۔ یہی NMD ہی اس وقت امریکہ اور یورپ کی مشترکہ Force ہےجسےہم آگ کا طوفان کہہ سکتےہیں۔اس کا آخری ڈیفنس غرقد ٹیکنالوجی ہی۔جس کا توڑ کاربن مونو آکسائد میں موجود ہی۔سمندری نظام کا Countermeasure نائٹروجن گیس میں موجود ہی۔ محترم المقام مکرم المعظم جناب علامہ یوسف جبریل فرمایا کرتےتھےکہ میری پیدائش کا دن 17 فروری ہےجو طوفان نوح علیہ السلام کا بھی دن ہےمگر میرےزمانہ کا طوفان ناری(Hydrogen) ہی۔ جسےسائنس دان چلتی پھرتی آگ کہتےہیں۔ حضرت نوح علیہ الصلوةوالسلام کو اس طوفان ( H2O)سےبچنے(بچاو) کےلئےShip technology کا علم دیا گیا ، اسی
طرح علامہ صاحب کو طوفان آگ سےبچنےاور دنیا کےبچاو کا قرآنی فارمولا اور ا یٹمی جہنم بجھانےوالا قرآنی فارمولا CPH ( nuclear neutralizer ) عطا فرمایا گیا۔ انشاءاللہ تعالیٰ اس کی Application سےآگ کا طوفان تھم کر نابود ہو جانا ہےاور یہود و ہنود کی تمام امیدوں پر پانی پھر جانا ہےبشرطیکہ مسلما ن ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملا کر علامہ صاحب کی لیڈرشپ کےتحت Starwars کو سرد کرنےکےلئےبےضرر ٹیکنالوجی کی تحریک شروع کرکےIntegration اصول پر پہلےمرحلےمیں Guidance System کا آغاز اخلاقی اقدار کی بحالی سےشروع کرتےہوئےمیزائل ٹیکنالوجی میںبھی لاثانی حد تک کمال پیدا کرسکتےہیں۔
٭Unique Integration of AAGW, ASGW,SSGW and SSGW
٭Panancea leaded disciminative pay loads/ warheads ٭Supreme purge technoloy
٭Multi-interscientific disciplined warheads( sound energy) etc.
٭Multi-role offensive/defensive at the same time.
٭Global Propulsion System ( the most powerful) wind energy.
٭Universal Disarmament Techniques etc.
میری ذاتی رائےکےمطابق پاک آرمی کی مدبرانہ کمان اس عظیم مشن کو دوسری اقوام سےمل کر نہایت ہی چابکدستی سےPromote کر سکتی ہےکیونکہ صدر پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف صاحب ہر ملکی و بین الاقوامی پلیٹ فارم پر یہ فکر Promote کرتےنظر آتےہیں کہ جب تک دہشت گردی و انتہاپسندی کی بنیادی وجوہات "Major route causes" کوختم نہیں کیا جا تااس وقت تک دہشت گردی بڑھتی رہےگی۔ خودکش حملوں میںتیزی آتی رہےگی۔محترم جناب جنرل صاحب کی تشخیص نہایت ہی اہمیت کی حامل تو کیا بلکہ اصل بگاڑ کی وجہبھی یہی ہےلیکن قربان جایئےجناب علامہ محمدیوسف جبریل صاحب کی بابرکت ذات کریم پر جنہوںنےاپنی لاثانی تحقیق میں 1982 ءمیں ہی انہی بنیادی وجوہات (Greed, Accumulation of wealth with belief in eternity ,propaganda کو Diagnose کرکےاس کا Remedial action بھی چودہ جلدوں کی شکل میں عنایت فرما کر انسانیت کےعظیم شکریہ کےمستحق ہونےکےساتھ ساتھ محسن اعظم و ہمدرد Panacea اور Saviorبھی کہلانےکےحقدار ہیں۔مقامِ عشق کا تابناک شعلہ ہیں۔
ستاروں سےآگےجہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کےامتحاں اور بھی ہیں
علامہ مکرمs Starwar سےبھی اوپر کی پالیسی اختیارکرنےکےلئےکتاب فلسفہءتخلیق کائنات میں رہنمائی فرماتےہیں ۔ موجودہ دور کےتمام تباہ کن چیلنجز کا حل فقط حضرت علامہ صاحب کی پالیسی فہم و ادراک وتشریحات کی روشنی میں ہی کیا جا سکتا ہی۔ اس کےبغیر اور کوئی چارہ کار و سبیل موجود نہیں۔ اللہ تعالی ٰ سےدلی پرخلوس عاجزانہ دعا و اپیل ہےکہ یااللہ تعالیٰ ہمیں علامہ صاحب کی صحیح قدردانی کرنےاور ان کی راہنمائی سےفیضیاب ہونےکی توفیق مرحمت فرماکر استقامت سےدہشت گردی و انتہا پسندی کو جڑ سےاکھاڑ پھینکنےکی قوت قاہرہ عطا فرمائیں تاکہ انسانیت کواس بلائےعظیم سےچھٹکارا ہواور عالمی امن بحال ہو۔ آمین۔ ثم آمین۔ برحمتک استغیث !
ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق یہی رہا ہےازل سےقلندروں کا طریق
اب تیرا دور بھی آنےکو ہےاےفقر غیور کہ روح ِفرنگی کو کھا گئی ہےہوائےزرو سیم (ضرب کلیم)
اللہ تعالیٰ پاک آرمی کو اپنی سٹریٹیجک فورسز کو حضرت علامہ مکرم کی راہنمائی میں Reorganized کرنےکی توفیق مرحمت فرمائےتاکہ
Universal نظامِ حق کابول بالاہواور دنیا کا امن دوبالا ہو۔ پاک آرمی ہی کیوں؟ عقل مندوں نےکہا، جس کا کام اسی کو ساجھی۔See the man behind the gun تاریخ گواہ ہےکہ ہمیشہ تلوار والا ڈھال والےکےمقابلےمیں حاوی رہتا ہےاور تلواروالا حکومت کرتا ہےاسی لئےجناب سلطان العارفین حضرت محمد باھو مفتاح العارفین میں فرماتےہیں۔ کہ ہرسربادشاہی کےقابل نہیں ہوتا اور ہر دل معرفت الہی کےقابل نہیں ہوتا۔ لہذا گلوبلائزیشن کی بادشاہی کےلئےاب وہی سر قابل ہو گا جس کےپاس حضرت علامہ محمدیوسف جبریل کی Nuclear NeutralyzingSword مانند عصاءموسوی ہو گی تاکہ ایٹمی دور کےسامری و فرعونوں کےجبر و استبداد Tyrany دہشتگردی سےانسانیت کو نجات ہوسکےاورانسان بھائی چارےکی لڑی میں پروتےہوئےچین و سکھ کاسانس لےسکیں۔
بلارہی ہےتجھےممکنات کی دنیا ۔سیاست ممکنات کی دنیا کہلاتی ہےجس کےلئےدوراندیشی اور مصلحت کیشی کی بصیرت کامیابی فراہم کرتی ہی۔ ممکنات کی دنیا میں روشنی دنیاکی سب سےتیز رفتار چیز ہےکہ ایک سیکنڈ میں ساری دنیا کا چھ بار چکر لگاتی ہےلیکن اس سےبھی تیزتر Technology رفرف ہےاور تیز ترین حضرت انسان کی سوچ (بصیرت)ہی۔ سوچ سےتیز ذات باری تعالیٰ ہی۔ اےمرد مسلمان کبھی تدبر بھی کیا تو نی اسی فکر سےگلوبلائزیشن کا معرکہ سر کیا جا سکتا ہےکیونکہ علامہ مکرم فکری انقلاب کےداعی، رہبرو راہی ہیں جو ہردور میں انقلاب کی اساس رہا ہی۔ (تفصیل کےلئےدیکھئےعلامہ صاحب کا پالیسی Matter بیکن، دجال، امام مہدی، علامہ اقبال اورحضرت ابراہیم علیہ السلام) یاد ریکھئےایٹمی دور کا نفس thermonuclear ہی۔ اس نفس کو قابو میں لانےکےلئےCPH کی سٹریٹیجی کارگر ہی۔ یہی اسلامائزیشن اور گلوبلائزیشن کی اساس ہےتاکہ Sex free کلچر کاخاتمہ ہو جو سالانہ سیکسوئل میڈیسن پر37 بلین ڈالرکماتا ہے۔Purified culture قائم کرنےکےلئےcph کےسائنسی اور نظریاتی فارمولےکو لاگو کرنا ضروری ہےتاکہ فطرتی تہذیب و کلچر معرض وجود میں آ جائےاورغیر فطری تہذیب کا قلع قمع ہو جائی۔ یہی اللہ تعالیٰ کابندےسےمطالبہ ہی۔
ہےمیری زندگی کا مقصد تیرےدین کی سرفرازی اسی لئےمسلمان اسی لئےمیںغازی
غازیوں کو، قلم کا جواب قلم سےاور تلوار کا جواب تلوار سےدینا گلوبلائزیشن کا اہم تقاضاہی۔ یہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرکےحالات کو سنوارنےکا ذریعہ ہی۔
مردقلند رحالات کےسامنےسر کو جھکاتا نہیں آسماں سےٹوٹا ہوا تارا کبھی زمیں پہ آتا نہیں
جدید سائنسی ایٹمی دور میں نیوکلر فزکس کو فوقیت حاصل ہی۔ اس کی انتہا Thermonuclear مگر Reversal اس کازیرو ہی۔
معزز قارئین کرام ! اکیسویں صدی سائنس و ٹیکنالوجی کادور ہی۔ علم و آگہی کاوقت ہی۔ سائنسی ترقی منظم ہو کر اداروںاور کمپلکس کی صورت اختیار کر چکی ہی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT ) اور Mobilization کےذرائع نقل وحمل و حرکت نےجغرافیائی حدود فاصلوں کو سمیٹتےہوئےدنیاکو گلوبل ولیج بنادیاہےمگر اس گلوب کےماحول کو دیکھا جائےتو ہر طرف انارکی و انتشار کی آگ بھڑک رہی ہےجو دن بدن پھیلتی جا رہی ہےاور دہشت گردی کی شکل اختیار کر چکی ہی۔ تہذیبی تصادم اور Crusade مشن شروع ہو چکا ہی۔ اس تصادم پر روشنی
ڈالتےہوئےپاکستان آرمی میوزم آڈیٹوریم میں فوجی افسران سےخطاب کرتےہوئے25 نومبر 2006 ءکو پاکستان کی سفیر برائےبرطانیہ محترمہ ڈاکٹرملیحہ لودھی نےفرمایا : کہ تہذیبی تصادم کی وجہ عالمی معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کا غیر متوازن ہونا ہی۔ کیونکہ دنیا میںانصاف کافقدان ہے۔ ان کےخیالات بالکل برحق ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہےکہ اس کی بنیادی وجوہات و اسباب Major route causes کیا ہیں؟ اس دور کےانسان کی Confusion اور Misunderstandingکا ذکر کرتےہوئےمحسن انسانیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل صاحب اپنی عظیم ترین ایٹمی تحقیق بنام Islamic bomb میں تحریر فرماتےہیں کہ مسئلہ کےبگاڑ کی بنیادی وجہ Greed یعنی لالچ ہی۔ کس چیز کی حرص۔۔ اقتدار و مال کی لالچ جس کی خاطر عالمی سطح پر منظم طریقےسےسیاسی Propaganda ہورہا ہےلہذا جب تک لالچ کا علاج نہ ہوگا اس وقت تک مرض بڑھتاجائےگا۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ لالچ کےمرض کاسائنسی حل علامہ محترم کی راہنمائی میں ہم ہومیوپیتھی طریقہ علاج کےتحت بروئےکار لاسکتےہیں کیونکہ ہومیوپیتھی اس صلاحیت سےآراستہ ہےکہ اس کی دوائیں استعمال کرنےسےانسان کےعادات و خیالات بدلےجاسکتےہیں۔ مثلاََ اگر ایک آدمی کو جھوٹ بولنےکی عادت ہےہومیودوائیںاستعمال کرنےسےجھوٹ کی عادت ان سےترک ہو جائےگی جیساکہ ہومیو ڈاکٹر علی محمد صاحب نےحالیہ کانفرنس منعقدہ 2006 ءمیں ا س قسم کےخیالات کااظہار فرمایا۔ بحرحال نیشنل ہومیو پیتھی کونسل آف پاکستان کےذریعےدوسری اقوام کو اس طرف متفکرو راغب کرکےتحقیق کا دروازہ کھولا جا سکتا ہی۔ محترم جناب فقیر الطاف حسین سروری قادری سلطانی، ہومیو ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب جناب عبدالقیوم عباسی صاحب جیسی قدر آورشخصیات سےاستفادہ کیا جاسکتا ہی۔ (تفصیلات کےلئےدیکھئی) سیدناحضرت علامہ محمد یوسف جبریل کی تحقیق بنام (یونانی طریقہ علاج سےہومیوپیتھی تک) قربان جایئےسیدنا حضرت علامہ محمدیوسف جبریل کی تحقیق پر ، آپ لکھتےہیں کہ موجودہ سائنسی ترقی ،توانائی کےسارےوسائل ہڑپ کرچکی ہےلیکن اس کی اشتہاءیعنی بھوک ابھی تک بڑھتی جا رہی ہےاور ھل من مزید کےچکر میں ہی۔مزید فرماتےہیں کہ جب توانائی کےسارےشعبےدم توڑ دیں گےتو فقطAtomic energy کوانسانیت بطور ذریعہ توانائی اختیار کر لےگی حتی کہ ہر موٹر سائیکل تک کا، اپناالگ Reactor ہو گا،اور اس کی چالیس سالہ لائف کےبعد ریڈیشن کی لیکیج سےپورےگلوب کا گھیرا تنگ ہو کرRadiated polluted ہو جائےگا۔ اس وقت انسانیت کوڑھ، کینسر ، متلی، قےاور دل کی مہلک بیماریوں میںگرفتار ہو کر عذاب مسلسل کا شکار ہو کر لا علاج ہو جائےگی کیونکہ سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کےپاس Radiations کا کنٹرول و توڑ موجود نہیں ہی۔ یہ باتیں علامہ محترم نے1982 ءمیں بیان فرمائیں مگر آج Physical world اورزمینی حقائق عملاََ نقشہ پیش کررہےہیں جو ہماری آنکھوں کےسامنےہی۔ موجودہ سیاست عالمی میں امریکہ و بھارت کا سول ایٹمی سٹریٹیجک معاہدہ ، پاکستان و چائنا کا نومبر 2006 میں ایٹمی سٹریٹیجک معاہدہ، علامہ محترم کی تحریروں کی عملاََ تصدیق کرتےنظر آتےہیں۔
قارئین کرام! آخر کار سوچتےہوں گےیا سوچ رہےہوں گےکہ علامہ یوسف جبریل ہی کیوں ؟ کیادنیا میں پائےجانےوالےسیاستدانوں ، سائنسدانوں ، معیشت دانوں ، قانون دانوں اور Elites کےپاس ،Nuclear threat ،معاشی و سماجی عالمی دہشت
گردی کا حل نہیں ہی؟۔ جناب والا ! یقیناََ نہیں ! کیونکہ ان کےپاس Nuclear weapons, atomic energy for peace, , Radiations کی Neutralization , Defusion اور Demolition فارمولہ اور طریقہ کار ہی نہیں ہی۔ اگر ہےتو فقط یہ اعزاز سیدنا و ا مامنا حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کو حاصل ہی۔ پورےگلوب پہ نظر دوڑالیں اگر بیک وقت ایسی عظیم و اعلیٰ صفات کا حامل شخص مل سکےتو پھر کہنا۔ مثلاََ عظیم فلاسفر، محقق، مفسر، محدث، ایٹمی و غیر ایٹمی سائنسدان ،مورخ، اکانومسٹ، شاعرو ادیب، مفکر، امام زمانہ، قلندر، شہنشاہ فقر، قدیم وجدید علوم کا انسائیکلوپیڈیا، Secret services کےچیف حتیٰ کہ ہر Faculty کےمنطقی انجام کےرازدان و ماہر، اپنی ذات میں ایک مکمل تحریک،جنگی امور کےماہر،ادیان عالم ،قوموں کےعروج و زوال کی تاریخ کےنقاد، جملہ انسانیت کےہمدرد، عالمی امن کےخواہاں کہ نوبل انعام سےبھی بڑےانعام کےحقدار سب سےبڑھ کر پیارےسیدنا محمد کریم الصلوة و السلام کےوفادار۔ حیدرکرار علیہ السلام کی نسل پاک سےہماری آنکھوں کےتارےقطب شاہی اعوان، حق کےپاسبان، انشاءاللہ تعالیٰ عنقریب جن کےجھنڈےتلےجمع ہوں گی ساری دنیا کی اقوام ، پائیں گےحق کا فیضان و پیغام، دشمنیاں و نفرتیں بدلیںگےبھائی چارےاو ر محبت میں اسوقت گلوب ہو گا جنت نما۔ اسی میں گلوبلائزیشن و انسانیت کی معراج کا راز پوشیدہ ہی۔
گلوبلائزیشن کےعالمی تناظر کو مدنظر رکھتےہوئےعالمی معاشی بحران کےجس کاشکاراقوام متحدہ بھی ہو چکی ہےاور جناب کوفی عنان صاحب جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نےگلوبل پالیسی فورم پر2006 پینل میں خطاب کےدوران UNO finance crisis کا ذکر کرتےہوئےکہا کہ بڑےافسوس کا مقام ہےکہ اقوام متحدہ بھی معاشی بحران سےدوچار ہو چکی ہی۔ اسی دوران جنرل اسمبلی کےاجلاس سےخطاب کرتےہوئےپاکستانی مندوب جناب منیراکرم صاحب نےفرمایا کہ ایسی نئی اقوام متحدہ کی ضرورت ہےجو مظلوم اور پسماندہ اقوام کو انصاف فراہم کر سکےکیونکہ موجودہ یو این او اصلاحات کےباوجود یہ کام نہ کرسکی ۔ ان ریفرنسز کےعلاوہ دوسرےریفرنس کو بھی مدنظر رکھتےہوئےہم دور جدید کےبہترین اکانومسٹ جناب علامہ یوسف جبریل صاحب سےکافی و شافی استفادہ کرکےاپنےمعاشی مسائل کا بھی فی الفور حل کر سکتےہیں تاکہ امیر امیر ترین اور غریب غریب ترین کی پالیسی سےچھٹکارا حاصل کر سکیں اور گلوبلائزیشن میں معاشی بیلنس قائم کر سکیں۔ اس سلسلہ کی بنیاد کو درست سمت چلانےکےلئےآپ نےہمیںمعاشی مسائل اور خرابیوں کا مکمل حل کےنام سےایک پالیسی ساز کتابچہ فراہم فرمایا ہےجس میں Micro/Capital Finance Balancing کےاصول و ضوابط اور اس کےنفاذ کاطریقہ کار موجود ہی۔ علامہ صاحب کےکام کایہی توحسن ہےجو ان کو دوسرےراہنماوںسےممتاز کرتا ہےکہ ہر مسئلہ کا تقابلی جائزہ کرکےخوب Analyzation کےبعد اس کےحل کا مکمل طریقہ کاربھی نہایت مدلل وبلیغ انداز میں بیان فرماتےہیں کہ عام فہم آدمی بھی مسئلہ کوسمجھ کر اسکےحل تک رسائی حاصل کرلیتا ہےاور یہی دراصل عظیم حکمت کا ر اور لیڈر کی اعلی صفت ہےکہ ہر طبقہ کافرد فائدہ حاصل کرلےتاکہ اس کےحقوق محفوظ رہیں۔( خیرالناس من ینفع الناس ) انسانوں میں بہترین وہی ہےجو انسانوں کو نفع پہنچائی۔ علامہ مکرم صاحب کےنفع پہنچانےکی صفت حمیدہ کو اس تحریر سےخوب جانچنےکی کوشش کیجئےگا جس میں عالمی معاشی بحران و بگاڑ کا عملی حل موجود ہی۔ سوئےمنزل اور جس کی انگریزی ٹرانسلیشن جناب محمد الیاس جرنلسٹ کر رہےہیں۔ اس کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہی۔اس کےعلاوہ معاشی
نظام پر پانچ جلدیں تیار ہو رہی ہیں۔ ان کا انگلش ترجمہ بھی کیا جا رہا ہی۔ علامہ مکرم صاحب کےدوسرےآرٹیکل جو مختلف اخبارات میں شائع ہو چکےہیں۔ ان کو بھی ترتیب دیا جارہا ہےتاکہ وہ بھی کتابی شکل میں شائع ہو سکیں۔ علامہ مکرم کےمعاشی لٹریچر و خدمات کو عالم انسانیت تک پہنچانا انسانوں کی اہم ذمہ داری ہے۔اس عظیم مشن کا آغاز ECAS, WTO, IMF, World Bank سےکرکےپوری دنیا کےمعاشی و صنعتی اداروں تک دائرہ کار بڑھایا جائی۔ اس مقصد کےحصول کو آسان بنانےکےلئےDigital Promises کاسہارا لینا از حدضروری ہےتاکہ نتائج برآمد ہو سکیں۔ علامہ مکرم سوئےمنزل میں ایک نہایت ہی اہم نکتہ کی طرف توجہ کرتےہوئےہمدردانہ لہجہ میں یوں شفقت و کرم کےپھول نچھاور کرتےہوئےنظر آتےہیں کہ زکوة اور اسلامی قانون وراثت ارتکاز زر اور مالی تفاوت کا حقیقی اور موثر سدباب نہیں اور ہم یہ بھی جانتےہیں کہ اسلام امیروں ہی کےہاتھوں میں دولت کی گردش کو بھی ناپسند کرتا ہےتو سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ ان دو ظاہراََ متضاد نظریوں کو باہمی تطبیق دےکر کیسےقابل عمل بنایا جائےکہ انفرادی ملکیت اور آزاد کار پالیسی Free trade بھی قائم رہےاور دولت امیروں کےہاتھوں میں بھی گردش نہ کرتی رہی۔ یہ وہ نقطہ ہےجسےسمجھنےکی اشد ضرورت ہی۔ یہی اسلامی معاشی نظام کی کلید ہےاور اسی کیفیت کا عملی نتیجہ اسلامی نظام معاش اور سرمایہ دارانہ نظام میں تفریق کرتا ہےاور یہی وہ طریقہ ہےجس پر امت مسلمہ کےدانشوروں کو اپنی توجہ مرکوز کر دینی چاہیےاور اللہ تعالی سےاس عقدہ کےحل کی توفیق مانگنی چاہیی۔ ہماری مشکلات کا حل نفاذ اسلامی معیشت اور ہماری جملہ خرابیوں کی جڑ غیر اسلامی سودی و معاشی نظام سے( اس جڑ کو کاٹنےکےلئےHacking اور اس سےملتےجلتےعوامل کی حوصلہ افزائی کرکےمال غنیت اور مال فئےکی مد میں لا کر اس بدترین نظام کی جڑوں کو کاٹ کر انسانیت کو اس سامراجی استحصالی بت سےنجات دلائی جا سکتی ہےچونکہ گلو ب ا س وقت ا یمرجنسی کی حالت میں مبتلا ہو کر دہشت گردی کی جنگ میں الجھاہوا ہےلہذا سودی انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کےخلاف منظم اوپریشن کی اشد ضرورت کےچانسز پیداہو چکےہیں۔ اسی حکمت عملی کےتحت اگر مسلمان غیر مسلم اور منافق جنگجو عورتوں کو قید کرکےلونڈیاں بنالیں تو عالمی سطح پر گینگ ریپ اور جنسی بےراہ روی کا طوفان بھی روکا جاسکتا ہی۔ چونکہ مسلمان حالت جنگ میں ہیں۔ لونڈیوں کےنظام کو فورا لانچ کرکےہی اپنی ماوں بہنوں کی عزت و ناموس بچا سکتےہیں اور وقار سےجی سکتےہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹراکرام اللہ خان نیازی
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Copyright ©OQASA IT WING. All Rights Reserved.