Quran Ka Mojza , 1400 saal pehly Quran main Atom Bomb ki Peshangui….

دور جدید میں قران حکیم کا ایک لازوال اور محیرالعقول سائنسی اور ایٹمی معجزہ
معروف ِزمانہ یہودی مشتشرق اینی مری شمل اور علامہ یوسف جبریل کےدرمیان قران حکیم کےاس اہم موضوع پر یادگار مذاکرےکی تفصیل و روئیداد
تحریر
علامہ محمد یوسف جبریلؔ
ستمبر 1963 ءکا واقعہ ہے۔ انہیں دنوں مائینڈ آف دی قران ( Mind of the Quran) کی سات جلدوں کی اشاعت کےلئےکسی پبلشر کی تلاش میں لاہور گیا ہوا تھا ۔ دنیائےعلم و ادب سےگریزاں چالیس برس، پوشیدہ و نہاں، صحرائےجستجو میں سرگرداں اور بحر تحقیق میں ہمہ تن غرق، طویل المیعاد علمی کدوکاوش اور تلاش حق کےایک تنہا مسافر کی حیثیت سےمیں اس جہان رنگ و بو کا ایک غیر متعارف ترین انسان تھا اور اس پر میری دقیانوسی وضع قطع، اور عامیانہ ہیئت کذائی مستزاد، معلوم ہوا کہ دنیا کا ہر شخص جوہری نہیں ہوتا اور اعلیٰ سےاعلیٰ جوہر کو بروئےکار لانےکےلئےبھی ظاہر داری کو کافی دخل ہوتا ہے۔ چند دنوں میں جن چند اہل نظر حضرات نےمیری کاوش کو نظر استحسان سےدیکھا اور مجھےاپنی نگاہ التفات سےنوازا ،ان کو انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا مثلاََ علامہ علاو الدین صدیقی، ڈاکٹر سید عبداللہ، آقا بیدار بخت، ڈاکٹر جاوید اقبال، پروفیسر علم الدین سالک ، جناب صدیقی صاحب لائبریرین دیال سنگھ لائبریری ،پروفیسر خالد عباس، ڈاکٹر وحید قریشی ، اور اظہر جاوید، وغیرہ وغیرہ، اور ان حضرات کی نگاہ جان نواز کا کرشمہ سمجھئےورنہ علم کا وہ بحرِ ذخار جو ایک مسکین کےحقیر سےسینےمیں متلاطم تھا ۔اہل زمانہ کی کم نگاہی کےسبب منجمند ہو کر برف کا ایک کوہ ِگراں بار ہو کےرہ جاتا اور میں اس پہاڑ کی قبر ہوتا ۔تاہم مائینڈ آف دی قران ( Mind of the Quran ) منصہءشہود پر نہ آ سکا۔یہ علامہ علاو الدین صدیقی تھےجن کےمکان پر مجھےشرف ہمنشینی حاصل تھی۔ صیہونیت زیر بحث تھی ،بعض دوسرےاسلامی مسائل اور دور حاضر میں مسلمانوں کا کردار بھی ضمناََ درپیش تھا ۔ علامہ صاحب محوگفتگوتھے۔اور میں جوش و مستی کےعالم میں بعض دفعہ ناممکنات کی حدوں کو چھو جاتا۔ میں مسلمانوں کو قرون اولیٰ کی سطح پر دیکھنےکا متمنی تھا۔ علامہ صاحب حد درجےکےزیرک اور فہیم عالم دین تھے۔آٹھ بجےصبح کےبیٹھےشام کےچار بج گئی۔ میں اجازت کےلئےاٹھا تو فرمایا کہ برادر بیٹھو ،ایک نسلََا جرمن مذہباََ یہودی فاضلہ عورت لاہور میں وار د ہے۔ چھ تقریریں پنجاب یونیورسٹی میں کر چکی ہے۔ بدھ کےروز تین بجےسےپانچ بجےتک اس کیآخری تقریر ہے۔ قران حکیم ، انجیل، توریت، اور زبور پر عبور رکھتی ہے۔ اسلامی دنیا کےدورےپر ہی،جملہ اسلامی ممالک سےہوتی ہوئی لاہور میں پہنچ چکی ہے۔یہاں سےدہلی اور پھر تمام دنیا کےگرد چکر لگا کر واپس جرمنی جائےگی۔ برادر ! اس علمی بصیرت اور قرانی نور کےپیش نظر جو آپ کو اللہ تعالیٰ نےودیعت فرمایا ہے،میں آپ کو دعوت دیتا ہوں ۔ یہ میرا خصوصی کارڈ ہے۔ میں ہر روز بیس بائیس چوٹی کےعالم بدل بدل کر مدعو کرتا ہوں ۔ باری باری چار پادریوں کو بھی بلا لیتا ہوں ۔کیونکہ عیسائی اور یہودی ایک دوسرےکےمحرم ہوتےہیں۔ عوام کو ہم لوگ اندر آنےکی اجازت نہیں دےسکتےہو سکتا ہےکہ کوئی آدمی مشتعل ہو کر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے،جو ہمارےلئےباعث رسوائی ہو ۔ دنیا کہےکہ قلم کا جواب قلم سےنہ دےسکےاور اپنےہتھیاروںپراتر آئی۔عورت کیاہےآفت کا پرکالہ ہے۔ میں نےعرض کیاکہ جناب علامہ صاحب ! اس کا موضوع کیا ہے؟ فرمایا کہ قران حکیم کی الہامی حیثیت کی منکر ہےاور ثبوت کےلئےقرآن حکیم پر نکتہ چینی کرتی ہےمیں نےکارڈ لیا اجازت چاہی اوررخصت ہو گیا۔راستےمیں میں سوچتا گیا کہ کس خوبی سےاسلام کی جڑ پر کلہاڑی چلائی جا رہی ہی۔ اگر ایک نبی کا نعوذ باللہ ایک جھوٹ ثابت ہو جائےتو پھر رہتا ہی کیا ہی، ساری عمارت ہی دھڑام سےنیچےآجاتی ہی۔
بدھ کےروز حسب وعدہ ٹھیک پونےتین بجےمیں یونیورسٹی پہنچ گیا۔ پہلی صف کےبائیں طرف مجھےسیٹ ملی ،وہاں بیٹھ گیا۔ پیچھےمڑ کر دیکھا ،بیس بائیس اچھےمشخص علماءکرام تشریف فرما تھی۔ دائیں جانب ایک کونےمیں چار پادری بھی گون پہنےننگےسر نظر پڑے۔ علامہ صاحب صدارت کی کرسی پر براجمان تھے۔ ٹھیک تین بجےفاضلہ تشریف لائیں ،عورت کیا آئی ایک طوفان آ گیا ۔ ہر طرف خو ف و ہراس کی ایک لہر سی دوڑ گئی ۔ صدر صاحب سےاجازت مانگی اور یہ جا اور وہ جا ۔ تابڑ توڑ تازیانےبرسانےشروع کر دیئے۔ انگریزی زبان پر حیران کن دسترس تھی اور ہم گرتےپڑتےمیانوالی پہنچتےتووہ روس کی سرحدوں کو چھو رہی ہوتی تھی ۔ بعض باتوں کےجواب ہمیں معلوم ہوتےتھےمگر وہ ہمیں موقع ہی کب دیتی تھی ۔ اس طرح ایک گھنٹہ گزر گیا گھڑی نےچار بجائے۔ ہماری تقدیر لکھنےمیں ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ پریشانی کےعالم میں علامہ صاحب کرسیءصدارت کو گھسیٹتےہوئےمیری جانب آ بیٹھے۔ میں نےپوچھا۔ کیوں علامہ صاحب ! فرمانےلگے۔ برادر ! تو بھی خاموش ۔یہ علماءکرام بھی خموش۔پادری بھی خموش ۔میں بحیثیت صدر کچھ پوچھنےکا مجاز نہیں ۔ میں نےعرض کیا ۔ علامہ صاحب ! قرآن حکیم آپ کا ہی؟ فرمانےلگےنہیں ۔ میں نےعرض کیا تو میرا ہو گا ؟ انہوں نےفرمایا نہیں تمہارا بھی نہیں ۔ میں نےعرض کیا کہ ان علمائےکرام کا ہو گا تو انہوںنےفرمایا نہیں ،ان کا بھی نہیں تو پھر ان پادریوں کا ہو گا ´؟ کہا ان کا بھی نہیں ۔ میں نےعرض کیا علامہ صاحب ! قران حکیم جس کا ہی۔وہ اس کی خود حفاظت کرےگا۔اس دوران جو علامہ صاحب نےکرسی گھسیٹی ۔اور میرےاور علامہ صاحب کےدرمیان کچھ کھسر پھسر ہوئی تو محترمہ صاحبہ کی توجہ اپنی تقریر سےہٹ گئی ۔ وہ حیران تھی کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔ ادھر میں اس گھنٹہ کےدوران یہ محسوس کر چکا تھا کہ اس عورت کو بحث میں الجھانا سراسر حماقت ہے۔ بحث میں کب کسی بات کا فیصلہ ہوا ہےالبتہ کوئی ایسی صورت پروردگار پیدا کر دےکہ یہ عورت پابہ زنجیر ہو کر رہ جائے اور خود بولےکہ ہاں میں لا جواب ہوں ۔ میرے دماغ میں ایک بجلی سی کوندی اور میں اٹھ کھڑا ہوا ۔ بات چیت انگریزی زبان میں ہو رہی تھی۔ میں نےعرض کیا مادام ! معذرت خواہ ہوں میں نےگذشتہ چھ تقریروں میں کچھ نہیں سنا۔ مجھےمعلوم نہیں کہ آپ نےکیا کہا البتہ آج کی تقریر کےاس گھنٹےکا روادار ہوں مگر جو کچھ میں نےاس ایک گھنٹےکےدوران سنا ۔ اس سےمعلوم ہوا کہ آپ قران حکیم کی الہامی حیثیت کی منکر ہیں یعنی یہ تو آپ مانتی ہیں کہ قران حکیم ایک اچھی کتاب ہے۔ اس میں نصیحت بھی ہے،کچھ قانون بھی ہے،لائحہ عمل بھی ہے اور چند پرانےلوگوں کی مثالیں بھی ہیں مگر آپ ماننےکو تیار نہیں کہ قران حکیم اللہ تعالیٰ نےعرش سےفرشتےکےذریعےہمارےنبی امی و فداہ ابی و امی حضرت محمد پر نازل کیا ۔کہنےلگیںکہ ہاں بالکل ٹھیک ہے۔ یہی میری منشا ہی۔ میں نےکہا ۔ مادام ! میں کسی بحث میں آپ کو ہرگز الجھانےکا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ دل کی گفتگو دل سےہونی چاہیئے۔ دو ضمیروں کی گفتگو ہوگی ۔ کہنےلگی ©بیان جاری رکھئے© میں نےعرض کیا ۔ مادام ! اگر قران حکیم جیسا کہآپ کا خیال ہےہمارےنبی کریم نےخود لکھا تھا تو اس کےمعنی یہ ہوئےکہ وقت کےکسی دور میںیا دنیا کےکسی حصےمیں اگر کوئی شخصیت ایسی ابھرتی جس کی علمی قابلیت اس پائےکی ہوتی جیسی کہ ہمارےنبی کریم کی تھی تو دنیا کےسامنےایک اور قران حکیم پیش کر دیا جاتا۔کہنےلگیں عین ممکن ہی۔ میں نےعرض کیا کہ ایسا ہوا تو نہیں مگر چلئےمحترمہ ! بتایئےکہ قران حکیم کب نازل ہوا ؟ یا آپ کےنظریئےکےمطابق قران حکیم کب ہمارےنبی کریم نےلکھا ۔ کہنےلگیں۔ ٹھیک تیرہ سو اسی برس پہلے۔ میں نےسوال داغ دیا کہ ایٹم بم کب بنا ۔ کہنےلگیں ،سن 1945 ءمیں دو دانےناگاساکی اور ہیروشیما پر پھینکےگئے۔ میں نےعرض کیا ۔ قران حکیم لکھا گیا تیرہ سو اسی برس پہلی۔ ایٹم بم گرائےگئےسال 1945 ءمیں ۔ کہنےلگیں ہاں۔ میں نےعرض کیا ۔ محترمہ ! ان دو تاریخوں میں کچھ فاصلہ ہے۔ جواباََ کہا بیچ میںصدیاں پڑی ہیں۔ میں نےعرض کیا محترمہ ! اپنےضمیر میں جھانک کر جواب دیں کہ کیا کسی انسان کےلئےیہ ممکن ہےکہ تیرہ سو اسی برس پہلےبدووں کےملک میں۔مکےکےشہر میں ( ایک ان پڑھ شخص )حضرت محمد مصطفیجس کےمتعلق آپ کےدانش ور طبقےکا متفقہ فیصلہ ہےکہ حضور نبی کریم قطعاََ ان پڑھ تھے، انہوں نےنہ کسی استاد کےسامنےزانوئےتلمز تہہ کیا نہ ہی کوئی کتاب پڑھی ، نہ ہی اپنےہاتھ میں کبھی قلم لےکر کچھ لکھا ۔ ایک کتاب لکھنےبیٹھ جاتا ہے۔ وہ عربی زبان میں ایک کتاب لکھتا ہے۔ اس کا نام قران حکیم رکھتا ہےاور اس عربی قران حکیم میں انگریزی لفط ایٹم ( ATOM ) بھی لکھتا ہے۔ یہ لفظ ایٹم یونانی لفظ اٹامس ( ATOMOS) سےانگریزی سائنس دانوں نےاپنا کر بطور اصطلاح استعمال کیا ہےیہی نہیں  بلکہ قران حکیم کا مصنف تھیوری Èف اٹامزم Theory of Atomism)) ڈیماکرٹس قبل مسیح کی ایٹمی تھیوری کی پچیس سو سالہ راز کا انکشاف کرتا ہی۔یہی نہیںبلکہ بتاتاہےکہ کس طریقےسےایٹم بم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارےگااور جب چلےگا تو کیسی تصویر دیکھنےوالوں کی نظر میں پیش کرےگا ، یہی نہیں بلکہ بتاتا ہےکہ کن قوموں کو اللہ تعالیٰ اس عذاب شدید کا مستحق قرار ٹھہرائےگا اور وہ کون سےخصائص ہیں جن کی بنا پر وہ بدنصیب قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہریں گی ۔ یہ سب نو آ ئتوں اور چھتیس لفظوں میں قران حکیم نےبیان کیا ہی۔ کہنےلگیں©یہ قطعاَ ناممکن ہےکیاآپکےحواس درست ہیں©۔عربی قران میں انگریزی لففظ ایٹم ( ATOM ) اور پھر ایٹمی تھیوری کی تاریخ اور ایٹم بم کےدھماکے(Atomic Explosion) کی تصویر ۔میں نےمحسوس کیا کہ میرےپیچھےبیٹھےہوئےتمام لوگوں کی گردنیں کچھ بلند ہو گئی ہیں اور آآنکھوں میں حیرت کےآثار ہیں ۔ یہ لوگ تو سب چوٹی کےعالم ہیں ۔ قران حکیم بچپن سےپڑھتےآئےہیں ۔ قران حکیم اور ایٹم بم ؟ ان کےلئےبھی یہ انوکھی بات تھی ۔ میں نےعرض کیا ۔ مادام ! میں کوئی پیشہ ور مداری نہیں۔ آپ بھی موجود ،میں بھی موجود ،قران حکیم بھی یہاں موجود،اللہ اور اللہ کا رسول بھی موجود ، نظر بندی نہیں کروں گا اور آپ کی آنکھوں سےسب کچھ قران حکیم میں دکھاوں گااورآپ اپنی زبان سےپکاریں گی۔ کہ ہاں بےشک اللہ کا کلا م ایک معجزہ ہی۔ اللہ کا کلام ایک بےنظیر کلام ہی۔ نہ کوئی ایسا لکھ سکا ہےنہ ہی کوئی ایسا لکھ سکےگا ۔ ہر طرف سکوت چھا گیا ۔ پھیلتی اور سکڑتی ہوئی پتلیوں کی کیفیت بھی فضا میں منعکس ہو رہی تھی بالآخر میں نےمہر سکوت توڑی اور کہا آپ پڑھیں سورة الھمزہ ۔ کہنےلگیں میں حافظ نہیں ہوں۔ میں نےکہا۔ میں قران حکیم پڑھوں یا قران حکیم منگواوں ۔کہنےلگیں ۔آپ پڑھیں اگر غلط پڑھیں گےتو ٹوکوں گی ۔میں قران حکیم جانتی ہوں ۔ اللہ کا نام لےکر میں نےپڑھنا شروع کر دیا ۔
آعوذ بالللہ من الشیطن الرجیم ۔بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ویل الکل الھمزہ لمزہ ۔ن الذی جمع مالا و عددہ ۔ یحسب ان مالہ اخلدہ ۔کلا لینبذن فی الحطمہ ۔وما ادرک ماالحطمہ ۔ ناراللہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ ۔انہا علیہم موصدہ ۔فی عمد ممددہ (الھمزة) ۔
میں نےکہا۔ مادام ! یہ حطمہ کیا ہی۔ کہنےلگیں۔ آپکےمفسرین کرام یہ لکھتےہیں کہ یہ ایک ایسا دوزخ ہی۔ جس میں جو چیز ڈالو گے۔ایٹم ایٹم ہو جائےگی ذرہ ذرہ ہو جائےگی ۔ محترمہ ! میں نےعرض کیا ۔ یہ حطمہ اسم محل ہےاور اس کی جذر ہی© ©©۔ح ط م۔ حَطَمَ براہ مہربانی آپ پکاریں ۔ایٹم ۔ محترمہ نےکہا حَطَم (جرمن لوگ بھی عربوں کی طرح ٹ کو ت یا ط بولتےہیں) میں نےعرض کیا۔ یہی حَطَم اس کےمعنی ہیں ایٹم ایٹم ہو جانا ۔یہ ہےعربی حطم اور یہ ہےانگریزی ایٹم ۔معنی دونوں کےایک ہی ہیں اور یہ قران حکیم کا معجزہ ہے۔مگر آگےچلیں ۔حطمہ کی دوسری ترکیب صرفی ہے۔حّطم یعنی ط مشدد یعنی آپ کےہاتھ میں شیشےکا ایک گلاس ہو اور آپ پوری طاقت کےساتھ اسےچٹان پر دےماریں، گلاس کےٹکڑےٹکڑےہو جائیں گے۔ عرب پاس کھڑا ہو گا تو کہےگا۔ حطمہ الغلاس ۔ اس سےاگلی ترکیب ہےتحّطم ط بدستور مشدد ۔اور لفظ کےشروع میں ت بڑھا دی جاتی ہے۔اس طرح لفظ کی قوت میں اضافہ ہوا یعنی آپ کےسامنےبارود کا ایک ڈھیر پڑا ہواور آپ اسےدیا سلائی دکھا دیں اور وہ بارود ہر چیز کو لیتا ہوا بھک سےاڑ جائے۔ عرب پاس کھڑاہو تو کہےگا© تحّطماالبارود©۔اگلی ترکیب ہے۔ انحطام یعنی حطم حطم ہو جانا، ریزہ ریزہ ہو جانا ذرہ ذرہ ہو جانا۔ کنایتہ عرب لوگ کہتےہیں۔حطام الدنیا یعنی اس فانی دنیا کی فانی چیزیں جو ذرہ ذرہ ہو جانےوالی ہیںاور پھر آخر میں© حطام السفینہ ©۔تباہ شدہ جہازکا انجر پنجر۔سمندرکےسینےپر تیرتےہوئےجہاز کو دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سےاڑتاہوا طوفان اچک کر ساحلی چٹانوں پر د ےمارےاور جہاز کےپرخچےاڑ جائیں ۔یہی نہیں محترمہ ! آگےاللہ تعالیٰ فرماتا ہی۔
وما ادرک ماالحطمہ ۔
اےمیرےنبی تجھےکون جنوا سکتا ہے۔ کہ یہ حطمہ کیا ہے؟ مگر قران حکیم کسی بھی مضمون کو تشنہ نہیں چھوڑتا ۔ اللہ تعالیٰ اس کی مزید وضاحت فرماتا ہے۔
ناراللٰہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ۔
یہ ایک آگ ہےاللہ کےہاتھوں بھڑکائی ہوئی جو چڑھتی ہےدلوں تک ۔ مادام! میں نےپوچھا ۔ یہ بتایئےایٹم بم کس طرح سےاللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارتا ہے۔کیا یہ عام بارودی بم کی طرح مارتا ہےیا کسی اور طریقےسے؟ کہنےلگیں۔ جہاں ایٹم بم پھٹتا ہی،وہاں تیس میل کےرقبےسےکم و بیش اس بم کی طاقت کےمطابق ہواکو باہر دکھیل دیتا ہی۔ جب یہ ہوا اپنی جگہ لینےکےلئےواپس لوٹتی ہےتو اس میں اتنی شدت ہوتی ہے۔ کہ اگراس کےراستےمیں گاڑی کا انجن بھی رکھ دیا جائی۔تو اسےاٹھا کر دےمارتی ہی۔ کیا بےچارہ انسان یا دوسرےذی روح حیوان ہوا کا یہ شدید صدمہ پیٹ پر لگتا ہےاور دل کی شریانیں ٹوٹ جاتی ہیں ناک اور منہ سےلہو جاری ہو جاتا ہےاور انسان گھٹنوں کےبل گر جاتا ہی۔ صدمےکی وجہ سےسخت گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔جس سےانسان کا دل اور سینہ جل بھن جاتا ہی۔میں نےعرض کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نےکس قدر سچی تصویر کھینچی ہے
ناراللہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ کی۔
یہی نہیںبلکہ آگےچل کر اللٰہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ انہا علیھم موصدہ ۔ یہ بند کی ہوئی ہےآگ ان پر ۔ میں نےعرض کیا ۔ محترمہ کیااسآگ سےنکل جانےکی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟ کہنےلگیں نہیں کوئی نہیں ۔ میں نےعرض کیا ۔ مادام ! یہ آپ کےسامنےکیا ہے۔ فرمایا۔ میزمیں نےکہا اگر میں اس پر ایک بم گرنیڈ یا دوسرا بم رکھ دوں تو وہ اگر بند کی ہوئی آگ نہیں تو اور کیا ہے۔ یاد رکھیں جب قران حکیم نازل ہوا تو بارود کا وجود دنیا میں ہرگز نہیں تھا ۔ بارود کو تو بنےہوئےتقریبا تین صدیاں ہوئیں اور قران حکیم کا نزول 1380 ءبرس پہلےہوا اور کیسی ہی اچھی تعریف ہےبم کی یعنی بند کی ہوئی آگ یعنی بم ۔ایٹم بم بھی بند کی ہوئی آگ ہی ہے۔کیا ایسی بات کبھی کسی انسان کےتصور میں آ سکتی تھی۔ مگر آگےچلئے۔
فی عمد ممددہ ۔
لمبےلمبےستونوں میں ۔ مادام ! آپ نےکبھی ایٹم بم چلتےدیکھا ہےجواب دیا نہیں ۔ تو تصویر تو ایٹم بم کی دیکھی ہو گی۔ کہنےلگیں ہاں دیکھی ہے۔تو بتایئےکہ یہ کیسی ہوتی ہے۔ کہنےلگیں ۔جہاں ایٹم بم پھٹتا ہے۔ وہاں دھوئیں بلکہ ریڈیو ایکٹو ایش کا ایک ستون اوپر کی جانب اٹھتا ہےاور تقریبا تیس میل یا کم و بیش اس ایٹم بم کی طاقت کےمطابق پہنچ کر سرےپر چھتری بنا لیتا ہے۔یہ ستون اٹھتےوقت گوناگوں اور بوقلموں رنگ بدلتا ہوا اٹھتا ہےکبھی مرمر ،کبھی یاقوت،کبھی زمرد ،کبھی نیلم،کبھی سوسنی، کہیں لال کہیں پیلا وغیرہ اور عجیب بہار دکھاتا ہے۔ میں نےعرض کیا ۔ مادام ! آپ بیٹھی ہوں کوہ ہمالیہ کی چوٹی ماونٹ ایورسٹ پر جسےچند برس ہوئےسر جان ہنٹ کی پارٹی نےسر کیا تھا۔ آپ کےہاتھ میں ہو سو انچ قطر کا ٹیلی سکوپ اور پانی پت کےمیدان میں جہاں ماضی میں کئی لڑائیاں لڑی گئیں ۔ ایک ہزار مربع میں ایٹم بم اس طرح گاڑ دیئےجائیں جس طرح کہ باغ میںمقررہ فاصلےپر درخت ہوتےہیں اور کوئی ایسا انجینئر پیدا ہو جو ایک ایسی ترکیب سوچےکہ یہ بےشمار ایٹم بم یک لخت بھک سےاڑ جائیں۔ اور پھر ایک ہزار ستون نظر فریب ایک انداز دلربائی سےرنگ بدلتےہوئےتیس میل کی نظر فریب بلندی پر اٹھ کر چھتریاں بنالیں تو آپ سمجھیں گی کہ کسی عظیم شہنشاہ کےلئےمحل تعمیر ہو رہا ہےیا کوئی عظیم الشان تھیٹر کی عمارت بنائی جا رہی ہےلیکن نہیں ۔ محترمہ ! یہ تو حطمہ ہے۔ ایسا جہنم کہ جس میں جو چیز ڈالو گےوہ ایٹم ایٹم ہو جائےگی ۔ یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہےکہ کون سی قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہرائی گئیں ۔ اور کیوں ؟ میں نےعرض کیا مادام ! فرمایئےالھمزہ کیا ہوتا ہی۔ کہنےلگیں وہ جو تمہارےمنہ پر تمہاری برائی کرے۔ اور لمزہ وہ ہےجو پیٹھ پیچھےبرائی کرے۔ مادام ! ٹھیک ہے۔آپ کا شکریہ ۔ اور
ن الذی جمع مالاو عددہ ۔
یعنی یہ ھمزہ لمزہ مال جمع کرتےہیں اور گنتےہیں کہ بینک بیلنس میں کتنی بڑھوتری ہوئی ۔ مزید یہ کہ
یحسب ان مالہ اخلدہ
اور پھر گمان کرتےہیں کہ یہ مال و دولت انہیں زندہ و جاوید کر دےگا۔ وہ کبھی مریں گےنہیں اور یہ مال و دولت ہمیشہ رہےگا ۔ کلا ۔ یعنی ہرگز نہیں ۔
لینبذن فی الحطمہ ۔
بلکہ وہ تو ڈال دیئےجائیں گےحطمہ میں۔ گفتگو یہاں تک پہنچی تو مادام کو پسینےچھوٹ گئے۔ لگی بےچاری بغلیںجھانکنے۔ اور دھڑام سےکرسی پر جا گری ،تقریر ختم ۔ ایک پیالی چائےکی بمشکل زہر مار کر سکی ۔ کیک اور پیسٹریوں کےڈھیروں سےاسےکچھ نصیب نہ ہوا۔ ناسازیءطبع کا بہانہ بنا کر رخصت ہو گئی ۔ دوسرےروز ساڑھےنو بجےصبح والٹن کےہوائی اڈےسےہوائی جہاز پر بیٹھی، کراچی تک جاتی سنی۔ دورہ کینسل، بیک ٹو جرمنی ۔ مبہوت علماءکرام نےعلامہ علاوالدین صدیقی صاحب سےاستفسار کیاکہ یہ حضرت کون ہیں؟ علامہ صاحب نےفرمایاکہ ان پادریوں کو جانےدو پھر بتاوں گا۔ پادری حضرات جب چلےگئےتو علامہ صاحب نےفرمایا یہ وہ شخص ہےجسےقدرت نےمحض اتفاق سےتمہاری قوم میں پیدا کر دیا ہے۔وہ علمی بصیرت اور قرانی نور جو اللہ تعالیٰ نےاس شخص کےسینےمیں تفویض فرمایا ہے،اگر تمہاری قوم اس سےاستفادہ کرتی تو آج مقام بلند پر ہوتی ،وہ علمی بصیرت اور قرانی نور جو اللہ تعالیٰ نےاس شخص کےسینےمیں تفویض فرمایا ہے اگر تمہاری قوم اس سےلےنہ سکی تو اللٰہ تعالیٰ تمہیں قیامت تک معاف نہیں کرےگا پھر ایسا شخص پیدا نہیں ہو گا ۔ پھر مجھےفرمایا برادر نعرہ ءجبریل میں سےجو شعر مجھےاگلےروز سنائےتھے۔ ان علماءکرام کو سناو ۔ میں نےپانچ سات بندعرض کئےتو علماءکرام پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ وہاں پاکستان ٹائمز کا نمائندہ بیٹھا ہوا تھا۔ میر ےپاس آ یا۔اور کہا۔کہ گذشتہ چھ روز کی کاروائی تو ہم نےڈھانک رکھی ہےالبتہ Èج کی بات Èپ لکھ دیں ۔ اخبار میں چھپےگی ۔ میں نےعرض کیا کہ پندرہ روز کی مہلت مانگتا ہوں ۔ مجھےاپنی ذمہ داری کا احساس ہے۔ جس طرح قران حکیم لازوال ہےاسی طرح یہ تفسیر بھی لازوال ہے۔ یورپ کےایٹم بم سےقران حکیم کا یہ ایٹم بم کہیں زیادہ قوی ہے۔ ملک کےاہل نظر اسےپڑھیں گے۔ میں اسےانشاءاللہ خود آپ کےدفتر میں لکھ کر دےآوں گا۔یہ بحث قران اینڈ اٹامک ہیل Quran and Atomic Hell کےعنوان سےپاکستان ٹائمز میں چھپی ۔بعد میں معلوم ہوا کہ جہاں جہاں بھی بیرونی ممالک میں یہ اخبار پہنچا ۔لوگ کتابوں کی دکانوں کی طرف بھاگےاور قران حکیم کا انگریزی ترجمہ طلب کیا ۔بےشمار نسخےفروخت ہو گئے۔ وہ لوگ صرف یہ جاننا چاہتےتھےکہ آیا واقعی قران حکیم ایسی کتاب ہے۔ جس میں ایسی بات لکھی ہوئی ہے۔ انہوں نےپڑھا اور تسلیم کیا۔ یہ ایک واضح حقیقت تھی ۔ اظہر من الشمس حقیقت اور یہ کوئی یکہ و تنہا واقعہ نہیںبلکہ میںنےخود اپنی آنکھوں سےدیکھا ہےکہ قران حکیم ایسےمعجزوں سےاٹا پڑا ہی، دیکھنےوالی آنکھ چاہیئی۔ قران حکیم ایک لازوال معجزہ ہی۔ جس پر بےشمار مضامین اخبارات اور رسائل میں لکھ چکا ہوں۔ کیا مسلمان دست تعاون دراز کرکےمجھےاس امانت اور کار عظیم سےسبکدوش کرکےمیری دعائیں حاصل کر سکیں گےیا میرےساتھ میرا صندوق(تقریبا چالیس جلدیں ) بھی قبر میں مدفون ہو جائےگا۔ یہ اس لئےلکھتا ہوںکہ شائید آپ نہ کہیں کہ ہمیں کسی نےخبر نہیں دی ورنہ ۔۔۔۔۔ البتہ مجھ سےمصلحت کشی کی توقع عبث ہے۔ حق لکھوں گا،حق کہوں گا ، خواہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔چالیس سال کی مسلسل اور بےلوث کاوش اور تلاش حق کا ثمرہ حاضر ہی۔ کیا آپ اس نیک کام کی اشاعت میں میرا ساتھ دیں گی؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ محمد یوسف جبریل
ادارہ افکار جبریل قائداعظم سٹر یٹ نواب آبادواہ کینٹ ضلع راولپنڈی

 

 



Print Friendly

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

5 thoughts on “Quran Ka Mojza , 1400 saal pehly Quran main Atom Bomb ki Peshangui….

  1. دورِ جدید میں قرآن حکیم کا ایک لازوال اور محیرالعقول
    علمی، سائنسی اور ایٹمی معجزہ
    *
    قرآن حکیم کی الہامی حیثیت کے موضوع پر معروفِ زمانہ جرمن مشتشرق این مری شمل اورحضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒ کے درمیان قرآن حکیم کے اس اہم موضوع پر یادگار مذاکرے کی تفصیل و روئیداد

    ستمبر1963ء کا واقعہ ہے۔انہیں دنوں ) Mind of the Quran) کی جلدوں کی اشاعت کے لئے کسی پبلشر کی تلاش میں لاہور گیا ہوا تھا ۔ دنیائے علم و ادب سے گریزاں چالیس برس، پوشیدہ و نہاں، صحرائے جستجو میں سرگرداں اور بحر تحقیق میں ہمہ تن غرق، طویل المیعاد علمی کدوکاوش اور تلاش حق کے ایک تنہا مسافر کی حیثیت سے میں اس جہان رنگ و بو کا ایک غیر متعارف ترین انسان تھا اور اس پر میری دقیانوسی وضع قطع اور عامیانہ ہیئت کذائی مستزاد، معلوم ہوا کہ دنیا کا ہر شخص جوہری نہیں ہوتا اور اعلیٰ سے اعلیٰ جوہر کو بروئے کار لانے کے لئے بھی ظاہر داری کو کافی دخل ہوتا ہے ۔ چند دنوں میں جن چند اہل نظر حضرات نے میری کاوش کو نظر استحسان سے دیکھا اور مجھے اپنی نگاہ التفات سے نوازا ، ان کو انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا ۔ مثلا جناب علامہ علاؤ الدین صدیقی، جناب ڈاکٹر سید عبداللہ صاحب،جناب حنیف رامے صاحب، جناب آقا بیدار بخت صاحب ،جناب ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب ، جناب پروفیسر علم الدین سالک صاحب ، جناب صدیقی صاحب لائبریرین دیال سنگھ لائبریری، جناب پروفیسر خالد عباس صاحب ، جناب ڈاکٹر وحید قریشی صاحب ، جناب افق دہلوی صاحب ، جناب واصف علی واصفؒ صاحب اورجناب اظہر جاوید صاحب ، وغیرہ وغیرہ، اور ان حضرات کی نگاہ جان نواز کا کرشمہ سمجھئے ورنہ علم کا وہ بحر ذخار جو ایک مسکین کے حقیر سے سینے میں متلاطم تھا ،اہل زمانہ کی کم نگاہی کے سبب منجمند ہو کر برف کا ایک کوہ گراں بار ہو کے رہ جاتا اور میں اس پہاڑ کی قبر ہوتا ۔تاہم مائینڈ آف دی قران ( Mind of the Quran ) منصہء شہود پر نہ آ سکا۔
    یہ علامہ علاؤ الدین صدیقی تھے جن کے مکان پر مجھے شرفِ منشینی حاصل تھی۔ صیہونیت زیر بحث تھی ۔ بعض دوسرے اسلامی مسائل اور دور حاضر میں مسلمانوں کا کردار بھی ضمناََ درپیش تھا ۔ علامہ صاحب محوِ جستجو تھے اور میں جوش و مستی کے عالم میں بعض دفعہ ناممکنات کی حدوں کو چھو جاتا۔ میں مسلمانوں کو قرونِ اولیٰ کی سطح پر دیکھنے کا متمنی تھا۔ علامہ صاحب حد درجے کے زیرک اور فہیم عالم دین تھے ۔آٹھ بجے صبح کے بیٹھے شام کے چار بج گئے۔ میں اجازت کے لئے اٹھا تو فرمایا ۔کہ برادر بیٹھو ۔ایک نسلاَ جرمن مذہباََ پروٹسٹنٹ فاضلہ عورت لاہور میں وار د ہے ۔ چھ تقریریں پنجاب یونیورسٹی میں کر چکی ہے ۔ بدھ کے روز تین بجے سے پانچ بجے تک اس کی آخری تقریر ہے ۔ قرآن حکیم ، انجیل، توریت اور زبور پر عبور رکھتی ہے ۔ اسلامی دنیا کے دورے پر ہے۔ جملہ اسلامی ممالک سے ہوتی ہوئی لاہور میں پہنچ چکی ہے ۔یہاں سے دہلی اور پھر تمام دنیا کے گرد چکر لگا کر واپس جرمنی جائے گی۔ برادر ! اس علمی بصیرت اور قرانی نور کے پیش نظر جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے میں آپ کو دعوت دیتا ہوں ۔ یہ میرا خصوصی کارڈ ہے ۔ میں ہر روز بیس بائیس چوٹی کے عالم بدل بدل کر مدعو کرتا ہوں ۔ باری باری چار پادریوں کو بھی بلا لیتا ہوں کیونکہ عیسائی اور یہودی ایک دوسرے کے محرم ہوتے ہیں۔ عوام کو ہم لوگ اندر آنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ ہو سکتا ہے کوئی آدمی مشتعل ہو کر کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے جو ہمارے لئے باعثِ رسوائی ہو۔ دنیا کہے کہ قلم کا جواب قلم سے نہ دے سکے اور اپنے ہتھیاروں پراتر آئے۔عورت کیاہے آفت کا پرکالہ ہے ۔
    میں نے عرض کیا کہ جناب علامہ صاحب ! اس کا موضوع کیا ہے ؟
    آپ نے فرمایا۔
    ’’ قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت موضوعِ بحث ہے ۔ وہ قرآنِ حکیم اور اسلام کو قریب سے دیکھنے کی متمنی بھی ہے اور ثبوت کے لئے قرآنِ حکیم پر نکتہ چینی بھی کرتی ہے‘‘ ۔
    میں نے کارڈ لیا اجازت چاہی اوررخصت ہو گیا۔راستے میں میں سوچتا گیا کہ عیسائی اور یہودی دنیا میں کس خوبی سے اسلام کی جڑ پر کلہاڑیاں چلائی جا رہی ہیں۔اسلا م میں کمزوریوں کو تلاش کیا جا رہاہے اور اگر ایک نبی کا نعوذ باللہ ایک جھوٹ ثابت ہو جائے تو پھر رہتا ہی کیا ہے؟ ساری عمارت ہی دھڑام سے نیچے آ جاتی ہے۔ بدھ کے روز حسب وعدہ ٹھیک پونے تین بجے میں یونیورسٹی پہنچ گیا۔ پہلی صف کے بائیں طرف مجھے سیٹ ملی ۔وہاں بیٹھ گیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا، بیس بائیس اچھے متشخص علماء کرام تشریف فرما تھے۔ دائیں جانب ایک کونے میں چار پادری بھی گون پہنے ننگے سر نظر پڑے ۔ علامہ صاحب صدارت کی کرسی پر براجمان تھے ۔ ٹھیک تین بجے فاضلہ تشریف لائیں ۔ عورت کیا آئی ایک طوفان آ گیا ۔ ہر طرف خو ف و ہراس کی ایک لہر سی دوڑ گئی ۔ صدر صاحب سے اجازت مانگی اور یہ جا اور وہ جا ۔ تابڑ توڑ تازیانے برسانے شروع کر دیئے ۔ انگریزی زبان پر حیران کن دسترس تھی اور ہم گرتے پڑتے میانوالی پہنچتے تووہ روس کی سرحدوں کو چھو رہی ہوتی تھی ۔ بعض باتوں کے جواب ہمیں معلوم ہوتے تھے مگر وہ ہمیں موقع ہی کب دیتی تھی ۔ اس طرح ایک گھنٹہ گزر گیا ۔ گھڑی نے چار بجائے ۔ہماری تقدیر لکھنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا ۔ پریشانی کے عالم میں علامہ صاحب کرسیء صدارت کو گھسیٹتے ہوئے میری جانب آ بیٹھے ۔
    میں نے پوچھا۔ کیوں علامہ صاحب !
    فرمانے لگے ۔
    ’’ برادر ! تو بھی خاموش، یہ علماء کرام بھی خموش پادری بھی خموش ،میں بحیثیت صدر کچھ پوچھنے کا مجاز نہیں‘‘ ۔
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’علامہ صاحب ! قرآنِ حکیم آپ کا ہے؟‘‘
    فرمانے لگے ۔
    ’’ نہیں‘‘ ۔
    میں نے عرض کیا۔
    ’’تو میرا ہو گا ؟‘‘
    انہوں نے فرمایا۔
    ’’ نہیں تمہارا بھی نہیں‘‘ ۔
    میں نے عرض کیا۔
    ’’ کہ ان علمائے کرام کا ہو گا‘‘
    تو انہوں نے فرمایا۔
    ’’ نہیں ان کا بھی نہیں‘‘ ۔
    ’’ تو پھر ان پادریوں کا ہو گاْ ؟‘‘۔
    کہا ۔
    ’’ ان کا بھی نہیں ‘‘۔
    میں نے عرض کیا۔
    ’’ علامہ صاحب ! قرآنِ حکیم جس کا ہے وہ اس کی خود حفاظت کرے گا‘‘۔
    اس دوران جو علامہ صاحب نے کرسی گھسیٹی اور میرے اور علامہ صاحب کے درمیان کچھ کھسر پھسر ہوئی تو محترمہ صاحبہ کی توجہ اپنی تقریر سے ہٹ گئی ۔ وہ حیران تھی کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے ۔ ادھر میں اس گھنٹہ کے دوران یہ محسوس کر چکا تھا کہ اس عورت کو بحث میں الجھانا سراسر حماقت ہے ۔ بحث میں کب کسی بات کا فیصلہ ہوا ہے ۔ البتہ کوئی ایسی صورت پروردگار پیدا کر دے کہ یہ عورت پابہ زنجیر ہو کر رہ جائے اور خود بولے کہ ہاں میں لا جواب ہوں۔ میرے دماغ میں ایک بجلی سی کوند ی اور میں اٹھ کھڑا ہوا ۔ بات چیت انگریزی زبان میں ہو رہی تھی۔ میں نے عرض کیا ۔
    I: Excuse me Madam! By your leave, I have not had the honour of hearing your past six lectures. I do not know what did you say?. I am honoured by my presence in this present lecture, and thereby I gather that you deny Quran its divine original and you think that the Holy Prophet (peace be upon him) has been the author thereof.
    مادام ! معذرت خواہ ہوں ۔ میں نے گذشتہ چھ تقریروں میں کچھ نہیں سنا۔ مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے کیا کہا ۔ البتہ آج کی تقریر کے اس گھنٹے کا روادار ہوں مگر جو کچھ میں نے اس ایک گھنٹے کے دوران سنا اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت پر شک ہے یعنی یہ تو آپ مانتی ہیں کہ قرآنِ حکیم ایک اچھی کتاب ہے ۔ اس میں نصیحت بھی ہے، کچھ قانون بھی ہے، لائحہ عمل بھی ہے اور چند پرانے لوگوں کی مثالیں بھی ہیں مگر آپ ماننے کو تیار نہیں کہ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ نے عرش سے فرشتے کے ذریعے ہمارے نبی امی و فداہ ابی و امی حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ۔
    MADAM:Yes! It is my conviction. You prove it otherwise?
    کہنے لگیں۔
    ’’ہاں بالکل ٹھیک ہے یہی میری منشا ہے‘ ۔ البتہ آپ اس کو ثابت کریں کہ قرآن حکیم اللہ کی کتاب ہے ‘‘۔
    I: I am not a man of debate Madam! Debates generally mean to churn waters. You have adopted one line to prove your point, namely by pointing out faults and mistakes existing in the Quran to prove the human origin thereof. I leave this line completely to you, and take to another, namely, I show you something in this very Quran which no Prophet, no Soothsayer, no Astrologer and no Clairvoyant could have ventured to say in an age in which the Quran was being revealed and none then could reveal that matter, except one, that is the Omniscient Creator of the world to prove that the Quran could not have been the work of any one except Allah. Nor an alteration has ever been made in the Quran, thereafter.
    میں نے کہا ۔
    ’’مادام ! میں کسی بحث میں آپ کو ہرگز الجھانے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ دل کی گفتگو دل سے ہونی چاہیئے ۔ دو ضمیروں کی گفتگو ہوگی ۔بحثیں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتیں۔ آپ نے ایک راستہ اختیار کیا ہے جس سے آپ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ قرآن حکیم میں بے شمار غلطیاں موجود ہیں اور غلطی صرف انسان ہی کر سکتا ہے۔ اللہ تعالی سے غلطی نہیں ہو سکتی۔ یہ راستہ میں نے مکمل طور پرآپ کے لئے منتخب کر دیا ہے اور میں دوسرے راستے کی طرف آتا ہوں۔ میں آپ کو قرآن حکیم میں سے ایک ایسی چیز دکھاتا ہوں جو کوئی پیغمبر ،منجم یا جادوگر اس دوران میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا ہی یہ پیشین گوئی کر سکتا ہے ۔صرف اللہ تعالی ہی اس حقیقت کو واشگاف کر سکتا ہے جو کہ کائنات کا مالک ہے اور نہ ہی قرآنِ حکیم میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے۔
    Please continue. MADAM: What’s that?
    کہنے لگی ۔
    ’’وہ کیا ہے ۔ مہربانی کرکے بیان جاری رکھیئے‘‘ ۔
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’ مادام ! اگر قران حکیم جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہمارے نبی کریم ﷺ نے خود لکھا تھا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وقت کے کسی دور میںیا دنیا کے کسی حصے میں اگر کوئی شخصیت ایسی ابھرتی جس کی علمی قابلیت اس پائے کی ہوتی جیسی کہ ہمارے نبی کریمﷺ کی تھی تو دنیا کے سامنے ایک اور قران حکیم پیش کر دیا جاتا‘‘۔
    کہنے لگیں۔
    ’’ عین ممکن ہے‘‘۔
    I: The Quran characterizes the atomic hell, but pray first tell me, when the Quran was revealed, or according to your conviction, when it was being composed by the Holy Prophet (Peace Be Upon Him) ? In secret?
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’ کہ ایسا ہوا تو نہیں ‘‘۔
    مگر چلئے محترمہ !
    ’’قران حکیم ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی کرتاہے ۔لیکن آ پ مجھے بتایئے کہ قران حکیم کب نازل ہوا ؟ یا آپ کے نظریئے کے مطابق قران حکیم کب ہمارے نبی کریم ﷺ نے لکھا ؟‘‘۔
    MADAM: 1380 years ago.
    کہنے لگیں۔
    ’’ ٹھیک تیرہ سو اسی برس پہلے‘‘ ۔
    I: And when the atomic bomb was revealed to the world?
    میں نے سوال داغ دیا ۔
    ’’کہ ایٹم بم کب بنا ‘‘۔
    MADAM: In 1945, American bombers dropped two atomic bombs in Japan, on Hiroshima and Nagasaki.
    کہنے لگیں ۔’’ سن 1945 ء میں دو دانے امریکہ نے ناگاساکی اور ہیروشیما پر پھینکے‘‘ ۔
    I: Does any distance exist madam! Between these two dates ? 1945 and 1380 years ago?
    میں نے عرض کیا ۔’’ قرآن حکیم لکھا گیا تیرہ سو اسی برس پہلے۔ ایٹم بم گرائے گئے سال 1945 ء میں‘‘ ۔
    کہنے لگیں۔
    ’’ہاں‘‘۔
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’ محترمہ ! ان دو تاریخوں میں کچھ فاصلہ ہے‘‘ ۔
    MADAM:Yes! There are centuries intervening between.
    جواباََ کہا ۔
    ’’ بیچ میں صدیاں پڑی ہیں‘‘۔
    I: Then pray Madam! Look into your conscience and say if 1380 years ago, in a country famous only for ignorance, in the city of Mecca, an illiterate person, writing his book in concealment and in pure Arabic and naming it Quran, could have predicted the atomic bomb, giving out the causes of its appearance, portraying it and characterizing the nuclear phenomenon in scientific manner۔
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’ محترمہ ! اپنے ضمیر میں جھانک کر جواب دیں کہ کیا کسی انسان کے لئے یہ ممکن ہے کہ تیرہ سو اسی برس پہلے بدوؤں کے ملک میں۔مکے کے شہر میں ( ایک ان پڑھ شخص نعوذباللہ) حضرت محمد مصطفیﷺجس کے متعلق آپ کے دانش ور طبقے کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ قطعاََ ان پڑھ تھے ۔ انہوں نے نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمز تہہ کیا نہ ہی کوئی کتاب پڑھی نہ ہی اپنے ہاتھ میں کبھی قلم لے کر کچھ لکھا ۔ ایک کتاب لکھنے بیٹھ جاتا ہے ۔ وہ عربی زبان میں ایک کتاب لکھتا ہے اس کا نام قرآن حکیم رکھتا ہے اور اس عربی قرآن حکیم میں انگریزی لفط ایٹم ( ATOM ) بھی لکھتا ہے ۔ یہ لفظ ایٹم یونانی لفظ اٹامس ( ATOMOS) سے انگریزی سائنس دانوں نے اپنا کر بطور اصطلاح استعمال کیا ہے۔یہی نہیں بلکہ قرآن حکیم کا مصنف تھیوری آف اٹامزم Theory of Atomism) ) ڈیماکرٹس قبل مسیح کی ایٹمی تھیوری کی پچیس سو سالہ راز کا انکشاف کرتا ہے۔یہی نہیں بلکہ بتاتاہے کہ کس طریقے سے ایٹم بم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارے گااور جب چلے گا تو کیسی تصویر دیکھنے والوں کی نظر میں پیش کرے گا ،یہی نہیں بلکہ بتاتا ہے کہ کن قوموں کو اللہ تعالیٰ اس عذاب شدید کا مستحق قرار ٹھہرائے گا اور وہ کون سے خصائص ہیں جن کی بنا پر وہ بدنصیب قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہریں گی ۔ یہ سب نو آیتوں اور چھتیس لفظوں میں قرآن حکیم نے بیان کیا ہے‘‘۔
    MADAM: Are you in senses?
    کہنے لگیں۔
    ’ یہ قطعاَ ناممکن ہے ۔کیاآپکے حواس درست ہیں۔عربی قرآن میں انگریزی لففظ ایٹم ATOM اور پھر ایٹمی تھیوری کی تاریخ اور ایٹم بم کے دھماکے (Atomic Explosion) کی تصویر ‘‘؟۔
    میں نے محسوس کیا کہ میرے پیچھے بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کی گردنیں کچھ بلند ہو گئی ہیں اور آنکھوں میں حیرت کے آثار ہیں ۔ یہ لوگ تو سب چوٹی کے عالم ہیں ۔ قرآن حکیم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں ۔ قرآن حکیم اور ایٹم بم ؟ ان کے لئے بھی یہ انوکھی بات تھی۔
    I: I think I am Madam! For I have said nothing that might presage insanity, or show anٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍy derangement of mind.
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’مادام ! میں کوئی پیشہ ور مداری نہیں،نہ ہی میں ایسی گفتگو کررہا ہوں جس سے اس بات کا اظہار ہو کہ میرے دماغ میں کوئی فتور ہے۔یہاں پر آپ بھی موجود ، میں بھی موجود ہوں،قران حکیم بھی یہاں پر موجود ہے ،اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ بھی موجود ، نظر بندی نہیں کروں گا اور آپ کی آنکھوں سے سب کچھ قرآن حکیم میں دکھاؤں گااور آپ اپنی زبان سے پکاریں گی کہ ہاں بے شک اللہ کا کلام ایک معجزہ ہے۔ اللہ کا کلام ایک بے نظیر کلام ہے۔ نہ کوئی ایسا لکھ سکا ہے نہ ہی کوئی ایسا لکھ سکے گا ‘‘۔
    MADAM: Quran is not a book of science. I have read the Quran. Nor any of your Ulema have mentioned anything like that.
    مادام: قرآن حکیم سائنس کی کتاب نہیں ہے ۔ میں نے قرآن حکیم کا مطالعہ کیاہے اور نہ ہی آپ کے کسی عالم فاضل نے اس قسم کی کوئی بات کی ہے۔ ہر طرف سکوت چھا گیا ۔ پھیلتی اور سکڑتی ہوئی پتلیوں کی کیفیت بھی فضا میں منعکس ہو رہی تھی۔
    I: In that, that you have read the Quran and you have nowhere found anything like that, or that none of the Muslim Ulema have ever mentioned any such thing to exist in the Quran, you are right, but that the Quran is not the book of science you are mistaken, for if science is no more than the knowledge of those natural laws that have been created by Allah himself and which govern this universe, then they must naturally exist in the Quran, since you might have read in the Quran during your study, the claim which the Quran has made, namely, to contain every example for man, and which is the example in the history of man that could be considered greater than that of the atomic hell which can, and is now about to devour all life on earth from the East to the West. The Quran does contain the example of the atomic bomb as certainly as you stand there, and as I stand here, and as the Quran exists in this world in its pristine form and purity.
    یہ حقیقت ہے کہ آپ نے قرآن حکیم کا مطالعہ کیا ہے اور آپ نے اس قسم کی کوئی بات اس میں نہیں دیکھی یا علماء کرام نے قرآن حکیم میں کسی ایسی انہونی بات کا کہیں تذکرہ نہیں کیا ہے ۔بالکل آپ ٹھیک کہتی ہیں ۔ قرآن حکیم سائنس کی کتاب نہیں ہے اس میں آپ کی سمجھ میں غلطی ہوئی ہے ۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے قدرتی قوانین کی مدد سے اس کائنات کو جاری رکھا ہواہے لہذا یہ ضروری ہے کہ وہ قوانین قرآن حکیم میں لازمی طور پر موجود ہونے چاہیءں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی مثال قرآن حکیم میں پیش کی ہے انسانی تاریخ میں اس نے قران حکیم میں ایٹم بم کاتذکرہ بھی کر دیا ہے کیونکہ وہ انسانیت کی غارت کا مکمل سامان اپنے آپ میں رکھتا ہے۔ جس طرح میں یہاں کھڑا ہوں اور آپ یہاں کھڑی ہیں ۔یہ حقیقت ہے اسی طرح قرآن حکیم کی یہ مثال بھی بہت مستند ہے کہ وہ قرآن حکیم اس کی اصلی شکل میں آج بھی محفوظ ہے۔
    MADAM:Well! Proceed, show.
    مادام: ’’ہاں تو بیان جاری رکھیں‘‘۔
    I: Madam ! Repeat Chapter Al-Homaza.
    بالآخر میں نے مہر سکوت توڑی اور کہا۔
    ’’ آپ پڑھیں سورۃ الھمزہ‘‘ ۔
    MADAM: I am not Hafiz. (That is I cannot repeat the Quran from memory)
    کہنے لگیں۔
    ’’میں حافظ نہیں ہوں‘‘۔
    I: Shall I repeat it for you then, or shall I fetch the copy of the Quran?
    میں نے کہا۔
    ’’ میں قرآن حکیم پڑھوں یا قرآن حکیم منگواؤں‘‘۔
    MADAM: You recite it. If you shall recite it wrong I shall catch you. I know the Quran.
    کہنے لگیں۔
    ’’آپ پڑھیں اگر غلط پڑھیں گے تو ٹوکوں گی میں قرآن حکیم جانتی ہوں‘‘
    I: I ask protection of Allah from the snares of the devil. In the name of most merciful and benign Allah.
    “Woe to every backbiter,defamer,who amasseth wealth(of this world) and arrangeth it (against the future). He thinketh that his wealth will render him immortal. Nay! For verily he will be cast into Al Hotama”.
    اللہ کا نام لے کر میں نے پڑھنا شروع کر دیا ۔
    آعوذ بالللہ من الشیطن الرجیم ۔بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ویل الکل الھمزہ لمزہ ۔ن الذی جمع مالا و عددہ ۔ یحسب ان مالہ اخلدہ ۔کلا لینبذن فی الحطمہ۔وما ادرک ماالحطمہ۔ ناراللہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ ۔انہا علیہم موصدہ ۔فی عمد ممددہ (الھمزۃ)
    I: What is Hotama Madam?
    میں نے کہا۔
    ’’ مادام ! یہ حطمہ کیا ہے۔
    MADAM:Your commentators say that it is a sort of a hell in which whatever is cast is ground to powder through the intensity of the heat. (Scientist’s answer would have been,”It is a particular phenomenon in which the substance is atomized due to the intensity of temperature”. The rapidity and the audacity of the Madam in her answer came to me as a wonder mingled with delight and I inwardly admired her remarkable display of knowledge, and she had proved my point without knowing it. (The answer of Madam came back at me like a backshot, that would remind me of Rutherford’s experience with Alpha Particles be shot into the Gold foil).
    کہنے لگیں۔
    ’’ آپکے مفسرین کرام یہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا دوزخ ہے جس میں جو چیز ڈالو گے ،ایٹم ایٹم ہو جائے گی، ذرہ ذرہ ہو جائے گی ‘‘۔
    I: This Hotama Madam! is derived from the root verb Hatama. Hatama is a word of pure Arabic origin.Just see its phonetic and functional resemblance to the word “atom”, which is of Greek origin adopted by the scientists. Then mark the various inflections such as Hattama, Tahattama, Inhatama, Inhitaam, Hitaam-ud-Dunia,Hittam-is-Safina etc. And see thereafter the Quran describes the fire of Hotama saying, ” It is fire of Allah enkindled, which leaps up onto the hearts. It is a fire closed in on them in outstretched columns”. Madam! When the atomic bomb explodes, the shock of heat-flash hits the hearts, and blood gushes out of the nostrils, and the victim falls on its knees dead.
    محترمہ !‘‘
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’ یہ حطمہ اسم محل ہے اور اس کی جذر ہے۔ح ط م۔ حَطَمَ۔
    براہ مہربانی آپ پکاریں ۔ایٹم ‘‘۔
    محترمہ نے کہا’’ حَطَم‘‘ (جرمن لوگ بھی عربوں کی طرح ٹ کو ت یا ط بولتے ہیں)۔
    میں نے عرض کیا۔
    ’’ یہی حَطَم اس کے معنی ہیں ایٹم ایٹم ہو جانا ۔یہ ہے عربی حطم اور یہ ہے انگریزی ایٹم ۔معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ قرآن حکیم کا معجزہ ہے‘‘ ۔مگر آگے چلیں ۔’’حطمہ ‘‘کی دوسری ترکیب صرفی ہے ۔’’حّطم‘‘ یعنی ط مشدد یعنی آپ کے ہاتھ میں شیشے کا ایک گلاس ہو اور آپ پوری طاقت کے ساتھ اسے چٹان پر دے ماریں۔ گلاس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ۔ عرب پاس کھڑا ہو گا تو کہے گا۔’’ حطمہ الغلاس‘‘ ۔ اس سے اگلی ترکیب ہے’’ تحّطم‘‘ ط بدستور مشدد اور لفظ کے شروع میں ت بڑھا دی جاتی ہے ۔اس طرح لفظ کی قوت میں اضافہ ہوا یعنی آپ کے سامنے بارود کا ایک ڈھیر پڑا ہواور آپ اسے دیا سلائی دکھا دیں اور وہ بارود ہر چیز کو لیتا ہوا بھک سے اڑ جائے ۔ عرب پاس کھڑاہو تو کہے گا ’’تحّطم البارود‘‘۔اگلی ترکیب ہے ۔’’ انحطام‘‘ یعنی ’’حطم حطم ہو جانا‘‘،’’ ریزہ ریزہ ہو جانا‘‘۔ ’’ذرہ ذرہ ہو جانا‘‘۔ کنایتہ عرب لوگ کہتے ہیں۔’’حطام الدنیا‘‘ یعنی اس فانی دنیا کی فانی چیزیں جو ذرہ ذرہ ہو جانے والی ہیں اور پھر آخر میں ’’حطام السفینہ‘‘’’تباہ شدہ جہازکا انجر پنجر‘‘۔سمندرکے سینے پر تیرتے ہوئے جہاز کو دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتاہوا طوفان اچک کر ساحلی چٹانوں پر د ے مارے اور جہاز کے پرخچے اڑ جائیں ۔یہی نہیں محترمہ ! آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’وما ادرک ماالحطمہ‘‘۔ اے میرے نبی ﷺ! تجھے کون جنوا سکتا ہے کہ یہ حطمہ کیا ہے ؟ مگر قرآن حکیم کسی بھی مضمون کو تشنہ نہیں چھوڑتا ۔ اللہ تعالیٰ اس کی مزید وضاحت فرماتا ہے ۔’’ ناراللٰہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ‘‘۔’’یہ ایک آگ ہے اللہ کے ہاتھوں بھڑکائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک‘‘ ۔
    Madam! Do you know how this atom bomb kills the creatures of Almighty Allah?.It is a general explosive bomb or otherwise?
    ’’ مادام!‘‘
    میں نے پوچھا ۔’
    ’ یہ بتایئے ایٹم بم کس طرح سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارتا ہے؟کیا یہ عام بارودی بم کی طرح مارتا ہے یا کسی اور طریقے سے ؟‘‘۔
    کہنے لگیں۔
    ’’ جہاں ایٹم بم پھٹتا ہے وہاں تیس میل کے رقبے سے کم و بیش اس بم کی طاقت کے مطابق، ہواکو باہر دکھیل دیتا ہے۔ جب یہ ہوا اپنی جگہ لینے کے لئے واپس لوٹتی ہے تو اس میں اتنی شدت ہوتی ہے کہ اگراس کے راستے میں گاڑی کا انجن بھی رکھ دیا جائے تو اسے اٹھا کر دے مارتی ہے۔ کیا بے چارہ انسان یا دوسرے ذی روح حیوان؟ ہوا کا یہ شدید صدمہ پیٹ پر لگتا ہے اور دل کی شریانیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ ناک اور منہ سے لہو جاری ہو جاتا ہے اور انسان گھٹنوں کے بل گر جاتا ہے۔ صدمے کی وجہ سے سخت گرمی پیدا ہو جاتی ہے جس سے انسان کا دل اور سینہ جل بھن جاتا ہے‘‘۔
    میں نے عرض کیا۔
    تو پھر اللہ تعالیٰ نے کس قدر سچی تصویر کھینچی ہے ناراللہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہکی۔ یہی نہیں بلکہ آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    ’’ انہا علیھم موصدہ‘‘ ۔
    یہ بند کی ہوئی ہے آگ ان پر‘‘
    ۔I asked Madam! Is there any way to escape from this fire?
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’ محترمہ!
    ’’کیااس آگ سے نکل جانے کی کوئی صورت ہو سکتی ہے ؟‘‘
    Madam: No. There is not.
    کہنے لگیں۔
    ’’ نہیں کوئی نہیں ‘‘۔
    I : I asked Madam! what is before you?
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’مادام ! یہ آپ کے سامنے کیا ہے‘‘ ۔
    Madam: It is table.
    فرمایا۔ ’’میز‘‘ ۔
    میں نے کہا ۔
    ’’ اگر میں اس پر ایک بم گرنیڈ یا دوسرا بم رکھ دوں تو وہ اگر ’’بند کی ہوئی آگ‘‘ نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔
    یاد رکھیں ۔ جب قرآن حکیم نازل ہوا تو بارود کا وجود دنیا میں ہرگز نہیں تھا ۔ بارود کو تو بنے ہوئے تقریبا تین صدیاں ہوئیں اور قرآن حکیم کا نزول 1380 ء برس پہلے ہوا اور کیسی ہی اچھی تعریف ہے ’’بم‘‘ کی یعنی ’’بند کی ہوئی آگ‘‘ یعنی’’ بم‘‘۔’’ایٹم بم بھی بند کی ہوئی آگ ہی ہے ‘‘۔
    کیا ایسی بات کبھی کسی انسان کے تصور میں آ سکتی تھی مگر آگے چلئے ۔
    ’’فی عمد ممددہ‘‘۔ لمبے لمبے ستونوں میں ۔
    However Madam! Have you ever seen the atomic bomb explosion?
    مادام !
    ’’ آپ نے کبھی ایٹم بم چلتے دیکھا ہے؟ ‘‘۔
    MADAM:No. If I had seen it, how I could have been here?
    مادام نے جواب دیا ۔
    ’’نہیں۔اگر میں نے اسے دیکھا ہوتا تو کیسے اس سے بچ سکتی تھی؟‘’۔
    I: Have you seen a photograph of the atomic bomb explosion?
    ’’تو تصویر تو ایٹم بم کی دیکھی ہو گی‘‘۔
    MADAM: Yes. That I have.
    کہنے لگیں۔
    ’’ ہاں دیکھی ہے ‘‘۔
    I: Is there any outstretched columns ?
    ’’کیاآپ نے پھیلے ہوئے ستون اس ایٹمی دھماکے میں دیکھے ہیں‘‘؟
    MADAM: Yes! There is one mile high.
    ’’ہاں وہ ایک میل اونچا ستون ہوتا ہے‘‘۔
    Madam! What is the structure of atomic explosion?
    تو بتایئے کہ’’ ایٹمی بم کا دھماکہ کیسا ہوتا ہے ‘‘ ۔
    کہنے لگیں ۔
    ’’جہاں ایٹم بم پھٹتا ہے وہاں دھوئیں بلکہ ریڈیو ایکٹو ایش کا ایک ستون اوپر کی جانب اٹھتا ہے اور تقریباََ تیس میل یا کم و بیش اس ایٹم بم کی طاقت کے مطابق پہنچ کر سرے پر چھتری بنا لیتا ہے ۔یہ ستون اٹھتے وقت گوناگوں اور بوقلموں رنگ بدلتا ہوا اٹھتا ہے۔ کبھی مرمر، کبھی یاقوت، کبھی زمرد، کبھی نیلم ،کبھی سوسنی، کہیں لال، کہیں پیلا وغیرہ اور عجیب بہار دکھاتا ہے ‘‘۔
    GABRIEL:That Madam! the Quran says, “On columns of vast extent”.The rising column of the atomic bomb explosion rises changing various colours indeed very magnificent to see. For your information, the column of the 20 megaton Thermo Nuclear bomb which is called the Hydrogen bomb and the Hell-Bomb, rises to the height of 20 miles and has a diameter of 3 miles. Madam ! If you sat on the peak of Himalaya called Mount Everest, the peak which was conquered a few years ago by Sir John Hunt and his party, and you looked through a telescope, and before your eyes in the plain of Panipat where in the past so many battles have been fought, rose atomic bombs’ explosions in one thousand square miles in an arranged symmetry, just as the trees grow in a garden. You would see a magnificent seen of rising columns of atomic explosions changing beautiful colours and rising to the height of 20 miles and there covered by a beautiful roof. You would think that it was a magnificent palace of some great Emperor or some great Amphi-Theatre that was being constructed. No Madam! It was Al-Hotama as is described by the Quran. It is a sort of hell fire in which anything is cast, is crushed into the particles of atoms. The Quran in the beginning of this Chapter Al-Homaza has given the causes of the appearance of Hotama and its replica in this world that may be called the Atomic Hell.
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’ مادام !
    ’’آپ بیٹھی ہوں کوہ ہمالیہ کی چوٹی ماونٹ ایورسٹ پر جسے چند برس ہوئے سر جان ہنٹ کی پارٹی نے سر کیا تھا۔ آپ کے ہاتھ میں ہو سو انچ قطر کا ٹیلی سکوپ اور پانی پت کے میدان میں جہاں ماضی میں کئی لڑائیاں لڑی گئیں ۔ ایک ہزار مربع میں ایٹم بم اس طرح گاڑ دیئے جائیں جس طرح کہ باغ میں مقررہ فاصلے پر درخت ہوتے ہیں اور کوئی ایسا انجینئر پیدا ہو جو ایک ایسی ترکیب سوچے کہ یہ بے شمار ایٹم بم یک لخت بھک سے اڑ جائیں اور پھر ایک ہزار ستون نظر فریب ایک انداز دلربائی سے رنگ بدلتے ہوئے تیس میل کی نظر فریب بلندی پر اٹھ کر چھتریاں بنالیں تو آپ سمجھیں گی کہ کسی عظیم شہنشاہ کے لئے محل تعمیر ہو رہا ہے یا کوئی عظیم الشان تھیٹر کی عمارت بنائی جا رہی ہے لیکن نہیں ۔ محترمہ ! یہ تو حطمہ ہے ۔ ایسا جہنم کہ جس میں جو چیز ڈالو گے وہ ایٹم ایٹم ہو جائے گی ۔ یہی نہیں بلکہ ا للہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ کون سی قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہرائی گئیں اور کیو ں ؟
    میں نے عرض کیا ۔
    ’’مادام ! فرمایئے الھمزہ کیا ہوتا ہے‘‘۔
    کہنے لگیں ۔
    ’’ وہ جو تمھا رے منہ پر تمہاری برائی کرے اور لمزہ وہ ہے جو پیٹھ پیچھے برائی کرے‘‘ ۔
    Madam: The Quran in the beginning of this Chapter Al-Homaza has given the causes of the appearance of Hotama and its replica in this world that may be called the Atomic Hell. The First of these causes is the slander and back-biting which is the habit universally seen in this modern age of Baconian materialism. The second cause is the accumulation of riches which also is the basic feature of this modern culture. The Third cause is the belief that the wealth will keep on increasing eternally. This also is a recognized feature of this science-guided materialism. This belief of the people is so strong that they may be said to think that they will achieve immortality due to their wealth, and that the monuments of their wealth will become immortal. To which the Quran says by no means. Both they and the monuments of their wealth will be plunged into the crushing Hotama.All these three characteristics, namely the slander, the accumulation of wealth and the complete faith in the eternity of the accumulated wealth are the basic features of the theory of modern atomism that is the Baconian Philosophy of fruit and utility.
    قرآن حکیم نے اس چیپٹر کے ابتداء میں الھمزہ اور لمزہ کی وجہ سے الحطمہ کے پیدا ہونے کی وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ قرآن حکیم اگلی دنیا کے حطمہ کی یہاں اس عارضی دنیا میں ایک مثال پیش کرتا ہے ۔الھمزہ اس کا ابتدائی اظہار اور لمزہ دونوں اس بیکنی مادہ پرستی کے دور میں عادات موجود ہیں۔ بیکنی میٹریلزم کے دور کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ دوسری بڑی وجہ دولت کاارتکاز ہے جو کہ اس بیکنی کلچر کی بنیادی وجہ ہے۔ دولت کے بارے ہمیشگی کاتصور بھی نمایاں طور پر موجود ہے کہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہے گی۔ موجودہ سائنس یافتہ مادہ پرستی کا ایک نمایاں فیچر ہے ۔ یہ انداز اس قدر مضبوط ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دولت کی وجہ سے انسان ہمیشہ ہمیشہ اس دنیا میں رہے گا۔ اور ان کی دولت ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید کر دے گی لیکن قران حکیم کا ارشاد ہے کہ انسان اور انسان کی دولت دونوں حطمہ میں ڈال دی جائیں گی۔ تینوں خصوصیات الھمزہ اور لمزہ ، دولت کاارتکاز اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کا خیال تینوں موجودہ ایٹمی دور کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
    مادام ! ٹھیک ہے ۔آپ کا شکریہ ۔
    میں: اور ن الذی جمع مالاو عددہ ۔ یعنی یہ ھمزہ لمزہ مال جمع کرتے ہیں اور گنتے ہیں کہ بینک بیلنس میں کتنی بڑھوتری ہوئی ۔ مزید یہ کہ ’’یحسب ان مالہ اخلدہ‘‘ اور پھر گمان کرتے ہیں کہ یہ مال و دولت انہیں زندہ و جاوید کر دے گا۔ وہ کبھی مریں گے نہیں اور یہ مال و دولت ہمیشہ رہے گا ۔ کلا ۔ یعنی ہرگز نہیں ۔’’ لینبذن فی الحطمہ‘‘ بلکہ وہ تو ڈال دیئے جائیں گے حطمہ میں۔
    Lady virtually appeared to have succumbed to the debate. She collapsed to her chair and appeared visibly indisposed. Her loss was immense. Her life-long study of the Quran had been proved as erroneous in a matter of moment. For ten years thereafter she never returned to Pakistan, as far as my knowledge goes. And when she came, her topic wasn’t the human origin of the Quran but she had written most excellent books on Iqbal, Hazrat Sultan Bahu )RA), Hazrat Amir Khusro and other Sufi Saints of Islam. My overall conceit of her is one of gratitude. Not all the Ulema of Islam could have rendered me the service which she was suitable to do. Howsoever the Ulema had been impressed by my discourse, they could not have given a verdict as certain, and a proof of the validity of my discovery of Hotama as sure as did that learned lady by her fall in her chair and by the cessation of her topic of the origin of Quran thereafter. It might come as a surprise to most that at that time, that is after about three years of my discovery of Quran’s prediction of atomic hell, I did not even know the structure of atom, nor I had so much as seen a book on atomic physics. Such has been the guidance in my course as, not a word, not a point, not a thought, more or less was granted to me than was necessary for my mission. At a particular point of my course. Noteworthy is the sequence of events in my lengthy course. It was after 1971 that the knowledge of atomic physics and Radiobiology burst upon me, and the books were supplied to me in the strangest of coincidences. So that now the state is different, Einstein would not be ashamed to sit with me, and perhaps I would suggest him certain guidelines in his own subject such as would save him considerably unnecessary trouble and toil.
    The Ulema present in the lecture highly pleased with my demonstration, asked Allamah about my identity, and it was in response to their inquiry that the Allama spoke about me those memorable words, namely, that “This is a man which Allah has created in this nation by chance. If this nation will fail to receive that light of the Quran which Allah has bestowed on his breast, Allah will never forgive this nation to the day of judgment. Another one like him will not appear in this nation”.
    The efficacy of this warning of the Quran is unfailing, since this warning of the Quran about the atomic hell is a miracle most manifest. No scientist, no philosopher can doubt or deny it, with reason. It has exploded the notion of the denial of miraculous and supernatural by science and not all the works of the votaries of Baconian philosophy combined could withstand it. Nor all the stock-piles of atomic bombs in the world could stand its powerful neutralizing effect. As the only guidance to avoid the atomic ruin and the last hope of mankind, it has appeared so that a mankind destined to meet a doom preordained only might miss it or neglect it .My conviction is that it will save this world from atomic ruin.
    The debate ended with the fall of Madam on the Chair. Madam fell on the chair. There is difference between the sitting on the chair and falling on the chair. She had received a severe shock. Her mission had failed. She had received an answer which really had convinced her of the truth of the argument and had explicitly falsified her own view. In reality, she was converted to Islam at that very moment because she had seen a clear truth of the divine original of the Quran, which she had intended to destroy. She departed. Afterwards, the Ulema, who were the main audience of Miss Anne Mary Schimel, asked Allamah Alla-ud-Din Siddiqui about me because they did not know me because I had always struggled in seclusion. To them Allamah Allauddin Siddiqui said:- “Respectable Ulema! This is a man whom the providence has created in the Muslim Nation by chance. The intellectual light of knowledge and the light of the Quran which the providence has bestowed on him, if your nation will fail to benefit by that then God will never forgive your nation. One like him will not be found in this nation”.
    Mankind is facing danger unprecedented in history. The scientists have judged it as the total annihilation of life on earth, man، animals and plants. But it is more than that it is the atomic hell. I have in a missionary zeal from 1942 to 1982 made extensive studies and researches in the relative subjects of atomism and Quran, Bible, Sciences and Philosophies. The people say that I am a symbol of universal peace, a model of simplicity, sincerity, sincerity and devotion, a colossal giant of ancient and modern learning, a philosopher, a scientist, a linguist a theologian, a poet and orator. I have a mission to save this world from the nuclear ruin the painful and disgraceful atomic doom of adamities. I want to warn the mankind against the atomic hell and try to guide them towards safety, while the appeals of the scientists and philosophers have been failed. I was born on 17th February 1917 in khabekki village Soan Sakaser, Khoshab (Pakistan). It is very interesting thing that I, author of such books have not attended any school, college or university from where I should get this knowledge.
    گفتگو یہاں تک پہنچی تو مادام کو پسینے چھوٹ گئے ۔ لگی بے چاری بغلیں جھانکنے اور دھڑام سے کرسی پر جا گری ۔ تقریر ختم ۔ ایک پیالی چائے کی بمشکل زہر مار کر سکی ۔ کیک اور پیسٹریوں کے ڈھیروں سے اسے کچھ نصیب نہ ہوا۔ ناسازیء طبع کا بہانہ بنا کر رخصت ہو گئی ۔ دوسرے روز ساڑھے نو بجے صبح والٹن کے ہوائی اڈے سے ہوائی جہاز پر بیٹھی۔ کراچی تک جاتی سنی۔ دورہ کینسل۔ بیک ٹو جرمنی ۔ مبہوت علماء کرام نے علامہ علاؤالدین صدیقی صاحب سے استفسار کیاکہ یہ حضرت کون ہیں؟ علامہ صاحب نے فرمایا۔کہ ان پادریوں کو جانے دو ۔ پھر بتاؤں گا۔ پادری حضرات جب چلے گئے تو علامہ صاحب نے فرمایا ۔’’ یہ وہ شخص ہے جسے قدرت نے محض اتفاق سے تمہاری قوم میں پیدا کر دیا ہے ۔وہ علمی بصیرت اور قرآنی نور جو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے سینے میں تفویض فرمایا ہے ۔اگر تمہاری قوم اس سے استفادہ کرتی تو آج مقام بلند پر ہوتی ،وہ علمی بصیرت اور قرانی نور جو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے سینے میں تفویض فرمایا ہے ۔ اگر تمہاری قوم اس سے لے نہ سکی تو اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت تک معاف نہیں کرے گا۔ پھر ایسا شخص پیدا نہیں ہو گا ‘‘۔ پھر مجھے فرمایا۔ ’’برادر نعرہ ء جبریل میں سے جو شعر مجھے اگلے روز سنائے تھے ۔ ان علماء کرام کو سناؤ ‘‘۔ میں نے پانچ سات بندعرض کئے تو علماء کرام پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ وہاں پاکستان ٹائمز کا نمائندہ بیٹھا ہوا تھا۔ میرے پاس آ یااور کہاکہ گذشتہ چھ روز کی کاروائی تو ہم نے ڈھانک رکھی ہے۔ البتہ آج کی بات آپ لکھ دیں ۔ اخبار میں چھپے گی ۔ میں نے عرض کیا کہ پندرہ روز کی مہلت مانگتا ہوں ۔ مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس ہے ۔ جس طرح قرآن حکیم لازوال ہے ۔ اسی طرح یہ تفسیر بھی لازوال ہے ۔ یورپ کے ایٹم بم سے قرآن حکیم کا یہ ایٹم بم کہیں زیادہ قوی ہے ۔ ملک کے اہل نظر اسے پڑھیں گے ۔ میں اسے انشاء اللہ خود آپ کے دفتر میں لکھ کر دے آؤں گا۔یہ بحث قران اینڈ اٹامک ہیلQuran and Atomic Hell کے عنوان سے پاکستان ٹائمز میں چھپی ۔بعد میں معلوم ہوا کہ جہاں جہاں بھی بیرونی ممالک میں یہ اخبار پہنچا ۔لوگ کتابوں کی دکانوں کی طرف بھاگے اور قرآن حکیم کا انگریزی ترجمہ طلب کیا ۔بے شمار نسخے فروخت ہو گئے ۔ وہ لوگ صرف یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا واقعی قرآن حکیم ایسی کتاب ہے جس میں ایسی بات لکھی ہوئی ہے ۔ انہوں نے پڑھا اور تسلیم کیا۔ یہ ایک واضح حقیقت تھی ۔ اظہر من الشمس حقیقت اور یہ کوئی یکہ و تنہا واقعہ نہیں بلکہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ قرآن حکیم ایسے معجزوں سے اٹا پڑا ہے۔ دیکھنے والی آنکھ چاہیئے۔ قرآن حکیم ایک لازوال معجزہ ہے جس پر بے شمار مضامین اخبارات اور رسائل میں لکھ چکا ہوں۔
    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی پاکستان
    allamayousuf.net
    http://www.oqasa.org

    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

Leave a Reply to ชนิด-ของ-เสาเข็ม Cancel reply