رو ئف امیر چند یادیں، چند باتیں تحریر محمد عارف

رو ئف امیر چند یادیں، چند باتیں
تحریر محمد عارف
رو¿ف امیر کا نام کراچی سےلےکر خیبر تک پورےملک کےعلمی و ادبی حلقوںمیں ہی نہیں جانا پہچانا جاتا ہےبلکہ وہ بیرونِ ملک وسطِ ایشیاءکی ریاست قازقستان میں پاکستان چیئر پر سکالر کی حیثیت سےاپنی خدمات سرانجام دےرہےتھی۔ وہ ایک عمدہ غزل گو شاعر،محقق اور نقاد کےعلاوہ ماہرِ تعلیم بھی تھی۔ انہوں نےاپنی تدریسی زندگی کا باقاعد ہ آغاز ایم اےاردو کےبعد پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکی( لیکچر ر اردو) کےطور پر کیا۔ وہ گورنمنٹ ڈگری کالج سٹلائیٹ ٹاو¿ن راولپنڈی میں پڑھاتےرہی۔ اسی اثناءمیں ایم فل (اردو) مکمل کیا اور فیڈرل پبلک کمیشن کےذریعےاسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئی۔ وہ ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ میں متعین کئےگئی۔ پنجاب یونیورسٹی سےپی ایچ ڈی کیا اور تیسری دفعہ بھی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کےزیر اہتمام ایسوسی ایٹ پروفیسرکی اسامی کےلئےامتحان دیا ۔ سلیکشن کےبعد واہ کینٹ میں ہی تدریسی خدمات سرانجام دینےلگےاور پانچ سال پہلےاپلائی خان یونیورسٹی الماتی ، قازقستان کےلئےسکالر پاکستان چیئر منتخب ہوئی۔ وہ ٦١ اکتوبر ٠١٠٢ کو صبح پانچ بجےاچانک حرکتِ قلب بند ہونےکی وجہ سےانتقال کر گئے۔
رو¿ف امیر اردو ادب کےافق پر تیزی سےطلوع ہوئے۔انہوں نےمسلسل محنت و کوشش کےذریعےتیزی سےدنیاوی ترقی کےمدارج و مراحل ہی طےنہیں کئےبلکہ شاعری، تحقیق، تنقید اور تعلیم کی دنیا میں بھی اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ” درنیم وا“ ٨٨٩١ءمیں شائع ہوا۔ اردو کےمعروف شاعر احمد ندیم قاسمی نےاپنےمضمون ” امکانات سےبھری شاعری“ میں تحریر کیا کہ ” اس کی غزلوں کےموضوعات میں جو تنوع اور رنگارنگی ہی، غزل میں اس انتہاءکی بوقلمونی کسی کسی کو نصیب ہوتی ہی۔ رو¿ف امیر کی شاعری اتنےبےشمار امکانات سےچھلک رہی ہےکہ میں ابھی سےاس کےدوسرےمجموعےکلام کا انتظار کرتا ہوں۔
شہزاد احمد رو¿ف امیر کےنام ایک خط میں رقم طراز ہیں کہ ” آپ بہت ہنر مند شاعر ہیں ۔اس پتھر سےبھی پانی نکالتےہیں جس میں موجود ہی نہیں ہوتا ۔آپ نےخاصی مشکل زمینوں میں بہت رواں دواں شعر نکالےہیں“۔
رو¿ف امیر کی مطبوعہ علمی تصانیف میں سی’ اقلمِ ہنر، افتخار عارف : شخصیت و فن، ماہ ِمنور، انور مسعود: شخصیت اور فن، ادبی تنازعات (مرتبہ ) ، کلیات حافظ ظہورالحق(مرتبہ) ،محمد توفیق : اردو سفر نامےکا گلِ خود رو، دھوپ آزد ہے (شاعری) درنیم وا (شاعری) ، رو¿ف امیر کےدیباچی(مرتبہ) میاں جابر اقبال، شامل ہیں۔
رو¿ف امیر نےباقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز اس وقت کیا جب وہ گورنمنٹ اصغر مال کالج راولپنڈی میں پڑھ رہےتھی۔ ان کی غزلیں اور نظمیں احمد ندیم قاسمی نےفنون میں سال ہا سال تک درج کیں۔ جس کی وجہ سےادبی دنیا میں ان کا تعارف ہوا۔ رو¿ف امیر نےپاکستانی غزل گوو¿ں کا تعارف اور تجربہ بھی پیش کیا۔ ماہنامہ ادبیات، اسلام آباد میں ان کا ایک مضمون” پاکستانی غزل کےچند زاویئی“ شائع ہو ا جو اس موضوع پر اپنےمنفرد ادبی اسلوب ، عمیق مطالعےاور فنی تجزیئےکی وجہ سےممتاز حیثیت کا حامل ہی۔ رو¿ف امیر نےاحمد ندیم قاسمی کےتصورِ انسان پر بھی ایک وقیع علمی کام کیا ہی۔ جسےسامنےلانےکی ضرورت ہی۔ ان کی آخری علمی تصنیف ”شاہراہ ِریشم کی جان قازقستان“ ہےجو ان کےنوائےوقت میں شائع ہونےوالےکالموں پر مشتمل ہی۔ رو¿ف امیر نےاپنی اس علمی کاوش میں قازقستان کی تاریخ، زبان، ادب اور ثقافت ، تہذیب اور معاشرت کا بھرپور تجزیہ پیش کیاہے۔ رو¿ف امیر نےپاکستانی غزل و نظم کےاہم شعراکےفکر و فن کا بھی جائزہ لیا ،جن میںسےاحمد ندیم قاسمی، جلیل عالی پروفیسر، انور مسعود، محمد اظہار الحق، احمدحسین مجاہد، محمد امیر شاہد، ڈاکٹر وحید احمد جیسےلوگ شامل ہیں۔
ہم اپنےعہد کےیوسف ضرور ہیں لیکن
کنوئیں میں قید ہیں بازار تک نہیں پہنچی
رو¿ف امیر کی شخصیت و فن پر ڈاکٹریٹ کی سطح کےعلمی کام کی ضرورت ہی۔ پاکستانی جامعات کو اس طرف توجہ دینی چاہیئی۔ رو¿ف امیر کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف سرکاری سطح پر بھی ہونا چاہیئی۔

پروفیسر محمدعارف ، ترنول کالج، ترنول ، ضلع اسلام آباد


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 86
    نوجوان شاعر رو ف امیر کا فن اور شخصیت تحریر شوکت محمود اعوان (یہ مضمون بہت پرانا ہے۔اس زمانےمیں جب رو¿ف امیر کالج کی زندگی گذار رہا تھا۔ میں نےاس زمانےمیں یہ مضمون لکھا۔ یہ مضمون کسی پایہ کا نہیں لیکن کچھ یادیں وابستہ تھیں تو میں نےاسے پیش کر…
  • 82
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 81
    واہ قدیم شہر ٹیکسلا کےسنگم پر واقع ہی۔ ازمنہءقدیم میں ٹیکسلا گندھارا تہذیب کی راجدھانی رہا ہی۔ دور دراز سےتجارتی قافلےآتی، یہاں پر پڑاوکرتےاور اہل ہنر و صاحبان سیف و قلیم کا بھی یہاں پر اجتماع رہتا۔ ایک زمانےمیں علم و ہنر کےحوالےسےٹیکسلا کا پورےعالم میں ڈنکا بجتا تھا اور…
  • 79
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 75
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 73
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 72
    ”ادب دےنگینے“ تحریر: محمد عارف (ٹیکسلا) میاں محمد اعظم کا تعلق راولپنڈی سےہےجسےشاعروں اور افسانہ نگاروں کا شہر کہا جاتا ہی۔ میاں محمد اعظم نے”ادب دےنگینی“ کےعنوان سےحال ہی میں ایک خوبصورت شعری مجموعہ زیورِ اشاعت سےآراستہ کیا ہی، جس کا انتساب” پروفیسر زہیر کنجاہی صاحب “کےنام ہےجو راولپنڈی کےمعروف…
  • 71
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 71
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 70
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 70
    خدا بانٹ لیا ہے تحریر : محمد عارف (ٹیکسلا) آجکل تھوک کےحساب سےچھپنےوالےشعری مجموعوں میں سےشاید ہی کوئی دل کو بھا جائےاور جذبات میں ہلچل بپا کرنےکا سبب ہو ۔کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ”خدا بانٹ لیا ہی“ بھی انہی میں سےایک ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پڑھتےہوئےملائمت، نرمی اور شگفتگی…
  • 70
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…
  • 70
    حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان 1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور…
  • 70
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…
  • 69
    اپنی موج میں ،اپنی دُھن میں ،بہتا بولتا رہتا ہے تحریر : شمشیر حیدر جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتو ایسےمیںاگر ایک جگنو بھی چمکتا دکھائی دےتو حوصلہ ہونےلگتا ہے،کچھ کچھ اپنےہونےکےنشاں کھلنےلگتےہیں اور وحشتوں کےفریب میں کمی آنےلگتی ہے۔ہم ایسےعہدِبےچراغ میں زندہ ہیںکہ جب ہرآدمی زندگی جبرِمسلسل کی طرح…
  • 69
    وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر تحریر : ملک شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسرنےبےشمار ادیب، شاعر، عالم، فاضل، مفسر، مقرر، دیندار،سائنس دان، فلسفی، ولی اللہ،مجاہد،فوجی افسر اور فوجی جوان، ٹیچر، زاہد، عابد اور علمائےکرام کو جنم دیا ہی، ان میں ہم جس شخصیت…
  • 68
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 67
    مجرم عدلیہ کا کیس عوام الناس کی عدالت میں تحریر : رضوان یوسف اعوان بادشاہی کفر میں قائم رہ سکتی ہےمگر ظلم اور ناانصافی میں نہیں۔ جن قوموں میں عدل و انصاف ناپید ہو جاتا ہےتباہی و بربادی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہی۔ عدل و انصاف قائم کرنا…
  • 66
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…
  • 65
    ”متاعِ فقیر“۔ تعارف و تجزیہ تحریر: محمد عارف ڈاکٹرتصدق حسین آبائی گاو¿ں بادشاہ پور ضلع چکوال سےتعلق رکھتےہیں۔ ایم اےانگریزی، ایم اےاردو کرنےکےبعدانہوں نےاردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ءمیں ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ نسیم حجازی اور ان کی ناول نگاری پر لکھا۔ 1960 ءسے1984 ءتک درس و تدریس…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.
Copied!