”ناد وقت سنانےوالاملنگ “بابا جی عنایت اللہ تحریرداکٹر رشید نثار

”ناد وقت سنانےوالاملنگ “بابا جی عنایت اللہ
تحریر :داکٹر رشید نثار
ہمارےعہد میں روحِ عصر کےنمائندہ واصف علی واصف تھی۔ ان کی دانش کےروشن چراغ بابا جی عنایت اللہ ہیں۔ جن کےپاس علم، دانش اور vision تینوں موجود ہیں۔راقم التحریر جناب واصف علی واصف کو اس عہدکاکشادہ ظرف انسان اور فلسفہ دان تسلیم کرتا ہی۔ اس کےفکر کو خراجِ عقیدت پیش کرنےکےلئےہم سب کو کسبِ فیض کرنا چاہیئےتھا مگر واصف علی واصف اپنےپیش رو آپ تھی۔ انہوں نےاپنےہم عصروں میں نمایاں عزت حاصل کی۔ ان کےبعدبابا جی عنایت اللہ دبستانِ واصف کی نمائندگی کرتےہوئے،نوعیت کےاعتبار سے، ذاتی سطح پر ایک عظیم کارنامہ انجام دےرہےہیں۔ ان کی کتب کی اشاعت اور اسبابِ زوال امت کےحوالےسےدردمندی کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
جناب باباعنایت اللہ نےماضی کا تجزیہ جس انداز سےکیا ہےاس کی روشنی میںہم اپنےحال اور مستقبل کو آسانی سےدیکھ سکتےہیں۔ ان کی کتب کی ورق گردانی کرتےہوئےہم ایک ایسےشخص سےشرف ِملاقات حاصل کرتےہیں کہ جن کےپاس ازمنہ وسطی کی عظیم تاریخ اور اپنےعصر کا زندہ شعور موجود ہی۔ ان کی کتب دبلی پتلی اورباباجی عنایت اللہ کےقد بت کےبرابر ہیں مگران میںحکمت و فلسفہ، حیرت انگیز بصیرت اور ژرف بینی اس امر کی شہادت پیش کرتی ہےکہ وہ اس عہد کا ©©”غزالی“ ہی۔
بابا جی عنایت اللہ ماہر عمرانیات ہی نہیں، علم اور حکمت کےتمام متداول شعبوںسےواقف اور صحت مند ذہن کےساتھ سوچنےکےعمل سےآشنا ہیں ۔ وہ یگانہءروزگار شخص ہونےکی وجہ سےتوفیق خداوندی کےزیادہ قریب ہیں۔چنانچہانہوں نےنام نہاد جمہوریت کو مسترد کردیا ہےاور دوسرےمذاہب سےپرامن تصفیہ حاصل کرنےکیلئےجرائت ِافکار کی دعوت دی ہی۔
راقم التحریر ان کےحقیقت پسندانہ تجزیئی، کسان مزدور تحریک کا ہمنوا ہی۔ علیٰ ہذالقیاس فکروعمل کی روشنی میںبابا جی عنایت اللہ ابنِ خلدون اور علامہ مشرقی کےبہت قریب دکھائی دیتےہیں۔چنانچہ انہوں نےسرکاری بالادستی کی جمہوریت کےبرعکس انسان کو الہامی نظریات کی نوید سنائی ہی۔
پاکستان جب سےمعرضِ وجود میںآیا ہی۔ اس عہد سےلےکرآج تک علوم و فنون کوزوال ّ آ رہا ہی۔ متمدن اور مہذب معاشرہ تشکیل نہیں پارہا۔ ظلم وتعدی کو کوئی روکنےوالانہیں۔ مال بنانےکی فیکٹریاں وجود پارہی ہیں۔ خدا خوفی ناپید ہی۔ کاملانِ فن کورزق دستیاب نہیں۔ چاپلوس اور مچرب زبان بڑےبڑےعہدوں پر فائز ہیں۔ ایٹم بم فوبیا ہمارےذہن میں شامل ہوگیا ہی۔ ہم نےایٹم بم بناکرطمانیت حاصل نہیں کی لہذا خوف کی لرزش اور insecurity کو ہماری گفتگو اور تحریروں کےگہرےسکوت میں عکس کیا جاسکتا ہی۔
پاکستان کےروز وشب سےیہ امر عیاں ہےکہ اس ملک کو امریکہ کےہاتھوں رہن رکھ دیاگیا ہی۔ لہذا ترقی کا پیئہ جام ہوگیا ہی۔بابا جی عنایت اللہ نےکامل دل سوزی کےساتھ فلسفیانہ جائزہ لےکرتاریخی حرکت کی نشاندہی کی ہی۔ انہوں نےکائنات کےآغاز اورانجام کو تاریخ کےنظریئےکےساتھ منطبق کرکےدیکھا ہی۔ چنانچہ ان کےشعور میں اجتماعی زندگی میںشجاعت، تفکر، اور انسانی دائرےکا نیا سفر بدرجہ اتم موجود ہی۔
موجودہ وقت اور تمام عالم ،امریکی سامراجی بربریت کی زد پر ہی۔ زمانہ اور تاریخ دونوں اس کےپنجہءاستبداد میں ہیں۔ میرےنزدیک یہ تاریخ کا جبری عمل ہی۔ امریکا کو شائید کبھی زوال نہیں آئےگاکیونکہ پوری دنیا اپنےنقطہءعروج پر پہنچکرزوال پر آمادہ ہی۔ پاکستان خصوصی طور پر عہدِطفلی میںبوڑھا ہوگیا ہی۔ یہ ملک اپنی جوانی امریکا کی باجگزاری میں گزارتا رہا ہی۔ اس کےپاس تہذیب اور تمدن کوئی نہیں۔ لہذا بےکراں روحانی افلاس وجود پاگیا ہی۔ باباجی عنایت اللہ اس کاعلاج بھی روحانیت ہی میں تلاش کرتےہیں۔ ان کےاپنےقول و فکر میںواصف علی واصف کی روحانیت ،انکااپنا کشت اوراولیٰ العزمی موجود ہی۔
باباجی عنایت اللہ فقر کی دولت سےمالا مال ہیں۔ انہوں نی” سرد فکریت“ کی بجائےجدید نقطہءنظر کواپنےتفکر میں رو ا رکھ کر ”ناد وقت“ سنائی ہی۔ ہم اسےطرزتاریخ نگاری کےمشابہہ قرار دےسکتےہیں۔ یاد رہےان کی تاریخ نگاری وسیع المشربی اور بےکراں نقطہءنگاہ کو پیداکرتی ہی۔
ڈاکڑ رشید نثار
اگست ٤٠٠٢ راولپنڈی

 


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 80
    وادی سون کاتعارف تحریر : شوکت محموداعوان پاکستان کی حسین و جمیل وادیوں میں وادی سون دلفریب مناظر کی حامل ایک مشہور وادی ہی۔ یہ وادی کوہستان نمک کےعلاقےکا حصہ ہےاور اپنےقدرتی مناظر ، خوش گوار ماحول، ٹھنڈےموسم اور زمین میں معدنیات کےبھر پور خزانوں سےمزین مشہور وادی ہی۔ اس…
  • 75
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 73
    حضرت واصف علی واصف کی پنجابی شاعری میں صوفیانہ روایت تحریر : محمد عارف حضرت واصف علی واصف لمحہءموجود کےان معروف و مقبول صوفی دانش وروں میں سےہیں جنہوں نےعلمی استدلال، تفکر و تدبر اور دانائی و بینائی سےآج کی بھولی بھٹکی انسانیت کےرشتہءخالق کائنات سےمضبوط بنایا۔ وہ بنی نوع…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply