توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں تحریر سید احمد علی شاہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o

توحید اور تولید

قرآن و سنت کی روشنی میں
(ایک تقابلی جائزہ )

پیش لفظ

ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہےتا کہ یہ میرےوالد سید کریم علی شاہ (مرحوم) کی مغفرت و ایصال ثواب کا ذریعہ بن سکےاور ان کےخاندان سےوابستہ تمام افراد سمیت ان لوگوں کےلیےجو اس جہانِ فانی سےجا چکےہیں ان کی مغفرت کےلئےآج ہاتھ اٹھانےوالا کوئی نہیں اور ہم سب اہل دنیا کےلئےآخرت میں موجبِ نجات ثابت ہو۔ (آمین)

مصنف و قابل دعا
سید احمد علی شاہ
سٹوڈنٹ ایم اےاسلامیات (پنجاب یونیورسٹی)
توحید رحمٰن اور تولید انسان
زمانہ اس بات پر گواہ ہےکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی خالص توحید انسانیت کےبیان سےباہر رہی ہی۔ انسان اپنےارتقاءہی سےتوحید کےمعاملےمیں تعجب کا شکار رہا ہی۔
انسان نظام تولید کےمعاملےمیں بھی حرص و بخل سےکام کرتا ہی۔ جب بھی کوئی نومولود دنیا میں آتا ہی۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپےمیں مندرجہ ذیل خواہشات کا حامل ہوتا ہے۔ بچپن میں کھانےپینےکی شہوت، جوانی میں نظر کی شہوت اور بڑھاپےمیں عزت و حکومت کی شہوت میں مبتلا ہو کر دارِ فانی سےکوچ کر جاتا ہی۔
آئیی! ہم پہلےتولید انسان کےموضوع کا جائزہ لیتےہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نےانسان کو تولید کےمعاملات شعو ری طور سمجھا دیئےہیں۔ان معا ملات کو سمجھنےکےلئےاسےکسی کتاب، افسا نہ یا کہا نی پڑھنےکی ضرورت نہیں ہی۔اتنا ضرور ہےکہ تو لید کا حجاب لذت سےبھر پور ہےاس میں تفریح بھی ہےاور مزاح بھی اور اگر وقت کی قدر نہ ہو تو فلم، ڈرامہ یا ڈائجسٹ وقت کو گزارنےکےلیےبڑی آسانی فراہم کرتےہیں اور اگر تھکاوٹ محسوس ہو تو ایک سےبڑھ کر ایک گلوکار یا گلوکارہ موجود ہی، حسین سےحسین آواز کا جادو ہمارےکانوں میں رس گھول دیتا ہی۔ پھر ہمیں بڑی ہی میٹھی نیند میسر آجاتی ہی۔
پھر اگلی صبح کا سورج ہمیں بستر کی قبر سےاٹھنےپر مجبور کر دیتا ہےپھر باتھ روم جانا، ٹوتھ پیسٹ یا مسواک سےدانتوں کو مانج کر منہ پر صابن کی تہہ جما کر پانی کےٹھنڈےچھینٹےمار کر بیزاری سےناشتہ کرنا ہمارا معمول ہےاور یوں ہمارا دن شروع ہوا۔ سارا دن لوگوں کو دیکھنا پڑتا ہےکوئی ہنس رہا ہےتو کوئی رو رہا ہی۔ کوئی سائےمیں ہےتو کوئی دھوپ میں ۔ کوئی ننگا ہےتو کوئی کپڑوں والا کوئی امیر ہےتو کوئی غریب۔ کوئی ہندو ہےتو کوئی سکھ۔ کوئی مسلمان ہےتو کوئی کافر کوئی دعا دےرہا ہےتو کوئی گالی۔ کہیں سےخوشبو آتی ہےتو کہیں سےبدبو۔ کسی طرف سےکوئی نیک شخصیت ملتی ہےتو کہیں سےبد شخصیت۔ کسی کا اعلانِ وفات ہو رہا ہےتو کہیں کسی کےگھر میں پیدائش ہو رہی ہی۔ کوئی جھاڑو مار رہا ہےتو کوئی گٹر صاف کر رہا ہی۔ کسی کا چہرہ خوبصورت ہےتو کسی کا بدصورت۔ کہیں سےشہزادیاں طلوع ہوتی ہیں تو کہیں سےنوکرانیاں۔ کہیں سےشہزادےآتےہیں تو کہیں سےلکڑ زادےصبح کےوقت سورج صاحب نماز پڑھواتےہوئےشام طلوع کر جاتےہیں اور پھر کالی رات بھی تو نماز پڑھواتی ہی۔ پھر کہیں سےگانےکی آواز آتی ہےتو کہیں سےقوالی کی۔ کوئی ڈرامہ دیکھ رہا ہےتو کوئی فلم۔ کوئی پڑھائی کر رہا ہےتو کوئی لڑائی۔ کوئی دکاندار ہےتو کوئی گاہک۔ کوئی زمیندار ہےتو کوئی مزارعی۔ غرض ہر کوئی اپنےکام میں لگا ہوا ہی۔ جناب والا حجابِ تولید کی یہ مختصر داستان ہےجو دکھائی دیتی ہےآئیےاب اس حجاب کےاندر جھانکتےہیں۔
اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم۔
تولید انسان:
تولید کےمراحل میں بچپن پہلےنمبر پر آتا ہی۔ کھانےپینےکےعلاوہ کسی چیز کا علم نہیں ہوتا حتیٰ کہ پوشاک تک کا بھی علم نہیں ہوتا ۔ پھر لڑکپن آتا ہےتو زبان ملتی ہےبولنےکا دل کرتا ہی۔ ماں باپ بڑےشوق سےمادری یا پدری بولی سکھاتےہیں۔ کچھ عرصےبعد چہرےپر خوبصورتی آنا شروع ہو جاتی ہی۔ گالوں پر خون جوش مارتا ہی۔ دل ہنسی خوشی کی باتوں میں دلچسپی ظاہر کرتا ہی۔ دنیا مافیھا کےبارےمیں کچھ علم نہیں ہوتا۔
جوانی سےبڑھاپا:
پھر دو دہائیوں کےبعد جوانی نمودار ہو جاتی ہی۔ جسم کےاعضاءمتناسب ہو جاتےہیں۔ چہرےپر انجانی سی چمک رہتی ہی۔ ماں باپ، عزیز و اقارب سےمیل جول بڑھتا ہی۔ دوست احباب گفت و شنید کی محافل سجاتےہیں۔ گلی محلےکےساتھی کھیل کود کا رجحان بناتےہیں۔ پھر پڑھائی لکھائی شروع ہو جاتی ہی۔ گریجویشن کےبعد نوکری ہاتھ آتی ہےپھر شادی بیا ہ کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ شادی کےنتیجےمیں اولاد کےثمرات ملتےہیں۔ پھر ساری توجہ اولاد کی طرف منتقل ہو جاتی ہی۔ جب اولاد جوان ہونےلگتی ہےتو اللہ تعالیٰ ہم پر بڑھاپےکو طاری فرماتےہیں۔ بڑھاپےکی علامات میں کالےبال سفیدی سےبدل جاتےہیں۔ بدن کانپنےلگتا ہےجیسےزمین زلزلےسےکانپتی ہی۔ پٹھےکمزور ہونا شروع ہو جاتےہیں۔ اب خواہش ہوتی ہےکہ بچوں کی شادیاں ہو جائیں اور بیٹیاں اپنےگھروں میں آباد ہو ں۔ بچوں کےلئےبہترین اور عمدہ گھر تیار کروائےجاتےہیں تا کہ اولاد بڑھاپےکی لاٹھی بنی۔ خوش قسمت لوگ ہوتےہیں جنہیں اولاد کی خدمت نصیب ہوجاتی ہےاور پھر ایک دن مسجد میں اعلان کیا جاتا ہےکہ فلاں بن فلاں صاحب کی وفات ہو چکی ہی۔ مرحوم کی نماز جنازہ کےلیےفلاں ٹائم اکٹھےہو جائیں اور پھر چار کندھوں پر وہی جیتا جاگتا، ہنستا کھیلتا انسان قبر کےاندھیروں میں اتر کر منوں مٹی تلےدب جاتا ہی۔
جناب! یہ ہےتولید کی ایسی داستان جو ہم میں سےہر ایک کےلیےیکساں ہی۔ لیکن کیا ہم نےکبھی سوچا ہےکہ خواہشات کا حامل انسان اپنی تمام خواہشوں آرزو¿وں کو پورا کر لیتا ہےوہ بھی اتنی مختصر زندگی میں جس میں صبح و شام کی فرصت وقت گزرنےکا احساس تک نہیں ہونےدیتی۔ اگر انسانی خواہشات کا حساب لگایا جائےتو ہزار سال بھی کم پڑ جاتےہیں۔ جبکہ ساٹھ یا ستر کی دہائی میں دنیا سےجانا پڑتا ہی۔ وہ لوگ جو خواہشات کی تکمیل نہ ہونےپر احساس کمتری کا شکار ہوتےہیں کتنےپاگل خانوں میں قید ہیں، کتنےہسپتال میں زیر علاج ہیں، کتنےلوگ دیوانےہو جاتےہیں کہ ان کی حِس شعور کام کرنا چھوڑ دیتی ہی۔کوئی نشےکی لت میں پڑجاتا ہی۔ نہ جانےہر روز کتنےقیمتی افراد سےیہ معاشرہ محروم ہوتا ہی۔ کوئی خاتون غربت کےہاتھوں اپنےبچوں کا خون کر دیتی ہے۔ باپ اسمبلی ہال کےسامنےخود کو آگ لگا دیتا ہی۔
ایسےحالات میں ایدھی وغیرہ ویلفیئر سوسائٹی والےنمبر بنانےآجاتےہیں۔ ایدھی صاحب کےسنٹر والوں کو جو افراد مردہ حالت میں ملتےہیں یا تو وہ ہسپتال والےخرید لیتےہیں یا پھر نمبردار قبرستان میں پیوست کئےجاتےہیں کتنےمعصوم بچےاور بچیاں ہیں جو بھوک سےبلک رہےہیں اور ان کی مائیں انہیں امید کی لوریاں دےکر سلا دیتی ہیں۔
زمین پر رہنےوالا ہر انسان ہمارےسمیت یہ جاننا چاہتاہےکہ ہم لوگ آخر کیا کھائیں ، کیا پہنیں، کیا سوچیں کیا سمجھیں، کیسےرہیں ، وقت کیسےگزاریں ، موت نجانےکب ہماری اس بےمعنی زندگی کا خاتمہ کر دی۔یہاں پر تو موت سےزیادہ زندہ رہنا دشوار ہو چکا ہی۔آخر کب تک ہم شادی بیاہ اور موت کےکھوکھلےتہوار مناتےرہیں گےاور اپنی کھوکھلی خواہشوں کےلئےکتنےخدا اکٹھےکریں گی۔ کتنےپیروں کو پیسےبانٹیں گےکیا ہم میں سےہر کوئی حرام و حلال میں فرق کرنا جانتا ہی؟ پیسےکی لذت نےہمیں اخلاق سےمحروم کردیا ہی۔ ہمارےجذبات سےمادہ پرستی ظاہر ہوتی ہی۔ کیا یہ سچ ہےکہ جو چیز ہم کو پسند ہو وہ دوسرےکےلیےبھی پسند کریں؟ اگر ہم نمازی ہیں تو اپنےساتھ میں کھڑا نمازی ہمیں کیوں اچھا نہیں لگتا ۔ اب ہم ایک دوسرےکےدشمن بن چکےہیں ۔ کسی کی کمزوری ہمارےاندر کےبھیڑیےکو ظلم کرنےپر کیوں آمادہ کرتی ہی۔
کیا حاصل ہوا ہمیں اس تولیدی نظام سی؟
جس معاشرےمیں ہم بستےہیں یہی معاشرہ تولید کی بنیاد پر بنایا گیا تھا یہاں جو طاقتور ہو گا اسی کا حکم مانا جائےگا۔ کمزور حضرات سےگزارش ہےکہ وہ دب کر زندگی گزاریں۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نےکسی کےدو دل نہیں بنائےکہ ایک میں تولید رکھےاور دوسرےمیں توحید۔ تولید کو تو اب ہم میں سےہر ایک تقریباً تقریباً جان ہی چکا ہےلیکن یہ توحید کس شہر کا نام ہی؟ آئیےقارئین کرام! اب ہم توحید رحمن کا عنوان ملاحظہ فرمائیں۔
توحید رحمٰن:
ہم توحید کو بیان کرنےسےپہلےقارئین کرام سےبڑےادب کےساتھ گزارش کریں گےکہ توحید اور تولید میں بنیادی فرق صرف اتنا ہےکہ توحید ہمیں ایک خدا کی عبادت کرنےکا درس دیتی ہےجبکہ تولید ہمیں درپیش ہر مصیبت کےسامنےماتھا ٹیکنےپر مجبور کرتی ہی۔ تولید سےخدا شمار ہونا شروع ہو جاتےہیں کسی کےدو خدا بنتےہیں تو کسی کےچار، کسی کےلاکھ تو کسی کےکروڑ اور کوئی تو خود ہی خدا بن کر بیٹھ جاتا ہےاور مخلوق کو دو نوالےکھلا کر اپنی خدائی جتلاتا ہی۔ اپنی اچھائی کا ڈھول بجاتا ہی۔ لوگوں کو روٹی، کپڑا، مکان کا لالچ دےکر ان کی سوچ سمجھ کو مفلوج کر دیتا ہے۔ آجکل کےنمرود، فرعون، قارون، ہامان، سامری وغیرہ اسمبلی ہال نامی عجائب گھرمیں نمائش کےلیےدستیاب ہیں۔ ان لوگوں میں رب تعالیٰ کی لعنت کو ہڑپ کرنےکی بہترین صلاحیت پائی جاتی ہی۔ ایسےلوگوں کا ریموٹ کنٹرول یہود و نصاریٰ کےہاتھ میں ہوتا ہی۔
توحید، تولید سےکیسےمختلف ہی!
آئیی! اب ہم توحید کا جائزہ لیتےہیں۔ اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں توہمیں معلوم ہو گا کہ انسان اپنےرب کی تلاش میں صدیوں سےبھٹک رہا ہےاور جب بھی مشکلات اور مصائب سےدوچار ہونا پڑتا ہےتو وہ مخلوق نامی خدا کا سہارا لیتا ہی۔ یہ مخلوق سورج، چاند، ستاری، نیک انسان، جن، حیوانات، درندی، وحشی جانور وغیرہ پر مشتمل ہی۔ ہندوستان میں یہ مذہب اب بھی موجود ہی۔ انسانیت کےزمرےمیں رہنےوالےعظیم لوگ اپنےعقل و شعور سےیہ تو ثابت کر چکےکہ انسان کرہّ ارض پر پائی جانےوالی تمام مخلوق سےافضل ہی۔ مگر وہ ہمیشہ کی طرح یہ جاننےسےقاصر رہےکہ انسان جیسی مخلوق کو بنانےوالےکا کیا نام ہےاور اس کی صفات کیا ہیں؟
حضرت آدم علیہ صلاة والسلام وہ برگزیدہ ہستی ہیں جن کی بدولت آج دنیا میں انسانیت ظہور پذیر ہو رہی ہی۔ حضرت آد م علیہ سلام ہی وہ پہلےنبی علیہ سلام ہیں جو منصب نبوت پر کلماتِ توحید سکھانےکےلیےمبعوث ہوئےتھی۔
آپ علیہ سلام نےاپنی اولاد کو کلماتِ توحید سکھائےتھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نےآپ کی اولاد کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور ایک گروہ جنہوں نےکلماتِ توحید سیکھےوہ گروہ توحید کی سعادت سےمنسوب ہوا جبکہ دوسرا گروہ جس نےصرف تولید پر زور رکھا اور توحید سےمنہ پھیرا وہ شقاوت و بدبختی کا شکار ہوئی۔
آئیی! دیکھتےہیں وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر حضرت آدم علیہ سلام کی اولاد توحید کی منکر ہو گئی اور بغاوت پر اتر آئی۔ ہم آپ کی خدمت میں چندسوالات پیش کریں گےجو آپ کو اور ہم کو توحید سمجھنےمیں آسانی فراہم کریں گی۔
(الا ماشاءاللّٰہ)
دین اسلام جو آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کےوسیلہ سےہم انسان صفت مسلمانوں کو ملا ہے۔ اس میں یہ عقیدہ درج ہےکہ ”وہ رب جس کا نام اللہ ہےوحدہ لاشریک ہی“۔ اب ہم سوال کرتےہیں! لیکن کیسےوحدہ لاشریک ہی؟ آج تک ہمیں کسی مولوی یا پیر سےیہ معلوم نہیں ہوا۔
عقیدہ: اللہ تعالیٰ موجود ہی۔
سوال: لیکن کیسےموجود ہی؟ کوئی بھی نہیں جانتا۔ بعض لوگوں نےآیات متشابہات سےاللہ تعالیٰ کی موجودگی کی کیفیت کا احمقانہ طور پر ایک جاہل تصور پیش کیا ہےجسےہم نہیں مانتےاور اس لیےنہیں مانتےکیونکہ کلماتِ توحید کی تعلیم انبیاءو رسل علیہ سلام کی ذمہ داری ہی۔
عقیدہ: وہ دیکھنےوالا ہی۔
سوال: لیکن وہ کیسےدیکھتا ہی؟
عقیدہ: وہ زندہ ہی۔
سوال: لیکن کیسی؟
عقیدہ: وہ رحمت و حکمت والا ہی۔
سوال: لیکن کیسی؟
عقیدہ: وہ عظمت، طاقت و قدرت والا ہی۔
سوال: لیکن کس طرح؟
یہ چند سوالات حاضر خدمت ہیں جو کہ عقیدہ¿ توحید کا وجود ثابت کرتےہیں۔
عقیدہ توحید:
گزرتا ہوا ہر لمحہ عقیدہ توحید کی ایک نئی فکر میں مبتلا کر دیتا ہےاور یوں ہم سب انسان عاجز و در ماندہ ہو کر خالق کائنات کےدربار (مسجد) میں جا کر عبادت کا فریضہ ادا کرتےہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خالص توحید قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سےثابت شدہ ہی۔ قرآن پاک کےنزول سےپیشتر کتب سماوی میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی توحید درج تھی۔ مخلوقات اللہ تعالیٰ کی توحید مان تو سکتی ہیں لیکن مخلوقات کےلیےتمام زمانی، تمام اوقات ، تمام عالمین اکٹھےکر دیئےجائیں تب بھی مخلوق خالق کائنات کےبنائےہوئےایک ذرےمیں پوشیدہ توحید کی حقیقت کا ادراک حاصل نہیں کر سکتی۔ اسی لیےتوحید کےمعاملات میں محتاط ہونےکی ضرورت ہی۔ اب مخلوقات کےلئےخواہ زندگی ہو یا موت خواہ دنیا ہو یا آخرت، خواہ جنت ہو یا دوزخ، خواہ خشکی ہو یا تری، خواہ عرش ہو یا تحتِ ثریا، خواہ انبیاءکرام ہوں یا صالحین توحید کی حقیقت کےمعاملےمیں سب عاجز ہیں اور انسان پر منحصر ہوتا ہےکہ توحید کا جتنا معاملہ رب تعالیٰ اس پر کھولتےہیں۔ اتنا ہی اس کو عمل کی حاجت رہتی ہےاور رب تعالیٰ نےانبیاءکرام علیہ صلاة والسلام کو اسی رہنمائی کےلئےمبعوث کیا ہےتا کہ عقیدہ توحید کےساتھ اعمال صالحات بھی حاصل کئےجا سکیں۔ لیکن اعمال کےلحاظ سےبھی ڈر کر رہنا چاہیئی۔ رب کی ربوبیت کا معاملہ ہےاور جان بھی تو اسی کی امانت ہےجانےکب چھن جائےبھولےسےبھی زبان دراز نہ ہو اور دل پر بھی اللہ تعالیٰ کی توحید لاگو کریں۔ کیونکہ رب تعالیٰ دل ہی تو دیکھتا ہی۔ اچھی صورتیں تو اچھی صحت کی علامت ہوتی ہیں اچھےمسلمان کی علامت تو صرف رب تعالیٰ ہی جانتا ہی۔
بات توحید باری تعالیٰ کی ہےتو نصاب توحید قرآن حکیم میں درج ہےاور انسان پر منحصر ہےکہ وہ اپنی قابلیت کےمطابق ایسا محکم عقیدہ تلاش کرےجس پر اُسےعمل کرنےکی استطاعت حاصل ہو جائےاور روئےزمین پر فساد کےبجائےعلم و عمل بانٹےمعاشرےکےہر قیمتی انسان پر نگاہ رکھےاور اسےہلاکت سےبچائی۔
اہل توحید کےلئےاللہ تعالیٰ نےقرآنِ عزیز میں اپنی توحید کی ایک اعلیٰ مثال بیان فرمائی ہےکہ اگر زمین پر موجود تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر سیاہی میں بدل جائیں تو اقلام توحید کےکلمات لکھ لکھ کر ختم ہو جائیں گی اور سمندروں کی سیاہی بھی کم پڑ جائےگی اگرچہ سات اور سمندر شامل کیےجائیں۔ (سورة لقمان کا ایک ادبی مفہوم)
قارئین کرام! تصور فرمائیں کہ عقیدہ توحید میں کس قدر عظمت ، جلالت اور ہیبت پوشیدہ ہےکہ انسان کےعلاوہ روئےزمین پر کوئی بھی مخلوق اس کےبیان کی طاقت نہیں رکھتی۔ اتنا ضرور ہےکہ تمام مخلوق توحید کی صلاة و تسبیح سےواقف ہےلیکن کلماتِ توحید ایک وزنی ذمہ داری ہےاور رب تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کی صلاحیتوں سےواقف ہی۔ باری تعالیٰ نےاس ذمہ داری کو انبیاءو رسل علیہ سلام کےسپرد کیا ہی۔ معاشرےمیں پائےجانےوالےعوام و خواص اس کی اہلیت نہیں رکھتی۔
ہم یہاں آپ کےسامنےایک مثال پیش کریں گےاور ہمیں امید ہےکہ اس مثال سےہمیں منصبِ توحید سمجھ آجائےگا۔ اگر آپ کو کشادہ سڑک درکا ر ہےتو سول انجینئر حاضر ہی۔ آپ کی شخصیت کو لباس درکار ہےتو درزی حاضر ہےوغیرہ۔ بالکل اسی طرح جب بھی ہم سےمعاشرتی، سماجی یا اخلاقی نافرمانی ہوتی ہےتو ہمارےدل اطمینان و سکون سےخالی ہو جاتےہیں پھر ہمیں یا تو ہسپتال جانا پڑتا ہےیا منٹل ہسپتال یا ہم گھر بار چھوڑ کر کسی ویران جگہ پر پہنچ جاتےہیں۔ کبھی خود کشی کا شکار ہوتےہیں یا کسی حادثاتی موت کا نوالہ بن جاتےہیں یا پھر گھُٹ گھُٹ کر جینا شروع کر دیتےہیں۔ کبھی مولوی حضرات کی جیب تازہ کرتےہیں یا کبھی مزاروں پر ولی حضرات کو تنگ کرنا شروع کر دیتےہیں۔ کبھی گھر کی چیزیں توڑتےہیں تو کبھی ماں باپ سےلڑنا شروع ہو جاتےہیں یا پھر گھر کےاندر بند بوتل کی طرح قید ہو جاتےہیں غرض آزمائش ہماری ہر خوشی کا گلہ گھونٹ دیتی ہی۔ اب کون لوگ ہیں جو ہمیں ان مصائب سےمقابلےکی طاقت فراہم کریں گی۔ ہمارےمعاشرےمیں کوئی بھی فرد جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہےتو ہمارےمعاشرےکی عادت ہےکہ وہ مصیبت زدہ کو اکیلا چھوڑ دیتےہیں پھر گھیرا ڈال کر اس کی بےبسی کا تماشا دیکھتےہیں لیکن رب تعالیٰ نےہر معاشرےمیں مختلف طبیعت کےافراد پیدا فرمائےہیں جو معاشرےسےدور رہ کر معاشرتی برائیوں کا جائزہ لیتےہیں پھر ان افراد کو حاصل کرتےہیں جن کو معاشرہ ناکارہ سمجھ کر کوڑےکی طرح الگ کر دیتا ہی۔ یہ قابل افراد ان لوگوں کو اکٹھا کر کےان کےدلوں پر توحید کےکلمات جاری کرتےہیں پھر وہی انسان جنہیں معاشرہ بوجھ سمجھتا ہے۔ اتنےقابل ہو جاتےہیں کہ معاشرےپر کوئی بھی مصیبت آئےتو یہ شیروں کی طرح دھاڑتےہوئےمعاشرےکی مدد کرتےہیں پھر معاشرےکےلوگ ان کو خطاب دینا شروع کر دیتےکوئی ان کو مولیٰ کہتا ہےکوئی داتا کوئی غریب نواز تو کوئی سلطان کہہ کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتا ہی۔
لیکن سماج کی طبیعت کےمخالف یہ کون لوگ ہیں جنہیں معاشرہ صدیوں سےجھٹلاتا ہوا آیا ہی۔ قرآن کریم نےان میں صرف26یا28افراد کی نشاندہی کی ہی۔ ان میں آخری فردِ واحد شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہےجو معاشرےسےبیزار رہنےوالےافراد کا علاج کرتےہیں اور کرتےرہیں گےجب تک زمین آسمان قائم ہیں۔
تاریخ گواہ ہےکہ معاشرےمیں سب سےزیادہ تکذیب و ضلال کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےسامنا کیا ہےمگر پھر بھی پرواہ نہیں کی اور انسانیت کو سنوارنےکا عزم قائم رکھا رہتی دنیا آپ کےوجود ہی سےاستفادہ حاصل کرتی رہےگی۔ دنیا نہ تو ان افراد کو انجینئر کہتی ہےنہ پائپ فٹر، نہ ڈاکٹر نہ پوسٹ مین، نہ دکاندار نہ گاہک،نہ وزیر نہ مشیر لیکن یہ افراد معاشرےکےجھوٹےخدائوں کےخلاف ہوتےہیں اس لیےمعاشرہ ان کو اپنےسےالگ کر دیتا ہےتاکہ فرمائشی خدائوں کی عبادت ہو سکی۔ کھوکھلی خوشیاں منائی جا سکیں اور غریبوں کا خون نچوڑا جا سکی۔ اگر یہود و نصاریٰ کی کتابیں اٹھائی جائیں تو گزشتہ کتابوں میں ان افراد کےنفوس کو نبی کہا جاتاتھا اور موجودہ دور میں مسلمان لوگ ان افراد کی اہمیت سےواقف ہیں اور انہیں قدر و منزلت کی نگاہ سےدیکھتےہیں۔ دین اسلام نےان تمام افراد کو معاشرےکا امام بنایا ہےاور ان کی تقلید کرنےکا حکم دیا ہےاور انہیں اسلامی عقیدےکا حصہ بنایا ہےان افراد کی اطاعت کےبغیر معاشرہ کبھی بھی قائم نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ یہی افراد معاشرےکی جڑ ہوتےہیں۔
کتب یہود و نصاریٰ اور کتب احادیث مبارکہ میں روز اول سےلےکر آخری یوم دنیا تک ان کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار شمار کی گئی ہےیہ افراد معاشرےسےدور رہ کر بھی معاشرےکو نگاہ میں رکھتےہیں۔ اگر معاشرےسےان کی نگاہ اٹھ جائےتو پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیتےہیں اور زمین زلزلےسےکانپ اٹھتی ہے۔ اس حساب سےدیکھا جائےتو یہی افراد معاشرےکےہر فرد کی ضرورت ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہےکہ معاشرہ انہیں شاعر، مجنون، جادوگر، کاہن وغیرہ کہتا آیاہےلیکن یہ لوگ چونکہ معاشرتی گناہوں سےمعصوم ہوتےہیںاور مختون پیدا ہونےکی صورت میں معاشرےکےلوگوں کےلیےمعافی کا جذبہ رکھتےہیں۔
کائنات کو جس خدا نےبنایا ہےتمام انسانیت اس خدا سےلاشعوری طور پر واقف ہےلیکن یہ افراد معاشرےمیں کلماتِ توحید سےہر فرد کےشعور کو بیدار کرتےہیں اور اسی خدا کی طرف بھیجتےہیں جو ان کا اور ان کےماں باپ کا حقیقی خالق ہی۔ آج کےمعاشرےمیں ان افراد کو نبی یا رسول کہہ کر صدائیں بلند کی جاتی ہیں۔ یہ لوگ اگر معاشرےکا حصہ نہ بنیں تو وہ معاشرہ جہنم بن کر ظاہر ہوتا ہی۔
رسالتِ توحید اور نصاب توحید:
رسالت توحید بنیادی طور پر وہ کلمات توحید ہیں جنکو سنبھالنا زمین و آسمان جیسی مادی مخلوق کےبس سےباہر ہےاور انسان تو پہلےہی کمزور، ناتواں، جھگڑالو، جلد باز ، جذباتی ، مطلبی ، ظالم و جاہل ثابت ہو چکا ہی۔
شکم مادر میں انسان نےتین اندھیروں میں رب تعالیٰ سےپرورش پائی ہی۔
پہلا اندھیرا! کفر و شرک کا ہےدوسرا جہالت کا اور تیسر ا اور آخری اندھیرا تولید اور شہوات انفاس تولید کا ہی۔
ظلمت اول:
پہلےاندھیرےکو باری تعالیٰ نےاشیاءو اجناس کےعلم سےدور فرمایا ہےکہ آج کا انسان اس قابل ہےکہ وہ شےکو حقیقی رب نہیں مانتا۔
ظلمت دوم:
دوسرےاندھیرےکو رب تعالیٰ نےحسن معاشرت ، تعلقات، دوستی اور اچھائی کو پیدا کر کےدور فرمایا ہی۔ انسان کو اپنی قدرت سےنوازا ہی۔ آج کا انسان زمین و آسمان کےقلابوں کی پیمائش میں مصروف عمل ہی۔ گزشتہ انبیاءو رسل علیہ السلام اپنےصحائف سےمعاشرےکو یہ علم دےچکےہیں۔
ظلمت سوم:
تیسرےاور آخری اندھیرےکو جو بڑا ہی سخت اور کٹھن ہےتوڑنا عام نبی و رسول یا کسی بھی عاقل و دانشور یا فلاسفر کےبس کی بات نہیں تھی۔ اس حجاب میں اتنی طاقت ہےکہ معاشرےکےبڑےبڑےولی بھی اس حجاب سےمقابلےکی طاقت نہیں رکھتی۔ اب ایک عظیم ہستی کی ضرورت ہےجو انسانیت کو شہوات انفاس تولید کےچکر سےنکال کر توحید سےمنسلک کر سکی۔ یہ مقدس ذات جو عقیدہ توحید کا مثالی نمونہ بنی۔ روئےزمین پر طبقہ انبیاءو رسل علیہ السلام سےان کا تعلق ہی۔حضرت ابراہیم علیہ صلاة والسلام کےبڑےصاحبزادےحضرت اسماعیل علیہ الصلاة والسلام کےمنہ مانگےفرزند ہیں جنہوں نےمبعوث ہو کر انسانی شہوات کےاس مضبوط حجاب کو توڑ کر انسانیت کےلیےعقیدہ¿ توحیدِ ربانی کی راہ کو ہر طبقےکےانسانوں کےلیےہموار کر دیا۔ امت مسلمہ ایسی توحید سےآراستہ ہےجو توحید کےصرف ایک کلمےسےجُڑ چکی ہےاور امت مسلمہ قیامت تک آپ کی رسالت سےمنسلک رہےگی۔
قرآن پاک بحیثیت نصاب توحید:
قرآن کریم دنیا و آخرت کا وہ واحد نصابِ توحید ہےجو ہر کلمہ پڑھنےوالےکےلیےیکساں ہی۔ تقریباً6666یا چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ کلماتِ توحید پر مشتمل نصاب توحید ہی۔ دنیا میں موجود ہر مسلمان اپنی حیثیت اور قابلیت کےمطابق ان کلمات توحید سےاستفادہ حاصل کر سکتا ہی۔ جو طبقات امت مسلمہ میں اہل قرآن کہلاتےہیں وہ طبقےمندرجہ ذیل ہیں۔
طبقہ اولیٰ: (ماتحتُ العرش)
یہ طبقہ علم الکلام کا جذبہ رکھتا ہی۔ امت مسلمہ کےمبلغین ، خطیب و ادیب ، شعراءحمد و نعت سےوابستہ افراد اس طبقےکا حصہ بنتےہیں۔ قرآن پڑھنےسےان میں قوت نطق و کلام کی زبردست صلاحیت پیدا ہو جاتی ہےاور قرآن میں موجود کلماتِ توحید کو اتنےزبردست انداز سےپڑھ جاتےہیں کہ گانےوالےگلوکار یا گلوکارہ کو بھی پیچھےچھوڑ جاتےہیں اور وعظ نصیحت کی زبردست صلاحیت کےحامل یہ افراد حکومتی تقریروں کو بھی ماند کر دیتےہیں۔
طبقہ اُخرٰی : (مابین العرش)
امت کےبہترین لوگوں میں اس طبقےکا شمار ہوتا ہی۔ یہ طبقہ قرآن مجید کی نادر آیات سےاحادیث مبارکہ کی سند تلاش کرتا ہےاور علوم فقہ میں مہارت حاصل کر کےامت کےلیےاعمال صالحہ کو آسان بناتا ہی۔ اس طبقےکےلوگ امام مسلک، مفتی، علامہ، مناظر ، شیخ الحدیث ، شیخ الاسلام کےالقاب سےجانےجاتےہیں۔
طبقہ عقبیٰ: (مافوق العرش)
اس طبقےمیں امت کےانتہائی کم لوگ پائےجاتےہیں۔ ان کی شخصیات سےکثیر امت لاعلم رہتی ہی۔ یہ طبقہ قرآن کریم سےاستفادہ حاصل کر کےعقائد و ضوابط اخلاق و سیرت اور معاشرتی برائیوں کی کھوج لگاتا ہی۔ پھر عام لوگوں کی طرح گھوم پھر کر لوگوں کو اخلاقی طہارت سےوضو کراتا ہےاور صبر کی لذت کےساتھ نماز پڑھاتا ہی۔ امت کےلوگ ان کی شہرت سےناواقف ہوتےہیں۔ گزشتہ صدیوں صرف چند ایک شخصیات کا علم حاصل ہوا ہی۔ ان میں شیخ احمد سر ہندی المعروف مجدد الف ثانی، بغداد میں صاحب عالی مقام حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور ہندوستان میں خواجہ قطب الدین اجمیری اور افغانستان سےتشریف لائےہوئےداتا گنج بخش ہجویری مشہور ہیں۔ جنہوں نےامت میں شامل کیےجانےوالےتولیدی زہر کا تریاق تیار کر کےمعاشرےمیں اچھائی کو پروان چڑھایا ہی۔ امت مسلمہ ہی نہیں بلکہ معاشرےکا ہر طبقہ ان سےعقیدت رکھتا ہی۔ لوگ انہیں صوفی کہہ کر شمار میں لاتےہیں۔
طبقہ اولیاءصالحین: (لاعلم لنا) یا مافی قلبی غیر اللّٰہ
امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں یہ طبقہ نایاب ہو چکا ہی۔ احادیث مبارکہ سےثابت ہوا ہےکہ پوری روئےزمین پر چالیس ابدال ہر وقت موجود رہتےہیں۔ اس حساب سےاگر زمین کو سات ٹکڑوں میں تقسیم کیاجائےتو حاصل ہونےوالی کسر اعشاریہ کےمطابق (40/7) 5.7 کا ہندسہ حاصل ہوتا ہی۔ اگرایک ٹکڑےکی آبادی فی صد شمار کی جائےاور5.7کو فیصد پر معکوس نسبت کی وجہ سےتقسیم کیا جائےتو0.057کا عدد حاصل ہوتا ہی۔ یہ مقربین طبقہ زمین پر العالین کہلاتا ہی۔ دنیا کی بڑی سےبڑی طاقت بھی اس طبقےمیں شامل افراد کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
اس طبقےکو انبیاءکرام علیہ السلام سےخلافت امامت کا شرف حاصل ہےجبکہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طبقہ معاشرےمیں پوشیدگی اختیار کرتا ہی۔
گزشتہ ادوار میں صحابہ کرام میں سےصرف چار اور اہل بیت میں سےصرف چند اشخاص اس طبقےسےنمایاں طور پر سامنےآچکےہیں۔ یہ طبقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح معنوں میں جانشین اور وارث علم و فیض ہی۔ اس طبقےمیں شامل چند ہی شخصیات ہیں جو تقریباً چودہ صدیوں میں سامنےآئی ہیں۔ یہ شخصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ صحابہ کرام میں جناب حضرت ابوبکر صدیق۔ جناب عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ۔ جناب حضرت عثمان ذوالنورین۔ جناب مولیٰ شیر خدا حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اور اہل بیت اطہار سےحضرت امام حسن رضی اللہ اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ معاشرےمیں خلیفہ¿ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونےکی صحیح معنوں میں خدمات انجام دےچکےہیں۔ امت محمدیہ علیہ رحمت میں یہ طبقہ انتہائی چند افراد پر مشتمل رہتا ہےاور دنیا میں کہیں کہیں یہ لوگ دستیاب ہوتےہیں۔ جب تک روئےزمین پر یہ طبقہ موجود ہےزمین پر بسنےوالی تمام مخلوقات صرف ان کی وجہ سےزمینی یا آسمانی آفات سےمحفوظ رہ سکتی ہی۔
امت محمدیہ علیہ رحمت کےاس طبقےکو آل محمد کا خطاب حاصل ہی۔ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےجاتےہی دنیا اختتام پذیر ہو جائےگی اور اسی گھڑی کا نام قیامت ہی۔
مذہب یہود و نصاریٰ کی کتب قیمّات میں ان کی تفصیل د رج تھی مگر موجودہ دور میں انجیل ، تورات، زبور کی حقیقی تلاوت سےموجودہ انسانیت محرومی کا شکار ہی۔ لیکن آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےکلمات توحید کےمعاملےمیں یہود و نصاریٰ کی اچھی خاصی مدد کی تھی۔ اس وقت کےعلماءیہود و نصاریٰ توحید کےکلمات کی اصلاح ہونےپر اپنی امت میں ایسےافراد پیدا کرنےکےقابل ہو گئےجنہوں نےحسن معاشرت کےمیدان میں انسانیت کی بڑی خدمت کی۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان کی اولادکےیہودی اورنصرانی علماءمشکورہیں اور آج بھی یہودی اور نصرانی معاشرہ حضرت علی اور ان کی اولاد کو قدرومنزلت کی نگاہ سےدیکھتا ہی۔ امت مسلمہ کا اس حدیث مبارکہ پر اجماع ہےکہ ”میں علم (کلماتِ توحید) کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہی“۔
(تمت بالخیر)
قرآن حکیم اور اصلاحات توحید:
امت مسلمہ میں موجود تمام جن و انس کےلیےکلمات توحید کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہےتا کہ ایک حصےسےانسانیت اور دوسرےحصےسےجنات تلاوت کا فیض حاصل کر سکیں۔ یاد رہےکہ محکمات آیات میں رب تعالیٰ نےانسانوں کےحقوق اپنی نعمتوں، عذات و ثواب، کلماتِ طیبات اور اعمال صالحات بتائےہیں جبکہ متشابہات آیات میں اللہ تعالیٰ نےاپنی وحدانیت کےثبوت میں اپنی قدرتوں اور نشانیوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہی۔
پہلا حصہ:
اس حصےمیں تمام آیات محکمات کہلاتی ہیں جو امت مسلمہ کےلیےام الکتاب معرفت کا درجہ رکھتی ہیں۔ جو طبقہ ام الکتاب کےحصہ سےفیض حاصل کرتا ہی۔ وہ طبقہ علماءاور مشائخ پر مشتمل ہوتا ہی۔ آیات محکمات کو سمجھنےکی بھرپور صلاحیت رکھتا ہی۔ اللہ تعالیٰ ان کےذریعےبہت سی عوام کو کلمہ توحید سےوابستہ کر دیتےہیں۔ مگر ان کےلیےآیات کےدوسرےحصےمیں جانا ہلاکت کا باعث بنتا ہی۔ اگر یہ علما و مشائخ آیات کےدوسرےحصےمیں چلےجائیں جو کہ وساوس شیطان و انسان کےباعث آیات کےدوسرےحصہ میں چلےہی جاتےہیں اور یوںان سےایسی باتیں سرزد ہوتی ہیں جو کلماتِ توحید محکمات سےبغاوت ظاہر کرتی ہیں۔ ایسےافراد یا تو پاگل ہو جاتےہیں یا پھر صحت مند رہیں تو مجہول عوام کو گمراہ کر دیتےہیں ان لوگوں کا تعاقب کرنےکےلیےاللہ تعالیٰ پھر کچھ ایسےافراد کو پیدا کرتا ہےجو امت کےراسخین فی العقیدہ ہوتےہیں۔ یہ افراد امت کےجاہل علماءاور جاہل صوفیاءکی رہنمائی کرتےہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی (شیخ احمد سرہندی) مغل بادشاہ اکبر اعظم کےدور میں دین الٰہی کےخاتمےکا سبب بنےاور اہل سنت راسخ فی العقیدہ امت کےبڑےہی ہر دل عزیز امام مسلک (فقہ حنبلی) حضرت احمد بن حنبل فرقہ معتزلہ کےپُرخچےاڑانےمیں کامیاب ہوئےان حضرات نےامت سےہر قسم کی بدعات و خرافات ختم کیں اور امت کو طبقہ اولیٰ کےمستند علماءکرام سےجوڑ دیا۔ اسی طرح طلاق بالجبر کا مسئلہ سامنےآیا تو مدینہ میں موجود مشہور عالم دین متین حضرت امام مالک (مسلک مالکی) ایک سرخیل فرد باہر نکلےحکومت وقت نےان کےبازوئوں پر بھاری پتھر بندھوا کر کھینچ دیئی۔ آپ کےدونوں بازو ناکارہ ہو گئےپھر آپ کو گدھےپر بٹھا کر آپ کےمنہ مبارک پر کالی سیاہی مل دی لیکن پھر بھی آپ طلاق بالجبر کےخلاف فتویٰ دیتےرہی۔
اسی طرح جب لوگوں نےدرودِ ابراہیمی علیہ السلام نمازسےختم کروا کر اپنی مرضی کا درود پڑھنا چاہا تو حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ میدانِ بغاوت میں اترےاور جاہل علماءکو درود ابراہیمی علیہ السلام سمجھا کر چھوڑا۔ آپ سےپہلےامت التحیات صلاة کےبعد اپنی من و مرضی کا درود پڑھتی تھی۔ آپ نےتمام اکابرین کو اکٹھا کر کےحکومت کی طرف سےسرکاری فرمان جاری کروایا اور اس طرح ہر نمازی کےلئےدرود ابراہیمی ہر نماز میں لازم ہو گیا۔
تیرہویں صدی کےاوائل ہی میں لوگوں نےسورة جن کی نفی کرنی شروع کر دی اور یہودی اور نصرانی جاہلوں کےساتھ مل کر جنات کےوجود سےانکار کر دیا۔ جس پر شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی سہنی پڑیں۔ مگر جنات کےبارےمیں تمام اتری ہوئی آیات کو منوا کر ہی دم لیا۔ جنات کےبارےمیں آپ کی لکھی ہوئی مکتوب آج بھی طلبہ کو پڑھائی جاتی ہیں۔
دوسرا حصہ:
قرآنِ عزیز کا دوسرا حصہ آیات متشابہات پر مشتمل ہی۔ ان آیات کی معرفت امت کےگنےچنےلوگوں کو حاصل ہوتی ہی۔ لیکن یہ لوگ امت کےفقراءکےطبقےسےتعلق رکھتےہیں۔ ان لوگوں کو میل جول کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ یہ لوگ ہر کسی کو معرفت کا جام حیات پلانا چاہتےہیں۔ قرآن پاک کی جب متشابہات آیات کا نزول ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اہل کفار کی ہدایت کےلیےاٹھ کھڑےہوئےلیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر متشابہات کا ادراک ہوا تو آپ کےگرد گھومنےوالےکفار رفو چکر ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےگرد گھومنےوالےافراد کو کفار کےلشکر سےنکال کر منافق بنا دیا اور پھر گزرتےحالات نےمنافقین کےکسب و کردار کو نمایاں کر دیا۔ متشابہات آیات صرف جنات کی معرفتِ توحید کےلیےنازل ہوئیں تھیں تا کہ جنات اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سےواقفیت حاصل کریں۔ انسان کےبارےمیں ظاہر ہےکہ یہ کمزور پیدا ہوا ہےلیکن جنات اسقدر طاقتور ہیں کہ ایک ہی جست میں زمین سےآسمانِ دنیا پر پہنچ جاتےہیں۔ آج کل کی سائنس ”جناتی مخلوق کی ایک قسم کو جو آسمان کےدیگر سیاروں پر رہتی ہےاور کثیر تعداد میں ہے(Alien)کےنام سےماخوذ کرتی ہی۔ جنات بڑی ہوشیار، چالاک اور دغا باز مخلوق ہےان کی بعض نسلیں اس قدر طاقتور ہیں کہ یہ سورج کےنزدیک بھی چلےجاتےہیں۔ اس مخلوق کا سامنا کرنا عام نبی یا ولی کےبس میں نہیں۔ اس قوم نےانبیاءکرام میں سےصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کلمہ پڑھا ہی۔ یہ مخلوق آیات متشابہات ہی کا ورد کرتی ہی۔ ان کےچنگل میں آنےوالا انسان بچ نہیں سکتا۔ اسی وجہ سےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےامت کو متشابہات میں جانےسےمنع کیا ہی۔ گروہ ابلیس اسقدر طاقتور ہیں کہ یہ سورج اور چاند تک کی مخلوق کو بھی گرہن لگا دیتےہیں۔ جبکہ سورج اور چاند دنیا کی محبوب مخلوق ہےاور دنیا میں قیامت لانےکا سبب بھی یہی مخلوق بنےگی۔ ابلیس اور اس کےلشکری ساری دنیا کو موت کےگھاٹ اتارنےپر تلےہوئےہیں۔ جو بھی ان کا رفیق بنتا ہےوہ انسانیت سےمحروم ہو جاتا ہی۔

قرآن مجید کی نصابی تدوین
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےافراد میں سےحضرت عثمان غنی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےاس مقدس فریضہ کو انجام دیا ہی۔ ان حضرات نےآیاتِ رکوع اور آیاتِ سجدہ کی نشاندہی فرمائی۔ ان معاملات میں مشہور صحابی ¿ رسول حضرت زید بن ثابت رضی اللہ پیش پیش رہی۔
حضرت علی کی مدد سےسورة فاتحہ کو نصابی اعتبار سےاول درجہ حاصل ہوا اور قرآن کو درجہ دوم حاصل ہوا۔ حضرت علی کرم اللہ کی مدد سےاُن آیات کی کھوج لگائی گئی جن کی دورانِ نماز تلاوت کےبعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےرکوع فرمایا تھا اور اُن آیات کو بھی شمار میں لایا گیا کہ جن کی تلاوت کےبعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےسجدہ فرمایا۔ قرآن حکیم کی نصابی تدوین کےپہلےمرحلےمیں سات بڑی سورتیں مدوّن کی گئیں جو کہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئیں تھیں۔ جبکہ مکہ مکرمہ میں نازل شدہ سورتیں تدوینی اعتبار سےآخری حصہ قرار پائیں اور آخری دو سورتوں کو جو کہ مدینہ میں نازل ہوئیں تھیں ۔ قرآن کےآخر میں درج کیا گیا اور اس طرح 574یا576رکوع اور14سجدوں پر مشتمل کلمات توحیداپنےنصاب کےاعتبار سی30پاروں میں تقسیم ہوئی۔
کلماتِ توحید کےمجموعےکا عنوان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نےخود تجویز فرمایا تھا ”قرآن“ کےنام سےصحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں مشہور تھا چونکہ کلماتِ توحید کےاس نصاب کو زبان زدِ عام ”قرآن“ کی اصطلاح حاصل تھی لہذا بعد میں اسےقرآن مجید یا قرآن حکیم فرقانِ حمید کےمبالغےبھی حاصل ہوئی۔
قرآن اور علوم فقّہ
قرآن حکیم کی تدوین ہوتےہی صحابہ کرام رضی اللہ کا اجلاس بلایا گیا۔ قرآء حضرات نےسات قرا¿ت میں تلاوت کو مستند مانا پھر قرآن کی آیا ت محکمات کی تعلیم وفقّہ( سمجھ بوجھ )کےلئےچار جیّد صحابہ کرام کاانتخاب عمل میں آیا ۔ ان میں عبداللہ بن عبّاس ، عبداللہ ابن زبیر، عبداللہ ابن مسعود ، عبداللہ بن عمر کو چنا گیا۔ ان حضرات کو مدارس اور مساجد فراہم کی گئیں تا کہ قرآن کےفقی علوم کو سمجھایا جا سکی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کو عراق کی سرزمین سونپی گئی۔
حضرت عبداللہ بن عبّاس نےحضرت علی کرم اللہ کی مدد سے(صرف و نحو) کا علم متعارف کروایاتا کہ اعرابی (بد وو¿ ں ) کو عربی زبان کی بول چال کےآداب آئیں اور وہ صحیح مخارج کےساتھ قرآن کی تلاوت سےفیض یا ب ہو سکیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن زبیر نےآیات محکمات کےمتعلق احادیث نبوی کےمعاملےکو سلجھایا۔ عوام میں پہلی مرتبہ احادیث نبوی کو یاد کرنےکا علم متعارف کروایا۔ تا کہ قرآن کےفقی علوم کو احادیث کےمطابق عمل میں لایا جا سکے۔ حضرت ابو ہریرہ اس خدمت میں پیش پیش رہے۔ اہل مدینہ میں احادیث کا علم”کتاب مسطور“کےعنوان سےمشہور ہوا۔ بعد میں احادیث کےعلم کو کتابی شکل میں مدوّن کیا گیااور اس عظیم خدمت کو حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل نےاپنےدور میں انجام دیا۔ ان کےبعد امام بخاری، امام مسلم، امام نسائی ، امام ابو داو¿د ، امام ترمذی اور امام ابنِ ماجہ نےاحادیث کی 7 درجوں پر مشتمل اسناد حاصل کیں۔جن میں صحیح ، حسن ، مرفوع، تواتر، خبرِواحد ، موضوع اور ضعیف میں احادیث مبارکہ کی درجہ بندی ہوئی۔ جو بعد میں طبقہ اولیٰ کےعلماءکےلئےآبِ کوثر ثابت ہوئیں ۔ حضرت اسماعیل بخارینےاحادیث کی چھان پھٹک کےلیےاسماءرجال کا فارمولہ ایجاد کیا تاکہ فقی مسائل کو حل کرنےکےلیےطبقہ اولیٰ کےعلماءکرام کی مدد ہو سکی۔
احادیث کےعلم کا اس قدر اہتمام اس لیےکیا گیا تا کہ مجہول عوام کو دین میں شامل حقوق و معاملات سمجھائےجا سکیں ۔ احادیث کےعلم کی اصولی تعلیم کےلیےہر شہر ، گائوں میں درسگاہیں تعمیر کی گئیں تا کہ پڑھنےلکھنےوالےافراد کتب احادیث کا عربی زبان میں مطالعہ کر سکیں۔ ہر دور میںاحادیث پر شرحیں لکھی جانےلگیںاور ایک ہی مسئلہ پر کئی کئی احادیث کو جمع کیا گیا ۔
اس خدمت کو سب سےپہلےامام احمدبن حنبل نےسر انجام دیا اور ایک طویل ترین نسخہ تجویز فرمایاجو”مسند“ کےعنوان سےآج بھی مکاتیب کی زینت ہی۔ اس نسخےمیں دینی معاملات کا اس قدر گہرا مطالعہ موجود ہےجو طبقہ اولیٰ کےعلماءکےلئےسمجھنا انتہائی آسان ہے۔ آپ رضی اللہ نےہر فقی مسئلہ پر دو، دو احادیث کو جمع کیاہوا ہی۔ اگر دیکھا جائےتو” مسندحنبل پر ایک مستقل یونیورسٹی قائم کرنےکی ضرورت ہے۔ آپ رضی اللہ نےاس مشقت طلب کا م میں آخری سانس بھی احادیث مبارکہ کی نظر کی ہے۔
موجو دہ دور میں احادیث مبارکہ کےعلم کی اشد ضرورت ہےکیونکہ احادیث مبارکہ کی تفہیم کےبغیر قرآن کی آیات محکمات پر عمل کرنا ناممکن حد تک مشکل ہی۔
لوگوں کےمابین معاملات کی فقّہ پر امام ابو حنیفہ نےگراں قدر خدما ت انجام دی ہیں ۔ قرآن کریم کی محکم آیات جن میں معاملات کےعلوم درج ہیں ۔ پہلی دفعہ آپ ہی کی ذات سےعوام تک پہنچےاور ہر خاص و عام میں آپ کا تذکرہ ہونےلگا۔
مجہول عوام آپ کی خدمت کو نمایاں کرنےکےلیےحکومتی ایوانوں تک پہنچ گئی ۔ حکومت کےچالاک اور ہوشیار طبقےنےآپ کو قاضی کا عہدہ پیش کیا لیکن یہ پیشکش آپ کی طبیعت پر ناگوار گزری۔ مگر پھر بھی آپ بڑےزیرک طریقےسےاس آزمائش سےعہدہ برآں ہوئے۔ عوام اور طبقہ اولیٰ کےعلماءآج بھی امام ابو حنیفہ کےگن گاتےہیں۔
مملکت بنوامیہ اور قرآن
بنوامیہ جب ا قتدار میں آئی تو اسو قت اسلام عرب سےباہر دور دراز علا قوں میں پھیل چکا تھا۔ بنوامیہ بظاہر بڑی خوش اخلاق لیکن بےحد کینہ پروراور بخل پر ست قوم تھی۔ اس قوم کا بانی حرب بن امیہ ہی۔ یہ قوم بڑی شاطر، دلیر، دغابازتھی۔ طوالت کےخوف کےپیش نظر یہاں اتنا ہی تعارف کافی ہی۔
ہندوستان میں اسلام محمد بن قاسم کی بدولت آیا تھا۔ محمد بن قاسم کےساتھ آئےہوئےبزرگان دین کےذریعےاسلام ملتان کی سر حد پار کر چکا تھا۔ اس بات کا علم جب حکومتی ایوانوں تک پہنچا تو محمد بن قاسم کو خلیفہ کےدربار میںطلب کیا گیا اور اسلام پھیلانےکےجرم میں سزائےموت دی گئی۔
ہندوئوں نےمحمد بن قاسم کی منصفانہ کوشش سےدلی طور پر اسلا م قبول تو کر ہی لیا تھا مگر جان جانےکےخوف سےان کا طبقہ بنوامیہ کےنئےگورنر کےسامنےاسلام کےمتعلق انجان بن گیا۔ جب انہوں نےمحمد بن قاسم کی شہادت کی خبر سنی تو بزرگان دین کی مدد سےسنسکرت زبان میں اللہ تعالی کا نا م بھگوان تجویز کیا تاکہ جاہل حکمران ان کو قتل نہ کرسکیں۔
محمد بن قاسم کےمجسمےکا نام بھی بھگوان رکھا گیا اس کےسات ہاتھ بنائےگئےاور شاہی تاج پہنےہوئےشیر کی سواری کرتا ہوا یہ بت مندروں کی زینت بن گیا۔ لوگ مندروں میں گھنٹیاں لگا کر اس بت کو سجدہ کرنےلگی۔ لیکن ہندو جوگ و سنیاس کاعلم رکھنےوالےافرادنےبزرگان دِین کی مددسی© ©”وید” کےعنوان سےآیات مبارکہ کےسنسکرت زبان میں نسخےتیار کیی۔ بعد میں ان نسخوں کو پڑھ کر گرونانک نےسکھ مذہب کی بنیاد رکھی اور سکھوں کےلیےگرنتھ کتاب لکھی۔
تاریخ کی کتب یہ تو بتاتی ہیں کہ حجاج بن یوسف نےقرآن کےلفظوں اور حرفوں پر اعراب لگوائےتھےلیکن مورخین نےیہ پتہ لگانےکی کوشش نہیں کہ حجاج نےنو مسلم پر جزیہ کی رسم کیوںشروع کی تھی؟
بنوامیہ کےجاہل خلفاءنےعورتوں کےبچوں پر سختی عائد کردی کہ بچےدو سال کےبعداپنی مائوںکا دودھ نہیں پئیں گےاور عورتیں حق مہر کی رقم پر بھی زکو ة اداکریںگی۔ ایسےوقت میں حضرت امام ابو حنیفہنےبچوں کےدودھ اور عورتوں کےحق مہر پر زکوة کی پابندی عائد کرنےسےحکومت کو باز رہنےکی اپیل کی۔ جس پرسر کاری علماءنےآپ پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ اس کےنتیجےمیں آپ کوزندان کےبھاری سلاسل کےساتھ بھوک پیاس کےعالم میں تین دن گزارنےپڑی۔ آپ کےساتھ قیدی حضرات آپ کی سیرت واخلاق سےمتاثر ہو کر مسلمان ہو گئی۔ حکومت نےجب یہ حالات دیکھےتو آپ کو رہا کردیا۔
بنوامیہ کےاس عمل کو بنو عباس کےخلفاءنےاپنےوقت میں پھر دہرایا اور طبقہ عقبیٰ سےتعلق رکھنےوالےامام احمد بن حنبل کو حکومتی فرقہ¿ اعتزال سےبغاوت کرنےکےجرم میں پابند سلاسل رکھا۔
حکومت کی نظرسےاگر کوی جّید ہستی بچ سکی ہےتو وہ حضرت امام شافعی ہیںجن کی باتیں حکومتی ایوانوں کوبھی ہلادیتی تھیں۔ آپ کےاندر قدرت نےیہ صلاحیت اہل بیت اطہار سےعقیدت کی وجہ سےرکھی تھی۔ یہی وجہ ہےکہ مسلک شا فعی سےتعلق رکھنےوالےافراد قرآن کریم کےہا شیےمیں ایک اضافی سجدہ تلاوت کا بھی اہتمام کرتےہیں۔
حضرت سفیان بن عینہ مشہور عالم دین ہیں جنہوں نےمفسرین اور مترجم حضرات کو قرآن کی متشابہات آیات کا ترجمہ وتفیسر کرنےسےمنع کیا تھا۔ مگر بدلتےحالات نےآپ کےفرمان کی قدر شناسی نہ کی اوران لوگوںنےحکومتِ وقت کا سہارا لےکر متشا بہات آیات کا ترجمہ اور تفسیر کرنا شروع کردیا اور اس طرح متشابہات آیات کےتراجم اور تفسیری مطالعےسےوحدانیت باری تعالی میں الحاد کی بنیاد پڑگئی۔لوگوں نےاللہ تعالیٰ کےاسماءحسنیٰ کےبارےمیں ذات و صفات کی بحث چھیڑ دی۔ اور یوں لفظوں اور حرفوں کےذریعےاللہ تعالیٰ کی قدرت کےبارےمیں من مانی تاویلیں کی جانےلگیں۔ ہر جاہل انسان الحاد کےفرقےمیں شامل ہوتا گیا۔ ان لوگوں نےطبقہ اولیٰ کےعلماءدین سےبغاوت شروع کر دی اور ارکان اسلام (نماز، روزہ، حج ، زکوة) کو موقوف کروا دیا اور اس طرح بدعات و خرافات کو عروج حاصل ہو گیا۔ یہ فتنہ اتنا شدید تھا کہ بیت اللہ اور مسجد نبوی کےرہائشی لوگ بھی ان من مانی بحثوں کا شکار بنی۔
اُدھر برصغیر کےہندوئوں اور سکھوں نےبھی مسلمانوں پر جملےکسنےشروع کر دیئی۔ نماز، روزہ ایک رسم کی شکل اختیار کر گیا۔ موجودہ وقت میں مساجد تو بہت ہیں لیکن معاشرہ اس فتنےکےباعث وہ نمازی پیدا کرنےسےمحروم ہےجو معاشرےمیں اخلاق و سیرت کا شعور بیدار کر سکتےتھی۔ کیونکہ موجودہ مسلم معاشرےمیں عبادات کےمعاملےمیں ریاکاری کا عنصر شامل ہو چکا ہی۔
عوام الناس کی خدمت میں علماءکرام کی التجائیں
بدلتےحالات کےپیش نظر ہم سب امتِ مسلمہ (عوام و خواص) پر توبہ کرنےکی عبادات لازم آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ معاشرہ اس وقت تک قائم ہےجب تک مولود دنیا میں آرہےہیں ۔ ہمیں اغیار کےطریقےچھوڑ کر نکاح کی سادگی اور اعمالِ صالحہ کی سعادت اپنانی ہو گی۔ کیونکہ نکاح اور اعمال صالحات کےذریعےہی معاشرہ با حیاءاور صالح افراد کو پیدا کر سکتا ہی۔
جبکہ معاشرےمیں اچھائی اور برائی دونوں عناصر موجود رہتےہیں اور انسان صفت افراد برائی کو کاٹ کر اچھائی کو پروان چڑھاتےہیں۔ مگر موجودہ حالات میں ایسا کرنا ہر ایک فرد کےلیےمشکل ہو رہا ہی۔ معاشرہ فحش طبیعت افراد کو جنم دےرہا ہےاگر وقت نےساتھ نہ دیا تو فحش طبیعت افراد ہی معاشرےکےخاتمےکا سبب بنیں گی۔
معاشرےکا اختتام تب ہی ہو جاتا ہےجب اچھےلوگ بدنام ہوں اور برےلوگوں کو عزت ملی۔ موجودہ معاشرےمیں اچھےلوگوں کو لباس کی ضرورت ہےجبکہ برےلوگ لباس پہن کر بھی ننگےگھوم رہےہیں۔ معاشرہ اخلاقی جرا¿ت سےمحروم ہی۔ اُمت مسلمہ کی خوش قسمتی ہےکہ امت مسلمہ میں ابھی تک آل ابراھیم موجود ہےاور کثرت میں موجود ہی۔ جبکہ آلِ محمد ناپید ہو چکی ہی۔ اب آل ابراھیم سےہی یہ توقع کی جا سکتی ہےکہ معاشرےکا رخ تولید سےتوحید کی جانب موڑ دیں۔ تا کہ معاشرہ اپنےمحبوب دین اسلام سےفیض یاب ہو سکی۔
(تمت بالخیر)
قرآن اور آل ابراھیم
آل ابراھیم کےمتعلق سورة بقرہ کہف، آل عمران اور کئی سورتوں میں مبہم ذکر موجود ہی۔ یہ قوم اچک زئی، خان، اعوان، علوی، قطب شاہی، ملک کےالقاب سےمعاشرےمیں مشہور ہی۔ اس قوم کا ظہور ہندوستان میں پہلی مرتبہ سلطان شہاب الدین غوری کےنام سےمنظر عام پر آیا۔ پھر نادر شاہ ، محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی سلاطین برصغیر میں مشہور ہوئی۔ اس قوم کا رہائشی علاقہ افغانستان ہی۔
اس قوم کےبیشتر افراد کا تعلق سادات گھرانےسےبھی ہےجن میں داتا علی ہجویری زیادہ مشہور صوفی بزرگ ہیں۔ اس کےعلاوہ عبدالطیف بھٹائی، رحمن بابا وغیرہ بھی اسی قبیلےسےتعلق رکھتےہیں۔ ان لوگوں کےزیادہ تر علماءگوشہ نشینی اختیارکرتےہیں۔ جیسےحضرت بایزید بسطامی معروف کرخی، سری سقتی، ابوالحسن خرقانی وغیرہ صوفیاءکرام میں مشہور ہیں۔ (داتا علی ہجویری اپنی کشف المحبوب میں انکا ذکر کرتےہیں)۔ یہ قوم کسی طرح کی لعنت و ملامت کی پرواہ نہیں کرتی مضبوط اعصاب رکھنےوالی یہ قوم محبت و اخوت سےسرشار رہتی ہی۔ پاکستان کا دارالخلافہ اسلام آباد بھی اسی قوم نےتعمیر کیا ہی۔ یہ قوم غیرت و عزت کےنام پر کٹ مرنےکو تیار رہتی ہی۔ خان قبیلہ کی یہ قوم زیادہ تر خانہ بدوش ہےجیسا کہ عربی قوم ہوا کرتی تھی۔ قریش کےقبیلہ بنو ہاشم کےطور طریقوں سےاس قبیلےکی مشابہت پائی جاتی ہی۔
پاکستان کی افواج میں شامل افراد جن کا تعلق اس قوم سےوابستہ ہےاپنا لوہا منوا چکےہیں۔ پاکستان کےجرنیلوں میں جنرل اختر عبدالرحمن، چیف آف دی جنرل سٹاف گل حسن خان، جنرل ٹکا خان، جنرل موسیٰ خان، کمانڈوز میں برگیڈیئر طارق محمود مسلم اکثریت کےحامل یہ افراد فقہ حنفی سےتعلق رکھتےہیں۔ اس قبیلےنےبڑےبڑےپہلوانوں کو جنم دیا ہی۔ کھیلوں میں شاہد آفریدی، سکواش میں جہانگیر اور جان شیر خان، گھڑ سواری اور پولو میں بھی کافی اچھےنام ابھر کر سامنےآچکےہیں۔ جنرل ضیاءکی شہادت کےبعدصدر غلام اسحق خان نےملک کو سیاسی بحران سےبچایا ۔ اس قوم کےفنکار اور اداکار کمزور عوام کےلیےتفریح ، طنز و مزاح کا اہتمام کرتےہیں۔ اس قوم کی اصل زبان فارسی تھی جو بعد میں پشتو اور ہندکو کی شکل اختیار کر چکی ہی۔ جبکہ مادری زبان فارسی ابھی بھی افغانستان میں رائج ہی۔ (تمت بالخیر)
توحید اور تولید
(ایک ادبی مکالمہ)
-1 جس طرح مخلوقات تولید کےنظام سےواقف ہی۔ اسی طرح انبیاءکرام علیہ سلام اور ان کےآل توحید کےمعاملات سےواقف ہیں۔
-2 جس طرح تولید کی خامیوں سےبچنےکےلیےنکاح یا شادی کرنی پڑتی ہےبالکل اسی طرح عقیدہ¿ توحید کی خرابیوں سےبچنےکےلیےانبیاءکرام کی پناہ پکڑنی پڑتی ہی۔
-3 عقیدہ تولید ، وہم، فسق وفجور، دشمنی ، مصائب پر مشتمل ہوتا ہی۔ اس کی صحبت میں شیطان کی ہم نشینی میسر آتی ہےبالکل اسی طرح عقیدہ¿ توحید سےحق و صداقت ، تقویٰ ، شعور بندگی اور نیک و صالح افراد کی صحبت میسر آتی ہی۔
-4 عقیدہ¿ تولید رکھنےوالا انسان کافر، مشرک، منافق یا مرتد کہلاتا ہےجبکہ عقیدہ¿ توحید کی طرف مائل انسان اللہ کا بندہ یا صرف مسلمان کہلاتا ہی۔
-5 عقیدہ¿ تولید موت اور فنائیت کا درس دیتا ہےجبکہ عقیدہ¿ توحید اس کےبرعکس ہی۔
-6 عقیدہ¿ تولید وبا ہےجبکہ عقیدہ¿ توحید شفاء
-7 عقیدہ¿ توحید میں عزت ہےجبکہ عقیدہ¿ تولید میں ذلت ہی۔
-8 اہل توحید کےلیےروشنی ہےجبکہ اہل تولید کےلیےاندھیرا۔
-9 عقیدہ¿ توحید شجر طیبہّ ہےجبکہ عقیدہ¿ تولید شجر خبیثہ ہی۔
-10 عقیدہ¿ توحید میں انعام ہےجبکہ عقیدہ¿ تولید میں دشمنی اور انتقام ہی۔
-11 توحید میں بسیرےہیں جبکہ تولید میں لٹیرےہیں۔
-12 عقیدہ¿ توحید میں شرافت اور پارسائی ہےجبکہ عقیدہ¿ تولید میں جھوٹ، ریا، مکاری اور چالبازی ہی۔
-13 عقیدہ¿ توحید میں مراد ہےجبکہ عقیدہ تولید میں فراڈ ہی۔
-14 توحید لاریب ہوتی ہےجبکہ تولید فریب ہوتی ہی۔
-15 توحید میں ثواب ہےجبکہ تولید میں عذاب ہی عذاب ہی۔
-16 توحید میں آنکھیں ہوتی ہیں جبکہ تولید میں ناکیں ہوتی ہیں۔
-17 توحید گھر بناتی ہےجبکہ تولید قبر بناتی ہی۔
-18 توحید انسان کو انسان بناتی ہےجبکہ تولید انسان کو حیوان بناتی ہی۔
-19 توحید اوپر ہےجبکہ تولید نیچےہی۔
-20 توحید پرستوں کےہاتھ ہوتےہیں جبکہ تولید پرستوں کےباتھ ہوتےہیں۔
-21 توحید میں راحت و عزت ہےجبکہ تولید میں مشقت و جہالت ہی۔
-22 توحید میں وحدت و اختیار ہےجبکہ تولید میں جدول و شمار ہی۔
-23 توحید کڑوا شہد ہےجبکہ تولید میٹھا زہر ہی۔
-24 توحید سرسبز و شاداب ہےجبکہ تولید ویران کھنڈر اور بےجان ہی۔
-25 توحید میں قربت ہےجبکہ تولید میں فاصلےہیں۔
-26 توحید عالی ہےجبکہ تولید خالی ہی۔
-27 توحید میں قلوب کی جلاءہےجبکہ تولید میں قلوب کی خلاءہی۔
-28 توحید عزم و ہمت کا نام ہےجبکہ تولید بدون(بدن کی جمع) و جہالت کا نام ہی۔
-29 توحید میں سمت متعین ہےجبکہ تولید میں زحمت متعین ہی۔
-30 عقیدہ¿ توحید علم و عمل سےآتا ہےجبکہ عقیدہ¿ تولید جہالت اور ظلم کی پیداوار ہی۔
مشورہ خادم انسانیت (حضرت علامہ محمد اقبال)
اپنی ملت کا قیاس اقوامِ مغرب پہ نہ کر
خاص ہےترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

آخری بات! توحید قول حُسن ثابت ہےجبکہ تولید قول فضول و قباحت ہی۔

قرآن اور کلمات توحید و رسالت
لا ا لہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ
اللہ تبارک و تعالیٰ نےمسلمان ہونےکےلیےایک انسان کےاچھےاخلاق مشروط کیےہیں ۔ اچھےاخلاق کےلوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی توحید کی دعوت سےضرور فیضیاب کرتےہیں۔ قرآن کریم میں فرعون، نمرود، قارون، ابولہب، ابوجہل اس کی ایک ادنیٰ مثال ہیں لیکن جب ان لوگوں نےاپنےاخلاقیات کو انبیاءو رسل علیہ سلام کےاخلاقیات سےبہتر سمجھنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نےان کےاچھےاخلاق کو شرک میں بدل دیا اخلاق کا شرک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ کےبعد منظر عام پر آیا۔ اللہ تعالیٰ نےمشرکین کےاخلاق کو شجر خبیثہ سےتشبیہ دی اور ان افراد کو اپنی مخلوق میں بدترین قرار دیا ہےاور حزب شیطان مخاطب کیا اور جن لوگوں کےاخلاقیات بھی اچھےتھےاور انہوں نےاللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت کو بھی قبول کیا اور انبیاءرسل علیہ السلام کےاخلاق کو اپنا امام بنایا اللہ تعالیٰ نےاپنےکلام (قرآن) میں انکی اعلیٰ مثال بیان فرمائی ہی۔ ان افراد میں شامل حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت بلال۔۔۔ کو شجر طیبہ سےتشبیہہ دی ہےاور ان افراد کو بہترین مخلوق قرار دےکر السابقون الاوّلون کا خطاب دیا ہےاور حزب اللہ کہاہی۔
قرآن اور صلاة و تسبیح (نماز)
اللہ تعالیٰ کی توحید اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم کرنےکےبعد سب سےپہلی ذمہ داری صلاة و تسبیح عائد کی گئی ہی۔ تا کہ اللہ اور اس کےرسول کو ہر اچھےبرےوقت میں پکارا جا سکی۔ اوقات مقررہ پر صلاة و تسبیح کو ادا کرنا مشروط اور فرض قرار دیا گیا ہےطبقہ اولیٰ اور اُخریٰ کےعلماءکرام ان عبادات کی ادائیگی کےمعاملےکو احسن طریقےسےعوام و خواص تک پہنچا رہےہیں۔
قرآن اور زکوة
اللہ تعالیٰ نےاپنےکلام میں انسان کےکچھ مالی عیوب بیان فرمائےہیں جن میں حرص و بخل، مال و اولاد سےبےپناہ محبت، نعمتوں کی ناشکری، لڑائی جھگڑا وغیرہ قابل فہم ہیں۔ ان عیوب کےخاتمےکےلیےاللہ تعالیٰ نےہر صاحب نصاب پر سال میں ایک مرتبہ ماہِ رجب میں زکوة کی عبادت کو مشروط کیا ہےاور جہاں جہاں صلاة و تسبیح کا ذکر قرآن میں آیا ہےوہاں زکوة کو بھی لازم قرار دیا ہی۔
علماءکرام اس مالی عبادت کا فہم عوام و خواص تک پہنچا رہےہیں۔ اس عبادت کےادا کرنےسےمندرجہ بالا عیوب سےانسان کو برا¿ت کی بشارت حاصل ہوتی ہی۔
قرآن اور روزہ
روزہ دین کےارکان میں ایک انتہائی آسان فہم اور قابل عمل عبادت ہےکہ اس کےادا کرنےسےانسان اپنےنفس کی پلیدی سےمحفوظ ہو جاتا ہی۔ روزےکی وجہ سےانسان فحش کلامی اور خبیث اعمال سےرہائی حاصل کر لیتا ہی۔ حصول تقویٰ کےلئےروزہ ایک بہترین عبادت ہی۔ روزہ اللہ تعالیٰ کی قربت کا ایک بڑا اہم ذریعہ ہی۔
روزہ رکھنےسےاچھےاعمال اورپاکیزہ کلمات الھام ہوتےہیں۔ قرآن میں روزےدار کی بڑی برکات بتائی گئی ہیں۔
قرآن اور حج بیت اللّٰہ
اس عبادت کی آذان اللہ تعالیٰ کےنہایت برگزیدہ اور اولوالعزم پیغمبر علیہ سلام نےدی ہی۔ حج کی فرضیت لاگو کرنےکےلیےاللہ تعالیٰ نےحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مناسک حج اور متاع حج کےلوازمات وحی فرمائےتھی۔ جو آپ نےاحسن طریقےسےاپنی اُمت کو سکھا دیئی۔ حج کی قبولیت کےساتھ ہی مغفرت کی ضمانت دی گئی ہی۔ حضرت ابراہیم علیہ سلام نےاپنی اولاد کےحق میں دعا کی تھی کہ انہیں بت پرستی سےبچانا اور ان کو کھانےاور پھل عطا فرمانا اللہ تعالیٰ نےان کی دعا قبول فرمائی اور اس طرح اسلام میں بت پرستی حرام ٹھہری اور بت پرستوں کےلیےحرم کعبہ میں داخلہ ممنوع ہو گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ سلام نےکعبہ تعمیر کرنےکےبعد اس پر کھڑےہو کر حج کےلیےآذان پکاری تھی۔
قرآن اور اہل شریعت
امت مسلمہ میں بہت سےطبقات مدعی شریعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےذریعےاپنی شریعت کےاُمور وضع فرمائےہیں۔ لہذا امت مسلمہ میں جو بھی شریعت کی پابندی کرتا ہےاس کےاعمال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ رسالت میں قبولیت کےلیےپیش کیےجاتےہیں اور جن امور شریعت میں امت کمزور ثابت ہوتی ہےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کےاِذن سےشفاعت کی درخواست کرتےہیں اور یوں کمزور و ناقص اعمال بھی آپ کی شفاعت کےذریعےاللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتےہیں۔
اس معاملےکی وجوہات دیکھی جائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دنیاوی حیاتِ طیبہ میں مخلوق میں صادق و امین کےلقب سےمشہور تھےاور اب اپنی رسالت کےصادق اور اللہ تعالیٰ کی توحید کےامین ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ آپ کی امت تمام (جن و انس) کےاعمال آپ کی بارگاہ رسالت میں قبولیت کےلیےپیش فرماتےہیں۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبسمِ رحمت فرمائیں تو امت کےاعمال براہ راست رب تعالیٰ تک پہنچ جاتےہیں اور اگر آپ گریہ فرمائیں تو آپ کی امت کےکمزور اعمال ملائکہ ایک ہزار سال کی مدت کےانتظار کےبرابر اللہ تعالیٰ تک پہنچاتےہیں۔
قرآن اور اہل طریقت
میدان کربلا کےحادثےکےبعد اہل بیت اطہار نےاپنےرہن سہن کو تبدیل فرما دیا ۔ عوام الناس سےگھلنا ملنا چھوڑ دیا۔ گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ اس صورت حال کو دیکھتےہی آل محمد کےافراد نےبھی اہل بیت اطہار کی طرزِ معاشرت اختیار کی۔ اس طرح امت مسلمہ میں طریقت کی بنیاد پڑی۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےاہل و عیال کےساتھ محبت کرنےکی تلقین فرمائی ہی۔ لہذا امت میں جو کوئی بھی مدعی طریقت ہےاگر اُسکی نسبت آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا اہل بیت اطہار سےملتی ہےتو اس کی دعوت طریقت کو مستند مانا جائےگا ورنہ مدعی طریقت کو مشکوک تصور کیا جائےگا۔ یاد رہےکہ طریقت ، شریعت کےایک پہلو کا نام ہی۔
شریعت سےہٹ کر طریقت، طریقت نہیں بلکہ ظریفت یا ظرافت ہے۔ آجکل کی طریقت (صوفی اِزم) کےنام سےمشہور ہےیا یوں کہا جائےتو زیادہ بہتر ہو تا کہ ”مستند طریقت اللہ کی شریعت میں داخل ہونےکا ایک مو¿ثر ذریعہ ہی“۔
اگر مدعی طریقت کا قول و فعل شرعی احکام کےمتضاد ہو تو ایسےطریقت والےکو عالمِ اسلام کےاسلاف کےنزدیک خارجی کہا جائےگا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا خوارج سےیہی کلام ہےکہ ”شک کی عبادت سےبہتر ہےکہ یقین کی نیند سو جائیں“۔ تاریخ کی جانب دیکھیں تو ہمیں طریقت کی صحیح اصطلاح یہ ملتی ہےکہ آل محمد اور اہل بیت اطہار سےعقیدت رکھنےکا نام طریقت ہی۔ جبکہ شریعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےاسوہ حسنہ پر اپنی استطاعت کےمطابق چلنےکا نام ہی۔
شریعت پر عمل کرنےکےلیےاخلاص کی ضرورت ہےاور تاریخ گواہ ہےکہ اسلام مخلص حضرات کی بدولت ہی دنیا میں پھیلا ہی۔ اخلاص کی نعمت آل محمد اور اہل بیت اطہار سےعقیدت رکھنےسےملتی ہی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان کی اولاد اخلاص کی نعمت کا علم رکھتی ہی۔ لہذا آل محمد اور اہل بیت سےنسبت جوڑنا ہی طریقت ہی۔ اب اگر طریقت آل محمد و اہل بیت اطہار سےٹکرائےتو اللہ رب العالمین ایسےمدعی طریقت کا خود محاسب ہی۔ کیونکہ طریقت کا مقصد شریعت سےجوڑنا ہے زمانہ گواہ ہےکہ اہل بیت اطہار و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاصولی طریقت کا فرض منصبی خوب نبھایا ہی۔

اور شاعر کہتا ہی۔
آقا کےغلاموں کی عظمت تو ذرا دیکھو
سر نیزےپہ ہےپھر بھی قرآن سناتےہیں
صحیح اہل طریقت اپنی نسبت اہل بیت اطہار اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سےجوڑتےہیں تا کہ انہیں شریعت رسول اللہ حاصل ہو سکی۔ اب اگر مدعی طریقت اہل بیت اطہار اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اخلاق کا درس نہیں دیتےتو ان کا شریعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنا نا ممکن حد تک مشکل ہےکیونکہ طریقت ہی شریعت کو پہچاننےکا ذریعہ ہی۔ اب جو حضرات طریقت کو شریعت سےالگ تصور کرتےہیں تو ان حضرات کی آستینوں میں مال و اسباب کےسانپ چھپےہوئےہیں ۔ جن سےمجہول عوام لاشعور رہتی ہی۔
اور یہی مدعی طریقت مال و اسباب کےدکھاوےسےکثیر افراد کی گمراہی کا بھی سبب بنتےہیں۔
ایسےجاہل علماءاور جاہل صوفیاءکےبارےمیں قرآن پاک کی سورة التوبہ میں بڑی سخت وعید نازل ہوئی ہےکیونکہ یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کےدشمن ہیں۔ مجہول عوام کو اپنےخود ساختہ فلسفےمیں پھنسا کر دادِ عیش وصول کرتےہیں۔ مرزا قادیانی اور ریاض گوہر شاہی ایسی طریقت کی ایک ادنیٰ مثال ثابت ہو چکےہیں۔
اصولی طریقت ہمیشہ سےشریعت کی معاونت ہی کرتی رہی ہی۔ حضرت امام ابو حنیفہ ، حضرت امام مالک ، امام شافعی اور امام حنبل اصولی طریقت کی ایک اعلیٰ مثال ہیں۔ اگر ان حضرات کو آل محمد میں شمار کیا جائےتو کوئی حرج نہیں۔ (واللہ اعلم بالصواب) (اور اللہ ہی جانتا ہےکہ کس کی بات درست ہی)۔

نعت رسول مقبول
دونوں عالم میں خدا اور مصطفیٰ کا نور ہی ہےخدا سےدور جو پیارےنبی سےدور ہی
ہیں شاہِ ابرار محبوبِ خدا سلطانِ دیں دونوں عالم میں محمدکا کوئی ثانی نہیں
اللہ ہےرب العالمین اور محمد رحمت العالمین پائی ہےمعراج کی مولا سےعظمت آپ نی
کی ہےسب نبیوں کی اقصیٰ میں امامت آپ نی بانٹ دی بندوں میں دینِ حق کی دولت آپ نی
آج ہر مومن کا دل ایمان سےمعمور ہے آنکھ ہےوہ آنکھ جس میں ہےضیائےمصطفی
لب وہی لب ہےرہےجس پر ثنائےمصطفی جان تو وہ جان ہےجو ہو فدائےمصطفی
دل وہی دل ہےجو عشقِ مصطفی میں چُور ہے دونوں عالم میں خدا اور مصطفی کا نور ہی
ہےخدا سےدور جو پیارےنبی سےدور ہی


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 88
    مسیحائےوقت“ کےبارےمیں صدائےزمان لاہور کےکالم تحریر : محمد عارف رائےمحمد اشرف صاحب کےروزنامہ ” صدائےزمان“ لاہور میں ” مسیحائےوقت“ کےنام سےجناب عنایت اللہ صاحب کا ایک کالم نظر سےگذرا۔ جناب عنایت اللہ صاحب محب وطن پاکستانی اور قومی نقطہءنظر کےحامل دانشور ہیں۔ جناب عنایت اللہ صاحب کی علمی تصنیف ”…
  • 84
    بابا جی عنایت اللہ اور جمہوری نظام مملکت تحریر : پروفیسرمحمد عارف بابا جی عنایت اللہ اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ بابا جی نےاپنی نثری تالیفات میں صبح جمہوریت کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہی۔ وہ فرنگی سیاست کی چالبازیوں، دو قومی نظریئےاور تشکیل پاکستان جسےموضوعات پر خامہ…
  • 83
    ماہنامہ ”شعوب “ میری نظر میں تحریر شوکت محمود اعوان مجھےماہنامہ شعوب کراچی پر قلم اٹھاتےہوئےطمانیت کا احساس ہو رہا ہی۔ میری نگاہوں کےسامنےوہ سارا زمانہ آ گیا جب میں اور ملک محبت حسین اعوان نےاعوان قبیلےکی تاریخ مرتب کرنےکا بیڑہ اٹھایا۔ مجھےوہ وقت کبھی بھی نہیں بھول سکتا کہ…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply