بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات تحریر محمد عارف

بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات
تحریر : محمد عارف
یہ جون کی ایک کڑکتی ہوئی دوپہر تھی کہ جب میرےمحترم دوست شوکت محمود اعوان (واہ کینٹ) نےمجھےبتایا کہ میرےایک دوست (سعید صاحب ) ٹریول لاج ، ٥ سڑکی پٹرول پمپ ، سکالر کالج ، پی سی ہوٹل کےنزدیک صدر کےاندر گلی پنجاسیک، بمقام صدر راولپنڈی میں بابا جی یحییٰ خان تشریف لائےہیں۔ مجھےاپنی ڈیوٹی پر مجبوراََ جاناہےاور آپ چونکہ آجکل تعطیلات پر ہیں لہذا علامہ محمد یوسف جبریل کی کچھ کتب بھی لیتےجائیں اور بابا جی محمد یحییٰ خان سےملاقات کا شرف بھی حاصل کریں۔ میں خود بھی یہ چاہتا تھا کہ کوئی ایسی صورت بنےکہ بابا جی محمد یحییٰ خان صاحب سےملاقات ہو جائی، مگر ایسا ممکن نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نےاس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی تحریر کردہ دو کتب سمیت راولپنڈی صدر کےدفتر میں پہنچ گیا جہاں پر بابا جی ٹھہرتےتھےاور اس کا علم شوکت محمود اعوان کو تھا۔جب صدر راولپنڈی اترا تو سورج کی تپش نےپورےماحول کو بھسم کر رکھا تھا۔ گرم لو کےتھپیڑےاور موسم کی تمازت بدن کو غرقاب کئےجا رہی تھی۔ مگر میں پوچھتا پچھاتا ٹریول لاج کےدفتر پہنچ گیا۔ مگر میری ظاہری حالت دیدنی تھی۔ سر سےپاو¿ں تک پسینےمیں شرابور تھا، ہانپتا ،کانپتا ،گرتا پڑتا لڑ کھڑاتا ہوا جناب سعید صاحب سےجا ملا۔ انہیں اپنا تعارف کروایا کہ آپ سےشوکت اعوان صاحب نےفون پر بات کی ہی۔ اور میں بابا جی سےملنا چاہتا ہوں اور کتابیں بھی لایا ہوں جو ان کو پیش کرنی ہیں۔ میں نےان سےپوچھا کہ بابا جی محمد یحییٰ خان کس کمرےمیں ٹھہرےہوئےہیں؟
سعید صاحب نےسوال کیا کہ” کیا آپ نےبابا جی سےملاقات کا وقت لیا ہوا ہی“؟ کیوں کہ ان سےملاقات کےلئےپہلےوقت لینا پڑتا ہی۔
میں نےجواب دیا کہ” نہیں۔ مجھےپتہ چلا اور میں آ گیا ۔آگےآپ کی مرضی۔اگر مجھےملاقات کا موقع مل جائےتو میں آپ کا شکر گذار ہوں گا“۔ مجھےانہوں نےصرف اتناکہا کہ” وہ فلاں کمرےمیں ٹھہرےہوئےہیں۔ آپ قسمت آزمائی کر لیں۔ اگر ملااقات ہوئی تو ٹھیک ورنہ میں اس سلسلہ میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا“۔ میں کتابوں کا تھیلا اٹھائےہوئےمتعلقہ کمرہ کےدروازےپر جا پہنچا اور دستک دی ۔ دروازہ کھلا اورایک باریش نوجوان نےمیرا استقبال کیا ۔میں نےاپنا مدعا بیان کیا، تو وہ مجھےاندر لےگیا۔ میری ہئیت کذائی اور مخبوط الحواسی دیکھ کر سب لوگ حیران ہو گئی۔ میں نےسلام کیا اور اندر آ نےکی اجازت طلب کی۔ اس پر بابا جی یحییٰ خان نےمیرا استقبال کیا اور انتہائی خوشی سےمجھےاپنےپاس بٹھایا۔ آپ ایک ایسےبیڈ پر نیم دراز تھےجو بظاہر انتہائی قیمتی تھا ،مگر وہ خود ایک درویشانہ قلندرانہ سیاہ لباس میں ملبوس ما فوق الفطرت شخصیت نظر ا رہےتھی۔ جسےیہ لباس استراحت بالکل پسند نہ ہو۔ اور وہ احتیاج و تقاضا کےتحت اس پر نیم دراز ہو۔ ایک نوجوان ان کےپہلو میں ان کا بدن داب رہا تھا۔ جب کہ دو اور نوجوان بھی کمرےمیں موجود تھی۔ حیرت کی بات یہ ہےکہ یہ سب لوگ سیاہ لباس میں ملبوس تھےاور مجھےیہ محسوس ہواکہ جیسےمیں کسی ماتمی جلوس میں آ گیا ہوں، مگر سیاہ رنگ میں وہ کشش بھی محسوس ہوئی کہ مجھےاپنا وجود اس سیاہ رنگ میں تحلیل ہوتا دکھائی دیا۔ میں تھوڑی دیر کے بعد ماحول کےسانچےمیں ڈھل چکا تھا۔ بابا جی یحییٰ خان نےسب سےپہلےمجھےکوک پلایا۔ جس سےمیری گرمی کی شدت میں کمی ہو گئی اور میرےحواس بحال ہوئی۔ بابا جی یحییٰ خان نےپوچھا ۔کہ” آپ کہاں سےآئےہیں “؟ میں نےجواب دیا کہ” ٹیکسلا سےآیاہوں“۔ بابا جی نےپوچھا کہ” کیا آپ نےمیری کتابیں پڑھی ہیں“۔ میں نےجواب دیا کہ” کوئی نہیں“ ۔ تو کہنےلگےکہ حیرت ہےکہ” آپ نےمیری کتابیں بھی نہیں پڑھیں اور مجھ سےملنا بھی چاہتےہیں“۔میں نےجواب دیا کہ’ میں نےآپ کےبارےمیں سن رکھا تھا اور مجھےملنےکا اشتیا ق تھا ۔ لہذا میں رہ نہیں سکااورآ گیا ۔ فرمانےلگےکہ” اگر آپ میری کتابیں پڑھ لیتےاور لےآتےتو میں ان پر دعا لکھ دیتا۔ چلیں ۔ آپ ضرور پڑھیئےگا اور جب پڑھ لو گےتو پھر آپ سےملاقات ہو گی۔ میں آپ کےپاس ٹیکسلا ضرور آو¿ں گا۔ کیوں کہ مجھےوہاں کےآثارقدیمہ، جیولین یونیورسٹی اور سرسبز و شاداب فضا سےایک انس ہے۔ میں تم سےضرور ملوں گا“۔ اس کےبعد بولے۔”کیا آپ نےمجھ سےملاقات کےلئےوقت لیا ہی؟ میں نےکہا کہ” نہیں“ تو کہنے لگے” کہ کوئی بات نہیں۔ آپ تسلی سےبیٹھیں اور خوب جی بھر کر باتیں کریں ،جو کچھ مرضی ہےپوچھیں ،مگر مجھےپڑھےلکھےلوگوں سےڈر بہت لگتا ہی، کیوں کہ وہ ایسےعجیب و غریب سوالات کرتےہیں۔ جن کےمجھےجواب نہیں آتی۔ ”ویسےآپ کرتےکیا ہیں“؟۔ میں نےجواب دیا کہ” پڑھاتاہوں“ ۔ فرمانےلگےکہ ”سکول میں چھوٹےبچوں کو پڑھاتےہو“۔ میں نےکہا” بڑےبچوں کو کالج میں پڑھاتا ہوں“۔ فرمانےلگےکہ” اس کا مطلب ہےآپ پڑھےلکھےہیںاور پڑھےلکھےلوگوں کےسوالات سےمجھےکوفت بھی بہت ہوتی ہی۔ اس لئےمیں ان لوگوں سےکم ملتا ہوں۔ مگر خیر عام پڑھےلکھےہونےمیں اور لکھےپڑھےہونےمیں بڑا فرق ہوتا ہےبیٹا۔ مجھےیہ سمجھ نہیں ہےکہ پڑھا لکھا کیا ہوتا ہی۔ مگر میں لکھا پڑھا ضرور ہوں۔ میں نےاپنی تینوں کتابیں ایک غیر مرئی اور طلسماتی حصار میں لکھی ہیں ،جو ماءبعدالطبیعیات روحانی فضا سےجنم لیتاہی۔ میں اپنی تمام شہرت نام و نمود اور تصنیف و تالیف کو بانو قدسیہ اماں جان اور اشفاق احمد کےنام معنون کرتا ہوں، جن کی دعاو¿ں، رحمتوں اور برکتوں کی وجہ سےمجھےیہ عزت اور نیک نامی حاصل ہوئی ہی۔ مجھےخود سمجھ نہیں آتا بیٹا کہ میں کیسےلکھتا ہوں؟۔ مجھےیوں محسوس ہوتا ہےکہ جیسےاچانک میرےارد گرد کوئی حصار سا بن گیا ہےاور میں اس کیفیت میں ہزاروں، لاکھوں صفحات لکھ لیتا ہوں۔ مگر جب یہ حصار ہٹتا ہےتو میں وہی ہوتا ہوں جو میں پہلےہوتا ہوں۔ کیا آپ ان باتوں کو سمجھ رہےہیں۔ میں نےجواب دیا کہ” جی ہاں میں سمجھ رہا ہوں“۔ کہنےلگے۔” بیٹا میری کتابوں کو ضرور پڑھنا ۔ اس سےآپ کو حقیقت تک رسائی اور وجدان و شعور کی منزل نصیب ہو گی۔ مجھےتم سےضرور ملنا ہی۔ ابھی بازار میں جاو¿ اور صدر سےمیری کتاب لےلو۔ دیر نہ کرو۔ آپ دیکھیں گےکہ اپ کےاندر کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہی۔ یہی تو وہ پراسراریت ، ماورائیت اور وجدان کی تبدیلی ہےجو میں آپ جیسےپڑھےلکھےلوگوں میں دیکھنا چاہتا ہوں۔یقینا یہ کتابیں اسی کی سمجھ میں آتی ہیں جس کو کسی کالےنےڈس لیا ہو جو کسی کی نظر کا محبوب ہو“۔ میں چونکہ خود درویشوں، فقیروں، جوگیوں، اور سادھوو¿ں سےایک دلی عقیدت رکھتا ہوں اور سلسلہ ءطریقت میں مشائخ اکابرین کےروحانی سلسلےقادریہ زنجانی سےوابستہ ہوں۔ پس اس لئےمجھےان باتوں کا کچھ نہ کچھ شعور تو تھا ۔میںنےمحسوس کیا کہ بابا جی محمد یحییٰ خان نےمجھ پر باطنی توجہ کی اور میرےاندر کی قلب ماہیت ہونا شروع ہو گئی۔میں نےبابا جی محمدیحییٰ خان کی طرف فرطِ شوق اور فرطِ محبت سےدیکھا اور پہلےاپنی لکھی ہوئی دو کتابیں ” تجھےگر فقر و شاہی کا بتادوں“ اور ”کن فیکون“ پیش کی۔” تجھےگر فقر و شاہی میں“ ایک مقام پر بابا جی محمد یحییٰ خان کا ذکربھی تھا جو کہ میں نےان کو دکھایا۔ تو باباجی بہت خوش ہوئےاور فوراََ اپنےشاگردوں یاعقیدت مندوں میں سےایک کوپکارا اور کہا کہ” ادھر آو¿ اور دیکھو کہ عبدالرحیم کا ذکر اس کتاب میں آیا ہی۔ اور ہو سکتا ہےکہ کل آپ کا ذکر بھی آ جائی“۔ کتاب کےٹائیٹل پیج پر تبصرہ کرتےہوئےانہوں نےفرمایا کہ” اگر مہر نبوت وسط کی بجائےسر فہرست ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ بہر حال کتاب اچھی چھاپی گئی ہی“۔ اس کےبعد میںنےعلامہ محمد یوسف جبریل کا تعارف کروایا اور ان کی چند کتابیں پیش کیں ،کہ یہ بزرگ دنیا سےپردہ فرما گئےہیں ۔ ان کی کچھ یادگار تصانیف موجود ہیں جو میں آپ کےلئےلایا ہوں۔ جو کہ انہوں نےفرطِ شوق سےقبول کر لیں۔ بعد ازاں میں نےدعا کی درخواست کی تو فرمانےلگی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھےاور آپ کےدرجات کو بلند فرمائی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مشکلات کو آسان کرےاور آپ کےعلم میں اضافہ کرے“۔میں نےعرض کیاکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کی شخصیت اورآپ کےفکر و فن کےحوالےسےکچھ نہ کچھ احاطہ تحریر میں لاو¿ں۔ جس پربابا جی بہت خوش ہوئےاور انہوں نےمجھےاپنےپی ٹی وی پر ہونےوالےانٹرویو کی ایک کیسٹ اور اپنا ذاتی کارڈ مرحمت بھی فرمایا۔ کہ جب اور جس وقت چاہو مجھ سےبات کر لیا کرو۔ مگر میں کشا کش زمانہ اور گردش دوراں کےہاتھوں چکی کی مشقت میں اپنےو جود سےبھی کٹ کر رہا گیا ہوں۔ معاشی مسائل، نجی زندگی کی الجھنیں اور گھمبیر مسائل نےفرصت ہی نہ دی کہ ان سےبات ہو سکتی۔ مگر کون کہتا ہےکہ ان سےبات نہیں ہوئی۔ وہ تو ہر وقت میرےتصور میں ہوتےہیں اور میں ان سےباتیں کرتا رہتا ہوں۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ میں نےنہ صرف اس کےبعد ان کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا بلکہ دیکھتےہی دیکھتےمیرا پورا گھر ان کا دیوانہ ہو گیا ۔ میر ی بیٹی رابعہ نےان کی دونوں کتابیں پڑھ لی ہیں اور اس کی ہمیشہ مجھ سےیہ بحث رہتی ہےکہ باقی کتابیں کب لےکر آئیں گی۔رابعہ نےنہ صرف بابا جی کو پڑھ لیا ہےبلکہ ان کی وہ تمام کوٹیشنز ازبر کر لی ہیں۔ جو شاید مجھےبھی نہیں آتیں۔ وہ مجھ سےزیادہ مہارت سےیا بابا جی محمد یحییٰ خان کی پر اسراریت ، ہمہ گیریت اور جامع العلومیت پر گرفت رکھتی ہی۔ اس کا اسرار ہےکہ میں اسےبابا جی کےپاس لےکر جاو¿ں مگر بقولِ غالب
مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں ایک چکر ہےمیرےپاو¿ں میں زنجیر نہیں
مجھےہر دفعہ رابعہ سےشرمندگی محسوس ہوتی ہی۔ شائید میں کبھی اسےبابا جی سےملا بھی سکوں اور تو اور میری رفیقہ حیات نےبھی بابا جی کی وہ تمام کتابیں پڑھ لی ہیں جو میں اپنےلئےلےکر آیا تھا۔ اسکا بھی اصرار ہےکہ کب ملاقات کی صورت بنی۔
روحانی علوم اور فقر پر جیسےدسترس بابا جی محمد یحییٰ خان کو حاصل ہےبہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہی۔ قرة العین حیدر کےناول” آگ کا دریا “کےبعد بابا جی محمد یحییٰ خان کا ”پیا رنگ کالا “اور”کاجل کوٹھا“ جیسی کتب صدیوں کی تاریخ پر مشتمل ہیں۔ یہ وہ کتابیں ہیں کہ جن میں انسان کےوجود کی روحانی واردات بیان ہوئی ہی۔ وہ ان کتابوں کےذریعےوجدان و شعور اور عرفان و آگہی کےفروغ کےلئےمختلف علوم سےاستفادہ کرتےہوئےنظر آتےہیں۔ممتاز مفتی کی کتاب” علی پور کا ایلی“ اور قدرت اللہ شہاب کی کتاب” شہاب نامہ“ کےبعد روحانی واردات کا یہ سفر دراصل ایک انسائیکلوپیڈیا ہی، جس کےذریعےانسان کےباطن کی تاریخ کو پڑھا جا سکتاہی۔ آج ملک بھر مینںغالباََ بابا جی محمد یحییٰ خان سب سے زیادہ پڑھےجانےوالےرائیٹر ہیں، جن کی تحریریں پوری دنیا میں بہت پسند کی جاتی ہیں۔ کیوں کہ یہ تحریریں ان کی نہیں ہیں بلکہ کہیں اور سےآتی ہیں مگر ان باتوں کو سمجھنےکےلئےایک خاص قسم کی روحانی تربیت کی ضرورت ہوتی ہی۔ موجودہ دور کےعلوم وفنون کی ترقی اور سائنسی ارتقا نےانسان کو کتابی علم تک محدود کر دیا ہی۔ جس سےاسےحقیقت کا عرفان نہیں حاصل ہو سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ علم وہبی تک رسائی کی جائی۔ اور ان بابوں کو تلاش کیا جائےجو انسان کےباطن میں تغیر و تبدل برپا کر سکتےہیں۔ یہ وہ بابےہیں جولفط ”کن“ کےذریعےانسان کی نفسی اور عصبی بیماریوں کو نہ صرف دور کر سکتےہیں بلکہ اسےصراط مسقیم پر بھی گامزن کر دیتےہیں۔ قطب ارشاد اور ہوتا ہےاور قطب ربانی اور ہوتا ہےبابا جی محمد یحیٰی خان جیسےلوگ نگاہ سےقلوب کو صیقل کرتےہیں اور ان کی کتابیںانسان کو ماورائےعصر خوشبو سےہمکنار کر دیتی ہیں۔ آجکل کےدور میں ہمیرا احمد کےناول ”پیر کامل“ اور” زندگی گلزار ہے“ لاکھ مقبول صحیح مگر بابا جی محمد یحییٰ خان کی جگ بیتی دراصل آب بیتی ہی۔ اور انہوں نےاپنےروحانی سفر کےدوران پیش آنےوالےتمام کٹھن مراحل اس لئےصفحہ قرطاس پر رقم کر دیےہیں تاکہ کھوئےہوئےقافلےکو منزل تک پہنچنےمیں آسانی ہو جائی۔ بابا جی جانتےہیں کہ انسان کا سارا سفر لاحاصلی ہےمگر کامیاب لوگ وہ ہیں جو خدا کےمستحب بزرگان دین کےنقش قدم پر چلتےہیں۔ یہی وہ ان دیکھی دنیائیں اور پر اسرار جہان ہیں کہ جو انسان کو ایک میکانکی عمل سےگذار کر نیورالوجی ، فزیالوجی اور اٹانومی اور فزکس کےاصولوں کےتحت زندگی گذارنےپر آمادہ کرتےہیں۔ یہی وہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت ہےجو وحدت الوجود یت میں بین السطور مضمر ہی۔ باباجی محمد یحیٰی خان قطرےمیںدریا اور جزو میں کل دیکھنےاور دکھانےکےقائل ہیں ۔۔۔بقولِ اقبال
اگر کوئی شعیب آئےمیسر شبالی سےکلیمی دو قدم ہی
جدید دور کےمایہ ناز سائنس دان، مفکر علامہ محمد یوسف جبریل کےفلسفہ اٹامزم میں نیوکلس دراصل توحید کا وہ نکتہ ہےکہ جس کی طرف وہ کائنات کےاجزائےترکیبی کو متشکل ومنعکس کرنا چاہتےہیں۔ محی الدین ابن عربی نےبھی اسی وحدت الوجودیت کا پیغام فصوص الحکیم میں دیا ہےجیسا کہ علامہ اقبال کی شاعری میں اسی نیوکلیس کا ذکر کرتےہیں جس میں وہ فرماتےہیں۔” لہو خورشید کا ٹپکےاگر ذرےکا دل چیریں“۔مولناٰ روم ہوںِ امام غزالی ہوں، ابنِ رشد ہوں یا ابنِ سینا ہوں، حافظ شیرا زہوں یا سعدیءزمان، سب کےسب قطرےمیں دجلہ دیکھتےہیں۔ بابا جی نےبھی در اصل اپنےآپ کو علم و عرفان کےسمندر میں گم کر دیا ہی۔ وہ بھی اسی ذاتِ مطلق کےحصار میں مقید ہیں جو انسان کو اپنےنیوکلیس میں سفر کرنےپر آمادہ رکھتی ہی۔ اللہ کرےکہ ہم مختلف سیارچوں میںبسر کرنےوالےمسافر اپنےمداروں سےنکل کر اس کہکشاں کی طرف آ جائیں جہاں کا نیوکلس ہمیں اپنی طرف بلا رہا ہی۔
(محمد عارف ٹیکسلا)


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 80
    ”کن فیکون“ پر خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کا تبصرہ ”کن فیکون“ نامی کتاب تحریر محمد عارف میں ملک شوکت محموداعوان نےمندرجہ مضمون میں اپنےوالد محترم کی شخصیت کےمختلف پہلو اجاگر کئےہیں۔ بہر حال شوکت محمود اعوان کو یہ اعزاز حاصل ہےکہ انہوں نےاپنےوقت کےعظیم دانش ور کی خدمت کا…
  • 80
    بابا جی عنایت اللہ اور جمہوری نظام مملکت تحریر : پروفیسرمحمد عارف بابا جی عنایت اللہ اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ بابا جی نےاپنی نثری تالیفات میں صبح جمہوریت کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہی۔ وہ فرنگی سیاست کی چالبازیوں، دو قومی نظریئےاور تشکیل پاکستان جسےموضوعات پر خامہ…
  • 77
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply