محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان

محمد عارف کےحالات زندگی
تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ
نام محمدعارف
ولدیت میاں محمد
سال پیدائش 16 فروری 1969
مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک
موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا
نمبر رابطہ 03335465984
تعلیمی کوائف:۔
١۔ پرائمری : گورنمنٹ پرائمری سکول پنڈ فضل خان سےپاس کی،. پورےریجن میں اول آئی، سکالر شپ حاصل کیا جو تین سال تک جاری رہا۔
مڈل : مڈل گورنمنٹ ہائی سکول ٹیکسلا
١۔ میٹرک گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول حسن ابدال ۔1984
٢۔ ایف ای ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ 1986
٣۔ بی ای ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ 1988
٤۔ بی ایڈ پنجاب یونیورسٹی لاہور.1992
٥۔ ایم اےاردو پنجاب یونیورسٹی لاہور 1997
٦۔ ایم فل (اردو) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد 2000
ملازمت:۔
١۔ لیکچرر آرمی پبلک کالج اٹک . 1997 to 1998
٢۔ لیکچرر ایچ آئی ٹی ڈگری کالج ٹیکسلا 1998 to 2002
٣۔ سینئر ٹیچر/ لیکچرر ایف جی بوائز ہائر سیکنڈری سکول ترنول اسلام آباد 2002
٤۔ وائس پرنسپل ایف جی بوائز ہائر سیکنڈری سکول ترنول اسلام آباد 2010
مطبوعہ تصانیف:۔
١۔ تجھےگر فقر و شاہی کا بتا دوں (ڈاکٹر تصدق حسین حیات و خدمات)
٢۔ کن فیکون (علامہ محمد یوسف جبریل۔ سوانح و افکار )
٣۔ منظر تیرےغم کا( شاعری)
غیر مطبوعہ تصانیف : ۔
١۔ ربیعہ فخری احوال و آثار (مقالہ برائےتکمیل امتحان ایم فل)
٣۔ فیض احمد فیض شخصیت و فن (مرتبہ)
٤۔ حرفِ سخن مدینہ ہی۔ غیر مطبوعہ نعتیہ شاعری
ادبی مضامین: ( انتخاب)
١۔ درنیم وا (رو¿ف امیر ) ۔ ایک مطالعہ، روزنامہ سنگ میل میں شائع ہوا۔حسن سجاد نےشائع کیا۔
٢۔ دشت خواب ( شمشیر حیدر) ۔ ایک نظر میں،
٣۔ زندہ رہےگا پاکستان (کرنل مقبول حسین) ۔ دیباچہ
٤۔ حسن ناصر کی غزل پر ایک مضمون احمد ندیم قاسمی مدیر فنون لاہور نےاپنےشمارےمیں شائع کیا۔ جسےملک بھر سےسراہا گیا۔ اور بالخصوص معروف ترقی پسند یوسف حسن نےاس مضمون پر ایک بھرپور خط لکھا جو اس کےاگلےشمارے فنون لاہور میں شائع ہوا ۔ حسن ناصر کی نطموں کا کثیر انتخاب ان کےپاس محفوظ ہےجو کہ حسن ناصر نےخود ان کو مرحمت فرمایا تھا۔
٥۔ ”رانا سعید دوشی، ایک منفرد غزل گو“ مضمون لکھا جو کہ ان کےشعری مجموعےکی تعارفی تقریب کےریکارڈ میں موجود ہی۔
٦۔ نوشیروان عادل کی فکری جہتیں، نوشیروان عادل کی شاعری پر دو مضامین تحریر کئےگئےہیں۔ دونوں نیٹ سےمل سکتےہیں۔
٧۔ گل نازک کی شاعری میں رزمیہ عناصر۔ جو کہ ان کےشعری مجموعہ میں شامل ہی۔
٨۔ جلیل عالی کی غزل مطبوعہ کاوش ایک مضمون ہے۔پروفیسر جلیل عالی پر ایک اور مضمون عارف صاحب کےپاس موجود ہی۔
٩۔ پروفیسر رفعت اقبال کی غزل مطبوعہ نوائےوقت راولپنڈی۔
٠١۔ عارف قادری کی نعتیہ شاعری۔ عارف قادری اور فضائےمدینہ“ پر ایک مضمون
١١۔ سید سفیر حسین سفیر کی رثائی شاعری، سید سفیر حسین سفیر کی شاعری کا دیباچہ کتاب آسمان درد میں شامل ہی۔
٢١۔ گرفتار شب (کرنل مقبول حسین) ایک مطالعہ
٣١۔ نعت محمد (سرور انبالوی) ایک تنقیدی و تحقیقی مطالعہ
٤١۔ ”سرور انبالوی کی نعتیہ شاعری“ ۔ ایک شام کا اہتمام کیا گیا جس میں عارف صاحب نےایک مضمون پڑھا بعد میں سرور انبالوی صاحب نےان کےہاتھ چومےتھےاور کہا تھا کہ اس سےبہتر مضمون نہیں پڑھا گیا۔ یہ مضمون اس آڈیو وڈیو میں موجود ہےاور وہاں سےکاپی کر سکتےہیں ۔سرور انبالوی صاحب پر مزید دو مضمون عارف صاحب کےپاس محفوظ ہیں۔
٥١۔ آل عمران کی غزل میں تہذیبی و ثقافتی عناصر
٦١۔ عزیز ملک ۔احوال و آثار، مرتبہ پروفیسر امجداقبال۔ ایک مطالعہ
٧١۔ شعیب ہمیش کی شاعری میں تغزل کےعناصر۔ مطبوعہ نوائےوقت راولپنڈی
٨١۔ سلمان باسط اور واہ سکول آف تھاٹ پر ایک مضمون روزنامہ نوائےوقت میں شائع ہوا تھا۔
٩١۔ ایوب اختر کا فن افسانہ نگاری۔
٠٢۔ علی محمد فرشی کی نظموں میں ماورائی فضا
١٢۔ ناصر کاظمی کی شاعری
٢٢۔ مضمون کی اشاعت مطبوعہ فنون لاہور
٣٢۔ تبصروں کی اشاعت۔
٤٢۔ احمدندیم قاسمی نےایک تعریفی خط لکھا۔
٥٢۔ یوسف حسن نےاپنےطویل خط میں عارف صاحب کےمضمون پر پورا ایک خط لکھا۔ یہ خط عارف صاحب کےپاس ہی۔
٦٢۔ محمود ساجد کی کتاب ” استقبال کرتی روشنی ہے“ مقبول لہجےکا شاعر پر مضمون عارف صاحب نےلکھا ہی۔
٧٢۔ ڈاکٹر تصدق حسین پر ایک مضمون بعنوان ” کیا ڈاکٹر تصدق حسین کا کام مکمل ہو چکا ہے“´
٨٢۔ ڈاکٹر تصدق حسین پر ایک اور مضمون
٩٢۔ حنیف نازش قادری پر دو مضمون تیار ہیں۔ دونوں حنیف نازش کےپاس ہیں۔
٠٣۔ فیصل ساغر کی غزل پر مضمون ۔
١٣۔ عابد سعید رضا پر ایک مضمون لکھا تھا۔ ” مطلع اول“ نعت گو شاعر ٹیکسلا سےتعلق رکھتا ہی۔
٢٣۔ عنایت اللہ بابا جی پر ایک مضمون ان کی کتاب میں شامل ہی۔
٣٣۔ شوکت اعوان ایک سوشل ریفارمر تحریر کیا۔
٤٣۔ مقبول کاوش پر ایک مضمون عارف صاحب نےحلقہ تخلیق ادب ٹیکسلا میں پڑھا تھا۔
٥٣۔ خاقان خاور کی نظموں پر ایک تبصرہ جو احمد ندیم قاسمی نےفنون میں شائع کیا تھا۔
٦٣۔ ”عزیز ملک ایک مطالعہ“ مطبوعہ روزنامہ نوائےوقت راولپنڈی۔
٧٣۔ ڈاکٹر عقیل عباس کی کتاب ” تفیبی تنقید “ پر ایک مضمون لکھا جو کہ ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر صاحب کو فراہم کیا۔
٨٣۔ قلب عباس قلبی کی شاعری پر ایک مضمون لکھا ۔ بےشمار اخبارات میں شائع ہوا۔
٩٣۔ کرنل مقبول حسین صاحب کی شخصیت و فن پر چار مضامین لکھی۔
٠٤۔ ”اےحمید خان کی ناول نگاری“ پر تین مضمون لکھی۔
١٤۔ ” چکی نامہ کا تجزیاتی مطالعہ“ ایک مضمون محفوظ ہی۔
٢٤۔ ماہنامہ فنون میں بےشمار مضمون شائع ہوئی۔
٣٤۔ ربیعہ فخری کی کتاب ” فیض احمد فیض“ عارف صاحب کےپاس موجود ہی۔ پیش لفظ لکھ کر ترتیب و تدوین کا ارادہ ہی۔
٤٤۔ صحیح صالم پشاوری کا دیوان قلمی نسخےسےشائع ہوا ہی۔ وہ قادری سلسلےکےایک بہت برےبزرگ تھی۔ تقریبا ایس سو پچاس برس پہلےپشاور میں رہتےتھی۔ اس کتاب کا دیباچہ لکھ کر شائع کیا جائےتو بہت بڑا کارنامہ ہو گا۔
٥٤۔ سید عبدالرشید کےخطوط بنام ڈاکٹر تصدق حسین بسم اللہ سرکار آخری مراحل میں ہےدیباچہ لکھ کر عارف صاحب دیں گی۔ ترتیب و تدوین عارف صاحب کریں گےاور یہ کتاب ایک معرکہ انگیزکتاب ہو گی ۔
٦٤۔ عارف صاحب کےنام ڈاکٹر تصدق حسین بسم اللہ سرکار کےخطوط ۔
٧٤۔ عارف صاحب کی سو سےزیادہ تقاریر ہیں اس کو کتابی شکل میں شائع کیا جا سکتا ہی۔
٨٤۔ عارف صاحب کےنام ڈاکٹر تصدق حسین بسم اللہ سرکار کےسو کےقریب خطوط۔
٩٤۔ سو سےزیادہ تقاریر۔ ایک کتابی شکل میں ابھی تیار نہیں ہوئی۔
٠٥۔ ١۔ عارف صاحب کہتےہیں ۔” میری بچی پبلک سکول واہ میں متعلم تھیں۔ اس زمانےمیں میڈم مجھ سےمختلف موضوعات پر تقاریر لکھواتی تھیں۔ تقریری مقابلےمیں تمام کینٹ اینڈ گیریزن کےمقابلےمیں سکولوں میں اول آتی رہیں۔
١٥۔ تین تقریریں ایک طالب علم کےپاس ہیں اعجاز ، محسن اور تیسرےکا نام یاد ن یں جو پورےاسلام آباد میں اول آئی ہیں۔ مل سکتی ہیں۔
٢٥۔ پاکستان پوسٹ آفس کی طرف کےخط نویسی کا ایک مقابلہ تمام ملک کےعوام مین بین االاقوامی سطح کےتعلیمی اداروں میں ہوا ۔ اس مٰن میں نےاپنی بیٹی کو جو مضمون لکھ کر دیاتھا اس کو بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل اپریسیشن سرٹیفیکیٹ اور شیلڈ ملی اور ڈی جی پوسٹ آفس نےخود یہ چیزیں انعام میں دیں۔ اس کی کاپی محکمہ ڈاک سےملےگی۔
٣٥۔ موسیقی روح پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہی۔ ا س موضوع پر ایک خط پاکستان پوسٹل سروس کو خط لکھا وہ خط پہلےنمبر پر آیا۔
٤٥۔ ایچ ای سی کےزیر اہتمام ایک مقابلہ ہوا۔ جس میں مضامیں مانگےگئی۔ لیکن مضمون کہیں سےنہیں آیا۔ اور میرا مضمون اول آیا۔ پانچ لاکھ کا انعام تھا۔ لیکن نہ ملا۔ مضمون کا عنوان تھا ”قومی ترقی میں نوجوانوں کا کردار“ ۔صفحات ٦١ ہیں اور مضمون محفوظ ہی۔
٥٥۔ دوران طالب علمی ضلع اٹک میں گورنمنٹ کالج اٹک میں مقابلہءغزل میں پورےپاکستان کےنوجوان شعراءمیں اول انعام حاصل کیا۔
٦٥۔ کالج نےمجھی best debator, best poet, best writer, best comparer اور چالیس سےزائد اعزازی سرٹیفیکیٹ عطا کئی۔
تقاریر :۔
١۔ علامہ محمد یوسف جبریل پر بہت تقاریر کیں۔
٢۔ قائد اعظم علیہ الرحمتہ پر ایف جی کالج واہ میں تقریر کی۔
٣۔ ریڈیو پر لیکچر دیئی۔
٤۔ ضلع اٹک کےنعت گو شعراء کےساتھ ایف ایم ٧٩ (سن رائز) حسن ابدال میں نعت گوئی پر لیکچر دیا۔
٥۔ ”پاکستان میں اردو نعت گوئی کا ارتقا“ کا لیکچر ایف ایم ٧٩ سن رائز حسن ابدال می دیا۔
انٹرویو :۔
١۔ ریڈیو پاکستان اسلام آباد سےانٹرویو نشر ہوا۔ جو دنیاکےچھتیس ممالک میں سنا گیا۔ انٹرویو جناب عالی شعار بنگش نےلیا۔ یہی انٹرویو بی بی سی لنڈن سےبھی نشر ہوا۔
مشاعری
١۔ ریڈیو پاکستان ، ایف ایم ٧٩ حسن ابدال سےادبی محافل میں شرکت کی اور بہت سےمشاعرےپڑھی۔
٢۔
ادبی خدمات:۔
١۔ ایڈیٹر کالج میگزین( شعور ) ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ
٢۔صدر نکھار ادبی سوسائٹی رجسٹرڈ ٹیکسلا
٣۔رکن حلقہ تخلیق ادب ٹیکسلا
٤۔رکن فانوس ادب واہ کینٹ

حالات زندگی
ان کےوالد محترم ملک میاں محمد شروع سےہی اولیائےکرام کو صدق دل سےماننےوالےرہےہیں اور انہوں نےاپنی شادی کےبعد بابا شاہ ولی قندھاری کےمزار پر دعا مانگی تھی۔ اس کےصدقے محمد عارف 16فروری 1969 ءکو پنڈ فضل خان تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک میں پیدا ہوئی۔ پرائمری اسی گاو¿ںسےپاس کی اور پورےریجن میں اول آئی۔ اور سکالر شپ حاصل کی۔ جو تین سال تک جاری رہی۔ والد چونکہ مدرس تھےلہذا انہوں نےانہیں خوش خطی اور اردو زبان دانی کےاسرار و رموز سےآگاہ کیا۔ وہ انہیں الف سےلےکر یےتک ہر حرف سےشروع ہونےوالےسو ک ےقریب الفاظ لکھ کر دیتےتھی۔ جس سےان کی اردو زبان میں دلچسپی اور ذخیرہ الفاظ میں ابتدا ہی سےاضافہ شروع ہو گیا تھا۔ ان کی کھیل کود میں دلچسپی نہ ہونےکےبرابر تھی۔ گاو¿ں میں بجلی نہ ہونےکی وجہ سےلالٹین کی روشنی میں رات دیر تک پڑھتےرہتےتھی۔ ان کا گاو¿ں تمام بنیادی ضروریات سےمحروم ایک دور افتادہ گاو¿ں تھا۔ لیکن اس کےباوجود ان کو تعلیم سےبہت زیادہ دلچسپی تھی۔گورنمنٹ ہائی سکول ٹیکسلا سے 1982 ءمیں مڈل پاس کیا۔ اردو کےاستاد قاری ضیاءاللہ سےبہت متاثر تھی۔ ایک دفعہ انہوں نےعارف صاحب کو ایک مضمون ”باغ کی سیر“ لکھنےکو کہا ۔ اگلےدن میں نےلکھ کر پیش کر دیا تو وہ پڑھ کر بولے۔ کہ کیا یہ مضمون آپ نےخود لکھا ہی۔ بہت ہی اچھا مضمون ہی۔ قاری صاحب ان کو اردو کےاشعار بھی لکھوایا کرتےتھی۔ اور سنایا کرتےتھی۔ وہ بہت ہی صاحبِ ذوق استاد تھے۔ یوں غیر شعوری طور پر عارف صاحب کی ادبی تربیت میں ہمہ وقت اپنا کردار ادا کرتےرہی۔ عارف صاحب کو شروع ہی سےکورس کی نظمیں ، کوشش کےبغیر خود بخود یاد ہو جایا کرتی تھیں۔ پھر انہوں نےگورنمنٹ ہائی سکول حسن ابدال میں داخلہ لےلیا۔ کیوں کہ ان کےوالد محترم اسی سکول میں مدرس تھی۔
شاعری کا آغاز کیسےہوا ؟ ایک ابتدائی نوعیت کا سوال ہی۔ اس کا آغاز یوں ہوا کہ نویں جماعت میں گرمیوں کی چھٹیوں کےدوران والد صاحب نےگھر کےقریب گورنمنٹ تعلیم القرآن ہائی سکول میں صوفی خالد صاحب کےپاس ریاضی پڑھنےکےلئےبھیجا۔ مگر وہاں انہوں نےریاضی نہ پڑھی اور شاعری شروع کر دی ۔ریاضی کی کتاب کا ایک سوال بھی حل نہ ہوا مگر گورنمنٹ تعلیم القرآن ہائی سکول ٹیکسلا کےصحن میں کھلےہوئے چمبیلی کےپھولوں کی بہار کو دیکھ کر انہوں نےشاعری شروع کر دی۔ ان کی پہلی نظم انہی پھولوں پر تھی جو کہ مندرجہ زیل ہی:۔
رات بھر اوس کی بارش میں بھیگےہوئےپھول
یوں اٹھا کر چوم لئےہیں میں نےجیسی
رفاقت رہی ہو میری ان کےساتھ
اسی اثناءمیں انہوں نےمیٹرک کا امتحان دےکر اپنےننھیال گاو¿ں امیر خان اٹک میں چلےگئی۔ جہاں فطرت کےحسین اور دلفریب مناظر ، سر بفلک پہاڑوں کی چوٹیاں اور کھیتوں میں کھلی ہوئی سرسوں نےانہیں اپنےحصار میں لےلیا۔ اور انہوں نےایک خارج از وزن دیوان مکمل کر لیا۔واپس آ کر اردو کےمعروف شاعر اور تنقید نگار اور اپنےماموں پروفیسر رو¿ف امیر کو ممانی کی سفارش پر ڈرتےڈرتےکلام دکھایا۔ تو وہ بولی۔ یہ بڑی عجیب سی بات ہےکہ تم بھی شاعر ہو۔ اور مجھےپتہ ہی نہیں۔ اگرتمہیں شوق ہےتو پہلےشاعری کو پڑھو اور اور اس کےبعد وہ ان کی حوصلہ افزائی فرماتےہوئےاسی وقت ان کو ساتھ لےکر واہ کےمشہورشاعر محمود اختر عادل (انوار چوک) سےملوانےچلےآئی۔ ان دنوں واہ میں الیکشن ہو رہےتھی۔ اور سیاسی پارٹیاں ایک دوسرےکےخلاف مختلف نوعیت کےاشعار سنا رہی تھیں۔ وہ انوار چوک میں ایک ریسٹورنٹ کےایک کونےمیں بیٹھ گئےاوررو¿ف امیر نےجو ان دنوں رو¿ف امیر خانوی تھےنےعادل سےان کا تعارف کراتےہوئےکہا کہ یہ میرےبھانجےہیں اور انہوں نےشاعری شروع کر دی ہےجو اگرچہ اچھا عمل نہیں ہےکیونکہ یہ ایک طالب علم ہی۔ میرےخیال میں ان کو پڑھنا چایہئی۔اور مستقبل بنانےکی فکر کرنی چاہیئی۔ بحر حال یہ آپ کو اپنا کلام سنائیں گی۔ چنانچہ انہوں نےاپنےاشعار محمود اختر عادل کو سنائے۔ تو ہو کہنےلگےکہ بیٹا جو دل میں آئےاسےضرور لکھو۔ تمہارےاندر شاعری کےاچھےجراثیم ہیں۔ لیکن شاعروں میں نہ جاو¿۔ اور اپنی ڈائری میں سب کچھ لکھتےجاو¿۔اللہ تعالیٰ تمہیں کامیاب کرےگا۔ اس کےبعد عارف صاحب اولاََ فانوس ادب واہ کینٹ کےاجلاس میں شریک ہوتےرہی۔ اور اپنا کلام سناتےرہی۔۔ ایک اجلاس میں معروف ترقی پسند شاعر سید حسن ناصر نےان کی بےپناہ حوصلہ افزائی کی۔سید حسن ناصر نےان کی بےپناہ حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی۔ جس سےوہ اس کی وسیع القلبی اور علم دوستی کا قائل ہو گیا۔ انہوں نےعارف صاحب کو باقاعدگی سےاس شعبےکو اپنانےکی دعوت دی ۔ اس زمانےمیں واہ میں مجلس ادب حلقہءادب کےاجلاس ہوتےتھی۔ ایف جی کالج واہ کینٹ میں منعقدہ ایک مشاعرہ میں ان کی غزل سن کر بشیر آذر نےانہیں بہت داد دی۔ اور کہا کہ آیا جایا کرو۔ ان دنوں وہ حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی کےایک اجلاس میں چلےگئی۔ جہاں پر صدارت جناب علی مطہر اشعر کی تھی۔ جس میں اشعر صاحب نےانہیں بحیثیت صدر خود سٹیج پر بلا کر خود ان کا کلام سنوایا۔ حالانکہ عارف صاحب نووارد نامعلوم و گمنام نوجوان تھی۔ ان کےکلام سن کر ایک برگیڈئر صاحب نےجو کہ بہت اچھےشاعر تھی۔ نےکہا کہ اس پورےمشاعرےمیں نئی نسل کی کھیپ میں اس نوجوان میں سب سےزیادہ سپارک ہی۔ چنانچہ ٹوٹی پھوٹی ، کچی پکی سخن شناسی اور سخن فہی کام آئی اور کچھ نہ کچھ باضابطہ لکھنےاور پڑھنےلگی۔ ایف جی بوائےہائی سکول نمبر ٧ واہ کینٹ میں انہوں نےپڑھایا۔ ایف جی کالج واہ کینٹ سےبی اےپاس کیا ۔ پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا جتنا کہ ادبی سرگرمیوں میں ۔ ادبی سرگرمیوں میں وہ ٹاپ پر تھی۔ بی اےکرنےکےبعد ماموں نےانہیں گندھارا ہائی سکول ٹیکسلا کےنام سےایک ادارہ کھول دیا کس کاوہ قانونی رجسٹرڈ ملک و مختار تھےاور سر براہ تھی۔انہوں نے تین سال تک کامیابی سےاس ادارہ کو چلایا۔ اسی سکول میں شام کو کالج کی کلاسیں شروع ہو گئیں۔ جہاں وہ میٹرک کو سائنس اور فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کو سوکس باامرمجبوری پڑھاتا تھا۔ کیونکہ وہاں پر استاد نہیں تھی۔ نماز کی امامت بھی کرانا پڑتی تھی۔ اور بڑی پر تاثیر دعائیں بھی کرتےتھی۔ عارف صاحب اور ڈاکٹر رو¿ف امیر صاحب نےکالج کو ادبی اور ثقافتی مرکز بنانےکی زبردست کوشش کی۔ جہاں سعید گل کےساتھ ایک شام منائی گئی اور سید عارف (رزنامہ جنگ کےادبی ایڈیٹر) کی کتاب ” لہو کی فصلیں“ کشمیر کےتناظر میں لکھی گئی کتاب کی تقریب رونمائی بھی ہوئی۔ وہیں اپنےپیارےماموں رو¿ف امیر کےساتھ چودہ سال تک اکٹھےرہی۔ اور تقریباََ چودہ سال وہ دونوں اکٹھےرہی۔ عارف صاحب دوران تعلیم کالج سےاور دوران ڈیوٹی وہ ڈیوٹی سےواپس آ کر سیدھا ماموں کےپاس چلےجاتے۔ رو¿ف امیر رات کو ساڑھےدس بجےیا گیارہ بجےعارف صاحب کو چھوڑتےتھے۔ رو¿ف امیر ، عارف صاحب سےبہت پیار کرتےتھی۔ اور دوسرا وہ ان کا ہم ذوق بھی تھی۔ اور سچی بات تو یہ ہےکہ ان کےہاں ہونےوالی ادبی محفلوں ، مشاعروں اور مذاکروں سےعارف صاحب کو ایک گونہ دلچسپی بھی ہو گئی تھی۔ جنہوں نےغیر شعوری طور پر عارف صاحب کی جمالیاتی اور ادبی تہذیب کی پرورش کی۔ اس دوران ایف جی بوائز ہائی سکول نمبر ٧ میں تین سال تک اعزازی ٹیچر کی حیثیت سےپڑھاتےرہی۔ اسی دوران وہیں رہ کر ایم اےاور ایم فل کیا تاکہ اچھی اور مستقل ملازمت حاصل کر سکیں۔ کیونکہ ان کےپاس طویل مدت سےمستقل اور معقول روزگار نہیں تھا۔ ایم اےکےکرنےکےفوراََ بعد ان کی آرمی پبلک کالج اٹک میں بحیثیت لیکچرر سیلکشن ہو گئی۔جو تقریباََ ایک سال تک چلی۔ اسی دوران میں ایچ آئی ٹی ڈگری کالج ٹیکسلا میں بطور لیکچرر ان کی سیلیکشن ہو گئی۔ اور وہ وہاں چار سال تک پڑھاتےرہی۔ یہ ادارہ بورڈ آف گورنرز کےزیر اہتمام تھااور ان کا انٹرویو برگیڈیئر حسن شاہ نےلیاتھا۔ کنیز فاطمہ سبجیکٹ سپیشلسٹ تھیں۔ جو ان دنوں دنوں پاکستان ٹیلی ویژن کےخبرنامےپر اکثر نظر آتی ہیں۔ ان کےاکثر ساتھی ایف پی ایس سی کا امتحان دےکر لیکچرر سیلیکٹ ہوتےجاتےتھے۔لیکن عارف صاحب نےکبھی بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔ ان کےایک اور دوست لیفٹیننٹ بشارت صاحب جو ان دنوں ہیڈکوارٹر میں ایڈمن آفیسر ہیں۔ ان دنوں ایچ آئی ٹی میں لیکچرر انگلش تھی۔ اور انہیں دنوں فاروق صاحب بھی لیکچرر انگلش بھی تھی۔ ان دونوں نےان کو بہت تحریک دی ۔ اور کہا کہ تم بھی کوشش کرو۔ ہم تمہیں لکھ کر دیتےہیں کہ تمہاری اردو ادب پر گرفت ، انداز بیاں، شاعرانہ ذوق اور سبجکٹ پر مہارت ایسی ہےکہ اگر تم انٹرویو تک پہنچ گئےتو ہر حال میں سیلیکٹ ہو جاو¿ گے۔ مگر عارف صاحب نےنہیں مانا کیونکہ سینکڑوں دفعہ کی کوشش کرنےکےبعد انہیں معمولی بھی سرکاری نوکری نہیں ملی تھی۔ اور وہ دل برداشتہ ہو گئےتھی۔ لیکن بالآخر ان کےاردو کےساتھی لیکچرر زبردستی ایف پی ایس سی کا فارم لےآئے۔ عارف صاحب نےغیر حاضر دماغی سےفارم بھیجا اور دستخط بھول گئی۔ لہذا فارم واپس آ گیا۔ دوسری دفعہ پوسٹیں آئیں تو سوچا کہ اگر اب کچھ کر ہی لیں تو بہتر ہی۔ لہذا ایف ڈی ایف کےزیر اہتمام چلنےوالےہائر سیکنڈری سکولوں میں سینئراساتذہ (گریڈ سترہ) کی ایک پنجاب کی پوسٹ 2001 ءمیں اناو¿نس ہوئی تھی۔ جس کےلئےہونےوالےٹیسٹ پورےپاکستان سےصرف عارف صاحب نےہی پاس کیا تھا۔ اور انٹرویو میں بھی اکیلےتھی۔ اس وقت کےچیئرمین جائنٹ سیکرٹری محمد اکرام نےدو دفعہ ان کا انٹرویو لیا اور کہا کہ آپ پی ایچ ڈی کیوں نہیں کرتی۔ آپ کو کسی اچھی جگہہ ہونا چاہیئی۔ میں پی ایچ ڈی کےبعد آپ کےانٹرویو کا انتظار کروں گا۔ ملک کو آپ جیسےلوگوں کی ضرورت ہی۔ جاتےہوئےخوشی اور حیرت کےملےجلےجذبات سےمجھےدیکھتےہوئےکہنےلگےکہ بیٹا پی ایچ ڈی ضرور کر لینا۔ مگر اللہ کو ایسا منظور نہیں تھا اور عارف صاحب نےجلدی نہ کی مگر ان کی زبان کےکہےہوئےالفاظ آج بارہ سال کیبعد یہ الفاظ پورےہوئےاور ان کا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی میں باقاعدہ طالب علم کی حیثیت سےداخلہ ہو چکا ہی۔ صرف آٹھ سال کےبعد پروموش گریڈ اٹھارہ میں اور وی پی بن گئی۔ اس کےصرف تین سال کےبعد پی ایم ڈائیرکٹو کےتحت سی اےڈی نے انہیں ٹائم سکیل انیس میں پروموٹ کر دیا۔ اور ان دنوں وہ آئی ایم سی بی ترنول میں پڑھا رہےہیں۔ ان کی یہ تعیناتی کسی پوسٹ کےبغیر عارضی ہےاور ان کی گیارہ سالہ نوکری عارضی ہےمگر پوسٹ مستقل رہی۔
” ربیعہ فخری احوال و آثار“ فتح محمد ملک صاحب کی زیر نگرانی میں مکمل کیا جس پر انہیں ایم فل کی ڈگری دی گئی۔ کتاب کی اشاعت میں ان کی پہلی کتاب ” تجھےگر فقرو شاہی کا بتا دوں“ یہ جناب ڈاکٹر تصدق حسین بسم اللہ سرکار کی سوانح حیات ہےاور دوسری کتاب ” کن فیکون“ جو حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کی سوانح حیات ہی۔ ” منظر تیرےغم کا“ان کا اپنا شعری مجموعہ چھپ چکا ہی۔ اور نعتیہ مجموعہ ” حرف سخن مدینہ“ اشاعت کےلئےتیار ہی۔ اللہ نےچاہا تو یہ سلسلہ جاری رہےگا۔ شروع ہی سےعلم و آگہی کےشوق اور حقیقت کی تلاش ان کا مرغوب مشغلہ رہا۔ عثمان نائم صاحب کی ہمہ وقت قربت اور ان کےصوفیانہ مزاج کی وجہ سےعارف صاحب کی تصوف کی طرف رغبت ہو گئی۔ ابتدا میں عالم فقری کی کتابین پڑھیں اور اردو وضائف کرتےرہی۔ ابتداءہی میں انہیں حضرت مولا علی مشکل کشا کی زیارت نصیب ہوئی۔ انہوں نےدیکھا کہ ایک بہت وسیع میدان ہے۔ جس میں روئےزمین کےاولیائےکرام اور فقراءکرام موجود ہیں۔ اور عارف صاحب ان کےآگےکھڑےہیں۔ وہ سب عارف صاحب کو بیک آواز کہہ رہےہیں کہ نظر آٹھاو¿ اور دیکھو کہ وہ سامنےمولا علی جا رہےہیں ۔ پھر نہ کہنا مجھےخبر نہ ہوئی عارف صاحب جب جاگےتو اس وقت فجر کی اذان ہو رہی تھی۔ ان کےپاو¿ں زمین سےدس دس فٹ بلند تھےاور ان کےبازوو¿ں میں اس قدر قوت اور توانائی آ گئی تھی کہ اگر وہ چاہتےتو پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیتی۔ اور زمین و آسمان کو الٹ کر رکھ دیتی۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی نارمل حالت میں آ گئی۔ آہستہ آہستہ ان کی تصوف و معرفت اور سلوک سےدلچسپی بڑھتی گئی۔ ان کےایک دوست غلام عباس جو کہ فنِ تقریر میں ان کےشاگرد بھی تھےکےساتھ اکثر نشستیں ہوتی تھیں اور وہ ان سےتقریریں لکھواتےتھی۔ ایک دفعہ سنگم کیفے واہ کینٹ میں بیٹھےتھےکہ پیروں ، فقیروں کی بحث چھڑ گئی ۔ وہ روحانی عمل اور پیرو ں فقیروں کی اہمیت سےناواقف تھی۔ انہوں نےاس کی ان باتوں کا رد کر دیا۔ مگر وہ کہنےلگےکہ ایک نہ ایک دن تو آپ کو ماننا پڑےگا۔ چنانچہ انہوں نےآستانہ عالیہ سیہان شریف کا ذکر کیا۔ جس سےعارف صاحب نےسنا ان سنا کر دیا۔ اور کوئی خاص توجہ نہ دی۔ بحر حال نشستیں جاری رہیں اور ایک نشست میں عارف صاحب کو اپنےپیرو مرشد سید سلطان شاہ نواز کا تعارف کروایا۔ کہ میں اکثر ان کےہاں جاتا ہوں۔ اگر کبھی موڈ بنےتو میرےساتھ چلو۔ مگر عارف صاحب نےاس کی بات کو چنداں اہمیت نہ دی اور اپنی ضد پر اڑےرہی۔ اور کہتےتھےکہ میں نےبہت پیر فقیر دیکھےہیں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ کہناتھا کہ گھر جاتےہیں ان کےتن بدن میں آگ لگ گئی اور ان کا دل اس نامعلوم مرشد کی تلاش میں ماہی آب کی طرح تڑپنےلگا ۔ وہ کبھی دیوار سےسر ٹکراتےاور کبھی دروازےسے، ان کی آنکھوں سےآنسو نکلتےتھےاور ان کےدل نےدھڑکن چھوڑ دیا۔ وہ اس پردہءغیب میں مرد کامل کو اتھاہ گہرائیوں سےزور زور سےپکارنےلگی۔ صبح صبح شام رات حتی کہ خواب میں بھی اسےیاد کرتےاور کہتےکہ اگر تو کہیں ہےتو میرےسامنےآ ۔ اگر تیرا وجود ہےتو فوراََ میرےسامنےآ جا۔ کہ بس اب دل میں تابِ انتظار نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ میں مر جاو¿ں ۔ بس اب دل میں مزید تابِ انتظار نہیں۔ تجھ سےبھڑی ہوئی صدیوں کی بےقرار روح کہیں اڑ کر تیرےپاس نہ آ جائی۔ تو کہاں ہےتو کہاں ہے؟ ہر وقت پپیہےکی صدا پی کہاں پی کہاں پکارتا رہا۔ ان کےکپڑےمیلےہو چکےتھی۔ ان کی جوتیاں پھٹ چکی تھیں۔ عین ممکن تھا کہ وہ گریباں تار تار ہو جاتےکہ اس دستِ مسیحا کا بلاوا آ گیا اور وہ سیالکوٹ جانےوالےایک قافلےمیں شامل ہو کر سیہان ڈسکہ سیالکوٹ میں جہاں پہنچتےہی ان کےدھڑکتےہوئےدل کو سکون آ گیا ۔ ان کی بےچین روح کو قرار مل گیا۔ اور ان کی آنکھوں کےآنسو تھم گئی۔ وہاں انہوں نےاس مرد بزرگ کی شان میں چند اشعار بھی سنائی۔ اور ان کےمرشد نےانہیں ایک ہی نظر دیکھا اور ان کی دل کی دنیا بدل کےرہ گئی۔ ان کےسب خوف اور توہمات دور ہو گئے۔ گردو غبار کی گرد جھڑ گئی اور وہ چند ہی لمحوں میں کیا سےکیا ہو گئی۔ یہ قدرت کا ان پر سب سےبڑا انعام تھا۔ اور وہ واقعی اپنی پوری زندگی میں ذات باری تعالیٰ کےممنون احسان رہےکہ اس نےانہیں شہنشاہ فقر، مجذوب زمان، مجذوب سالک عارف باصفا،اور صاحب شب زندہ دار ولی ابن ولی حضرت قبلہ و کعبہ سید سلطان آصف علی شاہ صاحب زنجانی قادری ملوایا۔ جنہوں نےانہیں زرےسےآفتاب کیا۔ اور ان جیسےانتہائی خستہ بدحال ، غموں اور دکھوں کےمارےہوئےمعاشرےکےستائےہوئےفرد کو اپنےسینےسےلگایا۔ اور ان کی زندگی کےشب و روز کو منور بنانےمیں ان کی بےپناہ مدد کی۔ یہ انہی کی دعاو¿ں اور لطف وکرم کا صدقہ ہےکہ وہ ایک انتہائی کامیاب انتہائی خوش حال ، انتہائی مطمئن، خوشگوار زدنگی بسر کر رہےہیں۔ آزمائش اور امتحانات تو زندگی کا حصہ ہیں سو ان کا مقدر بھی ہیں۔ خداوند کریم سےدعا ہےکہ وہ ان سےعلم و ادب کی نمایاں خدمات لی۔ انہوں نےہوش سنبھالتےہوئےیہ دعا مانگنا شروع کر دی۔ کہ اےاللہ ! تو مجھ سیاسلام، انسانیت اور ادب کےلئےکوئی نمایاں کام لےلی۔اور میں آج بھی ہر روز رات کو سونےسےپہلےیہ دعا کر کےسوتا ہوں کیا پتہ اس کی قبولیت کا وقت کب آئےگا۔ آستانہ عالیہ سیہان شریف کےچمن زار میں کھلےہوئےسبھی پھولوں کی خوشبو عطر بیز ہی۔مگر جانےکیا بات ہےکہ مجھےمرد قلند ر مر د حق آگاہ حضرت سید محمود علی شاہ جنہیں میں نےنہیں دیکھا تھا سےبہت پیار ہی۔ ایسا لگتا ہےکہ جیسےمیری روح پیر سید محمود علی شاہ کی روح میں حلول ہو گئی ہی۔ اور میں ان کےدامن دولت میں صدیوں سےموجود رہا ہوں۔ حضرت پیر سید کرم علی شاہ غوثِزماں سےبھی مجھےایک گہری وابستگی ہی۔ جنہوں نےفارسی میں علوم تصوف پر ایک ایسی کتاب کھی ہےجو کہ ایک سو پچاس سال سےغیر مطبوعہ ہےجس کےچھپ جانےاور اردو ترجمےسےعلم تصوف کی نئی تاریخ جنم لےگی۔ یہ انہی ہستیوں کا فیضان ہےکہ وہ جہاں بھی جاتےہیں وہاں سےپیار ہی پیار پاتےہیں۔ ان کےارد گرد ہر وقت شعراءاور اولیائےکرام ہی رہتےہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد اللہ سےاللہ تک کا سفر ہی۔ ان کی بچپن سےخواہش ہےکہ ان کی آنکھوں سےحجابات کےپردےاٹھ جائیں۔ اور انہیں عرفان ہستی حاصل ہو جائےجس کی تکمیل کا تکمیلی وقت اب قریب نظر آ رہا ہی۔ کیوں کہ پچھلےکئی دنوں سےمثنوی مولانا روم ان کےمطالعہ میں رہتی ہی۔ اور علامہ اقبال خ ان کےذہن سےہٹتےہی نہیںَ اپنےوقت کےنابغہءروزگار ، عصر حاضر کےمشہور مفکر اور فلسفی علامہ محمد یوسف جبریل کی وساطت سےان پر جہانِ علم آشکار ہونےلگا ہی۔ مشرق اور مغربی فلسفی
سےلگاو¿ بڑھ گیا ہی۔ خدا وند کریم نےشائد اسی مرد حریت کی دعاو¿ں کےصدقےانہیں علم و تحقیق کی منزلوں پر چلنےکےبھی راستےفراہم کر دیئےہیں۔اب ان کا مقصد علم میں اضافہ، تذکیہءباطن اور عرفان و آگہی ، تفکر و تدبر اور تحقیق و تنقید میں انتہائی غیر معمولی کام انجام دینےکا ہی۔ مادیت و روحانیت میں توازن، تعقل پسندی اور فلسفہ ان کا مرعوب موضوع ہی۔ وہ فلسفہءوحدت الوجود اور فلسفہءوحدت الشہود کی تہہ تک پہنچا چاہتےہیں۔ ان کی خواہش ہےکہ اقوام مغرب کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سےامت مسلمہ کو آگاہ کرکےاقوام عالم کی صفوں میں اسےباوقار مقام دلانےکی کوشش کی جائی۔ فرسٹریشن اور سماجی ناہمواری، معاشی دباو¿، اور امتداد زمانہ سےبچ گیا تو توفیق ایزدی سےآخری سانس تک یہ کام کروں گا۔

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 83
    مجرم عدلیہ کا کیس عوام الناس کی عدالت میں تحریر : رضوان یوسف اعوان بادشاہی کفر میں قائم رہ سکتی ہےمگر ظلم اور ناانصافی میں نہیں۔ جن قوموں میں عدل و انصاف ناپید ہو جاتا ہےتباہی و بربادی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہی۔ عدل و انصاف قائم کرنا…
  • 82
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 82
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply