ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر محمد عارف

ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر
تحریر : محمد عارف
محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و اکمل مضامین کےاعتبار سےلائقِ توجہ ہی۔” شعوب“ میں مختلف اقوام و ملل کی تاریخ شامل کی گئی ہےجس کہ وجہ سےوطنِ عزیز میں باہمی یگانگت اور عالم گیر محبت و اخوت کےجذبات کو فروغ دینےمیں مددد ملےگی ۔تاکہ اندرون و بیرونِ ملک دشمنوں کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنےکےلئےامتِ مسلمہ یک قالب اور یک جان ہو سکے۔ یہ وہ عظیم فکر ہےکہ جس میں سب سےپہلےقومی شاعر حضرت علامہ محمد اقبال کےبتون میں جنم لیا اور مسلمانوں کو ملی وحدت کی لڑی میں پرو دیا۔ قطب شاہی اعوان ، مسلم کھتری تاریخ کےآئینےمیں، سندھ بلوچستان میں عربوں کی حکومتیں اور عباسی تاریخ کےآئینےمیں، جیسےرنگارنگ مضامین فکری ترفع اور وسعت ِمعلومات کےآئینہ دار ہیں۔یہ مضامین تاریخ کےوہ گم شدہ اوراق ہیں جنہیں اس دستاویزِ محبت میں ورق ورق سجا دیا گیا ہی۔ ویلٹائن ڈی، مغربی ثقافت کاآئینہ دار ہےجسےاسلامی تہذیبوں کےتناظر میں تحریر کیا گیا ہےجو کہ شاہدہ خان کےقلم کاشاہکار ہی۔ عاصم شہزاد کا مضمون حضرت بابا سجاول ایک عمدہ تحریر ہےجس میں حضرت بابا سجاول کےحالاتِ زندگی عرق ریزی سےمرتب کئےگئےہیں۔ مخدوم سید معین الحق جھونسوی کی تحقیق کاترجمہ علامہ ڈاکٹر ساحل شہسرامی الیگ نےکیا ہی۔جو اعوان علوی قبیلےکےسلسلےمیں نئی معلومات فراہم کرتا ہی۔ محمد آصف کا مضمون” مری“ سیاحوں کےلئےایک یادگار حیثیت کا حامل ہی۔ رنگارنگ تصویروں سےمزین رسالہ ”شعوب “اپنےصوری اور معنوی اعتبار سےبےپناہ کشش کا حامل ہی۔ مستقیم غوری صاحب کا مضمون” سخن کاساحر محبت کا شاعر آحمد فراز“ ہر دل عزیز عوامی شاعر احمد فراز کی زندگی کےبارےمیں جامع معلومات فراہم کرتا ہی۔ انتخاب کلام سےمستقیم غوری کےادبی ذوق کا اندازہ ہوتا ہی۔ شاکر کنڈان کا مضمون ”ایک اٹا ہوا فقرہ“ صنفِ انشائیہ کےقریب ہےجس کا پیرائیہ اظہار ادبی استعارات اور علامات سےمزین کیا گیا ہی۔ ڈاکٹر وحید قریشی کی کتاب ”شبلی کی حیاتِ معاشقہ “میں ان کےعطیہ فیضی سےعشق کی تمام تفصیلات جذیات سمیت موجود ہیں ۔خصوصاََ شبلی کی عشقیہ غزلیں لائقِ توجہ ہیں، جن میں عطیہ فیضی کا نام بھی استعمال کیا گیا ہی۔ حیرت ہےکہ شاکر کنڈان نےیہ کتاب ابھی تک نہیں پڑھی اور ان کا دیا گیا حوالہ تاریخی اعتبار سےساقط قرار پاتا ہی۔ میرا جی کا میراثین سےعشق ہر خاص و عام میں مشہور ہی۔ سبھی جانتےہیں کہ انہوں نےثناءاللہ ڈار سےمیرا جی کا سفر کیسےطےکیا۔ شاکر کنڈان اس ذکر کو سرےسےہی غائب کر گئی۔ واضح ہو کہ میرا جی کی شاعری پر اسرار اور ماو¿رائی ہےجس میں فرائیڈ کےتحلیلِ نفسی کےنظریئےکےتحت تمام جذبوں اور سوچوں کا آئینہ دار جنس کا جذبہ ہی۔ رومان اور عشق سےان کاعلاقہ نہیں بنتا۔ میرا جی نےدیو مالائی طلسماتی داستانوی رموز و آلائم کےذریعےاپنےمافی الضمیر کو صدیوں اور زمانوں کےتسلسل میں بیان کیا ہی۔
بانو قدسیہ کا افسانہ” نیتِ شوق“ کافی عرصےکےبعد پڑھنےکو ملا ہی۔ جس میں انہوں نےنسوانیت کی نفسیاتی جہتوں کو خوب صورت طریقےسےسمویا ہی۔ رئیس فروغ ایک معروف شاعر ہیں جن کی غزل پڑھنےسےاختر انصاری اکبر آبادی کےرسالہ” نئی قدریں“ میں چھپنےوالا ایک مضمون یاد آ گیا جس مین ان کےخوبصورت اشعار کا حوالہ دیا گیا تھا۔
میر بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ
وہ جس جگہہ پہنچ کےمرا تھا وہیں ہوں میں
معلوم ہوتا ہےکہ رئیس فروغ نےفنی ارتقا کےمراحل سےگذر کر غزل کو جدید تر آہنگ سےہم آہنگ کر لیا ہی۔ ان کا ایک شعر دیکھئے: ۔
رات بہت ہوا چلی اور شجر بہت ڈری
میں بھی ذرا ذرا ڈرا پھر مجھےنیند آ گئی
ساقی فاروقی اپنی نغمہ نگاری کیوجہ سےمعروف ممتاز حیثیت رکھتےہیں۔ ان کی غزل پڑھ کر اندازا ہوا کہ وہ اس میدان مین بھی کسی سےپیچھےنہیں۔
اس گھر کےمقدر میں تباہی نہ لکھی ہو
وہ جس نےخیال اپنےمکین کا نہیں رکھا
شاہد ہ حسن ایک منجھی ہوئی صاحب ِاسلوب اور منفرد شاعرہ ہیں۔ ان کی غزل سہل ممتنہ کےقریب ہےاور پختگی کلام کو ظاہر کرتی ہی۔وہ انسانی فطرت کا قریب سےمطالعہ کرتی ہیںاور ان کی اس غزل میں مناظرِ فطرت سےاخذو اکتساب کاعمل ملتا ہی۔
غلام رسول قلندری لائبریرین کا مضمون ”مسعود جھنڈیر ریسرچ لائبریری “ اہم معلومات فراہم کرتا ہی۔
ملک محبت حسین اعوان ایک مایہ ناز محقق اور بصیرت افرروز دانش ور ہیں جنہوں نےاعوان قبیلہ کی تاریخ پرمبسوط کام کیا ہی، جو ان کی عرق ریزی اور شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کی تاریخی کتب اندرون و بیرون ملک ذوق و شوق سےپڑھی جاتی ہیں۔ان کا فکری وژن اور دانش” شعوب“ کےہر ہر لفظ سےٹپک ٹپک پڑتی ہی۔ ان کا مرتبہ یہ رسالہ بیک وقت عوام اور خواص دونوں کےلئےبےپناہ اہمیت کا حامل ہی۔” شعوب“ میں جہاں عامتہ الناس کےلئےمعلوماتی تحریریں ملتی ہیں وہاں اہل علم و دانش کےلئےبھی وقیع سرمایہ موجود ہی۔” شعوب“ نےگوشہءادب ،گوشہ تصوف، تاریخ، سیاحت، روزمرہ زندگی کےمسائل ، اساتذہ کےکلام سےانتخاب، تاریخ الانساب اور بالخصوص اعوان کاری سےمتعلق معلومات کےشعبےملک محبت حسین اعوان کےبلند پایہ علمی ذوق کےآئینہ دار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ” شعوب“ میں شامل مضامین کی تعداد زیادہ کی جائےاور اگر ممکن ہو تو اس کےصفحات میں بھی اضافہ کیا جائے،کیونکہ آجکل کےدور میں قاری ایسےہی پر از معلومات اور دلچسپ رسالےکو پڑھنےکا خواہش مند ہی۔” شعوب“ ایک ایسا شمارہ ہےکہ جو ہر ذوق اور مزاج کےقاری کےلئےتسکینِ طبع کاباعث بنتا ہی۔ فکریاتِ اقبال پر بھی قلم اٹھایا جائی۔ تاریخ پاکستان کےاہم کرداروں کو بھی سامنےلانےکی ضرورت ہےاور بالخصوص اسلامی تعلیمات سےمتعلق بھی گوشےکو وسیع کرنےکی ضرورت ہی۔ ”شعوب“ میں شامل ادبیات کا حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہی۔ لہذا اس کی جتنی بھی تحسین کی جائےکم ہی۔ معلوم پڑتاہےکہ مرتبین کا ادبی ذوق و شوق عصری ادبی منظر نامےسےپیوستہ ہی۔ میری دعا ہےکہ ”شعوب“ خوب سےخوب تر ہو اور اپنےاسلوب میں ہمیشہ سب کو مرغوب ہو ۔ یہ رسالہ ہر کسی کو مطلوب ہو۔
نیک تمناو¿ں کےساتھ خدا حافظ پروفیسرمحمد عارف (ٹیکسلا)


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 86
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 82
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 81
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply