اقبال کے ساتھ نقار خانے میں

اقبال کے ساتھ نقار خانے میں

تحریر:آصف بن تعویز گل


اللہ کے نام سے شروع جس نے حضرت عبدللہ بن ام مکتوم  کی وجہ سے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد پر ناراضگی کا اظہار فرمایا،جس کا واضح ثبوت قرآ ن کی سورہ عبس میں موجود ہے۔
محترم جناب ڈاکٹر صا حب!
سر آپ سے کچھ پوچھنا ہے؟جی پوچھو،وہ پوچھنا ہے کہ لاہور میں پلاٹ کا کیا ریٹ ہے؟کس طرح مرلہ ملتا ہے اور اگر کہیں کوئی پلاٹ مفت ملتا ہے تو براہ مہربانی نشاندہی فرمائیں تاکہ موج مستی کر سکوں،کیا مطلب؟وہ وہ جی موج(امنگ،جوش) مستی مست کا حا صل ہے مطلب،دیوانہ۔۔،بے خود۔اچھا بے خود ہونا چاہتے ہو؟ جی جی،جیسے آپ نے کہا ہے ناں۔کیا؟
۔ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے،
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے،
(علامہ زیر لب مسکرائے) سمجھ گیا خود کو پہچاننا چاہتے ہو؟اپنے آپ سے پوچھو تمھیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ تم کون ہو۔مجھے نہیں پتہ،تمھیں پتہ ہے کیوں کہ تم نے خود ہی کہا ہے ،کہ تمھیں پتہ ہے کہ تمھیں نہیں پتہ،سب کو سب پتہ ہے مگر سب خودی کے۔۔(ی) کو بھول کر خود ہونا چاہتے ہیں،اور تم بھی،خودی کا مطلب ہے ۔معرفت نفس،خود کو پہچانو میاں،اور تمھیں یہ بھی پتہ ہے کہ یہاں (لاہور ) میں پلاٹ کا کیا ریٹ ہے،وہ میرا مطلب ہے کہ ق،قا…ئد اعظم نے 796,096 مربع کلو میٹر م…مفت کیوں دیا؟
مگر یار دیکھو !!!مجھے علامہ مت کہو،میرا نام اقبال ہے،۔۔ اقبال ،م..مگر وہ عجیب سا لگتا ہے،چلیں اقبال صاحب،دل آویز مسکراہٹ لبوں پر پھیلی،کہہ سکتے ہو،
وہ آپ کی دعا کیوں پوری نہیں ہوئی، عجیب نظروں سے دیکھا،کون سی ؟ وہی پھر وادیء فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے،ذوق تماشہ دے اور دیدہ بینا دے،اور یہ بھی بتلا دیں کہ آپ نے جواب شکوہ میں لفظ (کابل) استعمال کیاہے یا (قابل)کیونکہ ایک بچے کی کاپی میں لفظ(کابل) لکھا تھا،
کوئی کابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں،
ڈھونڈنے والوں کو تو دنیا بھی نئی دیتے ہیں،
ہاں اگر وہ کابل ہے تو اس کا حال بھی تم دیکھ چکے ہو،مگر اقبال صاحب آپ اپنی شاعری کی ایک عدد گائیڈ بھی ڈوگر والوں سے شائع کروا دیتے،وہ کیوں؟ جی آپ کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کے آپ کا۔۔ف۔۔۔،اپنا شعر سنایا،
میں وہ عقدہ ہوں،سمجھنا ہو مشکل جس کا،
کوئی مائل ہو سمجھنے پہ تو آساں ہوں میں،
رند کہتا ہے ولی مجھ کو،ولی مجھ کو رند،
سن کہ دونوں کی اس تکرار کو حیراں ہوں میں،
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا،
اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ مسلماں ہوں میں،
ویسے اقبالؒ صاحب اس ۔(ق) میں کیا چکر ہے، آ پ نے اپنے اشعار میں کافی استعمال کیا ہے،اور یہ قائداعظم کیسے بنا جاتا ہے؟
۔۔۔۔(د) سے دیکھو، اور غور کرو، (ق) سے قلم اٹھاؤ،(ق) قدرت کا قاعدہ سمجھو،(ق) قرطاس کی زینت بنو(ق) قواعدوضوابط کا خیال رکھو،(ق) قول سچا اور وہ کرو جس میں (ق) قوم و ملت کی (ق) قدر ہو،(ق)قیلولے کے بعد (ق) قالین پر بیٹھ کر(ق) قلب سے،(ق) قل کہہ دو،اور اگر (ق) قوت میں کمی محسوس ہو تو (ق) قہوہ پی لینا،(ق)قبلہ کی طرف (ق)قاضی بن کر لکھو،اپنے (ق) قد سے بڑا مت بنو،(ق)قاریوں کو (ق) قطرہ قطرہ (ق) قیف کی مدد سے پر کرو،تین (ق) پر قزل لگاؤ،(ق) قلم(ق) قسم،(ق) قدم پر،اور انہیں بتاؤ کہ (ق) قصائی مت بنو،(ق) قرآن کو پڑھو اور سمجھو،(ق) قریب ہے کہ (ق) قرطبہ میں اللہ اکبر کی صدا گونجے،اور (ق) قبر کو بھی یاد رکھو،کیونکہ یہ زندگی ایک (ق)قرضہ ہے،جس کا (ق) قرعہ،(ق) قراندازی میں نکل آئے،تو (ق) قینچی سے اس کی (ق) قید والی زندگی کا (ق)قطر،(ق)قطع کر کے (ق) قسمت والی زندگی (ق) قرار کی شروع ہو جاتی ہے،(ق) قبضہ ختم ہو جاتا ہے،جیسے (ق) قفس کھول دیا گیا ہو،(ق) قیراط کے قیراط کا انبار لگ جاتا ہے،(ق)قلق ختم ہو جاتی ہے،(ق)قس علی ہذاکی صدائیں آتی ہیں،اور (ق)قرین عقل ،اور (ق)ْقدوم حاصل ہو جاتا ہے،مگر یہ تب ہوتا ہے جب(ق) قارون نہ بنو،خود کو (ق)قابو میں رکھو،(ق) قتال سے دور رہو،(ق) قصاص کو (ق) قیامت تک کیلئے ملتوی کر دو،(ق) قمیص میں خان ٹیلر سے جیبیں مت بناؤ،(ق)قناعت کرنا سیکھو،(ق)قربانی دینا سیکھو،(ق) قدیم چیزوں کے قریب رہو،اور ان سے سبق حاصل کرو،(ق) قبیلوں میں رہو،تب (ق) قوس وقزح بنے گی،اور پھر تمھیں (ق) قابلیت پر یقین ہو گا،(ق) قرار کی زندگی جیو گے،اور یاد رکھنا (ق)قمر کو دیکھ کر (ق)قدس کا واسطہ دیکر (ق) قاسم بننے کی دعا کرنا،کیونکہ یہ (ق)قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے،پھر تمھیں (ق) قائداعظم اور (ق) قلندر کا مطلب سمجھ آ جائے گا،ہر مشکل کو (ق) قبول کرنا،تمھیں (ق) قابل کا اور (ک) کابل کا فرق پتہ چل جائے گا،کیونکہ (ق)قسمت میں جو لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا ،یاد رکھو اگر (ق) قوم بن کر زندگی گزارو گے تو ٹھیک ورنہ پھر انتظار کرو (ق) کا قہاروقیوم کے عذاب کا۔۔۔۔۔
اچھا اب سمجھا کہ آپ کے باجو میں (داتا صاحب  آپ کو (مردقلندر) کہہ کر کیوں پکارتے ہیں،ویسے آپؒ کو غریب لوگ ڈاکٹر کہتے ہیں کیونکہ ان کے پا س پیسے نہیں ہوتے،اور باہر کی اقوام آپ  کو شاعر مشرق اور بیرسڑ کے نام سے جانتے ہیں۔وہ پیسوں سے یاد آیا میں آپ کیلئے ۹ روپے لایا ہوں،وہ وہ کدھر ہے آپ کا ڈ بہ؟ کون سا ڈبہ؟ عجیب نظروں سے دیکھا،جی جی وہ چندے والا۔۔انور شعور کی آواز گونجی!!!!!!!  رسوائی اور درماندگی ہے ان کا مقدر،
کشکول ہاتھوں میں اٹھائی پھرتی ہیں جو قومیں،
سو بات کی ایک بات ہے یہ قول قلندر،
غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ ودو میں۔
تو کیا کروں اقبال صاحب اس کا ؟ کھانا کھا لو،مگر روٹی ۷ روپے کی ہے آپ کھانا کھانے کی بات کر رہے ہیں،روٹی ۲ روپے کی ہے یہاں،کیا سچ،وہ کیسے؟ یہاں پر میرا شاہین موجود ہے،کون شاہین؟ میرا شہباز!!!کہاں رہتا ہے؟تم نہیں جانتے اس کو؟جی نہیں یار شہباز شریف!!!! کیا؟ مگر وہ تو شریف ہے۔شریف ہونا ہی پڑتا ہے کیونکہ شرافت ہی بڑی چیز ہے،مہذب ہونا ہی پڑتا ہے،ایک راز کی بات بتا دوں یہ وہاں سے ہو کر آیا ہے جہاں پر وہی جاتے ہیں جنھیں وہی بلاتے ہیں،وہی کون؟سرکار۔۔کون سرکار؟
یار نعتیں سنتے ہو،جی وہ سنا نہیں ہے ،،،،
آتے ہیں وہی جن کو سرکار  بلاتے ہیں،
اور دوسری طرف نام میں کتنی مماثلت ہے،کیا مطلب؟ نواز شریف،شہبازشریف،حرم شریف،گولڑہ شریف،اجمیر شریف،مسجد نبویﷺشریف اور قرآن شریف۔۔اس کے اندر وہی زندہ تمنا موجود ہے جو (ق) قلب کو گرما دیتی ہے اور روح کو تڑپا دیتی ہے،اللہ کرے زور بازو اور زیادہ۔۔۔
قیدی نمبر ۷۹۶۰۹۶ وقت ختم ہوا،باہر کھڑے ایف سی کے چاق و چوبندجوان نے آواز لگائی،اقبالؒ صاحب چونک پڑے ،تم کون؟میں نے کہا آپ کا خواب ،،پاکستان،،، بولے جاؤ اور اس ایف سی کے جوان کو بتانا کہ ،وقت کبھی ختم نہیں ہوتا ،ٹائم ختم ہو جاتاہے،وقت ۵ ہیں،قرآن میں وقت کی قسم کھائی ہے ٹائم کی نہیں،فرنگی کی زبان مت استعمال کرو،جاؤ اللہ تمھارا حامی اور ناصر ہو،اقبال ؒصاحب پوری دنیا کی نظریں مجھ پر لگی ہوئی ہیں،میرا کیا بنے گا۔۔۔؟کیا مطلب؟ اقبال صاحب نے پوچھا،میں رونے لگا،اچانک انور شعور کی آواز آئی،
ادھر ہے غیر ملکی فوج سر پر،ادھر سرگرم خود کش حملہ آور،،
خداوند!صورتحال،تسلی بخش ہے باہر نہ اندر
اقبال صاحب نے تھپکی دی،اور بولے، کیاتم نے کبھی اپنے نام پر غور کیا ہے؟ جی جی کیا ہے،کیا مطلب ہے تمھارے نام کا،جی وہ پ سے پنجاب، ک سے کشمیر،س سے سرحد ،سندھ،اور تان بلوچستان ۔جی نہیں! آؤ بتاؤں تمھیں پاکستان کا مطلب،جی،اقبالؒ صاحب نے نعر ہ لگایا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ درودیوار نے پکارا لا الہ الا اللہ، بولے سمجھے!میں نے کہا یہ تو کلمہ ہے، بولے کلمہ یہ ہے، لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ!! یہ محمد کون ہیں؟
یہ سرکار  ہیں،جن کی وجہ سے تم ہو،میں ہوں اور یہ نظام کائنات ہے، کوئی کامیابی کی کنجی تو بتا دیں، انﷺ کے نام پرغور کروسب ٹھیک ہو جائے گا،کیا مطلب؟ م سے ماضی،ح سے حال،م سے مستقبل ، (د) کو مضبوطی سے پکڑ لو اور پھر تمھیں پتہ چل جائے گا،تمھارا ہر کام (د) سے شروع ہو اور (د) پر ختم ہو تو (د) دنیا تمھاری ہے،اس (د) سے کیا مطلب ہے، (د) سے درود،درود شریف، اقبالؒ صاحب پھر شریف؟
بولے جاؤ اور (د) سے دیکھو!!!!!


Print Friendly

Download Attachments

  • pdf Iqbal kay sath
    Iqbal kay sath by Asif Pagul
    File size: 187 KB Downloads: 33

Related Posts

  • 46
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 37
    تصویر سے ملے تصویر تحریر رضوان یوسف ہم جانتے ہیں کہ نشہ انسان کو حقیقتوں سے آگاہ نہیں ہونے دیتا بلکہ یہ کہا جاسکتاہے کہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لئے نشہ استعمال ہوتا ہے ۔ ’’ نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے میں ہو ‘‘ اب دیکھنا…
  • 34
    علامہ محمد اقبال ترجمان حقیقت ،شاعر مشرق اور حکیم الامت فلسفی شاعر کی حیثیت سےنہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان بلکہ پورےعالم اسلام میں جانےپہچانےجاتےہیں۔ آپ نےاردو کی کلاسیکی شاعری کےمخصوص استعارات اور تلازمہ کاری کو مسلم تشخص، احساس خودی، ملت اسلامیہ کےعروج کےلئےاستعمال کیا ۔ علامہ محمد اقبال نےتاریخ اسلام…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply