مسیحائےوقت“ کےبارےمیں صدائےزمان لاہور کےکالم تحریرمحمد عارف

مسیحائےوقت“ کےبارےمیں صدائےزمان لاہور کےکالم
تحریر : محمد عارف
رائےمحمد اشرف صاحب کےروزنامہ ” صدائےزمان“ لاہور میں ” مسیحائےوقت“ کےنام سےجناب عنایت اللہ صاحب کا ایک کالم نظر سےگذرا۔ جناب عنایت اللہ صاحب محب وطن پاکستانی اور قومی نقطہءنظر کےحامل دانشور ہیں۔ جناب عنایت اللہ صاحب کی علمی تصنیف ” مسیحائےوقت“ جنوری 2010 ءمیں شائع ہوئی جس کا انتساب حضرت علامہ محمد اقبال اور حضرت قائد اعظم کےنام ہی۔ رائےمحمد اشرف صاحب ایک انتہائی زیرک اور دانا صحافی ہیں ، ان کی نگاہ انتخاب عنایت اللہ صاحب پر بالکل درست پڑی کیونکہ وہ لمحہءموجود میں ملک و قوم کی ڈوبتی ہوئی ناو¿ کو کنارےپر لگانےکےلئے” جمہوریت“ کا درست تصور اجاگر کرنےمیں مصروف عمل ہیں۔ رائےمحمد اشرف ” مسیحائےوقت“ کو ”صدائےزمان“ میں شائع کرکےیقینا وقت کی اہم ضرورت کو پورا کر رہےہیں۔ موجودہ کالم نگاروں میں جناب عطاءالحق قاسمی، جناب نذیر ناجی، جناب جاوید چودھری، جناب حامد میر کےنام سر فہرست ہیں۔ لیکن وطن عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کےلئےببانگ دہل آواز بلند کرنا تنہا جناب عنایت اللہ کےقلم کا کرشمہ ہی۔ وہ وطن عزیز کےاندرونی و بیرونی، دشمنوں کےافکار و نظریات پر کاری ضرب لگاتےہیں اور جمہوریت کےدرست زاویوں کےتعین کےلئےپچھلےدس سال سےکوشاں ہیں۔ ان کی جمہوری اقدار و روایات کی پامالی اور اسلامی تصور حیات کےفر وغ کےموضوع پر نو کتب چھپ کر زیور اشاعت سےآراستہ ہو چکی ہیں۔ (ا) آئینہ وقت، (٢) صدائےوقت (٣) ندائےوقت (٤) آواز وقت(٥) ناد وقت(٦) چراغ وقت(٧) انقلاب وقت (٨) مسیحائےوقت (٩) نوشتہءوقت۔
جناب عنایت اللہ صاحب ایک درویش منش انسان ہیں۔ وہ شہرت اور نام و نمود سےکوسوں دور بھاگتےہیں۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہےکہ وہ اس وقت پاکستان واصفیہ مگتبہ فکر کےواحد ترجمان ہیں۔ انہوں نےاپنی زندگی کا بڑا حصہ حضرت واصف علی واصف کےزیر سایہ بسر کیا جہاں سےانہوں نےاپنےذہنی ارتقاءاور تعلیم و تربیت کا ایک مکمل دورپورا کیا۔ انہوں نےپینسٹھ سال کی عمر میں یہ سوچا کہ وہ قرطاس و قلم کےذریعےفکر و نظر میں ایک انقلاب برپا کر سکتےہیں لہذا وہ تخلیقی میدان میں کمر بستہ ہو کر آ گئےاور دن رات کی شبانہ روز محنت سےتحریک استحکام پاکستان کےلئےکام کرنےلگی۔ جناب بشیر الدین محمود نےدرست لکھا ہےکہ” آج پاکستان کو دیکھنا ہو تو عنایت اللہ کو دیکھ لیں۔ سلگتا ہوا لاوہ جو کبھی بھی پھٹ سکتاہی۔ غم و غصہ کا مرکب ہیں۔ جانتےہیں کہ اہل پاکستان کےساتھ بہت بڑا ہاتھ ہو گیا ہےوہ یہ ہاتھ توڑ دینا چاہتےہیں۔ وہ بخوبی واقف ہیں کہ اس ملک کامراعات یافتہ طبقہ اور حکومتی ٹولہ سولہ کروڑ عوام کا لہو پینےمیں مصروف ہیں۔ جس کا تدارک ہر محب وطن پاکستانی کا ملی و قومی فریضہ ہی“۔

محمد عارف
پروفیسر محمد عارف ترنول کالج، ترنول ضلع اسلام آباد


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 88
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 80
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 78
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply