تصوف کی طاقت تحریر شوکت محمود اعوان

تصوف کی طاقت
تحریر: شوکت محمود اعوان
علامہ محمد یوسف جبریل فرماتےہیں :۔
” ادھر چین ری ایکشن ہوا۔ ادھر ہم کو تیار کر دیا“۔ مزےکی بات یہ ہےکہ علامہ جبریل صاحب کسی بھی یونیورسٹی کےسٹودنٹ نہیں اور نہ ہی انہوں نےکسی کالج یونیورسٹی سےسائنسی تعلیم حاصل کی بلکہ جو کچھ حاصل کیا۔ بظاہر تو ان کا اپنا ذاتی مطالعہ لگتا تھا۔ لیکن اپنےذاتی مطالعےمیں وہ کوئی غلطی بھی کر سکتےتھے،سائنس اور قرآن حکیم کو سمجھنا بہت مشکل ہی۔ لیکن ایک طاقت ان کےساتھ رہی۔ جو ان کو حقائق سےآگاہ کرتی رہی۔ یہ طاقت انہیں حالات حاضرہ کو سمجھنےاور صحیح حقائق پیش کرنےمیں ہمیشہ مددگار رہی۔ وہ خود بھی کہتےتھےکہ ایک ہمہ گیر روحانی طاقت ہر وقت ان کےساتھ براجمان رہی ہےجو کہ میری ہرجگہہ راہنمائی کرتی رہی ہی۔ اور مجھےدنیا کی طرف راغب نہیں ہونےدیا اور میں اپنےمشن پر قائم رہا۔۔ وہ ہر وقت غوروفکر میں رہتےتھےاور بعض دفعہ یہ سلسلہ بہت طویل ہو جاتا تھا۔ کئی کئی دن ایک ایک موضوع پر سوچتےرہتےاور پھر اسےصفحہءقرطاس پر لکھتی۔ بعض دفعہ بڑےانجانےواقعات بھی پیش ہوتی۔ باہر نکلتےتو گلی میں چلتےہوئےاپنےآپ سےعربی ، فارسی اور انگریزی زبان میں باتیں کرتی۔ جس میں بعض دفعہ پنجابی بھی شامل ہوتی۔ کسی بھی شخص کو اپنےپاس پھٹکنےنہ دیتی۔ جنگلوں میں نکل جاتےاور بیٹھ کر باتیں کرتےرہتی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ ایک شخص لاہور سےتشریف لائی۔ ان کےپاس ایک گاڑی تھی۔ جو انہوں نےملک آباد علامہ صاحب کےگھر کےسامنےکھڑی کی اور اندر آئی۔ میں ساتھ ساتھ تھا۔ انہیں میں نےبیٹھک میں بٹھایا۔ تو میںساتھ والےخالی پلاٹ میں گیا۔ جہاں علامہ صاحب بیٹھےتھی۔ مٹی کےایک ٹیلےپر باادب بیٹھےکسی ان جانی شخصیت سےمحو گفتگو تھی۔ سامنےکوئی شخصیت موجود نہ تھی۔ لیکن باتیں ہو رہی تھی۔ میں نےکہا۔ کہ ابا جی! کوئی شخص لاہور سےآپ کو ملنےآئےہیں۔ تو انہوں نےمیری طرف کوئی توجہ نہ دی۔ بلکہ باتوں میں محو رہی۔ سوال و جواب کا ایک سلسلہ تھا۔ جو جاری رہا۔ میں نزدیک گیا تو نہایت تکلیف دہ اور ناراضگی کا اظہار کرتےہوئےکہا کہ ہاں کیا بات ہی۔ تو میں نےکہا کہ کوئی صاحب لاہور سےتشریف لائےہیں ۔اور آپ سےملنا چاہتےہیں۔ تو انہوں نےکہا کہ ان کو بیٹھک میں بٹھائیں اور چائےپلائیں۔ میں نےوالدہ کو کہا کہ وہ چائےکا ایک کپ بنائیں۔ تو انہوں نےچائےبنائی اور میں نےمہمان کو پلائی۔ پھر وہ شخص کہنےلگا کہ کیا علامہ صاحب مجھ سےملنا نہیں چاہتےکیوں کہ کافی دیر ہو گئی ہےاور وہ تشریف نہیں لائی۔ تو میں نےانہیں کہا کہ بس تھوڑا انتظار کر لیں۔ ابھی آنےوالےہیں۔ وہ آدمی علامہ صاحب کےمزاج اور طبیعت سےناواقف تھا۔ دوبارہ علامہ صاحب کےپاس میںچلاگیا۔ تو انہوں نےکہا کہ ان کو چائےپلائیں۔ حالانکہ وہ ایک کپ سےزیادہ کسی کو بھی چائےنہیں پلاتےتھی۔ جب میں دو بارہ گیا تو کہا کہ ان کو چائےپلائیں۔ غرض وہ آدمی پریشان ہو گیا۔ اور اس کےبعد علامہ صاحب بیٹھیک میں آئےاور مصافحہ کےبعد علامہ صاحب نےان سےکوئی بات نہ کی ۔اور مخاطب آدمی کو دیکھ کر کہاکہ ہاتھ ا ٹھائیں جس مقصد کےلئےآپ تشریف لائےہیں۔ علامہ صاحب نےدعا شروع کی کہ یا اللہ ! یہ شخص بہت دور سےمیرےپاس آیا ہےاور بہت ساری توقعات لےکر آیا ہی۔ کچھ اس مہمان کی مادی ضروریات ہیں جس کےلئےمیں آ پ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا رہا ہوں۔ یا اللہ اس کےپاس پرانےماڈل کی ایک گاڑی ہےاس کی خواہش ہےکہ اسے نئی گاڑی مل جائی۔اےرب العلمین اس کو نئی گاڑی عطا کر دی۔ تیرےپاس تو گاڑیوں کی کچھ کمی نہیں۔ پھر یا اللہ اس کو لاہور میں کچھ جگہہ کی ضرورت ہےتو اسےوسیع زمین عطافرمادی۔ تیرےپاس تو زمین کی کمی نہیں۔ اس کا ایک بیٹا باہر ملک تعلیم حاصل کرنےکےلئےگیا ہوا ہےتو اسےکامیاب و کامران بنا۔ دعاختم کرتےہوئےسامنےوالےآدمی سےسوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا اور بھی کوئی حاجت ہے؟تو وہ شخص حیران ہو گیا کہ یہی سوالات اور ضروریات تھیں جس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں۔ بابا جی نےپوچھا۔ چائےپی لی ہےتو انہوں نےجواب دیا کہ ہاں پی لی ہے۔ توفرمانےلگےکہ اچھا اب آپ جا سکتےہیں لیکن آئندہ تشریف نہیں لانا۔ وہ شخص بہت پریشان ہوا۔ کہ علامہ صاحب کا ایسا سخت رویہ کیوں ہے۔ وہ آدمی جب ہمارےگھر سےنکلا تو میں ساتھ تھا ۔کہنےلگا کہ جو حاجات لاہور سےلےکر آیا ہوں وہ علامہ صاحب نےپوچھی تک نہیں لیکن میرےتمام مسائل انہوں نےدعا میں شامل کئےہیں وہی میرےمسائل ہیں۔ مہمان نےمجھ سےکہا کہ ا پ بہت خوش نصیب ہیں کہ اتنےبڑےفقیر و درویش کےگھر پیدا ہوئےہیں۔ میں نےانہیں کہاکہ درویش تو موم بتی کی مثل ہوتاہےکہ خود جلتا ہےاور لوگوں کو روشنی دیتا ہی، خود وہ سکھ میں نہیں رہتا۔ علامہ صاحب نےزندگی مصائب میں گذاری ہےجس کا اظہار مشکل ہی۔ سارا دن غوروفکر اور لکھنےمیں گزرتا ہےاور رات ساری وہ عبادت میں ریاضت میں گذارتےہیں۔ پہاڑوں پر چلےجاتےہیں۔ پانی میں چلہ کرتےہیں۔ ساری ساری رات دسمبر کےمہینوں میں وہ سرپانی میں چلہ کرتےہیں۔ زہر کھاتےہیں۔ کالی جیری استعمال کرتےہیں جو زہر ہوتی ہی۔ اکثر گھر میں فاقےرہتےہیں۔ گھر کی آمدن تو ہےنہیں مجبورا ہمیں نوکری کرنا پڑ رہی ہی۔ اور وہ چلہ کشی اور لکھنےپڑھنےمیں مصروف رہتےہیں۔
(شوکت محمود اعوان جنرل سیکرٹری ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان )


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 71
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…
  • 69
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 68
    حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان 1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply