حضرت واصف علی واصف کی پنجابی شاعری میں صوفیانہ روایت تحریر محمد عارف

حضرت واصف علی واصف کی پنجابی شاعری میں صوفیانہ روایت
تحریر : محمد عارف
حضرت واصف علی واصف لمحہءموجود کےان معروف و مقبول صوفی دانش وروں میں سےہیں جنہوں نےعلمی استدلال، تفکر و تدبر اور دانائی و بینائی سےآج کی بھولی بھٹکی انسانیت کےرشتہءخالق کائنات سےمضبوط بنایا۔ وہ بنی نوع انسان کی فکری انارکی، ذہنی جمود، اور لاحاصلی کو بار بار موضوع بناتےہیں تاکہ ہمیں اپنےمقصد حیات کےتعین میں آسانی ہو سکی۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ انہوں نےشیخ آحمد سرہندی مجدد الف ثانی کی طرح تجدید دین کافریضہ سرانجام دیا ہےمگر اس حقیقت سےبھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نےذہن و فکر کےزنگ آلود خانوں کو سیکل کیا۔ عقل و شعور کو میمیز دی ۔ تعلیم یافتہ طبقےکو شریعت، طریقت اور حقیقت کےراستےپر گامزن کیا۔ واصف علی واصف کا پنجابی شعری مجموعہ ” بھرےبھڑولی“نومبر1994 ءمیں شائع ہوا۔ جس کاسرورق محمد حنیف رامےنےبنایا ہی۔ واصف علی واصف کی پنجابی شاعری کےمجموعی تاثر صوفیانہ طرز فکر کا ہی۔ جس کےذریعےانہوں نےمسلمانوں کی اجتماعی صوفیانہ روایات کےعلاوہ اپنےعلاقےپنجاب کےصوفیانہ اشارےبھی دیئےہیں۔ واصف علی واصف ایک روحانی شخصیت تھی۔ جن کےروحانی تجربےمحولہ بالا صوفیانہ تجربات کےساتھ مملو ہو کر ایک جداگانہ رنگ پیش کرتےہیں۔ واصف علی واصف خواجہ میر درد کےبعد اردو پنجابی شعری روایت کےوہ واحد صوفی شاعر نظر آتےہیں جن کی ابتداءسےلےکر آخر تک ہر دوزبانوں میں کی گئی شاعری تصوف کےنظری پہلوو¿ں کی بجائےعملی تصورات کو سامنےلاتی ہی۔ واصف علی واصف خواجہ میر درد کےبعد اس صوفیانہ شاعری روایت کےموجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔ کیونکہ ایسےلوگ صدیوں کےبعد صفحہءہستی پرطلوع ہوتےہیں جو تصوف کےروحانی، جمالیاتی تجربات کی باریک بینی کو حق الیقین کی منزل سےنہیں بلکہ عین الیقین کےمقام سےدیکھتےہیں۔ واصف علی واصف ان خواصان خدا میں شمار ہوتےہیں جن سےقدرت کاملہ نےیہ عظیم کام لیا کہ انہوں نےاپنی روحانی واردات قلبی کو اپنی شاعری کا مرکزی جوہر بنایا ہی۔ واصف علی واصف کےپنجابی شاعری کامجموعہ” بھرےبھڑولی“ پ©ڑھنےسےصوفیائےکرام کی تعلیمات کےنقش ہر طرف بکھرےنظر آتےہیں۔ وہ خدا کےتقرب کےحصول کےلئےعشق کی ضرورت پر زور دیتےہیں ۔ دنیا کی بےثباتی، شیخ کامل کی ضرورت ، عشق رسول جیسےموضوعات ان کےہاں باربار نظر آتےہیں۔ میں ان کےزیر ِنظر مجموعےمیں موجود ان کی ایک نظم” چادر“ کی بطورِ خاص تحسین کرناچاہوں گا جس میں ان کی والہانی محبتوں اور چاہتوں کےنقوش ہمیں ہر طرف نظر آتےہیں۔

وارث کھول دےمنہ خزانیاں دا
کرےرو کےاج سوال چادر
مستی لےکےجام الست وچوں
کیتا یار دےنال وصال چادر

واصف علی واصف کی نظموں میں فنا کا احساس غالب ہی۔ وہ ان میلیوں، کہنہ مکرنیوں، دوہوں، اور چکی ناموں کی روایت کو آگےبڑھاتےہوئےخوب صورت ادبی انداز اپناتےہیں۔ تاکہ قاری کو فکرِ آخرت کےلئےتیار کیا جا سکی۔ یہ دنیاچند روزہ ہی۔ صوفی ،سادھو، مست الست فقیر، واعظ مولوی اور پنڈت ، سب اپنےاپنےرنگ میں انسانوں کو حقیقی منزل کےلئےتیار کرتےہیں۔ اردو کےصوفی شعراءکی شاعری کو غور سےپڑھیں تویہ موضوع ہر طرف چھایا ہوا ہی۔ خود پنجابی شعراءکےہاں بھی یہی شعری روایت تخلیقی تجربےکی فنی مہارت سےمربوطہ ہو کر قاری کی سماعتوں کو تروتازگی عطاکرتی ہی۔ واصف علی واصف کی شاعری کےمجموعےمیں موجود ایک نظم کےمندرجہ ذیل مصرعےمیرےدعوےکی عملی دلیل ہیں۔

ساڈےوہڑےجوگی آیا
بنڑی مصیبت بھاری ای
پیکےگھر وج کد تک رہنٹرا
اج سسرال تیاری ای
جو چاہندا اوہ آپےکردا
نہ کوئی جیندا نہ کوئی مردا
صدقےجایئےاس سوہنڑےدی
جس دی شان نیاری ای

واصف علی واصف کی شاعری میں صوفیانہ لَے نظم و غزل ہر دو اصنافِ سخن میں موجود پائی جاتی ہی۔ وہ کبھی سسی کی طرح روہی کےتھل میں تڑپتےہوئےنظر آتےہیں۔ اور کبھی ان کےدل میں ہر طرف شور برپا ہوجاتا ہی۔ ان کی سسی کا شہر بھنبھور اجڑ جاتا ہی۔ شاید یہی وہ جذبہءعشق حقیقی ہی۔ جس میں اللہ اور اس کےرسول کی محبت میں تڑپنا ، کسمسانا، تلملانا، انسان کا خاصہ قرار پاتا ہی۔ بالاخر تو من شدی من تو شدم کا معاملہ پیش آ جاتا ہی۔ واصف علی واصف کی شاعری میں ایک اہم موضوع عشق رسول ہےوہ اپنی پنجابی شاعری کےذریعےمعرفت و سلوک کےوہ پیچیدہ و دقیق علمی تفاوت سامنےلاتےہیں کہ عقلِ انسانی شسدر اور حیران رہ جاتی ہے۔ وہ عشقِ رسول کو حاصلِ کائنات قرار دیتےہیں کیونکہ یہی وہ جذبہ ہےجو انسان کو عرفانِ ذات سےہمکنار کرتا ہےاور اس کےلئےباعثِ نجات ہی۔

اودھی گھر گھر نوبت وجدی
ایہہ ازلی گل، نہ اج دی
اوہ دی بکل مار کےگل کردا ساڈےنال
اونہوں ملنا سوکھی گل ای
اوہ آپےساڈےول ای
تسی بیٹھوں اونہوں سور دی
اوہ جاوےدیوا بال

واصف علی واصف کی شاعری میں اسرار و رموز، ہست و بود، فلسفہ تخلیق کائنات اور تعلیمات قرانی کی جھلک واضح نظر آتی ہی۔ ان کی شاعری اپنےمخصوص رنگ میں علم حقیقت کی اتھاہ گرائیوں کو اجاگر کرتی ہوئی نظر آتی ہی۔

عشق الست بلا دا قصہ عشق نفی اثبات
کثرت دےوچ عشق دی وحدت
وحدت وچ تکبیر
عشق مزمل، عشق مدثر، طہٰ تےیسینٰ
ظاہر باطن ذات عشق دی
ایہو مڈھ اخیر

واصف علی واصف آج کےانسان کو فکر ِآخرت کےلئےتیار کرتےہیں۔ وہ عالمگیر محبت، بےمثال اخوت کےدعوےدار ہیں۔ وہ خود غرضی، حرص و ہوس اور لالچ کےعفریت کو مٹانےکےدرپئےہیں۔ تاکہ صبر و شکر، توکل اور قناعت کےاوصاف کو اپنا کر انسان اپنےحقیقی منزل سےہمکنار ہو سکی۔

اےدو چار دنا دا میلا دنیا دا
میلا ویکھ تو سنجاں ایتھےہٹ نہ پا
کریں نہ اتھےروپ دا مانٹر
منہ تےپیارےمٹی پانڑ
کوئی دیویں کم دی مت بھرا
اتھےکد آواں گےوت بھرا
جنہیں بولیا حرف محبت دا
اتھےاوہدی بنڑدی گت بھرا

محمد عارف وائس پرنسپل، ترنول کالج، ترنول ضلع اسلام آباد


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 77
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…
  • 73
    ”ناد وقت سنانےوالاملنگ “بابا جی عنایت اللہ تحریر :داکٹر رشید نثار ہمارےعہد میں روحِ عصر کےنمائندہ واصف علی واصف تھی۔ ان کی دانش کےروشن چراغ بابا جی عنایت اللہ ہیں۔ جن کےپاس علم، دانش اور vision تینوں موجود ہیں۔راقم التحریر جناب واصف علی واصف کو اس عہدکاکشادہ ظرف انسان اور…
  • 71
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 70
    ”متاعِ فقیر“۔ تعارف و تجزیہ تحریر: محمد عارف ڈاکٹرتصدق حسین آبائی گاو¿ں بادشاہ پور ضلع چکوال سےتعلق رکھتےہیں۔ ایم اےانگریزی، ایم اےاردو کرنےکےبعدانہوں نےاردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ءمیں ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ نسیم حجازی اور ان کی ناول نگاری پر لکھا۔ 1960 ءسے1984 ءتک درس و تدریس…
  • 69
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 68
    خدا بانٹ لیا ہے تحریر : محمد عارف (ٹیکسلا) آجکل تھوک کےحساب سےچھپنےوالےشعری مجموعوں میں سےشاید ہی کوئی دل کو بھا جائےاور جذبات میں ہلچل بپا کرنےکا سبب ہو ۔کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ”خدا بانٹ لیا ہی“ بھی انہی میں سےایک ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پڑھتےہوئےملائمت، نرمی اور شگفتگی…
  • 66
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 66
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 64
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 64
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 63
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 63
    ایک نابغہء روزگار روحانی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل تحریر : محمدعارف پروفیسر سید اللطائفہ حضرت جنید بغدادی کو فقر کا منصب اس لئےعطا ہوا کہ انہوں نےاہلِ بیت کی تعظیم کی۔ فقراءاور اہل اللہ نےاپنی تعلیمات کو ساد ہ و آسان اسلوب میں ڈھال کر ہمیشہ پیش کیا…
  • 62
    بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات تحریر : محمد عارف یہ جون کی ایک کڑکتی ہوئی دوپہر تھی کہ جب میرےمحترم دوست شوکت محمود اعوان (واہ کینٹ) نےمجھےبتایا کہ میرےایک دوست (سعید صاحب ) ٹریول لاج ، ٥ سڑکی پٹرول پمپ ، سکالر کالج ، پی سی ہوٹل کےنزدیک صدر…
  • 61
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…
  • 61
    وادی سون کاتعارف تحریر : شوکت محموداعوان پاکستان کی حسین و جمیل وادیوں میں وادی سون دلفریب مناظر کی حامل ایک مشہور وادی ہی۔ یہ وادی کوہستان نمک کےعلاقےکا حصہ ہےاور اپنےقدرتی مناظر ، خوش گوار ماحول، ٹھنڈےموسم اور زمین میں معدنیات کےبھر پور خزانوں سےمزین مشہور وادی ہی۔ اس…
  • 61
    وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر تحریر : ملک شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسرنےبےشمار ادیب، شاعر، عالم، فاضل، مفسر، مقرر، دیندار،سائنس دان، فلسفی، ولی اللہ،مجاہد،فوجی افسر اور فوجی جوان، ٹیچر، زاہد، عابد اور علمائےکرام کو جنم دیا ہی، ان میں ہم جس شخصیت…
  • 60
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 59
    نصب العین : علامہ محمد اقبال ، علامہ یوسف جبریل ، اور دیگر مفکرین و بزرگانِ دین کےاُفکار کی عام فہم انداز میں ترویج و اشاعت اغراض و مقاصد: ٭نوجوانوں کی فکری راہنمائی اور فکری بہبود کیلئےکام کرنا۔ ٭تعلیمی اداروں میں جا کر نصب العین کا پرچار کرنا۔ ٭نصب العین…
  • 59
    کیا پاکستانی ادب لمحہءموجود کی ضرورت ہے؟ تحریر محمدعارف ادب جغرافیائی حدود و قیود کا نام نہیں، بلکہ یہ ملکی سرحدوں کو عبور کرکےخطےکےجذبوں کو زبان عطا کرتا ہی۔ ادب پاکستانی نہیں ، ادب ایرانی نہیں، افغانی نہیں، انسانی ہوتا ہی۔ ہر ملک کی نظریاتی، جغرافیائی سرحدوں کو تحریروں میں…
  • 59
    ”ادب دےنگینے“ تحریر: محمد عارف (ٹیکسلا) میاں محمد اعظم کا تعلق راولپنڈی سےہےجسےشاعروں اور افسانہ نگاروں کا شہر کہا جاتا ہی۔ میاں محمد اعظم نے”ادب دےنگینی“ کےعنوان سےحال ہی میں ایک خوبصورت شعری مجموعہ زیورِ اشاعت سےآراستہ کیا ہی، جس کا انتساب” پروفیسر زہیر کنجاہی صاحب “کےنام ہےجو راولپنڈی کےمعروف…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.
Copied!