اپنی موج میں ،اپنی دُھن میں ،بہتا بولتا رہتا ہے تحریر شمشیر حیدر

اپنی موج میں ،اپنی دُھن میں ،بہتا بولتا رہتا ہے
تحریر : شمشیر حیدر
جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتو ایسےمیںاگر ایک جگنو بھی چمکتا دکھائی دےتو حوصلہ ہونےلگتا ہے،کچھ کچھ اپنےہونےکےنشاں کھلنےلگتےہیں اور وحشتوں کےفریب میں کمی آنےلگتی ہے۔ہم ایسےعہدِبےچراغ میں زندہ ہیںکہ جب ہرآدمی زندگی جبرِمسلسل کی طرح کاٹ رہا ہی۔ہم اپنےآپ کو ، اپنی اقدار کو فراموش کرچکےہیں۔ایسےمیں اگر کوئی سیدھا سادھا، راست گو،صلح پسند، قناعت پسند اور اپنےآپ میں رہنےوالا نظر آئےتو اس کی ان خوبیوں کو ہم خامیاں سمجھنےلگتےہیں مگر حقیقت اس کےبر عکس ہی۔ اس تیرہ شبی میں کہیں کسی طرف اگر ایک آدھ ایسا چراغ جلتا نظر آئےتو جان جائو کہ کم کم ہی سہی مگر زندگی کےآثار موجود ہیں۔
محمد عارف سےمل کر اسےسمجھ سکو ، پڑھ سکو تو پھر اس نتیجےپر پہنچو گےکہ ابھی ایسےدرویش صفت لوگ موجود ہیں اسی لیےقیامت نہیں آرہی۔ محمد عارف کےحوالےسےیہ سطریں لکھنا میرےلیےاعزاز سےکم نہیں کیوں کہ بہت آغاز میں جن دو چار صاحبان سےمیں نےرہنمائی لی اُن میں محمد عارف سرِ فہرست ہیں۔ جو خوبیاں اُن کی شخصیت کا حصہ ہیں وہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہیں۔مجھےیاد ہےکہ آج سےاٹھارہ سال پہلےجب ہماری ملاقات ہوئی تو ادبی فضا ئوں میںعارف کےاشعار گونج رہےتھےجو آج بھی مجھےاُسی طرح یاد ہیں:۔
جب بھی آنگن میں کوئی پھول کھلا ہوتا ہی میرےہمسائےکو اس پر بھی گِلا ہوتا ہی
اس کے دل پر مری حکومت تھی کس قدر با اثر رہا ہوں میں
یہ اشعار ایسےہیں جو سنتےہی دل پر حکومت کرنےلگتےہیں۔ان میں روایت سےجڑت اور جدید غزل کا مطالعہ صاف جھلکتا نظر آتا ہی۔ایسا کیوں نہ ہوکہ عارف کو نہ صرف تمام قابلِ ذکر اساتذہ کےسینکڑوں اشعار ازبر ہیں اور اس کےساتھ ساتھ جدید شعراءناصر کاظمی ، شکیب جلالی، فیض احمد فیض، مجید امجد ، منیرنیازی ،احمد فراز ،جمال احسانی، ثروت حسین ،علی مطاہر اشعر ،جلیل عالی اور دیگر اہم شعراءبھی اُن کےحافظےکا حصہ ہیں۔ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ ” طبع حسرت نےاُٹھایا ہےہر استاد سےفیض“ یہی وجہ ہےکہ اُن کےہاں روایت میں ڈوب کر تازہ شعر کہنےکی کامیاب کو شش ملتی ہےاُن کی زمین ِشعورو ادراک میں روحانیت کی فصل بوئی گئی ہے۔روایت کا رچائو ، گداز اور ٹھہرائواگر کمال پر ہےتو ساتھ ساتھ عصری ترجمانی وقت کی تمام سفاکیوں کی نشاندہی کی صورت میں ملتی ہےسادگی اور روانی کےساتھ ساتھ شعر کا پُر تاثیر ہونا اُن کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہی۔
جب ہماری دوستی ہوئی اُس وقت عارف ماسٹر ز کر رہےتھی۔ اس سےپہلےیہ ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ میں گریجویشن کےدوران اپنی شا عری کا لوہا منوا چکےتھےگریجویشن کےبعد شہرسنگ (ٹیکسلا) میں یہ متحرک ترین ادبی شخصیت کےطور پر ابھرے۔کئی یادگار مشاعرےاور تقاریب منعقد کرائیں جو اس کےبعد یہاں دیکھنےکو نہ ملیں۔ مگر اُس وقت بھی یہ آج کی طرح کھوئےکھوئے، اُداس اُداس سب سےلگ تھلگ ، گفتگو میں بھی ایک خاص کشش ، وضع قطع میں بھی سب سےمختلف” اپنی موج میں ، اپنی دھن میں “ رواں دواں تھی۔ماسٹرز کےبعدکچھ عرصہ مختلف اداروں میں اردو کےلیکچرر کےطور پر خدمات سرانجام دیں۔بعدازاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کےذریعےمنتخب ہو کر ا©علی ثانوی سطح پر اردو پڑھانےلگےمگر عارف کےمزاج میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔وہی درویشی ان کی شخصیت کا حصہ رہی،انھیں ہر لمحہ احساس رہتا ہےکہ وہ نقشِ فانی ہیں،نہ اپنےحرف و آواز پر گھمنڈ ،نہ اپنےمطالعہ و حافظہ پر ناز ۔ کبھی کبھی وہ اپنےلباسِ عجز کےبارےمیں فکر مند ضرور ہوتےہیںمگر ساتھ ہی شکر بجا لاتےہیںکہ یہ خاص عطائےپروردگار ہی۔ جب وہ امیدوں کےنخلِ سایہ دار کےجھلس جانےکا شکوہ کرتےہیں تو ساتھ ابرِرواںکےطالب بھی ہوتےہیں۔اُن کی ساری کہانی ، الفاظ ومعانی ، ہر صبح سہانی اور اشکوں کی روانی میں عشق ہی عشق بولتا ہی، انہیں خبر ہےکہ عشق کسی منصوبےکا محتاج نہیں ہوتا بلکہ یہ یہ جنوں کےرواں دواں پانیوں پہ بہنےوالا بےمنزل مسافر ہی۔اُن کےقریبی احباب جانتےہیں کہ وہ تصوف کےرنگ میں اتنےرنگےہوئےہیں کہ بعض اوقات خود سےبھی بےخبر ہو جاتےہیں۔
جھلس گئےہیں امیدوں کےنخل ِسایہ دار مثالِ ابررواں دھوپ آنگنوں میں اتر
کسی طرف سےکوئی راستہ دکھائی دئی نوید صبح درخشاں بشارتوں میں اتر ویران جزیرے کا ہوں گم نام مسافر اطراف میں پھیلا ہے سمندر تیرےغم کا
مجھےصرف قافیہ یا ردیف کی تعریف کرنا اچھا نہیں لگتا اور نہ ان کےپیچھےبےجا بھاگنےکا حامی ہوں بس شعر ہونا چاہی۔ ردیف قافیہ، بحر اور زمین کوئی بھی ہو ورنہ عارف کےپاس بھی ایک سےایک نئی ردیف اور قافیہ کا خوبصورت استعمال ملتا ہےیہ میری خواہش بھی ہےاور دعا بھی ہےکہ عارف کا اولین شعری مجموعہ ” منظر تیرےغم کا“ اردو غزل میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو اور یہ خوب سےخوب تر کی تلاش میں اپنا سفر جاری رکھیں، اپنی شعری فضاءسےاٹھنےوالی روحانیت کی لہر کو محسوس کرتےہوئےشعری منظر نامےکو مزید نمایاں کر سکیں۔ آخر میں عصر حاضر کےآئینہ دار اشعار دیکھیی
یہ جو اک اگ میں جلتا ہوا گھر دیکھتا ہوں اس میں اک ہاتھ پسِ پردئہ در دیکھتا ہوں
مجھےخبر ہےکہ میں شب کی سلطنت میں ہوں نہ جھوٹےخواب دکھائو بہت سحر کے مجھے شمشیر حیدر ٹیکسلا


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 81
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 78
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…
  • 77
    وادی سون (م ش) wadi soon a column by meem sheen nawaiwaqt lahore produced by shaukat mehmud awan general secretary adara tehqiqul awan pkistan سرگودھا ڈویژن میںاعوان کاری میں ایک ایساعلاقہ بھی شامل ہےجوقران کریم کےحفاظ کی تعداد کےلحاظ سےشاید سارےعالم اسلام میں اولیت کا دعویدار کہلا سکتا ہی۔ اس…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply