Quran Ka Mojza , 1400 saal pehly Quran main Atom Bomb ki Peshangui….

دور جدید میں قران حکیم کا ایک لازوال اور محیرالعقول سائنسی اور ایٹمی معجزہ
معروف ِزمانہ یہودی مشتشرق اینی مری شمل اور علامہ یوسف جبریل کےدرمیان قران حکیم کےاس اہم موضوع پر یادگار مذاکرےکی تفصیل و روئیداد
تحریر
علامہ محمد یوسف جبریلؔ
ستمبر 1963 ءکا واقعہ ہے۔ انہیں دنوں مائینڈ آف دی قران ( Mind of the Quran) کی سات جلدوں کی اشاعت کےلئےکسی پبلشر کی تلاش میں لاہور گیا ہوا تھا ۔ دنیائےعلم و ادب سےگریزاں چالیس برس، پوشیدہ و نہاں، صحرائےجستجو میں سرگرداں اور بحر تحقیق میں ہمہ تن غرق، طویل المیعاد علمی کدوکاوش اور تلاش حق کےایک تنہا مسافر کی حیثیت سےمیں اس جہان رنگ و بو کا ایک غیر متعارف ترین انسان تھا اور اس پر میری دقیانوسی وضع قطع، اور عامیانہ ہیئت کذائی مستزاد، معلوم ہوا کہ دنیا کا ہر شخص جوہری نہیں ہوتا اور اعلیٰ سےاعلیٰ جوہر کو بروئےکار لانےکےلئےبھی ظاہر داری کو کافی دخل ہوتا ہے۔ چند دنوں میں جن چند اہل نظر حضرات نےمیری کاوش کو نظر استحسان سےدیکھا اور مجھےاپنی نگاہ التفات سےنوازا ،ان کو انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا مثلاََ علامہ علاو الدین صدیقی، ڈاکٹر سید عبداللہ، آقا بیدار بخت، ڈاکٹر جاوید اقبال، پروفیسر علم الدین سالک ، جناب صدیقی صاحب لائبریرین دیال سنگھ لائبریری ،پروفیسر خالد عباس، ڈاکٹر وحید قریشی ، اور اظہر جاوید، وغیرہ وغیرہ، اور ان حضرات کی نگاہ جان نواز کا کرشمہ سمجھئےورنہ علم کا وہ بحرِ ذخار جو ایک مسکین کےحقیر سےسینےمیں متلاطم تھا ۔اہل زمانہ کی کم نگاہی کےسبب منجمند ہو کر برف کا ایک کوہ ِگراں بار ہو کےرہ جاتا اور میں اس پہاڑ کی قبر ہوتا ۔تاہم مائینڈ آف دی قران ( Mind of the Quran ) منصہءشہود پر نہ آ سکا۔یہ علامہ علاو الدین صدیقی تھےجن کےمکان پر مجھےشرف ہمنشینی حاصل تھی۔ صیہونیت زیر بحث تھی ،بعض دوسرےاسلامی مسائل اور دور حاضر میں مسلمانوں کا کردار بھی ضمناََ درپیش تھا ۔ علامہ صاحب محوگفتگوتھے۔اور میں جوش و مستی کےعالم میں بعض دفعہ ناممکنات کی حدوں کو چھو جاتا۔ میں مسلمانوں کو قرون اولیٰ کی سطح پر دیکھنےکا متمنی تھا۔ علامہ صاحب حد درجےکےزیرک اور فہیم عالم دین تھے۔آٹھ بجےصبح کےبیٹھےشام کےچار بج گئی۔ میں اجازت کےلئےاٹھا تو فرمایا کہ برادر بیٹھو ،ایک نسلََا جرمن مذہباََ یہودی فاضلہ عورت لاہور میں وار د ہے۔ چھ تقریریں پنجاب یونیورسٹی میں کر چکی ہے۔ بدھ کےروز تین بجےسےپانچ بجےتک اس کیآخری تقریر ہے۔ قران حکیم ، انجیل، توریت، اور زبور پر عبور رکھتی ہے۔ اسلامی دنیا کےدورےپر ہی،جملہ اسلامی ممالک سےہوتی ہوئی لاہور میں پہنچ چکی ہے۔یہاں سےدہلی اور پھر تمام دنیا کےگرد چکر لگا کر واپس جرمنی جائےگی۔ برادر ! اس علمی بصیرت اور قرانی نور کےپیش نظر جو آپ کو اللہ تعالیٰ نےودیعت فرمایا ہے،میں آپ کو دعوت دیتا ہوں ۔ یہ میرا خصوصی کارڈ ہے۔ میں ہر روز بیس بائیس چوٹی کےعالم بدل بدل کر مدعو کرتا ہوں ۔ باری باری چار پادریوں کو بھی بلا لیتا ہوں ۔کیونکہ عیسائی اور یہودی ایک دوسرےکےمحرم ہوتےہیں۔ عوام کو ہم لوگ اندر آنےکی اجازت نہیں دےسکتےہو سکتا ہےکہ کوئی آدمی مشتعل ہو کر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے،جو ہمارےلئےباعث رسوائی ہو ۔ دنیا کہےکہ قلم کا جواب قلم سےنہ دےسکےاور اپنےہتھیاروںپراتر آئی۔عورت کیاہےآفت کا پرکالہ ہے۔ میں نےعرض کیاکہ جناب علامہ صاحب ! اس کا موضوع کیا ہے؟ فرمایا کہ قران حکیم کی الہامی حیثیت کی منکر ہےاور ثبوت کےلئےقرآن حکیم پر نکتہ چینی کرتی ہےمیں نےکارڈ لیا اجازت چاہی اوررخصت ہو گیا۔راستےمیں میں سوچتا گیا کہ کس خوبی سےاسلام کی جڑ پر کلہاڑی چلائی جا رہی ہی۔ اگر ایک نبی کا نعوذ باللہ ایک جھوٹ ثابت ہو جائےتو پھر رہتا ہی کیا ہی، ساری عمارت ہی دھڑام سےنیچےآجاتی ہی۔
بدھ کےروز حسب وعدہ ٹھیک پونےتین بجےمیں یونیورسٹی پہنچ گیا۔ پہلی صف کےبائیں طرف مجھےسیٹ ملی ،وہاں بیٹھ گیا۔ پیچھےمڑ کر دیکھا ،بیس بائیس اچھےمشخص علماءکرام تشریف فرما تھی۔ دائیں جانب ایک کونےمیں چار پادری بھی گون پہنےننگےسر نظر پڑے۔ علامہ صاحب صدارت کی کرسی پر براجمان تھے۔ ٹھیک تین بجےفاضلہ تشریف لائیں ،عورت کیا آئی ایک طوفان آ گیا ۔ ہر طرف خو ف و ہراس کی ایک لہر سی دوڑ گئی ۔ صدر صاحب سےاجازت مانگی اور یہ جا اور وہ جا ۔ تابڑ توڑ تازیانےبرسانےشروع کر دیئے۔ انگریزی زبان پر حیران کن دسترس تھی اور ہم گرتےپڑتےمیانوالی پہنچتےتووہ روس کی سرحدوں کو چھو رہی ہوتی تھی ۔ بعض باتوں کےجواب ہمیں معلوم ہوتےتھےمگر وہ ہمیں موقع ہی کب دیتی تھی ۔ اس طرح ایک گھنٹہ گزر گیا گھڑی نےچار بجائے۔ ہماری تقدیر لکھنےمیں ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ پریشانی کےعالم میں علامہ صاحب کرسیءصدارت کو گھسیٹتےہوئےمیری جانب آ بیٹھے۔ میں نےپوچھا۔ کیوں علامہ صاحب ! فرمانےلگے۔ برادر ! تو بھی خاموش ۔یہ علماءکرام بھی خموش۔پادری بھی خموش ۔میں بحیثیت صدر کچھ پوچھنےکا مجاز نہیں ۔ میں نےعرض کیا ۔ علامہ صاحب ! قرآن حکیم آپ کا ہی؟ فرمانےلگےنہیں ۔ میں نےعرض کیا تو میرا ہو گا ؟ انہوں نےفرمایا نہیں تمہارا بھی نہیں ۔ میں نےعرض کیا کہ ان علمائےکرام کا ہو گا تو انہوںنےفرمایا نہیں ،ان کا بھی نہیں تو پھر ان پادریوں کا ہو گا ´؟ کہا ان کا بھی نہیں ۔ میں نےعرض کیا علامہ صاحب ! قران حکیم جس کا ہی۔وہ اس کی خود حفاظت کرےگا۔اس دوران جو علامہ صاحب نےکرسی گھسیٹی ۔اور میرےاور علامہ صاحب کےدرمیان کچھ کھسر پھسر ہوئی تو محترمہ صاحبہ کی توجہ اپنی تقریر سےہٹ گئی ۔ وہ حیران تھی کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔ ادھر میں اس گھنٹہ کےدوران یہ محسوس کر چکا تھا کہ اس عورت کو بحث میں الجھانا سراسر حماقت ہے۔ بحث میں کب کسی بات کا فیصلہ ہوا ہےالبتہ کوئی ایسی صورت پروردگار پیدا کر دےکہ یہ عورت پابہ زنجیر ہو کر رہ جائے اور خود بولےکہ ہاں میں لا جواب ہوں ۔ میرے دماغ میں ایک بجلی سی کوندی اور میں اٹھ کھڑا ہوا ۔ بات چیت انگریزی زبان میں ہو رہی تھی۔ میں نےعرض کیا مادام ! معذرت خواہ ہوں میں نےگذشتہ چھ تقریروں میں کچھ نہیں سنا۔ مجھےمعلوم نہیں کہ آپ نےکیا کہا البتہ آج کی تقریر کےاس گھنٹےکا روادار ہوں مگر جو کچھ میں نےاس ایک گھنٹےکےدوران سنا ۔ اس سےمعلوم ہوا کہ آپ قران حکیم کی الہامی حیثیت کی منکر ہیں یعنی یہ تو آپ مانتی ہیں کہ قران حکیم ایک اچھی کتاب ہے۔ اس میں نصیحت بھی ہے،کچھ قانون بھی ہے،لائحہ عمل بھی ہے اور چند پرانےلوگوں کی مثالیں بھی ہیں مگر آپ ماننےکو تیار نہیں کہ قران حکیم اللہ تعالیٰ نےعرش سےفرشتےکےذریعےہمارےنبی امی و فداہ ابی و امی حضرت محمد پر نازل کیا ۔کہنےلگیںکہ ہاں بالکل ٹھیک ہے۔ یہی میری منشا ہی۔ میں نےکہا ۔ مادام ! میں کسی بحث میں آپ کو ہرگز الجھانےکا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ دل کی گفتگو دل سےہونی چاہیئے۔ دو ضمیروں کی گفتگو ہوگی ۔ کہنےلگی ©بیان جاری رکھئے© میں نےعرض کیا ۔ مادام ! اگر قران حکیم جیسا کہآپ کا خیال ہےہمارےنبی کریم نےخود لکھا تھا تو اس کےمعنی یہ ہوئےکہ وقت کےکسی دور میںیا دنیا کےکسی حصےمیں اگر کوئی شخصیت ایسی ابھرتی جس کی علمی قابلیت اس پائےکی ہوتی جیسی کہ ہمارےنبی کریم کی تھی تو دنیا کےسامنےایک اور قران حکیم پیش کر دیا جاتا۔کہنےلگیں عین ممکن ہی۔ میں نےعرض کیا کہ ایسا ہوا تو نہیں مگر چلئےمحترمہ ! بتایئےکہ قران حکیم کب نازل ہوا ؟ یا آپ کےنظریئےکےمطابق قران حکیم کب ہمارےنبی کریم نےلکھا ۔ کہنےلگیں۔ ٹھیک تیرہ سو اسی برس پہلے۔ میں نےسوال داغ دیا کہ ایٹم بم کب بنا ۔ کہنےلگیں ،سن 1945 ءمیں دو دانےناگاساکی اور ہیروشیما پر پھینکےگئے۔ میں نےعرض کیا ۔ قران حکیم لکھا گیا تیرہ سو اسی برس پہلی۔ ایٹم بم گرائےگئےسال 1945 ءمیں ۔ کہنےلگیں ہاں۔ میں نےعرض کیا ۔ محترمہ ! ان دو تاریخوں میں کچھ فاصلہ ہے۔ جواباََ کہا بیچ میںصدیاں پڑی ہیں۔ میں نےعرض کیا محترمہ ! اپنےضمیر میں جھانک کر جواب دیں کہ کیا کسی انسان کےلئےیہ ممکن ہےکہ تیرہ سو اسی برس پہلےبدووں کےملک میں۔مکےکےشہر میں ( ایک ان پڑھ شخص )حضرت محمد مصطفیجس کےمتعلق آپ کےدانش ور طبقےکا متفقہ فیصلہ ہےکہ حضور نبی کریم قطعاََ ان پڑھ تھے، انہوں نےنہ کسی استاد کےسامنےزانوئےتلمز تہہ کیا نہ ہی کوئی کتاب پڑھی ، نہ ہی اپنےہاتھ میں کبھی قلم لےکر کچھ لکھا ۔ ایک کتاب لکھنےبیٹھ جاتا ہے۔ وہ عربی زبان میں ایک کتاب لکھتا ہے۔ اس کا نام قران حکیم رکھتا ہےاور اس عربی قران حکیم میں انگریزی لفط ایٹم ( ATOM ) بھی لکھتا ہے۔ یہ لفظ ایٹم یونانی لفظ اٹامس ( ATOMOS) سےانگریزی سائنس دانوں نےاپنا کر بطور اصطلاح استعمال کیا ہےیہی نہیں  بلکہ قران حکیم کا مصنف تھیوری Èف اٹامزم Theory of Atomism)) ڈیماکرٹس قبل مسیح کی ایٹمی تھیوری کی پچیس سو سالہ راز کا انکشاف کرتا ہی۔یہی نہیںبلکہ بتاتاہےکہ کس طریقےسےایٹم بم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارےگااور جب چلےگا تو کیسی تصویر دیکھنےوالوں کی نظر میں پیش کرےگا ، یہی نہیں بلکہ بتاتا ہےکہ کن قوموں کو اللہ تعالیٰ اس عذاب شدید کا مستحق قرار ٹھہرائےگا اور وہ کون سےخصائص ہیں جن کی بنا پر وہ بدنصیب قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہریں گی ۔ یہ سب نو آ ئتوں اور چھتیس لفظوں میں قران حکیم نےبیان کیا ہی۔ کہنےلگیں©یہ قطعاَ ناممکن ہےکیاآپکےحواس درست ہیں©۔عربی قران میں انگریزی لففظ ایٹم ( ATOM ) اور پھر ایٹمی تھیوری کی تاریخ اور ایٹم بم کےدھماکے(Atomic Explosion) کی تصویر ۔میں نےمحسوس کیا کہ میرےپیچھےبیٹھےہوئےتمام لوگوں کی گردنیں کچھ بلند ہو گئی ہیں اور آآنکھوں میں حیرت کےآثار ہیں ۔ یہ لوگ تو سب چوٹی کےعالم ہیں ۔ قران حکیم بچپن سےپڑھتےآئےہیں ۔ قران حکیم اور ایٹم بم ؟ ان کےلئےبھی یہ انوکھی بات تھی ۔ میں نےعرض کیا ۔ مادام ! میں کوئی پیشہ ور مداری نہیں۔ آپ بھی موجود ،میں بھی موجود ،قران حکیم بھی یہاں موجود،اللہ اور اللہ کا رسول بھی موجود ، نظر بندی نہیں کروں گا اور آپ کی آنکھوں سےسب کچھ قران حکیم میں دکھاوں گااورآپ اپنی زبان سےپکاریں گی۔ کہ ہاں بےشک اللہ کا کلا م ایک معجزہ ہی۔ اللہ کا کلام ایک بےنظیر کلام ہی۔ نہ کوئی ایسا لکھ سکا ہےنہ ہی کوئی ایسا لکھ سکےگا ۔ ہر طرف سکوت چھا گیا ۔ پھیلتی اور سکڑتی ہوئی پتلیوں کی کیفیت بھی فضا میں منعکس ہو رہی تھی بالآخر میں نےمہر سکوت توڑی اور کہا آپ پڑھیں سورة الھمزہ ۔ کہنےلگیں میں حافظ نہیں ہوں۔ میں نےکہا۔ میں قران حکیم پڑھوں یا قران حکیم منگواوں ۔کہنےلگیں ۔آپ پڑھیں اگر غلط پڑھیں گےتو ٹوکوں گی ۔میں قران حکیم جانتی ہوں ۔ اللہ کا نام لےکر میں نےپڑھنا شروع کر دیا ۔
آعوذ بالللہ من الشیطن الرجیم ۔بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ویل الکل الھمزہ لمزہ ۔ن الذی جمع مالا و عددہ ۔ یحسب ان مالہ اخلدہ ۔کلا لینبذن فی الحطمہ ۔وما ادرک ماالحطمہ ۔ ناراللہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ ۔انہا علیہم موصدہ ۔فی عمد ممددہ (الھمزة) ۔
میں نےکہا۔ مادام ! یہ حطمہ کیا ہی۔ کہنےلگیں۔ آپکےمفسرین کرام یہ لکھتےہیں کہ یہ ایک ایسا دوزخ ہی۔ جس میں جو چیز ڈالو گے۔ایٹم ایٹم ہو جائےگی ذرہ ذرہ ہو جائےگی ۔ محترمہ ! میں نےعرض کیا ۔ یہ حطمہ اسم محل ہےاور اس کی جذر ہی© ©©۔ح ط م۔ حَطَمَ براہ مہربانی آپ پکاریں ۔ایٹم ۔ محترمہ نےکہا حَطَم (جرمن لوگ بھی عربوں کی طرح ٹ کو ت یا ط بولتےہیں) میں نےعرض کیا۔ یہی حَطَم اس کےمعنی ہیں ایٹم ایٹم ہو جانا ۔یہ ہےعربی حطم اور یہ ہےانگریزی ایٹم ۔معنی دونوں کےایک ہی ہیں اور یہ قران حکیم کا معجزہ ہے۔مگر آگےچلیں ۔حطمہ کی دوسری ترکیب صرفی ہے۔حّطم یعنی ط مشدد یعنی آپ کےہاتھ میں شیشےکا ایک گلاس ہو اور آپ پوری طاقت کےساتھ اسےچٹان پر دےماریں، گلاس کےٹکڑےٹکڑےہو جائیں گے۔ عرب پاس کھڑا ہو گا تو کہےگا۔ حطمہ الغلاس ۔ اس سےاگلی ترکیب ہےتحّطم ط بدستور مشدد ۔اور لفظ کےشروع میں ت بڑھا دی جاتی ہے۔اس طرح لفظ کی قوت میں اضافہ ہوا یعنی آپ کےسامنےبارود کا ایک ڈھیر پڑا ہواور آپ اسےدیا سلائی دکھا دیں اور وہ بارود ہر چیز کو لیتا ہوا بھک سےاڑ جائے۔ عرب پاس کھڑاہو تو کہےگا© تحّطماالبارود©۔اگلی ترکیب ہے۔ انحطام یعنی حطم حطم ہو جانا، ریزہ ریزہ ہو جانا ذرہ ذرہ ہو جانا۔ کنایتہ عرب لوگ کہتےہیں۔حطام الدنیا یعنی اس فانی دنیا کی فانی چیزیں جو ذرہ ذرہ ہو جانےوالی ہیںاور پھر آخر میں© حطام السفینہ ©۔تباہ شدہ جہازکا انجر پنجر۔سمندرکےسینےپر تیرتےہوئےجہاز کو دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سےاڑتاہوا طوفان اچک کر ساحلی چٹانوں پر د ےمارےاور جہاز کےپرخچےاڑ جائیں ۔یہی نہیں محترمہ ! آگےاللہ تعالیٰ فرماتا ہی۔
وما ادرک ماالحطمہ ۔
اےمیرےنبی تجھےکون جنوا سکتا ہے۔ کہ یہ حطمہ کیا ہے؟ مگر قران حکیم کسی بھی مضمون کو تشنہ نہیں چھوڑتا ۔ اللہ تعالیٰ اس کی مزید وضاحت فرماتا ہے۔
ناراللٰہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ۔
یہ ایک آگ ہےاللہ کےہاتھوں بھڑکائی ہوئی جو چڑھتی ہےدلوں تک ۔ مادام! میں نےپوچھا ۔ یہ بتایئےایٹم بم کس طرح سےاللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارتا ہے۔کیا یہ عام بارودی بم کی طرح مارتا ہےیا کسی اور طریقےسے؟ کہنےلگیں۔ جہاں ایٹم بم پھٹتا ہی،وہاں تیس میل کےرقبےسےکم و بیش اس بم کی طاقت کےمطابق ہواکو باہر دکھیل دیتا ہی۔ جب یہ ہوا اپنی جگہ لینےکےلئےواپس لوٹتی ہےتو اس میں اتنی شدت ہوتی ہے۔ کہ اگراس کےراستےمیں گاڑی کا انجن بھی رکھ دیا جائی۔تو اسےاٹھا کر دےمارتی ہی۔ کیا بےچارہ انسان یا دوسرےذی روح حیوان ہوا کا یہ شدید صدمہ پیٹ پر لگتا ہےاور دل کی شریانیں ٹوٹ جاتی ہیں ناک اور منہ سےلہو جاری ہو جاتا ہےاور انسان گھٹنوں کےبل گر جاتا ہی۔ صدمےکی وجہ سےسخت گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔جس سےانسان کا دل اور سینہ جل بھن جاتا ہی۔میں نےعرض کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نےکس قدر سچی تصویر کھینچی ہے
ناراللہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ کی۔
یہی نہیںبلکہ آگےچل کر اللٰہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ انہا علیھم موصدہ ۔ یہ بند کی ہوئی ہےآگ ان پر ۔ میں نےعرض کیا ۔ محترمہ کیااسآگ سےنکل جانےکی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟ کہنےلگیں نہیں کوئی نہیں ۔ میں نےعرض کیا ۔ مادام ! یہ آپ کےسامنےکیا ہے۔ فرمایا۔ میزمیں نےکہا اگر میں اس پر ایک بم گرنیڈ یا دوسرا بم رکھ دوں تو وہ اگر بند کی ہوئی آگ نہیں تو اور کیا ہے۔ یاد رکھیں جب قران حکیم نازل ہوا تو بارود کا وجود دنیا میں ہرگز نہیں تھا ۔ بارود کو تو بنےہوئےتقریبا تین صدیاں ہوئیں اور قران حکیم کا نزول 1380 ءبرس پہلےہوا اور کیسی ہی اچھی تعریف ہےبم کی یعنی بند کی ہوئی آگ یعنی بم ۔ایٹم بم بھی بند کی ہوئی آگ ہی ہے۔کیا ایسی بات کبھی کسی انسان کےتصور میں آ سکتی تھی۔ مگر آگےچلئے۔
فی عمد ممددہ ۔
لمبےلمبےستونوں میں ۔ مادام ! آپ نےکبھی ایٹم بم چلتےدیکھا ہےجواب دیا نہیں ۔ تو تصویر تو ایٹم بم کی دیکھی ہو گی۔ کہنےلگیں ہاں دیکھی ہے۔تو بتایئےکہ یہ کیسی ہوتی ہے۔ کہنےلگیں ۔جہاں ایٹم بم پھٹتا ہے۔ وہاں دھوئیں بلکہ ریڈیو ایکٹو ایش کا ایک ستون اوپر کی جانب اٹھتا ہےاور تقریبا تیس میل یا کم و بیش اس ایٹم بم کی طاقت کےمطابق پہنچ کر سرےپر چھتری بنا لیتا ہے۔یہ ستون اٹھتےوقت گوناگوں اور بوقلموں رنگ بدلتا ہوا اٹھتا ہےکبھی مرمر ،کبھی یاقوت،کبھی زمرد ،کبھی نیلم،کبھی سوسنی، کہیں لال کہیں پیلا وغیرہ اور عجیب بہار دکھاتا ہے۔ میں نےعرض کیا ۔ مادام ! آپ بیٹھی ہوں کوہ ہمالیہ کی چوٹی ماونٹ ایورسٹ پر جسےچند برس ہوئےسر جان ہنٹ کی پارٹی نےسر کیا تھا۔ آپ کےہاتھ میں ہو سو انچ قطر کا ٹیلی سکوپ اور پانی پت کےمیدان میں جہاں ماضی میں کئی لڑائیاں لڑی گئیں ۔ ایک ہزار مربع میں ایٹم بم اس طرح گاڑ دیئےجائیں جس طرح کہ باغ میںمقررہ فاصلےپر درخت ہوتےہیں اور کوئی ایسا انجینئر پیدا ہو جو ایک ایسی ترکیب سوچےکہ یہ بےشمار ایٹم بم یک لخت بھک سےاڑ جائیں۔ اور پھر ایک ہزار ستون نظر فریب ایک انداز دلربائی سےرنگ بدلتےہوئےتیس میل کی نظر فریب بلندی پر اٹھ کر چھتریاں بنالیں تو آپ سمجھیں گی کہ کسی عظیم شہنشاہ کےلئےمحل تعمیر ہو رہا ہےیا کوئی عظیم الشان تھیٹر کی عمارت بنائی جا رہی ہےلیکن نہیں ۔ محترمہ ! یہ تو حطمہ ہے۔ ایسا جہنم کہ جس میں جو چیز ڈالو گےوہ ایٹم ایٹم ہو جائےگی ۔ یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہےکہ کون سی قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہرائی گئیں ۔ اور کیوں ؟ میں نےعرض کیا مادام ! فرمایئےالھمزہ کیا ہوتا ہی۔ کہنےلگیں وہ جو تمہارےمنہ پر تمہاری برائی کرے۔ اور لمزہ وہ ہےجو پیٹھ پیچھےبرائی کرے۔ مادام ! ٹھیک ہے۔آپ کا شکریہ ۔ اور
ن الذی جمع مالاو عددہ ۔
یعنی یہ ھمزہ لمزہ مال جمع کرتےہیں اور گنتےہیں کہ بینک بیلنس میں کتنی بڑھوتری ہوئی ۔ مزید یہ کہ
یحسب ان مالہ اخلدہ
اور پھر گمان کرتےہیں کہ یہ مال و دولت انہیں زندہ و جاوید کر دےگا۔ وہ کبھی مریں گےنہیں اور یہ مال و دولت ہمیشہ رہےگا ۔ کلا ۔ یعنی ہرگز نہیں ۔
لینبذن فی الحطمہ ۔
بلکہ وہ تو ڈال دیئےجائیں گےحطمہ میں۔ گفتگو یہاں تک پہنچی تو مادام کو پسینےچھوٹ گئے۔ لگی بےچاری بغلیںجھانکنے۔ اور دھڑام سےکرسی پر جا گری ،تقریر ختم ۔ ایک پیالی چائےکی بمشکل زہر مار کر سکی ۔ کیک اور پیسٹریوں کےڈھیروں سےاسےکچھ نصیب نہ ہوا۔ ناسازیءطبع کا بہانہ بنا کر رخصت ہو گئی ۔ دوسرےروز ساڑھےنو بجےصبح والٹن کےہوائی اڈےسےہوائی جہاز پر بیٹھی، کراچی تک جاتی سنی۔ دورہ کینسل، بیک ٹو جرمنی ۔ مبہوت علماءکرام نےعلامہ علاوالدین صدیقی صاحب سےاستفسار کیاکہ یہ حضرت کون ہیں؟ علامہ صاحب نےفرمایاکہ ان پادریوں کو جانےدو پھر بتاوں گا۔ پادری حضرات جب چلےگئےتو علامہ صاحب نےفرمایا یہ وہ شخص ہےجسےقدرت نےمحض اتفاق سےتمہاری قوم میں پیدا کر دیا ہے۔وہ علمی بصیرت اور قرانی نور جو اللہ تعالیٰ نےاس شخص کےسینےمیں تفویض فرمایا ہے،اگر تمہاری قوم اس سےاستفادہ کرتی تو آج مقام بلند پر ہوتی ،وہ علمی بصیرت اور قرانی نور جو اللہ تعالیٰ نےاس شخص کےسینےمیں تفویض فرمایا ہے اگر تمہاری قوم اس سےلےنہ سکی تو اللٰہ تعالیٰ تمہیں قیامت تک معاف نہیں کرےگا پھر ایسا شخص پیدا نہیں ہو گا ۔ پھر مجھےفرمایا برادر نعرہ ءجبریل میں سےجو شعر مجھےاگلےروز سنائےتھے۔ ان علماءکرام کو سناو ۔ میں نےپانچ سات بندعرض کئےتو علماءکرام پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ وہاں پاکستان ٹائمز کا نمائندہ بیٹھا ہوا تھا۔ میر ےپاس آ یا۔اور کہا۔کہ گذشتہ چھ روز کی کاروائی تو ہم نےڈھانک رکھی ہےالبتہ Èج کی بات Èپ لکھ دیں ۔ اخبار میں چھپےگی ۔ میں نےعرض کیا کہ پندرہ روز کی مہلت مانگتا ہوں ۔ مجھےاپنی ذمہ داری کا احساس ہے۔ جس طرح قران حکیم لازوال ہےاسی طرح یہ تفسیر بھی لازوال ہے۔ یورپ کےایٹم بم سےقران حکیم کا یہ ایٹم بم کہیں زیادہ قوی ہے۔ ملک کےاہل نظر اسےپڑھیں گے۔ میں اسےانشاءاللہ خود آپ کےدفتر میں لکھ کر دےآوں گا۔یہ بحث قران اینڈ اٹامک ہیل Quran and Atomic Hell کےعنوان سےپاکستان ٹائمز میں چھپی ۔بعد میں معلوم ہوا کہ جہاں جہاں بھی بیرونی ممالک میں یہ اخبار پہنچا ۔لوگ کتابوں کی دکانوں کی طرف بھاگےاور قران حکیم کا انگریزی ترجمہ طلب کیا ۔بےشمار نسخےفروخت ہو گئے۔ وہ لوگ صرف یہ جاننا چاہتےتھےکہ آیا واقعی قران حکیم ایسی کتاب ہے۔ جس میں ایسی بات لکھی ہوئی ہے۔ انہوں نےپڑھا اور تسلیم کیا۔ یہ ایک واضح حقیقت تھی ۔ اظہر من الشمس حقیقت اور یہ کوئی یکہ و تنہا واقعہ نہیںبلکہ میںنےخود اپنی آنکھوں سےدیکھا ہےکہ قران حکیم ایسےمعجزوں سےاٹا پڑا ہی، دیکھنےوالی آنکھ چاہیئی۔ قران حکیم ایک لازوال معجزہ ہی۔ جس پر بےشمار مضامین اخبارات اور رسائل میں لکھ چکا ہوں۔ کیا مسلمان دست تعاون دراز کرکےمجھےاس امانت اور کار عظیم سےسبکدوش کرکےمیری دعائیں حاصل کر سکیں گےیا میرےساتھ میرا صندوق(تقریبا چالیس جلدیں ) بھی قبر میں مدفون ہو جائےگا۔ یہ اس لئےلکھتا ہوںکہ شائید آپ نہ کہیں کہ ہمیں کسی نےخبر نہیں دی ورنہ ۔۔۔۔۔ البتہ مجھ سےمصلحت کشی کی توقع عبث ہے۔ حق لکھوں گا،حق کہوں گا ، خواہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔چالیس سال کی مسلسل اور بےلوث کاوش اور تلاش حق کا ثمرہ حاضر ہی۔ کیا آپ اس نیک کام کی اشاعت میں میرا ساتھ دیں گی؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ محمد یوسف جبریل
ادارہ افکار جبریل قائداعظم سٹر یٹ نواب آبادواہ کینٹ ضلع راولپنڈی

 

 



Print Friendly

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

4 thoughts on “Quran Ka Mojza , 1400 saal pehly Quran main Atom Bomb ki Peshangui….

Leave a Reply to ชนิด-ของ-เสาเข็ม Cancel reply