مفتی محمد عبدالشکوراعوان تحریر شوکت محمود اعوان

مفتی محمد عبدالشکوراعوان
تحریر شوکت محمود اعوان
مفتی محمد عبدالشکور اعوان( راولپنڈی) کےآباو¿ اجداد جبی شریف سےتعلق رکھتےہیں۔ ان کےبزرگ حافظ فتح محمد ایک ولی اللہ شخصیت ہو گزرےہیں۔ وہ جبی گاو¿ں سےاٹھ کر دامان ضلع ڈیرہ اسمعیل خان میں منتقل ہو گئی۔ وہاں ان کی اولاد موجود ہی۔ حافظ فتح محمد کی اولاد میں ان کےبیٹےخدا بخش اور آگےان کےبیٹےغلام محمد اور ان کےتین بیٹےغلام حسین، غلام صدیق اور غلام حیدر ہیں۔ غلام صدیق کےبیٹےمحمد رفیق صاحب ہیں۔ حافظ فتح محمد صاحب کےبارےمیں کئی روایات موجود ہیں اور تحقیق طلب ہیں۔ کہتےہیں کہ ان کےدور میں کسی سکھ نےکہا کہ مسلمان آذان نہ دیا کریں۔ اگر مسلمان آذان دیں گےتو ان کو گولی مار دی جائےگی۔ لیکن حافظ صاحب نےفرمایا کہ میں آذان بھی دوں گا اور انشاءاللہ مجھےگولی بھی نہیں لگےگی۔ کہتےہیں کہ سکھ نےگولی چلائی لیکن حافظ صاحب گولی سےمحفوظ رہی۔ البتہ حافظ صاحب نےبعد میں سکھ کو گولی سےاڑا دیا۔ اس موضوع پر فارسی زبان میں ایک کتاب موجود ہےجس میں یہ حالات درج ہیں۔ اگر یہ کتاب میسر آ جائےتو بہت سارےواقعات منظر عام پر آ سکتےہیں۔ ایک اور واقعہ بھی موجود ہےکہ سکھوں کےایک جرگہ میں جھگڑا ہو گیا۔ سکھ ایک جگہہ نہاتےتھےجہاں پر مسلمان پانی پیا کرتےتھی۔ مسلمانوں نےان کو نہانےسےمنع کیا۔لیکن وہ سکھ اس سےمنع نہ ہوئی۔ اس میں مسلمانوں نےاپنےجرگےمیں یہ فیصلہ کیا کہ سکھوں سےمقابلہ کیا جائے۔ اس پر ایک مسلمان کھڑا ہو گیا اور اس نےکہا کہ اگر میری خاندان میںدشمنی نہ ہوتی تو میں اس سکھ کو ختم کر دیتا جو اس جگہ پر نہائی۔ البتہ بعد میں جب وہاں پر ایک سکھ نہانےکےلئےآیا تو اسی شخص نےایک زور دار پتھر سےسکھ کو مارا اور اس کا بھیجا اڑا دیا۔ بعد میں سکھوں کی جرات نہ ہوئی کہ وہ مسلمانوں کےساتھ لڑ سکیں۔ اور اس طرح یہ جرات کا واقعہ مسلمانوں کےلئےکام آ گیا۔ حافظ فتح محمد کےایک بھائی عبدالرحیم مجذوب اور فقیر بھی تھی۔ ایک دفعہ انہوں نےایک سکھ کو مار دیا ۔تحقیق کی گئی تو معلوم ہواکہ سکھ کو مجذوب نےمارا ہی۔ سکھ مل کر آئےتو مجذوب نظر نہ آئی۔ اس طرح یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ حافظ فتح محمد کا مزار بھڑ رشید دامان ڈیرہ اسمعیل خان میں ہی۔ کروڑ ضلع لیہ تحصیل کروڑ لالی حسین میں ایک دربار بھی موجود ہی۔ کہتےہیں کہ کروڑ موسن شاہ اور قرب شاہ دو بھائی تھے۔دونوں نےگاو¿ں آباد کئی۔ موسش شاہ میں جاگیر سہیڑ برادری موجود ہی۔ دوسرےدرجےپراعوان ہیں البتہ کاغذات میں ان کو آوان لکھا گیا ہی۔ مولنا غلام سرور شہر بھکر میںمدرس ہیں۔ وہ مولوی اسحق صاحب کےچچا زاد بھائی ہیں۔ مولنا محمد ظریف اعوان بھی ان کےچچا زاد بھائی ہیں۔ یہ غلام حسین کی اولاد سےہیں۔ البتہ جبی گاو¿ںسےسادات اور اعوان شفٹ ہو کر لیہ پہنچےہیں۔ یہ مضمون نامکمل ہےاور تحقیق طلب ہے۔
شوکت محمود اعوان جنرل سیکرٹری ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان۔ ادارہ افکار جبریل واہ کینٹ ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان 03009847582


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 80
    وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ تحریر ملک محمد شیر اعوان وساوال ۔ کہتےہیں کہ قدرت جب کسی سےکوئی مخصوص کام لینا چاہتی ہی۔ تو اس کام کےلئےاسی قوم میںسےمخصوص افراد کو چن لیتی ہی۔ جو اس کام کی انجام دہی میں شب و روز ایک کر دیتےہیں۔…
  • 77
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 76
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply