خدا بانٹ لیا ہے تحریر محمد عارف

خدا بانٹ لیا ہے
تحریر : محمد عارف (ٹیکسلا)
آجکل تھوک کےحساب سےچھپنےوالےشعری مجموعوں میں سےشاید ہی کوئی دل کو بھا جائےاور جذبات میں ہلچل بپا کرنےکا سبب ہو ۔کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ”خدا بانٹ لیا ہی“ بھی انہی میں سےایک ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پڑھتےہوئےملائمت، نرمی اور شگفتگی کا احساس دامن گیر رہتا ہی، وہ معاشرت اور تہذیب کےگھمبیر مسائل بیان کرتےہوئےمحض نعرہ بازی یا سیاست کےشکار نہیں ہوتی۔ بلکہ لطافتِ اظہار کےتمام سلیقےبروئےکار لاتےہیں۔ وہ فن کی باریکیوں کا خاص خیال رکھتےہیں، ورنہ ہر پندرہ دن بعد آنےوالےشعری مجموعوں میں قلم برداشتہ اور دل برداشتہ شاعری زیادہ ہوتی ہی۔ کاشف بٹ جستجوئےحقیقت اور ادراک و شعور کےشاعر ہیں۔ وہ عمرانی شعور کےوسیلےسےماورائےکائنات حقیقتوں کی تلاش میں ہیں۔ وہ اپنےشعری منطقےمیں منفرد اسلوب کی تشکیل کےسفر پر رواں دواں ہیں۔ کاشف بٹ کی شاعری عصری صداقتوں اور آفاقی موضوعات کی ترجمان بنتی جا رہی ہی۔ کیونکہ وہ حسن و عشق اور گل و بلبل کی دہرائی ہوئی کہانیوں کی بجائےفنی چابکدستی سےمعاشرےکی نبض پر ہاتھ رکھ لیتےہیں۔ وہ اصلاحِ معاشرہ کی کوشش میں بھی سرگرداں ہیں۔ کاشف بٹ ایک ایسےپاکستان کا خواب دیکھتےہیں جہاں عدل و انصاف ، مساوات اور قانون کی حکمرانی ہو ۔ وہ کرپشن ، بدعنوانی اور رشوت وسفارش پر مبنی معاشرےکو دیکھ کر خون کےآنسو روتےہیں۔ مگر واضح ہو کہ وہ کسی مخصوص مکتبہءفکر یا فلسفےکا پرچارک بن کر سامنےنہیں آتےکیونکہ سچےفنکار کا دل پوری کائنات کےساتھ دھڑکتاہی۔ اور وہ دنیا کےہر خطےاور علاقےکےرہنےوالوں کےجذبات و احساسات کا ترجمان بن کر سامنےآتا ہی۔ کاشف بٹ امن ِ عالم کےلئےکوشاں ہیں۔ وہ یہ چاہتےہیں کہ جاگیردارانہ سماج کےعفریت بستیوں کو نگل ہی نہ جائیں، وہ غربت و امارت کی خلیج کو پاٹنےکی کوشش میں مصروفِ کار رہتےہیں۔ کاشف بٹ کی غزل آج کےعہد کےاس نوجوان کی داستانِ حیات ہےجو ناقدری ِءعالم کی فضا میں سانس لےرہا ہی، اسےکسی ہم مزاج شخص کی بھی تلاش ہےاور وہ سماجی ناہمواریوں کو جڑ سےاکھاڑ پھینکنےکاآرزومند ہی۔ کاشف بٹ وطنِ عزیز میں محبتوں اور چاہتوں کےفروغ کےعلمبردار ہیں۔ وہ فرقہ واریت اورعصبیت کا خاتمہ چاہتےہیں تاکہ وطنِ عزیز ترقی و خوشحالی کےسفر پر گامزن ہو سکی۔
ملتمس ہوں صاحبانِ منبر و محراب سے
نفرتوں سےماورا بھی کچھ بیاں میں ڈالیی
اک طرف جھگڑےہیں تاج و تخت کی
اک طرف خلقِ خدا مقروض ہی
ایسا نہیں اخبار بک رہا ہی
اس دیس کا کردار بک رہا ہی
انصاف کیا مفقود ہو گیاہی
میزان میں معیار بک رہا ہی
ٍ بوقتِ ظلم وستم جب مری زبان کھلی
بحکمِ شاہ نوشتہ ملا لبوں کو سی
امیرِ شہر نےرقص و سرود کی مد میں
غریبِ شہر کےمنہ سےنوالاچھینا تھا
تمام شہر پہ چھایا ہوا تھا سناٹا
ہوائےظلم نےاس درجہ زور پکڑا تھا
منصف سےماورا ہےریاست سےماورا
انصاف اک سفر ہےعدالت سےماورا
کاشف بٹ کی شاعری میں احتجاج اور بغاوت کا عنصر زیادہ ملتا ہی۔ فیض آحمد فیض ، آحمد فراز، احسان دانش، حبیب جالب، تنویر سپرا، عارف شفیق، علی مطہر اشعر جیسےانقلابی شعرا کےبعد یہ شاعرانہ آہنگ اور با
غیانہ لے مدہم ہوتی جا رہی تھی جسےکاشف بٹ نےشعوری کوشش سےزندہ و پائندہ رکھنےکی سعیءپیہم کی ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پر ترقی پسند ادبی تحریک کےاثرات بھی کہیں کہیںصاف محسوس کئےجا سکتےہیں۔ جس کےبنیادی موضوعات میں انسان دوستی ، فرسودہ و کہنہ روایات کا خاتمہ اور اخلاقی اقدار کی پامالی ہیں۔ مگر یہ امر بھی ایک بدیہی حقیقت ہےکہ کاشف بٹ اپنی اس بلند بانگ آواز کی للکار کو فطرت کی ترجمان رکھتا چاہتےہیں۔ وہ ادب کو خانوں میں تقسیم کرنےکےپابند نظر نہیں آتی۔ وہ سوچ کےسفر پر روانہ ہیں، انہیں حقیقت کی تلاش کا جنوں ہی۔ ان کا لہجہ ابھی زیادہ نکھر کر سامنےنہیں آ سکا۔ کیونکہ انہیں اظہارِ جذبات اور شدتِ احساس رکنےنہیں دیتی۔ اگر وہ باقاعدگی سےاردو کےکلاسیکی سرمائےاور عصری ادبی منظر نامےسےرہنمائی حاصل کریں اور اپنےبطون سےپھوٹتی ہوئی روشنی کی توانا لکیر کےپیچھےپیچھےچلیں تو یقیناََرنگ و نور کا ایک اجلا جہان ان کا منتظر ہی۔
دامنِ کنیز ہےجب سےدستِ شاہ میں
سلطنت اتر گئی پستیوں کی چاہ میں
کیا خبر نعرہءحق لگانا پڑی
کیا خبر معبدوں کو گرانا پڑی
وہ جس نےتاج محل کولہو سےسینچا تھا
زمانےکو نہیں معلوم کس لحد میں ہی

کاشف بٹ قدرت کی طرف سےذہنِ رسا اور فکرِبلیغ لےکر آئےہیں۔ وہ دوسروں سےمختلف انداز میں سوچنے، سمجھنےاور محسوس کرنےکی بھرپور صلاحیت سےبہرہ ور ہیں۔ ان کےاشعار میں ایک نیا پن اور منفرد انداز سامنےآ رہاہی۔ وہ خرد کی گتھیاں سلجھا کر کسی صاحبِ جنوں کی تلاش میں ہیں۔ جو انہیں آشنائےراز کر سکی۔ مجھےان کی اس خواہش پر مولانا روم یاد آ گئی۔ کہ جنہیں ایک مرد ِ دانا نےعلمِ حقیقت سےآشنا کرتےہوئےکہاتھا کہ” این علم تو ندانست “ تب درویش آگےآگےتھےاور مولانا روم پیچھےپیچھےتھی۔خدا کاشف بٹ کو جلد اپنی منزل سےہمکنار کرےکہ یہ راستہ سیدھا منزل کوپہنچاتا ہی۔ مگر ان سےگذارش ہےکہ اس سفر کےلئےانہیں خلوصِ دل اور حسنِ نیت کی ضرورت ہی۔
مجھےملاو¿ کسی صاحبِ کرامت سے
یہ مری ذات تو الجھی ہوئی خرد میں ہی
مجھ پہ کھلنےلگا اک منظر
ایک درویش ہےمیرےاندر
کاشف بٹ ایک محبِ وطن پاکستانی ہیں۔ وہ نسلی، علاقائی اور لسانی تعصبات کا خاتمہ کرکےملی وحدت کےفروغ کےلئےسرگرم ِ عمل ہیں۔ وہ نفرتوں کی ہواو¿ں کےآگےپیارکےدیپک جلانےکےخواہش مند ہیں۔ وہ یہ چاہتےہیں کہ پوری پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دشمنانِ دین و ملت کےلئےبنیانِ مرصوص ثابت ہو۔
وقت بےوقت چلی آئےہےبادِ صرصر
اےخدا اپنی اماں میں یہ گلستاں رکھنا
ملتا ہی نہیں کوئی نشاں صبحِ وطن کا
ہےکون جو رروکےہےیہاں رستہ کرن کا
کاشف بٹ نےفکرو احساس کےسفر میں کئی اتار چڑھاو¿ دیکھےہیں۔ وہ تشکیک و ابہام سےعرفان و حقیقت تک کی منزل کا بار بار ذکر کرتےہیں۔ تاکہ ان کےمشاہدات اور محسوسات سےآگاہی حاصل کی جا سکی۔ کاشف بٹ ایقان و صداقت کےعلاوہ مختلف اصنافِ سخن میں بھی نت نئی اختراعات کےقائل ہیں۔ یہی فنی اجتہاد کی کوشش اور بامعنی و ہنر آفریں کچھ کر گزرنےکی خواہش ہی فنکار کو اوج و عروج کی منزلوںسےہمکنار کرتی ہی۔ کاشف بٹ کو اس ادبی مجتہدانہ روایت کا سرخیل قرار دیا جاسکتاہی۔ جو ن م راشد، میرا جی سے شروع ہوکر ادب میں لاشعور کی تحریک کا نقطہءآغاز بن جاتی ہی۔ شعور کی رو (Stream of Subconsciousness ) بھی اسی تسلسل کا ایک حصہ ہی۔
کھلےتھےسامنےمیرےہزار ہا رستی
میں آشنائےرہِ حق بھٹک بھٹک کےہوا
لازم وملزوم کی دنیا سےنکلا تو مجھی
راستہ کھلتا نظر آیا ہےیزداں کی طرف
غزل کےماحول سےنکلنا بھی ایک نوحہ
غزل کےماحول میں سکونت بھی مرثیہ ہی
جس کسی عہد میںسقراط جنم لیتاہی
منطقی بحث پنپتی ہےاسی دھرتی پر
پسِ خیال کئی دستکیں ابھرتی ہیں
صدائےغیب ترا جانےکیا ارادہ ہی۔
کاشف بٹ نابینا تقلید پرستی اور روایت پسندی کےقائل نہیں۔بلکہ معروضی حقائق اور فکری تعمق سےاپنی سمتِ سفر متعین کرنا چاہتےہیں۔ وہ فلسفیاتی اساس اور تفکر و تدبر کےذریعےانسان ،خدا ور کائنات کےسربستہ رازوں کو پانےکےآرزو مندہیں یہی وہ مثبت اور تعمیری سوچ ہےجوانہیں اپنی تکمیل کرنےمیں معاونت فراہم کرےگی۔ چندمثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
خدا پرست نہیں ہوں خدا شناس تو ہوں
میں آب جو ہوں سمندر کےآس پاس تو ہوں
بشر نےسیکھ لیا ہیر پھیر لفظوں کا
حیات مقصدِ ابہام تک نہیں پہنچی
آج کرناہےمجھےاپنےخدا کا انتخاب
آج رہتی ہےمری جنت جہنم پر نظر
علامہ محمدیوسف جبریل کےفلسفہءایٹمی جہنم پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہےکہ آج کاانسان مادہ پرستانہ سوچ ، خود غرضی ، اور حرص وہوس کےوسیع و عریض سمندر میں ڈوبا ہوا ہی۔ وہ اگر صالح سوچ اور مثبت اقدار کواپنا لےتو اسےاسی دنیا میں ایک بہشتی معاشرےکےقیام میں مدد مل سکتی ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری ارتقا کی منازل سےگزر کر عرفانِ حقیقت کی منزلوں کوچھو رہی ہی۔
اللہ کرےزورِقلم اور زیادہ

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 80
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 79
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…
  • 78
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply