نوجوان شاعر رو ف امیر کا فن اور شخصیت تحریر شوکت محمود اعوان

نوجوان شاعر رو ف امیر کا فن اور شخصیت
تحریر شوکت محمود اعوان

(یہ مضمون بہت پرانا ہے۔اس زمانےمیں جب رو¿ف امیر کالج کی زندگی گذار رہا تھا۔ میں نےاس زمانےمیں یہ مضمون لکھا۔ یہ مضمون کسی پایہ کا نہیں لیکن کچھ یادیں وابستہ تھیں تو میں نےاسے پیش کر دیا۔ رو¿ ف امیر پر لکھنےکےلئےبہت اعلی تنقیدی ذہن ہو نا چاہیئی)۔
رو¿ف امیر ٹیکسلا اور واہ کےنوجوان شعراءمیں اپنا ایک خصوصی مقام رکھتا ہی۔ وہ آزاد شاعری میں تشبیہات، استعارات اور ماحولیات کا عجیب و غریب انداز سےاستعمال کرنےپرکلی دسترس رکھتا ہی۔ گھر کےماحول سےلےکر معاشرےکےوسیع منظر نظاروں کی اس قدر خوبصورت انداز میں عکاسی کرتا ہی۔ کہ قاری معاشرتی تبدیلیوں ، انسانی کمزوریوں، مشینی اثرات، معاشرتی حسن و قبح اور واقعات کےحقیقی اور اصلی پہلوو¿ں کا نظارہ کرنےلگتا ہی۔ اس کی گھمبیر ذات کی طرح اس کی شاعری بھی گھمبیر ہی۔ اس کی انفرادی نوعیت کی باتیں معاشرتی پہلوو¿ں کا مکمل ادراک رکھتی ہیں۔ جب وہ شعر کہنےلگتاہےتو ایسا معلوم ہوتا ہےکہ زمانےبھر کےاضطراب، دکھ اور درد اس کی آنکھوں میں سمٹ آئےہوں اور پھر وہ شعروں کی شکل میں آنسوو¿ں کی صورت میں اسکی کالی چمکدار آنکھوں سےبہہ بہہ کر تابدار موتیوں کی شکل میں تبدیل ہو کر سامعیں کےدلوں کاہار بن جا رہےہوں۔ اتنی کم عمری میں اتنےاعلیٰ پایہ کےشعر کہنےسےرو¿ف امیر کےاعلی ٹیلنٹ کی نشان دہی ہوتی ہی۔ ذوق و وجدان اور تیز جمالیاتی حس اس کےذہن کی اضطرابی کیفیت میں اضافہ کر دیتی ہےاور رنگ برنگےشعر پوری جامعیت اور موسیقیت کےساتھ ظہور پذیر ہوتےہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہےکہ واہ اور ٹیکسلا کےگردونواح میں پھیلےہوئےبےشمار نوجوان شعراء کےکلام پر رو¿ف امیر کےکلام کی چھاپ ہےاور یہ کسی حد تک حقیقت بھی ہی۔ کہ رو¿ف امیرنےبہت سےنوجوانوں کےشعری جذبوں کو اپنی بےپناہ قلبی طاقت کی لو سےروشنی بخشی ہےاور ان کےشعروں میں ان جذبوں کی عکاسی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہی۔ ان جذبوں کو پروان چڑھانےمیں رو¿ف امیر نےکبھی بھی ادبی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ٹیکسلا سےاب رو¿ف امیر کی شاعری کا دبستان واہ میں منتقل ہو گیا ہی۔ واہ چونکہ شعرو شاعری کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہاہےاور خوش قسمتی سےواہ چھاو¿نی میں ادیبوںاور شاعروں کا ایک قافلہ سرگرم عمل ہےاور رو¿ف امیر اس جتھےمیں نمایاں شخصیت کےطور پر ابھررہا ہی۔ اور دبستان رو¿ف کےاثرات اب واہ کی ادبی محفلوں میں بھی محسوس کئےجا رہےہیں۔ رو¿ف امیر کی ذات اور شاعری میں ہم آہنگی اور ربط موجود ہےاور اسےبلند پایہ فکر کےمالک شاعر کےطور پر استعمال کیا جا رہا ہی۔ بعض اوقات اس کی خود سری اس میں آڑےآتی ہےتاہم اس کی شاعری میں جمود نہیں زور بیان کےساتھ شستگی اور توازن بھی موجود ہےاور ولولہ انگیزی کا عنصر توبہت حد تک اس کی شاعری میں نمایاں ہی۔
رو¿ف امیر کی شاعری میں موسیقیت اور باہمی ربط کا خوبصورت استعمال دیکھا جا سکتا ہی۔یہ بات ایک عجیب انداز اور پیرائےمیں استعمال کی گئی ہی۔ جو پڑھنےمیںذومعنی بلکہ طرز بیان میں انفرادی حیثیت اختیار کر لیتی ہی۔ عام بات کو اچھوتےانداز میں بیان کرکےنیرنگی خیال پیداکرنا رو¿ف امیر کی شاعری کا نمایاں پہلو ہی۔ مثلاََ
میں بادشاہ بننےلگا تھا مگر امیر سر پر ذرا سارک کےپرندہ گزر گیا
تعمیر میں عجلت کا نتیجہ ہی یہی تھا ہےکوئی سلیقہ نہ کوئی ڈھنگ مکاں میں
و ہ روزمرہ ہونےوالےواقعات کو اپنی شاعری میں اس طرح سموتا ہےکہ ہر قاری اسےاپنی زندگی سےہم آہنگ و مربوط دیکھ کر کھل اٹھتا ہی۔ اور زندگی کی حقیقتوں کاتجزیہ بےدھڑک ہو کر کرتا ہی۔
یہاں زرخیز مٹی ہی نہیں تو پھول کیا مہکیں یہاں حدِ نظر تک ریگ صحرا ہےجہاں ہم ہیں
ہم اپنےعہد کےیوسف ضرور ہیں لیکن کنوئیں میں قید ہیں بازار تک نہیں پہنچی
امیر اب میں بھی واقف ہو گیا ہوں اس حقیقت سے کہ کیا ہےدور صحرا میں جو پانی سا چمکتا ہی
مالی جو گل کھلا وہ آخر کارگر ا لیکن اب تک شاخ سےکوئی خار گرا
اب نئی تعمیر کا ساماں پور اہو گیا اب شکستہ گھر کی دیواریں گرانی چایہیں
رو¿ف امیر کےدل پر لگےہوئےزخموں کی بات میں یا بادلوں کی سپاہ کا منظر ہو، شام کےڈھلنےکا نظارہ ہو یا گاو¿ں میں مقیم رو¿ف امیر کےچچا زاد بھائیوں کو خطاب ہو ۔ یا کالج میںہونےوالےواقعات کی منظر کشی ہو۔ سب دل پر اس قدر اثر انداز ہوتےہیں کہ صدیوں تک ان کی گونج ذہن میں سنائی دیتی ہی۔ کالج کی نوجوان اور بانکپن لڑکیوں کےہجوم میں جب رو¿ف امیر اپنی تازہ نظم یاغزل سنا رہا ہو تا ہےتو اس کےچہرےپر سوچ اور تفکر کا ایک سیاہ پردہ سا چھا جاتاہی۔ ایسا معلوم ہوتا ہےکہ پاس کھڑی ہوئی دلچسپ نیرنگیوں میں مطلقاََ دلچسپی نہیں لےرہا۔ بلکہ زندگی کےاحساسات کےکھلےافق میں گم دکھائی دیتا ہی۔ لیکن شاید ایسا نہیں تھا۔ اس کےہمہ وقتی احساسات کھلتےاور مسکراتےچہروں سےٹکرا کر کائنات میں منعکس ہوتےہیں۔ تو رنگ برنگےشعروں کی شکل میں اس کےذہن سےتخلیق پا کر رونق محفل وبزم بن جاتےہیں۔ اس کی ذہانت، اس کےتعلیمی جذبےمیں اس کی برق رفتاری کاباعث ہی۔ ایک متوسط خاندان سےتعلق ہونےکےباوجود، وہ زندگی میںاعلیٰ اقدار حاصل کرنےکا شوقین ہی۔ اور انتہائی متاثرکن تصورات اور رنگین خوابوں کو ذہن و فکر میں رکھ کر سامعین سےمحو گفتگو ہوتاہی۔ بعض اوقات اس کی یہ ادا ناگوار بھی گذرتی ہی۔ لیکن اس کی فکری گہرائی، مطانت، ذہانت اور تدبر کو مدنظر رکھتےہوئےاس کی اولوالعزمی کی اس ادا کو انظر انداز کر دیا جاتاہی۔ ہم جولیوں کےبےحد اسراف پر اپنی کوئی تازہ نظم جب رو¿ف امیر سنانےلگتا ہےتو ہم جولیوں کی گھٹی گھٹی آواز میں اور کہیں تعریفی قہقہونںکی زد میں رو¿ف امیر کوکئی آنکھیں رشک کی نگاہوں سےدیکھتی ہیں تو شائد کچھ دلوں میںبغض و عناد کی لہریں بھی عود کر آتی ہوں ۔یہ ایک فطری امر ہی۔ جس کوروکا نہیں جا سکتا۔ لیکن سب چہروں کےدلوں میں رو¿ف امیر کےلئےدلی محبت و احترام کا ایک در ضرور کھلارہتا ہی۔
کلاس میں رو¿ف امیر جب استادانہ صلاحیتوں اور تنقیدی جائزوں کا بھر پور استعمال کر رہا ہوتاہےتو سننےوالےسارےلوگ اس کےشاگرد نظر آتےہیں۔ تاہم عام زندگی میں وہ عجیب وغریب عادتوں کا مالک ہی۔ کبھی کبھی اس کی یہ عادتیں نیم پاگلوں کا سا منظر پیدا کرتی ہیں۔ تنقید کاموضوع ہو یا رو¿ف امیر کسی محفل میں غزل یا نظم سرا ہوں۔ اس کی آنکھوں کےاشارےاور ہاتھ کےبےدریغ استعمال سےوہ اس بات کاخواہش مند ہوتا ہےکہ جب رو¿ف امیر بول رہا ہو تو زمانےبھر کی زبانیں گنگ ہو کر محو تماشائی ہونی چاہئیں ۔کسی محفل میں اس کےنزدیکی دوستوں میں ایوب اختر، عصمت حنیف، شعیب ہمیش یا غفور شاہ سےجب محوِ گفتگو ہوتا ہےتو اس کی یہ خواہش ہوتی ہےکہ اس کےدوست زمانےکےتمام واقعات بھول کر ذہنوں سے زندگی کےسارےدکھ اور درد نکال کر اس کی رس گھلی باتوں میں گھول کر پی جائیں۔ وہ اس خواہش کا بھی بےدریغ خواہش مند ہوتا ہےکہ جب وہ قہقہوں پر قہقہےلگا رہا وہ تو اس کےساتھ بھی بےدریغ قہقہوں کا استعمال کریں اور پھر اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔چلتےچلتےہاتھ کی پوری قوت سےاپنےکسی ساتھ چلنےووالےدوست کو رکنےکا اشارہ کرتاہےاور چاہےتووہ کئی گھنٹوں اسی قدم پر رکےرہیں اور باتوں کایہ طویل سلسلہ چلتا رہےحتی کہ دوست تھک ہا رکر بیٹھ نہ جائیں۔
(شوکت محمود اعوان قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی)

 


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 86
    رو ئف امیر چند یادیں، چند باتیں تحریر محمد عارف رو¿ف امیر کا نام کراچی سےلےکر خیبر تک پورےملک کےعلمی و ادبی حلقوںمیں ہی نہیں جانا پہچانا جاتا ہےبلکہ وہ بیرونِ ملک وسطِ ایشیاءکی ریاست قازقستان میں پاکستان چیئر پر سکالر کی حیثیت سےاپنی خدمات سرانجام دےرہےتھی۔ وہ ایک عمدہ…
  • 76
    اپنی موج میں ،اپنی دُھن میں ،بہتا بولتا رہتا ہے تحریر : شمشیر حیدر جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتو ایسےمیںاگر ایک جگنو بھی چمکتا دکھائی دےتو حوصلہ ہونےلگتا ہے،کچھ کچھ اپنےہونےکےنشاں کھلنےلگتےہیں اور وحشتوں کےفریب میں کمی آنےلگتی ہے۔ہم ایسےعہدِبےچراغ میں زندہ ہیںکہ جب ہرآدمی زندگی جبرِمسلسل کی طرح…
  • 75
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply