شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف

Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan
President Yousuf Jibreel Foundation
sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt
editor coordinator weekly watan islamabad
شوکت اعوان شخصیت اور خدمات
تحریر محمد عارف
١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر خوشاب جناب علامہ محمد یوسف جبریل کےہاں پیدا ہوئی۔
٢۔ بنیادی تعلیم مڈل تک اپنےہی گاو¿ں کھبیکی سےحاصل کی۔
٣۔ انبالہ مسلم ہائی سکول سرگودھا سے1970 ءمیں فسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کیا۔
٤۔ٍ ایم اےاو کالج لاہور سے1972 ءمیں F.Sc سیکنڈ ڈویژن کےساتھ پاس کیا۔
٥۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے1976 ءمیں بی اےپاس کیا ( سیکنڈ ڈویژن) میں سیاسیات کےساتھ
٦۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور ہی سے1982 ءمیں اسلامیات میں ایم اےکا امتحان پاس کیا۔
٧۔ آپ کا تعلق اعوان قبیلہ کی گوت الیرال اللہ یارال سےہےجو قطب شاہ کی اولاد سےہیں اور گولڑہ اعوان ہیں۔
٨۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اسلام آباد میں ٤٣ سال خدمات سرانجام دینےکےبعد اب وہ ریٹائڑڈ ہو گئےہیں وہاں پر انہوں نےڈاکٹر سمر مبارکمند صاحب، ڈاکٹر اشفاق احمد، منیر احمد خان، جناب انور علی، ڈاکٹر مسعود احمد، پرویز بٹ، ڈاکٹر انصر پرویز جیسی سائنسی شخصیات کےساتھ کام کیا۔دوران ملازمت نہ صرف محکمہ کی بھرپور خدمات سرانجام دیں بلکہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اور لوگوں کےمسائل کےحل کےلئےاپنی زندگی وقف رکھی۔ لوگوں کےہر قسم کےمسائل کےحل میں باقاعدہ عملی طور پر انہوں نےحصہ لیا اور سینکڑوں لوگوں کو باروزگار بنایا۔
٩۔ ذاتی رہائش قائداعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ میں ہی۔ اب والد محترم علامہ محمد یوسف جبریل کا مزار مبارک ملک آباد میں تعمیر ہوا ہےوہاں پر بھی ان کو ڈیوٹی سرانجام دینا پڑتی ہی۔ ذکر و فکر کی محفلیں اور درود شریف کی محفلوں کا انعقاد کرواتےہیں اور درود شریف کی ایک ملکی سطح کی تنظیم” بزمِ جمالِ مصطفی “کےنام سےقائم کر رکھی ہےاور ہفتہ میں کروڑوں مرتبہ درود شریف پڑھوا کر آقا نبی کریم کی بارگاہ میں بھجواتےہیں۔ انوار چوک میں جناب محمد اقبال حاجی صاحب اس سلسلہ میں بہت تعاون کرتےہیں اور لوگوں کو درود شریف کی کتابیں ، تسبیحات اور جملہ تمام ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور اس طرح درود شریف کا یہ سلسلہ دن بدن ترقی کرتا جاتا ہی۔ جو حاجی یا عمرہ پر جاتےہیں ان کو کروڑوں میں درود شریف دیا جاتا ہےتاکہ وہ لوگ آقا نبی کریم کی بارگاہ میں یہ درود شریف خود بہ نفس نفیس پیش کریں۔
٠١۔ شوکت اعوان کےدو بھائی خالد ملک اور طاہر اعوان ہیں ۔ خالد ملک کینیڈا میں علامہ صاحب کےمشن پر کام کر رہےہیں اور ساتھ ساتھ نوکری بھی کر رہےہیں جب کہ طاہر اعوان صاحب پی او ایف واہ کینٹ میں ملازم ہیں۔
١١۔ شوکت اعوان صاحب کی1982 ءمیں سرگودھا میں اپنےماموں علی محمد ملک کےہاں شادی ہوئی ۔شوکت اعوان صاحب کےدوبیٹےرضوان یوسف اور فرحان یوسف ہیں۔ رضوان یوسف اسلام آباد میں ملازم ہیں جب کہ چھوٹےبیٹےفرحان یوسف آٹھ برس سےخون کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ایک بیٹی بچپن سے ہی دماغی مریض ہی۔
٢١۔ تعلیم کےدوران فزکس، کیمسٹری، میتھ، اسلامک سٹڈیز، انگلش ، اردو ، بائیولوجی، سیاسیات کا مطالعہ کیا۔
٣١۔ یہ خاندان 1972 ءمیں واہ کینٹ میں لاہور سےآیا۔ اس وقت علامہ یوسف جبریل لاہور میں مصری ایمبیسی میں ملازم تھےاور بعد میں وہیں پر محکمہ اوقاف میں ریسر چ انوسٹیگیٹر اور بادشاہی مسجد میں خدمات سرانجام دیں۔ علامہ صاحب کی سوانح حیات پر بھی کام ہو رہا ہی۔ اور عنقریب انشاءاللہ ان کی زندگی کےبہت سےصفحات جو ابھی تک صفحہءقرطاس پر نہیں لائےگئے۔ قارعین کےسامنےپیش کئے جائیں گی۔ جن سےعلامہ صاحب کی حقیقی زندگی ہمارےسامنےآئےگی۔
٤١۔ شوکت اعوان ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان کےجنرل سیکرٹری ہیں اور اعوان قبیلہ کی تاریخ پر ملک محبت حسین اعوان کےساتھ مل کر کام کرتےرہےہیں اور اس طرح کئی کتب معرض وجود میں آ گئی ہیں جن میں اعوان قبیلہ کی تاریخ موجود ہی۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہی۔
٥١۔ادارہ افکار جبریل کےسرپرست اعلیٰ ہیں۔ بزم جمال مصطفی کی محفلوں کا انعقاد کرتےہیں۔ والد محترم کےعلمی کام کی اشاعت میں بھرپور مددگار ہیں۔ والد محترم کےمزار مقدس پر ڈیوٹی دیتےہیں۔ عوامی فلاح و بہبود میں بھر پور زندگی گذاری ہی۔ اوکاسا نام کی تنظیم ہےجو روحانیت کےلئےکام کر رہی ہےاور اس کا ٹارگٹ یورپی ممالک میں قرآن حکیم کی سائنسی تعلیم کو پہنچانا ہی۔ بابا جی عنایت اللہ کی کتابوں کی اشاعت میں بھی وہ مددگار رہےہیں۔ اور اعوان قبیلےپر جو بھی ریسرچ ہوئی ہےان کےتعاون سےہوئی ہی۔محبت ان کی زندگی کا مقصد ہےاور خدمت انسانیت کےشیدائی ہیں۔ اس کےعلاوہ سینکڑوں کتابیں ادبی علمی اور سائنسی ان کےتعاون سےشائع ہو ئی ہیں۔
٥١۔ ادب کی تحریک و تخلیق و ترویج میں بھی ان کو بہت زیادہ دلچسپی ہی۔ بچپن میں شعر لکھےاور علامہ صاحب نےجب دیکھےتو ان کی بیاض کو آگ لگادی اور کہا کہ ایک گھر میں دو شاعر نہیں رہ سکتی۔ آپ سائنس پڑھیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نےآ پ سےکچھ کام لینا ہی۔ بدنصیبی کہ ایف ایس سی تک سائنس پڑھی بعد میں ناگفتہ بہ حالات ہو گئےتو آرٹس کی طرف متوجہ ہو گئی۔ لیکن اٹامک انر جی میں گئےتو وہاں اپنےسائنس دان اساتذہ سےایٹمی سائنس میں کافی مہارت حاصل کی اور اعلی سائنس اور ٹیکنالوجی کا مطالعہ کیا۔ البتہ دورانِ ملازمت شارٹ ہینڈ، اور آفس سےمتعلقہ کورس کئے۔ نوکری کےدوران تمام اعلی فوجی، سول، ایٹمی سائنس دانوں اور اعلی مذہبی سکالروں ، فقیرو ں ، درویشوں اور اولیائےکرام کی شفقت کےزیر اہتمام بہت کچھ سیکھا ۔ دوران ملازمت اعلی افسران کےلیکچرز، سپیچز، ٹاک وغیرہ لکھنےمیں مہارت حاصل کی ۔ اعلیٰ علمی و ادبی ۔ روحانی اور سائنسی شخصیات کےساتھ مل کر کام کرنےکا سلیقہ اور جذبہ حاصل کیا۔ بڑی بڑی سائنسی اور علمی شخصیات کےساتھ کام کرنےپر کافی سمجھ بوجھ حاصل ہوئی اور زندگی میں خلوص کا سبق بھی انہی لوگوں سےسیکھا۔ اور ساتھ ساتھ تعلیم میں جوکمی رہ گئی تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔ اس دوران کئی تحقیقی کتب شائع کروائیں اور ساتھ ساتھ ادبی کتب بھی شائع ہوئی۔ کئی ادبی تنظیموں سےوابستہ رہےاور ان کےاجلاسوں میں باقاعدہ شریک ہوتےتھی۔ اور ادبی ماحول کو بہتر سےبہتر بنانےمیں انہوں نےاہم کردار ادا کیا۔ بہت سارےادیب دوستوں کےساتھ ادبی کتب کی اشاعت پر ان کو مدد فراہم کی۔ ان کےوالد محترم نےبہت ساری تصانیف لکھیں جن کی اشاعت شوکت اعوان نےکیں اور اب بھی اسی میں لگےہوئےہیں۔ شوکت اعوان بنیادی طور پر ایک مذہبی اور فقیرصفت انسان ہیں اور انہوں نےدین متین کی بھرپور خدمت کی ہے۔سادہ زندگی اور اخلاص کا ایک پیکر ہیں۔ اور غریبوں ، مسکینوں، یتیموں اور بیواو¿ں کی مدد میں شامل حال رہتےہیں۔ لوگوں کی تعلیمی نظام میں مدد گار ثابت ہوئےہیں اور سینکڑوں لوگوں کو ملازمت دلوانےمیں اہم کردار ادا کیا ہی۔ جس کی وجہ سےپورےملک میں ان کا ایک خصوصی احترام موجود ہی۔ دنیا سےان کی تعلقی واجبی ہی۔ فقراءدرویش ، اور قلندرانہ مزاج رکھنےوالےاشخاص سےان کا دلی لگاو¿ ہی۔ لوگوں کی فلاح و بہبود کےلئےبےپناہ جدوجہد کی۔ یہی وجہ ہےکہ ان کےمحکمہ کےافسران بالا کےساتھ ساتھ سٹاف اور چھوٹا طبقہ بھی ان کو قدر کی نگاہ سےدیکھتا ہی۔ دوران سروس کلاسیفائڈ ڈاکومنٹس کو محفوظ رکھنےکا بھی تجربہ حاصل کیا اور ملک اور قوم کی حفاظت کرنےمیں سیکورٹی اداروں کا بھرپور تعاون کیا ۔ ملک پاکستان کےلئےہمیشہ دعائیں کی اور ملک و ملت کی بھرپور خدمت سرانجام دی۔
اخلاص و وفا کی سراپا تصویر، مجسمہءایثار قربانی علم و عمل کےراستےپر گامزن درویشی کا خرقہ اوڑھےہوئےملک شوکت محمود اعوان اپنی منزل کی طرف کشاں کشاں بڑھ رہےہیں۔ وہ اس قافلےکےصفِ اول کےسپہ سالاروں میں سےہیں۔ سر پر کفن باندھ کر تحریک تحفظ و استحکام پاکستان کےپلیٹ فارم سےابھر کر اسلامی جمہوریہءپاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کےلئےسرگرم عمل ہیں۔ ان کا منتہاءمقصود وطن عزیز سےنسلی ، علاقائی اور لسانی تعصبات کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ مغربی استعمار کی تیزی سےبڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع کرنا بھی ہی۔ وہ سر بکف مجاہد ہیں جو پاکستان میں اجلی اور روشن صبح جمہوریت کےطلو ع ہونےکےبھی منتظر ہیں۔ شوکت محمود اعوان ایک فرد ہی نہیں بلکہ ایک پورےعہد کا نام ہی۔ انہوں نےعمر بھر علم و آگہی کی جستجو کی ہی۔ حقائق و معارف تک رسائی ان کامقصدِ اولین قرار پاتا ہی۔ شوکت محمود اعوان نےاہل علم و ادب کےسامنےہمیشہ زانوئےتلمز تہہ کیا ہی۔ راولپنڈی اسلام آباد کےکسی بھی ادبی حلقےکا اجلاس ہو یا کسی معروف اہل قلم کےساتھ شام، شوکت محمود اعوان وہاں پہنچ جاتےہیں۔ آپ کےاپنےعہد کےمشاہیر علم و ادب سےگہرےقلبی روابط استوار رہےہیں۔ وہ علاقےبھر کےمذہبی راہنماو¿ں اور دانش وروں میں گھل مل جاتےہیں۔ تازہ آنےوالی کتابیںہمیشہ ان تک پہنچ جاتی ہیں۔ شوکت محمود اعوان نےقرطاس و قلم سےگہرا قلبی رابطہ استوار رکھا ہےجس نےان کی شخصیت میں توازن و اعتدال اور حسن و جمال پیدا کر دیا ہی۔ وہ اولیا ءاللہ اورفقرا کےساتھ ایک نسبتِ خاص رکھتےہیں۔ درویشوں سےیہ تعلق خاطر، انہیں دن بدن عجزو انکساری، تواضع و خدمت اور عبادت و ریاضت کےقریب تر لئےجا رہا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ وہ کھبکی ضلع خوشاب وادی سون سکیسر سےتعلق رکھنےوالےایک ممتاز شاعر، فلسفی، فقیر و درویش علامہ محمد یوسف جبریل کےفرزند ارجمند ہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل مسلم فقر کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ وہ اپنی گدڑی میں ایک ایسےلعل تھےجنکےلباس خاکی پر سنت رسول کی پیروی میں چودہ پیوند لگےرہتےہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل صوفیانہ مزاج کےحامل انسان تھی، ان کی زندگی کا مقصد اسلام کی نشاة ثانیہ اور طاغوتی نظام کا خاتمہ تھا۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی کتب میں نغمہءجبریل آشوب، سوز جبریل، فلسفہ تخلیق کائنات، اسلامی بم، اسلام کا معاشی نظام، سوئےمنزل، فقر غیور، سوانح حیات ، کن فیکون، چڑ یاگھر کا الیکشن کےعلاوہ کئی اور کتب بھی موجود ہیں۔ جو شوکت محمود اعوان نےاپنی زندگی میں شائع کیں۔
شوکت محمود اعوان نےاپنےوالد مکرم کےعلمی مشن کو آگےبڑھانےکی ذمہ داری لی ہی۔ اگر فقرا کےآستانوں، ذکر و فقر کی محفلوں، علمی مباحثوں اور فکری موضوعات پر گفتگو کےسیمناروں میں ایک ایسےشخص کو دیکھیں جس کےدائیں اور بائیں ہاتھ میں کتابوں کےتھیلےہوں گی۔ یا کاندھےپر کتابوں کا ایک ڈبہ اٹھائےہوں گی۔جو وہ لوگوں میں تقسیم کر رہا ہوتا ہےتو سمجھ لیں کہ و ہ شوکت محمود اعوان ہی ہی۔ قلم اور کتاب سےیہ رشتہ لائق صد تکریم ہی۔ کیونکہ ایسی کتابیں انسان کےفکر و نظر میں تغیر و تبدل پیدا کرکےمعاشرےمیں مثبت سوچ پیدا کرتی ہیں۔ علم کی ترسیل اور مسلم ثقافت کی آئندہ آنےوالی نسلوں میں منتقلی ہم سب کا مشترکہ مشن ہی۔ جسےدور جدید میں اکیلا شوکت محمود اعون ایک سو اسی کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے سرانجام دےرہا ہی۔ واضح ہو کہ یہ کتابیں درود شریف سےلےکر اسلامی انقلاب کی منزل تک کےراستےکی نشان دہی کرتی ہیں ۔ شوکت محمود اعوان اپنےوالد گرامی سےبےپناہ محبت کرتےہیں۔ وہ مسلسل محنت، لگن اور تگ و دو کےذریعےان کےعلمی مشن کےفروغ کےسلسلےمیں سرگرم علم رہتےہیں۔ شوکت محمود اعوان تحقیق الاعوان پاکستان کےجنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ اعوان قبیلےکی تاریخ مرتب کرنےکےسلسلےمیں نمایاں مقام رکھتےہیں۔ انہوں نےعلوی اعوان قبیلہ مختصر تعارف، اعوان تاریخ کےا ئینےمیں، اعوان گوتیں، اعوان ڈائرکٹری، تحقیق الانساب، نسب لعلویہ۔ سیادت علویہ، مشا¾ئخ عظام ،تاریخ سیادت علویہ، علوی اعوان شجرہءنسب، تاریخ الانساب کی ترتیب و تدوین میں مخلصانہ کوشش کے ذریعےگراں قدر مواد کی تلاش میں اہم کردار ادا کیا ہی۔ واضح ہو کہ وہ ایک مخلص اور بےلوث انسان ہیں۔ انہوں نےعلم دوستی ور اخلاص بےپایاں کےجذبےسےسرشار ہو کر مختلف محققین کےعلمی کام کےسلسلےمیں ان سے بھرپور معا ونت کی ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کےفرزند اور جانشین ہونےکےناطےسےان کےسینےمیں بھی ملت اسلامیہ کا درد بےپایاں ہی۔ علم وآگہی ، تحقیق و جستجو اور دانش و بینش انہیں صرف وراثت میں ہی نہیں ملی بلکہ شوکت محمود اعوان رفاہی و فلاحی کاموں میں بھی پیش پیش رہتےہیں۔ غرباء مساکین اور ضرورت مند نوجوانوں کےلئےعزت دار روزگار بہم پہنچاتےرہےہیں۔ ان کی مدد کرتےہیں۔ ہر سال عید میلاد النبی کےسالانہ جلوس کی قیادت بھی انہی کےسر رہتی ہی۔ وہ پاکستانی معاشرےمیں ایک مثبت تبدیلی کےخواہش مند ہیں۔ وہ یہ چاہتےہیں کہ پاکستان میں عدل و انصاف، مساو ات، معاشی استحکام اور اسلامی جمہوریت کا نظام آئی۔ شوکت محمود اعوان اہل قلم کےطبقےسےتعلق نہیں رکھتےاور نہ ہی انہوں نےآج تک کوئی مضمون لکھ کر ہی شائع کیا ہےالبتہ اب لکھنا شروع کیا ہےمگر ان کو ایک سوشل ریفارمر علم دوست اور زبردست محقق قرار دیا جا سکتاہی۔ شوکت محمود اعوان نےپورےپاکستان کےتمام اخبارات، رسائل، جرائید کےمکمل ایڈریسز اور رابطوں پر مشتمل ایک وقیع کام کیا ہےجس کہ وجہ سےملک بھر کےاہل قلم کی رسائی علمی ماخذات تک ممکن ہو گئی ہےوہ ایک وسیع ذخیرہ کتب رکھتےہیں اور علمی موضوعات پر مضامین و کتب کی تلاش ان کا مقصد وحید ہی۔ شوکت محمود اعوان حضرت سلطان باہو اور بری شاہ لطیف، داتا گنج بخ¿ش ، میاں محمد بخش ،میراں حسین زنجانی ،پیر مہر علی شاہ سےلےکر سائیں سہیلی سرکار، گھمگھول شریف، سیال شریف، چورہ شریف، میرا شریف، مکان شریف، شیخ داو¿د ، سائیں یوسف سرکار، بابا جی لعل شاہ سرکار، بابا سخی خوشحال بابا، بابا مقبول شاہ ، بابا محبوب عالم سرکار، کہوےوالا سون سکیسر خوشاب کےعلاوہ بےشمار گدیوں سےبےپناہ عقیدت رکھتےہیں اور وہاں حاضریاں دیتےہیں۔ فقرا ءکی ان پر خصوصی نظر ہےجس کہ وجہ سے انہیں متعد روحانی خلافتیں مل چکی ہیں۔ جن میں نوشاہی سلسلہ، سیفی سلسلہ سرفہرست ہیں۔ لاہور سےبابا فضل شاہ کی طرف سےبھی بابا جی وارث ڈاکٹر کی معرفت سےبھی ان کو وظائف و اوراد کی اجازت بالخصوص طور پر ملی ہی۔ شوکت محمود اعوان نےانہیں عظیم ہسیتیوں کےعلمی وروحانی مشن کےفروغ و ارتقا کا بیڑہ اٹھایا ہی۔ جس کےلئےپاکستانی قوم کےہر طبقےسےتعاون کی درخواست کی جاتی ہےکیونکہ جہاں کہیں سےبھی دام درم قدم سخنےمعاونت ہو گی وہ ان کےلئےتقویت کا باعث ہو گی۔ شوکت محمود اعوان میڈیا سےبھی وابستہ رہےاور عوامی مسائل پر ہزاروں کےقریب ان کےاخبارات میں خطوط شائع ہوئےجن میں عوام کےہر قسم کےمسائل پر گہرا مطالعہ کرنےکےبعد اس کےحل کےلئےپیش رفت کا اظہار کیا ہےاور اس طرح کئی مسائل حل ہوئےہیں۔ ان میں ڈاکٹر صابر علی اور پروفیسر اختر شاہ اور محمد عارف صاحب کی بھرپور معاونت رہی ہی۔ شوکت محموداعوان بابا جی عنایت اللہ جسےسلسلہءواصفیہ کےبزرگوں سےبےپناہ تعلق خاطر رکھتےہیں۔ جنہوں نےندائےوقت، صدائےوقت، چراغ وقت، بلائےوقت، ناد وقت، ساد وقت، جیسی شہرہ آفاق کتب لکھی ہیں ۔ جن پر بانو قدسیہ، اشفاق احمد، جنرل گل حمید صاحب، علامہ یوسف جبریل ، ڈاکٹر تصدق حسین صاحب جیسی ہستیوں کی آراءشامل ہیں۔ یہ تمام کتابیں شوکت محمود اعوان نےشائع کیں اور ان کی ترتیب کا فریضہ سر انجام دیا۔ اور پوری دنیا میں پھیلائیں ۔ بابا جی عنایت اللہ ، اشفاق احمد، واصف علی واصف ، بانو قدسیہ کےفکری منطقےسےتعلق رکھتےہیں۔ یہی وہ راستہ ہےجسےشوکت محمود اعوان ہمت مردانہ اور جرانت رندانہ سےطےکرنےمیں مصروف ہیں۔ یہ راستہ مخلوق کو خالق سےملانےاور انسانیت کی خدمت کا ہی۔ یہ شمع عشق رسول ہےجو دلوں کو ایمان کےنور سےروشن کرتی ہی۔ نفس اور شر کےخطرات سےبچاتی وساوس کو دور کرتی ہےاور صرط مسقیم پرچلانےمیں ممدو معاون ہوتی ہی۔ میرےمرشداور مربی حضرت قبلہ السید آصف علی زنجانی قادری سےبھی انہیں شرفِ ملاقات اور نیاز حاصل ہےاور ان کی بھی ان پر خصوصی نظر ہی۔ خد کرےکہ شعور وتہذیب کےسفر پرچلنےوالایہ مسافر ابدی حیات حاصل کرےاور اسےخداوند کریم عمر خضر عطا فرمائی۔ شوکت محمود اعوان جیسےلوگ معاشرےاور انسانیت کےلئےسرمایہ افتخار ہیں۔ تاریخ ضلع خوشاب اور اعوان قوم کو ہی نہیں پورےپاکستانی معاشرےکوان پر فخر ہی۔ ان کا تعارف اور علمی کارنامےتاریخ ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ جنہیں محفوظ رکھنےکی اولین ضرورت ہی۔
خدا کرےتم جیو ہزار برس ہر برس کےہوں پچاس ہار
اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو۔ امین۔
( محمد عارف ٹیکسلا)

 


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 83
    ماہنامہ ”شعوب “ میری نظر میں تحریر شوکت محمود اعوان مجھےماہنامہ شعوب کراچی پر قلم اٹھاتےہوئےطمانیت کا احساس ہو رہا ہی۔ میری نگاہوں کےسامنےوہ سارا زمانہ آ گیا جب میں اور ملک محبت حسین اعوان نےاعوان قبیلےکی تاریخ مرتب کرنےکا بیڑہ اٹھایا۔ مجھےوہ وقت کبھی بھی نہیں بھول سکتا کہ…
  • 81
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 79
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply