ایک نابغہء روزگار روحانی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل تحریرمحمدعارف پروفیسر

ایک نابغہء روزگار روحانی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل
تحریر : محمدعارف پروفیسر
سید اللطائفہ حضرت جنید بغدادی کو فقر کا منصب اس لئےعطا ہوا کہ انہوں نےاہلِ بیت کی تعظیم کی۔ فقراءاور اہل اللہ نےاپنی تعلیمات کو ساد ہ و آسان اسلوب میں ڈھال کر ہمیشہ پیش کیا ۔ آئمہ کرام اور اہل بیت اطہار کےجملہ نفوسِ قدسیہ نےتذکیہءباطن کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنایا۔ حضرت پیرانِ پیر سید عبدالقادر جیلانی نےفتوح الغیب کےذریعےاپنی تعلیمات کو صفحہءقرطاس پر منتقل کیا۔ حضرت خواجہ فرید الدین عطار نےتذکرة الاولیا ءمیں بزرگانِ دین کی تعلیمات کو سامنےلانےکی کوشش کی ۔حضرت سید سلطان باہو نےنفی اثبات کا سبق پڑھایا۔ بابابلھےشاہ نےدنیا کی بےثباتی کا پیغام دیا۔ حضرت میان محمد بخش نےعشقِ الہی اور فکرِ آخرت کو موضوع بنایا۔ حضرت پیر مہر علی شاہ نےدلوں میں عشقِ رسو ل کی جو ت جگائی۔ جب کہ آج کےدورِ جدید کےسومنات کےبتوں کو پاش پاش کرنےکےلئےجبریل نےضربِ یداللہیٰ سےکام کیا۔ وہ نار نمرود میں کود پڑےاور عصائےکلیمی سےطلسمات کےصنم خانےغیر آباد کر دیئی۔ حضرت علامہ محمد یوسف کو پچیس برس کی عمر میں براہِ راست حضرت سید عبدالقادر جیلانی سےروحانی اور تصوفانہ فیضان حاصل ہوا اور انہی کی نگاہ کامل سےانہیں ابراہیمی مشن ملا۔یہ مشن ایٹمی تباہ کاری ، اسلحےکی دوڑ، مادہ پرستی کا خاتمہ اور آخرت کی آگ سےبچنا ہے۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل ہوس زر، اور لالچ و خود غرضی کےبتوں کو ریزہ ریزہ کرکےعالی شان محلات بنانےیا بینک بیلنس اکٹھا کرنے،تجوریاں بھرنےاور گندم کےڈھیر آسمان تک بلند کرنےکےسخت مخالف ہیں۔ وہ بنی نوع انسان کو سیرت رسول کےعمل پہلوو¿ں کی طرف توجہ دلانےکی کوشش کرتےہیں۔ کہ انہوں نےکبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ آنحضور کےگھر میں کئی کئی مہینےتک چولہا نہیں جلتا تھا۔ زیادہ سےزیادہ کھجور کےچند خوشوں اور ستوو¿ں سےگذر اوقات ہوتی۔ فرضِ محال اگر کبھی کھانےکا پروگرام ہوتا یا کہیں سےکوئی دعوت آ جاتی تو سائل کی پکار پر یہ سب کچھ بھی اسےہی دےدیا جاتا۔ آپ کا فقر محمدی تو یہ تھا کہ آپ نےدونوں جہانوں کا سردار ہونےکےباوجود اپنےلباس کو خود پیوند لگائی۔ کبھی محفل میںنمایاں ہو کر نہیں بیٹھی۔ مسجد نبوی میں زمین پر بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتی۔ بالاخر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کےاصرار پر ممبر بنا دیا گیا۔ محفل میں بیٹھےہوتےتو لوگوں کو آ کر پوچھنا پڑتا۔ کہ آپ میں سےحضور اکرم کون ہیں۔ فقر محمدی کےخوگر و داعی حضرت علامہ محمد یوسف جبریل ایک ایسی عظیم شخصیت تھےجنہوں نےاسلام کےعملی فقر کو نہ صرف اپنی زندگی پر نافذ کیا بلکہ لوگوں کو اس انقلاب کی طرف بھی بلایا جو کہ معاشی تفاوت کو ختم کرنا چاہتاہی۔ اسلام صدقات، خیرات، اور انفاق فی سبیل اللہ کےذریعےاللہ تعالیٰ کی توجہ حاصل کرنےکا ذریعہ بنتا ہی۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےبالکل درست کہا تھا کہ تمہارےپاس تمہاری ضروریات سےزائد جو کچھ بھی ہےاس پر دوسروں کا حق ہے۔حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نےایک ہمہ گیرمتنوع الجہاداور رنگا رنگ پہلوو¿ں سےمزین زندگی بسر کی ہی۔ وہ سیاست میں ایک ایسےقومی نقطہءنظر کےعلمبردار بن کر ابھرےجو مغربی جمہوریت کےتصورات کی یکسر بیخ کنی کرکےاسلامی جمہوریت کےحقیقی تصورات کو سامنےلاتےہیں۔ انہوں نےاپنی نثری تصنیف ©© ” چڑیا گھر کا الیکشن“ میں 1970ء کےانتخابات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہی۔ اردو ادب میں طنز و مزاح کےموضوع پر ڈاکٹر وزیر آغا ءکا پی ایچ ڈی کا مقالہ اہمیت کا حامل ہی۔ پروفیسر ڈاکٹر ظفر عالم ظفری نےاردو صحافت میں طنز و مزاح کےارتقاءکےموضوع پر کراچی یونیورسٹی سےڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہی۔ اردو کےظریفانہ ادب پر نظر ڈالیں تو منشی سجاد حسین، حاجی لک لک، اکبر الہٰ آبادی، رتن ناتھ سرشار، مرزا ظریف لکھنوی، جیسےلوگوں کےنام ملتےہیں۔ بابائےظرافت سید ضمیر جعفری کی ظریفانہ شاعری ہو یا پروفیسر احمد شاہ بخاری کی” پطرس کےمضامین“ سب اپنی جگہ ادبی اہمیت کےحامل ہیں۔ کرنل شفیق الرحمن کی ”حماقتیں“،اطہر شاہ خان جیدی کےچٹکلےہوں یاخالد مسعود کی نیم سیاسی باتوں پر مبنی گفتگو، طنز و مزاح کےباب میںڈاکٹر محمد یونس بٹ جیسےخوشگوار اضافےہیں۔ مگر یہ امر بھی بدیہی حقیقت ہےکہ سنجیدہ اور متین علمی مزاح کےذریعےخشک فلسفیانہ مباحث کو اردو نثر کےقالب میں بیان کرنا، جوئےشیر لانےکےمترادف ہی۔ اردو طنزومزاح کا دامن ایسی تحریروں سےیکسر خالی ہی۔
کرنل محمد خان کی ” بجنگ آمد“ یا ”بسلامت روی“ میں فوجی زندگی کےخدوخال اجاگر ضرور ہوتےہیں مگر علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنےنوائےوقت میں چھپنےوالےکالموں ” چڑیا گھر کا الیکشن“ میں جس خوبی، اختصار اور جامعیت کےذریعےپاک سرزمین کی سیاسی صورت حال کو اجاگر کیا ہےاور جس سلیقےسےجمہوری انداز کی بیخ کنی جاگیردارانہ نظام کی چیرہ دستیاں، عدل و انصاف کی عدم فراہمی، مساوات اور قومی یکجہتی کےفقدان کو موضوع سخن بنایا ہی۔ اردو کےمزاحیہ ادب میں طرزحقیقت کی ایسی ملیح صورت گری کا کوئی نعم البدل نہیں لایا جاسکتا ۔ یہ کالم ” چڑیا گھر کا الیکشن “ کتابی صورت میں چھپ چکا ہی۔ یہ اردو ادب میں ایک فکر انگیز بحث کا اضافہ ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل ایک محب وطن انسان تھی۔ وہ اسلامی جمہوریہءپاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنےمیں عمر بھر چاک و چوبندر ہی۔ ان کی محولہ بالا تحریر کا مقصد یہ تھا کہ وطن عزیز کو سیاسی شعبدہ بازوں کےکرتبوں سےنجات دلا کر اسلامی جموریہ کی بنیاد ڈالی جائےتاکہ نظام خلافت راشدہ کی حقیقی روح کےلئےعملی کوششیں کی جا سکیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےطنز و مزاح پر بہت کم لکھا ہےلیکن ان کی یہ تحریر پروفیسر احمدشاہ بخاری کی” پطرس کےمضامین “کی طرح اپنےشگفتہ وشاداب اسلوب مشاہدہ کی باریکی ، تجزیاتی قوت اور استدلالی انداز بیان کی وجہ سےاردو ادب میں تادیر زندہ رہنےکی صلاحیت رکھتی ہی۔ ابن انشاءکی” اردو کی آخری کتاب“ ”ابنِ بطوطہ کےتعاقب میں“،” پنجاب کا جدید جغرافیہ“ جیسی کتب مزاحیہ ادبی کاوشیں ضرور ہیں۔ مگر یہ کالم پاکستانی سیاست کےخدوخال متعین کرنےاور قومی تعمیرو ترقی کےمشن کو اجاگر کرنےمیں اہم ترین اثاثہ قرار پاتےہیں۔حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نےضلع خوشاب کےایک گاو¿ں کھبیکی میں پیر محبوب عالم کےزیرسایہ اپنی زوقی و وجدانی تربیت کا آغاز کیا۔انہیں بابا سائیں نورخان سےقلبی عقیدت کاتعلق رہا۔ انہوں نےعلامہ محمد اقبال سےفن شاعری میں روحانی طور پر اخذو اکتساب کیا۔ شاعر مشرق اور قلندر لاہوری نےان کی فکری رہنمائی کافریضہ سرانجام دیا۔ جس کی وجہ سےانہوں نےنابغہ روزگار قومی شاعری کےچار مجموعےمرتب و مدون کئے،جن میں” نغمہءجبریل آشوب“، ”خواب جبریل“، اور” سوزِ جبریل“ چھپ چکےہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری کا مقصد یہ ہےکہ امتِ مسلمہ، بین الاقوامی سطح پر اتحادو اخوت کےلازوال رشتوں میں منسلک ہو کر اسلام دشمن تحریکوں خصوصا صیہونیت کےمکروہ عزائم کو نیست و نابود کر کےرکھ دی۔ وہ فتنہءدجالیت سےتہذیب مغرب کی ظاہری چمک دمک ، میزائلوں، اور اسلحےکی دوڑ، جاگیردارانہ نظام ، غاصبانہ ہرزہ سرائیوں، جیسےعنوانات کو شاعرانہ بلاغت فکر کےذریعےبیان کرتےہیں۔ وہ سیاست کےفراعین کو باربار للکارتےہیں ، گنجینہءزر کی محبت، کےقصےکو ختم کرکےفقرِ سلمان و بوذر کو دلوں میں جاگزیں کرنےکانعرہ بلند کرتےہیں۔ وہ زورِ حیدری کو اپنا کر شوکت سنجر و سلیم کےدعوےدار بن جاتےہیں۔ میں عرصہ دراز سےیہ سوچ رہاتھا کہ ہم نماز بھی پڑتےہیں۔ روزہ بھی رکھتےہیں۔ حج بھی کرتےہیں۔ مگردلوں میں عشقِ رسول پیدا نہیں ہوتا۔ آج مجھ پر یہ عقدہ وا ہوا کہ یہ دولتِ خاص ہر کس و ناکس کےمقدر میں نہیں ہی۔ اللہ تعالیٰ جن لوگوں سےمحبت کرتا ہی۔ انہیں انسانوں کی محبت عطا کردیتا ہی۔ اور جن سےسب سےزیادہ محبت کرتا ہےانہیں رسول اللہ سےمحبت عطا کر دیتا ہی۔ رسولِ اکرم کی محبت کا عملی نمونہ یہ ہےکہ ہم ان کی تعلیمات فقر کو اجاگر کریں۔ علامہ محمد یوسف جبریل انہیں منتخب لوگوں میں سےتھے جنہیں بارگاہِ خداوندی سےعشق رسول کی دولت وافر مقدار میں ملی اور وہ دین ابراہیمی علیہ السلام کی حقیقی روح کو اجاگر کرنےکےلئےبرصغیر پاک و ہند میں علمی محاذ پر کام کرتےرہی۔ ان کی مساعی ءجمیلہ نصف صدی کےزائید عرصےپر محیط ہی۔ خدا جانےوہ وقت کب آئےگا کہ یہ دنیا ان کےمشن کو سمجھےگی اور ان کی آواز پر لبیک کہنےپر تیار ہو گی۔ مگر ہم ااس کی فکر کیوں کریں؟ کہ یہ تو بنی نوع انسان کی پیدائش سےکروڑوں سال پہلےفیصلےہو چکےہیں۔ ہم نےاپنی اپنی ڈیوٹی ادا کر نی ہےاور چلےجانا ہی۔

پروفیسر محمد عارف، وائس پرنسپل، کالج ترنول ضلع اسلام آباد

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 81
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 81
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 80
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply