”حالِ فقیر“ محمد عارف

”حالِ فقیر“
(محمد عارف ٹیکسلا)
گروپ کیپٹن(ر) شہزاد منیر سےٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔ تو وہ مجھےپہلےسےہی جانتےتھی۔ میں نےانہیں اپنی اس خواہش سےآگاہ کیا کہ میں ڈاکٹر تصدق حسین کےبارےمیں کچھ خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہیں ”حالِ فقیر “میں شامل کر لیا جائےتو میرےلئےسعادت کی بات ہو گی۔ گروپ کیپٹن (ر)شہزاد منیر نےانتہائی خندہ پیشانی سےمیرا استقبال کیا اور مجھےکھل کر لکھنےکی دعوت دی۔ لہذا” حالِ فقیر“ میں میرا مضمون ” ڈاکٹر تصدق حسین المعروف بسم اللہ سرکار “ شامل ہی۔ یہ وہ مضمون ہےکہ جس سےمیرےڈاکٹر تصدق حسین سےذہنی و فکری روابط کا بھرپور اندازہ کیا جا سکتا ہی۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ ڈاکٹر تصدق حسین پر پہلی مبسوط علمی تصنیف ” تجھےگر فقرو شاہی کا بتا دوں۔ڈاکٹر تصدق حسین حیات و خدمات“ میرےہی قلم سےنکلی اور رومیل پبلیکیشنز ہاو¿س راولپنڈی سے2010 ءمیں زیورِ اشاعت سےآراستہ ہوئی۔ ”حالِ فقیر“ اسی موضوع کی توسیع ہی۔ گروپ کیپٹن (ر)شہزاد منیر کو بھی قرطاس و قلم سےنسبت ہی۔ان کی اس وقت تک مندرجہ ذیل کتب شائع ہو چکی ہیں :۔
١۔ سوئےدانش
٢۔ درویش بےکلاہ
٣۔ بےکلاہ لکھتاہی
٤۔ زندہ آنکھیں مردہ خواب
٥۔ پاکستان کےدرویش قبائل
٦۔ ارمغانِ فقیر
٧۔ قومی ہیرو بنئی
٨۔ گئےدن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
٩ Mosaic of Retirement
٠١۔ فرسودہ خیال
١١۔ قائد اعظم کےفیصلی
ڈاکٹر تصدیق حسین کی شخصیت اور ان کےفن کےبارےمیں مختلف افراد نےوقتاََ فوقتاََ جو مضامین تحریر کئےہیں انہیں ”حالِ فقیر“ میں شامل کر دیا گیاہی۔ یہ مضامین ڈاکٹر تصدق حسین کی علمی و روحانی زندگی کےبارےمیں متعد د خفتہ گوشوں کو بےنقاب کرتےہیں جن سےان کی زندگی کھل کر سامنےآ جاتی ہی۔ ڈاکٹر تصدق حسین لمحہءموجود کےوہ شہرہءآفاق مترجم ، مولف ، افسانہ نگار ، سوانح نگار اور صوفی دانش ور ہیں۔ جن کی زندگی کےمتعدد پہلو ایسےہیں جو ابھی تک پردہءاخفا ءمیں ہیں اور ان پر سیر حاصل بحث کی ضرورت ہی۔ ڈاکٹر تصدق حسین نےکولیمبیا کی پیسیفک یونیورسٹی سےنسیم حجازی کی شخصیت و فن پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہ مقالہ انگریزی میں تھا اور ہنوز تشنہءاشاعت ہی۔ اس مقالےکی اشاعت کی بھی ضرورت ہی۔ صوفی بزرگ سید عبدالرشید نےان کےنام جو خطوط تحریر کئےہیں ان کی تعداد ساڑھےسات سو سےزیادہ ہی۔ یہ وہ خطوط ہیں کہ جو فقری تعلیمات اور قرآن حکیم کےموضوع پر لکھےگئےہیں۔ اگر یہ خطوط منظرِ عام پر آ جائیں تو بنی نوعِ انسان کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتےہیں۔ ڈاکٹر تصدق حسین کےپروفیسر عبدالعزیز سےروابط بھی ڈھکےچھپےنہیں ہیں۔ یہ وہی پروفیسر عبدالعزیز ہیں کہ جنہوں نی” نیلام گھر“ کےنام سےکوئٹہ ریڈیو سےپروگرام شروع کیا تھا ۔انہوں نےفلم” گھونگھٹ “کےلئےگیت بھی لکھےتھی۔ مگر آج ان کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔ جاوید چوہدری نےزیرو پوائنٹ میں ایک کالم لکھا جسےپڑھ کر ڈاکٹر تصدق حسین ان سےملنےکےلئےچلےگئےاور انہوں نےچند ملاقاتوں میں انہیںتصوف کا ایک تہائی مقام عطا کیا۔ واضح ہو کہ انہیں یہ مقام خدمتِ انسانیت کےشعبےمیں دیا گیا تھا۔ یہ امر بھی انتہائی اہم ہےکہ پروفیسر عبدالعزیز کی زندگی کےبارےمیں جامع تحقیق کی جائےاور وہ پہلو بھی ڈھونڈھےجائیں جو ابھی تک سامنےنہیں آ سکی۔ ڈاکٹر تصدق حسین نے” متاعِ فقیر“ میں کافی روحانی واقعات بیان کر دیئےہیں مگر ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہےجس کےورق ورق کو سمیٹنا لمحہءموجود کا تقاضا ہی۔ پروفیسر عبدالعزیز اس دنیا میں نہیں ہیں مگر یہ کھوج لگانےکی بھی ضرورت ہےکہ ان کا خاندانی پس منظر کیا تھا۔ ان کےوالدین کون تھی، وہ رشتہءازدواج میں کب منسلک ہوئی۔ وہ روحانی دنیا کی طرف کیسےراغب ہوئے اور کن کن بزرگوں سےفیض حاصل کیا۔ کیا پروفیسر عبدالعزیز باقاعدہ طور پر کسی سےبیعت تھےیا کہ نہیں۔ ڈاکٹر تصدق حسین نےمحض چند واقعات کا تذکر ہ کردیا ہےجو کہ آپ بیتی کےرنگ میں ہیں مگر پروفیسر عبدالعزیز جیسی باوقار اور بلند پایہ شخصیت کے بارےمیں جس عرق ریزی کی ضرورت ہےابھی تک نہیں کی جا سکی۔ یہ جاننا بھی ضروری ہےکہ پروفیسر عبدالعزیز کےحلقہءاحباب میں کون کون لوگ تھےاور ان کےزیر تربیت آنےوالےافراد میں ڈاکٹر تصدق حسین کےعلاوہ کون کون گوہر تابدار تھی۔ اگر وہ حیات ہیں تو ان کی یاداشتیں اکٹھی کرنی چاہئیں ۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہےکہ پروفیسر عبدالعزیز نےمطبوعہ اور غیر مطبوعہ کتابیںکون کون سی لکھی ہیں۔ ان کےدوستوں اور عزیزوں کو لکھےگئےخطوط کا بھی کھوج لگانا پڑےگا۔ پروفیسر عبدالعزیز ہنستی بستی ہوئی دنیا کو چھوڑ کر چالیس سال تک جنگلوں اور بیابانوں میں چلہ کشی میں مصروف رہےاور جب آئےتو مستجاب الدعوات تھی۔ پروفیسر عبدالعزیز اور ڈاکٹر تصدق حسین کےدرمیان رشتہ و پیوند سےمتعلق مزید حقائق کو بھی سامنےلانےکی ضرورت ہی۔ یا شاید ان پس پردہ اسرار و رموز کو دنیا کےسامنےآنےکےلئےابھی وقت درکار ہے۔ڈاکٹر تصدق حسین ایک گوشہءگمنامی میں پڑےہوئےوہ مردِ فقیر ہیں کہ جن کا اللہ ان کےساتھ ہی۔ وہ مخلوقِ خدا کےلئےدن رات مصروفِ خدمت ہیں ۔ ان کی زندگی کا مقصد دوسروں کےکام آنا ہی۔ وہ مستجاب الدعوات ہیں۔ مگر جبہءو دستار اور عمامہ و مسند سےکوسوں دور ہیں۔ انہیں پروفیسر عبدالعزیز صاحب نےاللہ کا جھنڈا بھی عطا کیا ہےاور انہیں اس بات کی اجازت بھی دی ہےکہ وہ میرا لنگر جاری رکھ سکتےہیں۔ انہیں یہ مشن بھی سونپا گیا ہےکہ وہ اللہ والوں کی ایک جماعت بنائیں گی۔ ڈاکٹر تصدق حسین کی مرتبہ علمی تصنیف ” حالِ فقیر“ نےمحمد قدیر، آفتاب احمد ملک، نیاز عرفان، خالد خلیل ، ارم زبیر(بہو) ذوالفقار حیدر راجا (بیٹا) محمد مظہر اقبال نظامی ، اقرار حسین شیخ، سیدہ جنت الفردوس، نذیر بیگم اہلیہ ، احمد محمود ،محمد عارف، محمد رشید آفرین، پروفیسر ارشد محمود ، محمد ریاض جنجوعہ ، کرنل (ر) مظفر علی خان، سید محمد افسر ساجد، عبدالصمد، مسز فوزیہ عالم (بیٹی) انجینئر منور علی قریشی کےمضامین کےعلاوہ گروپ کیپٹن شہزاد منیر کا ایک انٹرویو بھی شامل ہی۔ کتاب کےآخر میں مکاتیب سید عبدالرشید بنام ڈاکٹر تصدق حسین کل آٹھ خطوط شامل کئےگئےہیں۔ ”حالِ فقیر“ کی سب سےخاص بات شہزاد منیر کا وہ مقدمہ ہےجو انہوں نےکتاب کےآغاز میں شامل کیا ہی۔ یہ مقدمہ کل چھبیس صفحات پر مشتمل ہےجس میں شریعت و طریقت، عرفان و سرمستی ، عصری مسائل ، اور علم تصوف کےبارےمیں بعض حقائق منفرد انداز میں بیان کئےگئےہیں۔ شہزاد منیر کےمقدمہ سےچند ایک اقتباسات ملاحظہ فرمائیں :۔
(١) ” عارف کی پہچان ہی یہ ہےکہ وہ دین و شریعت کےحدود و حلقہ میں رہ کر معاشرےکا فعال رکن بن کر رہتا ہی“۔
(٢) ”ڈاکٹر تصدق حسین کا نظریہ یہ ہےکہ ” جاہل اور کم کوش شخص کی جڑیں بےعلم اور بنجر زمین میں ہوتی ہیں۔ جب تک اس زمین کا سینہ علم و دانش اور جدید خنجر سےنہ چیرا جائےجہالت ختم نہیں ہوتی“۔
(٣) ” تصوف کائنات کا مشاہدہ اور فطرت کا عرفان ہی۔ یہ نہ تو کوئی دین ہےنہ لادینیت اور نہ ہی کوئی مذہب و فرقہ بلکہ نظریہءحیات ہے جو اپنےاللہ کےقہر و غضب سےڈرنےوالےاور عاجزی و انکساری سےلوگوں سےلین دین کرنےوالےراتوں کو اٹھ اٹھ کر رو رو کر اپنےاللہ سےفلاحِ عظیم چاہنےوالےلوگ اپناتےہیں “۔
ڈاکٹر تصدق حسین کےافکار و نظریات میں سےچند کا انتخاب بھی پیش کیا جاتا ہے:۔
(١) ” وطنِ عزیز کےسکولوں اور کالجوں میں یہ جو غیر ملکی نصابِ تعلیم آیا ہےاور ان تعلیمی اداروں کا الحاق امریکی اور برطانوی یونیورسٹیوں سےکرانےکےبعد لاکھوں روپےفیسوں کی شکل میں وصول کئےجانےلگےہیں۔ اس میں جو کردار بزمِ ادب ادا کرتی تھی وہ ختم ہو گیا۔ اس کا سب سےبڑا نقصان یہ ہوا کہ اچھا استاد پیدا ہونا بند ہو گیا “۔
(٢) ” نوجوان نسل کسی قوم ، ریاست اور ملک کا سرمایہ ہوتی ہی۔ اس صدی میں جدید سائنسی علوم کا جو سیلاب آیا ہی۔ اس نےآج کےنوجوانوں کو بہت متاثر کیا ہےاور ایسا اسوقت ہوا جب وہ اپنےماضی کی تعلیمات سےاپنےکلچر سےپہلےہی بہت دور ہو چکا تھا۔ مغربی تعلیم اور اس مغربی تہذیب نےجس سےخود مغرب والےنالاں تھی۔ اسےاپنےرنگ میں ایسا رنگ ڈالا کہ وہ جلدی جلدی تعلیم کا کچھ حصہ یہیں مکمل کرنےکےبعد یورپ بھاگ جانےکےخواب دیکھنےلگا تھا“۔
(٣) ” بچہ اپنی مادری زبان میں بہتر اظہارِ خیال کرتا ہی۔ اردو رابطےکی زبان ہی۔ بچوں کو اس میں دسترس حاصل ہونی چاہیئی۔ انگریزی ایک اور بڑی زبان ہی۔ جو دنیا کےبہت سےملکوں میں پڑھائی جاتی ہی۔ اسےبھی ضرور سکھایئےمگر مادری زبان کو اس طرح نظر انداز نہ کریں۔“۔
(٤) ” شاعری کا انگریز ی سےاردو میں ترجمہ کسی حد تک ہو سکتا ہی۔ لیکن اردو سےانگریزی میں ترجمہ بےحد مشکل کام ہی۔ اور شعری روح کو Capture کرنا تو ناممکن ہوتا ہے۔ پھر جب شاعری بھی اقبال کی ہو تو کام اور کٹھن ہو جاتا ہی۔ نثر میںترجمہ نسبتاََ آسان ہوتا ہی“۔
سید عبدالرشید دوسری عظیم شخصیت ہیں جن کا مختصر تعارف مکاتیب سید رشید علی عبدالرشید کےعنوان سےشاملِ کتا ب کیا گیا ہی۔ سید عبدالرشید فاطمی سید نجیب الطرفین تھے۔ ان کےبزرگ طوسی شہر ایران سےآئےتھےجو اب مشہد کہلاتا ہےاور جہاں سیدنا ابوالحسن محمد علی رضا کا روضہ ہی۔ پھر سید صاحب کےبزرگ ہرات یعنی افغانستان آئے۔ قندھار میں حسن ابدال ولی قندھاری اسی خاندان سےہیں اور پیر بابا کہلاتےہیں۔ قیام پاکستان کےوقت 1947 ءمیں سید صاحب کےبزرگ قلعہ بہادر گڑھ ضلع رہتک میں شہید کر دیئےگئےتھی۔ اکبر بادشاہ اور ان کی والدہ سید حسن ابدال ولی قندھاری کےبہت معتقد تھی۔ انہوں نےچشموں کےپاس بستی کو حسن ابدال کا نام دیا اور اس کےقریب پہاڑی کو ولی قندھاری کی پہاڑی پکارا۔ اکبر بادشاہ نےگرمی میں چشمےکےٹھنڈےپانی میں ڈبکی لگائی اور باہر نکلنےپر منہ سےواہ نکلا جب سےیہ بستی واہ کہلاتی ہی۔ سید عبدالرشید کی زندگی کےمزید گوشوں کو بھی بےنقاب کرنےکی ضرورت ہی۔ کیوں کہ ان کےخطوط اور چند ایک یاداشتوں سےمحدود واقعات پتہ چلتےہیں۔ سید عبدالرشید کےخاندانی پس منظر ، ان کی تعلیم، ملازمت، اعزازات کےعلاوہ انہوں نےجن بزرگوں سےاستنباطِ فیض کیا ان کےبارےمیں معلومات اکٹھی کرنےکی ضرورت ہی۔ واحد رشید ان کےواحد فرزند ہیں جو ان دنوں ملک سےباہر ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو اپنےوالد محترم کی زندگی کےواقعات کےبارےمیں خود یاد داشتیں مرتب کر سکتےہیں۔ واضح ہو کہ سید عبدالرشید کےخطوط کا بھی ایک پس منظر ہے کیوں کہ انہیں براہ راست عالم رویا میں نبی کریم سےفقرِ قران حاصل ہوا تھا۔ ڈاکٹر تصدق حسین کےعلاوہ بھی کچھ ایسی شخصیات ہیں جن سےان کی خط و کتابت رہی ہےان کےتعارف اور سید عبدالرشید کےساتھ ان کےتعلقات کو بھی سامنےلانےکی ضرورت ہی۔ واضح ہو کہ سید عبدالرشید کے خطوط میں زندگی بسر کرنےکےسنہری اصول ملتےہیں۔ وہ ایک صوفی بزرگ تھےجنہوں نےفقر و استغنائ، سیاسیات حاضرہ، تاریخِ پاکستان ، قائد اعظم ، علامہ اقبال، اور مختلف روحانی شخصیات کےبارےمیں ہی نہیں بلکہ اسلام کےنظام معیشت اور سیاست کےمتعلق بھی قران حکیم کی روشنی میں انتہائی خوبصورت اظہار خیال فرمایا ہی۔ میرا ایمان ہےکہ اگر ان خطوط کو ایک ہی کتاب میں مرتب و مدون کرکےشائع کر دیا جائےتو آئندہ آنےوالی نسلیں یہ احسان کبھی فراموش نہیں کریں گی۔ یہ وہ خطوط ہیں جو علم لدن ہیں۔ یہ وہ علم ہےجو سینہ بہ سینہ سفر کرتا ہےاور دلوں کو مہمیز کر کےرکھ دیتا ہی۔ سید عبدالرشید کےڈاکٹر تصدق حسین کےساتھ تعلق کی معنویت کو بھی سمجھنےکی ضرورت ہےکہ آخر راولپنڈی اسلام آباد جیسےوسیع و عریض علاقےمیں سےآخر ڈاکٹر تصدق حسین ہی کیوں توجہ کا مرکز بنتےہیں۔ مسئلہ یہ ہےکہ ڈاکٹر تصدق حسین گدڑی میں چھپےہوئےایسےلعل ہیں جنہوں نےاپنےآپ کو زمانےکی نگاہوں سےچھپایا ہوا ہی۔ مقام حیرت ہےکہ ابھی تک لوگ انہیں پہچان ہی نہیں سکی۔ان سےوابستہ سینکڑوں افسانےاور قصےاس وقت سامنےآئیں گےجب پلوں کےنیچےسےپانی بہہ چکا ہوگا۔ ڈاکٹر تصدق حسین جیسےلوگ مرتےنہیں بلکہ تاریخ کےصفحات میں ہمیشہ زندہ رہتےہیں ۔ ان کی علمی اور روحانی خدمات آب زر سےلکھےجانےکےقابل ہیں ۔ ”حالِ فقیر“ بھی در اصل ان کی زندگی کےچند مخصوس واقعات کو تاریخ میں محفوظ کرنےکی ہی ایک کوشش ہےجو لائقِ تحسین ہی۔ معروف ادیبہ افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار بانو قدسیہ” حالِ فقیر“ کےبارےمیں رقم طراز ہیں کہ ” شخصیات نگاری ادب کی اہم صنف سخن ہی۔ اس کےلئےبہت ہی باریک بینی سےشخصیت کا جائزہ لینا بہت ضروری ہوتا ہی۔ کسی بھی شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں کا مکمل جائزہ پیش کرنےکےلئےفنی مہارت درکار ہوتی ہی۔ تبھی ہی شخصیت نگاری کا حق ادا ہو پاتا ہی۔یوں شخصی مضمون خاکےکےقریب ہو جاتا ہےاور خاکہ پڑھتےہوئےافسانےکا لطف اٹھایا جا سکتاہی۔ گروپ کیپٹن (ر) شہزار منیر نی” حالِ فقیر“ کےنام سےمضامین کی کتاب مرتب کی ہی۔ یہ مضامین ڈاکٹر تصدق حسین المعروف بسم اللہ سرکار کی شخصیت کا بڑا جامع انداز میں احاطہ کرتےہیں۔
”حال فقیر “ ” متاع فقیر“ جیسی کتابیں دراصل ان کی فقری زندگی کا عکس ہیں۔ یہ ان کےاپنےہی روحانی تجربات اور مشاہدات ہیں جنہیں مختلف اسالیب بیان میں ڈھال کر بیان کیا جاتا ہی۔ متاعِ ِفقر وہ دولت ہی۔ کہ جس کےبارےمیں علامہ محمداقبال نےفرمایاتھا :۔
” داراو سکند ر سےوہ مرد فقیر اولی
جس فقر سےآتی ہو بوئےاسداللہی
ڈاکٹر تصدق حسین وہ خوش نصیب انسان ہیں جنہیں بارگاہ خداوندی سےیہ دولت نصیب ہوئی ہی۔ وہ مقربین خدامیں سےہیں۔ اور ان کی زندگی ہمارےلئےایک نمونہ عمل ہی۔ خداوند کریم ان کا سایہ ہمارےسروں پر ہمیشہ قائم رکھی۔ امین۔
یہ امر بھی ذہن میں رکھنا چاہیئےکہ میں نے”ڈاکٹر تصدق حسین حیات و خدمات“ کےنام سے2010 ءمیں ایک کتاب مرتب کی تھی۔ جس میں ملک کی اہم علمی و ادبی شخصیات اور ان کےدوست احباب کےتاثرات شامل کر دیئےگئےتھےاور اب گروپ کیپٹن (ر) شہزاد منیر احمد ”حالِ فقیر“ کےنام سےمزید چندنئےپہلو سامنےلےآئےہیں جس کےلئےوہ مبارک باد کےمستحق ہیں۔ واضح ہو کہ میں نےیہ کتاب حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کےایماءپر تحریر کی ہی۔ جو لمحہءموجود کےمعروف شاعر، فلسفی اور دانش ور تھی۔

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 78
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 75
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 71
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply