بابا جی عنایت اللہ اور جمہوری نظام مملکت تحریرپروفیسرمحمد عارف

بابا جی عنایت اللہ اور جمہوری نظام مملکت
تحریر : پروفیسرمحمد عارف
بابا جی عنایت اللہ اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ بابا جی نےاپنی نثری تالیفات میں صبح جمہوریت کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہی۔ وہ فرنگی سیاست کی چالبازیوں، دو قومی نظریئےاور تشکیل پاکستان جسےموضوعات پر خامہ فرسائی کرتےہیں۔ بابا جی عنایت اللہ نےاپنی نثری تالیفات میں پاکستان اور سرزمین پاکستان کےباسیوں کو اپنا موضوع بنایا ہی۔ ڈاکٹر تصدق حسین نےاپنےمضمون میں ” وہی ہےبندہ حر جس کی ضرب ہےکاری“ میں لکھا ہی:۔
”عنایت اللہ نی” آئینہ وقت“ کتاب میں زندگی کےبہت سےشعبوں پر گفتگو کرتےہوئےآئینہ وقت کو بطور خاص ان لوگوں کےسامنےرکھا ہےجن پر کسی معاشرہ کی معاشی، معاشرتی، سیاسی، مذہبی اصلاح و تبدیلی کی ذمہ داری عائید ہوتی ہی“ ۔
بشیر الدین محمود صاحب نےدرست لکھا ہی۔ کہ” آج کےپاکستان کو دیکھنا ہوتو عنایت اللہ کو دیکھ لیں، سلگتا ہوا لاوہ جو کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔غم و غصہ کا مرکب ہی۔ جانتےہیں کہ اہل پاکستان کےساتھ بہت بڑا ہاتھ ہو گیا ہی۔ وہ یہ ہاتھ توڑ دینا چاہتےہیں“۔
بابا جی عنایت اللہ لمحہءموجود میں نظریہءپاکستان کےخلاف تیزی سےنمودار ہونےوالی فکری لہر کو شدومد سےتوڑنےکےلئےشعوری طور پر کمربستہ ہیں۔ عالمی پنجابی کانفرنس کےنام پر بعض روشن خیال کالمسٹوں کےمضامین پڑھنےسےاکھنڈ بھارت کےتصورات کی طرف جھلک ذہن و شعور کو شدید ذہنی صدمےسےدوچار کرتی ہی۔ پچھلےدنوں ایک انٹرویو کمیٹی کےدوران پوسٹ گریجویٹ سطح کےطلباءکی ایک کثیر تعداد کو نظریہ ءپاکستان کےمفہوم تک سےناواقف پایا گیا۔ کیا آپ اندازہ کر سکتےہیں کہ ہمارا موجودہ نظام تعلیم اور ہمارےرہنمائےملت نئی نسل کو تحریک پاکستان کےاغراض و مقاصد اور نظریہ پاکستان کےعملی پہلوو¿ں سےکس حد تک آشنا کررہےہیں؟ یہی تو وہ مجرمانہ غفلت ہےجس کی وجہ سےسولہ دسمبر1971 ءکو سقوط ڈھاکہ کاواقعہ پیش آیا۔ ہم نےاسلامیات پڑھانےکیلئےہندو اساتذہ مقرر کر لئےہیں۔ آل انڈیا ریڈیو سروس ان محرومیوں کو اجاگر کرنےکیلئےدن رات کو شان رہی ہی۔ جنہوں نےمشرقی پاکستان کےباسیوں کےدلوں میں ایک لاوہ پیدا کر دیا۔ پڑھنےلکھےطبقےسےبحث کرنےکےدوران یہ امر بھی مترشح ہوتا ہی۔ کہ نظریہءپاکستان کا تصور ہی خدا نخواستہ مخدوش ہی۔ میرےدل پر کئی دفعہ چوٹ لگی اور میں سیخ پا ہوا کہ آخر ہم نئی نسل کو کس طرف لئےجا رہےہیں؟ انٹرمیڈیٹ میں صرف پچاس نمبر کا مطالعہ پاکستان اور بی اےمیں صرف 75 نمبر کےمطالعہ پاکستان سےیہ ضروریات ہرگز پوری نہیں ہوں گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ قاعد اعظم اور علامہ اقبال کا نظریاتی پاکستان کب دیکھنےمیں آئےگا؟ ضروت اس امر کی ہےکہ ہمارےسکولوں اور کالجوں میں تاریخ پاکستان کا سو فی صد نمبر پرچہ رکھا جائےاور تحریک پاکستان کےمختلف پہلوو¿ں پر گفتگو کےلئےتحریک پاکستان کےنامور رہنماو¿ں اور پاکستانیات کےموضوع پر کام کرنے کرنےوالےریسرچ سکالرز کو اس موضوع پر گفتگو کا موقع دیا جائی۔ تاکہ ہم اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی بطریق احسن حفاظت کر سکیں۔بابا جی عنایت اللہ کا وجود لمحہءموجود میں نعمت خداوندی سےہرگز کم نہیں کہ وہ قومی ہمدردی کےجذبےسےسرشارہو کر بےلوث خدمت کےذریعےوطن عزیز کی تاریخی صداقتوں ،جبریت اور سیاسی و فوجی شاہی مراعات کو موضوع بنا رہےہیں۔ وہ ایک ایسےمحب وطن پاکستانی ہیں کہ جنہوں نےقائد اعظم اور علامہ اقبال کےدیئےہوئےنظریہءپاکستان کےاولین پہلوو¿ں کو وطن عزیز کےہر شعبہءحیات میں جاری و ساری کرنےکاعزم کر رکھا ہی۔ مجھے بالکل یاد نہیں پڑتا کہ تاریخ پاکستان کی چند درسی کتابوں کےعلاوہ اس موضوع پر کسی نےسیر حاصل گفتگو کی ہو۔ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نےپاکستان کےسیاسی اور ثقافتی عوامل پر ایک مقالہ ضرور لکھا ہی۔ مگر وہ بھی بہت ہی اختصار پسندی اور جزیات نگاری کا شکار ہی۔ ڈاکٹر اسرار احمد کارحجان صرف علمی مباحث اور تاریخی استدلال تک ہی محدود ہی۔ وہ تحریک پاکستان میں علماءکرام کےکردار اور بزرگان دین کی خدمات سےصرفِ نظر کر گئےہیں۔ پچھلےدنوں فقیر کی نظرسےجناب صابر حسین بخاری صاحب کی ایک کتاب ” قائد اعظم بارگاہ رسالت مآب میں “، گزری تو طبیعت باغ و بہار ہو گئی کہ فاضل محقق نےبعض پڑھےلکھےعلماءکےجمہوری سیاسی نظریات پر تنقید ہی نہیں کی بلکہ نظریہ ءپاکستان ، قاعد اعظم محمد علی جناح، تحریک پاکستان کےتاریخی تناظر جیسےموضوعات پر سیر حاصل گفتگو بھی کی ہی۔بابا جی عنایت اللہ کی کتب اسلامی جمہوریہ پاکستان کو داخلی استحکام، ترقی و خوشحالی، مغربی جمہوریت کی غاصبانہ تسلط جیسےموضوعات کو بتدریج احسن اجاگر کرتی ہیں۔ وہ تعمیر وطن کےجذبےسےسرشار ہیں۔ ان کےلفظ لفظ میں وطن کی محبت کروٹیں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہی۔ وہ ایک ایسےاسلامی انقلاب کےدعوےدار ہیں کہ جس میں عدلیہ آزاد ہو ، قانون کی حکمرانی ہو، زندگی کےہر شعبےمیں اسلامی تعلیمات کی حقیقی جھلک نظر آ سکی۔ سیاسی اور فوجی مراعات یافتہ طبقےپر ان کا دل خون کےآنسو روتا ہی۔ تاریخ پاکستان کےارتقائی مطالعےمیں عنایت اللہ کا نام سر فہرست ہو گا کہ انہوں نےجابر سلطان کےسامنےکلمہءحق سربلند کیاہےجس کےلئےجرات رندانہ کی ضرورت ہوتی ہی۔ بابا جی عنایت اللہ جیسےبزرگ بار بار پیدا نہیں ہوتی۔ جن کےدل میں اسلام اور پاکستان کےباسیوں کی محبت ٹھاٹھیں مار رہی ہو۔ جو تحریک پاکستان میں ماو¿ں،بہنوں، بیٹیوں کی بےمثال قربانیوں کا ذکر کرتےہوئےزاروقطار رو پڑتا ہو جس کی پیراسالی میں آنےوالی ہر رات سولہ کروڑ عوام کی محرومیوں، ان کےدکھ درد اور مسائل کی یاد سےمامور ہو، جس کےسینےمیں سینکڑوں زخم آ چکےہوں۔ جس کا دل 16 دسمبر 1971ءکے سانحےمیں ابھی تک اٹکا ہوا ہو۔ جو اسی فی صدعوام کی زندگی کےکرب ناک مسائل کامقدمہ ہاتھوں میں اٹھائےہوئےسربگیریاں کھڑا ہو۔ ہمیں ان کی پکار پر لبیک کہنا ہو گا۔
اللہ کرےزور قلم اور زیادہ
پروفیسر محمد عارف وائس پرنسپل، ترنول کالج، ترنول، ضلع اسلام آباد


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 84
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 80
    بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات تحریر : محمد عارف یہ جون کی ایک کڑکتی ہوئی دوپہر تھی کہ جب میرےمحترم دوست شوکت محمود اعوان (واہ کینٹ) نےمجھےبتایا کہ میرےایک دوست (سعید صاحب ) ٹریول لاج ، ٥ سڑکی پٹرول پمپ ، سکالر کالج ، پی سی ہوٹل کےنزدیک صدر…
  • 78
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply