قران حکیم کی ایک عظیم پیشین گوئی ایٹم بم تحریر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد افضل

قران حکیم کی ایک عظیم پیشین گوئی
ایٹم بم
تحریر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد افضل
حضرت مسیح موعود کا ایک شعر ہی
یا الہیٰ تیرا فرقان ہےکہ اک عالم ہی
جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا
یہ شعر قرآن حکیم کی جامع تفسیر ہی۔ دنیا کی ہر چیز جو ضروری ہےوہ قرآن حکیم میں موجود ہی۔ یہی نہیں بلکہ کئی پیشگوئیاں جو ماضی بعید، ماضی قریب اور مستقبل سےمتعلق ہیں ان کا بھی ذکر قرآن حکیم میں موجود ہی۔
گزشتہ چند ماہ سےدنیا کےسائنس دان دس ارب ڈالر کی لاگت سےcern میں ایک تجربہ کر رہےہیںکہ ہماری زمین کس طرح معرضِ وجود میں آئی تھی جو Big Bang کےنام سےمشہور ہےلیکن قرآن حکیم میں Big Bang کا ذکر چودہ سو سال پہلےہی سےموجود ہی۔ قرآن کریم میں بےشمار ایسی پیش گوئیاں ہیں جو ہمارےدور کےواقعات اور ایجادات سےمتعلق ہیں۔ ان میں سےکچھ تو غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں لیکن اس وقت میں صرف ایک ایسی پیش گوئی سےمتعلق بیان کرنا چاہتا ہوں جو ایٹم بم کےوجود اور اس کےدھماکےسےمتعلق ہےاوراس کا بیان 1400 سال سےسورة الھمزہ میں موجود ہی۔ اس وقت انسان کاتصور کسی طرح بھی ایٹمی دھماکےکےخیال تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ یہ حقیقت بھی کچھ کم حیران کن نہیں کہ اس دور کےلوگ اس چھوٹی سی سورة کی اہمیت کو نہ جان سکی۔ یہ پیشگو ئیاں جنہوں نےدنیا کو چیلنج دیناتھا اور ایک تہلکا مچادینا تھا۔ خاموشی سےبغیر چیلنج دیئےگزر گئیں۔ اور سارا credit وہ لوگ لےگئےجن کےآباو¿ اجداد 1400 سال پہلےجنگلوں میں وحشیوں کی طرح رہتےتھی۔
آئیے !ہم سورة الھمزہ کا مطالعہ کریں اور دیکھیںکہ اس میں کتنی شان سےایٹمی پیش گوئی کا ذکرہی۔
(ترجمہ) ہلاکت ہو ہر غیب کرنےوالےسخت عیب جو کےلئی۔ جس نےمال جمع کیا اور اس کا شمار کرتا رہا۔ وہ گمان کیا کرتا تھا کہ اس کا مال اسےدوام بخش دےگا۔ خبردار ! وہ ضرور حطمہ میں گرایا جائےگا اور تجھےکیا معلوم کہ حطمہ کیا ہی۔وہ اللہ کی آگ ہےبھڑکائی ہوئی ۔جو دلوں پر لپکےگی ۔ یقینا وہ ان کےخلاف بند رکھی گئی ہی۔ ایسےستونوں میں جو کھینچ کرلمبےکئےگئےہیں“۔
(سورة الھمزہ۔ آیت ٢ تا ٠١)
آیئے! سب سےپہلےحطمہ کا مطلب سمجھنےکی کوشش کریں۔ عربی لغت میں حطمہ کےدو بنیادی مطلب بیان ہوئےہیں۔ پہلا حطمہ (Hotama )ہےجس کا مطلب ہےکوٹنا یا بہت باریک سفوف تیار کرنا۔ دوسرا حِطمہ (hitama )جس کا مطلب ہےچھوٹا ترین حقیر ذرہ۔ لہذا حطمہ کسی چیز کو اس کےچھوٹےترین ذرات میں توڑنےسےحاصل ہوتاہی۔ یہ دونوں مطالب ایسےنہایت چھوٹےذرات کےلئےاستعمال ہوتےہیں۔ جو مزید تقسیم نہ ہو سکی۔ 1400 سال پہلےایٹم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔
آیئے! دیکھیں ایٹم کیا ہی۔ کسی عنصر کا چھوٹےسےچھوٹا حصہ جو مزید تقسیم نہ ہو سکےاور اس کی وہی خصوصیات ہوں جو اس عنصر کی ہیں تو وہ ایٹم ہی۔
آپ میں سےشائد کسی کو یاد ہو کہ عورتیں سرمہ پیس کرتیں تھیں۔ سرمہ کی ڈلی کو کھرل میں ڈال کر کوٹ کر چھوٹےذروں میں تقسیم کرکےپھر گلاب کاعرق ڈال کرہاون دستہ سےرگڑتیں۔ چار پانچ دنوں کےبعد گلاب کا عرق سوکھ جاتا تو پھر عرق ڈال کر رگڑتیں۔ اس طرح پندرہ بیس دنوں میں اعلیٰ قسم کا پاو¿ڈر بن جاتا ۔کیا آپ پاو¿ڈر کےایک ذرہ کو دیکھ سکتےہیں۔ تو یہ ہےحطمہ۔ بلکہ حطمہ اس ذرےسےبھی چھوٹا ہوتا ہی۔
حیرت انگیز بات یہ ہےکہ قرآن کریم کی کچھ آیات میں توواضح طور پر ایٹم اور چھوٹےذرات کا ذکر ہی۔ جو توانائی کا عظیم ذخیرہ ہیں۔ چھوٹےذرات پر بہت ریسرچ ہوئی ہےاور ہو رہی ہےاور نئےسےنئےانکشافات ہو رہےہیں۔ چھوٹےذرات پر کئی کتب لکھی گئی ہیں۔
چھوٹےذرات سےمتعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خوب صورت شعرملاحظہ ہو۔
کیا عجب تو نےہر ایک ذرہ میں رکھےہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہےسارا دفتر ان اسرار کا
حطمہ اور ایٹم گویا ایک ہی چیز کےدو نام ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو حطمہ اور ایٹم کی صوتی آوازیں بھی ملتی ہیں۔
اب حل طلب سوالات یہ ہیں :۔
(١) حطمہ اتنا چھوٹا ہےکہ نظر بھی نہیں آتا۔ تو پھر انسان کو حطمہ میں کیسےڈالا جائےگا؟
(٢) آگ دلوں پر کیسےلپکےگی؟
(٣) وہ کیسی آگ ہےجو بند کی گئی ہےایسےستونوں میں جو کھینچ کرلمبےکئےگئےہیں۔
آیئے پہلےہم یہ دیکھیں کہ ایٹمی دھماکا کس طرح ہوتا ہے؟ جب ایک نیوٹران یورانیم ایٹم کو بمبار (hit) کرتا ہےاور وہ نیوٹران یورینیم ایٹم میں جذب ہو جاتا ہےتو یورینیم ایٹم کی ایٹمی کمیت (atomic mass ) کی حالت فاضل کمیت (critical mass) میں تبدیل ہو جاتی ہی۔ اور مرکب مرکزہ (compound nucleus) تھرتھرا نااور پھیلنا شروع کر دیتا ہی۔ مرکب مرکزہ دو حصوں میں تقسیم ہونےسےپہلےایسا معلوم ہوتا ہےگویا ان دونوں حصوں یعنی ان ستونوں کو کھینچ کر لمبا کیا جا رہاے۔یہ دباو¿ کا مرکب نیوکلیس کےپھٹنے سےپہلےاس کےکھینچ کر لمبےہونےسےپیدا ہوتا ہی۔ ان دو نئےبننےوالےعناصرکا مجموعی ابتدائی عناصر سےکم ہوتا ہی۔ ایٹمی وزن کا وہ چھوٹا سا حصہ جو اس عمل میں ضائع ہو جاتاہےوہ توانائی کی شکل میں ظاہر ہو جاتاہی۔
اس شکل سےظاہر ہےکہ اگر یورانیم کےایٹم کو ایک نیوٹران سے بممبار کرتےہیں تو آخر میں توانائی کےنکلنےکےساتھ تین نیوٹران کو بمبمار کرتےہیں اور اور توانائی کےساتھ نیوٹران نکلتےہیں پھر نیوٹران سےستائیس نیوٹران نکلیں گےاور اس طرح یہ سلسلہ چل پڑتا ہےاور ایک سکینڈ سےکم عرصےمیں یہ عمل متعدد بار دہرایا جاتاہےاور وہ آگ کا گولہ بن جاتاہےجو ایک کھبمی کی طرح دس بارہ کلومیٹر اونچا بن جاتاہےاور یہ وہ آگ کا گولہ جو حطمہ یعنی ایٹم کےپھٹنےسےبنا ہےاور حطمہ میں انسان کو پھینکا جائےگا گویا یہ وہی آگ ہےجو بند کی گئی ہےان ستونوں میں جو کھینچ کر لمبےکئےگئےہیں۔ اب آخری سوال یہ رہ گیا ہےکہ آگ دلوں پر کیسےلپکےگی ؟
اگر انسان کو آگ میں پھینکا جائےتو ہو سکتاہےکہ انسان کا جسم جل جائےاور مر بھی جائےاور دل کو خراش تک نہ آئئےتو پھریہ کون سی آگ ہےجو صرف دلوں لپکےگی اور انسان کو موت کی نیند سلا دیگی۔
جب ایٹم بم پھٹتا ہےایک تو آگ کا گولا بنتا ہےاور دوسرےگیما ریز کےعلاوہ ایکس ریزاور نیوٹران بڑی تعداد میں اور بڑی تیزی سےنکلتےہیں۔ گیماریز کا رینج بہت زیادہ ہوتاہی۔ وہ انسانی جسم سےآسانی سےگزر سکتی ہیں اور گیما ریز میں بہت زیادہ ارتعاش ہوتاہےگیما ریز بھی آگ ہی ہےلیکن یہ وہ آگ نہیں ہےجو ہر چیزکو جلا دڈالتی ہےبلکہ یہ وہ آگ ہےجو انسانی جسم کو خراش تک دیئےبغیر لپک کردلوں پر حملہ کرےگی۔ گیماریزکا ارتعاش ایک سیکنڈ میں کھربوںسےبھی زیادہ ہوتا ہےلیکن دل ایک منٹ میں ستر ، اسی مرتبہ دھڑکتا ہی۔ لہذا گیما ریزجب انسانی جسم پرپڑتی ہیں تو یہی ارتعاش دل کی حرکت بند کر دیتاہے۔اس طرح وہ آگ جو بند کی گئی ہےایسےستونوں میں جو کھینچ کر لمبےکئےگئےہیں وہ لپک کر دلوں پر حملہ کرکےنسان کو موت کی نیند سلا دےگی۔
( نوٹ : یہ مضمون حضرت خلیفتہ المسیح الربع کی سوال و جواب کی مجلسوں کو سن کر اور ان کی کتاب Revelation, Rationality, knowledgeand Truth کوپڑھ کر لکھا گیا ہی۔
( اشاعت ماہنامہ خالد مارچ ٩٠٠٢ جلد نمبر ٦٥ شمارہ نمبر ٣ سےلی گئی )


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 76
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 75
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 72
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “قران حکیم کی ایک عظیم پیشین گوئی ایٹم بم تحریر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد افضل

  1. قران حکیم کی ایٹمی پیشین گوئی
    تحریر
    علامہ محمد یوسف جبریل
    قران حکیم کا ارشاد ہے :۔
    بسم اللہ الرحمن الرحیم ویل الکل الھمزہ لمزہ ں الذی جمع مالا و عددہ ایحسب ان مالہ اخلدہ کلا لینبذن فی الحطمہ وما ادراک ماالحطمہ ناراللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدہ انہا علیھم موصدہ فی عمد ممددہ (الھمزہ ۱۰۴) قران حکیم
    ترجمہ ’’ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کے لئے خرابی ہے جو مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا ۔ ہرگز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا اور تم کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر جا لپٹے گی اور وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے۔ یعنی آگ کے لمبے لمبے ستونوں میں‘‘ ( سورۃ الھمزہ ۱۰۴)
    دنیا میں یہ خبر حیرت و استعجاب سے سنی جائے گی کہ قرآن حکیم نے ایٹم بم کی پیشین گوئی کی ہے ۔ یہ پیشین گوئی قرآن حکیم کی ایٹمی پیشین گوئی ایک تنبیہ کی صورت میں ہے، اس لئے اس خطرے کو رد کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ قرآن حکیم نے وہ تمام وجوہات جو ایٹم بم کے ظہور کا سبب ہیں گِنوا دی ہیں اور اگر ان اسباب و علل کو معدوم کر دیا جائے تو ایٹم بم کا وجود لا محالہ معدوم ہو سکتا ہے۔ یہ قرآنی پیشین گوئی بنیادی طور پر اگلی دنیا سے متعلق ہے لیکن جس طرح آگ اور باغات اگلی دنیا کے جہنم اور جنت کا نمونہ پیش کرتے ہیں اسی طرح ایٹم بم اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم کی مثال مہیا کرتا ہے۔ ایٹم بموں کی زد میں آنے والے بے گناہ لوگوں کو اللہ تعالی اگلے جہان میں تلافی مافات کے طور پر انعام و اکرام سے نوازے گا لیکن وہ امراض جو قرآن حکیم نے ایٹم بم کی پیدائش کا سبب بتائے ہیں وہ اکثر آجکل ہر جگہ موجود نظر آتے ہیں۔ یہ ایک بین الاقوامی حیثیت کا بے حد دلچسپ اور اہم ترین موضوع ہے لیکن اس چھوٹے سے مضمون میں ہم زیادہ سے زیادہ ایک ہلکا سا خاکہ مہیا کر سکیں گے۔ یہ نہایت ہی ادق مضمون ہے ۔ ڈارون ، کانٹ اور ہیگل کے فلسفوں سے کہیں زیادہ ادق اور ذرہ بھر لغزش کوسوں کا فاصلہ درمیان میں ڈال دیتی ہے۔ طویل میعاد کی کدوکاوش کے بعد اب اللہ تعالی کے فضل و کرم سے میں نے موضوع کو پایہء تکمیل تک پہنچا دیا ہے ۔اردو زبان میں آٹھ جلدیں لکھی جا چکی ہیں جو حُطَمہ یعنی ایٹمی جہنم اور اس کی تشریح ، سر جیمز جینز اورقرآن حکیم ، سر جیمز جیمز کا نظریہ کائنات اور قرآن حکیم، ایٹمی جہنم بجھانے والا قرانی فارمولا ، اسلامی بم ، قدیم و جدید اٹامزم اور سائنس کی مثلث ، ایٹمی جہنم بیکنی جہنم قرآن حکیم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ، بیکن، دجال ، اقبالؒ ، حضرت امام مہدی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ایٹمی جہنم پر مشتمل ہیں ۔ انشاء اللہ روئے زمین پر قرآن حکیم کا ڈنکا بجانے والی یہ جلدیں دنیا بھر کے سائنس دانوں اور شہرہ آفاق فلسفیوں کے سامنے کتابی صورت میں پیش کر دی جائیں گی۔ اُ مید واثق ہے کہ جاننے والے قرآن حکیم کی لامحدود عظمت کے سامنے جھک جائیں گے اور ایٹم بم کا یہ قرآنی رد ایٹم بم پر حاوی ہو کر دنیا کو اس بلا سے نجات دلائے گا۔
    حُطَمہ کا لفظ۔
    حطمہ ایسی آگ کا جہنم ہے جو ایٹمی طاقت سے بھڑکایا گیا ہے ۔ قرآن حکیم کی ایٹمی پیشین گوئی جب کہ اس توانائی میں ایٹمی دھماکے کی ساری خصوصیات یعنی ہیٹ ریڈی ایشن اور دھماکہ اور ایٹمی تابکاری موجود ہیں۔ صرفی لحاظ سے یہ لفظ حُطَمہ فعلی جذر ‘حَطَم پر استوار کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ذرہ ذرہ کر دینا۔ سائنس کی زبان میں کہا جائے گا ایٹومائزنگ Atomizing حَطَم سے اسم حطمہ بنتا ہے، جس کے معنے ہیں چھوٹا سا ٹکڑا ۔حِطمہ کی جمع ہے حطام۔ اب آپ ان دو لفظوں یعنی عربی حطم یا حطمہ اور انگریزی ایٹم یا یونانی ایٹومس کی باہمی مشابہت کو اپنے ذہن میں رکھیں اور یہ مشابہت ہر دو طرح سے یعنی بلحاظِ صوت اور بلحاظ معانی موجود ہے۔ صرفی اصول کے لحاظ سے حطَم کا ط مشدد کر دینے سے جب لفظ حَطّم بن جاتا ہے تو اس کے معانی میں کچھ شدت پیدا ہو جاتی ہے مثلاً کسی چیز کو اس زور سے دے مارنا کہ اُ س کے ٹکڑے اڑ جائیں ۔ یہی حَطَّم آگے چل کر تَحطَّم بن جاتا ہے ۔ جب حَطّم سے پہلے ت لگ جاتی ہے تو مفہوم ہوتا ہے ’’کسی چیز کا ریزہ ریزہ ہو جانا پھٹ جانا‘‘ وغیرہ وغیرہ مگر تقاضا شدت کا برقرار ہے۔ اسی طرح حَطَم جب اُنَحَطم ہو جاتا ہے تو اس کے معانی بھی یہی ہوتے ہیں یعنی کسی چیز کاریزہ ریزہ ہوجانا۔تاہم معانی میں وہ شدت نہیں ہوتی جوتحَطّم کی صورت میں ہے ۔ حطام حطمہ کی جمع ہے اور عرب لوگ دنیاوی چیزوں کوحطام الدنیا کے نام سے پکارتے ہیں اور تباہ شدہ جہاز کے انجر پنجر کو حطام السفینہ کہا جاتا ہے۔ ایٹم یا اٹامس ایٹم کا لفظ یونانی لفظ ایٹامس سے سائنس دانوں نے اپنایا ہے۔ ایٹامس سے مطلب ہے ’’ ایسی چیز جسے مزید توڑا نہ جا سکے یعنی جو چیز اپنی انتہائی باریکی کو پہنچ چکی ہو ‘‘ اور اسی معانی میں سائنس دانوں نے اسے ایٹم کی صورت میں اپنایا مگر آپ متعجب ہوں گے کہ یہ لفظ یعنی ایٹم ایٹم کے ضمن میں قطعی طور پر غلط ہے کیونکہ ایٹم کے معنی ہیں نہ ٹوٹنے والی چیز جسطرح ہم اردو میں کہتے ہیں ان گنت جو گنی نہ جا سکے ، یا ان پڑھ جو پڑھا ہوا نہیں۔ مگر کیا ایٹم ایٹم ہے۔ یعنی کیا ایٹم کو مزید توڑا نہیں جا سکتا اور سائنس دان سے زیادہ کون اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ ایٹم توڑا جا چکا ہے۔ خود سائنس دان نے اسے توڑا اور اس کے حصے بخرے کئے اور اس کے حصوں کو الیکٹران ، پروٹان، نیوٹران اور پوزیٹران وغیرہ کے ناموں سے موسوم کیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنسدان نے اس لفظ ایٹم کو بدل کیوں نہ ڈالا۔ کیا الفاظ کی کچھ کمی تھی ۔ نہیں ۔ یہ بات نہیں سائنس دان اس قدر غافل نہیں ہو سکتا جب ایٹم کو توڑ دیا گیا تو سائنس دانوں نے ایک کانفرنس بلائی اور اس معاملے پر بحث ہوئی مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کیوں انہوں نے فیصلہ یہ کیا کہ ایٹم کا لفظ جس طرح ہے، اسے برقرار رکھا جائے۔ حالانکہ یہ سائنس کی بے لوث روح کے سراسر خلاف ایک عمل تھا۔ لیکن قرآن حکیم نے اس ضمن میں جس حرف کا استعمال کیا وہ قطعی طور پر ٹھیک ہے ۔ اسے بدلنے کی نوبت نہیں آ سکتی کیو نکہ حطم کے معنی توڑنے کے ہیں اور ایٹم یقیناً ٹوٹ گیا ۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سائنس دانوں نے ایسا کیوں کیا ۔ کیوں ایٹم کو ایٹم رہنے دیا ۔ میرا قیاس ہے اور یہ صرف میرا اپنا قیاس ہے کہ جس طاقت نے قرآن حکیم میں ایٹم بم کے متعلق پیشین گوئی رکھ چھوڑی تھی اُ سی طاقت نے سائنس دانوں کے ذہنوں پر مہر لگا دی اور وہ ایٹم کو تبدیل نہ کر پائے اور پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہو سکتی تھی ۔ تو میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ ذاتی تجربے کی بنا پر میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ وہ صوتی مماثلت جولفظ حُطَمہ اور اُ ٹَمہ میں پائی جاتی ہے برقرار رکھی جائے تاکہ وقت آئے تو دیکھنے والا اسے دیکھ لے اور اس کنجی کے ذریعے سے عمارت میں رکھے ہوئے عجائب مشاہدہ کرکے اللہ تعالی کے اس اعلان اور قرآن حکیم کی اس تنبیہ کو مخلوق خداوندی تک پہنچا دے۔ اگر یہ مماثلت موجود نہ ہوتی تو مجھے شبہہ ہے کہ کبھی میرا ذہن اس حقیقت کی جانب منتقل نہ ہو سکتا تھا ۔حطمہ کیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے۔’’ تم کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے ‘‘ یعنی یہ کوئی چیز ہے انتہائی خوفناک اور تباہ کن اور پیچیدہ ، تاہم قرآن حکیم اس عجیب و غریب چیز کواحاطہ بیان میں لاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر جا لپٹے گی اور وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے یعنی آگ کے لمبے لمبے ستونوں میں۔ ذیل میں ہم ان پانچ خاصیتوں سے بحث کریں گے جو اللہ تعالی نے حُطَمہ کی آگ کی بیان فرمائی ہیں۔ (آ گ۔ قرآن حکیم) ۔ ایٹمی دھماکہ آگ ہے اس کے دو جزو ہیں۔ پہلا ہے آگ کابھپکا ہیٹ فلیشHeat Flash ۔تابکار شعائیں ۔یہ دونوں جزو آگ ہی آگ ہیں۔ پہلا جزو یعنی ہیٹ ریڈی ایشن Heat Radiation آگ کا بھپکا ہے ۔ جو ایٹم بم کو ڈیٹونیٹ کرتے ہی سیکنڈ کے ایک حصے میں نمودار ہوتا ہے۔ یہ سورج سے زیادہ منور ہوتا ہے اور روشنی کی رفتار سے یعنی ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ فاصلہ طے کرتا ہے اور صرف دو سیکنڈ موجود رہتا ہے دوسراجزو ایٹمی شعاعیں ۔کبھی بھی ایٹمی دھماکے سے جدا نہیں کی جاتیں اور سیکنڈوں میں ہر طرف پھیل جاتی ہیں اور گو کہ ایٹمی دھماکے سے جو دھماکہ پیدا ہوتا ہے وہ زلزلوں کو مات کر سکتا ہے، تاہم وہ ایٹمی دھماکے کا بنیادی جزو نہیں بلکہ ایک اثر ہے ۔ اسی طرح ایٹمی دھماکے کے بعد جو آگ ہر طرف بھڑک اٹھتی ہے اور شہر کے شہر بھسم کرکے رکھ دیتی ہے وہ بھی بعد ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والی گرمی کے سبب سے بھڑکتی ہے ۔ ایٹم بم کا جزو نہیں ہوتی اور وہ آگ جلانے والی تو ضرور ہے مگر روندنے والی نہیں۔ روندنے والی آگ تو ایٹمی دھماکے کی خصوصیت ہے۔ ’’ آگ ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی‘‘۔ (قرآن) یہ اس طرح کہ ایٹمی آگ ایک مکافاتی آگ ہے جو بندوں کی چند ایک ایسی خصلتوں کی سزا کے طور پر بھڑکی ہے جو قرآن حکیم نے بیان فرما دی ہیں اور جو پیشین گوئی کے شروع میں آ چکی ہیں۔ وہ ہیں عیب جوئی اور چغل خوری دولت کی بے انتہا ہوس اور دولت کو گن گن کر رکھنا اور نیز دولت کو خدائی کا مقام دلوا دینا۔ ایٹمی آگ کی شدت اور اس کا حجم اور اس کی تباہ کاری کا دائرہ ایسے کوائف ہیں کہ بجا طور پراس آگ کو اللہ کے عظیم نام کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔ ہیروشیما میں جو بم پھینکا گیا اس نے دس لاکھ ڈگری سنٹی گریڈ کا ٹمپریچر پیدا کیا ۔ یہ اس نوع کا ٹمپریچر ہے جو بے چاری زمین سے ہرگز کوئی مطابقت نہیں رکھتا البتہ سورج اور ستاروں میں اس کی موجودگی کا امکان ہے۔ نہ ہی ایسی آگ کو زمین پر کسی برتن میں مقید کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اس کا چھو جانا ہی زمینی مادے کو گیس میں تبدیل کرکے خلا میں منتشر کردے ۔بڑی قسم کے ایٹم بم Nominal High Yield Atomic Bombs کروڑوں درجے سنٹی گریڈ کا ٹمپریچر پیدا کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے اور داستان یہیں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ ہائیڈروجن بم تھرمونیوکلر بم کی ٹرگرنگ Triggering کی خاطر جو ٹمپریچر پیدا کئے جاتے ہیں وہ اربوں ڈگریوں سنٹی گریڈ تک پہنچتے ہیں۔ خدا کی پناہ۔ یہ بات انسانی تصور سے بھی بالا ہو جاتی ہے اور انہیں حقیقتوں کے پیش نظر اولین مفسرین کرام نے فرمایا۔ کہ’’ حُطَمہ ایک ایسا دوزخ ہے جس میں جوچیز بھی ڈالو گے وہ محض اس کے شعلے کی شدت سے ریزہ ریزہ ہو جائے گی‘‘۔ یورانیم 235 کے محض دو پونڈ بیس ہزار ٹن بارود کی قوت پیدا کرتے ہیں اور اسی یورانیم 235 کے ہزار کلوگرام یعنی ایک میٹرک ٹن دو کروڑ ٹن بارود کی قوت پیدا کرتے ہیں۔ یہ دو کروڑ ٹن کی قوت برابر ہے ان بلاؤں کے جنہیں عرف عام میں آسمانی بلائیں کہا جاتا ہے مثلاً شدید قسم کے طوفان اور شدید قسم کے زلزلے جو شہروں کے شہر تہہ و بالا کردیتے ہیں۔ ایک پندرہ میگاٹن یعنی ڈیڑھ کروڑ ٹن کی قوت کا ایٹم بم اپنے دھماکے میں اتنی قوت پیدا کرتا ہے جو اس تمام قوت سے کہیں زیادہ ہے جو مجموعی طور پر انسانی تاریخ میں کئے گئے تمام دھماکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ جہاں بیس میگاٹن یعنی دو کروڑ ٹن کا ایٹم بم اپنی ہیٹ فلیش Heat Flash اور دھماکے سے دنیا کا بڑے سے بڑا شہر کھنڈروں میں تبدیل کر دیتا ہے۔ وہاں اسی بم کا تابکاری فال آٹ Fallout ملکوں کو غارت کرکے رکھ دیتا ہے ۔ اس بم کے فال آٹ Fall Out کا رقبہ روئے زمین کے پانسویں حصے سے کچھ ہی کم ہوتا ہے گویا کہ پانچ سو ایسے بم روئے زمین کے چپے چپے کو فنا کر سکتے ہیں۔ تابکاری شعاعیں جو ایٹمی دھماکے کا ایک جزو لاینفک ہیں اور جو دھماکے سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں ایٹم بم کا ایک نہایت ہی خطرناک پہلو ہیں ۔ یہ شعاعیں ضرور پیدا ہوتی ہیں خواہ ایٹمی طاقت پُرامن مقاصد کے لئے حاصل کی جائے خواہ ایٹمی ہتھیاروں کی صورت میں اور یہ شعاعیں باالضرور انسانیت کو بالآخر عجیب الخلقیت جانوروں میں تبدیل کرکے رکھ دیں گی اور یہ عذاب الہی ہے۔ یہ اپنے کئے کی سزا ہے نہ یہ اتفاقیہ چیز ہے نہ حادثاتی۔ ’’ آگ جو چڑھتی ہے دلوں پر‘‘( قرآن) آگ کا بھپکا ایٹم بم کے چلنے کیساتھ ہی پیدا ہوتا ہے یہ روشنی کی رفتار سے چلتا ہے اور دو سکینڈ تک ٹھہرتا ہے۔آگ کا یہ بھپکا ایک خاص رقبے کے اندر سامنے موجود لوگوں کے جسم کو لگتا ہے اور کھال جلاتا ہے۔ نزدیک کے لوگوں کی کھال بری طرح جھلستی ہے مگر بتدریج زیادہ فاصلے پر موجود لوگوں کے جسم پر ہلکے نشان ڈالتی ہے تاہم دھماکے کے قرب میں ایک خاص رقبے کے اندر آگ کا یہ بھپکا محض کھال کو ہی نہیں جھلستا بلکہ آدمی کو یکلخت مار ڈالتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ آگ کبھی بھی کھال سے نیچے اتر کر گوشت پوست یا ہڈی کو نہیں چھوتی کیونکہ اس کا ٹھہرا ؤنہائت ہی قلیل ہوتا ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ انسان کو مار کیسے ڈالتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آگ کا یہ شعلہ انسان کے نتھنوں کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہو کر دل پر ایک ایسا جھٹکا بجلی کے جھٹکے کی طرح لگاتا ہے کہ دل سخت کرب کی حالت میں اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور انسان گر کر مر جاتا ہے ۔ سو اس طرح یہ آگ دلوں تک چڑھتی ہے۔ نیوکلس ۔ ایٹم کے مرکزی دل کو سائنس دانوں نے نہایت موزونیت کے ساتھ نیوکلس کا نام دیا ہے۔ نیوکلس کے معنی ہی دل اور مرکزی نقطہ وغیرہ کے ہیں ۔تھرمونیوکلر سائنس دانوں کی ایک ٹھیٹھ اصلطاح تھرمونیوکلر ہے جس کو وہ ہائیڈروجن بم کے معاملے میں استعمال کرتے ہیں ۔ یہ تھرمونیوکلر ترجمہ ہے قرآن حکیم کے الفاظ ’’آگ جو چڑھتی ہے دلوں تک‘‘ کا۔ تھرمو کے معنی ہیں ’’ حرارت‘‘ یعنی آگ اور نیوکلر اسم صفت ہے نیوکلس کا اور نیوکلس کے معنی ہیں دل۔ پس معلوم ہوا کہ تھرمونیوکلر کے معنی ہیں ’’آگ جو متعلق ہے ایٹم کے دل سے‘‘۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے تابکار شعاعیں تابکار شعائیں یعنی الفا، بیٹا ،گاما شعاعیں اور نیوٹرانز طبعاً ایٹمی دھماکے میں موجود رہتی ہیں اور یہ انسان یا جانور پر حملہ کرتے ہی دوران خون کے راستے ہڈی کے گودے میں جمع ہوجاتی ہیں۔ اب ہڈی کے گودے کا کام ہے خون پیدا کرنا پس یہ شعاعیں ہڈی کے گودے کو خون پیدا کرنے کے فعل سے عاجز کر دیتی ہیں اور ساتھ ہی خون کے سرخ اور سفید قسم کے ذرات کوتباہ کر دیتی ہیں ۔ اس طرح جب دل کو خون کم اور زہر آلود ملتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ بڑی کوفت میں مبتلا رہ کر مر جاتا ہے۔ تابکار شعاؤں سے جو امراض انسانی بدن میں پیدا ہوتے ہیں وہ ہیں لیموکیمیا یہ بھی خون کا مرض ہے ۔ہیموریج (جریان خون) یہ بھی خون کا مرض ہے۔ بخار سو یہ بھی خون سے وابستہ ہے ۔ متلی اور قے یہ بھی دل ہی سے متعلق ہیں ۔ اب خون کا جو تعلق دل سے ہے وہ ہم سب کو اچھی طرح سے معلوم ہے ۔ خون پیدا کرنے والے اعضا ان تابکار شعاؤں کا خصوصی ہدف ہیں اور خون کا تعلق جو دل سے ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔ دل اور پھیپھڑے ۔ جتنی بھی مرکب خلیوں سے بنی ہوئی مخلوق ہے اور جن کے دل اور پھیپھڑے اعلی قسم کے ہیں اور جن کے دورانِ خون کا نظام اور ساتھ ہی نظام تنفسس مقابلتہً بہتر ہے وہی ان تابکار شعاؤں سے مقابلتہً زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف ایک ہی خلیہ کی ساخت والی مخلوق جن کے دل اور پھیپھڑے مقابلتہً معمولی ہیں اور جن کے دوران خون کا نظام اور ساتھ ہی نظام تنفس مقابلتہً کمزور قسم کا ہوتا ہے وہی مقابلتہً ان تابکار شعاؤں سے کم متاثر ہوتے ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ یہ شعاعیں دل اور دل کے ساتھ وابستگی رکھنے والے اعضاء کے لئے مقابلتہً زیادہ رغبت رکھتی ہیں۔ آکسیجن ۔آکسیجن کی موجودگی میں ان تابکار شعاؤں کاعمل فزوں ہوتا ہے لیکن آکسیجن کی عدم موجودگی میں ان کا عمل ماند پڑ جاتا ہے اور آکسیجن کا عمل خون اور پھیپھڑوں کی صفائی میں واضح ہے اور اس لحاظ سے آکسیجن کا تعلق دل سے ثابت ہے ۔ دل اور دماغ گوشت اعصاب اور دماغ ایسے اعضاء ہیں جو تابکار شعاؤں سے مقابلتہً بالکل کم متاثر ہیں مگر دل اور اس سے وابستگی رکھنے والے تمام اعضاء ان شعاؤں سے بے حد متاثر ہوتے ہیں۔ ایٹمی طاقت کی پیدائش حتی کہ ایٹمی طاقت پیدا بھی اسی اصول پر ہوتی ہے یعنی ایٹم کے دل سے پیدا ہوتی ہے ۔ ایک نیوٹران یورانیم 235 کے ڈھیر میں سے ایک ایٹم کے دل پرحملہ آور ہو جاتا ہے اور اُ س ایٹم کے دل یعنی نیوکلس سے دو نیوٹران نکال باہر کرتا ہے اور یہ دو نکلے ہوئے نیوٹران گویا کہ منتقمانہ روش میں دو اور ایٹموں کے دلوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک دو نیوٹران ان ایٹموں کے دل سے نکال باہر کرتا ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ پھیلتا جاتا ہے حتی کہ یورانیم کا سارا ڈھیر غم و غصہ سے سرخ ہو کر پھٹ جاتا ہے ۔ یہ تو تھا ایٹمی طاقت کے حصول کا وہ عمل جسے فژن پروسس Fission Process کہا جاتا ہے ۔اب سنئے دوسرے عمل کا حال جسے فیوژن پروسسFusion Process کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں ایک ایٹم کا دل یعنی نیوکلس دوسرے ایٹم کے دل کے ساتھ اس زور سے بھینچا جاتا ہے کہ دو دلوں کا ایک دل ہو جاتاہے اور ساتھ ہی ایٹمی توانائی پیدا ہو جاتی ہے۔ دلوں میں آگ اور پھر کون ہے جو فکر و تشویش کی اس آگ سے نابلد ہے۔ جو آج روئے زمین کے انسانوں میں سے ہر ایک کے دل میں سلگ رہی ہے۔ یہ آگ بھی اسی ایندھن یعنی مادہ پرستی کی پیدا کی ہوئی ہے جس نے ایٹمی طاقت کو جنم دیا اور پھر ایٹمی طاقت نے جو تشویش بنی نوع انسانی کے دلوں میں پیدا کر دی ہے وہ روز بروز بڑھ رہی ہے اور سلگتے سلگتے ایک روز بھڑک اٹھے گی ۔ ’’ وہ اس آگ میں بند کر دیئے جائیں گے ‘‘( قرآن) تصور کو ہلکی سی جولانی دیں اور مثلاً دو کروڑ ٹن ایٹم بم کے دھماکے کاسماں باندھ لیں ۔ لیجئے ۔ دیکھئے ۔ وہ آنکھوں کو چندھیا دینے والا سورج سے زیادہ روشن شعلہ ابھرا ۔ دو سیکنڈ کے بعد بجھ گیا اور وہ دیکھو وہ تین میل قطر والا آگ کا گولہ ابھرا اور اس کے ساتھ ہی اس چوڑائی کا ستون کھینچتا ہوا اوپر کی جانب اٹھ رہا ہے۔ وہ دیکھو دس میل کی بلندی پرستون رک گیا ۔ اس کے سرے پر بادل کھمب کی چھتری کی شکل کا بادل چھا رہا ہے۔ پھیلتے پھیلتے اس نے ایک سو میل کا قطر بنا لیا ہے۔ اس بم کے اثر کا دائرہ گردا گرد۰ ۴ میل تک پھیلا ہوا ہے۔ اب تصور ہی تصور میں دیکھیں کہ ۴۰ میل قطر کا ایک سلنڈر اس ستون کے گرد اٹھ رہا ہے حتی کہ یہ سلنڈر چھتری نما بادل سے لگ گیا اور چھتری نما بادل نے اسے اوپر سے ڈھانک لیا۔ اب اس سلنڈر کو ایک الٹی ہوئی دیگ سمجھ لیں ۔ اس دیگ کے اندر کیا پک رہا ہے ۔ آگ ہی آگ ہے۔ ہر طرف ایک زلزلہ برپا ہے۔ بلڈنگیں دھڑام سے نیچے آ رہی ہیں۔ ایٹمی شعاعیں کیلوں کیطرح لوگوں کے جسم میں گھستی چلی جارہی ہیں ۔ انسان مرد، عورت، بچے ، بوڑھے آتش فشان چتاؤں میں جل رہے ہیں اور گوشت کے جلنے کی بدبو آ رہی ہے۔ یہ لوگ چیختے ہیں مگر کوئی سننے والا نہیں ۔ یہ لوگ باہر نہیں نکل سکتے ۔ یہ سب ایک الٹی دیگ کے نیچے بند ہیں اور فرمان خداوندی کے مطابق یہ آگ ہے بند کی ہوئی ان پر۔ مگر یہ منظر کشی تاحال ختم نہیں ہوئی ۔ وہ دیکھو ستون کا اوپر والا سرا چھتری نما بادل سے اوپر کی جانب اٹھ رہا ہے۔ یہ ستون اب بیس میل کی بلندی تک پہنچ گیا ہے اور وہاں ریڈیو ایکٹو فال آٹ Radio Active Fallout کی چادر کی صورت میں پھیلتا ہُوا ہوا کے دوش پر سوار ہو کر زمین کے گرد مصنوعی سیاروں کی طرح دس برس تک کے لئے محو گردش رہے گا۔ اس دوران میں فال آٹ Fallout کے ذرے رفتہ رفتہ زمین پر اترتے رہیں گے اور فصلوں اور پانی کے ذخیروں کو تابکار کرتے رہیں گے۔ گائے فصل کھائے گی، لوگ گائے کا دودھ پیءں گے اور تابکاری اثرات کے سبب کوڑھی ہو جائیں گے اور ان کے بچے عجیب مخلوق کی صورتوں میں پیدا ہوں گے۔ پس معلوم ہوا کہ ساری زمین ایٹم بم کی تابکاری کے اثرات میں گھری ہوئی ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ’’ یہ آگ بند کی ہوئی ان پر ‘‘ ہم نے دیکھاکہ ایٹم بم کادھماکہ ہوا تو چالیس میل قطر کی ایک دیگ اس رقبے کے باشیوں پر الٹ دی گئی۔ہمیں معلوم ہے کہ آگ کا پہلا بھپکا ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں نمودار ہو کر دو سیکنڈ تک اپنا کام کر چکتا ہے اور ایٹم بم کاتمام ترعمل صرف دس سیکنڈ میں اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ اب بتایئے وہ کون ہے جو اس تھوڑے سے عرصے میں چالیس میل کے رقبے سے صحیح سلامت باہر اڑ جائے گا ۔کوئی نہیں اُ ڑ سکے گا کیونکہ’’ یہ آگ بند کی ہوئی ہے اُ ن پر‘‘۔ اور وہ اس طرح اس میں بند ہیں جس طرح کہ یہ ایک ٹوکرے کے نیچے چوزے بند ہوتے ہیں اور پھر ایٹمی جنگ کے دوران لوگوں کے انخلا کامسئلہ دنیا کے بڑے سے بڑے صنعتی ملک کے لئے بھی ناممکنات میں سے ہے ۔ وہ لاکھوں کروڑوں آدمی جو ایٹمی آگ اور دھماکے سے تو بچ گئے مگر لازمی طور پر ایٹمی تابکاری کا شکار ہوئے ۔ ان کو متاثرہ رقبے سے نکال لے جانا کسی طور بھی قابل عمل نہیں ۔ خصوصاً جب کہ ایسے لوگوں کو اگر ایک یا دو روز میں وہاں سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر نہ پہنچایا جائے تو ان کے جانبر ہونے کی کوئی امید نہیں اور پھر ایٹمی جنگ کے موقع پر محفوظ جگہہ کہاں سے دستیاب ہو گی۔ کوئی جائے گا تو کدھر کوئی ٹھہرے گا تو کہاں ۔ الحفیظ و الامان۔ ذرا غور فرمائیں۔ جب قہر الہی نازل ہو رہا ہو تو امان کہاں ملے گی۔ ’’ لمبے لمبے ستونوں میں‘‘۔ ( قرآن) ستون ایٹمی دھماکے کی ایک طبعی خصوصیت ہے۔ مثلاً تین میل چوڑا اور بیس میل اونچا ستون ۔ لیکن ایک قابل دیدمنظر پانی کا وہ ستون پیش کرتا ہے جو اسی ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں ابھرتا ہے جو ہم کم گہرے پانی میں کیا جاتا ہے۔ مفسرین کرام اور حُطَمہ کے متعلق ان کی بیش قیمت آراء ۔ مفسرین کرام نے حُطمہ کے متعلق صحابہ کرام کے حوالے سے لکھا ہے ۔ وہ اسقدر کافی و شافی ہے کہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں باقی رہتی۔ حوالہ جات کے ماخذ تفسیر ابن عباس ،تفسیر کبیر از امام فخر الدین رازی ، الجلالین، طبر ی، تفسیر القران العظیم از امام اسماعیل ابن کثیر ہیں ۔جو کچھ بھی ان حضرات نے اس ضمن میں لکھا ہے ۔ وہ تمام کا تمام اُ س حُطَمہ کے متعلق ہے جو اگلی دنیا میں ہے اُ س حُطَمہ کے دنیاوی نمونے کاتجربہ اس دور کے بدنصیبوں کے حصے میں تھا ۔ فرق ان ہر دو قسم کے حطمہ میں صرف اور صرف اس قدر ہے کہ جہاں اگلی دنیا کا حُطمہ اگلی دنیا کیطرح لازوال اورناقابل اختتام ہے۔ اس دنیا کا حُطمہ اس دنیا کی طرح ایک معینہ مدت تک قائم رہتا ہے ۔ البتہ یہ بات اس میں بھی ہے کہ جب ایک ایٹم بم کا عمل جاری ہوجاتا ہے تو اس وقت تک ختم نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کا تمام عمل اپنے اختتام کو نہیں پہنچ جاتا۔ اب ملاحظہ فرمائیں ۔
    حضرت ابن عباس :۔
    ’ویل‘‘۔ سخت عذاب۔ آگ کا گڑھا ۔دوزخ میں ایک مکان بدبودار۔ خون اور پس کی ایک وادی۔ اب پچھلے بیان کی روشنی میں اس سب تشریح کو دیکھیں اور پھر دیکھیں کہ ایٹمی تابکاری کے امراض کی علامات کو بدبودار خون اور پَس سے کس قدر مطابقت ہے ۔ ایٹمی جنگ کے بعد کا منظر پیش نظر رکھیں کہ کروڑوں آدمی ہیموریج جریان خون میں مبتلا قے کے انبار لگا رہے ہیں اور بدبودار خون کے جزیرے بن گئے ہیں۔
    (ب) ’’لمبے لمبے ستونوں میں ‘‘۔( قرآن ) آگ کے ایسے ستون جو بہت عمیق ہیں۔
    (ii ) الجلالین :۔
    ’’ آگ ہے بند کی ہوئی ان پر لمبے لمبے ستونوں میں‘‘۔( قرآن) ’’معتوب لوگ ان سلنڈروں میں ڈال دیئے جائیں گے اور پھر ان سلنڈروں کو بند کر دیا جائے گا‘‘۔ اب برائے مہربانی ذرا اپنی نگاہوں کے سامنے اس سارے عمل کو دہرائیں جو ایٹم بم کے چلنے سے اس عمل کے اختتام تک ظہور پذیر ہوتا ہے۔
    (ب) ’’ حطمہ ایک آگ ہے جو کبھی نہیں بجھتی‘‘۔ حضرت مفسر کے ذہن میں اگلی دنیا کاحطمہ تھا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جلتا رہے گا تاہم اس دنیا کا حطمہ بھی اس وقت تک نہیں بجھایا جا سکتا جب تک کہ وہ اپنا ساراعمل پایہ تکمیل کو نہ پہنچا لے اور یہ عمل منحصر ہے آگ کے ابتدائی بھپکے دھماکے اور ایٹمی تابکاری کی شعاعوں کے اخراج پر اور اس عمل کے دوران ایٹم بم کوکسی صورت میں بھی نہیں بجھایا جا سکتا اور یہ عمل صرف دس سیکنڈ میں پایہء تکمیل کو پہنچ کر اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ اس دنیا میں کسی چیز کو بھی دوام و قیام نہیں، یہاں کا حُطَمہ بھی اس اصول سے مستثنی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
    ( iii ) تفسیر الکبیر امام فخرالدین رازی :۔
    ’’حطمہ ایک ایسی آگ ہے جس میں جو کچھ بھی ڈالا جائے اسے پیس کر ذرہ ذرہ کر ڈالتی ہے۔ یہ ایک آگ ہے جو ہڈیوں کو کچل دیتی ہے ۔گوشت کو کھا جاتی ہے حتی کہ بالآخر یہ دل پر حملہ آور ہوتی ہے‘‘۔ اب دیکھئے کہ کس طرح ایٹمی تابکاری کی شعاعیں ہڈیوں کو کچل ڈالتی ہیں اور گوشت پوست کو کھا جاتی ہیں حتی کہ آخر کار ان کا اثر دل پہ پہنچتا ہے ۔ اس عظیم مفسر کوہم نے جیسا سنا تھا ۔ ویسا ہی پایا ۔ بعض باتوں میں اس کی دقیق نگاہوں نے جو کچھ دیکھا ہے۔ اس کو بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے اور جس اندازے سے اس باریک بین مفسر نے مستقبل کے تجزیاتی رحجانات میں جھانکا ہے ۔ وہ بذات خود خداداد فہم و فراست کا ایک عجوبہ ہے ۔
    (ب) ’’ پھر دل کی کیفیت کا اندازہ کریں جب کہ آگ کا ایک پورا دوزخ اس کے اندر جھونک دیا جائے اور پھرتعجب انگیز امر یہ ہے کہ حالانکہ حطمہ کے جہنم نے مکمل طور پر اس دل کو دبوچ رکھا ہے مگر اس کو جلا نہیں ڈالا۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایٹمی دھماکے کی آگ کا ابتدائی بھپکا کسطرح آدمی کے دل پر چڑھ کر اسے روند ڈالتا ہے حتی کہ دل اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے مگر مردہ کے دل کو چیر کر دیکھیں تو اس پر آگ سے جل جانے کا کوئی نشان موجود نہیں ہوتا۔ چونکہ مفسر نے اپنا بیان اگلی دنیا کے لازوال حطمہ کے آئینے میں رقم فرمایا ہے لہذا وہاں کے لئے ایک ابدی کوفت کے باوجود موت کا احتمال نہیں البتہ یہ یاد رکھا جائے کہ وہ لوگ جو اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم کی سزا کے مستوجب گردانے جائیں گے وہ وہاں کے ایٹمی جہنم میں کبھی نہ مریں گے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض بے گناہ لوگ یہاں کے ایٹمی دھماکے کی بھینٹ چڑھ جائیں لیکن پھر ان لوگوں کی تلافاتی مافات اللہ تعالی اگلی دنیا میں فرما دیں گے۔ جیسا کہ نبی صادق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معلوم ہوا۔ کہ بعض بے گناہ لوگ بھی ایسی آفات سماوی کی نذر ہو جائیں گے جو بطور مکافات کے لوگوں پر نازل کی گئیں مگر پھر بے گناہوں کو اللہ تعالی اگلی دنیا میں اجر سے نوازیں گے اور ان کے نقصان کی تلافی فر ما دیں گے ۔
    (iv) طبری
    ’’ وہ بند کی ہوئی ہے آگ اُ ن پر‘‘۔( قرآن ) ’’دوزخ میں ایک ایسا شخص ہو گا جو ہزار برس تک یہ کہتا رہے گا ۔ یا حنان یا منان۔ اللہ تعالی اپنے رحم و کرم کی بنا پر جبرئیل فرشتہ کو حکم فرمائیں گے ۔ جا ؤ اور میرے بندے کو آگ سے نکال لے ۔ جبرئیل فرشتہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بموجب جائے گا مگر آگ کو اُ ن پر بند پا کر واپس لوٹ آئے گا اور اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا ۔ یا باری تعالیٰ۔ آگ تو ان پر بند ہے۔ اللہ فرمائیں گے ۔ جا اور اسے کھول دے اور میرے بندے کو اس میں سے نکال لے ۔ اس طرح اس آدمی کو آگ سے نکال لیا جائے گا اور بہشت کے باہر ڈال دیا جائے گا حتی کہ اللہ تعالیٰ اس کے بال اور گوشت اور خون دوبارہ اگا دیں گے‘‘۔ اب معلوم ہے کہ ایٹمی تابکاری شعاعیں بالوں کو متاثر کرتی ہیں۔ خون کے سوتے خشک کر دیتی ہیں اور گوشت کو چاٹ جاتی ہیں اور انسانی ہڈیوں کا ایک لنچ پنچ بن کر رہ جاتا ہے ۔
    (ب) ’’ یہ بند کی ہوئی آگ ہے ان پر‘‘۔( قرآن) ’’ معتوبین کو پہلے سلنڈروں میں بند کر دیا جائے گا اور پھر ان سلنڈروں کو اوپر کی طرف کھینچ کر بڑھا دیا جائے گا‘‘۔ اب ایٹمی دھماکے میں اٹھنے والے ستون کو اپنے ذہن میں لایئے ۔ کسطرح پہلے تو ایٹم بم سے متاثر ہونے والے رقبے کے لوگوں کو آگ میں بند کر دیا جاتا ہے پھر کس طرح بتدریج اٹھنے والے ستون کو اوپر کی جانب بڑھایا جاتا ہے۔ جس طرح کمہار اپنے چاک پر برتن کو اوپر کی جانب بڑھاتا جاتا ہے۔
    حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی سے منسوب روایت :۔
    یہ حوالہ جلالین سے نقل شدہ ہے ۔ ’’ اللہ تعالی ان مفتوحین پر فرشتے متعین کریں گے ۔ ان فرشتوں کے پاس آگ کے ڈھکنے اور آگ کی میخیں اور آگ کے ستون ہوں گے۔ پس یہ فرشتے ان معتوبین کو آگ کے ڈھکنوں کے نیچے بند کر دیں گے اور ان کو آگ کی میخوں سے جڑ دیں گے اور آگ کے ستون اوپر کی طرف بڑھا دیں گے۔ ہر چیز اس سختی کے ساتھ بند ہوگی کہ نہ راحت کا کوئی جھونکا اس کے اندر داخل ہو سکے گا اور نہ ہی عذاب کی کوئی رقق باہر آ سکے گی‘‘۔ اب ایٹمی دھماکے کی تشریح کا کوئی ایسا بیان جو اس سے کسی بھی صورت میں بہتر ہو تصور میں نہیں آ سکتا ۔ ایٹمی دھماکے کا دائرہ اثر بالکل ایک ڈھکنے کی طرح ہوتا ہے جس کے نیچے بدنصیب لوگ بند ہو جاتے ہیں۔ ایٹمی تابکاری کی شعاعیں ایسی کیلیں ہیں جن سے ان بدنصیببوں کے جسموں کو جڑ دیا جاتا ہے اور ستون خود وہ ستون ہیں جو آگ کے گولے کے ساتھ کھینچتے ہوئے اوپر کی جانب میلوں کی بلندی تک اٹھتے ہیں۔سبحان اللہ تعالیٰ۔
    ایٹم بم کے ظہور کی وجوہات:۔
    وجوہات جیسا کہ قرآن حکیم نے فرما دی ہیں۔ تین ہیں عیب جوئی، نکتہ چینی اور طعن و تشنیع ۔ مال و دولت جمع کرنے میں کلی ستغراق اور گن گن کر رکھنے کی خصلت ۔ دولت کی ہمیشگی کا تصور اور اس کی پرستش کی حد تک اعتماد ۔ترجمہ ’’بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لئے جو پس پشت عیب نکالنے والا اور طعنہ دینے والا ہو جو غائت حرص سے مال جمع کرتا ہے اور غائت حب حرص سے اس کو بار بار گنتا ہو۔ وہ خیال کر رہا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدارہے گا ۔ ہرگز نہیں رہے گا‘‘۔ پھر آگے ویل کی تفسیر ہے ’’واللہ وہ شخص ایسی آگ میں ڈالا جائے گا جس میں جو کچھ پڑے وہ توڑ پھوڑ دے اور آپ کو معلوم ہے۔ وہ توڑ پھوڑ کرنے والی آگ کیسی ہے۔ وہ آگ جو اللہ کے حکم سے لگائی گئی ہے ۔ جو کہ بدن کو لگتے ہی دلوں تک پہنچے گی اور ان پر بند کر دی جائے گی۔ اس طرح سے کہ وہ لوگ آگ کے لمبے لمبے ستونوں میں گھرے ہوں گے ‘‘ہمارا خیال ہے کہ یہ معلوم کرنے کی خاطر کہ یہ تینوں خصلتیں اس موجودہ مادہ پرستی اور پروپیگنڈہ اور ترقی کے لا محدود پلانوں کے معاشرے میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ کسی بقراط اور ارسطو کی تیزبین نگاہ کی ضرورت نہیں لہذا ہم اس بیان کو آگے نہیں بڑھائیں گے۔ جان لیجئے کہ قرآن حکیم کی یہ پیشین گوئی قضائے مبرم کی صورت میں پیش نہیں ہوئی بلکہ ایک تنبیہ ہے ۔ جسطرح یہ کہا جائے کہ یہ کام کرو گے توسزا پا ؤگے لیکن اگر ایسا نہیں کرو گے تو بچ جاؤ گے۔ پس اگر وہ اسباب جو ایٹم بم کی پیدائش کا موجب ہوتے ہیں نابود کر دیئے جائیں گے تو ایٹمی خطرہ معدوم ہو سکتا ہے۔ سائنسدان تا حال ایٹم بم کا رد پیدا کر سکا ہے نہ تابکاری سے پیدا ہونے والے امراض کا علاج تلاش کر سکا ہے اور نہ ہی ایٹمی دھماکے کے دوران میں کوئی کارگر حفاظتی تدابیر ہی معلوم ہو سکی ہیں۔ ایٹمی جنگ کو روکنے کے لئے معاہدے ایک موئے آتش دیدہ کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ لیکن قرآن حکیم نے اس کا رد پیش کردیا ہے اور یہی اس انسانیت کے لئے امید کی آخری کرن ہے ۔ تو دنیا کی کوئی طاقت انسان کو ایٹمی جہنم سے نہیں بچا سکے گی ۔ قرآن حکیم کا یہ زندہ معجزہ ہے اور یہی انسانیت کی آخری اُ مید ہے۔ ہر آدمی اسکو سمجھ سکے گا تاہم کماحقہ تفہیم صرف اعلی قابلیت رکھنے والے لوگوں کے لئے مختص ہے ۔ 20 دسمبر 1963 ء کو میرا پہلا خاکہ پاکستان ٹائمز میں چھپا ۔ اس خاکے نے کئی ایک یورپین ممالک میں ہلچل مچا دی۔ صدیاں ہونے کو ہیں اور دیکھنے والی نگاہیں منتظر ہیں اور آج یہ چاند نمودار ہو چکا ہے۔ میں مسلمان قوم کو ان کا یہ اولین فریضہ یاد دلاتا ہوں کہ وہ حسب وعدہ اللہ تعالے کے کلام کو روئے زمین کے گوشے گوشے میں پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ اور وہ اس فرض سے روگردانی نہ کریں اور یاد رکھیں کہ قرآن حکیم کی ایٹمی جہنم کی یہ پیشین گوئی دنیا میں منتشر ہوئے بغیر اگر خدا کی مخلوق ایٹمی جہنم میں پھینک دی گئی تو سب سے پہلی پرستش اُ مت مسلمہ سے ہو گی اور تمام تر ذمہ داری ان پر ڈال دی جائے گی ۔لیکن اگر یہ پیشین گوئی دنیا والوں کو سنا دی گئی تو اس صورت میں ذمہ داری ان کی اپنی ہو گی۔ جو خدا کی اسدنیا کو ایٹمی جہنم میں جھونک دیں گے ۔
    یوسف جبریل
    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی پاکستان
    allamayousuf.net
    http://www.oqasa.org

    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

Leave a Reply