قران حکیم کی ایک عظیم پیشین گوئی ایٹم بم تحریر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد افضل

قران حکیم کی ایک عظیم پیشین گوئی
ایٹم بم
تحریر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد افضل
حضرت مسیح موعود کا ایک شعر ہی
یا الہیٰ تیرا فرقان ہےکہ اک عالم ہی
جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا
یہ شعر قرآن حکیم کی جامع تفسیر ہی۔ دنیا کی ہر چیز جو ضروری ہےوہ قرآن حکیم میں موجود ہی۔ یہی نہیں بلکہ کئی پیشگوئیاں جو ماضی بعید، ماضی قریب اور مستقبل سےمتعلق ہیں ان کا بھی ذکر قرآن حکیم میں موجود ہی۔
گزشتہ چند ماہ سےدنیا کےسائنس دان دس ارب ڈالر کی لاگت سےcern میں ایک تجربہ کر رہےہیںکہ ہماری زمین کس طرح معرضِ وجود میں آئی تھی جو Big Bang کےنام سےمشہور ہےلیکن قرآن حکیم میں Big Bang کا ذکر چودہ سو سال پہلےہی سےموجود ہی۔ قرآن کریم میں بےشمار ایسی پیش گوئیاں ہیں جو ہمارےدور کےواقعات اور ایجادات سےمتعلق ہیں۔ ان میں سےکچھ تو غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں لیکن اس وقت میں صرف ایک ایسی پیش گوئی سےمتعلق بیان کرنا چاہتا ہوں جو ایٹم بم کےوجود اور اس کےدھماکےسےمتعلق ہےاوراس کا بیان 1400 سال سےسورة الھمزہ میں موجود ہی۔ اس وقت انسان کاتصور کسی طرح بھی ایٹمی دھماکےکےخیال تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ یہ حقیقت بھی کچھ کم حیران کن نہیں کہ اس دور کےلوگ اس چھوٹی سی سورة کی اہمیت کو نہ جان سکی۔ یہ پیشگو ئیاں جنہوں نےدنیا کو چیلنج دیناتھا اور ایک تہلکا مچادینا تھا۔ خاموشی سےبغیر چیلنج دیئےگزر گئیں۔ اور سارا credit وہ لوگ لےگئےجن کےآباو¿ اجداد 1400 سال پہلےجنگلوں میں وحشیوں کی طرح رہتےتھی۔
آئیے !ہم سورة الھمزہ کا مطالعہ کریں اور دیکھیںکہ اس میں کتنی شان سےایٹمی پیش گوئی کا ذکرہی۔
(ترجمہ) ہلاکت ہو ہر غیب کرنےوالےسخت عیب جو کےلئی۔ جس نےمال جمع کیا اور اس کا شمار کرتا رہا۔ وہ گمان کیا کرتا تھا کہ اس کا مال اسےدوام بخش دےگا۔ خبردار ! وہ ضرور حطمہ میں گرایا جائےگا اور تجھےکیا معلوم کہ حطمہ کیا ہی۔وہ اللہ کی آگ ہےبھڑکائی ہوئی ۔جو دلوں پر لپکےگی ۔ یقینا وہ ان کےخلاف بند رکھی گئی ہی۔ ایسےستونوں میں جو کھینچ کرلمبےکئےگئےہیں“۔
(سورة الھمزہ۔ آیت ٢ تا ٠١)
آیئے! سب سےپہلےحطمہ کا مطلب سمجھنےکی کوشش کریں۔ عربی لغت میں حطمہ کےدو بنیادی مطلب بیان ہوئےہیں۔ پہلا حطمہ (Hotama )ہےجس کا مطلب ہےکوٹنا یا بہت باریک سفوف تیار کرنا۔ دوسرا حِطمہ (hitama )جس کا مطلب ہےچھوٹا ترین حقیر ذرہ۔ لہذا حطمہ کسی چیز کو اس کےچھوٹےترین ذرات میں توڑنےسےحاصل ہوتاہی۔ یہ دونوں مطالب ایسےنہایت چھوٹےذرات کےلئےاستعمال ہوتےہیں۔ جو مزید تقسیم نہ ہو سکی۔ 1400 سال پہلےایٹم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔
آیئے! دیکھیں ایٹم کیا ہی۔ کسی عنصر کا چھوٹےسےچھوٹا حصہ جو مزید تقسیم نہ ہو سکےاور اس کی وہی خصوصیات ہوں جو اس عنصر کی ہیں تو وہ ایٹم ہی۔
آپ میں سےشائد کسی کو یاد ہو کہ عورتیں سرمہ پیس کرتیں تھیں۔ سرمہ کی ڈلی کو کھرل میں ڈال کر کوٹ کر چھوٹےذروں میں تقسیم کرکےپھر گلاب کاعرق ڈال کرہاون دستہ سےرگڑتیں۔ چار پانچ دنوں کےبعد گلاب کا عرق سوکھ جاتا تو پھر عرق ڈال کر رگڑتیں۔ اس طرح پندرہ بیس دنوں میں اعلیٰ قسم کا پاو¿ڈر بن جاتا ۔کیا آپ پاو¿ڈر کےایک ذرہ کو دیکھ سکتےہیں۔ تو یہ ہےحطمہ۔ بلکہ حطمہ اس ذرےسےبھی چھوٹا ہوتا ہی۔
حیرت انگیز بات یہ ہےکہ قرآن کریم کی کچھ آیات میں توواضح طور پر ایٹم اور چھوٹےذرات کا ذکر ہی۔ جو توانائی کا عظیم ذخیرہ ہیں۔ چھوٹےذرات پر بہت ریسرچ ہوئی ہےاور ہو رہی ہےاور نئےسےنئےانکشافات ہو رہےہیں۔ چھوٹےذرات پر کئی کتب لکھی گئی ہیں۔
چھوٹےذرات سےمتعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خوب صورت شعرملاحظہ ہو۔
کیا عجب تو نےہر ایک ذرہ میں رکھےہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہےسارا دفتر ان اسرار کا
حطمہ اور ایٹم گویا ایک ہی چیز کےدو نام ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو حطمہ اور ایٹم کی صوتی آوازیں بھی ملتی ہیں۔
اب حل طلب سوالات یہ ہیں :۔
(١) حطمہ اتنا چھوٹا ہےکہ نظر بھی نہیں آتا۔ تو پھر انسان کو حطمہ میں کیسےڈالا جائےگا؟
(٢) آگ دلوں پر کیسےلپکےگی؟
(٣) وہ کیسی آگ ہےجو بند کی گئی ہےایسےستونوں میں جو کھینچ کرلمبےکئےگئےہیں۔
آیئے پہلےہم یہ دیکھیں کہ ایٹمی دھماکا کس طرح ہوتا ہے؟ جب ایک نیوٹران یورانیم ایٹم کو بمبار (hit) کرتا ہےاور وہ نیوٹران یورینیم ایٹم میں جذب ہو جاتا ہےتو یورینیم ایٹم کی ایٹمی کمیت (atomic mass ) کی حالت فاضل کمیت (critical mass) میں تبدیل ہو جاتی ہی۔ اور مرکب مرکزہ (compound nucleus) تھرتھرا نااور پھیلنا شروع کر دیتا ہی۔ مرکب مرکزہ دو حصوں میں تقسیم ہونےسےپہلےایسا معلوم ہوتا ہےگویا ان دونوں حصوں یعنی ان ستونوں کو کھینچ کر لمبا کیا جا رہاے۔یہ دباو¿ کا مرکب نیوکلیس کےپھٹنے سےپہلےاس کےکھینچ کر لمبےہونےسےپیدا ہوتا ہی۔ ان دو نئےبننےوالےعناصرکا مجموعی ابتدائی عناصر سےکم ہوتا ہی۔ ایٹمی وزن کا وہ چھوٹا سا حصہ جو اس عمل میں ضائع ہو جاتاہےوہ توانائی کی شکل میں ظاہر ہو جاتاہی۔
اس شکل سےظاہر ہےکہ اگر یورانیم کےایٹم کو ایک نیوٹران سے بممبار کرتےہیں تو آخر میں توانائی کےنکلنےکےساتھ تین نیوٹران کو بمبمار کرتےہیں اور اور توانائی کےساتھ نیوٹران نکلتےہیں پھر نیوٹران سےستائیس نیوٹران نکلیں گےاور اس طرح یہ سلسلہ چل پڑتا ہےاور ایک سکینڈ سےکم عرصےمیں یہ عمل متعدد بار دہرایا جاتاہےاور وہ آگ کا گولہ بن جاتاہےجو ایک کھبمی کی طرح دس بارہ کلومیٹر اونچا بن جاتاہےاور یہ وہ آگ کا گولہ جو حطمہ یعنی ایٹم کےپھٹنےسےبنا ہےاور حطمہ میں انسان کو پھینکا جائےگا گویا یہ وہی آگ ہےجو بند کی گئی ہےان ستونوں میں جو کھینچ کر لمبےکئےگئےہیں۔ اب آخری سوال یہ رہ گیا ہےکہ آگ دلوں پر کیسےلپکےگی ؟
اگر انسان کو آگ میں پھینکا جائےتو ہو سکتاہےکہ انسان کا جسم جل جائےاور مر بھی جائےاور دل کو خراش تک نہ آئئےتو پھریہ کون سی آگ ہےجو صرف دلوں لپکےگی اور انسان کو موت کی نیند سلا دیگی۔
جب ایٹم بم پھٹتا ہےایک تو آگ کا گولا بنتا ہےاور دوسرےگیما ریز کےعلاوہ ایکس ریزاور نیوٹران بڑی تعداد میں اور بڑی تیزی سےنکلتےہیں۔ گیماریز کا رینج بہت زیادہ ہوتاہی۔ وہ انسانی جسم سےآسانی سےگزر سکتی ہیں اور گیما ریز میں بہت زیادہ ارتعاش ہوتاہےگیما ریز بھی آگ ہی ہےلیکن یہ وہ آگ نہیں ہےجو ہر چیزکو جلا دڈالتی ہےبلکہ یہ وہ آگ ہےجو انسانی جسم کو خراش تک دیئےبغیر لپک کردلوں پر حملہ کرےگی۔ گیماریزکا ارتعاش ایک سیکنڈ میں کھربوںسےبھی زیادہ ہوتا ہےلیکن دل ایک منٹ میں ستر ، اسی مرتبہ دھڑکتا ہی۔ لہذا گیما ریزجب انسانی جسم پرپڑتی ہیں تو یہی ارتعاش دل کی حرکت بند کر دیتاہے۔اس طرح وہ آگ جو بند کی گئی ہےایسےستونوں میں جو کھینچ کر لمبےکئےگئےہیں وہ لپک کر دلوں پر حملہ کرکےنسان کو موت کی نیند سلا دےگی۔
( نوٹ : یہ مضمون حضرت خلیفتہ المسیح الربع کی سوال و جواب کی مجلسوں کو سن کر اور ان کی کتاب Revelation, Rationality, knowledgeand Truth کوپڑھ کر لکھا گیا ہی۔
( اشاعت ماہنامہ خالد مارچ ٩٠٠٢ جلد نمبر ٦٥ شمارہ نمبر ٣ سےلی گئی )


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 76
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 75
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 72
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 71
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 69
    وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ تحریر ملک محمد شیر اعوان وساوال ۔ کہتےہیں کہ قدرت جب کسی سےکوئی مخصوص کام لینا چاہتی ہی۔ تو اس کام کےلئےاسی قوم میںسےمخصوص افراد کو چن لیتی ہی۔ جو اس کام کی انجام دہی میں شب و روز ایک کر دیتےہیں۔…
  • 69
    علامہ محمد یوسف جبریل ،وادی سون اور انگریز کی نوکری تحریر : شوکت محمود اعوان جب تک انگریز دنیا کی سپر پاور بن کر دنیا پر حکمرانی کرتےرہی۔ تو ان کی مقبوضات میں شامل ہندوستان کا ایک کوہستانی علاقہ بھی ان کی فوج کےلئےایندھن کا کام دیتا رہا۔ یہ پنجاب…
  • 69
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 68
    وادی سون (م ش) wadi soon a column by meem sheen nawaiwaqt lahore produced by shaukat mehmud awan general secretary adara tehqiqul awan pkistan سرگودھا ڈویژن میںاعوان کاری میں ایک ایساعلاقہ بھی شامل ہےجوقران کریم کےحفاظ کی تعداد کےلحاظ سےشاید سارےعالم اسلام میں اولیت کا دعویدار کہلا سکتا ہی۔ اس…
  • 68
    وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر تحریر : ملک شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسرنےبےشمار ادیب، شاعر، عالم، فاضل، مفسر، مقرر، دیندار،سائنس دان، فلسفی، ولی اللہ،مجاہد،فوجی افسر اور فوجی جوان، ٹیچر، زاہد، عابد اور علمائےکرام کو جنم دیا ہی، ان میں ہم جس شخصیت…
  • 67
    خدا بانٹ لیا ہے تحریر : محمد عارف (ٹیکسلا) آجکل تھوک کےحساب سےچھپنےوالےشعری مجموعوں میں سےشاید ہی کوئی دل کو بھا جائےاور جذبات میں ہلچل بپا کرنےکا سبب ہو ۔کاشف بٹ کا شعری مجموعہ ”خدا بانٹ لیا ہی“ بھی انہی میں سےایک ہی۔ کاشف بٹ کی شاعری پڑھتےہوئےملائمت، نرمی اور شگفتگی…
  • 67
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…
  • 66
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 66
    ”حالِ فقیر“ (محمد عارف ٹیکسلا) گروپ کیپٹن(ر) شہزاد منیر سےٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔ تو وہ مجھےپہلےسےہی جانتےتھی۔ میں نےانہیں اپنی اس خواہش سےآگاہ کیا کہ میں ڈاکٹر تصدق حسین کےبارےمیں کچھ خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہیں ”حالِ فقیر “میں شامل کر لیا جائےتو میرےلئےسعادت کی بات ہو…
  • 66
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 66
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 65
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…
  • 65
    مسیحائےوقت“ کےبارےمیں صدائےزمان لاہور کےکالم تحریر : محمد عارف رائےمحمد اشرف صاحب کےروزنامہ ” صدائےزمان“ لاہور میں ” مسیحائےوقت“ کےنام سےجناب عنایت اللہ صاحب کا ایک کالم نظر سےگذرا۔ جناب عنایت اللہ صاحب محب وطن پاکستانی اور قومی نقطہءنظر کےحامل دانشور ہیں۔ جناب عنایت اللہ صاحب کی علمی تصنیف ”…
  • 65
    ”کن فیکون“ پر خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کا تبصرہ ”کن فیکون“ نامی کتاب تحریر محمد عارف میں ملک شوکت محموداعوان نےمندرجہ مضمون میں اپنےوالد محترم کی شخصیت کےمختلف پہلو اجاگر کئےہیں۔ بہر حال شوکت محمود اعوان کو یہ اعزاز حاصل ہےکہ انہوں نےاپنےوقت کےعظیم دانش ور کی خدمت کا…
  • 64
    نوجوان شاعر رو ف امیر کا فن اور شخصیت تحریر شوکت محمود اعوان (یہ مضمون بہت پرانا ہے۔اس زمانےمیں جب رو¿ف امیر کالج کی زندگی گذار رہا تھا۔ میں نےاس زمانےمیں یہ مضمون لکھا۔ یہ مضمون کسی پایہ کا نہیں لیکن کچھ یادیں وابستہ تھیں تو میں نےاسے پیش کر…
  • 63
    حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان 1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.
Copied!