Index             |        Main Page       |      Research Agenda      |      Feedback

      For Slower Connection:Download Fonts and view HTML version
      For Fast Connection:View PDF Version It is Best
      To Download Click on the link Below.

 
بیکن، دجال،علامہ اقبالامام مہدی، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ایٹمی جہنم فلسفیاتی نظریات کا تقابلی مطالعہ
پروفیسر محمد عارف سیمابی
علامہ محمد یوسف جبریل کا شمار بیسویں صدی کےان مسلم فلاسفہ میں ہوتا ہےجنہوں نےمادی ترقی ، بیکنی فلسفےاور فتنہ دجالیت کو موضوع بنایا۔ وہ مغربی فلاسفر فرانسس بیکن کےمادی نظریات کےسخت خلاف تھی۔ کیونکہ دین الہیٰ دنیاوی ترقی کےساتھ ساتھ فکر آخرت اور تزکیہ باطن کو بھی اپنےپیش نظر رکھتا ہے۔ دنیا بھر کےدانش ور ، فلسفی اور حکماءاس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ عقل و تدبر کو بروئےکار لا کر تسخیر کائنات کا فریضہ سرانجام دیا جائی۔ تاکہ مناظر و مظاہر فطرت پر تسلط حاصل کیا جا سکی۔ جس کےنیتجےمیں بےچینی و اضطراب، خود غرضی، اور نفسا نفسی بڑھ چکی ہی۔ خدا وند کریم پر بھروسا کم کم نظر آتا ہےاور بنی نوع انسان وسائل کو ملجا و ماوا قرار دےرہی ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےبیکنی فلسفےاور بیکنی کلچر کا مربوط اور منظم توڑ پیش کیا تاکہ جدید عہد کا ترقی یافتہ انسان مذہب کی حقیقی روح کو سمجھ کر فکر آخرت سےبیگانہ نہ ہو بلکہ اطمینان قلب ، مذہبی جوش و جذبہ اور ایمان و عمل سےہمہ وقت سرشار رہے۔
The Best Traffic Exchange

DonkeyMails.com: No Minimum Payout مغربی فلسفی فرانسس بیکن نےتسخیر کائنات پر زور دیا تاکہ بنی نوع انسان بہشت ارضی کےخواب کو شرمندہ تعبیر کر سکے۔ جس کےنتیجےمیں سائنسی علوم و فنون کو فروغ و ارتقا حاصل ہوا تاکہ اسرار و رموز ہستی کو فاش کیا جا سکی۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نےایٹمی جہنم کےامکانات کو واضح کر دیا ۔لہذا علامہ محمد یوسف جبریل نےعلوم شرق و غرب کےبحر عمیق میں غوطہ زن ہو کر معرفت و سلوک اور راہ ہدایت کےوہ گہرتابدار تلاش کئے۔جن کی تابناک روشنی میںآج کا بھٹکا ہوا انسان تباہی و بربادی سےبچ کر منزل مراد پر پہنچ سکتا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےروحانیت،مابعد الطبیعات اور فکر آخرت کو اپنےنظام فکر کا نکتہ اتصال قرار دیا تاکہ دنیا طلبی، ہوس پرستی، زر اندوزی ، سود خوری اور منتقم مزاجی کےاخلاق رزیلہ کو ختم کیا جا سکی۔ جدید اٹامزم کےبانی فرانسس بیکن کےبالمقابل قدرت کاملہ نےحضرت مجدد الف ثانی شیخ سرہندی کو بزم گیتی میں مسیحائےعصر بنا کر بھیجا ۔ تاکہ دین اکبری کےتند و تیز سیلاب کو روک کر عالم انسانیت کو کفر و شرک کی بڑھتی ہوئی سازشوں کےسدباب کےلئےتیار کیا جا سکی۔ آپنےمکتوبات امام ربانی کےذریعےوہ بلیغ اور جامع اسلوب اختیار کیا کہ جس کےذریعےنہ صرف مریدین کی روحانی تربیت کا فریضہ انجام دیا گیا بلکہ ملت اسلامیہ کےخلاف برپا سازشوں کو بین السطور واضح طور پر سامنےلانےکی سعی جمیلہ بھی کی گئی۔ مکتوبات امام ربانی علوم دینیہ کی تعلیم و تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ مادی وحدت الوجود یت کےبانی سپی نوز ا کی فکر ی تحریک کےردعمل کےطور پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نےتوحید باری تعالی کےوہ روشن چراغ جلا دیئےکہ رہتی دنیا تک ان کا نام صفحہءہستی پر قائم رہےگا۔حضرت شاہ ولی اللہ نی قول الجمیل اور حجت اللہ البالغہ میں مسلم معاشرےکی اخلاقی تربیت اور روحانی پاکیزگی کےلئےوہ سنہری اصول وضع کئےکہ بنی نوع انسان مخلوق خدا کےسامنےسربسجود ہونےکی بجائےخالق کل کو اپنا مرکز و محور و منتہا سمجھے۔
حضرت علامہ محمد اقبال نےبرصغیر پاک و ہند کےخواب غفلت میں پڑےہوئےمسلمانوں کو بیدار کیا تاکہ وہ غلامی کی زنجیریں کاٹ پھینکیں ۔آپ نےعالم اسلام پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر اقوام مغرب کی محکومی کےحصار سےباہر آ جائیں ۔حضرت علامہ محمد اقبال نےسفر یورپ میں مختلف علوم و فنون کا گہرا مطالعہ کیا جس کی وجہ سےوہ اقوام مشرق کےنمائندہ شاعر بن کر ابھری۔ اور ابراہیمی مشن کا فریضہ انجام دینےلگی۔
حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نےبیسوی صدی کےعالمی منظر کو بنظر غائر دیکھا ۔انہوں نےجدید عہد میں امتِ مسلمہ کی حالت زار پر آٹھ آٹھ آنسو بہائے۔ بیکنی دجالیت ، مادی استحصال اور الحاد و بےدینی کےخلاف ان کی آواز صور اسرافیل سےکم نہیں۔ کیونکہ وہ غاصبان وقت اور دجالی طبقےکی صفوں میں انتشار پیدا کرنا چاہتےہیں ۔ تاکہ آج کا مظلوم انسان قرون اولیٰ کےمسلمانوں کےحسن کردار و عمل کو اپنا کر دنیا کی امامت کر سکے۔ آپ نےسوشلزم اور کیمونزم کےباطل نظاموں ، سودی بینکاری ، او ر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کےمکرو فریب پر کاری ضرب لگائی تاکہ اسلامی معاشی نظام کےاصولوں کو دنیائےانسانیت کےسامنےلایا جا سکی۔
1942 ءمیں عظیم اطالوی سائنس دان فرمی نےشکاگو میں پہلی بار یورانیم فژن چین ری ایکشن کا کامیاب تجربہ کرکےایٹمی آگ کی شعلہ فشانی کو خواص و عام کےلئےمنظر عام پر لانےکی سعی و کوشش کی ۔آئن سٹائن نے٥٠٩١ ءمیں اضافیت کا خصوصی نظریہ پیش کیا ۔ جس کی وجہ سےایٹمی توانائی، اس گرداب بلاخیز سےباہر آگئی جس میں وہ بری طرح سےگھر چکی تھی۔ آئن سٹائن کےاس نظریےکا عملی ثبوت ہیروشیما کی ہولناک تباہی نےفراہم کیا ۔ واضح ہو کہ اس عالمی افق کےمنظر نامےاور سائنس کی ہولناک تباہی کےتناظر میں قدرت نےحضرت علامہ محمد یوسف جبریل کو ٢٤٩١ ءمیں ان کی عمر کےپچیسویں سال حضرت خضر علیہ السلام کی سفارش پر ابراہیمی مشن سونپا ۔ واضح ہو کہ فلسفی شاعر علامہ محمد اقبال ٨٣٩١ ءمیں عالم فانی سےکوچ کر گئےتھےاور عالم انسانیت کو ایٹمی جہنم کی آگ سرد کرنےکےلئےایک دانائےملت ایٹمی سائنس دان اور دانش ور کی سخت ضرورت تھی ۔ لہذا علامہ محمد یوسف جبریل نے٢٤٩١ ءسےلےکر ٠٨٩١ ءتک لسانیات، ادبیات، تواریخ، فلسفہ، سائنس ، الہامی صحائف ، قران حکیم، تورات، زبور، انجیل سےاخذ و اکتساب کیا ۔ جس کےنیتجےمیں وہ ایک بلند پایہ ادیب، فلسفی، سائنس دان ، عالم دین اور متوازن فکر کےحامل مفکر بن کر ابھری۔ تاکہ ایٹمی تباہی میں گھری ہوئی مظلوم انسانیت کی فکری راہنمائی کا فریضہ انجام دےکر اسےمنزل مقصود تک پہنچا سکیں ۔ واضح ہو کہ علامہ محمد یوسف جبریل نےجدید فلسفےکےبانی فرانسس بیکن کےافکار و نظریات پر نظر عمیق ڈالی تو ان پر کشف و کرامات کےنت نئےدر وا ہوئے۔ کیونکہ وہ زندگی کےدرخت کی جڑیں کھود کر ان پر اپنےعمل میں مصروف تھا ۔دین الہی نےاخلاق و حکمت کےفلسفےکو فروغ بخشا تاکہ آج کےانسان کی نفسی اور عصبی پیچیدگی کو دور کیا جا سکی۔ لہذا علامہ محمد یوسف جبریل نےتن تنہا اور انتہائی کربناک حالات میں وہ غیر معمولی کارنامہ انجام دیا کہ رہتی دنیا تک ان کانام صفحہءہستی پر جگمگاتا رہےگا ۔ انہوں نےابراہیمی مشن کےپیش نظر چار ارب کی آبادی کی دنیاوی آرزووں کےسامنےڈٹ کر آئندہ آنےوالی نسلوں کےلئےوہ جگمگاتےچراغ روشن کر دیئےہیں جنہیں گناہ و معصیت کی ہوائیں کبھی بجھا نہیں سکیں گی ۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےالفقر فخری کےمفہوم کو درست تناظر میں سمجھا اور آج کےبھٹکےہوئےانسان کو اس کےحقیقی راستےپر گامزن کرنےکی تگ و دو میں مصروف کار رہی۔
بیکن ،دجال، علامہ اقبال ، ایٹمی جہنم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام علامہ یوسف جبریل کا ایک مربوط اور منظم بصیرت افروز مقالہ ہی۔ جس میں ان کی عمر بھر کی ریاضت جھلکتی ہی۔ وہ مغربی ادب ۔ علوم شرق و غرب ،سائنس و حکمت اور قران حکیم میں غوطہ زن ہو کر ایک ایسی راہ عمل تلاش کرنےمیں کامیاب ہو گئےہیں جو آئندہ آنےوالےہر دور کےانسان کےلئےزاد راہ ہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پروفیسر محمد عارف سیمابی

ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ