”وادی سون سکیسر تاریخ و ثقافت “ کےمصنف ملک محمدسرور اعوان کا سوانحی خاکہ تحریرملک شوکت محمود اعوان

”وادی سون سکیسر تاریخ و ثقافت “ کےمصنف ملک محمدسرور اعوان کا سوانحی خاکہ
تحریر : ملک شوکت محمود اعوان
پیدائش کب اور کہاں ہوئی ۔
ملک محمد سرور اعوان کی پیدائش وادی سون سکیسر کےایک مشہور گاو¿ں نوشہرہ میں ٦ مئی 1911ءکو ہوئی۔نوشہرہ وادی سون سکیسر کا مرکزی قصبہ ہی۔انتظامی طور پر وادی سون سکیسر خوشاب میں واقع ہی۔ ان کو اپنی والدہ کا دودھ صرف ڈیڑھ ماہ پینا نصیب ہوا۔ جو رضائےالہیٰ سےوفات پاگئیں۔ ان کی پرورش ان کی دادی جان اور دادا جان نےکی۔ دادی جان بتاتی ہیں کہ کمزوری کی وجہ سے ملک سرور صاحب کا سانس نکلتا بھی معلوم نہیں ہوتا تھا ۔ وہ کئی بار پوتےکےمنہ سےکان لگا کر اندازہ کرتیں کہ بچہ زندہ بھی ہےیا نہیں۔ دادی جان جب چکی پیسنےبیٹھتیں۔ تو پنگوڑھےکی رسی اپنےپاس رکھتیں ۔ جب وہ روتا یا جاگتا تو اسی سےپنگوڑھا ہلا دیتی تھیں۔ ان کےدادا جان ملک امیر بخش ایک متقی، پرہیز گار، اور صاحب علم و معروف سماجی شخصیت تھے۔ طبابت کےعلاوہ رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتےتھے۔ انہیں ضابطہءفوجداری اور دیوانی پر بھی مکمل عبور حاصل تھا ۔ اور لوگ قانونی مشوروں کےلئےان کی طرف رجوع کرتےتھے۔ ان کےوالد ملک غلام جیلانی طویل عرصہ تک فوجی خدمات سرانجام دینےکےبعد 1921 ءمیں ریٹائر ہو کر گاو¿ں آ گئی۔ 1913 ء میں طاعون کی وبا پھیلی تو لوگ گھر بار چھوڑ کر باہر چلےگئی۔ ملک صاحب کےبزرگوار بھی اپنےقصبےسےتقریبا دو کلومیٹر دور اپنی زرعی زمین، جسےمقامی طور پر میرا کہا جاتا ہی۔ اور جہاں اب واپڈا کا گرڈ سٹیشن ہےوہاں چلےگئے۔ اور ایک تمبو لگا کر کچھ عرصہ مقیم رہی۔ جب وبا ختم ہو گئی۔ تو گھر واپس آ گئے۔ اگرچہ اس وقت سرور اعوان صاحب کی عمر دو سال تھی ۔ لیکن ان کو یہ واقعہ ابھی تک یاد ہی۔ ایک بار وہ شام پڑتےہی سو گئے۔ رات گئےجاگی۔ تو سخت بھوک لگ رہی تھی ۔ انہوں نےکھانا مانگا ۔ گھر میں دال پکی ہوئی تھی ۔ دال دیکھتےہی انہوں نےرونا شروع کر دیا ۔ اور کہا میں تو گوشت کھاو¿ں گا۔ اب اتنی رات گئےتک گوشت کہاں سےمل سکتا تھا ۔ یہی بحث تکرار سن کر ان کےایک ہمسائے بابا سلطان احمد آئے۔ اور پوچھا کہ کیا ماجرا ہے ۔ جب انہیں بتایا گیا کہ بچہ گوشت کھانےپر زد کر رہا ہی۔ جب کہ ہمارےگھر میں دال پکی ھوئی ہے۔ تو سلطان احمد گھر میں گئے۔ اور پکےہوئےگوشت کی ایک پلیٹ لےآئی۔چونکہ وہ شکاری تھےلہذا ان کےگھر میں گوشت موجود تھا ۔ یوں ملک صاحب نےجی بھر کر کھانا کھایا۔ اور پھر سو گیا۔
تعلیم کہاں حاصل کی ۔
انہوں نےگورنمنٹ ھائی سکول نوشہرہ سےمڈل پاس کیا۔ پھر جےوی کا امتحان گورنمنٹ سکول شاہ پور صدر سےپاس کیا۔ گلستان سعدی حضرت خواجہ محمد قمرالدین سیالوی صاحب سےپڑھی ۔ اور بعد میں مولوی حبیب اللہ صاحب سےجو آستانہ عالیہ سیال شریف میں مدرس تھی۔آپ نے خانقاہ میاں وڈا نزد ماڑی شاہ، صغیر احمد قریشی ، اور احمد یار شاہ صاحب سےعلم الجفر میں استفادہ کیا۔
ملازمت کہاں کہاں کی ۔
ملازمت کا دورانیہ چالیس سال تک رہا ۔ لیکن کہیں بھی چین سےبیٹھنا نصیب نہیں ہوا۔ بعض تعلیمی اداروں میں قیام صرف چند دن رہا ۔ بعض میں چند مہینے اور بعض میں چند سال لیکن جہاں بھی رہا ۔ اپنا فرض منصبی کماحقہ ادا کیا۔ دوران ملازمت حالت یہ رہی ۔ کہ صبح سو کر اٹھتےتھے، تو سب سےپہلےاپنا بستر باندھ کر رکھ دیتےتھے۔ تاکہ اگر ٹرانسفر آرڈر ملےتو سفر اختیار کرنےمیں تاخیر نہ ہو ۔ ملازمت کےایام میں انہیں زیادہ تر خدمات سرانجام دینےکا موقع حویلی نتھوکہ، پیل اور جابہ میں ملا۔
ملازمت کےعلاوہ فارغ الاوقات کےمشاغل :۔
ابتداءمیں انہیں شکار کابہت شوق تھا۔ چنانچہ اس شوق کی تکمیل کےلئےانہیں وادی سون کےجنگلوں میں جانا پڑتا تھا ۔ جنگلات میں مختلف مقامات پر پرانےکھنڈرات دیکھ کر ان کو آثار قدیمہ کو تلاش کرنےاور ان پر تحقیقی کام کرنےکا جذبہ پیدا ہوا۔ جو رفتہ رفتہ اتنا بڑھا ۔کہ پھر انہوں نےاپنی باقی زندگی آثار قدیمہ ، نوادرات، اور فوسلزز اکٹھا کرنےمیں صرف کر دی۔ تحقیقی کام کےساتھ ساتھ انہوں نےاپنےگھر میں وادی سون سکیسر کےقدیم نوادرات، قدیم آلات، ظروف، اور فوسلز، کا ایک عجائب گھر بنایاجس میں آثار قدیمہ کاقیمتی اثاثہ جمع کررکھا ہے۔ اس کا نصف حصہ انہوں نےلوک ورثہ اسلام آباد کو بطور عطیہ پیش کر دیا ہی۔ جہاں یہ قیمتی اثاثہ وادی سون سکیسر کی ثقافت کےعنوان کےتحت نیشنل میوزیم میں رکھا جائیگا۔
©©”وادی سون سکیسر خوشاب کی تہذیب و ثقافت کا ارتقاءاور اعوان قبیلےکا تاریخی پس منظر ان کا پسندیدہ موضوع رہا ہی۔ اور انہوں نےاس سلسلےمیں اپنی تحقیق و تدقیق پر مبنی مندرجہ ذیل کتابیں تصنیف کی ہیں۔
١۔ اکھان وادی سون سکیسر، یہ کتاب پنجاب یونیورسٹی نےشائع کی ہی۔
٢۔ ضرب المثال۔
٣۔ وادی سون سکیسر تاریخ و ثقافت۔لوک ورثہ اسلام آباد نےشائع کی ہی۔
٤۔ اکھان کہانی
٥۔ ماہیا
٦۔ وادی سون کی قدیم ثقافت اور جدید کثافت
٧۔ تذکرہ اولیاءسون
نمایاں خدمات :۔
اپنی بساط کےمطابق انہوں نےسیاسی، سماجی اور علمی خدمات بھی سرانجام دی ہیں۔ سیاسی طور پر سب سےبڑی خدمت وادی سون میں ©©©قیام پاکستان کی تحریک کو موثر اور فعال بنانا تھا۔ شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمرالدین سیالوی کی قیادت میں انہوں نےملازمت کی بندشوں کےباوجود تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سلسلےمیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اورانہیں علاقہ بدر بھی کیا گیا ۔ لیکن جذبہءایمانی اور حمیت مسلمانی میںذرہ بھر فرق نہ آیا۔ اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائی۔ اور پاکستان بن کر رہا۔ اس عظیم الشان جدوجہد میں ان کی شرکت کو توشہءآخرت کا سامان کہا جا سکتا ہی۔ اور اس دوران انہوں نےکسی صلہ و ستائش کی تمنا نہیں رکھی۔
سیاسی طور پر وادی سون سکیسر کو پسماندہ اور غریب رکھنےکےلئےجاگیرداروں اور وڈیروں نےجو ایک آہنی جال بچھارکھا تھا ۔ اسےپاش پاش کرنےکےلئےبھی انہوں نےزندگی بھر جدوجہد کی ۔ یہ جدوجہد بلاخر انجمن اعوانان کےنام سےایک جماعت کی صور ت میں ظاہر ہوئی۔ جس نےوادی سون سکیسر کےغریب،ان پڑھ اور پسماندہ لوگوں کی ترقی و خوشحالی کیلئےگراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور اب بھی دےرہےہیں۔ انہیں یہ خوشی تھی کہ وہ اس کےبانی اراکین میںسےایک ہیں۔
سماجی سطح پر وادی سون سکیسر کےلئےبجلی کی فراہمی، نوشہرہ میں لڑکوں کےلئےانٹرمیڈیٹ کالج، زرعی ترقی کےلئےمحکمہ سائل کنزرویشن کا تعاون ، کھٹوائی ریسٹ ہاو¿س سےنوشہرہ تک پکی سڑک کی تعمیر، ٹرانسپورٹرز کی طرف سےمن مانےکرائےوصول کرنےکی بجائےحکومت کےمقرر کردہ نرخ کےمطابق کرایہ وصول کرنےکااجراءاور اسی طرح کی بہت سی دیگر چھوٹی بڑی خدمات سرانجام دیتےرہےہیں۔ اور اب بھی دےرہےہیں ۔ وہ خلق خدا کی خدمت کو عبادت میں شمار کرتےہیں۔ اور دامی، درمی، سخنےجو کچھ ہو سکے۔ کرتےرہتےہیں۔ بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریزی کا مقام ہےجس نےانہیںاپنی مخلوق کی خدمت کرنےکی ہمت اور توفیق عطا فرمائی۔
اولاد :
اللہ تعالیٰ نےدو فرزند عطا فرمائےتھی۔ چھوٹا ابھی دو سال کا تھا کہ اس کی والدہ ماجدہ انتقال کر گئیں۔لیکن ملک صاحب نےدوسری شادی نہیں کی۔ بلکہ بڑی محبت سےاپنےدونوںبیٹوں کی پرورش کرنےلگی۔ چھوٹا بیٹا ایف اےمیں پڑھتا تھا ۔ جب اچانک عارضہءقلب میں مبتلا ہو کر انتقال کر گیا۔ اس جانکاہ صدمےنےانہیں زندہ در گور کر دیا۔ اور ایک طویل عرصہ تک وہ نڈھال پڑےرہی۔ ان کا مرحوم بیٹا ان کےگلشن کا گل سرسبد تھا ۔اس کی جواں مرگی کا دکھ ان کےقبر میں جانےکےساتھ ساتھ جائےگا۔بڑا بیٹا محمد صبغت اللہ پہلےفوج میں ملازم تھا ۔ اب اپنا کاروبار کرتا ہی۔ ملازمت کےدوران تمغہءخدمت، سند حسن کارکردگی او ر کئی تعریفی اسناد حاصل کر چکا ہی۔
حرف آخر
ملک سرور اعوان کی عمر اب ترانوےسال سےتجاوز کر چکی ہی۔ ضعیف العمری کےباعث اب وہ کوئی علمی کام کرنےسےمعذور ہو چکےہیں۔ لیکن اس کےباوجود انہوں نےوادی سون سکیسر خوشاب کےبارےمیں جو تاریخی اور تحقیقی مواد اپنی تصانیف میں یک جا کیا ہی۔ وہ زیور طباعت سےآراستہ ہو چکا ہی۔ حال ہی میں ایک کتاب وادی سون سکیسر کےنام سےلوک ورثہ اسلام آباد نےشائع کی ہی۔ اور باقی مواد بھی کتابی صورت میں عنقریب انشاءاللہ شائع ہو جائےگا۔ اس طرح ان کی آخری تمنا پوری ہو جائےگی۔ کہ ان کی آنکھوں کےسامنےوادی سون سکیسر کی تاریخ اور تحقیقی مواد شائع ہو جائےگا۔ ان کی اور علاقہ کےعوام کی بھی خواہش ہےکہ انہوں نےآثار قدیمہ کےجو نوادرات اور فوسلز جمع کئےہوئےہیں ۔ ان کی نمائش کےلئےحکومت پاکستان وادی سون سکیسر میں ایک عجائب گھر بنا دی۔ تاکہ آنےوالےدنوں میں ماہرین آثار قدیمہ ، مورخین، محقق، طالب علم، اور سیاح ان سےاستفادہ کر سکیں۔

شوکت محمود اعوان
جنرل سیکرٹری ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان
معرفت ادارہ افکار جبریل مین بازار نواب آبا د واہ کینٹ ضلع راولپنڈی
03009847582

 


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 73
    واہ قدیم شہر ٹیکسلا کےسنگم پر واقع ہی۔ ازمنہءقدیم میں ٹیکسلا گندھارا تہذیب کی راجدھانی رہا ہی۔ دور دراز سےتجارتی قافلےآتی، یہاں پر پڑاوکرتےاور اہل ہنر و صاحبان سیف و قلیم کا بھی یہاں پر اجتماع رہتا۔ ایک زمانےمیں علم و ہنر کےحوالےسےٹیکسلا کا پورےعالم میں ڈنکا بجتا تھا اور…
  • 70
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 70
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 70
    علامہ محمد یوسف جبریل ،وادی سون اور انگریز کی نوکری تحریر : شوکت محمود اعوان جب تک انگریز دنیا کی سپر پاور بن کر دنیا پر حکمرانی کرتےرہی۔ تو ان کی مقبوضات میں شامل ہندوستان کا ایک کوہستانی علاقہ بھی ان کی فوج کےلئےایندھن کا کام دیتا رہا۔ یہ پنجاب…
  • 69
    اپنی موج میں ،اپنی دُھن میں ،بہتا بولتا رہتا ہے تحریر : شمشیر حیدر جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتو ایسےمیںاگر ایک جگنو بھی چمکتا دکھائی دےتو حوصلہ ہونےلگتا ہے،کچھ کچھ اپنےہونےکےنشاں کھلنےلگتےہیں اور وحشتوں کےفریب میں کمی آنےلگتی ہے۔ہم ایسےعہدِبےچراغ میں زندہ ہیںکہ جب ہرآدمی زندگی جبرِمسلسل کی طرح…
  • 68
    وادی سون کا قدرتی ماحول تحریر شوکت محمود اعوان وادی سون کا ماحول ایک قدرتی ماحول ہی۔ جہاں جنگل، پربت وادیاں، ندیاں، نالی، جھیلیں، درختوں کےجھنڈ، آبشاریں، لہلہاتی فصلیں، جنگلی جانور، جنگلی بوٹیاں موجود ہیں۔ یہاں پر جنگلی حیات بھی موجود ہےجو کہ قدرت کی صناعی کےحسین ترین مظاہر میں…
  • 68
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 67
    وادی سون کی پراسرار روحانی شخصیات تحریر: شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسر کا چپہ چپہ اولیائےکرام اور روحانی شخصیات کےنور سےچمک رہا ہی۔ وادی کےایک کونےسےلےکردوسرےکونےتک یہ روحانی شخصیات مختلف ادوار میں اپنی اپنی روحانی ذمہ داریاں اور فرائض سرانجام دےکراب نہایت پرسکون انداز سےانسانی نسلوں کےلئےایک روشن دلیل…
  • 67
    وادی سون (م ش) wadi soon a column by meem sheen nawaiwaqt lahore produced by shaukat mehmud awan general secretary adara tehqiqul awan pkistan سرگودھا ڈویژن میںاعوان کاری میں ایک ایساعلاقہ بھی شامل ہےجوقران کریم کےحفاظ کی تعداد کےلحاظ سےشاید سارےعالم اسلام میں اولیت کا دعویدار کہلا سکتا ہی۔ اس…
  • 66
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 65
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 65
    نوجوان شاعر رو ف امیر کا فن اور شخصیت تحریر شوکت محمود اعوان (یہ مضمون بہت پرانا ہے۔اس زمانےمیں جب رو¿ف امیر کالج کی زندگی گذار رہا تھا۔ میں نےاس زمانےمیں یہ مضمون لکھا۔ یہ مضمون کسی پایہ کا نہیں لیکن کچھ یادیں وابستہ تھیں تو میں نےاسے پیش کر…
  • 64
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 63
    وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر تحریر : ملک شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسرنےبےشمار ادیب، شاعر، عالم، فاضل، مفسر، مقرر، دیندار،سائنس دان، فلسفی، ولی اللہ،مجاہد،فوجی افسر اور فوجی جوان، ٹیچر، زاہد، عابد اور علمائےکرام کو جنم دیا ہی، ان میں ہم جس شخصیت…
  • 63
    وادی سون سکیسر کی تاریخ اور ثقافت کا تحقیقی جائزہ : تحریر : شوکت محمود اعوان ملک محمد سرور اعوان وادی سون سکیسر نوشہرہ کی ایک مشہور و معروف شخصیت ہو گزری ہیں۔ وہ تحقیقی دنیا میں اعلیٰ شہرت رکھنےوالی شخصیت تھیں۔ملک صاحب نےاپنی ساری عمر علم و تعلم میں…
  • 63
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 63
    ماہنامہ ”شعوب “ میری نظر میں تحریر شوکت محمود اعوان مجھےماہنامہ شعوب کراچی پر قلم اٹھاتےہوئےطمانیت کا احساس ہو رہا ہی۔ میری نگاہوں کےسامنےوہ سارا زمانہ آ گیا جب میں اور ملک محبت حسین اعوان نےاعوان قبیلےکی تاریخ مرتب کرنےکا بیڑہ اٹھایا۔ مجھےوہ وقت کبھی بھی نہیں بھول سکتا کہ…
  • 62
    بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات تحریر : محمد عارف یہ جون کی ایک کڑکتی ہوئی دوپہر تھی کہ جب میرےمحترم دوست شوکت محمود اعوان (واہ کینٹ) نےمجھےبتایا کہ میرےایک دوست (سعید صاحب ) ٹریول لاج ، ٥ سڑکی پٹرول پمپ ، سکالر کالج ، پی سی ہوٹل کےنزدیک صدر…
  • 61
    ”متاعِ فقیر“۔ تعارف و تجزیہ تحریر: محمد عارف ڈاکٹرتصدق حسین آبائی گاو¿ں بادشاہ پور ضلع چکوال سےتعلق رکھتےہیں۔ ایم اےانگریزی، ایم اےاردو کرنےکےبعدانہوں نےاردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ءمیں ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ نسیم حجازی اور ان کی ناول نگاری پر لکھا۔ 1960 ءسے1984 ءتک درس و تدریس…
  • 61
    ”حالِ فقیر“ (محمد عارف ٹیکسلا) گروپ کیپٹن(ر) شہزاد منیر سےٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔ تو وہ مجھےپہلےسےہی جانتےتھی۔ میں نےانہیں اپنی اس خواہش سےآگاہ کیا کہ میں ڈاکٹر تصدق حسین کےبارےمیں کچھ خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہیں ”حالِ فقیر “میں شامل کر لیا جائےتو میرےلئےسعادت کی بات ہو…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Copied!