علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف

علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف
علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب و غریب تھی۔ انہوں نےنہ صرف اردو بلکہ انگریزی زبان میںبھی کتابیں اور مضامین لکھےہیں۔ اپنےخیالات کی تبلیغ و اشاعت اور اپنےشعلہءدل کو تابناک بنانےکیلئےشعر کا بھی سہارا لیا۔ ان کی زندگی کا آغاز انگریزی فوج میںایک سپاہی سےہوا۔انہوںنےانگریزی قوانین کی خلاف ورزی کرتےہوئےعراق کےجیل خانہ مصیب میںکورٹ مارشل کی سزا برداشت کی۔ علامہ صاحب کو گورکھا ٹوپی نہ پہننےکی پاداش میںکورٹ مارشل کی سزاتجویز ہوئی ۔ اگرچہ ان کو کڑی سےکڑی سزا کی رضامندی ہوئی۔لیکن لندن سےانگریز آرمی کو یہ انتباہ ملا کہ عین اس وقت جب دشمن تمہارےسامنےہےتم ایک مسلمان سپاہی محمد یوسف کو گورکھا ٹوپی پہننےکی پاداش میں پھانسی کی سزا دیکر اڑھائی لاکھ مسلمان فوجیوں میںنفرت اور بغاوت کا بیج بوناچاہتےہو۔ علامہ صاحب کو پچیس برس کی عمر میںجیل بھیج دیاگیا۔وہاں ان کو تجلیات الہی دیکھنےکاموقع ملا۔علم و تعلیم و تعلم کا آغاز کیا۔ بعد میں اپنی خداداد روحانی صلاحیتوں سےاسلامی تعلیمات کو فروغ دینےمیںمصروف رہی۔وہ قران حکیم کےتلمذ اقبال کےشیدائی اور ہادیءاکرم تاجدار عرب ، عرب و عجم حضرت محمد کےفدائی تھی۔
علامہ یوسف جبریل کا تعلق وادی سون سکیسر کےگاو¿ں موضع کھبیکی سےہی۔ انہوں نےکسی کالج، یا یونیورسٹی سےتعلیم حاصل نہیں کی۔ بچپن ہی سےتعلیم کو خیر باد کہہ دیا لیکن بعد میںانگریزی، عربی ، فارسی زبان کےعلاوہ بےشمار زبانوں پر عبور حاصل ہوا۔ یہ سب کچھ روحانی سلسلہ تھا۔ علامہ صاحب فرماتےہیں۔ ”شملہ کانفرنس کےدوران قائداعظم انگریزی اور کانگریسی وفد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سےپاکستان کےحصول میں ناکام ہو رہےتھی۔ قدرت مجھےدہلی لےگئی ۔ اورنگ زیب روڈ پر حضرت قائد اعظم سےملاقات ہوئی۔ میرےمنہ سےنکلا۔ قائداعظم آپ حکم کریں۔انشاءاللہ آپ ہم کو فرماں بردار پائیں گی۔اس کےبعد حضرت قائد اعظم پاکستان کےمطالبےپر سخت مضبوط ہو گئےاور اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم سےکامیاب و کامران ہوئی۔ مجھےحضرت قائد اعظم سےاس وقت ملاقات کرائی گئی تھی جب کہ میںایک غیر معروف انسان تھا اور وہ بھی ایک عام سپاہی۔ اس وقت حضرت قائد اعظم تخلیق پاکستان سےمایوس تھی۔ جوں ہی میری ملاقات ہوئی اور ہم نےاپنی خدمات پیش کیں اور ولولہ انگیز گفتگو سےقائد اعظم میں ایک عظیم ولولہ اور جذبہ پیدا ہوا۔ جس کا نتیجہ پاکستان کی تخلیق تھا“۔علامہ صاحب نےستمبر1963 ءمیں شہرہ آفاق مستشرق اینی مری شمل سےمذاکرہ کیا۔اور اسےقران حکیم میںقدیم و جدید فلاسفی آف اٹامزم اور ایٹمی سائنس دکھائی۔ تو وہ لاجواب ہو گئیں۔ بعد میںاس نےاسلام قبول کر لیا۔ وہ فرماتےہیں:۔” ستمبر 1963 ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں قران حکیم کی الہامی حیثیت پر جومناظرہ ہوا تھا بالآخر وہ رنگ لایا اور مس اینی مری شمل 1986 ءمیں اللہ تعالی کےفضل و کرم سےدین اسلام میں داخل ہو گئیں۔ جب اپنےلیکچر کےدوران موصوفہ نےقران حکیم کی الہامی حیثیت کو جھٹلایا اور کہا کہ قران حکیم محمدالرسول اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصنیف ہےتو میں نےقران حکیم کےالہامی اور الہی کلام ہونےکےثبوت کیطور پر اسےقران حکیم میں موجود ایٹمی جہنم اور ایٹمی بم کی سائنسی قرانی تشریح دکھلائی۔ یہ ایک ایسی دلیل تھی جس کا جواب اس کےپاس کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ حقیقت یہ ہےکہ ہروہ دلیل جو ہم مسلمان قران حکیم کےمنجانب اللہ ہونےکےثبوت کےطور پر پیش کرتےرہےہیں اور کر رہےہیں۔ تاویل کی زد میں آ جاتی ہےلیکن یہ ایٹمی جہنم کی قرانی پیشین گوئی ایک ایسی دلیل قاطع اور برہان ساطع ہےجس کی تاویل ناممکنات میں سےہےاور یہ دلیل معجز نما اس لئےہےکہ یہ بذات خود قران حکیم کا ایک معجزہ ہےجس کا انکار کسی بھی سلیم الطبع شخص کےلئےممکن نہیں ۔ موصوفہ اس کےبعد دس برس تک پاکستان نہیں آئیںاور جب 1973ءمیں آئیں تو اس کا موضوع قران حکیم کےمتعلق نہ تھابلکہ اس کےبعد اس نےکبھی بھی قران حکیم کےمتعلق کوئی بات نہیں کی۔ آج سےپانچ چھ برس پہلےنوائےوقت میں میری نظر سےاس کی وصیت گذری جس میں موصوفہ نےکہا تھا کہ ” جب میں مروں تو مجھےسندھ کےقبرستان مکلی میں دفن کیا جائی“۔ یہ اسلام کی حقانیت کا ایک واضح اشارہ تھا۔ البتہ میں نےاسےاپنےحال پر چھوڑ دیا اور نیتجےکا منتظر رہا۔ حتیٰ کہ قران حکیم کی ضرب کا اثر ظاہر میں نمودار ہوا اور موصوفہ نےاپنےاسلام کا اعلان کر دیا۔ تاریخ میں مغرب کےبڑےبڑےمستشرق گذرےہیںجو بڑےوسیع علم کےمالک تھےمگر ان کےعلم نےان میں سےکسی کو بھی اسلام قبول کرنےپر آمادہ نہیں کیا۔ مس اینی میری شمل پر قران حکیم کی حقیقت اسی لمحےواضح ہو گئی تھی جب اس نےقران حکیم میں اپنی نظر سےایٹمی جہنم کا واضح ترین سائنسی بیان دیکھ لیا تھا البتہ جن صوفیائےاسلام کےکلام پر موصوفہ نےسالہا سال ریسرچ کی ۔ ان کےاثر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ الحمد للہ کہ ایسی بین الاقوامی شخصیت کا اسلام قبول کرنا اسلام کی ایک شاندار فتح ہی۔ آج مسلمانان عالم کےدل خوشی سےسرشار ہیں اور شکر وامتنان کےجذبےسےلبریز۔ البتہ دعا کرنی چاہیئےکہ اللہ تعالی اس نو مسلمہ کو ایمان پر اور اسلام پر استقامت عطا فرمائےکیونکہ تاریخ ارتداد کی مثالوں سےخالی نہیں“۔ تاہم بعض دوستوں کےبقول اس نےاسلام قبول نہیں کیااس کی تحقیق کی ضرورت ہی۔البتہ اس نےمکلی کےقبرستان میں اپنےلئےجو جگہہ مانگی تھی۔ یہ اس لئےہو سکتی ہےکیوں کہ مسلمانوں کےقبرستان میں صرف مسلمان ہی کو دفن کیا جا سکتاہی۔ تاہم یہ موضوع تحقیق طلب ہی۔تاہم اس تقریر کےبعد اس نےاسلام کےخلاف کوئی بات نہیں کہی۔
علامہ صاحب نےروئےزمین کےایٹمی سائنس دانوں کو چیلنج کیاکہ وہ قران حکیم کی سورة الھمزہ پڑھ لینےکےبعد بھی سب اکٹھےہو کر نیوکلر فائر کی اتنی ہی مختصر، ایسی ہی جامع تعریف و تخصیص پیش کریںجیسا کہ قران حکیم میں موجود ہی۔ اس سائنس کےدور میں سائنس کی بنیاد پر وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکیں گےجیسا کہ نزول قران کےدوران عرب لوگ فصاحت و بلاغت کی بنیاد پر قران حکیم کےمقابلےمیں ایک سورة بھی پیش نہیںکرسکتےتھےاور انہوں نےروئےزمین کےجدید فلسفیوں کو بھی چیلنج کیا ہےکہ وہ قران حکیم کی سورة الھمزہ پڑھ لینےکےبعدسب اکٹھےہو کر یہ فیصلہ دیںکہ جس طرح قران حکیم نےسورةالھمزہ میںجدید وقدیم اٹامزم کےفلسفےکو دنیا میں نمودار ہونےوالےایٹمی جہنم (ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری) کی بنیاد قرار دیا ہی۔ حالانکہ قدیم اٹامزم پچیس سو برس قدیم ہےاور جدید اٹامزم سترہ سوسال پہلےظاہر ہوا۔ ایٹمی جہنم بیسوی صدی میں نمودار ہوا۔ کیاایسا کرنا انسانی ذہن کےلئےممکن ہی۔ کیا اللہ تعالیٰ کےبغیر یہ بات چودہ صدیاں قبل کسی کےعلم میں تھی۔ فلسفی علامہ صاحب کےجواب میں ہرگز یہ نہیںکہہ سکتےکہ ذہن انسانی کےلئےایسا کرنا ممکن تھا۔ قران حکیم میںحطمہ کی حقیقت کا انکشاف اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم سےعلامہ یوسف جبریل کےذمےتھا اور قران حکیم ہی نےانسانیت کو ایٹمی جہنم سےنجات کاطریقہ بتایا۔
علامہ یوسف جبریل جب ڈاکٹر جاویداقبال ، حضرت علامہ اقبال کےفرزندسےملی۔ تو انہوں نےان کو علامہ اقبال کی کرسی پر بٹھایا۔خوب خدمت اور مدارت کی اور کہا کہ مجھےآپ کےکلام سےاپنےوالد کی خوشبو آتی ہےاور ان سےکلام جبریل سنا اور روتا رہا۔بعد میں اس نےبتایا کہ آج تک کوئی بھی شخص ماسوائےآپ کےعلامہ اقبال کی کرسی پر براجمان نہیں ہوا۔صرف آپ ہی کو اس قابل سمجھاہےکہ آپ حضرت علامہ اقبال کی کرسی پر بیٹھیں۔
علامہ صاحب کی کتاب ”جبریل اسلامک بم“ کی اشاعت کےبعدامریکہ، یورپ اور دوسرےمخالف ممالک کا پاکستان کےاسلامی بم کےخلاف پروپیگنڈا یک دم ختم ہو گیا۔1968 ءمیں اسلام آباد کےشہرزار ہوٹل میںدنیا بھر کےسفیروں کےسامنےقران حکیم اور ایٹم بم How the Quran averts the human being from atomic annihilation کےموضوع پر تقریر کی۔تقریر ختم ہونےپر روس کےسفیر نےعلامہ صاحب کےپاس آ کر مصافحہ کیا اور کہا۔The most thought provoking lecture Ihave heard in my life. ”یعنی سب سےزیادہ فکر انگیز تقریر جو میں نےاپنی زندگی میں سنی ہی۔“ اس کےبعد امریکی سفیر ان کےپاس آئےاور اس نےبھی وہی جملہ کہا جو روس کےسفیر نےکہا تھا ۔ البتہ اس کا مصافحہ کچھ زور دار تھا ۔ شگاکو امریکہ کیBulletin of the atomic scientist ۔ Newsweek, Time ۔ پاکستان ٹائمز، concept, News نوائےوقت، مشرق، امروز، ندائےملت، وفاق ، اوصاف، اساس،اور اس کےعلاوہ سینکڑوں اخبارات اور رسائل میں ان کےمضامین شائع ہوئی۔ 1964 ءمیں علامہ صاحب کےاستفسار کےجواب میںانگریزشہرہ آفاق فلسفی برٹرینڈ رسل نےآپ کو لکھا۔ کہ ” جب سےآدم اور حوا نےگندم کا دانہ کھایا ہی۔ انسان نےہر وہ حماقت کی ہےجو وہ کرسکتا ہےاور انجام ایٹمی جہنم ہی۔“لیکن علامہ صاحب کو سورة الھمزہ نےناامید نہ ہونےدیا۔ ویسےرسل کا تجزیہ موجودہ حالات کو دیکھتےہوئےکچھ غلط نہ تھا مگر اللہ تعالی ٰ نےاپنی مہربانی سےقران حکیم میںایٹمی جہنم سےبچنےکی تدبیر بتا دی ہی۔علامہ صاحب بچپن میں ہائی سکول پاس کئےبغیر سکول سےبھاگ گئی۔ پچیس برس کی عمر میں 1942 ءمیں دوسری جنگ عظیم کےدوران بغدادو کربلاکےقریب ایک مقام مصیب میں انہوں نےکئی روحانی خواب دیکھی۔ وہ انڈین آرمی میں سپاہی تھی۔ بعد میںحوالدار بنے۔ ایک حکم آیا جس میں اسلام پر زد پڑتی تھی۔ جس پر علامہ صاحب نےماننےپر انکار کر دیا۔اس موقع پر علامہ صاحب کو لالچ (جرنیل بنانےکا وعدہ بصورت دیگر پھانسی کی دھمکی دونوں طرح سےآزمایا گیا۔ہندوستانی میجر نیGOC مڈل ایسٹ جنرل الیگزینڈر کےخط کےساتھ علامہ صاحب کےسامنےفوجی سٹار پھیلا کر کہا جو کہو میں یہاں سےتم کو بنا کر (یعنی کرنل جنرل وغیرہ) بھیج دیتا ہوں۔ مگر علامہ صاحب نےقطعی طور پر اس سےانکار کردیا۔ انگریزمڈل ایسٹ میںڈھائی لاکھ مسلمان ہندی فوجیوں کےردعمل سےبےحد خوف زدہ تھا۔تاہم علامہ صاحب کا کورٹ مارشل کردیا گیا اور پھر چالیس برس یعنی 1982 ءتک شب و روز علم کےحصول میں منہمک رہی۔ اردو ، فارسی، عربی، انگریزی زبانیں، ادب،قران حکیم، توریت، زبور، انجیل کی تفسیر و تشریح ،سائنس ، طب، ایلوپیتھک، ہومیوپیتھک ،سنیاسی تجربات، کیمسٹری، بیالوجی، اسلامیات ،ایٹمی فزکس، فلسفی، ڈارونزم اور بیکنی علوم، تواریخ جغرافیہ اور دوسرےقدیم و جدید علوم حاصل کئےاور آخر کار انگریزی زبان میںچودہ جلدیں اردو میں چودہ جلدیںتحقیقی لکھیں۔ جو سب کی سب ایٹمی جہنم کےمتعلق قران حکیم اور سائنس کےحوالےسےہیں۔ آپ نی1942ءمیں مختلف خواب دیکھے۔ 1961ءمیں معلوم ہوا کہ علامہ صاحب کا مشن انسانیت کو ایٹمی جہنم (دنیاوی اور آخروی) یعنی حطمہ سےآگاہ کرنا ہی۔ علامہ صاحب نےجو کچھ لکھا ہےوہ خوابوں پر انحصار نہیں کیا بلکہ انسانیت کےسامنےعلمی دلائل پیش کئےہیںاور آپ نےہر بات سائنس اور قران حکیم کےحوالےسےلکھی ہی۔ سارا علم انہوں نےبغیر کسی ظاہری استاد سےحاصل کیا۔ یہ عجیب بات ہی۔ تاہم اللہ جو چاہےکر سکتا ہی۔ ۔اللہ تعالیٰ انسانیت کو اس دنیا کےایٹمی جہنم اور اگلی دنیا کےحطمہ کےدردناک عذاب سےبچائی۔آمین۔
حضرت علامہ یوسف جبریل کی ملاقات حضرت واصف علی واصف سےسال ہا سال رہی۔دونوں دانشور مختلف روحانی اور علمی مسائل پر گھنٹوں بیٹھےگفتگو کرتےرہتےتھی۔بابا عنایت اللہ صاحب ان دنوں وہاں حضرت واصف علی واصف کےساتھ مختلف فرائض سرانجام دیا کرتےتھی۔بعد میں وہ گولڑہ موڑ راولپنڈی آ گئےاور یہیں پر مقیم ہو گئی۔ حضرت واصف علی واصف اور علامہ ٰوسف جبریل صاحب سائنسی اور روحانی علوم پر بھی گفتگو کرتےتھےاور اسلامی کلچر کےانعقاداور روحانی علوم کی ترقی کےلئےمختلف پیرایوں پر گفتگو نہایت ہی دلچسپ ہوا کرتی تھی۔واصف علی واصف علامہ صاحب سےاپنا کلام نعرہ جبریل سنا کرتےتھی۔ اور بہت خوش ہوتےتھی۔
علامہ یوسف جبریل صاحب کی زندگی اگرچہ پریشانیوں میں گذری تاہم انہوں نےاپنی ماں کی بہت خدمت کی۔ ان کی ماں کو فالج ہو گیا تھا اور سال ہا سال ان کی خدمت جاری رکھی۔ خود اپنےہاتھوں سےاپنی ماں کو کھانا کھلاتے۔ ماں طبیعت کی سخت تھیں لیکن ان کی ہر بات کی فرمانبرداری کرتےاور ہر وقت ماں کی خدمت میں لگےرہتے۔ ان کےدوسرےبھائی ملک محمد خان اورسیر(میاں محمد) بھی ماں کی بھی خدمت میںپیش پیش رہتی۔ماںکی وفات سےقبل علامہ یوسف جبریل صاحب نےایک خواب دیکھا۔ کہ گاو¿ں کےاپنےذاتی مکان پر تاریکی چھائی ہوئی ہی۔اور اندھیر ہی اندھیر چھایا ہوا ہی۔اس خواب کا نتیجہ ہوا کہ چند دنوں میں ان کی ماں فوت ہو گئیں۔انہوں نےبارہا دو شخصیتوں کو دیکھا جوگھوڑوں پر سوار ٹارچ لئےہوئےمکان کی دیواروں پر گھومتےپھرتےتھی۔ بعد میں یہ شخصیات حضرت علامہ صاحب سےروحانی اور علمی سلسلےمیں وابستہ رہیں۔ یہ شخصیات حضرت خواجہ خضر علیہ السلام اور حضرت پیران پیرشیخ عبدالقادر جیلانی تھیں۔ جنہوں نےبعد میں علامہ صاحب کو روحانی تعلیم سےمنور کیا۔علامہ صاحب کی تربیت حضرت پیران پیرسید عبدالقادر نےکی جب کہ علوم حضرت خواجہ خضر علیہ السلام نےپڑھائی۔ علامہ صاحب نےزندگی میں بہت سی چیزیں خفیہ رکھیں۔ کیونکہ ان کو اپنےمرشد کی طرف سےکئی باتیں کہنےکی اجازت نہیں تھی۔ بہت سی باتیں ان کی موت کےبعد معلوم ہوئیں۔ وہ جب بھی کسی شخص کی کوئی تکلیف رفع کرواتےتو اس شخص کو تنبیہ کرتےکہ وہ اس کا زکر نہ کرےورنہ اس کو نقصان کا احتمال ہو سکتاہی۔ بالخصوص روحانی علوم میں ان کی پیرومرشد کی طرف سےمنع کی گیا تھا کہ وہ خاموش رہیں۔ ورنہ ان کو خود تکلیف سےگذرنا پڑتا تھا۔ بارہا بہت نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔
وفات :حضرت علامہ یوسف جبریل مورخہ 5 جنوری 2006 بروز جمعرات شام 635بجےپی او ایف ہسپتال واہ کینٹ میں حرکت قلب بند ہونےکی وجہ سےوفات پاگئی۔ آپ کا جنازہ بروز جمعہ مورخہ 6 جنوری 2006ساڑےتین بجےفیصل کالونی ملک آباد میں پڑھایا گیا۔ جنازہ جناب محمد امین چشتی صاحب (خطیب جامع مسجد غوثیہ نواب آباد) نےپڑھایا۔واہ کینٹ کی تاریخ کا یہ سب سےبڑا جنازہ تھا جو ایک فقیر کا جنازہ تھا۔ ان کو بعد میں غوثیہ مسجد ملک آبادمیں بطور امانت رکھ دیا گیاکیونکہ ان کا ایک بیٹا ملک خالد محمود کینیڈا میں تھا۔ علامہ صاحب نےوفات سےقبل ان کو اپنےجنازےمیںشرکت کےلئےبلایا تھا۔ ان کی آمد پر دوبارہ جنازہ مورخہ 7 جنوری 2006 بروز ہفتہ کیا گیا۔ اور رات ایک بجےان کی تدفین ہوئی۔ جنازہ جناب سید کبیر حسین شاہ ہمدانی صاحب( سنگڑ سیداں، کمہار بانڈی پوسٹ آفس گڑھی دوپٹہ تحصیل و ضلع مظفر آباد حال خطیب جامع مسجد نجف پور، ڈاک خانہ خانپور تحصیل و ضلع ہری پور ہزارہ ( 03005324897 ) نےپڑھایا۔ نہایت ہی پرنور اور روحانی منظر تھا۔ ہزار ہا لوگوں نےان کی جسد کی زیارت کی۔ مسجد میں قران حکیم کی تلاوت جاری رہی۔ لوگ درود و سلام پڑھتےرہےاور اس کا ثواب حضرت علامہ صاحب کی خدمت میں پیش کرتےرہی۔ ساتھ ہی نعت خوانی بھی ہوتی رہی۔ ان کےچہرےپر نور کی بارشیں دیکھی گئیں۔اللہ والےکہتےہیںکہ انسانوں کےعلاوہ اللہ پاک کی دوسری مخلوقات بھی ان کی زیارتیں کرتی رہیں۔ مجذوب، ولی ، درویش، اہل دانش اور فقیروں نےان کی زیارت کی۔وفات سےقبل انہوں نےشوکت محمود اعوان، طاہر محمود اعوان اور زوجہ محترمہ کو اپنےپاس بٹھا کرتین دن قبل موت سےآگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نےبچوں کےلئےبےانتہاءدعائیں کیں۔ اولاد کی تمام غلطیوں کو معاف کیا۔ حیرت کی بات یہ ہےکہ اولاد سےبھی معافی مانگی۔ اولاد کی آنکھوں میں آنسو تھی۔ خالدمحمود ملک ان کا بیٹا کینیڈا میں تھا۔ جمعرات شام کوان کی وفات ہوئی۔ تو اس کو اشارة بلایا اور کہا کہ وہ پاکستان آ جائیں۔ جمعہ کو ان کو پاکستان کا ٹکٹ مل گیا جب کہ چند دنوں تک عید ہونےوالی تھی اور بہت رش تھا۔ لیکن بابا جی کی زیارت انہیں ہر صورت میں کرنی تھا۔اس طرح ٹکٹ اور سیٹ بھی مل گئی۔ اس طرح وہ ہفتہ کےدن رات گیارہ بجےرات کو وطن پہنچ گیا۔ غوثیہ مسجد ملک آباد سےعلامہ صاحب کی جسد مبارک کو ہزاروں سوگواروں کی معیت میں دوبارہ اٹھایا گیا ۔ساتھ ہی بیٹا جنازہ میں شریک ہوا۔اس سےقبل جمعہ کےدن ان کا جنازہ ہو ا تو ایک جم غفیر نےان کےجنازہ میں برکت کےلئےشرکت کی۔ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ وہ جنازہ میں شریک ہو۔ زبان زد عوام یہ بات تھی اور ہر شخص یہی کہہ رہا تھا کہ آج کا یہ جنازہ ایک ولی اللہ کا جنازہ ہی۔ جو بھی اس میں شریک ہو گا ۔اللہ تعالی اس کےلئےدین اور دنیا میںآسانیاں پیدا کر دےگا۔ جب ان کو مسجد میں رکھا گیا تو ہزار ہا آدمیوں، عورتوں اور بچوں نےان کی زیارت کی۔ جب فوت ہوئےتو مقامی آبادی کےسینکڑوں لوگ وہاں پر جمع ہو گئی۔ اور انہوں نےباہر سےآنےوالوں مہمانوں کو ٹھہرایا اور ان کی خدمت کی۔لوگ مختلف باتیں کررہےتھی۔´ کہ آج ہم لوگ یتیم ہو گئےہیں اور ہمارےسر سےایک ولی کا سایہ اٹھ گیا ہی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔آپ کےمہمانوں کی خدمت کےلئےآپ کےپڑوسی محمد سرور، نور محمد،سائیں اکمل، بابا روشن دین،سلیم قادری،میر افضل نےخدمات سرانجام دیں۔

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 96
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 87
    حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان 1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور…
  • 85
    وادی سون کا قدرتی ماحول تحریر شوکت محمود اعوان وادی سون کا ماحول ایک قدرتی ماحول ہی۔ جہاں جنگل، پربت وادیاں، ندیاں، نالی، جھیلیں، درختوں کےجھنڈ، آبشاریں، لہلہاتی فصلیں، جنگلی جانور، جنگلی بوٹیاں موجود ہیں۔ یہاں پر جنگلی حیات بھی موجود ہےجو کہ قدرت کی صناعی کےحسین ترین مظاہر میں…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply