ماہنامہ ”شعوب “ میری نظر میں تحریر شوکت محمود اعوان

ماہنامہ ”شعوب “ میری نظر میں
تحریر شوکت محمود اعوان
مجھےماہنامہ شعوب کراچی پر قلم اٹھاتےہوئےطمانیت کا احساس ہو رہا ہی۔ میری نگاہوں کےسامنےوہ سارا زمانہ آ گیا جب میں اور ملک محبت حسین اعوان نےاعوان قبیلےکی تاریخ مرتب کرنےکا بیڑہ اٹھایا۔ مجھےوہ وقت کبھی بھی نہیں بھول سکتا کہ جب پاکستان کی گلی گلی اور کوچےکوچےمیں گھوم کر اعوانوں کی تاریخ کو کھنگالنے، اسےدیکھنےاور جانچنےکا مرحلہ درپیش تھا۔ محبت حسین اعوان نےہمیشہ کھلےبازوو¿ں سےمیرا استقبال کیا اور میری اعوانوں سےمحبت کو قدر کی نگاہ سےدیکھا۔ میری اعوان قبیلےسےوابستگی محض اتفاقی نہیں، جذباتی بھی ہی۔ مجھےہمیشہ محبت حسین اعوان جیسےقلم کےجرنیلوں کا ساتھ دینےاور ان کی خدمت کرنےکا شرف حاصل رہا ہی۔ کیوں کہ یہ میرا ذوق و شوق ہی نہیں میرےپاس میرے آباءکی وراثت بھی ہی۔ سو میں نےان کا بھرپور ساتھ دیا۔میرےوالد گرامی قدر علامہ محمد یوسف جبریل نےاعوان قبیلےپر ایک مبسوط کتاب تحریر کی ہی۔ اور ان کا لکھا ہوآعوان نوجوان کا نغمہ اپنی ادبی اور تاریخی اہمیت کےعتبار سےہر کس و ناکس میں مقبول ہی۔ محبت حسین اعوان جب بھی میرے والد گرامی کےپاس تشریف لاتےتو وہ ان کےعلمی ذوق کو دیکھ کر بےپایاں مسرت کا اظہار فرماتی۔ دیکھتےہی دیکھتےمحبت حسین اعوان اعوان قبیلےکا ہیرو قرار پایا۔ آج خیبر سےکراچی تک اس کےنام کا ڈنکا بجتا ہی۔ اس کی کتابیں لوگ سر آنکھوں پر سجاتےہیں۔ اور اس کی تحریروں کےحوالےدیئےجاتےہیں۔ میں پورےوثوق سےیہ کہہ سکتا ہوں کہ محبت حسین اعوان کی فقراءو اولیاءاللہ خصوصاََ میرےوالد گرامی قدر سےنیاز مندی کا نتیجہ ہے۔کہ آج انہوں نےنہ صرف اعوانوں کا وقار قومی تاریخ میں بلند کیا ہےبلکہ ان کا اپنا نام بھی اور اونچا ہو گیا ہی۔ میں بھی علم و ادب کےسفر کا ایک مسافر ہوں۔ مجھےاعوان قبیلےسےشروع سےہی ایک لگاو¿ رہا ہی۔ لہذا ماہنامہ ”شعوب“ کراچی کی اشاعت سےمجھےبےپایاں مسرت ہوئی کہ اس قبیلےکےایک مرد دانا نےاپنی علمی دلچسپیوں اور ادبی ذوق کےاظہار کےلئےایک نیا سلسلہ تلاش کر لیا ہی۔ یہ دلچسپی اسےشعورو آگہی کی منزلوں سےہمکنار کرےگی۔ محبت حسین اعوان سرتاپا محبت اور اخلاص ہے۔وہ اس میں بامسمہ بھی ہیں۔ شعوب کی اشاعت پر میری طرف سےدلی مبارکباد
(صوفی شوکت محمود اعوان بن علامہ محمدیوسف جبریل )
ایڈیٹر ویکلی” وطن“ اسلام آباد
قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 83
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 83
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 80
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “ماہنامہ ”شعوب “ میری نظر میں تحریر شوکت محمود اعوان

  1. Comments on monthly shoub by m. arif taxila
    ماہنامہ’’ شعوب‘‘ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر
    محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلے کے ایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے ’’شعوب‘‘ کے نام سے ایک ادبی پرچے کا اجرا کیا جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر �آیا ہے ۔ زیرِ نظر پرچہ’’ شعوب‘‘ اپنے حسنِ اسلوب اور جامع و اکمل مضامین کے اعتبار سے لائقِ توجہ ہے۔’’ شعوب‘‘ میں مختلف اقوام و ملل کی تاریخ شامل کی گئی ہے جس کہ وجہ سے وطنِ عزیز میں باہمی یگانگت اور عالم گیر محبت و اخوت کے جذبات کو فروغ دینے میں مددد ملے گی تاکہ اندرون و بیرونِ ملک دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے امتِ مسلمہ یک قالب اور یک جان ہو سکے ۔ یہ وہ عظیم فکر ہے کہ جس میں سب سے پہلے قومی شاعر حضرت علامہ محمد اقبال ؒ کے بتون میں جنم لیا اور مسلمانوں کو ملی وحدت کی لڑی میں پرو دیا۔ قطب شاہی اعوان ، مسلم کھتری تاریخ کے آئینے میں، سندھ بلوچستان میں عربوں کی حکومتیں اور عباسی تاریخ کے آئینے میں، جیسے رنگارنگ مضامین فکری ترفع اور وسعتِ معلومات کے آئینہ دار ہیں۔یہ مضامین تاریخ کے وہ گم شدہ اوراق ہیں جنہیں اس دستاویزِ محبت میں ورق ورق سجا دیا گیا ہے۔ ویلٹائن ڈے، مغربی ثقافت کاآئینہ دار ہے جسے اسلامی تہذیبوں کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے جو کہ شاہدہ خان کے قلم کاشاہکار ہے۔ عاصم شہزاد کا مضمون حضرت بابا سجاول ؒ ایک عمدہ تحریر ہے جس میں حضرت بابا سجاولؒ کے حالاتِ زندگی عرق ریزی سے مرتب کئے گئے ہیں۔ مخدوم سید معین الحق جھونسوی کی تحقیق کاترجمہ علامہ ڈاکٹر ساحل شہسرامی الیگ نے کیا ہے جو اعوآن علوی قبیلے کے سلسلے میں نئی معلومات فراہم کرتا ہے۔ محمد آصف کا مضمون’’ مری‘‘ سیاحوں کے لئے ایک یادگار حیثیت کا حامل ہے۔ رنگارنگ تصویروں سے مزین رسالہ ’’شعوب ‘‘اپنے صوری اور معنوی اعتبار سے بے پناہ کشش کا حامل ہے۔ مستقیم غوری صاحب کا مضمون’’ سخن کاساحر محبت کا شاعر آحمد فراز‘‘ ہر دل عزیز عوامی شاعر احمد فراز کی زندگی کے بارے میں جامع معلومات فراہم کرتا ہے۔ انتخاب کلام سے مستقیم غوری کے ادبی ذوق کا اندازہ ہوتا ہے۔ شاکر کنڈان کا مضمون ’’ایک اٹا ہوا فقرہ‘‘ صنفِ انشائیہ کے قریب ہے جس کا پیرائیہ اظہار ادبی استعارات اور علامات سے مزین کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر وحید قریشی کی کتاب ’’شبلی کی حیاتِ معاشقہ ‘‘میں ان کے عطیہ فیضی سے عشق کی تمام تفصیلات جزیات سمیت موجود ہیں ۔خصوصاََ شبلی کی عشقیہ غزلیں لائقِ توجہ ہیں، جن میں عطیہ فیضی کا نام بھی استعمال کیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ شاکر کنڈان نے یہ کتاب ابھی تک نہیں پڑھی اور ان کا دیا گیا حوالہ تاریخی اعتبار سے ساقط قرار پاتا ہے۔ میرا جی کا میراثین سے عشق ہر خاص و عام میں مشہور ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ انہوں نے ثناء اللہ ڈار سے میرا جی کا سفر کیسے طے کیا۔ شاکر کنڈان اس ذکر کو سرے سے ہی غائب کر گئے۔ واضح ہو کہ میرا جی کی شاعری پر اسرار اور ماؤرائی ہے جس میں فرائیڈ کے تحلیلِ نفسی کے نظریئے کے تحت تمام جذبوں اور سوچوں کا آئینہ دار جنس کا جذبہ ہے۔ رومان اور عشق سے ان کاعلاقہ نہیں بنتا۔ میرا جی نے دیو مالائی طلسماتی داستانوی رموز و آلائم کے ذریعے اپنے مافی الضمیر کو صدیوں اور زمانوں کے تسلسل میں بیان کیا ہے۔
    بانو قدسیہ کا افسانہ’’ نیتِ شوق‘‘ کافی عرصے کے بعد پڑھنے کو ملا ہے جس میں انہوں نے نسوانیت کی نفسیاتی جہتوں کو خوب صورت طریقے سے سمویا ہے۔ رئیس فروغ ایک معروف شاعر ہیں جن کی غزل پڑھنے سے اختر انصاری اکبر آبادی کے رسالہ’’ نئی قدریں‘‘ میں چھپنے والا ایک مضمون یاد آ گیا جس میں ان کے خوبصورت اشعار کا حوالہ دیا گیا تھا۔
    ؔ میر بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ وہ جس جگہہ پہنچ کے مرا تھا وہیں ہوں میں
    معلوم ہوتا ہے کہ رئیس فروغ نے فنی ارتقا کے مراحل سے گذر کر غزل کو جدید تر آہنگ سے ہم آہنگ کر لیا ہے۔ ان کا ایک شعر دیکھئے : ۔
    رات بہت ہوا چلی اور شجر بہت ڈرے میں بھی ذرا ذرا ڈرا پھر مجھے نیند آ گئی
    ساقی فاروقی اپنی نغمہ نگاری کیوجہ سے معروف ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی غزل پڑھ کر اندازا ہوا کہ وہ اس میدان مین بھی کسی سے پیچھے نہیں۔
    اس گھر کے مقدر میں تباہی نہ لکھی ہو وہ جس نے خیال اپنے مکین کا نہیں رکھا
    شاہد ہ حسن ایک منجھی ہوئی صاحبِ اسلوب اور منفرد شاعرہ ہیں۔ ان کی غزل سہل ممتنہ کے قریب ہے اور پختگی کلام کو ظاہر کرتی ہے۔وہ انسانی فطرت کا قریب سے مطالعہ کرتی ہیں اور ان کی اس غزل میں مناظرِ فطرت سے اخذو اکتساب کاعمل ملتا ہے۔
    غلام رسول قلندری لائبریرین کا مضمون ’’مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری ‘‘ اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
    ملک محبت حسین اعوان ایک مایہ ناز محقق اور بصیرت افرروز دانش ور ہیں جنہوں نے اعوان قبیلہ کی تاریخ پرمبسوط کام کیا ہے، جو ان کی عرق ریزی اور شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے ۔ ان کی تاریخی کتب اندرون و بیرون ملک ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ان کا فکری وژن اور دانش’’ شعوب‘‘ کے ہر ہر لفظ سے ٹپک ٹپک پڑتی ہے۔ ان کا مرتبہ یہ رسالہ بیک وقت عوام اور خواص دونوں کے لئے بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔’’ شعوب‘‘ میں جہاں عامتہ الناس کے لئے معلوماتی تحریریں ملتی ہیں وہاں اہل علم و دانش کے لئے بھی وقیع سرمایہ موجود ہے۔’’ شعوب‘‘ نے گوشہء ادب ،گوشہ تصوف، تاریخ، سیاحت، روزمرہ زندگی کے مسائل ، اساتذہ کے کلام سے انتخاب، تاریخ الانساب اور بالخصوص اعوان کاری سے متعلق معلومات کے شعبے ملک محبت حسین اعوان کے بلند پایہ علمی ذوق کے آئینہ دار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ’’ شعوب‘‘ میں شامل مضامین کی تعداد زیادہ کی جائے اور اگر ممکن ہو تو اس کے صفحات میں بھی اضافہ کیا جائے ،کیونکہ آجکل کے دور میں قاری ایسے ہی پر از معلومات اور دلچسپ رسالے کو پڑھنے کا خواہش مند ہے۔’’ شعوب‘‘ ایک ایسا شمارہ ہے کہ جو ہر ذوق اور مزاج کے قاری کے لئے تسکینِ طبع کاباعث بنتا ہے۔ فکریاتِ اقبال پر بھی قلم اٹھایا جائے۔ تاریخِ پاکستان کے اہم کرداروں کو بھی سامنے لانے کی ضرورت ہے اور بالخصوص اسلامی تعلیمات سے متعلق بھی گوشے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’شعوب‘‘ میں شامل ادبیات کا حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے لہذا اس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ معلوم پڑتاہے کہ مرتبین کا ادبی ذوق و شوق عصری ادبی منظر نامے سے پیوستہ ہے۔ میری دعا ہے کہ ’’شعوب‘‘ خوب سے خوب تر ہو اور اپنے اسلوب میں ہمیشہ سب کو مرغوب ہو ۔ یہ رسالہ ہر کسی کو مطلوب ہو۔
    نیک تمناؤں کے ساتھ خدا حافظ محمد عارف پروفیسر (ٹیکسلا)
    ایم اے (پنجاب) ایم فل ،
    وائس پرنسپل، حسنین شریف شہید ماڈل کالج ترنول، فیڈرل ایریا،اسلام آباد

    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    قائد عظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی
    http://www.oqasa.org
    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

Leave a Reply