”ادب دےنگینے“ تحریر محمد عارف

”ادب دےنگینے“
تحریر: محمد عارف (ٹیکسلا)
میاں محمد اعظم کا تعلق راولپنڈی سےہےجسےشاعروں اور افسانہ نگاروں کا شہر کہا جاتا ہی۔ میاں محمد اعظم نے”ادب دےنگینی“ کےعنوان سےحال ہی میں ایک خوبصورت شعری مجموعہ زیورِ اشاعت سےآراستہ کیا ہی، جس کا انتساب” پروفیسر زہیر کنجاہی صاحب “کےنام ہےجو راولپنڈی کےمعروف شاعر اور ناول نگار ہیں۔ واضح ہو کہ یہ وہی زہیر کنجاہی ہیں جن کی شخصیت و فن پر نمل یونیورسٹی سےایم اے اردوکا تھیسز بھی لکھا جا چکا ہی۔ پروفیسر زہیر کنجاہی کا تعلق کنجاہ سےہےجہاں غنیمت کنجاہی اور شریف کنجاہی جیسےعظیم شعرا پیدا ہوئی۔ میاں محمد اعظم کی زہیر کنجاہی سےنسبت دراصل اس بےمثال علمی روایت کو خراج عقیدت پیش کرنا ہےجو کنجاہ کی علمی و ادبی تاریخ میں سینہ بہ سینہ سفر کرتی ہوئی ادیبِ شہیر پروفیسر زہیرکنجاہی تک پہنچی۔ میاں محمد اعظم نی” ادب دےنگینے“میںپنجابی کی کلاسیکی شعری روایت سےوالہانہ دل بستگی کا ثبوت دیتےہوئےحمد، نعت، حق چار یار، پنجتن پاک جیسی نظموں کےبعد خواجہ فرید گنج شکر ، شاہ حسین، پیلو بھگت، بھلےشاہ، وارث شاہ، میاں محمد بخش، میاں ہدایت اللہ، محمد بوٹا ،استاد امام دین گجراتی، دائم اقبال دائم جیسےنابغہءروزگار شعرا ءکو زبردست ہدیہ تبریک پیش کیا ہی۔ جس سےان کی شاعری میں لوک رنگ اور لوک رس پیدا ہو گیا ہی۔ میاں محمد اعظم نےپنجابی کےان عظیم شعرا کےفکروفن کاتجزیہ کرتےہوئےان کےمقاصدِ تخلیق اور نکتہ ہائےنظر کو بھی فنی خوش سلیقی سےسمیٹنےکی کوشش کی ۔ میاں محمد اعظم کی پنجابی شاعری سےپہلا نکتہ یہ مترشخ ہوتاہےکہ وہ بباطن ایک صوفی منش انسان ہیں اور لاموجود الا ھو کےقائل ہیں۔ انہیں زبان و بیان پر بےپناہ مہارت حاصل ہی۔ وہ پنجابی میں سوچتے،پنجابی میں پڑھتےاور پنجابی میں لکھتےہیں۔ یوں نظر آتا ہےکہ جیسےوہ پیدا ہی پنجابی کےلئےہوں ،ایسا کیوں نہ ہو کہ پنجابی صرف ایک علاقےیا خطےکی زبان نہیں ہےبلکہ اگر تاریخ کےصفحات میں دور تک سفر کریں تو پروفیسر حافظ محمود شیرانی نی” پنجاب میں اردو“ میں یہ نظریہ پیش کیا ہےکہ اردو پنجابی ہی سےنکلی ہےاور ان دونوں زبانوں کےواحد، جمع، تذکیر و تانیث، مصادر و افعال ایک جیسےہیں۔ پنجابی شعری روایت میں عصرِحاضر کےاہم شعرا ءمیں سےسائیں احمد علی، باقی صدیقی سرفہرست ہیں۔ جنہوں نےاپنےدل گداختہ اشعار سےجذبات میں ہلچل پیداکئےرکھی۔ مگر حیرت ہےکہ میاں محمد اعظم نےان کا کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ان پر کوئی نظم ملتی ہی۔ شاید اگلےمجموعےمیں ان کا بھی ذکرِ خیر ہو جائے،کیوں کہ ان جیسےبالغ نظر اہل قلم تاریخ کےان صفحات سےنظریں نہیں چرا سکتےجنہوں نےخطہءپوٹھوار کی تہذیبی روایت کو زندہ ءجاوید بنا دیا ہی۔ واضح ہو کہ سائیں احمد علی کو علامہ اقبال نےپنجابی کا غالب کہا ہےاور باقی صدیقی کی کتاب ”کچےگھڑی“ ایم اےپنجابی کےسلیبس میں شامل ہےاور ذوق و شوق سےپڑھی جاتی ہی۔ باقی صدیقی وہ محب وطن شاعر تھےکہ جنہیں ٦١ دسمبر ١٧٩١ ء کےسانحےکی خبر ملی تو وہ روتےجاتےتھےاور کہتےجاتےتھےکہ اب زندہ رہ کر کیا کرنا ہی۔ پاکستان تو ٹوٹ گیا۔ چنانچہ وہ اسی دن عالم فانی سےکوچ کر گئی۔ بہرحال” ادب دےنگینی“ کی خاص بات یہ ہےکہ اس میں لمحہءموجود کےان تمام اہم شعرا ءوادبا پر نظمیں ملتی ہیں جن کاتعلق راولپنڈی سےہی۔” ادب دےنگینے“دراصل راولپنڈی کی ایک منظوم پنجابی ادبی تاریخ قرار دی جا سکتی ہی، جس میں عصرِ نو کےمنتخب شعراکی شخصیت کےمختلف گوشوں کو منظوم صورت میں سامنےلایا گیا ہی۔ یہ منظومات ادبی تحریکوں، افکار و نظریات اور تحریکات کےباہمی تفاعل کو بدرجہ اتمام و کمال سامنےلاتی ہی۔ یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رہنا چاہئےکہ اس مختصر سےمنظوم تذکرےمیں راولپنڈی، اسلام آباد اور گردو نواح کےشعرا کی کثیر تعداد پر منظومات ہونا ہی بذات خود ایک اہم ترین ادبی کارنامہ ہےجس کی جتنی بھی تحسین کی جائےکم ہی، مگر چلتےچلتےآپ کی توجہ اس نکتےکی طرف مبذول کرواتےجائیں کہ اس مجموعےمیں بابائےپوٹھوارڈاکٹر رشید نثار اور افضل پرویز پر بھی کوئی نظم نہیں ملتی۔ یہ بھی قابلِ غور بات ہےکہ عاش حسین (پروفیسر ماجد صدیقی) کا بھی کوئی تذکرہ نہیںملتا جو پنجابی زبان و ادب کےایک مایہ ناز شاعر ہیں، وہ شاملِ نصاب بھی ہیں اور حیرت انگیزبات یہ ہےکہ وہ ابھی حال ہی میں اس دنیا سےرخصت بھی ہوئےہیں ۔ امید ہےکہ اگلےمجموعےمیں ان پر بھی گفتگو ہو گی ۔” ادب دےنگینے“میں جن نمایاں شخصیات کا تذکرہ موجود ہےان میں علامہ یوسف جبریل، پیر نصیر الدین نصیر، جمیل یوسف اور شریف کنجاہی شامل ہیں۔ یہ منظوم خراج عقیدت پر مشتمل علمی تصنیف دراصل میاں محمد اعظم کا اپنےدوستوں کی محبتوں کا قرض اتارنا ہی۔ خطہ پوٹھوار کی شاعری پر نظر ڈالیں تو آلِ عمران اور اختر امام رضوی جیسےشعراءکا اس شعری مجموعےمیں تذکرہ کرنا بھی ضروری تھا۔
واضح ہو کہ ارشد چہال نےپوٹھواری میں ناول بھی لکھ دیا ہےاور اس بیان کےمضمرات و امکانات پر بھی گفتگو ہو سکتی ہی۔ آلِ عمران خطہءپوٹھوار کی ایک اہم ترین ادبی شخصیت ہی، جس کی علمی و ادبی خدمات کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آلِ عمران پوٹھواری کا اہم شاعر ہی نہیں بلکہ پی ٹی وی کا ایک مایہ ناز کمپیئر ،فلم نگار اور ماہیا نگار شاعر بھی ہی۔ میاں محمد اعظم کی پنجابی شاعری پرنظر ڈالنےسےیہ بھی پتہ چلتاہےکہ وہ سلسلہء طریقت کےاسرار و رموز سےبخوبی واقف ہیں، ان کی نظم” پنج تن پاک“ پڑھتےہوئےدل پر ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہی۔ میاں محمد اعظم اپنی ایک نظم ”وجہءسخن“ میں فرماتےہیں کہ میں نےاپنےدوستوں کی فرمائش پر ایک قصہ ترتیب دیا جس میں عاجز و مسکین شعراو ادبا کاذکرموجود ہی، ان میں کئی ایسےبھی ہیں جو مشاعروں میں شریک نہیں ہوتےاور کئی ایسےبھی ہیں جو مزاجاََ شریف النفس ہیںاور ان کا کوئی حال بھی نہیں پوچھتا ۔ میاں محمد اعظم نےایک نظم” شاکر کنڈان“ پر بھی لکھی ہےجو ضلع سرگودھا کےمایہ ناز محقق اور شاعر ہیں۔ یہ نظم بلاشک و شبہ میدان علم و ادب کےاس عظیم بطل جلیل کو بہترین خراجِ عقیدت ہےاور وہ اس کےقرار واقعی مستحق بھی ہیں۔ ایسےہی عظیم الشان لوگوں کو منظر عام پر لانےکی ضرورت ہےتاکہ شائقین علم و ادب ان کی وضع داری ،عاجزی و انکساری اور علم و عمل کی پابندی کو پیش نظر رکھ کر اپنی منزل کی طرف کشاں کشاں بڑھ سکیں۔ عارف فرہاد راولپنڈی کےادبی حلقوں کی معروف ادبی شخصیت ہیں۔ انہوں نےمختصر ترین عرصےمیں علم و ادب میں اپنا مقام بنایا۔ وہ شعر کےسچےیا رکھ، علم کےحقیقی جویا، اور ادبی میدان کےدرخشندہ ستارےہیں۔ عارف فرہاد کےتذکرےسےمیاں محمد اعظم کا قد بھی بڑھا ہےکہ وہ واقعی ادبی تاریخ کےمختلف دھاروں سےلحظہ بہ لحظہ واقفیت ِعمیق رکھتےہیں۔ اختر رضا سلیمی راولپنڈی کےایک منجھےہوئےشاعر ہیں اور حال ہی میں ان کا ایک ناول بھی چھپ کر آیا ہی۔ وہ ایک محنتی اور پڑھنےلکھےوالےانسان ہیں۔ علم و ادب سےمحبت ان کا شیوہ ہی۔ میاں محمد اعظم کی عقابی نگاہ نےان کےاوصافِ حمیدہ اور کمالاتِ باطنیہ کو صفحہءقرطاس پر سمو کر رکھ دیا ہی۔ کاشف بٹ اسلام آبا راولپنڈی کی ایک اہم شخصیت ہیں جنہوں نےمسلسل محنت سےقلیل وقت میں علم و ادب میں اپنا مقام بنا لیا ہی۔ وہ تحقیق و تنقید کی وادیوں میں سےگزرتےہوئےتخلیقِ شعر تک کا سفر انتہائی سرعت سےطےکرتےہیں۔ کاشف بٹ ان باشعور شعراءمیں سےہیں جنہیں نہ صرف اپنےشعری منشور یا ادبی مقام و مرتبےکا ادراک حاصل ہوتا ہےبلکہ وہ معاصر ادبی منظر نامےسےبھی کماحقہ واقفیت رکھتےہیں۔ کاشف بٹ جیسےشاعر ایک نکتہ ر س اور نکتہ سنج شخصیت کی حیثیت سےمنظر پر ابھرتےہیں اور ہر طرف چھا جاتےہیں۔ کاشف بٹ پر ایک نظم شاہکار ہی۔ کرنل (ر) سید مقبول حسین کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ ان کی علم و ادب سےمحبت ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئی ہی۔ وہ اہلِ علم و ادب کیلئےایک برگد کےگھنےدرخت کی مانند ہیں۔ جس کی ٹھنڈی میٹھی چھاو¿ں مسافرانِ علم و ادب کو سکون بخشتی ہی۔ کرنل (ر) سید مقبول حسین ایک سچےمحب وطن پاکستانی اور انسانیت کےبہی خواہ ہیں۔ کرنل (ر)سید مقبول حسین نےنظم و نثر پر بےتحاشاکام کیا ہی۔ ان کےتذکرےکےبغیر” ادب دےنگینی“ کسی صورت بھی مکمل نہیں ہو سکتی تھی۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میاں محمد اعظم نےکرنل (ر)سید مقبول حسین کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرکےوہ عظیم قومی فریضہ ادا کیا ہےکہ جس پر ان کو جتنی بھی داد دی جائےکم ہی۔ میاں محمد اعظم نےعلامہ یوسف جبریل پر بھی ایک نظم لکھی ہی۔ جس میں ان کا اندازِ تکلم رسمی یا روائتی نہیں بلکہ عقیدت مندانہ ہی۔ وہ فلسفہ و تفکر کو لوک ادب میں ڈھال کر پیش کرنےکی بدرجہ اتم صلاحیت رکھتےہیں، زیرِ بحث نظم میں بھی یہ خوبی نظر آتی ہی۔ علامہ یوسف جبریل کا تعلق ان سےپرانا ہےاور انہوں نےاس کا حق ادا کیا ہی۔واضح ہو کہ انہوں نےاس نظم میں ان کےصاحبزادےشوکت محمود اعوان کا بھی تزکرہ کیا ہی۔ جس میں انہوں نےانہیں علامہ محمد یوسف جبریل کا صحیح معنوں میں جانشین قرار دیا ہی۔ یہ امر ایک بدیہی حقیقت بھی ہےکیوں کہ شوکت محمود اعوان پچھلی ربع صدی سےدن رات اپنےوالد گرامی کی علمی تصانیف کی ترتیب و تدوین اور ان کےعلمی مشن کےفروغ کےلئےسرگرمِ عمل ہیں۔ یہ نظم محض ایک روائتی پیرائیہ ا ظہار میں نہیں لکھی گئی ۔ انہوں نےعلامہ محمد یوسف جبریل کی سوانح حیات کےتمام اہم گوشوں کو انتہائی فنی مہارت سےقلم بند کر دیا ہی۔ علامہ محمدیوسف جبریل فلسفہ، سائنس، طب، شاعری پر یکساں مہارت رکھتےہیں۔ اور انہوں نےقران مجید کی سورة الھمزہ میں پہلی دفعہ ایٹم بم کا تزکرہ دریافت کیا۔ جس کی سائنسی تشریح و توضیح کےلئےانگریزی کتب تحریر کیں۔ علامہ یوسف جبریل نےمعروف جرمن مستشرق اینی مری شمل سے 1963 ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مکالمےکےذریعےان پر قران حکیم کی حقانیت اور الہامی حیثیت واضح کی۔ جس پر وہ لاجواب ہو گئیں۔ نیجتاََ کچھ ہی عرصےکےبعد قبولِ اسلام کی سعادت حاصل کر لی۔ میاں محمد اعظم نے”ادب دےنگینے“میں اپنی بہترین تخلیقی صلاحیتیوں کا ثبوت پیش کیا ہی۔ وہ مختلف شخصیات سےپہلےاپنا قلبی و ذہنی علاقہ قائم کرتےہیں اور پھر ان شخصیات کےبطون میں غوطہ زن ہو کر ان کی ذہنی و نفسیاتی صورت حال کو سمجھنےکی کوشش کرتےہیں۔ ان کا انداز عوامی ہےاور وہ تفکر یا تفلسف سےدور بھاگتےہیں۔ یہی وجہ ہےکہ ان کی نظموں کا بیانیہ تسلسلِ واقعات کی بجائےایک ہمہ گیر مربوط تاثر پر مبنی ہوتا ہی۔خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کا تعلق واہ کینٹ سےہے، انہیں میاں محمد اعظم سےبےپناہ محبت و عقیدت ہے۔ خواجہ محمد ایوب کریمی صاحب ایک صاحبِ مطالعہ شخص ہیں۔ وہ اخبارات و جرائد پر گہری نظر رکھتےہیں۔ انہوں نےاپنےمطالعات کو ”چراغِ راہ“ کےنام سےترتیب بھی دیا ہی۔ خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی پر شامل کتاب نظم ان کی شخصیت کےحقیقی روپ کو سامنےلاتی ہی۔
میاں محمداعظم نےراولپنڈی اسلام آباد کےشاعروں کو بالخصوص ایک عام انسان کی حیثیت سےدیکھا ہی۔ ان کی خوبیوں پر بھی نظر ڈالی ہےاور بشری تقاضوں کےپیشِ نظر ان کی شخصیت میں موجود وہ پہلو بھی بیان کر دیئےہیں جو بحیثیت ِانسان ایک دوسرےکی زندگی میں اکثر نظر آتےہیں۔ واضح ہو کہ یہ اظہارِ محبت کی اعلیٰ ترین صورت ہےاور موجودہ عہد میں اس کا ثبوت کم کم ہی ملتا ہی۔ پنجابی ادب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ کتاب ادبی شخصیات پر لکھی گئی پنجابی خاکےکی پہلی منظوم تاریخ قرار پاتی ہےجس کےلئےمیاں محمد اعظم واقعی بےپناہ تعریف و تحسین کےمستحق ہیں۔ میاں محمد اعظم انسانی جذبوں اور اجتماعی سوچوں کےشاعر ہیں۔ وہ صرف اپنےلئےزندہ نہیں رہتے معاشرےکےدکھ درد میں شریک ہونابھی ان کی فطرت ہی۔” ادب دےنگینے“بھی اسی اجتماعی سوچ کا مظہر علمی تصنیف ہی۔ یہ صوفیاءکا وہی مسلک و مشرب ہےکہ جس میں یقین ِمحکم ، عمل پیہم اور محبتِ فاتح عالم پر زور دیا جاتاہی۔ میاں محمد اعظم کی منظوم خاکوں کی کتاب سےپہلےکرنل(ر) سید مقبول حسین اردو نثر میں منثور خاکوں کی کتاب لکھ چکےہیں اور وہ” کہکشاں“ کےنام سےمنظر عام پر آ چکی ہی۔ میاں محمد اعظم ایک انتہائی شفیق، خلیق اور اعلیٰ ظرف انسان ہیں۔ انہوں نی” ادب دےنگینی“ میں ملک کےممتاز اہلِ قلم کی صلاحیتوں کےاعتراف کا بھرپور ثبوت فراہم کیا ہے۔میاں محمد اعظم ایک عزلت نشین، کارگزار اور اپنےکام سےکام رکھنےوالےفرد ہیں ۔ ان کی ادبی خدمات کا دائرہ بےپناہ وسیع ہےجس پر فرداََ فرداََ قلم اٹھایا جائےگا۔ فی الحال ان کی ادبی تصنیف ”ادب دےنگینے“کو بازارِ ادب میں لایا گیا ہی۔ اور میری حیثیت اس بڑھیا کی طرح ہےجو سوت کی اٹی لےکر یوسف کو خریدنےکےلئےبازار میں چلی آئی تھی۔

 


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 92
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 83
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…
  • 78
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply