Index             |        Main Page       |      Research Agenda      |      Feedback

      For Slower Connection:Download Fonts and view HTML version
      For Fast Connection:View PDF Version It is Best
      To Download Click on the link Below.


علامہ محمدیوسف جبریل حیات و خدمات
تحریر محمدعارف
علامہ محمد یوسف جبریل عصرِ حاضر کی نابغہ ءروزگار علمی اور ادبی شخصیت کےطور پر ابھری۔ آپ نےقومی اخبارات و جرائد میں ایٹمی جہنم سےبچاو کی تدابیر کےلئےسینکڑوں مضامین تحریر کئی۔ اردو کےمعروف محقق اور دانش ور ڈاکٹر تصدق حسین راجا نےعلامہ محمدیوسف جبریل حیات و خدمات میں ان کےسوانحی حالات مفصل مدون کر دیئےہیں ،جن کےتفصیلی مطالعےسےپتہ چلتا ہےکہ انہوں نےنہ صرف حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کی نجی زندگی، تحصیل علم کےمدارج ومراحل کو بدقت تمام تحقیقی زاویہ ءنگاہ سےدیکھا، جانچا اور پرکھا ۔بلکہ وادی سون سکیسر ضلع خوشاب کی تہذیبی زندگی کےاحوال و آثار کو بھی اجاگر کرنےمیں کامیاب رہےہیں۔ ڈاکٹر تصدق حسین راجا نےعلامہ محمدیوسف جبریل کےروحانی ارتقاءاور حیاتِ مستعار کےعلمی مشن کو بھی درست سمتِ فکر میں سمجھنےکےلئےبنیادی ماخذات صفحہ ءقرطاس پر منتقل کر دیئےہیں۔ تاہم علامہ محمد یوسف جبریل جیسی بلند پایہ علمی شخصیت کےخاندانی پس منظر ،سوانح حیات اور تصنیفی کام کی قدر و قیمت کو دیگر مختلف النوع زاویوں سےبدرجہ اتم دیکھنےکی ضرورت اب بھی موجود ہی۔ تاکہ لمحہءموجود میں ان کی فکری کاوشوں کو عامتہ الناس کی ذہنی سطح اور معیار کےمطابق لوگوں تک پہنچایاجا سکی۔
The Best Traffic Exchange

DonkeyMails.com: No Minimum Payout ڈاکٹر تصدق حسین راجا نی علامہ محمدیوسف جبریل حیات و خدمات کےپہلےباب میں سوانحی حالات درج کئےہیں۔ ماخذات و منابع کسی باب کےآخر میںدرج نہیںکئےگئی۔ اہلِ خانہ متعلقین اور احباب کےانٹرویوز بھی عنقا ہیں۔ ہمیںیہ امرصاف نظر آتا ہےکہ علامہ محمد یوسف جبریل کی ذاتی ڈائری کی یاداشتوں سےمدد لی گئی ہےاور محولہ بالا تصنیف انتہائی سرعت میں مرتب کر دی گئی ہی۔ تاہم علامہ محمد یوسف جبریل کی زندگی کےمختلف گوشوں کو بےنقاب کرنےمیں پہلی تحقیقی تصنیف کےطور پر ان کےا س علمی کام کی بےپناہ اہمیت ہےاور اسےعلامہ محمد یوسف جبریل کےمشن کو سمجھنےکےلئےبنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہی۔
دوسرےباب میں خطوطِ جبریل کےعنوان سے 99خطوط شامل کر دیئےگئےہیں ۔جن میں سےبیشتر خطوط نجی نوعیت کےہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر ڈاکٹر تصدق حسین راجا ان خطوط میںسےموضوعاتی تنوع کےاعتبار سےکڑا انتخاب کرتےاور صرف وہی خطوط رہنےدیتےجن سےعلامہ محمد یوسف جبریل کےمشن کو سمجھنےاور ان کےروحانی پیغام کو جاننےکی اہمیت بھرپور انداز میں سامنےآتی ۔ جس کی وجہ سےمحولہ بالا کتاب کی قدرو قیمت بھی بڑھ جاتی اور بےجا طوالت سےبھی بچا جا سکتا تھا۔ اکرام اللہ خان کےدو خطوط بطورِ خاص اہمیت کےحامل ہیں جن سےعلامہ محمد یوسف جبریل کےروحانی نیٹ ورک کو باسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اکرام اللہ خان کا صرف ایک مضمون گلوبلائزیشن کےتباہ کن ترین چیلنجز اور ان کا لا ثانی سائنسی حل شامل کتاب ہے۔ ضرورت اس مر کی تھی کہ جناب اکرام اللہ خان علامہ محمد یوسف جبریل کو بحثیت سائنس دان بھی زیر بحث لاتےاور ان کےفلسفہ ءاتامزم کےحوالےسےتفصیلی انٹرویو شاملِ تصنیف کیا جاتا۔ سب سےاہم پہلو یہ ہےکہ علامہ محمد یوسف جبریل کی تصانیف کی محض فہرست مرتب کرکےچند کتب پر مختصر تبصرہ کیا گیا ہی۔ حالانکہ محقق کو چاہیئےتھا کہ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتب کی الگ الگ فہرست تیار کرتےاور ہر تحقیقی کاوش پر سیر حاصل تبصرہ کرتے۔ علامہ محمد یوسف جبریل کےعلمی پس منظر ،ان کےفکری رحجانات، کو بطورِ خاص سامنےلانےکی ضرورت تھی جس سےصرفِ نظر کر دیا گیا ہی۔
تیسرےباب میں نوادراتِ جبریل کےعنوان سےان کےچودہ مضامین شامل کتاب کئےگئےہیں جن میں ان کا ایک انٹرویو اور مس اینی میری شمل سےمکالمہ کی روداد شامل ہے۔ مضامین کا انتخاب مزید بہتر بنایاجا سکتا تھا۔ علامہ محمد یوسف جبریل کےمعاشی نظریات ،قومی افکار و خیالات اور الحطمہ کی سائنسی تاویلات پر بھی مضامین شامل کتاب کرنےکی ضرورت تھی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی مختلف فکری جہتوں کےذیلی عنوانات کےتحت تفصیلی مطالعہ بھی ایک الگ باب کا متقاضی تھا۔ المختصر ڈاکٹر تصدق حسین راجا نی علامہ محمد یوسف جبریل حیات و خدمات میں عصرِ حاضر کےمعروف سائنس دان ،مذہبی سکالر، محقق ، مورخ ، شاعر اور دانش ور پر پہلا مربوط علمی کام سرانجام دےکر ایک اہم کارنامہ انجام دیا ہی۔ میری دانست میں یہ کتاب علامہ محمد یوسف جبریل کی سوانح اور افکار کو سمجھنےکےلئےایک فوری تاثر کی حامل ہے۔ ضرورت اس مر کی ہےکہ لمحہ ءموجود کےنامور اہلِ قلم اور دانش ور علامہ محمد یوسف جبریل کےمشن پر قلم اٹھائیں اور ان کی علمی کاوشوں کےفکری تسلسل کو فروغ دیں ۔
ڈاکٹر تصدق حسین راجا کا کھوج کرید کاملکہ قابل داد ہے۔ وہ مغز کو چھلکےسےالگ کرنےکی بھرپور صلاحیت رکھتےہیں ۔ ہمیں بے پناہ خوشی ہےکہ وہ اپنےعہد کےاہم مفکر اور فلسفی کو پہلی دفعہ علمی دنیا کےسامنےلانےمیں کامیاب ہو گئےہیں۔ لہذا ان کےاس کارنامےپر جتنی بھی داد دی جائےوہ کم ہے۔ اکادمی ادبیات ِپاکستان کو بھی چاہیئےکہ وہ پاکستانی ادب کےمعمار کےضمن میں علامہ محمد یوسف جبریل شخصیت و فن کےموضوع پر کام کی حوصلہ افزائی کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمدعارف
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آ باد واہ کینٹ