Index             |        Main Page       |      Research Agenda      |      Feedback

      For Slower Connection:Download Fonts and view HTML version
      For Fast Connection:View PDF Version It is Best
      To Download Click on the link Below.

Note: There is a link of PDF File on the top of Page. That is best Format and to view PDF ,you need Acrobat Reader and you should have it ,it is so common . To view HTML version you need to download Web Urdu Font from our Main Page.


چڑیا گھر کاالیکشن
ڈاکڑرشیدنثار
علامہ یوسف جبریل ایک ایسےقلمکار ہیںجنہیں طویل کہانی اور فن کےرچا و میں ایک کمال حاصل ہی انہوں نےزندگی کو بہت قریب سےدیکھا ہےاس لئےوہ انسانی کرداروں کےرویوں ، ان کےلہجےاور نفسیاتی اشاروں سےکماحقہ واقف ہیں انہوں نےبڑی چابکدستی کےساتھ انسانی کرداروں کےبدلتےرنگوں اور تہذیبی عوامل کو اپنی گرفت میں لےکرایک ممتاز تخلیق کو منصہ شہود پر لانےمیں کامیابی حاصل کی ہی زیر نظر تصنیف کہانی کےبنیادی عناصر کو لےکر آگےبڑھتی ہےبلکہ اس طویل تر کہانی کاعنوان اور موضوع ہی ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہےکہ اس کہانی میں تمثیلی طور پر جانوروں کی جیتی جاگتی زندگی کو انسانی ذہنیتوں پر منطبق کیا گیا ہی چنانچہ لطیف طنز کےساتھ بڑی شائستگی اور نفاست کو بروئےکار لاتےہوئےعلامہ یوسف جبریل نےکہانی کاتانا بانا بنا ہی چڑیا گھر کا الیکشن ہمارےسماج کی تصویر کشی ہی ایک ایسےمعاشرےکا بےتکلف عکس ہےبلکہ علامہ یوسف جبریل نےجانوروں کےرویئےاور ان کےکردار کو جس طرح زندہ کر دکھایا ہےوہ ایک انتہائی عروج فن ہی جس کی داد نہیں دی جا سکتی
علامہ محمد یوسف جبریل نےکہانی کےکردار جانور منتخب کئےہیں اسی طرح انہوں نےمشاہدےکی سچائی اور حافظہ کی قوت کوفنی رچاوکےساتھ پیش کیا ہی ہمارےہاں اردو ادب میں لوک کہانیاں تمثیلی طور پر لکھی جاتی رہی ہیںبلکہ چین اور برصغیر پاک و ہند میں پرندوں اور جانوروں کی کہانیاں اب بھی زبان زد عام ہیں مگر ناولٹ کےطور پر صرف جانوروں کی زندگی کو عکس فگن کرنا ہماےہاں کی مکمل روائیت نہیںتھی البتہ انگریزی ادب میں اس کی مثالیں موجود ہیں جیسیAnimal Farmمگر ایسےناولٹ لطیف طنز سےعاری ہیں جب کہ علامہ یوسف جبریل نےتشنج سےآزاد رہ کر ایک نفیس طربیہ تخلیق کیا ہی
The Best Traffic Exchange

DonkeyMails.com: No Minimum Payout چڑیا گھر کا الیکشن یوں تو ہماری سیاست اور اس کےعواقب ہی کا تناظر ہےمگر زبان اس قسم کی استعمال کی گئی ہےجس طرح بچوں کو بہلایا اور کھلایا جاتا ہےلیکن اس زبان کےبرعکس اس میں ان تمام مفکرین کےبنیادی فلسفوں پر گہرا طنر کیا گیا ہےجن کےافکار نےایک عالم میں دھوم مچا رکھی تھی مگر اب وہ بچوں کےلئےکھلونوں کا کام دیتےہیں یوںبھی دیکھا جائےتو زندگی کی رفتار کےسامنےجب بڑےبڑےمحلات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی بڑی بڑی ایجادات عجائب گھروں کی زینت بن گئیں اور اپنےتناسبات کےلحاظ سےمارکیٹ میں ان کےکھلونےبنا دیئےگئےتو یہ کھلونےکسی گھر کی سجاوٹ کےلئےاستعمال ہونےلگےیا مارکیٹ میں کھلےبندوں فروخت ہو کر بازار کی زینت بن گئی چنانچہ علامہ یوسف جبریل کےنزدیک بھی بہت سےفلسفیوں کےافکار اب بازیچہءاطفال ہی کی صورت ہو سکتےہیں لہذا انہوں نےبچوں کےذہنوں میں ان کےہیولےکچھ اس انداز میں تراشےہیں کہ وہ ایک تو بچوں کےذہنوں میں ان فلسفیوں کےبارےمیں ہلکا پھلکا طنز نقش کرنا چاہتےہیں دوسرےان کی ذہنی تربیت بھی کرنا چاہتےہیں تاکہ بچےجوان ہو کر ان کےافکار کو خود پرکھ لیں
زیر نظر کہانی میں کرداروں کےچلن اور ان کی فطرت کےبارےمیں تفصیلی نفسیات موجود ہےجس سےپتہ چلتا ہےکہ علامہ یوسف جبریل کو ان کےمطالعہ کےبارےمیں حیرت انگیز شناسائی حاصل ہےبلکہ جانوروں کی زبان میں انسانی گفتگو کا جو فطری لہجہ اختیار کیا گیا ہےاس میں لطافت بھی موجود ہےاور نفاست بھی چنانچہ یہ کہنا بےحد درست ہو گا کہ مشاہدہ کی بصیرت کےاعتبار سےعلامہ یوسف جبریل کسی بڑےادیب اور تمثیل نگار سےکسی صورت کم نہیں ان کی وسعت مطالعہ اور مقصدیت کا اندازہ اس امر سےلگایا جا سکتا ہےکہ وہ بہ یک وقت لفظی کارٹون بھی بناتےہیں کرداروںکےلہجےکی مناسبت سےمکالمےبھی تراشتےہیں اور زندگی کا تصور بھی پیش کرتےہیں لہذا ان کا فن محدود نہیں نہ ہی ان کےمشنری جذبےکو کسی طور پر کم کیا جا سکتا ہی
زیر نظر کہانی کا بنیادی مقصد اس سیاسی نظام کےخلاف شدید طنز ہےجس نےہماری قومی اقدار کو کھوکھلا کر دیا ہےاور ایک مزاج ترتیب دےدیا ہےجس سےچھٹکارا پانا بہت مشکل ہو گیا ہی چنانچہ علامہ یوسف جبریل نےہمارےہاں جو حقیقی زندگی پائی جاتی ہےاس پر بےلاگ تبصرہ کیا ہےکہ اب یہ ان کا اپنا اسلوب ہی نہیں بلکہ فطری پہچان بھی بن گیا ہی مجھ سےاگر کوئی پوچھےکہ علامہ یوسف جبریل نےبےکھٹکےسیاسی جبلتوں پر ناولٹ لکھ کر کیا کارنامہ انجام دیا ہےتو میں کسی ہچکچاہٹ کےبغیر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایک شریف النفس قلمکار کےلئےاپنےیقین اور زندگی کےتصور کی کہانی اس طور پر بیان ہو جائےکہ انسانی جبلتوں اور اس کی شعوری کوششوں کی کہانی تفنن طبع کےطور پر ابھر کر سامنےآ جائےتو اس سےبڑی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہی یقینا ایسی تحریر پڑھ کر ایک عام قاری بھی کہہ سکتا ہےکہ وضع بیان کےاعتبار سےایسی تحریر صرف علامہ یوسف جبریل ہی لکھ سکتےہیں چنانچہ جانوروں کےمنہ سےخوفناک خواہشات کا اگلوانا اور یقین کا جواز پیش کرنا علامہ یوسف جبریل کا امتیازی وصف بن گیا ہےبلکہ ایٹم بم کی تھیوری کی قرانی تشریح جوان کا فکری اورخصوصی تجربہ ہےجسےوہ کسی نہ کسی طریقےسےزیر نظر ناولٹ میں بھی لےآئےہیں بہر حال علامہ یوسف جبریل کی اپنی ہمدردی اس معاشرےکےساتھ ( جس کی اصلاح کےلئےانہوں نےایک نئےموضوع کو اختراع کیا ہے) بڑی واضح ہےچنانچہ ان کا نیا موضوع زندگی کےپیچیدہ نظام میں ہر پہلو سےایک نیا پہلو نکالتا ہوا آگےبڑھتا ہے ان کےپا س چونکہ تنقیدی شعور بھی موجود ہی اس لئےوہ تاثر پذیری کو قائم رکھنےکےلئےرد عمل ہمدردی اور فنکارانہ جذبےکیساتھ عمل تخلیق کو جاری رکھتےہیں مثلا ان کا محبوب موضوع انسانی سیاسی فطرت ہی آپ اسےجبلت ہی کہہ سکتےہیں یہ جبلت جب سیاسی نظام کےتناظر میں ظاہر ہوتی ہےتو اس کی حیثیت مضحکہ خیز ہو جاتی ہی چنانچہ سیاسی فطرت میں موجود بےڈھنگا پن اور کھوکھلی روایات ایک مکمل شبیہ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اہل نظر اس بےڈھنگےپن کو تیسری دنیا کےمسائل سےیادکرتےہیں مگر یہ بےڈھنگا پن فوراذہن کو کھینچ کر برصغیر پاک و ہند کی معاشرت کی طرف لےجاتا ہی جہاں الیکشنوں میں چڑیا گھر کا سماں ہوتا ہےاور انسانی اقدار حیوانی جذبےاختیار کر لیتی ہیں چنانچہ علامہ یوسف جبریل نےانسانی اقدار کو حیوانی جذبوں کا لباس پہنایا ہےتو انہوں نےحیوانی جبلتوں کےخلاف ایک شدید کشمکش کو ادب کا بنیادی تنازعہ بھی بنا دیا ہی
ہمارا ملک ایک باوقار نظریئےکےتحت وجود میں آیا تھا اس کی شباہت اور وصف امتیازی بانکپن رکھتےتھےمگر یہ سب ظاہری امتیازات تھی ان کےجسم و جان میں جوخوفناک لاوا پکتا رہتا تھا اس کی نشاندی ہر عہد میں ادیب اور فنکار نےکی تھی مگر ہمارا عہد کسی فنکار کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اس لئےاس کی تمام صلاحیتیں لاحاصلی کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں لہذا ایک باوقار قوم کی طرح زندگی بسر کرنےکا آدرش ہر اچھےادیب کا بنیادی مقصد رہا ہےاوریہی بنیادی تنازعہ علامہ یوسف جبریل کا بھی ہےجنہوں نےتمام ظاہری امتیازات کو بغیر کسی
ہچکچاہٹ کےبڑی صلاحیت کےساتھ اہل فکر و نظر تک پہنچا دیا ہی
علامہ یوسف جبریل کےفن میں تخلیق اور تمثیلی اپچ موجود ہی انہوں نےموضوع کو تازگی بخشنےکےلئےا حساس اظہار کو پیش نظر رکھا ہے چونکہ موضوع بھی بہت نازک تھا اس لئےانہوں نےاسےحساسی بنا کر روانی بخشی ہی
میں علامہ یوسف جبریل کےفنی تقاضوں کو صرف بچوں تک محدود نہیں سمجھتا اگرچہ ان کی زبان سہل اور کہانی کا وصف لئےہوئےہےمگر انہوں نےہمارےسیاسی تشخص کو جس طرح ظاہرکیا ہی وہ بالغ نظری کا تناظر رکھتا ہی اس لئےانہوں نےہمارےسیاسی تشخص کو کرداروں کی مخصوص ذہنیتوں سےبالکل الگ یہ چیلنج بھی پیش کیا ہےکہ ہمارا سیاسی نظام کیا نصب العین رکھتا ہےاور اس کےمخصوص نظریات کیا ہیں اور ہماری موجودہ نسل کیسی قوت ارادی کی مالک ہی میں سمجھتا ہوںعلامہ یوسف جبریل کےفن کا مرکزی نقطہ یہی چند سوالات ہیں اور یہی بنیادی اہمیت انکےموضوع کو بھی حاصل ہےکہ آیا ہماری سیاسی فطرت ہمارےنظریات کو جھٹلا تو نہیں رہی اس کا سادہ سا جواب یہ ہےیقینا ہم خود کوجھٹلا رہےہیں لیکن اس سوال کےپس منظر میںز ندگی کی معنی خیزی ایک فکری غلبہ رکھتی ہےاور یہ فکری غلبہ پاکستان کی موجودہ اور آئندہ آنےوالی نسل کےلئےدلآویزی بھی ہےاور اہمیت کا حامل بھی چنانچہ علامہ یوسف جبریل کا زیر نظر کارنامہ اپنی ہیئت اور تخلیقی وصف کےاعتبار سےبڑی اہمیت کا حامل ہےجس کا استقبال کشادہ ظرفی کےساتھ کیا جائےگا
ََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹررشید نثار جنوری 1987
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ