حج دا سفر نامہ تحریرمحمدعارف

حج دا سفر نامہ
تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا)
ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی ہر شےنظر میں سما جانےوالی ہو ، تماشا ، نغمہ و نکہت، ہر صورت و رنگ ، لفظوں کی امیجری، میں جمع ہو کر بیان کو مرقع بہاراں بنا دی۔ اور قاری ان تمثالوں کےاندر جذب ہو کر خود کو اس مرکبِ آئینہ گری کا حصہ بنا دی“۔
غلام الثقلین نقوی” اوراق“ میں لکھتےہیں : ” سیاح کو انسان کا صحیح عرفان حاصل ہو جاتا ہےوہ طرح طرح کےآدمیوں سےملتا ہی۔ اور انسان فہمی و انسان شناسی کےبہت سےمدارج طےکر لیتا ہی۔ سیاح کی جذباتی دنیا بہت وسیع ہوتی ہی۔ اس کی آنکھ سےتعصبات کی عینک اتر جاتی ہی۔ وہ ایک فضا سےدوسری فضامیں پہنچتا ہےتو اس کی بوسیدہ و فرسودہ کینچلیاں ایک ایک کرکےاترتی چلی جاتی ہیںاور اس تجربےکےبعد اسےجو نئی جلا عطا ہوتی ہی۔ وہ پہلی سےکہیں زیادہ حساس اور نازک ہی۔ یہی وہ صفت ہےجو سیاحت کو ایک رومانی سفر میں بدل دیتی ہی“۔
حج دین اسلام کےارکانِ خمسہ میں سےہی۔ میاں محمد اعظم نےاپنےحج کےسفر کا منظوم پنجابی سفر نامہ سپرد ِ قلم کیا ہی۔ جس سےان کی اسلام سےمحبت اور حادیءاسلام سےگہری ، قلبی عقیدت کا پتہ چلتا ہی۔ حج کا سفر محبت کا سفر ہی۔ جیلانی کامران نےدرست لکھا ہےکہ ” حج کےسفر نامےبنیادی طور پر محبت کےسفر نامےہیں۔ محبت کےجذبےکےبغیر یہ سفر شروع ہی نہیں ہوتا“۔
پنجابی ادب کی شعری روایت میں میاں محمد بخش کی سیف الملوک ، وارث شاہ کی ہیر وارث شاہ جیسی کتب بےپناہ اہمیت کی حامل ہیں۔ میاں محمد اعظم کی شامل کتاب حمد سےسفر نامےکا آغاز کیا گیا ہی۔ ظہور ِ محمد ی ایک دلچسپ نظم ہے۔ ان کی پنجابی شاعری دراصل ایک مخصوص لوک آہنگ رکھتی ہی۔ ان کی شعری بوطیقا دل کےبربط پہ گائی جا سکتی ہی۔ میاں محمد اعظم میں اپنےسفرنامہءحج کےحالات و واقعات کو بالترتیب منظوم انداز میں بیان کر دیا ہی۔ تیاری، روانگیِ سفر، مدینہ میں قیام، جیسی نظمیں لائقِ توجہ اور دیدہ زیب ہیں۔ ”مدینہ میں قیام“ ایک ایسی نظم ہےکہ جس میںانہوں نےوہاں کےماحول اور کیفیات کو صفحہءقرطاس پر بکھیر کر رکھ دیا ہی۔ مدینےکےکاروبار ، آب و ہوا، قانون کی پابندی اور وہاں کےحسنِ انتظام کی مثالیں بھی دی گئی ہیں۔ انہوں نےیہ بھی بتایا ہےکہ وہاں کےہوٹلوں پر پاکستانی بنگلہ دیشی اور ہندوستانی لوگ کام کرتےہیں۔ جب کہ دوکانوں پر بنگلہ دیش کےلوگ سودا سلف فروحت کر رہےہوتےہیں۔ مصر کےانجینئر عمارات بنانےمیں مصروف نظر آ رہےہیں اور کئی لوگ بھیک مانگتےہوئےبھی دکھائی دےرہےہیں۔ یمنی اور سوڈانی لوگ ریڑھیوں پر سامانِ خورد و نوش بیچ رہےہیں ۔چائنا کےلوگوں کو بھی وہاں کاروبار کرتےدکھایا گیا ہی۔ حبش کی عورتیں پردوں میں رہتےہوئےدوکانیں سجا سجا کےبیٹھی ہوئی ہیں اور سب ملکوں کی زبانیں بولتی ہوئی دکھائی دےرہی ہیں۔ میاں محمد اعظم کی قوتِ مشاہدہ انتہائی گہری ہے۔ وہ مدینہ شریف کےماحول کی مجسم تصویر کھینچ کر وہاں کےمقدس منظر میں یہ اضافہ بھی کر دیتےہیں کہ
کھلےتھاں تےپھرن کبوتر چگدےچار چوفیرے ہتھاں وچوں دانےکھودےجیہڑا ہووےاگیری
میاں محمد اعظم نےاس منظوم سفرنامہ ءحج کےدرمیان اپنےحسنِ عقیدت کا بھی والہانہ اظہار کیا ہےجس سےان کی اس شہرِ بےمثال سےمحبت کا ثبوت ملتا ہی:۔
سوہنڑا شہر مدینہ جتھےدنیا پھیرا پاندی پاک نبی دےصدقےاتھےہر اک شےمل جاندی
میاں محمداعظم نےوہاں کےگلی کوچوں کی صفائی کی صورتِ حال کو بھی تحسینی نگاہ سےدیکھنےکی کوشش کی ہی۔ وہ پردےکی پابندی کو بھی پسند کرتےہیں۔ وہ بتاتےہیں کہ مدینہ شریف میں خطاکاروں کو شرطےپکڑ لیتےہیں۔وہ یہ بھی بتاتےہیں کہ وہاں فخاشی کرنےوالوں کو سخت سزا دی جاتی ہے، چوری چکاری کا رواج نہیں ہی۔ وہ روضہءرسول پر چالیس نمازیں پڑھتےہیں اور امید رکھتےہیں کہ یہ اظہارِ عجز و نیاز قبول و مستجاب ہو گا۔” روانگی بسوئےمکہ “ ایک ایسی نظم ہےجس میں انہوں نےبتایا ہےکہ یہ علاقہ خشک ریت کےٹیلوں پر مشتمل ہی۔ اور کہیں کہیں کھجوروں کےایسےباغ بھی ہیں جن کےپتےنیلےہیں۔ میاں محمد اعظم اپنی باریک بین نگاہوں میں پہاڑوں میں چگنےوالےایسےاونٹ بھی دیکھ لیتےہیں جو چارےاور پٹھےکےبغیر گزر اوقات کرتےہیں۔ ہاں اگر وہاں بارش ہو جائےتو پھول بوٹےاگ آتےہیں۔ جنہیں بکریوں کےریوڑ آ کر کھاتےہیں۔ میاں محمد اعظم یہ بھی بتاتےہیں کہ وہاں کی حکومت نےآجکل سمندر سےپانی نکال کر وہاں تک پہنچا دیا ہےاور صحراو¿ں میں مکے، مدینےکو زم زم کےساتھ ملایا ہی۔ حج اور عمرےکےلوگ وہاں سےپانی پیتےہیں اور اپنےرب سےدعائیں کرتےہیں۔
میاں محمد اعظم دنیا بھر کےمسلمانوں کےجذبہءاخوت کو قدر کی نگاہ سےدیکھتےہیں۔ وہ یہ بھی بتاتےہیں کہ سعودی عرب کےلوگوں نےوہاں کاروبار شروع کر رکھےہیں ۔وہاں کارقبہ کافی زیادہ ہےاور اس مناسبت سےآبادی قلیل ہی۔
”مکہ میں قیام“ میاں محمد اعظم کی خوبصورت نظم ہےجس میں انہوں نےمکہ شریف میں اپنےایک ماہ کےقیام کےدوران مصروفیات کا ذکر کیا ہی۔ وہ ہمیں اس امر سےآگاہ فرماتےہیں کہ وہ عزیزیہ ہوٹل میں قیام پذیر تھےجہاں انہوں نےروزانہ حرم پاک کی خوب زیارت کی، مفت بسوں کا سفر کیا جو عزیزیہ کی جانب سےآئیں تو غاروں کےاندر سےگزرتی ہیں۔ حرم پاک کےاندر غار ہی غار ہیں۔ شہر کےباہر غاروں میں سےکاریں گزر کےجا رہی ہیں۔ وہاں کی حکومت نےغاروں میں پنکھےلگوائےہوئےہیں تاکہ گزرنےوالےافراد کو گرمی نہ لگی۔ وہاں ہر طرف کھلی سڑکیں ہیں، چاروں طرف نالےاور صفائی کا بہترین انتظام ہی۔ بنگالی صفائی کرتےہیں۔ کہیں کہیں ایسےشجر بھی نظر آتےہیں جو گھنی اور میٹھی چھاو¿ں دیتےہیں۔ دن کو گزرنےوالےان کےنیچےذرا دیر کو بیٹھ جاتےہیں۔ نیم اور بیری کےشجرکےنیچےاہلِ حبش ریڑھی لگا کر محنت مزدوری کرتےہیں۔ عزیزیہ ہوٹل کےدو حصےتھے۔ وہاں مفت سرکاری کھانا ،لسی، جوس اور فروٹ مل جاتا تھا۔ بڑےھال میں حاجی کھانا کھاتےتھےاور عورتوں کےلئےعلحدہ ھال تھا۔ کمرےخنک تھے، کھانےکو سب کچھ مل رہا تھا ۔ چار اکتوبر 2014 ءکو بروز جمعتہ المبارک میاں محمد اعظم نےحج کیا جو حجِ اکبر تھا۔ لوگ ملکوں ملکوں سےآئی، کچھ مکہ شہر دیکھ رہےتھی۔ یہی وہ امن کا شہر تھا جہاں ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نےاپنےرب کا گھر بنا یا تھا۔ اللہ تعالیٰ نےحضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو حکم سنایاتھا کہ میرےگھر کا طواف کرو اور اللہ کی راہ میں اپنی سب سےعزیز ترین ہستی قربان کر دو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاللہ تعالٰی کا حکم مانا اور اللہ کو ان کی یہ ادا پسند آئی۔ جس کی وجہ سےقربانی کی رسم جاری و ساری ہی۔ حاجیوں کا منیٰ ، مزدلفہ، اور عرفات جانا ضروری تھا۔ لہذا وہ بھی وہاں گئی۔ دو اکتوبر کی صبح حج کی تیاری کی اور ایک گھنٹےمیں سفر طےکرکےمنیٰ پہنچ گئی۔وہاں ہر ملک کا الگ الگ جھنڈا نظر آ رہا تھا ۔یہ ایک تپتا ہوا صحرا تھا اور دور دور تک کوئی شجر نہ تھا۔ خیموں میں رات گزاری ۔ پچھلےپہر سب حاجیوں نےعرفات کا راستہ پکڑ لیا۔ ریل کا سفر تھا۔ چار اکتوبر کی صبح حج پڑھا۔ یہ وہ میدان ہےکہ جہاں ہمارےنبی کریم نےاپنا آخری خطبہ حجة الوداع پڑھا تھا۔ روز حشر تک دنیا اس میدان میں دوگانہ ادا کرےگی۔ شام ہوئی تو ریل پر بیٹھ کر خلقت مزدولفہ کی طرف آئی۔ رات بھر حاجی کھلےآسمان کےنیچےبیٹھےرہی۔ سب نےوہاں سےکنکر چنےتاکہ شیطان کو مارےجائیں۔ صبح سویرےشیطان کی طرف بڑھی۔پتھر مار کر واپس منیٰ کی طرف آئی۔ اگلےدن قربانی دی جو عید کا دن تھا۔ رات گزاری اور صبح دوبارہ کنکر مارنےکےلئےآئی۔ قربانی کرکےاہل ِحجاج نےسر کےبال منڈائی۔ نہا دھو کر اچھےکپڑےپہنے۔ سات اکتوبر کو واپسی کی تیاری کی اور اپنےوطن پہنچ گئی۔
میاں محمد اعظم کا منظوم سفر نامہ حج ایک واقعاتی رنگ کا سفر نامہ ہےجس میں انہوں نےدورانِ سفر جو کچھ دیکھا اسےمن و عن بیان کر دیا ہی۔ یوں تو اردو نثر میں متعدد سفر نامےتحریر کئےگئےلیکن منظوم سفر ناموں کی تعداد بہت کم ہی۔ اس سلسلےمیں دو نام بہت نمایاں ہیں۔ ایک لسان الحسان مولناالحاج ضیاءالقادری البدایونی کا ”دیار نبی“ اور دوسرا حافظ لدھیانوی کا ” معراجِ سفر“ ۔ مولنا ضیاءالقادری البدایونی کےسفر نامےکا تاریخی نام ” اصل سفرنامہءضیا “ ہی۔ یہ سفر1947 ءمیں اختیار کیا گیا اور 1950 ءمیں اشاعت پذیر ہوا۔ اس سفر نامےکا پہلا حصہ بدایون سےکراچی اور حصہ دوئم کراچی سےمکہ معظمہ تک ہی۔ اور اس کا اختتام مندرجہ ذیل شعر پر ہوتا ہے :۔
فدایانِ حرم کو دمِ وداع ضیا مدینےجانےکا اعلانِ عام ہوتا ہی
مولنا ضیاءالقادری البدایونی کو حج کی سعادت 1947 ءمیں ہوئی ۔ ان کےمتعلق مشہور ہےکہ ”جس وقت نعت پاک مرتب کرکےپڑھتےتو خود ان پر عشق و محبت کی ایک والہانہ کیفیت طاری ہو جاتی“۔ آستانہءمقدس پر حاضری کی تمنا اور حضوری کی آرزو ان کےدل میں جاگزیں رہی۔ پہلےحصےمیں بدایون سےکراچی تک کا احوال جذبات کی پوری طغیانی کےساتھ پیش کیا ہی۔ دوسرا حصہ حج نامہ ہےاور اس میں کراچی سےاختتامِ حج تک کی کیفییات کو ارتجالاََ نظم کی صورت دی گئی ہی۔ لیکن خوبی یہ ہےکہ اس طویل سفر نامےمیں جذبےکو پوری شدت سےآشکار کیا گیا ہی۔ حج کا ارادہ باندھا تو ضیاءالقادی البدایونی نےلکھا :۔
بتوفیقِ الہی نیتِ حج کر ہی لی میں نی ادب سےکی جبیں خم سوئےدربارِ نبی میں نی
مجھےحسرت تھی ماہِ صوم میں کعبہ پہنچ جاو¿ں وہیں روزےرکھوں احکامِ ِدیں سارےبجا لاو¿ں
اور وہ گھر سےحج کےلئےروانہ ہوئےتو ان کی کیفیت یہ تھی :۔
گدائےدرِ تاجدارِ مدینہ چلا آج سوئےدیارِ مدینہ
زہےجوشِ عشقِ دیارِ مدینہ مدینہ چلا جا نثارِ مدینہ
ع س مسلم ،”زیاراتِ حرمین “نےتاثرات کو ”کاروانِ حرم“ کےنام سےمنظوم کیا ہی۔ انہوں نےعمرےکی سیادت حاصل کرنےکےلئےحجاز کا سفر دسمبر 1983 ءمیں کیا تھا۔ لکھتےہیں کہ :” ادھر احرام کی کفنی اوڑھی ادھر فریبِ انا کا جھوٹا حجاب تار تار ہوا ۔ ۔۔۔۔۔جذب و شوق کےسوتےپھوٹ نکلے۔۔۔۔اعراف و ندامت کےسیال احساسات اشعار میں ڈھلتےچلےگئی۔۔۔ آپ اسےایک منظوم قلبی سفرنامہ کہہ لیں ۔۔۔۔۔۔یا یوں کہئےکہ ایک داستانِ فریاد ہے۔ حضور اکرم کےقدمِ مبارک میں ان پر جو اشعار اترےوہ یوں ہیں :۔
مشرف ہےکن رفعتوں سےزمیں کہ ہےجسمَِ اطہر کی ا س میں امین
کوئی آستاں اس سےافضل نہیں وہ باغِ جناں یا بہشتِ بریں
الہیٰ تو مسلم کو مومن بنا اوڑھا نور و تقوی کی ایسی ردا
کہ جیسےابھی پھر سےپیدا ہوئی تیرےنور میں ہم ہویدا ہوئی
”جناب حافظ لدھیانوی کا ” معراجِ سفر“ یعنی منظوم سفر نامہءحجاز مثنوی کےانداز میں لکھاگیا ہی۔ آپ کےسفر نامےکو یہ امتیاز حاصل ہےکہ اس کا دیباچہ اردو کےمایہءناز شاعر، محقق اور نقاد پروفیسرڈاکٹر ریاض مجید صاحب نےمنظوم انداز میں تحریر کیا ہی۔ جو خود بھی شریکِ سفر رہی۔
دیارِ پاک کی جانب سفر معراج تھا اپنی وہ منزل آسمان نکلی وہ رستہ کہکشاں نکلا
یہ سفر نامہ 1990 ءمیں شائع ہوا۔ اس کےعلاوہ جناب عبدالعزیز شرقی کی کتاب ” فیوض الحرمین“ گو سفر نامہ تو نہیں لیکن اس میںزیارت حرمین کےمراحل کےمتعلق نظموں کو فیوض الحرمین کی لڑی میں پرو دیا ہی۔ راجہ رشید محمود کےمجموعہءکلام ” شہرِ کرم“ کو یہ خاص وصف اور امتیاز حاصل ہےکہ اس کا ہر شعر قریہءعشق مدینہ منورہ کی تعریف و توصیف میں ہی۔ اردو کےمایہءناز شاعر الحاج محمد حنیف نازش قادری کی یہ مشہورِ زمانہ نعت بھی دراصل منظوم سفر نامہ حج ہی ہی۔ جو ان کےجذباتِ عشق و محبت کی عکاس و ترجمان ہی۔ یہ نعت زبان زدِ خواص و عام ہے۔ یہ ہر سچےمسلمان اور عاشقِ رسول کےلبوں پر جاری و سار ی ہےاور اسےزائران حرم طیبہ کی فضاو¿ں میں بھی گنگناتےہیں :۔
ّّ زائرِ کوئےجناں آہستہ چل یہ مدینہ ہےیہاں آہستہ چل
جالیوں کےسامنےآہستہ بول ہو نہ سب کچھ رائیگاں آہستہ چل
در پہ آیا ہوں بڑی مدت کےبعد میرےمیرِ کارواں آہستہ چل
پنجابی کےمنظوم سفر ناموں میں حاجی محمد افسر جنجوعہ راہیا کا ” راہ حرمین ِشریفین“ المعروف سفرنامہ حج ایک خاص مقام رکھتاہی۔ یہ سفر نامہ راولپنڈی سے1998 ءمیں شائع ہوا اور اس کے٢١١ صفحات ہیں۔ عرفات کےمیدان کی منظر کشی ملاحظہ ہو :۔
سب دیاں چٹیاں چادراں تک کےآوےیاد پرانی پھر اےہی دو چادراں ہوسن تےبنڑسی نویں کہانی
خطیب قادر بادشاہ کے”حج نامہ“ سفر حجاز میں نثر کےعلاوہ نظم کی صنف کو بھی عشقِ نبی اور محبتِ رسول کےاظہار کےلئےاستعمال کیا گیا ہی۔ ابتدائےسفر میں لکھتےہیں :۔
سوئےکعبہ ان دنوں جاتےہیں ہم حق ِ فرماں کو بجا لاتےہیں ہم
ہم کہاں یہ نعمتِ عظمی کہاں اپنی خوش قسمت پہ اتراتےہیں ہم
”گلزار ِ عرب“ فقیر محمد عارف کا منظوم حج نامہ ’ 1298 ھ تا 1301 ھ ہی۔ جس کا مخطوطہ حبیب فائق کےپاس محفوظ ہی۔ فقیر محمد عارف چشتیہ سلسلےکےپیر و مرشد خواجہ اللہ بخش تونسوی سےبیعت تھی۔ چنانچہ انہوں نےسفر نامےکی پیشانی پر بھی ” یا اللہ بخش“ لکھا ہی۔ یہ سفر نامہ بمبئی سےشروع ہوتا ہےاور سفر کا پورا حال 700 اشعار میں طےکیا گیا ہی۔
میاں محمد اعظم کا منظوم سفر نامہ حج پڑھتےہوئےقاری کےجذبات و احساسات میں ایک ہلچل بپا ہو جاتی ہی۔ ان کا سفر مدینہ سےمدینہ تک ہی ۔ وہ ہر مسلمان کی طرح حضور اکرم سےعشق رکھتےہیں۔ اور ان کی بھی مدت سےآرزو تھی کہ وہ جزیرة العرب کی مقدس فضاو¿ں میں قدم رکھ سکیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نےان کی یہ آرزو پوری کی اور وہ نہ صرف حضور اکرم کےدرِ اقدس پر حاضر ہوئےبلکہ اللہ تعالیٰ نےانہیں اپنےگھر میں بھی بلایا۔ بقولِ صبیح رحمانی :۔
کعبےکی رونق کعبےکا منظر اللہ اکبر اللہ اکبر دیکھوں تو دیکھےجاو¿ں برابر اللہ اکبر اللہ اکبر
میاں محمد اعظم نےاپنی ماں بولی میں اس سفرِ محبت و عقیدت کو خوبصورت الفاظ و تراکیب میں ڈھال کر ہر خاص و عام کےلئےدلچسپی کا باعث بنا دیا ہی۔ یہ سفر نامہ بیک وقت ایک انتہائی پڑھےلکھےاور مہذب و مودب فرد اور عام قاری کےلئےلائقِ توجہ ہی۔ دیہاتوں ، قصبوں اور شہروں میں رہنےوالےلوگوں کےلئےعطاءاللہ خان عیسی خیلوی ، ابرار الحق جیسےلوک فن کاروں نےعشق و محبت کےجذبات و احساسات کی ترجمانی تو کر دی ہےلیکن مجھےاس موقع پر معروف لوک فنکار عالم لوہار اور عارف لوہار یاد آ رہےہیں جن کےصوفیانہ کلام اور عشقِ حقیقی پر مبنی شاعری نےلوگوں کےدلوں میں اللہ اور اس کےرسول کی محبت کو اجاگر کیا ہی۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ ہمارےلوک فنکار عابدہ حسین اور اقبال باہو مروج و مستعمل معروف ابیات کےعلاوہ اسلامی موضوعات پر کلام پیش کریں۔ میاں محمد اعظم نےاپنےمنظوم سفر نامہءحج کےذریعےان کی اس ضرورت کو بدرجہءاتم پورا کر دیا ہی۔ میاں محمد اعظم کےمنظوم سفر نامہءحج سےیہ پتہ چلتا ہےکہ وہ ایک موسیقی آشنا لحن رکھتےہیں۔ ان کا ہر مصرعہ دل کی تال پہ رقص کرتا ہی۔ اور سماعتوں میں رس گھولتا چلا جاتا ہی۔ میاں محمد اعظم کےمنظوم سفر نامہءحج میں ان کا اندازِبیان ایک داستان گو کا سا ہی۔ مجھےان کا یہ سفر نامہ پڑھتےہوئےمحسوس ہوا ہےکہ وہ اردو اور پنجابی کےداستانوی ادب سےخصوصاََ گہرا لگاو¿ رکھتےہیں۔ ان کی بعض نظموں پر واضح طور پر میاں محمد بخش اور سید سلطان باہو کےاثرات نظر آتےہیں۔ میاں محمد اعظم کا منظوم سفر نامہءحج ان کےجذباتِ عشق و محبت کا اظہار ہی نہیں بلکہ یہ سفر نامہ زائران کوئےجناں کےلئےایک راہنما کتاب کی بھی حیثیت اختیار کر گیا ہی۔ ملک محمد اشرف کی ” پردیسی جندڑی“ اور ” پکی روٹی“ جیسی کتابیں تو پاکستان کےہرقصبےاور گاو¿ں میںمل جاتی ہیں مگر پنجابی زبان میں یہ پہلا منظوم سفر نامہ حج ہےجس میں میاں محمد اعظم نےحمد، نعت اور سفر ِحج کےمدارج و مراحل کےعلاوہ اخلاق و حکمت کی گفتگو بھی کی ہی۔ میاں محمد اعظم کا یہ منظوم سفر نامہءحج ان تمام لوگوں کےلئےبھی باعثِ کشش ہو گا۔ جو مدینےشریف کی مقدس فضاو¿ں میں حاضری کےخواہش مند ہیں۔ میاں محمد اعظم کی شاعری پر طائرانہ نظر ڈالنےسےیہ نکتہ واضح ہو جاتاہےکہ وہ ایک وسیع المطالعہ اور صائب الرائےانسان ہیں۔ وہ صرف شعر گوئی ہی کےفن پر دسترس نہیں رکھتےبلکہ مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت وہاں کےرہن سہن ، جغرافیائی خدو خال پر بھی گرفت رکھتےہیں۔ میاں محمد اعظم کا یہ سفر نامہ ءحج جزیرةا لعرب کی آب و ہوا اور وہاں کےماحول کےبارےمیں بھی وسیع معلومات کا حامل ہی۔ میاں محمد اعظم نےاس سفر نامےمیں غارِ ثور، غار حرا، جیسی زیارات کےاحوال کو بھی بیان کیا ہی۔ وہ اس سفر نامےمیںزائرانِ کوئےجناں کو اتحاد و اخوت کا درس دیتےہیں۔ وہ سیاست، حکومت، عدالت، اور معیشت تمام شعبہ ہائےزندگی کو اسلامی اصول و ضوابط کےمطابق ڈھالنےکا احساس دلاتےہیں۔ وہ یہ چاہتےہیں کہ برصغیر پاک و ہند کےمسلمان اسلامی معاشرت کی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، وہ معاشرتی برائیوں ، جھوٹ ، چوری، لوٹ مار، سمگلنگ، دھوکہ دہی، بددیانتی، کےخاتمےکےلئےسرگرمِ عمل ہو جائیںتاکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جا سکی۔
میاں محمد اعظم کی شاعری بیانیہ اسلوب کی حامل ہے۔ وہ ہمیں میر تقی میر کےاس شعر کےمصداق نظر آتےہیں :۔
شعر میرےہیں گو خواص پسند پر مجھےگفتگو عوام سےہی
میاں محمد اعظم پنجابی شاعری میں ایک معروف و ممتاز مقام کےحامل ہیں۔ ان کی پنجابی شاعری کی کتب میں ” سب توں پہلا پاکستان “ ” ادب دےنگینے“ اہمیت رکھتی ہیں۔ معروف ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کو اشفاق احمد نےملامتی صوفی قرار دیا ہی۔ فیض احمد فیض نےاپنی پنجابی شاعری میںانقلاب و احتجاج کی آواز بلند کی ہی۔ وہ جہاں کہیں بھی ظلم و ستم دیکھتےہیں ، خاموش نہیں رہ سکتے اور ببانگِ دہل اس کےسامنےسیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑےہو جاتےہیں۔ میاں محمد اعظم کاتعلق گجرات سےہےجہاں کی ادبی تاریخ پر نظر ڈالنےسےپتہ چلتا ہےکہ پیر فضل گجراتی کا نام نمایاں ہی۔ عہدِ حاضر کےہر دل عزیز شاعر پروفیسر انور مسعود کا تعلق بھی اسی خطےسےہی۔ لہذا میاں محمد اعظم اپنےخطےکی ذہانت و فطانت اور ادبی روایت کےامین قرار دیئےجا سکتےہیں۔ واضح ہو کہ پروفیسر انور مسعود طنز و مزاح میں شہرت ِ دوام رکھتےہیں مگر میاں محمد اعظم کا دائرہ کار عہدِ حاضر کےسیاسی و سماجی مسائل ، اخلاقی اصلاح ، ادبِ عالیہ ، اور آپ بیتی و جگ بیتی ہی۔ میاں محمد اعظم ایک درویش منش انسان ہیں۔ انہیں شہر ت و نام و نمود سےرغبت نہیں ہی۔ وہ اپنی ذات میں سرمست و بےخود رہتےہیں۔ ان کا نظریہءشعر اپنی ذات کی تسکین کےعلاوہ اجزائےحیات کی پریشاں خیالی کو سمیٹنا ہی۔ وہ رازِ درونِ حیات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ انہیں قطرےمیں دریا اور دریا میں قطرہ نظر آتا ہی۔ وہ الوحدت فی الکثرت کےقائل ہیں۔ ان کی پنجابی شاعری میں ہمیں مقبولِ عام ہونےکی پوری صلاحیت نظر آتی ہی۔ ہمیں صاف محسوس ہو رہا ہےکہ وہ اپنےپرتاثیر اسلوب اور شیریں سخن کی وجہ سےہر دل کی دھڑکن بن جائیں گی۔ ان کا کلام بھی ٹی وی اور ریڈیو سےنشر ہو گا۔ انہیں بھی ہر محفل میں سناجائےگا۔اور لوگ گلیوں گلیوں ان کی شاعری پڑھتےپھریں گی۔ مگر اس کےلئےانہیں اپنی ذات کی کٹھالی میں پک کر کندن ہونا ہو گا۔ ان کا آمیزہ پختہ تر ہونےکےقریب ہی۔ مجھےان کےمنظوم سفر نامہءحج کےمطالعہ سےیہ پتہ چلتا ہےکہ وہ مصرعہ تر کہہ سکتےہیں۔ وہ خون ِ جگر میں انگلیاں ڈبو کر قلم اٹھاتےہیں۔ ان کےاس عظیم الشان سفر ِ حج کےدوران ان کےمقدس مقامات پر حاضری کےواقعات کو پڑھ کر ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہےاور ہمارےدل میں بھی یہ آرزو پیدا ہو جاتی ہےکہ ہم بھی مکہ و مدینہ کی پرنور فضاو¿ں میں پہنچ جائیں۔میاں محمد اعظم واقعی خوش نصیب ہیں کہ انہیں حج کا سفر نصیب ہوا۔ یہ وہ سفر ہےجواللہ سےاللہ تک کا ہی۔ اگر انسان صحیح معنوں میں اللہ کا عرفان حاصل کرنا چاہےتو اس سےبڑھ کر اور کوئی راستہ نہیں ہی۔
میاں محمد اعظم کا یہ منظوم سفرنامہءحج خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی کےپرنور مقامات کی جھلکیاں ہی نہیں دکھاتا بلکہ دلوں میں ھجرو فراق کی آگ کو بڑھکا کےرکھ دیتا ہی۔ اےکاش کہ امتِ مسلمہ کےہر فرد کےدل میں عشق کی یہ آگ روشن ہو جائےاور وہ اپنےاندرونی اور بیرونی دشمنوں کی سازشوں کو بےنقاب کر سکیں۔ مسلمان ملی غیرت و حمیت اور قومی جوش و جذبےسےسرشار ہو کر خاکِ مدینہ و نجف کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لیں تو آج بھی انہیں دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ مل سکتا ہی۔ اردو کےمعروف شاعراور محقق ڈاکٹر رو¿ف امیر نےانہی جذبات و احساسات کا اظہار یو ں کیا ہے© :۔
ظلم کےجبرکےاور سرمایہ داری کےکتنےہی جھوٹےسہار ےگئی
اس کی والیل زلفوں کی مجھ کو قسم کتنی راتوں کےگیسو سنوارےگئی
اس کےعزت کےرستےکو چھوڑا تو ذلت کی گہرائیاں اپنی تقدیر ہیں
ہم فلسطین و کابل میں لوٹےگئےاور کشمیر و بھارت میں مارےگئی
میاں محمد اعظم کا یہ منظوم سفر نامہ ءحج محض ایک قصہ یا کہانی نہیں ہے۔ یہ سفر نامہ امت مسلمہ کےعروج و زوال کی ایک داستان ہی۔ جو حالی و اقبال کےفکری تسلسل کا حصہ ہوتےہوئےعصر ِ حاضر تک پہنچ جاتی ہی۔ میاں محمد اعظم کا دل امتِ مسلمہ کےلئےبےچین و بےقرار رہتا ہی۔ وہ ہر وقت اس امر پر غور کرتےرہتےہیں کہ مسلمان اسوة رسول پر کب عمل پیرا ہوںگی۔ دنیا میں کب اسلامی نظام کا نفاذ ہو گا۔ اسلامی معیشت کا بول بالا ہونےکی گھڑی کب آئےگی کہ جب مدینےکی گلیوں میں زکوة دینےوالےموجود ہوں گےلیکن لینےوالےنہیں ہوں گی۔ میاں محمد اعظم نےاپنےمنظوم سفر نامہءحج میں دراصل بنی نوعِ اا نسان کو حرص و ہوس ، خود غرضی اور لالچ کےجذبات سےمبرا ہو کر تزکیہ باطن کا درس دیا ہی۔ یہ سفر حضرت ِ آدم علیہ السلام سےشروع ہو کر حضرت محمد تک کی تعلیمات کا سفر ہی۔ جو بھولےبھٹکےہوئےانسانوں کو راہِ راست پر لانےکےلئےشروع ہوا۔
میاں محمد اعظم جیسےقومی درد رکھنےوالےانسان آج بہت کم نظر آتےہیں۔ انہیں صحیح معنوں میں امتِ مسلمہ کی حالتِ زار پر تشویش ہی۔ وہ پاکستانی مسلمانوں کی اخلاقی اصلاح چاہتےہیں۔ ان کی آرزو ہےکہ مغربی تہذیب و ثقافت اور الحادو بےدینی کی بڑھتی ہوئی یلغار کو روک دیا جائی۔ مجھےمیاں محمد اعظم کی شاعری پڑھتےہوئےدراصل اپنےباطن میں ایک جوار بھاٹےکی سی ایک کیفیت محسوس ہوئی۔ اور میری آنکھوں سےآنسو رواں ہو گئی۔
لمحہءموجود میں اسلامی تہذیب کی بازیافت کا عمل کم نظر آتا ہی۔ واصف علی واصف، علامہ محمد یوسف جبریل ، پروفیسر احمد رفیق اختر، ، اشفاق احمد،بابا جی محمد یحیی خان جیسےلوگ مسلم فقر اور صوفیاءکی تعلیمات کےوارث ہی نہیں ، ایک مستحکم پاکستان کا خواب بھی دیکھتےہیں۔ میاں محمد اعظم کی یہ تخلیقی کاوش دیکھتےہوئےہمارےحوصلےبلند ہو جاتےہیں کہ آج بھی ہمارےاہلِ قلم اپنےمذہبی تشخص اور ملی ادب کےتقاضوں سےغافل نہیں ہیں۔

احقر : محمد عارف
ایم اے(پنجاب)، ایم فل،
وائس پرنسپل، اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز
ترنول، اسلام آباد


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 83
    ”ادب دےنگینے“ تحریر: محمد عارف (ٹیکسلا) میاں محمد اعظم کا تعلق راولپنڈی سےہےجسےشاعروں اور افسانہ نگاروں کا شہر کہا جاتا ہی۔ میاں محمد اعظم نے”ادب دےنگینی“ کےعنوان سےحال ہی میں ایک خوبصورت شعری مجموعہ زیورِ اشاعت سےآراستہ کیا ہی، جس کا انتساب” پروفیسر زہیر کنجاہی صاحب “کےنام ہےجو راولپنڈی کےمعروف…
  • 79
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 78
    ایک نابغہء روزگار روحانی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل تحریر : محمدعارف پروفیسر سید اللطائفہ حضرت جنید بغدادی کو فقر کا منصب اس لئےعطا ہوا کہ انہوں نےاہلِ بیت کی تعظیم کی۔ فقراءاور اہل اللہ نےاپنی تعلیمات کو ساد ہ و آسان اسلوب میں ڈھال کر ہمیشہ پیش کیا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply