علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف

علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث
تحریر محمدعارف
علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔ قدرت کاملہ نےعلامہ اقبال کو وہ ارفع و اعلیٰ ادبی مقام عطا کیا ہے۔جس بلند تر منصب تک کسی کی رسائی بھی ممکن نہیں۔ فکر اقبال کےتسلسل میں علامہ محمدیوسف جبریل کی قومی شاعری پر نظر ڈالنےسےپتہ چلتا ہےکہ وہ اسلامی تاریخ ،تہذیب مغرب، فتنہءدجال اور عصر حاضر کی سائنسی تباہ کاریوں جیسےموضوعات پر بلند آہنگ خطابیہ لہجےمیں قلم اٹھاتےہیں۔ وہ اپنی شاعری کی اساس فکراقبال پر استوار کرتے،خاک مدینہ و نجف کو اپنی آنکھ کا سرمہ بناتےاور فتنہ دور یہودی کی ہلاکت وبربادی کا سامان بہم پہنچانےکی کدوکاوش میں مصروف نظر آتےہیں۔ وہ لمحہءموجود میں دجالی قوتوں کی ہرزہ سرائیوں کو تہس نہس کرنےکےلئےبرسرپیکار ہیں، جو مغربی فلسفی فرانسس بیکن کےمادی فلسفےکو اپنےبطون میں جذب کرکےامت مسلمہ کےقومی تشخص، ملی غیرت اور عزت و وقار کو صفحہءہستی سےنیست و نابود کرنےکی ناپاک کوشش میں مصروف ہیں۔ آج کا اہل علم طبقہ مشرق و مغرب کےعلمی خزانوں کی حکمت و دانش سےاپنےدامن مرادکوبھرنےکی سعی میں روحانی بالیدگی، تقوی، فکر آخرت اور تعمیر سیرت و کردارسےمحروم ہو کر الحاد و بےدینی اور تقلید مغرب کی روش پر چل نکلا ہی، لہذا علامہ محمدیوسف جبریل نئی نسل کو جھنجھوڑتےاور بیدار کرتےہیں کہ وہ سر پر کفن باندھ کر اٹھےاور سائنسی علوم و فنون کو اسلامی افکار و نظریات کی روشنی میں جانچے، پرکھے۔ علامہ محمد یوسف جبریل خبردار کرتےہیں کہ مغربی الیکٹرانک میڈیا اور فخاشی و عریانی کےبڑھتےہوئےسیلاب نےہمیں قرون اولی کےمسلمانوں کی سادگی، سچائی ، امانت ، دیانت اور صداقت کےاوصاف سےمحروم کرکےکفر و شرک کی معصیتوں میں مبتلا کردیا ہی۔ مسلمان نوجوان یہ سمجھنےسےقاصر ہےکہ ہندوانہ ثقافتی یلغار اور اقوام مغرب کی ریشہ دوانیاں اسےخواب غفلت کی میٹھی نیند سلا کر قران حکیم کی تعلیمات ، جذبہءجہاد، اور حسن عمل سےدور کرنےکےلئےرونما ہو رہی ہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل ہمیں بار بار متنبہ کرتےہیں کہ یہ مادہ پرستی کا دور پرفتن ہے۔ مادہ پرستی نےروحانی اقدار کا خاتمہ کردیا ہے۔جس کی وجہ سےہم سب تن پروری کو اپناشعار بنانےمیں دن رات لگےہوئےہیں۔ بقول علامہ اقبال
من کی دنیا ہاتھ آتی ہےتو پھر جاتی نہیں تن کی دنیا چھاو¿ں ہےآتا ہےدھن جاتا ہےدھن
اپنےمن میںڈوب کر پا جا سراغ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات تو جھکا جب غیر کےآگےنہ تن تیرا نہ من
علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال کی فکری و فنی کاوشیں مسلم امہ کی نشاة ثانیہ کےلئےکی گئی کاوشیں ہیں۔ مگر یہ ایک بدیہی حقیقت ہےکہ علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنےمخصوص ادبی اسلوب میں قوم کےدل میں ملی جوش و جذبہ اجاگر کرنےکی سعی پیہم کی ہی۔ تاکہ وہ اپنےحقیقی نصب العین کو سمجھی۔ علامہ محمداقبال کےقومی موضوعات کےتتبع میں دو سواشعار پرمشتمل طویل نظم ”نغمہءجبریل آشوب“ پڑھتےہوئےکہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ محض فکر اقبال کےتسلسل میں ہی قوم کی ذہنی آبیاری کےعمل میں مصروف ہیں۔بلکہ علامہ محمد یوسف جبریل کی قومی شاعری میں موجود ان کی تشبیہات ، استعارات، تلمیحات اور مخصوص شعری آہنگ تک ان کی فکر بلیغ گہری دینی بصیرت ، عصر حاضر پر نظر عمیق سےپھوٹتا ہی۔ جو عطیہ ءخداوندی ہی۔ ورنہ علامہ اقبال جیسےقدآور عظیم فلسفی شاعر کےاسلوب کی تقلید دراصل کار دشوار ہی۔ یہی وجہ ہےکہ 1938 ءکےبعد سےلےکر اب تک کی قومی شاعری کےمطالعےسےکوئی ایک بھی ایسا مضبوط اور توانا شاعر نظر نہیںآتا، جس نےقوم کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ بھی رکھا ہو اور وہ تکرار، توارداورکلیشےکی زد میں نہ آیا ہو ۔ مگر کمال یہ ہےکہ علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری اپنی جداگانہ ادبی شناخت اور موضوعاتی تنوع کےاعتبار سےادبی دنیا میں ممتاز مقام حاصل کرنےکا حقدار قرار پاتی ہی۔
علامہ ابن خلدون نےایک جگہ لکھا ہی۔ کہ جب ایک قوم دوسری قوم پر غالب آتی ہےتو یہ غلبہ صرف سیاسی اور ظاہری برتری کا نہیں ہوتا بلکہ حاکم قوم کی حکومت دلوں اور دماغوں پر بھی مسلط ہو جاتی ہےاور اخلاق و تہذیب اور مذہب میں بھی حاکم قوم کےخیالات محکوم قوم کےخیالات پر غالب آ جاتےہیں ۔تقلید یورپ کامسئلہ مصطفی کمال پاشااور امیر امان اللہ خان کی کوششوںسےاب بہت نمایاں صورت میں مسلمانوں کےسامنےہےاور ایسا معلوم ہوتا ہےکہ ظاہر پرستی اور کورانہ تقلید کا جو سبق بعض کم فہم ملادیا کرتےتھےآج شیدائیان فرنگ بھی اس کو راہ اصلاح سمجھتےہیں اور آنکھیں بند کرکےمغرب کی ظاہری تقلید پر زور دےرہےہیں۔ اقبال کو شکایت ہےکہ ان راہبروں نےضروری اور غیر ضروری چیزوں میں تمیز نہیں کی اور جندل کو عود سمجھ کر غلط راستےپر جا رہےہیں۔
قوت مغرب نہ از چنگ و رباب نےزرقص دختران بےحجاب
نےنہ سحرساحرانہ لالہ روست نےزعریاں ساق داز قطع موت
محکمی ورانہ از لادینی است نےفروغش از خط لاطینی است
قوت افرنگ از علم وفن است از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قع او برید جامہ نیست مانع علم و ہنر عمامہ نیست
اندریں راہ جزو نگہہ مطلوب نیست ایںکلہ یا آں کلہ مطلوب نیست
فکر چالاکےاگر داری بس است طبع دراکےاگر داری بس است
مصطفی کمال پاشا کی بلند بانگ مجددانہ کوششوں کی نسبت اقبال لکھتا ہی۔
مصطفی کو از تحددمہ سرود گفت نقش کہنہ را باید ربود
نونگر دوکعبہ را رخت حیات گرز افرنگ آیدش لات و منات
ترک را آہنگ نو در چنگ نیست تازہ اش جزکہنہ افرنگ نیست
مغربی تہذیب کی سطحی اور رسمی تقلید کےمتعلق اقبال کا جو نکتہ نظر ہےوہ مندرجہ بالا اقتباسات سےظاہر ہے۔لیکن اس کےباوجود یہ بتا دینا ضروری ہےکہ اقبال ہمارےچند بااثر بزرگوں کی طرح قدامت پرست نہیں۔ وہ مغرب کی کورانہ تقلید کامخالف ہی۔ لیکن اچھی چیزیں اخذ کرنےمیں کوئی نقص نہیں رکھتا بلکہ حالات زمانہ کےمطابق اسےضروری سمجھتا ہی۔ یہ صحیح ہےکہ اقبال نےمغرب پر سختی سےنکتہ چینی کی ہی۔اس کی ایک کتاب’ ضرب کلیم“ کا سب ٹائیٹل ہے۔” اعلان جنگ دور حاضر کےخلاف“۔ اور اس کےکلام میں اسطرح کےکئی اشعار موجود ہیں ۔
دیار مغرب کےرہنےوالو خدا کی بستی دکاں نہیں ہی کھرا جسےتم سمجھ رہےہو وہ اب زر کم عیار ہو گا
تمھاری تہذیب اپنےخنجر سےآپ ہی خود کشی کرےگی جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنےگا ناپائیدار ہو گا
لیکن باوجودیکہ کلام اقبال میں کئی ایسےاشعار ہیں جنہیں قدامت پرست حلقےاپنےخیالات کو آب و رنگ دینےکےلئےپیش کرتےہیں۔ اور اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ اقبال اپنےماحول اور اس ردعمل سےجومغرب کےخلاف بیسویں صدی کےربع اول میں جاری ہواتھا ۔اثر پذیر ہوا۔ علامہ محمد یوسف جبریل بھی اقوام مغرب کی علم دوستی ، تحقیق و جستجو کےزبردست مداح ہیں مگر وہ علامہ اقبال کی طرح تہذیب مغرب کےمادی پہلوو¿ں پر کڑی تنقید کرتےہیں۔ وہ روئےارض کو بہشتی معاشرہ بنانےکےساتھ ساتھ فکر آخرت پر بھی زور دیتےہیں تاکہ بنی نوع انسان زرو مال و جواہر اکٹھےکرنی، بینک بیلنس، عالی شان عمارات، اقتدار و سلطنت ، قوت جاہ و حشمت کی اسیرہی نہ ہو کر رہ جائی۔ وہ جدید مغربی معاشرت کو دجال کےفتنےسےتعبیر کرتےہیں۔
مولنا مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت میں رقمطراز ہیں کہ قیامت کی نشانیوں میں سےایک یہ ہےکہ دجال ظاہر ہو گا۔ اس کا فتنہ بہت شدید ہوگا۔ ایک باغ اور ایک آگ اس کےہمراہ ہوں گی۔ جن کا نام جنت و دوزخ رکھےگا، جہاں جائےگا یہ بھی جائیں گی مگر وہ جو دیکھنےمیں جنت معلوم ہوگی۔وہ حقیقتا آگ ہو گی۔ اور جو جہنم دکھائی دےگا وہ آرام کی جگہہ ہو گی اور وہ خدائی کادعوی کرےگا ، جو اس پر ایمان لائےگا اسےاپنی جنت میں ڈالےگا۔ اور جو اس کا انکار کرےگااسےجہنم میں داخل کرےگا۔مردےجلائےگا۔ زمین کو حکم دےگا وہ سبزےاگائےگی ۔ آسمان سےپانی برسائےگا اور ان لوگوں کےجانور لمبےچوڑےخوب تیار اور دودھ والےہو جائیں گےاور ویرانےمیں جائےگا تو وہاں کےدفینےشہد کی مکھیوں کی طرح دل کےدل اس کےہمراہ ہو جائیں گے۔ کسی قسم کےبہت سےشعبدےدکھائےگا۔ اور حقیقت میں یہ سب جادو کےکرشمےہوں گے۔ اور شیاطین کےتماشے۔ جن کو واقعیت سےکچھ تعلق نہیں ۔ اسی لئےاس کےوہاں سےجاتےہی لوگوں کےپاس کچھ بھی نہیں رہےگا۔
علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری کےمضامین و موضوعات سےیہ پتہ چلتا ہےکہ موجودہ مغربی معاشرےکی وضع قطع ،اور اس کےتہذیبی و ثقافتی خدوخال میں فتنہءدجال کی یہی تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ لہذا امت مسلمہ کو ان جھوٹےنگوں کی ریزہ کاری سےمتاثر ہونےکی بجائے قران و سنت کی تعلیمات سےآگاہی حاصل کرکےان پر عمل پیرا ہونا چاہیئی۔ تاکہ وہ اپنی قابل فخر تہذیب کو اپنا سکی۔
خلق عیار کےدھوکےمیں گرفتار ہوئی جھوٹےدجال کےجادو میں نگوں سار ہوئی
سحرِ کذاب ستم گر میں جو گفتار ہوئی نشہءحرص کی شدت میں ہوس کار ہوئی
بانورےگرگ ہیں دیوانےہوئےپھرتےہیں لئےکفگیر دہاں تانےہوئےپھرتےہیں
حضرت علامہ محمد اقبال نےسرمایہ و محنت کےموضوع پر شہرہ آفاق نظم لکھی۔ وہ قران و سنت کےتابع رہ کر معاشی جدوجہد کےقائل تھی۔ وہ جاگیردارانہ سماج کےجبر و تسلط پر کاری ضرب لگاتےاور معاشی ناہمواریوں کو تہ خاک کرتےنظر آتےہیں۔
عصر حاضر ملک الموت ہےترا جس نی قبض کی روح تری دےکےتجھےفکر معاش
جس کھیتی سےدہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کےہر خوشہ گندم کوجلا دو
حضرت محمد یوسف جبریل نےآج کےفتنہ انگیز دور میں بنی نوع انسان کی ہوس کاری اور حب جاہ و مال کو بطور خاص موضوع بنایا ہی۔ وہ ہمیں قران حکیم کےاس ابدالآباد پیغام کی طرف متوجہ کرتےہیں کہ یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہی۔ وہ اپنےاشعار کےعمیق مطالعےاور گہرےفنی تجزیےسےایک ایسےصوفیءکامل اور مرد درویش نظر آتےہیں جو مال و متاع دنیا کو ہیچ سمجھتےہوئےسوز ایمان و ایقان کےدعوےدار ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتےہیں کہ یہ دفینےزیر خاک دفن ہو جائیںگےاور موت عنقریب ہمارےتعاقب میں ہی۔ فنا کا موضوع صوفیوں اور جوگیوں سےعبارت ہی۔ اردو کےمعروف شعراءنظیر اکبر آبادی، خواجہ میر درد، میر تقی میر،علامہ محمداقبال ،مرزا اسداللہ غالب اور اصغر گونڈوی نےبھی اس مضمون کو بحسن و خوبی نبھایا ہی۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
موت کیا آ کےفقیروں سےتجھےلینا ہی۔ موت سےپہلےہی یہ لوگ تو مر جاتےہیں
(درد)
موت اک ماندگی کا اک وقفہ ہے یعنی آگےچلیںگےدم لےکر
(میر تقی میر)
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیاصورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
(غالب)
جو زندہ ہےوہ موت کی تکلیف سہےگا جب آحمدمرسل نہ رہےکون رہےگا
(میر انیس)
وہ آج کےعہد ناپرساں میں عوام و خواص ہردو کی مادی جدوجہد اور کاوش پیہم کو روحانی ارتقاء،تزکیہ باطن کےذریعےمتوازن کرنےکےخواہش مند ہیں۔ وہ فتنہ یہودیت کو ختم کرنےکےلئےحضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سی شجاعت، ہمت، جرات اور استقامت و پامردی پیدا کرنےکی ضرورت پر زور دیتےہیں۔ وہ شب بیداری، آہ سحرگاہی ، ایمان بالقلب اور مسلم فقر کی خصوصیات کےذریعےاس عہد کےنامساعد حالات اور یورپی استعمارکا مقابلہ کرنےکا شعور و احساس پیدا کرتےہیں۔ وہ امت مسلمہ کےلئےچشم بصیرت ، روحانی علوم کی تحصیل اور مادہ و روح کےتوازن پر نظر ضروری قرار دیتےہیں۔ وہ مسلمانوں کو مادی ترقی اور ایٹمی ہتھیاروں پر بھروسا کرنےکیبجائےقوت ایمانی سےکام لینےپر آمادہ کرتےدکھائی پڑتےہیں۔ ان کا یہ سوز دروں دراصل علامہ محمداقبال کےسوز و ساز رومی اور پیچ و تاب رازی کا فکری تسلسل ہی۔ ماخذات
(١) موج کوثر شیخ محمد اکرام (٢) بہار شریعت مصنفہ مولنا مفتی امجد علی اعظمی (٣) نغمہءجبریل آشوب علامہ محمدیوسف جبریل

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 80
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 79
    خدا بانٹ لیا ہے تحریر : محمد عارف (ٹیکسلا) آجکل تھوک کےحساب سےچھپنےوالےشعری مجموعوں میں سےشاید ہی کوئی دل کو بھا جائےاور جذبات میں ہلچل بپا کرنےکا سبب ہو ۔کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ”خدا بانٹ لیا ہی“ بھی انہی میں سےایک ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پڑھتےہوئےملائمت، نرمی اور شگفتگی…
  • 78
    نصب العین : علامہ محمد اقبال ، علامہ یوسف جبریل ، اور دیگر مفکرین و بزرگانِ دین کےاُفکار کی عام فہم انداز میں ترویج و اشاعت اغراض و مقاصد: ٭نوجوانوں کی فکری راہنمائی اور فکری بہبود کیلئےکام کرنا۔ ٭تعلیمی اداروں میں جا کر نصب العین کا پرچار کرنا۔ ٭نصب العین…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف

  1. علامہ محمدیوسف جبریل اور میں
    تحریر محمد عارف ٹیکسلا
    قسام ازل نے ابتدائے آفرینش ہی سے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ عالمِ بالامیں جن روحوں نے ملنا قرار پایا ، دنیا میں آکر ضرور ملتی ہیں۔ میں اوائلِ عمری ہی سے تصوف اور روحانیت کا ادنیٰ سا طالب علم رہاہوں۔ شاید اس میں میرے حلقہء احباب کی صحبتوں کا اثر بھی ضرور ہو مگر اصل بات یہ ہے کہ میرے خمیر میں حقیقت کی تلاش ، تزکیہء باطن اور خدا اور رسول ﷺ تک رسائی کی خواہش خود بخود موجود تھی۔ یہ بے چینی ، تڑپ، اضطراب اور کربِ مسلسل مجھے ایک غیر مرئی طاقت کی جستجو پر آمادہ کرتا رہا۔ میں ماورائے فکر جہانوں اور ابد الابادزمانوں کے لئے سوچتا ، کڑھتا اور اندر سے پگھلتا رہتا ۔ نادِ علی علیہ السلام کا وظیفہ خود بخود وردِ زباں آتا گیا ۔ درودشریف بھی پڑھنے کی سعادت ملی۔ درویشوں اور فقیروں کی صحبتوں سے بھی فیض اٹھایا۔ میں نہیں جانتا کہ علامہ محمد یوسف جبریل سے میری ملاقات کہاں ہوئی؟ البتہ مجھے یاد ہے کہ میں اس زمانے میں غالباََ سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ میں ان کے شعری مجموعہ ’’ نعرہء جبریل‘‘ کی تعارفی تقریب تھی اور میں بھی اس محفل میں سامع کی حیثیت سے موجود تھا۔ مختلف مقررین نے ان کے فکر و فن پر باتیں کیں اور آخر میں علامہ محمد یوسف جبریل خود گویا ہوئے کہ میں نے جو باتیں کہی ہیں ، تم انہیں نہیں سمجھ سکتے۔ تمہاری نسلیں بھی نہیں ، شاید تمہاری نسلوں کی بعد کی نسلیں اور شاید وہ بھی نہیں ، میرا پیغام پانچ سو سال کے بعد دنیا تک پہنچے گا۔ یہ قرآن حکیم کا پیغام ہے۔ اسے سمجھو ، اس پر غور کرو اور اسے دنیا میں پھیلانے کے لئے سرگرم عمل ہو جاؤ۔ میں شاعر نہیں ہوں، آپ لوگوں نے جو کچھ میرے بارے میں کہا ہے اس کے لئے بہت شکریہ‘‘۔
    ایک ننھے سے معصوم ذہن میں یہ باتیں بیٹھ گئیں۔ ہنگامہ ہائے دور دراز اور چکی کی مشقت کے باوجود میں علامہ محمد یوسف جبریل کو اچھی طرح سے جانتا تھا۔ کبھی کبھی اخبار میں ان کا کوئی مضمون نظر سے گزرتا تو اسے غور سے پڑھتا ۔ایک مرتبہ’’ جہاد کے اخلاقی اصول‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک مضمون پڑھا ، درمیان میں کچھ وقفہ آ گیا اور میں بھی مصروف ہو گیا۔ ایک روز اچانک اخبار میں کسی اور نام سے وہی مضمون نظر نواز ہوا تو میں ورطہء حیرت میں پڑ گیا اور سوچنے لگا کہ کہ اتنے بڑے مفکر اور فلسفی کی تحریر سرقہ نویسی کی نذر ہو گئی۔ مگر میں اس وقت کیا کر سکتا تھا مگر اندر سے دل پر ایک چوٹ لگی کہ ہمارے نام نہاد نقدو نظر کیسے کیسے عجیب و غریب قسم کے کام انجام دیتے ہیں۔ آج جب میں خود پی ایچ ڈی کی سطح کا طالب علم ہوں تو مجھے سرقہ نویسی کی تاریخ کا پتہ چلا جس کی وجہ سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سرقہ نویسی کی تو صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ یہ عمل دراصل کسی معروف شخصیت کی شہرت و ناموری سے فائدہ اٹھانے کا نام ہے۔
    میں تھرڈ ایئر میں تھا تو ہمارے کالج میں ایک دن کلاس میں بتایا گیا کہ علامہ محمد یوسف جبریل صاحب کالج میں تشریف لانے ہیں اور آپ سے کچھ گفتگو کریں گے۔ حیران ، پریشان پہنچے تو ایک مرنجاں مرنج بابا جی ناتراشیدہ داڑھی ، گردآلود لباس اور پاؤں میں کوہاٹی چپل پہنے ہوئے براجمان تھے۔ گفتگو انگریزی میں تھی۔ اینی مری شمل کا ذکر بھی تھا۔ سورۃ الھمزہ کے متعلق بھی باتیں ہوئیں۔ کچھ سمجھ ایا کچھ سمجھ نہ آیا۔ مگر اتنا ضرور تھا کہ اس ملاقات کے بعد ان کی دیو قامت شخصیت کا گہرا تاثر تحت الشعور میں رچ بس گیا۔ دل میں آرزو تھی کہ کبھی موقع ملا تو علامہ محمد یوسف جبریل سے ضرور ملاقات کروں گامگر کشاکشَ زمانہ آڑے آتی رہی اور میں دل ہی دل میں یہ خواہش لئے سال ہا سال سلگتا رہا۔ پھر ایک روز میں عم مکرم جناب ڈاکٹر رؤف امیر صاحب کے ساتھ ان سے ملنے کے لئے ان کے گھر چلا گیا۔ مجھ سے تو انہوں نے کوئی بات نہ کی لیکن میں انہیں تھوڑی تھوڑی دیر بعد محبت اور عقیدت سے دیکھ لیتا تھا۔ گفتگو کرنے کی خواہش کے باوجود میں ان سے ہمکلام نہ ہو سکا۔ مگر کون جانتا تھا کہ میری یہ خواہش کچھ اس طرح پوری ہو گی کہ میں اور علامہ محمد یوسف جبریلؒ بہت دیر تک ہمکلام رہیں گے۔میں انہیں بدقت نظر پڑھوں گا اور ان کے فکر و فلسفہ کے مضامین و موضوعات کو حرزِ جاں بنا لوں گا۔ میں ایک روز ٹیکسلا بازار سے اپنے کسی کام کے سلسلے میں خاموشی کے ساتھ سر جھکائے ہوئے گزر رہا تھا کہ علامہ محمد یوسف جبریل کے صاحبزادے صوفی شوکت محمود اعوان نے مجھے پکارا۔ ملاقات ہوئی تو انہوں نے علامہ محمد یوسف جبریل کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ یوں علامہ محمد یوسف جبریل کے افکار و نظریات سے شناسائی کا سلسلہ شروع ہوا جو گردشِ روزگار ، خرابیء صحت ، غیر تسلی بخش حالات کے باوجود کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ علامہ محمد یوسف جبریل اپنے عہد کے ان نابغہء عصر لوگوں میں سے ہیں جو اپنی خداداد بصیرت سے نہ صرف اپنے عہد کے حالات سے با خبر ہوتے ہیں بلکہ آئندہ آنے والے زمانوں کے بارے میں ان کی آگہی ہم سب کے لئے لائقِ تقلید ہوتی ہے۔ وہ سائنس ، فلسفہ، ادب، طب کے طالب علم ہی نہیں استاد بھی تھے۔ انہوں نے حکمتِ قرانی کو عام کرنے کے لئے سورۃ الھمزہ کے مطالعہ پر زور دیا۔ پھر ایک روز علامہ محمد یوسف جبریلؒ کی شاعری اور فکر و فلسفہ کے موضوعات کو سمیٹنے ،انہیں یکجا کرنے اور ترتیب دینے کا خیال پیدا ہوا ۔ ہم نے مختلف اصحابِ فکر و تخیل سے ان کے فکری سرمایہ کے بارے میں مضامین لکھوائے ۔ خود بھی انہیں سمجھنے کی ادنی سی کوشش کی اور یوں ’’کن فیکون‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کردی۔ جو شاید اس موضوع پر پہلی باضابطہ کتاب ہے جس میں ان کے فکری سرمایے کو ایک مختلف اور منفرد انداز میں جانچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب اگرچہ بہت جلدی میں اور عدم احتیاط سے چھاپی گئی ہے مگر آئندہ آنے والی صدیوں اور زمانوں میں اس کتاب سے اخذ و اکتساب کے بغیر علامہ محمد یوسف جبریل پر کام کرنا ناممکن ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سعادت مجھ جیسے ایک کج مج ، کم فہم ، کم علم شخص کے مقدر میں لکھی ہوئی تھی جس پر میں جتنا بھی فخر کروں کم ہے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ اس عہد کے ابتر حالات اور اپنی متعدد مجبوریوں کے باوجود ان کے بارے میں سوچنے کے لئے وقت بہت کم ملتا ہے۔ ماکولاتِ زمانہ اور مکروہات دنیاوی نے موقع دیا تو انشاء اللہ جب قسمت یاوری کرے گی تو آسمانِ علم و ادب کے اس روشن ستارے کو ضرور سامنے لانے کی کوشش کروں گا۔ انشاء اللہ۔ خیر بات کہاں سے چلی تھی کہاں نکل گئی۔ میں نے ایک روز خواب میں یہ دیکھا کہ علامہ محمد یوسف جبریل ؒ میرے گھر تشریف لائے اور کہنے لگے کہ میں یہیں رہوں گا۔ اطمینان سے خواب استراحت کے مزے لینے لگے۔ اٹھے تو دوسرے منظر میں فرمانے لگے۔ کہ اعوانوں پر کام کرنا اچھی بات ہے میں نے بھی اعوانوں پر کام کیا ہے۔ تم شوکت اعوان کو سمجھاتے کیوں نہیں کہ اس سے قطع نظر آفاقی کام پر توجہ دے۔ تمہیں میری بات سمجھ آ گئی ہے یا نہیں؟ فورا عمل کرو‘‘۔
    خیر شوکت اعوان تو ویسے بھی آفاقی کام ہی کرتا ہے ۔ ہاں کبھی کبھی اعوانوں کا چسکہ اسے اطمینان سے نہیں بیٹھنے دیتا ۔ اپنے حسب نسب کی تلاش و جستجو کا عمل لائق تحسین ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ رنگ ، نسل، زبان اور علاقے کی حدود و قیود سے ماورا ہو کر پوری انسانیت کے لئے سوچا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ علامہ محمد یوسف جبریل عمر بھر فلاح و بہبودِ انسانیت کے لئے سوچتے رہے۔ جدید دور میں فقراء کا انتخاب اس طرح ہوتا ہے کہ جو شخص خدمتِ انسانیت میں سبقت لے جاتا ہے حضور اکرم ﷺ اپنے غلام بھیج کر اسے بلاتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے بھی یہی فرمایا تھا۔ کہ
    یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
    کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
    علامہ یوسف جبریل واقعی انسانیت کے سچے بہی خواہ تھے۔ ان جیسے لوگ واقعی صدیوں کے بعد پیدا ہوتے ہیں اور صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔ ان سے صدیاں فیض حاصل کرتی ہیں اور ہر صدی ان کی صدی ہوتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہماری کوتاہ بین نظریں ان کی عظمت کو نہیں پا سکتیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ اور فہم عطا فرمائے اور ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ یقیناًجاری رہے گا۔
    محمد عارف ٹیکسلا
    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    http://www.oqasa.org
    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

Leave a Reply