علامہ محمد یوسف جبریل ،وادی سون اور انگریز کی نوکری تحریر شوکت محمود اعوان

علامہ محمد یوسف جبریل ،وادی سون اور انگریز کی نوکری
تحریر : شوکت محمود اعوان
جب تک انگریز دنیا کی سپر پاور بن کر دنیا پر حکمرانی کرتےرہی۔ تو ان کی مقبوضات میں شامل ہندوستان کا ایک کوہستانی علاقہ بھی ان کی فوج کےلئےایندھن کا کام دیتا رہا۔ یہ پنجاب کا شمالی علاقہ تھا۔ اور جس علاقےکا ذکر کیا جا رہا ہےوہ اس وقت کےضلع شاہ پور کا ایک علاقہ وادی سون سکیسر تھا۔ علامہ یوسف جبریل اسی علاقےکےایک گاو¿ں موضع کھبکی میں پیدا ہوئی۔ اور اس زمانےمیں اگر کسی نےکوئی سرکاری ملازم دیکھنا ہوتا تو وہ فوج کا سپاہی ہوتا تھا۔ یہ لوگ سالانہ چھٹیوں پر یا کئی سالوں کےبعد وادی سون میں آتےتو گھر والوں کےلئےاچھےاچھےکپڑےبچوں کےلئےاچھےاچھےکھلونےلاتےتھی۔ اور محلہ کےلوگ ان کےارد گرد آ جاتےاور بیٹھتےاور لوگ بہت خوش ہوتےاور رشک سےان فوجیوں کی طرف دیکھتی۔ لیکن وہ فوجی اندر ہی اندرسےکڑھ رہےہوتےتھی۔ ان کی کم تنخواہ اور پھر دوسرےممالک میں رہائش، اپنےوطن سےدوری اور پھر سب سےبڑا مسئلہ اسلام کےدشمنوں کےہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مسلمانوں ہی کو تہہ تیغ کرنا تھا۔ بظاہر لوگ ان کو بہت خوش نصیب سمجھتےتھےکیوں کہ اس زمانہ میںفوج کی نوکری بہت بڑی ملازمت سمجھی جاتی تھی کیوں کہ دوسری کوئی نوکری نہ تھی۔ لیکن یہ لوگ جوں توں کرکےکچھ دن وادی سون میں گزارتے۔ ان کی تنخواہ اٹھارہ روپےسےلےکر بیس روپےتک مقرر ہوتی تھی۔ اور یہ بہت بڑی تنخواہ سمجھی جاتی تھی۔ جب علامہ صاحب تعلیم کو خیر باد کہہ کر فوج میں بھرتی ہوئےتو گھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ ان کےساتھ گاو¿ں کےچند اور طالب علم بھی تھےجن کی وساطت سےگھر والوں کو یہ پیغام پہنچا کہ یہ لوگ افغانستان میں بھرتی ہو گئےہیں اور گھر والوں سےچھپ کر فوج میں بھرتی ہو گئےہیں۔ اور افغانستان چلےگئےہیں۔ علامہ صاحب کےدو بھائی ایک پولیس میں افسراور دوسرےگیریزن انجینئر بن گئی۔ دولت کی ریل پیل تھی۔ انہیں بھرتی ہونےکی قطعی ضرورت نہ تھی۔ بلکہ ان کےوالد محترم ملک محمد خان اعوان چاہتےتھےکہ جس طرح دوسرےبھائیوں نےتعلیم حاصل کی ہےاسی طرح اس چھوٹےبھائی کو تعلیم حاصل کرکےایک بڑا افسر بننا چاہیئی۔ محمد خان جس کا ابتدائی نام ملک میاں محمد تھا جو علامہ صاحب کا سوتیلا بھائی تھا۔ وہ ملک شیر محمد کا بیٹا تھا لیکن علامہ صاحب کےوالد محترم ملک محمد خان نےان کو تعلیم حاصل کروا ئی جب کہ اس کےوالد محترم ملک شیر محمد فوت ہو چکے تھی۔ اس یتیم بچےکی پرورش ملک محمد خان نےبڑی تگ و دو اور محنت و مشقت کےساتھ کی ،جس کی وجہ سےمیاںمحمد ولد شیر محمد (المعروف ملک محمد خان اورسیر) تعلیم حاصل کر گیا اور ساتھ ہی دوسرےبھائی ملک غلام محمد نےبھی تعلیم حاصل کر لی۔یہ دونوں بھائی بہت لائق تھی۔ لیکن ملک محمد یوسف بھاگ کر انڈین آرمی میں شریک ہو گیا اور پھر تعلیم سےمنقطع ہو کر اسےزندگی کےبہت بڑےمصائب اور آلام سےگذرنا پڑا۔ والد محترم یعنی ملک محمد خان اسی صدمہ سےجاں بحق ہو گیا۔ علامہ جبریل صاحب ساری زندگی اس دکھ کا اظہار کرتےرہےکہ اس کی نالائقی کی وجہ سےان کےوالد محترم (اس دکھ کی وجہ سی) جانبر نہ ہو سکےکہ اس کا ایک بیٹا نالائق نکلا ہی۔ محمد خان ولد فتح خان اپنی اولاد کو پڑھانا چاہتا تھا۔ اور گاو¿ں میں ان کےمقابلےپر چند ہی خاندان تھےجو تعلیم حاصل کرسکےاور بڑےبڑےعہدوں پر فائز ہوئےجن میں ملک عطامحمد ، ملک عطارسول، ملک بشیر عالم اوران کا خاندان اعلی عہدوں پر فائز ہوا۔ اور جس کا تذکرہ تاریخ میں بھی موجود ہی۔
علامہ صاحب گاو¿ں میں آتےتو بھی اپنی دنیا میں مست رہتی۔ لوگوں کو اس کا قطعی علم نہیں تھاکہ یہ نوجوان زمین پر چلتےہوئےزمین کو گھورگھور کر کیوں دیکھتا ہی۔ اس کی زندگی قطعی گاو¿ں کےلوگوں سےمختلف کیوں ہی۔ اور اس کی ساری توجہ علم پر اب کیوں مرکوز ہو چکی ہےجس نےابتدائی تعلیم کو خیر باد کہہ دیا تھا اور جس کی وجہ سےاسےاپنےعظیم باپ سےمحروم ہو نا پڑا۔یہ ایک لمبی داستان ہےاور اس کےلئےکافی وقت درکار ہی۔ گاو¿ں میں جو لوگ بھی فوج میں بھرتی ہوئےتو گھر والوں کےپاس مبارک دینےوالوں کا ایک تانتا بندھا رہتا۔ علاقےمیں غربت تھی۔ لوگ باجری، جوار اور مکئی کی فصلوں پر اپنا گزر اوقات کرتےتھی۔ بھیڑ بکریاں پالتےاور ضروریات زندگی کی کمی میں وقت گذارتی۔ کوئی چیز بھی خود کفیل نہ تھی۔ اس زمانےمیں جب فوجی گاو¿ں میں آتےتو اپنےاپنےبوڑھےوالدین اور بھائیوں کےلئےکمبل اور سویٹر لایا کرتےتھےاور یہ خاندان کےلئےبہت بڑا تحفہ سمجھا جاتا تھا۔ اٹھارہ سےبیس روپےتک تنخواہ لےکریہ سپاہی برطانوی فوج کےساتھ جنگوں میں شریک ہوتی۔ قید بھی ہو جاتےاور بعض اوقات لاپتہ بھی ہو جاتی۔ اگر کوئی قید یا قتل ہوجاتا تو خاندان اور علاقےمیں ایک کہرام مچ جاتا۔دور و نزدیک گاو¿ں سےلوگ اکٹھےہوتےاور اس ماتم میں شریک ہوتی۔ خاندان والےخوش ہوتےتھےجب ان کو کچھ رقم وصول ہوتی اور وفات کےبعد پنشن اور وظیفہ بھی غریب سپاہیوںکو مل جاتا تھا۔ بیوی پنشن پاکر آنسو پونچھ لیتی تھی اور بزرگ اس پنشن کا کچھ حصہ لےکر صبر و شکرادا کر لیتےلیکن علامہ صاحب رقم تو بھیجتےرہتی۔ البتہ پنشن نہ لےسکےاور یہ نوکری بھی ان کےلئےتبدیلی کا باعث بن گئی۔ انہیں برطانوی فوج میں غلامانہ زندگی بسر کرنےکا شوق پور ا نہ ہوا۔ بلکہ انہوں نےاحتجاجاََ بغاوت کا راستہ اپنا لیا اور انہیں افغانستا ن میں وانا اپریشن سےاٹھا کر بغداد میں مصیب کےگاو¿ں میں بھیج دیا گیا۔ جہاں پر ان کےدل کی آگ بہت تیز ہو گئی۔ اورانہیں کورٹ مارشل کا تمغہ نصیب ہوا۔ اور ساتھ ہی انگریز کےکاغذات میں ان کو” باغی سپاہی“ قرار دیا گیا۔ جس کی سزا سزائےموت تھی لیکن سزائےموت تو نہ ہوئی بلکہ چھ ماہ کی سزا ہوئی جس کےبارےمیں انہیں خواب میں حضرت پیران پیر غوث پاک نےبتا دیا تھا۔ اور یہیں سےان کی زندگی بدل گئی۔وہ انگریز کی غلامی اور اسلام اور مسلمانوں کےخلاف جارہانہ طریقہ کار برداشت نہ کر سکی۔انگریز میں دنیا پر حکمرانی کرنےکی صلاحیت موجود تھی اور انہیں ایسےلوگوں کی بہت ضرورت تھی جو کہ ان کی ہاں میں ہاں ملاتےجائیں ۔علامہ صاحب ان سےبہت کچھ حاصل کر سکتےتھی۔ انہیں اس دوران جرنیلی کا بھی (سپاہی سےجرنیلی ناقابل یقین ) عندیہ دیا گیا کہ اگر وہ انگریز کےخلاف بغاوت ختم کر دیں اور انگریز سےنباہ کر لیں تو ان کو جرنیل بنا کر بغداد سےہندوستان بھیج دیا جائےگا۔ اور وہ انگریز کےمقرر کردہ شاید پہلےہندوستانی جرنیل ہوں اور ان کو تمام سہولیات ملیں گی۔ لیکن علامہ صاحب نےیہ سب کچھ قبول نہ کیا اور جرنیلی کو بھی ٹھوکر مار کر اپنےلئےمصائب اور آلائم کا ایک نیا روحانی راستہ چن لیاجس پر وہ آخری وقت تک قائم رہی۔
پوری وادی سون سکیسر میں ایک ہائی سکول تھا۔ البتہ دیہات میں پرائمری سکول بھی موجود تھی۔جس کا فائدہ یہ تھا کہ لوگ آسانی سےان پڑھ آدمیوں کےمقابلےپر فوج میں بھرتی ہو جاتےتھی۔ اس زمانےمیں چند لوگ ایسےبھی تھےجو لمبی لبمی ڈانگیں اپنےپاس رکھتےتھےان پر جگہ جگہ نشان بنےہوئےتھے۔ یہ قد ناپنےکا آلہ کہلاتےتھی۔ جس سےوہ نوجوانوں کےقد ناپا کرتےتھی۔ چھاتی اور سینےکی پیمائش کےلئےان کےپاس درزیوں والا فیتہ ہوتا تھا اور اپنےگاو¿ں کےہر نوجوان کی بھرتی کی اہلیت کا انہیں علم ہوتا تھا۔ جب انگریز بھرتی کرتا تھا تو یہ نمائندہ گاو¿ں کےجوانوں کو لےکر پہنچ جاتا اور یہ آدمی انگریزوں کا نمائندہ کہلاتا تھا۔ ان سےمفاد حاصل کرتا تھا۔ اور نمبرداری کا نظام انہیں لوگوں کو ملا اور بعد میں انگریزوں نےانہیں ہندوستان اور پاکستان میں بڑی بڑی زمینیں مفت میں الاٹ کیں۔ بڑےبڑےمربعےان کو الاٹ ہوئی۔ اور اب ان کی اولادیں پارلیمنٹ میں بیٹھی ہیں اورساتھ ساتھ بڑےبڑےعہدوں پر فائز ہیں، یہ لوگ ملک کی تقدیر کےمالک بن چکےہیں۔ البتہ نوجوانوں میں چند ایک لوگ بھرتی ہو جاتےتھے۔یہ لوگ سپاہی بھرتی ہوتی، بعد میں حوالدار سےہوتےہوتےخوش نصیب صوبیدار ی تک پہنچ جاتےیہ لوگ جب واپس گاو¿ں ریٹائر ہو کرآتےتو سابقہ فوجی عہدوں کی وجہ سےگاو¿ں میں قابل دید شخصیت اور قابل اعتبار اور معتبر شخصیت بن جاتیں اور عوام میں فیصلےکرنےوالےجج بن جاتی۔ اور ان کےفیصلےگویا کہ عدالتی فیصلےہوتےتھی۔ البتہ صوبیدار کو فوجی افسر کہا جاتا تھا۔اور مقامی لوگ ان کو اپنی اپنی بیٹھکوں میں نہایت عزت کےساتھ بٹھاتےاور اس زمانےمیں چائےجو بہت مہنگی مشروب تھی سےان کو نوازا جاتا۔ وادی سون کی زندگی اسی طرح گذر رہی تھی اور ان فوجیوں کو دیکھ کر بہت سارےنوجوان فوجی بننےکےلئےتیار ہو جاتےاور اپنےوطن وادی سون کو خیر باد کہہ کر برطانیہ کی لگائی ہوئی کسی جنگ میں الجھ جاتی۔ برطانوی جنگ کی زندگی پر علامہ صاحب نےاپنی کتاب” فقر غیور“ میں بہت کچھ لکھا ہی۔ اور انگریز کی غلامی میں کی گئی نوکری کےتمام حالات لکھےہیںَ ۔یہ کتاب پہلےفارسی میں لکھی گئی بعد میں اس کا ترجمہ اردو میں ہوا اردو نہایت ثقیل لہجےمیں تھی۔” فقر غیور“ میں علامہ صاحب نےافغانستان اور بغداد میں پیش آنے والےسارےحالات و واقعات لکھےہیں ۔ اور اکا دکا فوجی ان میںلیفٹیننٹ بھی بھرتی ہونےلگی۔ اور جب کوئی میجر بن جاتا تو گویا کسی دوسری دنیا کا باشندہ سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں انہیں میں سےکچھ برگیڈیئر اور جرنیل بھی بنےتاہم ان کو دیکھ کر مقامی نوجوانوں میں یہ کشش پیدا ہوئی اور وہ بھی بڑا افسر بننےکےشوق میں اپنےملک کو خیر باد کہہ کر برطانیہ کی فوج کےسنگ سنگ افغانستان اور بغداد تشریف لےگئے۔علامہ صاحب بھی فوری افسر بننےکےخواہش مند تھی۔ لیکن جب افغانستا ن میں مسلمانوں کی پستی اور دشمن کےسامنےشکست خوردگی اور اسلام کی بےحرمتی اپنی آنکھوں سےدیکھی تو وہ یہ سب کچھ برداشت نہ کرسکی،اور ان کےدماغ میں جنم لینےولا افسر وہیں مر گیا اور افسری کےساتھ ساتھ افسر شاہی کےنشان قدرت نےمٹا کر رکھ دیئی۔ حقیقت یہ ہےکہ علامہ صاحب بہت قابل انسان تھے۔انگریزی، عربی اور فارسی کےماہر زبان تھی۔ جلد ہی انہوں نےفوجی علوم پر بھی قابو پا لیا۔ اور انگریز انہیں جرنیل بنانےکی نہ صرف پیش کش کر رہےتھےبلکہ ان کےلئےفیتےبھی منگوا لئےگئےلیکن علامہ صاحب نےانگریز کی جرنیلی کو ٹھوکر ماردی۔ اس موقع پر ان کےہندو اور سکھ دوستوں اور بالخصوص مسلمانوں نےکہا کہ آپ جرنیلی کا انکار کرکےاپنےپاو¿ں پر کلہاڑی مار رہےہیں۔ جذبات سےدور ہو کر سوچیں ۔یہ بہت بڑا انعام ہےجو آپ کو دیا جا رہا ہی۔ سپاہی سےجرنیل بنانےکا رواج کہیں بھی دنیا میں نہیں ہےاور اب انگریز آپ سےخوش ہیں اور آپ کو اس سےبڑی نعمت کہاں سےملےگی اور ہندوستان کا نام بھی روشن ہو گا اور ہندوستان میں بھی آپ کی قدر و قیمت ہو گی۔ لیکن علامہ صاحب نےتمام نعمتیں بالائےطاق رکھ کر جرنیلی کو ٹھوکر مار دی اور کورٹ مارشل ہونےکےساتھ ساتھ انگریز فوج کو ہمیشہ ہمیشہ کےلئےخیر باد کہہ دیا۔ انگریز کی خواہش تھی کہ مسلمان ان کےہاتھ میں ایک سدھائےہوئےگھوڑےکی طرح زندگی گزاریں اور وہ ہمارےمقاصد پر عمل کرتےہوئےہماری حکمرانی کو بڑھاتےجائیں۔انگریز اپنی حکومت کو وسیع سےوسیع تر کرنا چاہتا تھا۔ اور مسلمانوں کو وہ مسلمانوں کےخلاف ہی استعمال کرنا چاہتا تھا۔ اور یہی پالیسی آج بھی اس کی قائم ہی۔ لیکن تباہی کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ انگریز کو مسلمانوں میں ہی سےغدار مل جاتےتھےاور یہ غداری انفرادیت سےہوتےہوئےاجتماعیت پر بسلسلہ ڈالروں کےلالچ میں آ کر ختم ہو جاتی ہےاور وہاں جو لوگ بکتےہیں ان کو مسلمان بھی بھلا دیتےہیں کیوں کہ وہ خود بھی اسی لائن میں کھڑےہوتےہیں۔ جہاں دوسرےاحباب ڈالروں کےحصول کی خاطر لائن میں لگےہوتےہیں۔ علامہ صاحب نےانگریز کےخلاف بغاوت کی تو یہ بغاوت افغانستان سےہوتی ہوئی تمام مشرق وسطی میں پھیل گئی۔ اور انگریز کو مجبورا سپاہی محمد یوسف کو نوکری سےبرخواست کرنا پڑا اور علامہ صاحب اپنی نئی منزل کےلئےتیار ہو گئے۔ ان کا پہلا امتحان کامیاب ہوا وہ مسلمانوں کےدوست اور انگریز کےباغی قرار دیئےگئی۔ نہ بکےاور نہ ہی انگریز کےسامنےجھکےاور آگےخدائی انعام کےلئےتیار ہو گئی۔ فوج میں علاقائی اور ضلعی تعصب اور مذہبی تعصب بہت ہوتا ہی۔ انگریز کی ایک پالیسی یہ بھی تھی کہ وہ فوجیوں میں ایسےتعصبات جان بوجھ کر پیدا کرتا تھا ۔ اور جنگوں میں انہیں ایک دوسرےپر سبقت لےجانےپر اکساتا تھا ورنہ انگریز کےلئےکون جان دیتا۔ فوج کی یہ پرانی رورایت اگرچہ ختم نہیں ہوئی اور ابتک یہ روایت جاری ہی۔ انگریز برصغیر سےچلا گیا لیکن فوج میں امریکی سٹائل چھوڑ کر گیا۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 75
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…
  • 74
    وادی سون کا قدرتی ماحول تحریر شوکت محمود اعوان وادی سون کا ماحول ایک قدرتی ماحول ہی۔ جہاں جنگل، پربت وادیاں، ندیاں، نالی، جھیلیں، درختوں کےجھنڈ، آبشاریں، لہلہاتی فصلیں، جنگلی جانور، جنگلی بوٹیاں موجود ہیں۔ یہاں پر جنگلی حیات بھی موجود ہےجو کہ قدرت کی صناعی کےحسین ترین مظاہر میں…
  • 72
    وادی سون (م ش) wadi soon a column by meem sheen nawaiwaqt lahore produced by shaukat mehmud awan general secretary adara tehqiqul awan pkistan سرگودھا ڈویژن میںاعوان کاری میں ایک ایساعلاقہ بھی شامل ہےجوقران کریم کےحفاظ کی تعداد کےلحاظ سےشاید سارےعالم اسلام میں اولیت کا دعویدار کہلا سکتا ہی۔ اس…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply