حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان

حطمہ کی اہمیت پر نقاط
تحریر شوکت محمود اعوان
1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور روحانی نسبت سےحطمہ کےبارےمیں بہت معلومات فراہم ہوئیں جو کہ تفاسیر کی کتب میں موجود ہیں۔یہ حقیقت ہےکہ علامہ صاحب نے ان تمام تفاسیر کا بہت گہرا مطالعہ کیا۔یہ مطالعہ بعد میں ان کےبہت کام آیا۔ یہ تمام تفاسیر سائنسی حقائق پر مبنی ہیںاور زیادہ تر حقائق موت کےبعد کی جہنم کےبارےمیں ہیں یعنی وہ حطمہ جو موت کےبعد جہنم کی شکل میں سامنےآئےگی اور گنہگاروں کو اس جہنم میں پھینکا جائےگا۔ لیکن علامہ صاحب نےاس فانی دنیا کےحطمہ پر تحقیق کا دائرہ بہت وسیع کیا اور صدیوں سےحطمہ کا تذکرہ شامل موضوعات رہا اس کےبارےمیں زیادہ سےزیادہ معلومات فراہم کیں۔اس کی سائنسی افادیت اور اہمیت پر علامہ صاحب نےوسیع تر حوالوں سےلکھا۔ کیوں کہ یہ دور سائنس کو ماننےوالا دور ہےاور سائنس اور جنگ کےحوالےسےحطمہ کی تباہی و بربادی ( ایٹمی سائنس) کےحوالےسےثابت ہو چکی ہی۔ اس کےلئےعلامہ صاحب نےفزکس ، کیمسٹری، ریڈیوبائیولوجی ، میتھ اور جنرل سائنس کےساتھ ساتھ دوسرےجنرل مضامین کا بھرپور مطالعہ کیا۔ اور ان سےاستفادہ کرکےعوام الناس کو انکشافات سےآگاہ کیا۔
حطمہ کی حقیقت اس وقت واشگاف ہوئی جس وقت علامہ صاحب کا ستمبر 1963 ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں محترمہ شمل صاحبہ سےمناظرہ ہوا۔علامہ صاحب نےاپنی تحریروں میں اس مناظرہ کا ہمیشہ سخت لہجےمیں ذکر کیا۔ ان کےخیال میں غیر مسلم مستشرقین کی یہ سازش تھی کہ قران حکیم کو اللہ کےکلام کی بجائےحضرت محمد کا کلام ثابت کر کےاسےانسانی کلام ثابت کیا جائی۔ تاکہ وہ بنیاد ٹوٹ جائےجس پر قران حکیم کی عظمت قائم ہےکہ قران حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام ہےاور آقا نبی کریم پر نازل ہوا۔ علامہ صاحب نےمستشرقین سےکبھی بھی مصالحت نہیں کی۔ کیوں کہ مستشرقین نےبھی قران حکیم، آقا نبی کریم اور اسلام پر سخت لہجےمیں تنقید اور تحقیق کی ہی۔ علامہ صاحب نےچونکہ یورپی ادب کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور انہوں نےمستشرقین کی کتابیں گہرائی کےساتھ پڑھی تھیں۔ لہذا کبھی بھی انہوں نےمستشرقین کےساتھ محبت والا پہلو مدنظرنہیں رکھا۔ اسی وجہ سےاکثر لوگ معترض ہیں کہ اینی مری شمل اسلام کا مطالعہ بچپن سےکر رہی تھیں اور اس عمر میں جب 1963 ءمیں مباحثہ ہوا تو اینی مری شمل اسلام اور قران حکیم کو مسلمانوں سےبھی زیادہ بہتر طور پر سمجھ چکی تھیں۔ یہ حقیقت ہےلیکن علامہ صاھب جانتےہیں کہ اسلام کےخلاف سازشیں کسی بھی رنگ میں ہو سکتی ہیں اور تحقیق کےپہلو میں بھی اسلام اور قران پر بہت رقیق حملےہوئےہیں۔ لہذا اینی مری شمل کےبارےمیں ان کی رائےکچھ اچھی نہ تھی بےشک وہ اسلام کو اچھی طرح سےپرکھ چکی تھیں۔وہ جانتےتھےکہ اینی مری شمل ایک عیسائی مستشرق ہی۔ اور وہ اسلام کی تحقیق تو کر رہی ہےلیکن ایمان لانےوالےلوگ زیادہ تحقیق نہیں کرتے۔ اللہ جس کو چاہےقبول اسلام کےقریب لےآئی۔ اور جو تحقیق کرتا رہے۔ وہ تحقیق کےدائرےسےباہرہی نہ نکلی۔ یہی وجہ ہےکہ انہوں نےفرانسس بیکن اور سر جیمز جینز کےساتھ اچھا سلوک روا نہیں رکھا۔ یہ دونوں شخصیات نےدنیا کےموجودہ نظام پر گہرےتاثرات چھوڑےہیں۔ بیکن نےمادہ پرستی کو جنم دیا، ترقی دی اور دین سےدوری کا سبق دیا۔ جب کہ سر جیمز جینز نےکائنات کی تخلیق سےخدائی عنصر کو ہی فارغ کر دیا۔ یہ دونوں نظریات اسلام کےمخالف تھے۔ اور ان کےنتائج بہت برےنکلےہیں اور انسانیت روحانیت کو چھوڑ کر مادہ پرستی کی سمت چلی گئی۔ علامہ صاھب کےخیال میں بی بی کی سکیم نہایت ہی خطرناک تھی۔ جب اس نےقران حکیم میںغلطیاں نکالیں تو لازماََ اس کا نتیجہ یہ نکلےگا کہ مسلمان اس مسئلےپر آپس میں لڑ لڑ کر ختم ہو جائیں گی۔ یہ حقیقت ہےکہ مسلمان بہت جلد یورپی مستشرقین کی باتوں میں آ جاتےہیں اور انہیں اپنےدین کی بنیاد کمزور دکھائی دینےلگتی ہےاور یہی وجہ ہےکہ آج مسلمان فرقہ واریت میں غیر مسلموں سےکہیں آگےہیں اور آپس میں ان کی فرقہ واریت کی جنگ اپنےعروج پر ہی۔ علامہ صاحب مسلمانوں کےمستقبل سےخائف تھی۔ انہیں یقین تھا کہ مسلمان کبھی بھی مادہ پرست نظام سےنہیں نکل سکیں گےاور وہ کبھی بھی اسلامی نظام معیشت اور نظام سیاست اسلامی نافذ نہیں کر سکیں گی۔ کیوں کہ مسلمانوں کی طنابیں غیر مسلم حکمرانوں کےہاتھوں میں مقید ہیں۔ چونکہ قران حکیم میں اللہ تعالیٰ کےارشاد کےمطابق اس کی حفاظت خود اللہ تعالی کےہاتھ میں ہےاور انا نخن نزلنا الذکروانا لہ لحافظون کےمطابق اللہ تعالیٰ نےہر دور میں قران حکیم کی خود حفاظت کرنا ہی۔ لہذا جوں ہی یہ فتنہ اظہر یونیورسٹی کےبعد لاہور کی سمت آیا۔علامہ صاحب کو خبردار کر دیا گیا ۔ وہ کہتےتھےکہ چاہےمس اینی مری شمل کی نیت ٹھیک ہی کیوں نہ ہو کوئی بھی مسلمان ان لوگوں کی تحقیق پر یقین بڑی مشکل اورسوچ بچار کےبعد کرتا ہی۔ (بعض لوگ فوری قبول کر لیتےہیں) کیوں کہ ظاہر میں کچھ اور ہوتا ہےاور باطن میں کچھ اور۔اگر مثلاََ لاہور میں کھلےمقام پر بی بی یہی تقریر کرتی جو اس نےپنجاب یونیورسٹی کےہال میں کی تو دو لاکھ میںسےکتنےآدمی سمجھ سکتےکہ و ہ غلطیاں جن کی نشان دہی بی بی کر رہی ہےجھوٹ ہیں۔ تقریر کےبعد لوگ آپس میں دو گروہ بن کر الجھ جاتی۔ ان گروہوں میں ایک گروہ یہ کہتا کہ قران حکیم میں غلطیاں ہیں دوسرا گروہ کہتا کہ غلطیاں نہیں ہیں اور اس طرح مسلمانوں میں جنگ و جدل کا سماں پیدا ہو جاتا۔ اسلام پر اس قسم کےرقیق حملے پہلےبھی ہوتےرہےہیں اور آئندہ زیادہ سختی کےساتھ ہوتےرہیں گی۔ اور یقیناََ بی بی کا حملہ نہایت خطرناک تھا۔
بنیادی طور پر حطمہ کی سورة آئن سٹن، نیل بوہر، اینری کوفرمی، برٹرینڈ رسل ، ایڈورڈٹیلر ، ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر عبدالقدیر اور اوپن ہیمر جیسےلیول کےسائنس دان کماحقہ سمجھنےکی اہلیت رکھتےہیں۔ ان میں سےاکثر مر چکےہیں۔اور اب ان حقیقتوں کو سمجھنےوالا کوئی نہیں۔ اگر سمجھےگا تو بھی اس طرح نہیں جس طرح کہ مشہور سائنس دان سمجھ سکتےہیں۔ اگرچہ سائنس دانوں نےایٹمی جہنم سےنجات کےکئی ذرائع بیان کئےہیں لیکن انسانیت کی ایٹمی جہنم سےنجات کا ذریعہ فقط یہی سورة الھمزہ ہی۔ ورنہ باقی تمام معاملات کمزور پڑ رہےہیں۔ عوام کی اکثریت ایٹمی سائنس سےناواقف ہےاور یہ علم سیکرٹ علم ہے۔ سوائےچند سائنس دانوں کےدوسرا کوئی بھی عالم، فاضل، محقق ،مدبر اس علم سےواقف نہیں۔ کیوں کہ اس علم کو محدود رکھا گیا ہےاور ایک مخصوص ٹولہ مخصوص مفادات کو محفوظ کرتےہوئےاس علم کےبارےمیں بات کرتاہےاور بہت ساری باتیں وہ لوگوں کو نہیں بتاتا۔ بلکہ اپنےملک کےاہل علم طبقہ کو اس علم سےمحروم رکھتا ہی۔ تابکاری، جین میوٹیشن جیسےعلوم جو انسانیت کے لئےنہایت ہی خطرناک ہیں اور ان کےنتائج انسانی وجود کو تباہ و برباد کرنےکےمترادف ہیں۔ لہذا سائنس دان کبھی بھی ان چیزوں کو عوام میں اظہار نہیں کرتی۔ لیکن قران حکیم نےچودہ سو برس قبل اس علم کےبہت سارےنقطےاور حقائق سےانسانیت کو آگاہ کر دیاتھا تاکہ وقت پر قران حکیم سے استفادہ کرکےانسانیت کو ایٹمی جہنم سےبچا لیا جائی۔ بنیادی طور پر ایٹم بم ہتھیار نہیں۔ بلکہ عذاب الہیٰ ہیں اور انسانیت کا مکمل قتال ہیں۔ ہتھیار ایک محدود جنگ میں استعمال ہوتےہیں اور ان کےنقصانات نسبتاََ ایٹم بموں کےہتھیاروں سےکم ہوتےہیں جب کہ ایٹم بم انسانیت کی مکمل تباہی کا ذریعہ بنتےہیں۔
شمل کےبارےمیں مختلف نظریات ہیں۔ اس کی علمی قابلیت کا اعتراف دنیا بھر کرتی ہےاور پاکستان کےاہلِ علم تو اس کو ایک عظیم سکالر مانتےہیں۔ اس کا مطالعہ بھی بہت وسیع تھا۔ اسلام اور قران حکیم کی حقانیت کو وہ اچھی طرح سےسمجھ چکی تھی اور لاہور کےواقعہ نےاسےمزید سوچنےپر مجبور کر دیا کہ وہ اسلام قبول کرلی۔ لیکن اس نےاسلام قبول کرنےکا باقاعدہ اعلان نہ کیا جس کی وجہ سےبہت سارےخدشات پیدا ہو گئی۔ اخبارات والوں نےاپنےاپنےتجزیئےلکھی۔ اور انہوں نےشمل کی وہ وصیت بھی نہیں دیکھی جس میں اس نےکہا تھا کہ اسےپاکستان کےقبرستان میں دفن کیا جائی۔ اب وہ یہ کیسےاعلان کر سکتی ہےکہ جب کہ مسلمان ہی مسلمانوں کےقبرستان میں دفن ہو سکتا ہی۔
حطمہ کی سائنسی تفسیر نےبہت سارےاہل علم کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اور وہ اس حقیقت سےانکار نہیں کر سکتےکہ قران حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام ہی۔ تاہم اس کی مکمل تشریح سائنسی انداز میں ضروری تھی اور یہ مکمل تشریح علامہ صاحب نےکر دی۔ ایک اس دنیا کا حطمہ ہےاور ایک موت کےبعد کی دنیا کاحطمہ۔ پہلی تفاسیر میں اگلی حطمہ کا ذکر بہت تفصیل سےموجود ہی۔ کیوں کہ اس زمانےمیں ایٹم بم نہیں تھی۔ جب کہ علامہ صاحب نےاس دور کےحطمہ (عارضی ایٹمی جہنم) کو ثابت سائنسی اور ٹیکنیکل زبان میں کیاہی۔ علامہ صاحب نے فلسفہ ءاٹامزم کو آسان اردو زبان میں پیش کرکےقدیم و جدید فلسفہ کی تشریح کر دی ہی۔ جو شائد کوئی دوسرا آدمی اس اچھےانداز میں نہیں کرسکا۔ علامہ صاحب نےمضامین اور کتابی شکل میں بہت کچھ لکھ دیا ہی۔ آرٹیکل کی صورت میں ان کی باتیں ایک مخصوص سائنسی طبقہ کےلئےہیں۔ جب کہ کتابوں میں تفصیل کےساتھ عوام الناس کےلئےبھی تحریر کر دی ہیں۔ آرٹیکل صرف چوٹی کےایٹامسٹس اور سائنس دان سمجھ سکتےہیں۔ علامہ صاحب فرماتےہیں ۔
Storm of intellect,atomic science and gnostics burst upon me in the early seventies
وہ تقریباََ تیس سال علم کےحصول میں کوشاں اور دس سال اس کی لکھائی میں مصروف رہی۔ انہوں نےانتہائی مصروف ترین زندگی گذاری۔ اس علم کےحصول کےساتھ ساتھ تمام علوم کو پڑھنا ان کا تنقیدی جائزہ متصور کرنا اور پھر عبادات و ریاضات کو وقت دینا، دنیاوی مسائل کو بھی مدنظر رکھنا، آئےہوئےمہمانوں کو بھی ملاقات کا وقت دینا، لوگوں کےروحانی مسائل بھی حل کرنا،لوگوں کےلئےدعائیں کرنا، تقاریر کرنا، تبلیغ کرنا، خط و کتابت کرنا، مضامین شائع کرانا ۔ چلےکشی کرنا۔ سیرو سیاحت کرنا۔ مزارات پر حاضری دینا۔ غرض ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی تھا اور مشکلات اور پریشانیاں بیماریاں، دشموں کےمظالم نہایت صبر سےسہنا دنیاوی تکالیف برداشت کرنا، روحانی مناظرےبالخصوص یورپی افراد کےساتھ۔ ان کو خطوط لکھنا اور جوابات دینا اگرچہ وسائل موجود نہیں تھےبلکہ نہ ہونےکےبرابر تھی۔ حتیٰ کہ گاو¿ں میں صرف دو چھوٹےچھوٹےکمروں پر مشتمل رہائش اور شہر میں بھی آ کر کھوہوں غاروں میں زندگی گذارنا۔ دوران سیاحت بھی معمولی سی زندگی گذارنا۔ دنیا سےمکمل لاتعلقی کےباوجود دنیا کےتمام حقائق سےوابستگی اور ان کےمسائل کےحل کےلئےمکمل آگاہی رکھنا اور ان کا حل پیش کرنا یہ سب ان کی زندگی کا حصہ تھا۔
علامہ صاحب کا ارشاد ہےکہ اینی مری شمل مسلمان ہوئی ہی۔ اور اب اس کا پیچھا کرنےکی ضرورت نہیں ہےورنہ ایسا نہ ہو کہ وہ پھر اسلام سےبھاگ جائی۔ اس کی وصیت بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہےکہ وہ مکلی کےقبرستان میںدفن ہونا چاہتی تھیں۔ علامہ صاحب نےتو اس کا مسلمان نام بھی بتایا۔
علامہ صاحب فرماتےہیں کہ ”ایٹمی جنگ کی صورت میںدس لاکھ سال تک زمین ویران و برباد ہو جائےگی “۔ اب اس بات کا اندازہ کر لیں کہ اگر ایسا ہوجائےتوکیا اس کائنات کا وجود باقی رہےگا اور انسان کا اپنا قصور ہےکہ وہ انسانیت کو خود اپنےہاتھوں سے ہی ختم کرنا چاہتا ہی۔ ایک اور مشکل جو، ان کودرپیش تھی کہ ان کےمدمقابل سائنس دان بھی ایٹمی سائنس جاننےسےمحروم تھی۔ کیوں کہ سائنس دان تو بہت سےہیں لیکن ایٹمی سائنس دان بہت کم ہیں اور پھر ان ایٹمی سائنس دانوں کےاندر بھی ایٹمی سائنس کی حقیقت کو سمجھنےکی اہلیت نہیں ہوتی۔ یا وہ اپنےمفادات کی خاطر کوئی ایسی بات کہنےکےلئےتیار نہیں ہوتےجس کی وجہ سےایٹمی سائنس کےنظریات پر ٹھیس پہنچی۔ لہذا وہ کئی سیکرٹ چیزوں کو سیکرٹ رکھتےہیں تاکہ عوام الناس میں سائنس اور سائنس دانوں کےبارےمیں خدشات پیدا نہ ہوں۔ لیکن علامہ صاحب نےعوام الناس کو تمام سیکرٹ چیزوں سےآگاہی دےدی، جس کی وجہ سےعوام کوایٹمی سائنس کی حقیقت سےآشنائی ہو گئی لیکن بدقسمتی یہ کہ زندگی کی مادی ضروریات نےانہیں اس بات پر مجبور رکھا کہ وہ ایٹمی سائنس کےخلاف کوئی قدم نہ اٹھا سکیں اور ایٹمی تباہ کاری کی طرف رواں دواں ہیں۔ علامہ صاحب انسانیت کو ایٹمی جہنم سےبچنےکےلئےسردھڑکی بازی لگائےہوئےتھی۔ ان خدشات کےخلاف یورپ میں ایٹم بم کےخلاف کئی تحریکیں اٹھیں۔ لیکن بعد میں وہ سب ناکام ہو گئیں ۔کیونکہ مادیت پرستی کا بلڈوزر ان کی معیشت کو آگےکی طرف دھکیلتےہوئےان کو جہنم کی طرف لےگیا ۔ علامہ صاحب نےحوالہ دیتےہوئےکہا ” چند سال قبل جوناتھن شیل جو نیویارک ٹائم کاصحافی تھا ، نےایک کتاب” فیٹ آف دی ارتھ“ fate of the earthلکھی۔وہ پوری دنیا میں ہیرو بن گیا۔ مگر فوراََ سارا رد عمل (reaction) ختم ہو گیا۔
علامہ صاحب فرماتےہیں :۔
” وہ قوم جو ایٹم بم کےخلاف کھڑی ہو کر اعلان کرےگی وہی محسن وہی ہیرو ہو گی ۔ قومیں اس کا لحاظ کریں گی “
علامہ صاحب نےحطمہ پر چودہ جلدیں مکمل کیں ۔یہ تمام جلدیں ایٹمی جہنم کےگرد گھومتی ہیں۔
علامہ صاحب نےایٹم بم کی خصوصیات کےخطرات پر جو کچھ لکھا ہےکوئی بڑےسےبڑا سائنس دان بھی نہیں لکھ سکتا کیوں کہ ایٹمی سائنس پڑھنےکےلئےکسی یورپی ملک سےپی ایچ ڈی کرنا پڑتی ہےاور علامہ صاحب پی ایچ ڈی نہیںتھی۔ ایٹم بم کی تباہ کاریوں میں سب سےاہم مسئلہ تابکاری کی خصوصیات کےخطرات اور تباہ کاریاں ہیںجس پر علامہ صاحب نےپھرپور روشنی ڈالی ہی۔
”بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس“ معروف جریدےمیں اس موضوع پر ان کےخطوط چھپتےرہی۔ برٹرینڈرسل کو بھی انہوں نےاسی مسئلہ پر خط لکھا اور انہیں بتایا کہ آئن سٹائن اور رسل اور باقی تمام سائنس دانوں کی جنگ سےدور رہنےکی اپیلیں ناکام ہو چکی ہیں اور دنیا میں جنگ کی تباہی کا سلسلہ تیز سےتیز ہو رہا ہی۔ اس کو روکنےکےلئےعلامہ صاحب کی جرات کو سلام پیش کیا جائےگا۔
علامہ صاحب نےاس ضمن میں مذاہب میں ہتھیاروں کی نوعیت اور قسموں کےسلسلےمیں بحث کی ہےاور انجیل اور قران سےایٹمی ہٹھیاروں کو ثابت کیا اور ان کی تباہ کاری کی وجہ دولت سےپیار اور روحانیت سےنفرت ہی۔ ان کےخیال میں روحانیت پرعمل اور مادہ پرستی سےکنارہ کشی ہی انسانیت کوجملہ تباہ کاریوں سےبچا سکتی ہی۔ انہیں خود روحانی مشن کےلئےخوابوں کی مدد ملتی رہی اور انہوں نےزندگی میں بےشمار سچےخواب دیکھےجن کی تعبیریں ان کےسامنے زندگی میں پوری ہوئیں اور اب کچھ بعد میں پوری ہو رہی ہیں۔

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 89
    وادی سون کا قدرتی ماحول تحریر شوکت محمود اعوان وادی سون کا ماحول ایک قدرتی ماحول ہی۔ جہاں جنگل، پربت وادیاں، ندیاں، نالی، جھیلیں، درختوں کےجھنڈ، آبشاریں، لہلہاتی فصلیں، جنگلی جانور، جنگلی بوٹیاں موجود ہیں۔ یہاں پر جنگلی حیات بھی موجود ہےجو کہ قدرت کی صناعی کےحسین ترین مظاہر میں…
  • 87
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 82
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply