مجرم عدلیہ کا کیس عوام الناس کی عدالت میں تحریررضوان یوسف اعوان

مجرم عدلیہ کا کیس عوام الناس کی عدالت میں
تحریر : رضوان یوسف اعوان
بادشاہی کفر میں قائم رہ سکتی ہےمگر ظلم اور ناانصافی میں نہیں۔ جن قوموں میں عدل و انصاف ناپید ہو جاتا ہےتباہی و بربادی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہی۔ عدل و انصاف قائم کرنا کسی معاشرےکےاستحکام کےلئےانتہائی ضروری ہےجس کو قائم کرنےکےلئےایک عدالتی نظام قائم کیا جاتاہےاور اس عمل کو ممکن بنانےکےلئےمنصفوں یعنی ججوں کی تقرریاں کی جاتی ہیں جو ایک قانون کےتحت مقدمات کےفیصلےکرتےہیںاور اس طرح ان عناصر سےمل کر ایک انصاف کانظام تشکیل پاتا ہی۔ اگر کسی وجہ سےان عناصر میں سےکوئی عنصر اپنا کام صحیح نہ کر رہا ہو تو انصاف کےنظام میں تعطل اور تاخیر پیدا ہوتی ہی۔ قومی سطح پر اس کےانتہائی برےاثرات مرتب ہوتےہیں جو آہستہ آہستہ معاشرےکےفلاحی عمل کو تباہ و برباد کر دیتےہیں۔
ہمارےملک پاکستان میں ابھی بھی بیشتر ایسےمقدمات موجود ہیں جو گذشتہ کئی دہائیوں سےعدالتوں کی زینت بنےہوئےہیں جوکہ ہماری عدالتوں ، اس کےججوں اور رائج الوقت نظام کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں یعنی ان تینوں عناصر میں سےکوئی ایک یا سب انصاف کےلئےکینسر کا باعث بنےہیں اور اس خرابی کی وجہ سےججوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کےباوجود انصاف نایاب ہو چکا ہی۔ میں ملک کی عدلیہ سےیہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ان کےپاس اس بات کا کوئی جواز موجود ہےکہ جمہوریت کا مروجہ استحصالی نظامِِ حکومت ، طبقاتی نظامِ تعلیم اور تعلیمی ادارےقرآن حکیم کےنظریات کےخلاف تیار نہیں کئےجاتی؟ کیا لادینی نظام جمہوریت کےنظریات کی سرکاری بالا دستی نےقرآنِ حکیم کےنظریات اور اس سےوابستہ تہذیب کو زوال کےصحرا میں گم نہیں کر دیاگیا ؟کیا برٹش لا ئ، امریکن لائ، انڈین لائ، جیوری پریویڈنس کی تعلیم و تربیت سےتیار کی ہوئی عدلیہ اور اس کےعادل قرآن حکیم کےنظریات کی اطاعت کرتےہیں یا ان کےباغی ہیں؟ جب دامنِ دین ہاتھ میں نہ ہو تو اسلام کیسا اور مسلمان کیسی؟ کیا لادینی نظام جمہوریت کےجرم میں ملوث اسمبلی ممبران، اپوزیشن اور ان کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنےوالا عدلیہ کا یہ ٹولہ قرآن حکیم، اللہ اور اس کےرسول کےباغی منکراور منافق نہیںہیں؟ کیا اسمبلی کےہارس ٹریڈنگ اور نظریہءضرورت کےمجرم ممبران کےپاس کئےہوئےقوانین ایک اسلامی ملک اور مسلم معاشرےپر نافذ العمل ہو سکتےہیں؟۔کیا جمہوریت کا نظامِ حکومت قرآن حکیم کےنظریات کا تضاد نہیں ہی؟۔ عدلیہ کےعادلوں کےزیرِ سایہ قرآنی نظریاتِ حکومت کو جمہوری نظریاتِ حکومت سےبدل نہیں دیا گیا؟۔ اےمنصفو! انصاف کرو کہ تم اللہ اور اس کےرسول کےمجرم نہیں ہو؟ کیا ہماری عدلیہ کےمنصف جرائم کو صداقتوں اور صداقتوں کو جرائم میں بدلنےکےمجرم نہیں ہیں؟ کیا فوجی ڈکٹیٹر اور سیاسی حکومتی ٹولہ عدلیہ کےمنصفوںسےاپنی پسند کےفیصلےنہیں کرواتے؟ کیا یہی عدلیہ اور اس کےعادل ملک پر مارشل لا کو جائز قرار دیتےنہیں ہیں؟ کتنےجھوٹےمقدمات سیاسی غنڈوں، ایم پی ای، ایم این اےاور فوجی افسروں وغیرہ کےاشاروں پر تھانےمیں درج ہوتےہیں۔کتنےجھوٹےمقدمات پولیس سےذاتی تعلقات ، بھاری رشوتوں کی بنیاد پر درج ہوتےہیں اور رشوت سےہی کتنےمقدمات کےفیصلےخریدےجاتےہیں؟ کتنےمجرموں کی جگہ معصوم افرادکو جھوٹےمقدمات میں پھنسایا جاچکا ہےاور ٧٤٩١ ءسےاب تک کتنوں کو پھانسی پر لٹکایا جا چکا ہے، اس کےمقابلےپر کتنےمجرم معاشرےمیں دندنانےپھرتےہیں جنہوں نےملک کو جرائم کدہ میں بدل کر رکھ دیا ہی۔ کتنےجھوٹےمقدمات عدالتوں میں دائر ہوتےہیں اور دوسری پارٹیوں کو خارج کروانےمیں کئی نسلیںاور کئی سال لگ جاتےہیں۔اس اندھی عدلیہ اور اس کےبدنصیب عادلوں کو آج تک یہ نہیں پتہ چلا کہ جھوٹے مقدمات کیسےاور کتنےدرج ہوتےہیں اور مجبور لوگوں کی جیبیں کیسےصاف کروائی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ یہ بات زبان زد ِ عام ہےکہ عدالتوں کی دیواریں بھی پیسہ کھاتی ہیں۔ کیا پاکستان آمرانہ جمہوریت کےچھ ہزارجاگیردار، سرمایہ دار، استحصالی ٹولہ اور ان کی اولادوں پر مشتمل مراعات یافتہ طبقےکی ملکیت نہیں بن چکا۔ ملک کےتمام وسائل، مال و دولت، خزانہ اندرونی بیرونی قرضےان کی ذاتی ملکیتوں میں بدل نہیں چکی؟ نو لاکھ سپاہ کی فوج اور اٹھارہ کروڑ کسان ، مزدور، محنت کش، ہنر مند، سفید پوش ان کےقیدی اور غلام نہیںبن چکی؟ کیا پاکستان ان سب کا نہیں ہی؟ اور ان کا بھی ہےتو ان میں سےکوئی جمہوریت کےالیکشنوں میں کھڑا کیوں نہیں ہو سکتا؟ کیا ان میںسےکوئی ایک فرد بھی ٧٤٩١ ءسےلےکر آج تک صوبائی و قومی اسمبلی کےممبر ، وزیر، وزیر اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم سےصدر یا عدلیہ کا عادل بن سکا ہی؟ تو پھر ہارس ٹریڈنگ اور نظریہ ضرورت کےمجرم ہی کیوںعدلیہ کےزیرِ سایہ ہو کر بار بار حکومت و اقتدار پر قابض ہوتےآ رہےہیں۔ کیا جمہوریت کےنظریات کا زہر کھانےوالےافراد کی زہر سےلاعلمی زہر کو اثر کرنےسےروک سکتی ہی؟ اور کیا عدلیہ کےدانش ور اس زہر کا تدارک جانتےہیں؟۔ کیا انصاف عدالت سےظاہر ہونےسےقبل ہی دم توڑنہیںجاتا ہے۔ ایک اعلیٰ قابل وکیل رشوت اور تعلقات کی بنیاد پر ایک کمزور نااہل وکیل سےہار نہیں جاتا؟حقیقت تو یوں ہےکہ ایک مقدمہ کےفیصلہ ہونےکا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ انصاف ہو گیا ہےبلکہ اس کےمعنی کچھ اس طرح لیےجا سکتےہیں کہ ایک زیادہ پیسوں میں ملنےوالا قابل وکیل اپنی ذہانت اور مضبوط دلائل کی وجہ سےکم پیسوں میں مل جانےوالےنالائق وکیل پر غالب آگیا ہی۔ اب جس غریب کےپاس اچھا وکیل کرنےکےپیسےنہیں ہیں وہ کیا کرےاور کہاں جائی؟ کیا اس استحصالی نظامِ انصاف سےکوئی سرمایہ دار، شکست کھا سکتا ہی۔ کیا ان ججوں اور ان کےنظامِ انصاف کی نا اہلیت کی وجہ سےان کی شاہی تنخواہیں رہائشیں ، گاڑیاں ہر ماہ شائع ہونےوالی پی ایل ڈی اور دیگر سہولیات عوام الناس کےاوپر شدید بوجھ نہیں؟ غرض یہ کہ رائج الوقت عدلیہ کا نظام اس کےمنصف ، انصاف کو کینسر کی طرح چمٹ چکےہیںاور انکےکردار کی بنا پر اہلِ وطن عدلیہ کےادارےکو ایک خدائی عذاب اور قتل گاہ سمجھتےہیں۔ پاکستان مسلم امہ کا ملک ہےمگر عدلیہ کےکردار کی وجہ سےاسلامی مملکت نہیں بن سکا ۔ عدلیہ اور عادل اس کا جواب اٹھارہ کروڑ فرزندان اسلام کو دےکہ جنہوں نےقرآنِ حکیم اور دین محمدی کےنفاذ کےکیس کو التوا کی بھٹی میں جھونک رکھا ہےاور ان فرزندان اور ان کی نسلوں کا معاشی ، معاشرتی اور نظریاتی قتال جا ری ہی۔ اب اس صورت حال کےپیش نظر ہم عدلیہ ، ججوں ، وکلا برادری سےالتماس کرتےہیں کہ خدا را اس کیس کا ازسر نو جائزہ لیںاور حقیقی نظام عدل کےقیام کی جدوجہد میں ہمارےشانہ بشانہ حصہ لیں تاکہ اس ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنایا جاسکی۔

 


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 83
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 82
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 79
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply