علامہ محمدیوسف جبریل لمحہءموجود کےدانش ور فلسفی تحریر محمد عارف

علامہ محمدیوسف جبریل لمحہءموجود کےدانش ور فلسفی
تحریر محمد عارف ٹیکسلا
علامہ محمد یوسف جبریل لمحہ موجود کےبالغ نظر دانشور ، فلسفی، دانائےملت، شاعر اور ادیب تھی۔ آپ نےاپنےرشحاتِ قلم کےذریعے نصف صدی تک امت مسلمہ کےحساس طبقےکو علم و دانش کی روشنی سےمنور کیا۔آپ نےمسلم مفکراور ایٹمی سائنس دان کی حیثیت سےعالم انسانیت کو ایٹمی جہنم سےبچانےکےلئےبھرپور جدوجہد کی ۔تاکہ روئےزمین کو جنگ کےبڑھتےہوئےخطرات سےپاک کرکےامن و آشتی کا گہوارہ بنا یاجا سکی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےقومی شاعر کی حیثیت سےنغمہ جبریل آشوب، سوز جبریل، نالہءجبریل اور خواب جبریل جیسی شہرہءآفاق شعری تصانیف قلم بند کیںجومعروف فلسفی شاعر حکیم الامت علامہ محمداقبال کےشعری اسلوب اور فکری تسلسل کا جیتا جاگتا شاہکار ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر نام نہاد ازموں اور الحاد و بےدینی کےبڑھتےہوئےطوفان کےخاتمےکےلئے”اسلام کا معاشی نظام“ کےعنوان سےایک مربوط مقالہ تحریر کیا۔سرسید احمد خان کی تحریک علی گڑھ کےمطالعےسےپتہ چلتا ہےکہ انہوں نےادب برائےزندگی کوباضابطہ طور پر پہلی دفعہ منصہءشہود پر لاکر تہذیب الاخلاق کےذریعےرو بہ زوال قوم کی اخلاقی حالت کو بہتر بنایااور مسلم قوم کو جدید سائنسی علوم سیکھنےپر آمادہ کیا۔ آپ نےتبین الکلام ،رسالہ اسباب بغاوت ہند، قول المتین فی ابطال حرکت زمین ، آئینِ اکبری، آثار الصنادید، تاریخ فیروز شاہی جیسی بلند پایہ علمی تصانیف کےعلاوہ قران حکیم فرقان مجید کی سائنسی اور عقلی تفسیر بھی صفحہءقرطاس پر منتقل کی ۔مسلمانوں کےنظام تعلیم کےمطالعےسےپتہ چلتا ہےکہ انہوں نےقران حکیم ، حدیث، تفسیر، اصول تفسیر، فقہ، اسلامی تاریخ اور قانون کواپنا جزو لاینفک بنایا۔ جس کی وجہ سےمسلمان اپنےعظیم علمی ورثےکو بہتر طور پر سمجھنےمیں کامیاب رہی۔ دینی مدارس کےنظام تعلیم میں اسلامی اصول و ضوابط کو اولین ترجیح حاصل ہی۔ لیکن یہ امر مقام افسوس ہےکہ علماءکرام جدیدعلوم اور سائنسی ایجادات سےکماحقہ واقفیت نہیں رکھتےجس کی وجہ سےہم بین الاقوامی افق پرتیزی سےہونےوالی تبدیلیوں اور برق رفتار مشینی زندگی کا ساتھ دینےسےقاصر ہیں۔ علامہ محمدیوسف جبریل بیسویں صدی کےنامور عالم دین، مسلم مفکر، محقق اعظم اور سائنسی بصیرت کےحامل پہلےدانشور تھےکہ جنہوں نےجدید عہد کےدور پرفتن میں علم الکلام ، فقہءاسلامی اور تقابل ادیان کو اپنےفکروفن کا مرکز و محور بنایا۔مغربی تہذیب کی چکا چوند اور مادیت کی شعلہ فشانی کو نعرہ ءجبریل سےنیست و نابود کرنےکےلئے اسلامی بم، ایٹمی جہنم بجھانیوالا قرانی فارمولا، فلسفہءتخلیق کائنات، بیکن دجال، علامہ اقبال ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ایٹمی جہنم، جیسی نادر و نایاب کتب اہل علم و دانش کےلئےپیش کرکےعلمی دنیا کو ورطہءحیرت میں ڈال دیا۔ یہ امر بہت کم لوگوں پر آشکاراہو گا کہ سرسید احمد خان کےبعد علامہ محمد یوسف جبریل نےپہلی دفعہ حطمہ کےمصادر و افعال اور ماخذات و منابع پرانگریزی زبان میںچودہ جلدیں لکھ کر سائنسی تشریحات و توضیحات کےذریعےاہل علم طبقےکی فکری رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایٹمی سائنس اور قران حکیم ان کااہم موضوع ہے۔ انہوں نےدنیا بھر کےدوسو سائنس دانوں کو خطوط کےذریعےایٹم اور اس کی تباہ کاریوں سےآگاہ کیا۔جن میں برٹرینڈ رسل، اینی مری شمل ،ایڈورڈ ٹیلر، اوپن ہیمر بھی شامل ہیں۔ علامہ محمدیوسف جبریل نےعقلیت پسندی کو اپنی تحریروں کےصوری اور معنوی حسن کاآلہءکار بنایا۔ آپ نےتحریک پاکستان، اسلامی تاریخ،جہاد، نظریہ ءپاکستان ، مسلم تصور قومیت، اسلام کا نظام عدل، اسلامی جمہوریت اور خلافت راشدہ،اسلامی نظام معیشت و معاشرت، عسکری نظام ، جیسےموضوعات پر انتہائی بصیرت افروز فکر انگیز مضامین تحریر کئی۔ جو ان کی وسعت علمی اور مدلل انداز بیان کےآئینہ دار ہیں۔ آپ کےمضامین میں سادہ اور عام فہم اسلوب ملتا ہےجوگہری فلسفیانہ سوچ، ہمہ گیر ابدیت و صداقت اورماورائےعصر مافوق الفطرت ، مابعد الطبیعاتی مباحث سےجنم لیتا اور بیک وقت عام قاری اور صاحبان نقد و نظر کےلئےیکساں اہمیت کاحامل ہی۔
علامہ محمد یوسف جبریل کےمطبوعہ اور غیر مطبوعہ مضامین کےنو جلدوں میں محفوظ ہیں جن سےان کےذہنی ارتقاءاور فکری گوشوں سےبدرجہ اتم آگہی حاصل ہوتی ہی۔ مضامین جبریل روح جبریل اور دل جبریل ہیں جن میں ان کےعلمی ا ور روحانی مشن کی طرف واضح اشارےہی نہیں ملتےبلکہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز میں ہمہ وقت رہنمائی کا سامان بھی موجود ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل ایک ایسےماہر نباض تھےکہ جنہوں نےمسلم قوم کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ
رکھااور اس کےروحانی عوارض کا تحلیل و تجزیہ کرکےتدارک اور اصلاح احوال کی تدابیر پیش کیں۔اسلامی جمہوریہ ءپاکستان کی خاطر طویل جدوجہد کا منتہاءومقصود یہ تھا کہ وطن عزیز میں اسلامی اقدار وروایات کا فروغ ممکن بنایا جاسکی۔ نظریہ پاکستان ایک ایسی قوت ہےکہ جس کےبل بوتےپر ہم اپنےقومی وجود اور نظریاتی تشخص کو برقرار رکھ سکتےہیں۔ اکھنڈ بھارت کا نام نہاد تصور پاکستانی قوم کےلئےزہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہی۔ مغربی قومیت اسلامی تصور قومیت سےسراسر جدا ہےاور دنیابھر کےمسلمان کلمہءتوحید کی بنیاد پر جسد واحد کےطور پر ابھر کر سامنےآتےہیں۔ اسلامی جمہوریہءپاکستان میں نسلی،علاقائی اور نسانی تعصبات نےملی وحدت کو پارہ پارہ کر دیاہی۔ لہذا روشن خیال اور اعتدال پسند دانش وروں کےلئےعلامہ محمد یوسف جبریل نےنظریہءپاکستان کےثقافتی عوامل کو زور وشور اور شدومد سےپاکستانی قوم کےتحت الشعور کالازمہ بنایا تاکہ حساس اور ذہین اہل علم و دانش پاکستان کی نظریاتی اساس کو درست فکری سمت میں متعین کریں ۔ کیونکہ بعض ترقی پسند عناصر وطن عزیز کی نظریاتی اساس کو کھوکھلا کرنےمیں مصروف عمل ہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےعلامہ محمد اقبا ل اور قائد اعظم کےپاکستان کو اپنےخوابوں کی سرزمین بنایااور اس کی تعمیر وترقی کےلئےنئی نسل کےاذہان و قلوب
میں حب الوطنی ، معاشرتی فلاح و بہبود، عدل وانصاف، قانون کےاحترام، مساوات انسانی، باہمی رواداری، عالم گیر محبت و اخوت، بنیادی انسانی حقوق کی آبیاری کی تاکہ ہم من حیث القوم ترقی یافتہ اقوام کےمقابلےمیں کھڑےہو سکیں۔
علامہ محمد یوسف جبریل آسمان علم و ادب کےوہ درخشاں ستارےتھےکہ جنہوں نےبیک وقت فلسفہ، نفسیات، مذہب، جدیدعلم الکلام ،اسلامی قانون، طب،شاعری اور سائنس پر تقریبا چالیس کےقریب کتب تحریر کیں جن میں سےابھی تک صرف چودہ زیور طباعت سےپیراستہ ہو سکی ہیں۔ آپ نےاردو،انگریزی، عربی، فارسی زبانوں میں اپنےافکار و خیالات بدرجہءکمال احاطہءتحریر میں سمو کر اپنی قادرالکلامی کابھرپور ثبوت دیا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کےفکر و فن کامطالعہ خصوصی اہمیت کاحامل ہی۔کیونکہ ان کی شاعری پر طائرانہ نظر ڈالنےسےیہ حقیقت اظہر من الشمس ہوجاتی ہےکہ وہ اپنےشعری اسلوب اور متنوع مضامین کےاعتبار سےعلامہ محمد اقبال کافکری پرتو معلوم ہوتےہیں۔ آپ کی شاعری کےفنی تجزیئےسےیہ امر بہ حسن خوبی مترشح ہوتا ہےکہ وہ علامہ محمد اقبال کےبلند آہنگ لب و لہجےکےانتہائی قریب ہیں۔علامہ محمدیوسف جبریل نےان کےفلسفہءخودی، مرد مومن، عقل و عشق، فقرواستغنائ، کو لمحہ ءموجود کےعبرت ناک ایٹمی انجام کےتناظر میں نئی تشریح و تعبیر سےناقدین ادب کو دعوت فکر دی ہی۔
مرےگلو میں ہےاک نغمہءجبریل آشوب
سنبھال کر جسےرکھا ہےلا مکاں کےلئے
علامہ محمدیوسف جبریل ایک ایسی نابغہءروزگار علمی و ادبی شخصیت تھےکہ جو مطلعءہستی پر صدیوں بعد طلوع ہوتی ہیں۔ آپ نےطاغوتی نظام اور دجالی قوتوں کی ریشہ دوانیوں کو نیست و نابود کرنےکےلئےایک مربوط لائحہ عمل تیار کیا اورعمر بھر اسلامی انقلاب کےلئےکوشاں رہے۔ علامہ محمدیوسف جبریل ایک ایسےخلوت نشین انسان تھےجو عمر بھر شہرت اور نام و نمود سےبےنیاز عصر حاضر کو تہذیب کےنئےدرندوں سےبچانےکےلئےسرگرم عمل رہی۔ آپ کی گراں مایہ علمی و ادبی تصانیف پاکستانی قوم کےلئےسرمایہءافتخار ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان جیسےاہم اداروں کا فرض ہےکہ وہ اپنےعہد کےاس بلند پایہ مسلم سکالر فلسفی اور سائنس دان کی غیر مطبوعہ تصانیف کی اشاعت کا فی الفوربندوبست کرےتاکہ دنیائےانسانیت کو ایٹمی جہنم کےتباہ کن اثرات سےبچایا جاسکےورنہ آئندہ آنےوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریںگی۔

 


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 84
    اجڑ سکےگی کسی سےنہ خانقاہ مری تحریر : محمدعارف ٹیکسلا راولپنڈی سےپشاور کی طرف آئیں تو پتھروں کےشہر ٹیکسلا سےچند قدم آگےایک چھوٹی سی مضافاتی بستی نواب آباد ہےجو صنعتی شہر واہ کینٹ کا ایک جزو لاینفک ہوتےہوئےبھی دیہات کی دلفریب فضا کا دلنشین رنگ لئےہوئےہے۔اس بستی کی آبادی بھی…
  • 78
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…
  • 77
    ایک نابغہء روزگار روحانی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل تحریر : محمدعارف پروفیسر سید اللطائفہ حضرت جنید بغدادی کو فقر کا منصب اس لئےعطا ہوا کہ انہوں نےاہلِ بیت کی تعظیم کی۔ فقراءاور اہل اللہ نےاپنی تعلیمات کو ساد ہ و آسان اسلوب میں ڈھال کر ہمیشہ پیش کیا…
  • 76
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 74
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 69
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 69
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…
  • 68
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 68
    نصب العین : علامہ محمد اقبال ، علامہ یوسف جبریل ، اور دیگر مفکرین و بزرگانِ دین کےاُفکار کی عام فہم انداز میں ترویج و اشاعت اغراض و مقاصد: ٭نوجوانوں کی فکری راہنمائی اور فکری بہبود کیلئےکام کرنا۔ ٭تعلیمی اداروں میں جا کر نصب العین کا پرچار کرنا۔ ٭نصب العین…
  • 67
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 67
    فقیر اخوندذادہ سیف الرحمان حنفی نقشبندی قادری چشتی سہروردی تحریر حافظ نبی گل جب بھی اسرارِ باطل نےسر اُ ٹھایا تو انوارِ خداوندی کی لازوال چمک ہی اس کےطلسم کو پارا پارا کرنےکا باعث بنی خیر و شر کا تصادم تو ازل سےجاری ہےمگر فیصلہ کن معرکےمیں فتح کامل ہمیشہ…
  • 66
    کیا پاکستانی ادب لمحہءموجود کی ضرورت ہے؟ تحریر محمدعارف ادب جغرافیائی حدود و قیود کا نام نہیں، بلکہ یہ ملکی سرحدوں کو عبور کرکےخطےکےجذبوں کو زبان عطا کرتا ہی۔ ادب پاکستانی نہیں ، ادب ایرانی نہیں، افغانی نہیں، انسانی ہوتا ہی۔ ہر ملک کی نظریاتی، جغرافیائی سرحدوں کو تحریروں میں…
  • 66
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 65
    خدا بانٹ لیا ہے تحریر : محمد عارف (ٹیکسلا) آجکل تھوک کےحساب سےچھپنےوالےشعری مجموعوں میں سےشاید ہی کوئی دل کو بھا جائےاور جذبات میں ہلچل بپا کرنےکا سبب ہو ۔کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ”خدا بانٹ لیا ہی“ بھی انہی میں سےایک ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پڑھتےہوئےملائمت، نرمی اور شگفتگی…
  • 64
    شعبہ جات شعبہ ریسرچ اینڈپلاننگ نوٹ: اصلاحی معاشرےکیلئےفلاحی ذہن کی ،فلاحی ذہن کیلئےذہن سازی کی،ذہن سازی کیلئےدلائل کی اور دلائل کیلئےتحقیق و مطالعہ کی ضرورت ہو تی ہے۔ ا)تحقیقی ایجنڈےکےمطابق مضامین اور کتابیں تیار کرنا اور نئےتحقیقی پہلوئوں کو اجاگر کرنا۔ ب)نصب العین سےمتعلق موضوعات پر کام کرنےوالوں کو ایک…
  • 64
    ”ادب دےنگینے“ تحریر: محمد عارف (ٹیکسلا) میاں محمد اعظم کا تعلق راولپنڈی سےہےجسےشاعروں اور افسانہ نگاروں کا شہر کہا جاتا ہی۔ میاں محمد اعظم نے”ادب دےنگینی“ کےعنوان سےحال ہی میں ایک خوبصورت شعری مجموعہ زیورِ اشاعت سےآراستہ کیا ہی، جس کا انتساب” پروفیسر زہیر کنجاہی صاحب “کےنام ہےجو راولپنڈی کےمعروف…
  • 63
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 63
    مسیحائےوقت“ کےبارےمیں صدائےزمان لاہور کےکالم تحریر : محمد عارف رائےمحمد اشرف صاحب کےروزنامہ ” صدائےزمان“ لاہور میں ” مسیحائےوقت“ کےنام سےجناب عنایت اللہ صاحب کا ایک کالم نظر سےگذرا۔ جناب عنایت اللہ صاحب محب وطن پاکستانی اور قومی نقطہءنظر کےحامل دانشور ہیں۔ جناب عنایت اللہ صاحب کی علمی تصنیف ”…
  • 62
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 62
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.
Copied!