وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر

وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر
تحریر : ملک شوکت محمود اعوان
وادی سون سکیسرنےبےشمار ادیب، شاعر، عالم، فاضل، مفسر، مقرر، دیندار،سائنس دان، فلسفی، ولی اللہ،مجاہد،فوجی افسر اور فوجی جوان، ٹیچر، زاہد، عابد اور علمائےکرام کو جنم دیا ہی، ان میں ہم جس شخصیت کےبارےمیں لکھنےکی جسارت کریں گےوہ ادب سےتعلق رکھتی ہیں۔ خدا بخش مسافر کےنام سےبہت کم لوگ واقف ہیں کیونکہ انہوں نےعمر کا طویل عرصہ جیل پولیس اور فوج میں گذارا۔ ملک خدابخش مسافر وادی سون ضلع خوشاب کےایک گاو¿ں موضع کھبیکی میں اعوان قبیلہ سےتعلق رکھتےہیں۔ان کا تخلص مسافر تھا۔ انہوں نےملازمت کےسلسلےمیں زیادہ وقت وادی سون سکیسر خوشاب سےباہر اولڈ سنٹرل جیل ملتان، ڈسٹرکٹ جیل جھنگ، مظفر گڑھ ڈسٹرکٹ جیل، نیو سنٹرل جیل بہاول پور،ڈسٹرکٹ جیل راجن پورمیں گزارا۔ اللہ تعالیٰ نےانہیں بےحد دماغی صلاحیت سےنوازا تھا۔ وہ ایک اچھےتجزیہ نگار بھی تھی۔ انہوں نےملازمت کےدوران جو واقعات ومشاہدات دیکھی، ان کا اچھےپیرائیہ میں اظہار کیا۔ وہ ایک اعلی پائےکےانشاءپرداز تھی۔ لیکن کبھی انہوں نےاس کا دعوی نہیں کیا۔خلوص اور اصلاحی جذبہ کا اظہار ان کی کتابوں سےظاہر ہوتا ہےاور ان کی ذات میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ 1957 ءمیں ان کی تصانیف منظر عام پر آئیں اور جاوید انڈسٹریز رجسٹرڈ ملتان نےشائع کیں۔ جن حضرات کو واقعات عالم کےمطالعہ کا شوق ہی۔ وہ ان کی کتاب ”منزلیں“ پڑھ کر اچھا خاصا استفادہ کر سکتےہیں۔ قاری ان کی یہ کتاب پڑھ کر مایوس نہیں ہوتا۔ مصنف نےعینی شواہد سےچند ایک محیرالعقول اور استعجاب انگیز تاریخی واقعات کی تفصیل اس کتاب میں بیان کی ہی۔ ملک خدا بخش اعوان نےدوران ملازمت بےشمار مقامات مقدسہ کو اپنی آنکھوں سےدیکھا۔ بالخصوص وہ طرابلس، دمشق، بیروت، حیفہ، قاہرہ، مصر، وزیرستان، بغداد، کربلائےمعلیٰ اور روم گئی۔ اور وہاں مقامات مقدسہ کی بتفصیل سیر کی اور پھر ان مقامات مقدسہ کےبارےمیں اپنی اس کتاب میں بےشمار دلچسپ اور معلوماتی باتیں تحریر کیں۔
موصوف کو اللہ تعالی نےبےحد صلاحیتوں سےنوازا تھا۔ اگرچہ وہ ساتویں جماعت کا امتحان دینےسےقبل گاو¿ں سےفرار ہو گئی۔ اورانڈین فوج میں ملازم ہو گئی۔
مصنف خدابخش اعوان 1916 ءمیں گاو¿ں کھبیکی میں پیدا ہوئے۔جب کہ علامہ محمد یوسف جبریل 1917 ءمیں اسی گاو¿ں میں پیدا ہوئی۔مصنف خدابخش اعوان نےڈیرہ اسماعیل خان میں 1922 ءمیں ایک پرائمری سکول میں تعلیم حاصل کی۔ مصنف کےوالد ماجد ملک فتح خان مرحوم ڈیرہ اسمعیل خان میں پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل تھی۔ 1924 ءسے1928 ءمیں کھبیکی میں پانچویں جماعت پاس کی۔ 1928 ءمیں ڈی بی اینگلو ورنیکلر مڈل سکول جھاوریاں میں پھر سےپانچویں جماعت میں داخلہ لیا۔ 1930 ءمیں ساتویں جماعت کا سرٹیفیکیٹ لےکر گورنمنٹ ہائی سکول نوشہرہ خوشاب میں داخل ہوئی۔ لیکن دو ماہ کےبعد باوجود والدین کی تمام کوششوں کےتعلیم چھوڑ دی۔ 1931 ءسےلےکر 1933 ءتک گاو¿ں میں بےکاری اور آزادی کےدن بسر کئی۔ 1933 ءمیں پنجاب رجمنٹ میںبھرتی ہو گئی۔ ایک ماہ کےبعد نوکری چھوڑ کر گاو¿ں آ گئی۔ مولا بخش وسوال مرحوم اور عالم شیر ولد شیر محمد بن شاہ نواز مرحوم بھی مصنف کےساتھ بھرتی ہوئےاور پھر گاو¿ں بھاگ آئےلیکن پھر 1934 ءمیں بمقام نوشہرہ وادی سون میں فوج میں بھرتی ہو گئی۔ 22 ستمبر کو آپ کےوالد وفات پا گئی۔ یکم نومبر 1934 ءمیں آپ کی شادی رحمت خاتون دختر محمد شیر کےساتھ ہو گئی۔
دوران سروس انہوں نےبےشمار دنیا دیکھی جس پر انہوں نےاپنی یاداشتیں تحریر کی تھیں جو بےحد تفصیل سےموجود ہیں۔ آپ یمن، بصرہ، بغداد، ایران، شام، فلسطین، حیفہ، مصیب، عراق، کربلائےمعلی، کردستان، کرکوک، دمشق، حمص، طرابلس، بیروت، فلسطین، اردن، مصر، انطاکیہ، حلب، قاہرہ، سویز، عدن، مشرق وسطی میں مقیم رہےاور ان علاقوں کو بزعم خود دیکھا اور ان پر کتاب تحریر کی جس کانام ”منزلیں “رکھا۔ ملازمت کےبعد آپ گاو¿ں تشریف لائےلیکن چند سال گذارنےکےبعد فوت ہو گئےاور آپ کو وہیں گاو¿ں میں دفن کیاگیا۔ مرحوم ایک عطیم انسان تھےخدا ان کی مغفرت کری۔آمین۔
جب ان کی دوسری کتاب ” زیاں کاریاں“ منظر عام پرآ ئی تو اس پر اچھی خاصی لےدےہوئی۔ ” زیاں کاریاں“ جیساکہ عنوان سےظاہر ہے، وادی سون سکیسر میں رہائش پذیر مکینوں کی فضول رسموں کو تنقیدی نظر سےدیکھا گیا ہی۔وادی سون کےعلاقہ میں شادی اور غمی کےبےشمار رسم و رواج صدیوں سےچل رہےہیں اور یہ رسمیں زیادہ تر ہندووانہ نظریات سےوابستہ ہیں۔ مصنف نےاپنےعلاقہ اور بالخصوص موضع کھبیکی کےرسم و رواج کو پیش نظر رکھا ہی۔ البتہ مختلف مقامات پر ان رسموں کےطریقےمختلف ہیں۔ تاہم مطلب اور نتیجہ سب کا ایک ہی ہوتا ہی۔ یہ کتاب تنقیدی انداز سےتحریر کی گئی ہی۔ گو اس کی زبان عام فہم ہےلیکن اس علاقہ کےلوگ چونکہ ان رسوم و رواج کو اپنی زندگی اور مذہب کا بنیادی حصہ سمجھتےہیں لہذا اس بات کو قطعی طور پر پسند نہیں کرتےکہ ان کی رسوم و رواج کو تنقید کانشانہ بنایا جائی۔ مصنف نےپہلےحصےمیں دین کی ضرورت کےعنوان سےچند اسباق تحریر کئےہیں جن میں ضرورتِ مذہب، ارکانِ اسلام، دین کی غرض وغائت، کلمہ توحید، نماز، جمعہ کی نماز، عید کی نماز، حج، روزہ، زکوة ، گناہ و ثواب ، اصل عبادت، خدمت خلق، تلاوت قرآن پاک جیسےبنیادی موضوع کےمضامین شامل ہیں۔ مصنف فرقہ بندی، فرقہ پرستی کےسخت خلاف تھی۔ چنانچہ انہوں نےعلمائےکرام پر سخت تنقید کی کہ وہ مسلمانوں کو اسلام کی تعلیم سےبےبہرہ کر رہےہیں اور فرقہ بندی کو ہوا دےرہےہیں بلکہ مسلمانوں کو ایک منزل پر جمع کرنےکی بجائےان کےباہمی اختلاف زیادہ گھمبیر ہوتےجا رہےہیں۔ جس کا نتیجہ خطرناک نکلےگا۔
اس کتاب میں مصنف نےبرادری کےاہم موضوع پر روشنی ڈالی ہی۔ برادری کےمقاصد کیا ہیں اور رسوم و رواج ایک عام انسان پر کیا اثر چھوڑتےہیں مصنف نےتفصیل سےاس بات کا تجزیہ کیا ہےاور استدعا کی ہےکہ لوگ غلط اور بیہودہ غیر شرعی رسوم سےاجتناب کریں اور برادری کےبرتاو¿ اور ہمدردی کےاچھےطریقوں کو اپنائیں۔ برادری کی تقریبات میں جو فضول خرچی ہوتی ہےاس سےبرادری کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا۔ برادری کی جھوٹی عزت انسان کو معاشی اور سماجی تباہی سےہمکنارکر دیتی ہی۔ بچےکی پیدائش، منگنی، شادی اور غمی کےتمام مراحل فضول خرچی کی ایک منہ بولتی تصویر ہوتےہیں۔ مصنف نےعلاقےکی چند رسموں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہےجس میں نسبت، منگنی، ختنہ، بچےکی پیدائش، شادی ، دختر فروشی، برات کی آمد، گھڑولی، کھارا، بیڑا گھوڑی، نکاح خوانی، رخصتی،سلام، منہ وکھالنی، کہار، کپڑوں کی تقسیم، زیورات، دائرےاور بیٹھکیں، عورتوں کی آزادی اور حکمرانی، باہمی عداوتیں، مقدمہ بازی، لباس، پیران پارسا، زیارتیں اور سلام، میت پر کپڑےڈالنا، رقمیں، ماتم میں رونا پیٹنا، قل اور چہلم، کامی و علمائ، خیرات، وغیرہ شامل ہیں۔ آخر میں مصنف نےان رسموں کو کیسا توڑا جائےجیسےاہم موضوع پر گفتگو کی ہےاور حل بھی پیش کیا ہے۔
مصنف اعلیٰ پایہ کےشاعر بھی تھی۔ ”طاہرِ خیال“ مصنف کی چند نظموں کا مجموعہ ہے اور کلام اقبال کا منظوم پنجابی ترجمہ بھی ہی۔ تمام نظمیں پاکیزہ اور بلند خیالی کی حامل ہیں۔
جس زمانےمیں مصنف نے”طاہر خیال“ نامی کتاب لکھی۔ اس وقت اس پر شاعری کا بھوت سوار تھا۔ ” طاہر خیال“ میں جو نطمیں شامل ہیں یہ اسی زمانہ کی یادگار ہیں۔ تاہم مصنف حرف اول میں رقم طراز ہیں کہ ” میں باقاعدہ شاعر نہیں ہوں یعنی علم عروض و قوافی کےمتعلق کچھ بھی نہیں جانتا۔ امیدوار ہوں کہ ناظرین حضرات میری بےشمار فنی خامیوں کو نظر انداز کرتےہوئےصرف نفس مضمون پر توجہ مبذول فرمائیں گی“۔
” طاہر خیال“ میں ” بارگاہ ایزدی میں“، ” دربار رسالت میں “، ” نذرانہ عقیدت پیر محبوب عالم گیلانی “، ” پاکستان“ ، ” میٹھی قید“ ، ” کربلا سےرخصت ہوتےہوئی“ ، ” دریائےفرات“ ، ”جیل اور فوج“،” پردیس میں عید“ ، ” شیریں و فرہاد“ ، ” ستمبر٥٦٩١ “ ، ” ٹیکسلا“، ” ہیر اور رانجھا“، ” عرض حال“، ” سہرا“، ” اوچھےکی دشمنی“ ، ” افسر“، ” میرا ماحول“، ” غریب کی موت“، ” میرا گاو¿ں “، ” افشائےراز“، ” غزلیات“، ” اہرام مصر“، ””آجکل“،” روداد غم“، ” درد والی“ ” سہارا‘ ‘، ” لوٹ کھسوٹ“، ” ، ” حدیث درد“ ” راستے“ جیسی نطمیں شامل ہیں۔
مصنف نےبےشمار شاعروں کی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا اور جگر، اکبر آلہ آبادی، اقبال، اثر، صادق، خاموش، اکبر، اصغر، وحشت، شمیم، عدم، اسد ملتانی، ظفر علی خان، مجذوب، حیرت، افق کاظمی، اظہر ، اخگر، سیماب، رفیق، جمیل جیسےشعراءکےکلام کا مطالعہ کیا۔مصنف کےزیرمطالعہ کتب میں افصح البیان فی مطالب القران مصنفہ حکیم احمد شجاع، سفر نامہ روم و مصرو شام ، شبلی نامہ، دیوان غالب، آب حیات مصنفہ محمد حسین آزاد، بائیبل، انجیل، دعوت حق مصنفہ ابوالکلام آزاد، تاریخ ہسپانیہ، اردو کی ادبی تاریخ، حکمت اقبال، فکر و فن مصنفہ خلیل الرحمن، نقش فریادی مصنفہ فیض احمد فیض، شعلہ گردوں مصنفہ علامہ محمد یوسف جبریل، نوائےلینن( نظمیں)، شام و سحر مصنفہ ایم اسلم، شام غریبان، روپ متی مصنفہ فیاض حسین، فردوس بریں، عبدالحلیم شرر، مسٹر کڑھلے(ناولٹ) ،عظیم بیگ چغتائی، اپنےپرائے، چھٹا دریا، فکر تونسوی، پرواز مصنفہ شفیق الرحمن، بنگال بستی مصنفہ سدرش، ان داتا مصنفہ کرشن چندر، لذت سنگ مصنفہ سعادت حسن منٹو، خالی بوتلیں ، خالی ڈبےمصنفہ سعادت حسن منٹو، واردات (پریم چند)، جاسوسی ناول (ابن صفی) ٹھنڈا جہنم (ابن صفی) رائفل کا نغمہ (ابن صفی) دھواں اٹھ رہا تھا(ابن صفی) انتقام کےشعلے(اثر نعمانی) ہار جیت (تیرتھ رام فیروز پوری، تصویر مناظر (نظمیں) بجنگ آمد کرنل محمد خان، شامل ہیں۔
1934 ء میں جب مصنف کراچی چھاو¿نی میں رنگروٹ تھا۔ اس زمانےمیں مصنف نےچند نظمیں لکھیں۔ جن میں’ فوج کی نوکری“ طویل نظم ہی۔ اس کےعلاوہ 1/10 بلوچ رجمنٹ کےسرداروں کےنام، جو ڈمڈیل کیمپ (وزیرستان) کی ایک پوسٹ پر لکھی گئی تھی۔” شکوہ اور نماز بہتر کہ سینما بہتر“، جو کہ 1957 ءمیں ملتان میں لکھی گئی۔
”سکیسر کی وادیوں میں“ مصنف کےافسانوں کو مجموعہ ہی۔ زبان سادہ فہم، عام فہم ہےاور افسانوں کا طرزبیان نہایت دلکش ہی۔ نفسیاتی اور جذباتی کیفیتوں کےبیان کرنےمیں مصنف نےبڑی احتیاط سےکام لیا ہی۔ بیان میں ہر جگہہ روانی اور دلکشی نظر آتی ہی۔ منظر نگاری بھی بدرجہ اتم موجود ہی۔ تمام افسانےوادی سون کےماحول اور معاشرت سےمتعلق ہیں۔ مصنف کی دیدہ بینا اس ماحول سےبےحد متاثر ہی۔ بادی النظر میں دیہات کا ماحول پاکیزہ اور صاف نظر آتا ہی۔ دیہات میں بسنےوالےلوگ سادہ لوح ہوتےہیں لیکن نہ جانےان کی سادہ لوحی اور جہالت کتنی سماجی اور معاشرتی بیماریوں کو جنم دیتی ہےجن کو دیکھنےسےایک عام آدمی کی نظر اکثر قاصر رہتی ہی۔ مصنف نےان سماجی برائیوں کو افسانوں کی شکل میں پیش کیا ہی۔ ”رہبر کہ رہزن“ اور ” کافروں کی بستی“ دونوں افسانےوادی سون کےمکینوں کےاندھا دھند پیر پرستی کےبہترین خاکےہیں۔ ” ناک کی درگت“ اور ”فتنہ“ ان کی جہالت کو بخوبی واضح کرتےہیں۔ افسانوں میں ناصح کا انداز اختیار نہیں کیا گیا ہی۔ اس کےباوجود ہر افسانہ سبق آموز و نصیحت آمیز ہےاور یہی ان کےتحریر کردہ افسانوں کی سب سےبڑی خوبی ہی۔ مصنف کےافسانےدلچسپی کےحامل ہیں اور ہر افسانےکو ختم کئےبغیر قاری کو چین نہیں آتا۔ افسانوں میں روانی اور دلکشی پائی جاتی ہی۔ اس کتاب میں” مقامِ عزازیل“ ، ”آزاد خیال“ ، ” جوانی دیوانی“ ” بدمعاش“ ” ماسٹر مان سنگھ“ ” کیا خوب سودا ہے“ جیسےافسانےشامل ہیں۔
مصنف آرٹ سےبہت دلچسپی رکھتےتھےاور انہوں نےپاکستان کےبےشمار علاقوں کےنقشہ جات بنائے۔آپ نےاعوانوں کا شجرہ نسب بھی مرتب کیا۔ ڈوہرہ جات حسینی اور وادی سون کےماہیئےبھی یکجا کئےجو کہ اس علاقےکا نمائندہ کلچر ہیں۔آپ نےجو نقشہ جات بنائےیا جمع کئی، ان میں سروےآف ورلڈ، پلس کود نیمز وزیرستان، ملتان، لاہو، سری نگر، کشمیر، پنجاب، تھل ایریا، بنوں، جہلم، ڈھرنال ایریا ،کلر کہار، للہ کندوال ایریا، سودھی، کھبکی ایریا، ہڈالی، وزیرستان، افغانستان، مندوری، تھل ایریا، کوٹ کئی، وزگئی، میران شاہ، سپین وام ، گومتی چھپری، لتمیر ایریا، شیرانی ایریا، رزانی، ڈمڈل کیمپ، میر علی کیمپ، بنوں، نورنگ سرائی، گرباز، رزمک، سراروغہ پوسٹ ۔ لکی مروت، سرویکئی پوسٹ، منزئی، خان کوٹ، اتمان خیل، تھل، کیمپل پور، ہری پور، گجرات، وزیر آباد، ایران، شاہ آباد، کرمان شاہ ایران، ہمدان، سلطان آباد، بسال، فتح جنگ، گولڑہ شریف، مندرہ، گوجرخان ، سوہاوہ، گلیانہ، دینہ ، منگلا، ڈہمن، جوگی ٹلہ، جہلم، کھاریاں، پنڈدان خان، منڈی بہاوالدین ، ڈنگہ ایریا، لالہ موسی، رام نگر، وغیرہ شامل ہیں۔ یہ نقشہ جات نہایت عرق ریزی سےتیار کئےگئےتھےاور ان علاقوں کا خود بخود سروےکیا تھا۔
1947 ءمیں پاکستان کےمعرض وجود میں آنےکےبعد جب مسلمانان مشرقی پنجاب کےلئےلٹےپٹےقافلےپاکستان کا رخ کر رہےتھی۔ عین انہی ایام میں ان کےگھر میں بیماری کا حملہ ہوا۔ دو مہینوں کےاندر اندر مصنف کی والدہ ماجدہ بیوی اور دو بچےاحمدخان، اور اکبر خان راہی ملک عدم ہوئی۔ ان پےدر پےصدموں نےمصنف کا صبر و قرار لوٹ لیا۔ مصنف کی قلبی کیفیت کا اندازہ کچھ وہی لوگ کر سکتےہیں جو اس طرح کےجان لیوا صدمات سےدو چار ہو چکےہوں۔ ” روداد غم اور درد دل“ اس وقت کےدور میں مصنف کےاضطراب کی آئینہ دار ہیں۔
مصنف پنجابی زبان پر مکمل دسترس رکھتےتھی۔ اس نےکلام اقبال کا منظوم پنجابی ترجمہ کیا۔ جس میں ” جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات، گداگری، ملااور بہشت، پروانہ و جگنو، فوارہ، سکندر اور قزاق، تقدیر، آداب خود آگاہی، ابلیس و جبریل، دل یا شکم، تن اور من، تیری دنیا بڑی کہ میری، خواجگی جیسی نظمیں شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ انہوں نےنجی نظمیں بھی لکھیں۔ یہ مصنف کی اندھی تحریریں ہیں اور آخری جذبات ہیں۔ اس میں ” بےنیازی، ربنواز اور زبیر احمد کی تصویر ملنےپر، محمد نواز کی طرف خط، شیرباز کی طرف خط، بچوں کی طرف خط، بہاول پور سےواہ کینٹ والوں کو خط، منظور درخوات برائےرخصت، یونس کی طرف خط، وغیرہ شامل ہیں۔ آ پ نےکچھ منظوم پنجابی غزلیں بھی لکھی ہیں۔” جیل دے ملازم،، قیدی، عزت، بےعزتی“ وغیرہ شامل ہیں۔
آپ نےدوستوں کو جو خطوط لکھےہیں۔ وہ باقاعدہ ادب کی ایک سند رکھتےہیں۔ مصنف نےوزیرستان سےمیاں محمد حوالدار اور ہندو دوست مسٹر جیدیو اور کدار تھ ناتھ کو جو خطوط لکھےان میں ادبی چاشنی بھری ہوئی ہی۔
مصنف نےاپنےگاو¿ں کےچیدہ چیدہ افراد کےخود نوشت چہرےبھی تحریر کئی۔ تاہم مصنف پیش لفظ میں لکھتا ہی۔ ” اگر کہیں آپ کو اپنا چہرہ نظر آئےتو یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ ہی ہوں۔ آپ کا اندازہ غلط بھی ہو سکتا ہی۔ عادات و صفات میں کئی آدمی مماثلت رکھتےہیں۔ دوسری بات یہ کہ یہ تحریریں یقینی اور فیصلہ کن نہیں ہیں۔ لکھنےوالا کچھ ایسا باشعور ذی فہم آدمی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہےلکھنےوالےکےنظریات و احساسات سرتاپا غلط ہوں“۔
مصنف نےیہ چہرے1972 ءمیں لکھی۔ تاہم شخصیات کا تجزیہ کرنا اور ان کےعادات و خصائل کو تحریر کرکےشخصیات کےاچھےاور برےپہلوو¿ں کو اجاگر کرنا کافی مشکل مسئلہ ہوتا ہی۔ کسی شخص پر تنقید کرنا اور پھر انصاف سےتنقید کرنا کافی مشکل امر ہےاور شخصیت کےپہلو بدلتےرہتےہیں۔ آج کا ایک کھلنڈرا جوان کل کا ایک زیرک شخص بھی بن سکتاہے۔ تاہم شخصیات کا تجزیہ کرتےوقت کن مشکلات اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا ہی۔ مصنف نےاپنےگاو¿ں کےچند چیدہ چیدہ آدمیوں کی نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا ہےاور و ہ انسانی نفسیات کا اعلیٰ نمونہ ہی۔
ملک خدابخش اعوان کےددبیٹےملک محمد یونس اور ملک شہباز اعوان ڈیفنس واہ کینٹ اور کامرہ میں سروس سرانجام دےرہےہیں۔ مرحوم کےبھائی ملک محمد نواز بھی اعوان کاری پر بہت دلچسپی رکھتےہیں اور آجکل لاہور میں مقیم ہیں۔
آعوان کاری کی خدمات
ملک خدابخش اعوان کو شروع ہی سےاعوان کاری سےبےحد شغف تھا۔ اس زمانےمیں جب کہ چند آدمی آعوان کاری کی تاریخ میں دلچسپی لیا کرتےتھی۔ ملک صاحب ان میں سےسرفہرست تھی۔ انہوں نےاعوانوں کےبارےمیں بےشمار کتابوں کا مطالعہ کیا اور پھر اعوان کاری پر تحقیقی کام شروع کیا۔ سب سےپہلےعلاقہ اعوان کاری کا شجرہ نسب ترتیب دینےکا کام شروع کیا۔ پھر آعوان کاری پر ایک تاریخی کتاب ”یادگار اسلاف “ تحریر کی ۔ اس زمانےمیں وہ آعوان کاری پر بحث و مباحث کرتےتھےاور بالخصوص ان کی دوستی اوررشتہ داری سکالر علامہ محمد یوسف جبریل سےبہت زیادہ تھی۔علامہ صاحب ان کےخالہ زاد بھائی تھی۔ جس کی وجہ سےبچپن ان کا اکٹھا ہی گذرا۔ اور بہت دلچسپ وقت انہوں نیاکٹھا گذارا۔ بچپن ان کا بہت یادگار تھا۔ بچپن میںدونوں خالہ زادبھائی احمد آباد میں اپنی خالہ کےہاں بہت جایا کرتےتھی۔ وہاں پر ان کی دوستی خالہ زاد بھائی ملک فضل الہیٰ سےتھی۔جب یہ کھلنڈرےاکٹھےہوتے تو آپس میں بہت ہنسی مزاق کیا کرتےتھی۔ اکٹھےکھیلتےاور جنگلوں میں چلےجاتی۔ وہ اکثر حضرت سلطان مہدی پر جاتےاور وہاں سلام حاضری پیش کرتی۔ ان کو بچپن ہی سےاولیائےکرام کےمزاروں پر حاضری دینےکابہت شوق تھا۔ان کےبچپن کےبہت سےواقعات مشہور ہیں۔ ایک دفعہ خدا بخش اعوان اور محمدیوسف اپنی خالہ کےپاس آئےتو رات کو خدا بخش اور ملک فضل الہی نےمحمد یوسف کو بستر سمیت رسی سےباندھا اور دروازےپر جا کر کھڑا کر دیا۔ اس دوران محمد یوسف کو جاگ نہ آئی بلکہ سوتا رہا۔ بستر کھڑا تھااور محمد یوسف مزےسےاس میں سو رہا تھا۔ اسےمحسوس تک نہ ہوا۔ اس کےبعد جب ان کی خالہ باہر سےگھر آئی تو اس منظر کو دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔ کہ یہ کیا چیز کھڑی ہی۔ جب اصل حقیقت سےآگاہی ہوئی تو خدابخش اور ملک فضل الہی اعوان کو سخت برا بھلا کہا۔ اور محمد یوسف کو بستر سمیت آ کر چارپائی پر سلا دیا۔ یہ دور عجیب و غریب تھا۔ بچپن کا یہ دور ان مصنفین کےکھیلنےکےدن تھی۔ طالب علموں کےساتھ مل کر کھیلتی۔ جانوروں پر سواری کرنا ان کا مشغلہ تھا۔ گلی ڈنڈا، کھتوئی، کوڈی، کھیل کود ، سیر و سیاحت، گھانگھےپکڑنا ان کےسینگھوں پر دھاگا باندھنا اور ان کےساتھ کھیلنا، ان کےمشغلےتھی۔ لیکن عجیب بات یہ ہےکہ انہیں ہندوانہ تہذیب سےعدم دلچسپی تھی۔ وہ سخت اس تہذیب سےنالاں تھی۔ سب سےپہلےانہوں نےسکول کو چھوڑ کر اس کا احتجاج کیا۔ نتیجتہ تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ خدا بخش اعوان محمد یوسف کےساتھ ساتھ تھا۔خدا بخش ملازمت کی طرف چلا گیا۔ ملک گل محمد اعوان بھی ملازمت کی طرف بلکہ علامہ صاحب کا رخ تصوف کی طرف بدل گیا۔ اور مصیب میں اور بعد میں بغدا د شریف میں جاتےہی انہیں حضرت غوث پاک کی محبت او ر نگاہ نےگھائل کر دیا اور پھر وہ ہمیشہ ہمیشہ کےلئےحضرت غوث پاک کےہو گئےاور پھر دنیا ہی بدل گئی۔
ان کےایک قریبی عزیز ملک فتح خان مرحوم جو اس نسل سےتعلق رکھتےتھی۔ اعوان کاری میں بےحد دلچسپی رکھتےتھی۔ ان میں بےحد مذاکرات اور بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ اسی زمانہ میں اعوان کاری کی ایک معروف شخصیت مرحوم ملک گل محمد اعوان بھی اس صف میں شامل ہو گئےاور جو کام مرحوم ملک خدا بخش اعوان مکمل نہ کر سکےوہ کام نائب صوبیدار ملک گل محمد اعوان نےپایہ تکمیل تک پہنچایا۔ مرحوم وادی سون کےگاو¿ں کھبیکی سےہی تعلق رکھتےتھی۔ وہ ایک مدبر، محقق، اور زندہ دل شخصیت تھی۔انہوں نےزمینوں کےشجرےبھی تیار کئی۔سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں کےبارےمیں مکمل معلومات اکٹھی کیں۔ اللہ تعالیٰ نےمرحوم کو بےشمار ذہنی قابلیتوں سےنواز رکھا تھا۔مرحوم نےبھی زندگی کا کچھ عرصہ مشرق وسطیٰ میں گذارا۔ جیسا کہ علامہ محمد یوسف جبریل اور ملک خدا بخش اعوان نےزندگی کا زیادہ حصہ مشرق وسطی میںگذارا۔ مرحوم صوبیدار گل محمد نےاعوان کاری پر تحقیق کی اور بہت بڑا کام کیا۔
ملک خدابخش اعوان علوم و فنون کےرسیا تھےاور اس زمانےکےدور میں شجرہءنسب کی تحریر وادی سون کےکلچر میں شامل تھا۔ انہوں نےآباو¿ اجداد کا نسب نامہ تیار کیا۔ ان کےبقول نسب نامہ بہت کارآمد اور مفید چیز ہی۔ اس سےہمیں اپنےاسلاف کےبارےمیں پتہ چلتا ہی۔ اپنےرشتوں اور برادری سےآگاہی ہوتی ہی۔ قرابت داریوں سےباخبر ہوکر ہم میں ایک خون کا احساس جاگ اٹھتا ہی۔ یہ جان کر کہ ہم ایک باپ کی اولاد ہیں ۔ ہماری باہمی رنجشیں دشمنی کی صورت اختیار نہیں کر پاتیں۔ بابا قطب شاہ کی اولاد پہلےپہل خطہ سون سکیسر میں پھیلی۔ کچھ عرصےکےبعد پورےکوہستان نمک پر ان کاتسلط ہو گیا۔ جو سکھوںکےعہد حکومت تک قائم رہا۔ باقی قبیلوں کی طرح آعوان بھی نقل مکانی کرتےرہی۔ اس لئےوہ سابق پنجاب کےتقریباََ ہر ضلع میں کم و بیش موجود تھی۔ ضلع ہوشیار پور، فیرو پور اور جالندھر میں آعوانوں کی مخصوص بستیاں آباد تھیں۔ قیام پاکستان کےبعد یہ لوگ ہجرت کرکےپھر اپنےاصلی وطن پاکستان میں آ گئی۔ آعوان قبیلےکااصل مرکز کوہستان نمک کی وادیاں خصوصاََ وادی سون سکیسر ہےجسےعلاقہ آعوان کاری بھی کہتےہیں۔ وادی سون میں گوہر شاہ عرف داداگورڑا آباد ہوئےاور ان کی اولاد وہاں پر موجود ہی۔ مصنف نےکھبکی گاو¿ں کےآعوانوں کا شجرہ مرتب کرنےکی ابتدا کی تھی لیکن مکمل وادی سون کا شجرہ ترتیب نہ دےسکےاور یہ کام اسی گاو¿ں کےایک خدا مست اولوالعزم اور زندہ دل انسان ملک گل محمد اعوان نےپایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس گاو¿ں کی چار شخصیات بابا بلوچ، بابا مواز، بابا دوست محمد وسوال، بابا میرا نے شجرہ کی تکمیل میں مصنف کا بھرپور ساتھ دیا۔ وادی سون کےاس گاو¿ں میں بلقیال، رجبال، سکھیال، لدیال،شیر شہال، نورخنال، الیرال ، پھلال اور بہت سےخاندان بستےہیں۔ قبیلہ کےنسب نامےموروثی،جھام، نڈھی، اور مدھو پر جاکر ملتےہیں۔ ایک اہم بات جو مصنف نےتحریر کی ہےوہ ناموں کا مسئلہ ہےاور آعوان کاری کےشجرہ کا معالعہ کرتےوقت بےشمار نام ہماری آنکھوں سےگذرتےہیں۔ جو مہمل نام ہیں۔ ایک لمحہ کےلئےآدمی تذبذب میں پڑ جاتا ہےکہ قطب شاہ اور گوہر شاہ جیسےمعقول ناموں کےفورا بعد ویتو، دیو، کھلچی بدھو، ترکھو، او مدھو جیسےبےمعنی نام کیوں آنےلگی۔اس کہ وجہ بقول مصنف غالبا یہ ہو سکتی ہےکہ اگلےزمانوں میں لوگ کسی کو سیدھےنام سےنہیں پکارتےتھےبلکہ ناموں کو بگاڑ بگاڑ کر ایسےنام گھڑ لیتےتھےجن کااصلی ناموں سےدور کاواسطہ بھی نہ تھا۔جیسےگوہر شاہ سےگورڑا، گولڑا، اب ناواقف آدمی کو کیسےمعلوم ہو سکتا ہےکہ گورڑا کا اصلی نام گوہر شاہ تھا۔ ناموں کو بگاڑ کر پکارنےکی مثال آج بھی اعوانوں میں اور بالخصوص وادی سون سکیسر میں اب بھی موجود ہی۔ جس کی چند مثالیں مصنف نےپیش کی ہیں ۔
اصلی نام بگڑا ہوا نام
برخوردار خان بکھو
سلطان سرخرو سرکھو
سلطان محمود موندا
محمد اشرف دشرو
خیر محمد کھیرو
غلام مرتضی مرتو
میاں محمد منا ،یا، منو
غلام محمد گاماں، گاموں
ذوالفقار جلفہ
فتح خان پھتو
نور خان نوکھا
دوست محمد دوسا
اب کسی ناواقف آدمی سےآپ پوچھیں کہ بکھو، سرکھو، موندا، دشرو، وغیرہ ناموں کی اصلیت کیا ہی؟ مصنف نےدریا خان کےدو بیٹوں اعظم خان اور عظمت خان کی اولاد وں کےشجرےمرتب کئےہیں۔ دریا خان کا تیسرا بیٹا برخوردار خان کی اولاد خنال کہلاتی ہی۔ مصنف ان کو شجرہ میں مرتب کرنےسےقاصر رہا۔بعد میں اس شجرہ کو شوکت محمود اعوان صاحب نےشامل کرنےکی کوشش کی۔ اعظم خان، عظمت خان اور برخوردار خان تین بھائی تھی۔ وہ دریا خان کےبیٹےتھی۔ اور دریا خان کا سلسلہءنسب یوں ہی۔
دریا خان بن تجب بن محمدی بن کمال دین بن بابو بن بھٹی بن موروثی بن اپیلو بن حاجی بن کھلچی بن جھام بن نڈھا بن گوندل بن ربی بن ویتو بن جوگی بن دیو بن ترکھو بن مدھو بن طور بن بدھو بن گوہر شاہ بن قطب شاہ۔
انہوں نےنورخنال، میر بزال، شیر شہال، علاولی، سہرابی، پھلیال، مقربال، مکھانی، مگلال (مغلال) ،موازال، خنجرال، لال، کمال، گلن،(گرنال) اللہ یارال، اعظمتال، منکال، وسوال، حاکمال، بغلیال، ستاری، کھیرن، قبیلہ کےشجرہءنسب ترتیب دیئی۔نور خان کی اولاد نورخنال کہلاتی ہےاور وادی سون کا اقتدار ہمیشہ اس خاندان کےپاس رہا ہی۔ ملک مختار احمد اعوان، ملک سرفراز خان اعوان،ملک شاہ محمد اعوان، ملک مظفر خان، اسی خاندان کےچشم و چراغ ہیں۔ میرباز جو نورخان کی اولاد سےتھی۔ ان کی اولاد میر بزال کہلاتی ہی۔ علاولی شیر شاہ دوم کی نسل سےہیں۔ سہرابی مرزا خان کی اولاد سےہیں۔ مگلال مغل خان کی اولاد سےہیں۔ گرنال گلن کی اولاد سےہیں۔پھلیال سلطان کی اولاد سےہیں۔ الیرال اللہ یار خان کی اولاد سےہیں۔ عظمتال عظمت خان کی اولاد سےہیں ۔ کمالیئےکمال خان کےاور لال لال کی اولاد سےہیں۔ مانکال میں لال بیگ، مقرب خان، عباس خان، ککا خان، مغل خان ، مواز خان جیسی مشہور شخصیات نےجنم لیا۔ وساوا خان کی اولاد وسوال کہلاتی ہی۔ بغلیال میر باز خان کی اولاد سےہیں۔ الیرال شیر( عالم شیر) کی اولاد سےہیں۔
مصنف خود مانکال خاندان سےتعلق رکھتےہیں۔ ان کا شجرہ ءنسب مندرجہ ذیل ہے:۔
خدا بخش بن فتح خان بن جہان خان بن مواز خان بن مانک خان بن صاحب خان بن عظمت خان بن دریا خان بن تجب بن محمدی بن کمالدین، بن بابو بن بھٹی بن موروثی بن اپیلو بن حاجی بن کھلچی بن جھام بن نڈھا بن گوندل بن ربی بن ویتو بن جوگی بن دیو بن ترکھو بن مدھو بن طور بن بدھو بن گوہر شاہ بن قطب شاہ۔

شوکت محمود اعوان
ایڈیٹر کوارڈینشن ہفت روزہ وطن اسلام آباد
shaukatawan53@yahoo.com
www.oqasa.org
www.allamayousuf.net


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 77
    اجڑ سکےگی کسی سےنہ خانقاہ مری تحریر : محمدعارف ٹیکسلا راولپنڈی سےپشاور کی طرف آئیں تو پتھروں کےشہر ٹیکسلا سےچند قدم آگےایک چھوٹی سی مضافاتی بستی نواب آباد ہےجو صنعتی شہر واہ کینٹ کا ایک جزو لاینفک ہوتےہوئےبھی دیہات کی دلفریب فضا کا دلنشین رنگ لئےہوئےہے۔اس بستی کی آبادی بھی…
  • 77
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 76
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…

Share Your Thoughts

Make A comment

2 thoughts on “وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر

  1. نور احمد مصلی ایک دلیر نڈر آدمی جس کا خاندان چار بھائیوں پر مشتمل تھا۔ حالات زمانہ نے ان کو ڈکیٹ بننے پر مجبور کیا۔ ان کا والد فضل دین مصلی جو کہ کھبیکی کے سردار ملک شاہ محمد کے ہاں ملازمت کرتا تھا۔ ایک لڑائی میں اکبر کینہ ، کینہ اسی کی آل ہے ۔ ملک شاہ محمد سراد ر کھبیکی کے ساتھ ملک اکبر کینہ کی دشمنی تھی۔ ایک لڑائی میں نور احمدمصلی کاوالد مارا گیا۔ چاہییے تو یہ تھا کہ ملک شاہ محمد ان کی مدد کرتا۔ پس پردہ ان سے دشمنی شروع کر دی۔ وہ اپنے باپ کا بدلہ لینا چاہتے تھے جب ان کی کسی نے مدد نہ کی تو وہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے اور یہ مظلوم تھے۔ اسی مظلومیت کی بنا پر چند آدمیوں نے ان کا ساتھ بھی دیا۔ مگر وہ مالی طور پر مستحکم لوگ نہیں تھے ۔انہوں نے اپنے والد کا بدلہ لینے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا مگر ان کو اس میں کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ ان پر مقدموں کی بھرمار تھی۔ انہوں نے جیلیں کاٹیں۔ تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے دو بھائی شیر باز اور گل باز اس دنیاکو چھوڑ چکے تھے۔ رب نواز جو کہ 1958 ء میں ایک اشتہاری ملزم تھا۔ بعد میں مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے بری ہو کر اب بقیہ آخری زندگی خاموشی اختیار کرکے گزار رہا ہے۔ ان کا چوتھا بھائی نور احمد مصلیء جو اس وقت کنہٹی باغ کے نواح میں رہائش پذیر ہے۔ اب بھی مصائب و الام کی زندگی گذار رہا ہے۔ ہاں ملک شاہ محمد کے بیٹے ملک سرفراز اعوان جو کہ ایک وکیل اور اپنے وقت ایم پی اے بھی رہے ہیں نے اس پر شفقت کا ہاتھ رکھا۔ اسے بدمعاشی کے بستہ الف سے نکلوایا ۔ رہنے کے لئے کنہٹی کے پاس اپنی جگہہ دی مگر یہ دنیا بڑی ظالم ہے اس کو سکون سے نہیں رہنے دیا گیا اور ملک اکرم اعوان ( منارہ ضلع چکوال) نے کھبیکی لیز زمینوں کی لیز ختم ہونے پر گورنمنٹ کو درخواست دی کہ میں یہاں فارم وغیرہ بنانا چاہتا ہوں مجھے دی جائے۔ ناعاقبت اندیش لوگوں نے اس کو اجازت دے دی ۔ سو سال سے وہ زمینیں جن کے استعمال میں تھیں ان کو زبردستی طاقت کے بل بوتے پر وہاں سے بھگا دیا گیا اور اس طرح بہت ساری زمینوں پر پیر صاحب کا قبضہ ہو گیا ۔ کئی آدمی اس کے وہاں پر قتل ہوئے۔ مقدمات درج ہوئے۔ چونکہ بے پناہ اثر و رسوخ کا مالک ہے بے پناہ دولت کا مالک ہے۔ کھبیکی کے پاس اپنی زمینوں کے قبضے کی خاطر اس کے آدمیوں کی لڑائی ہوئی۔ وہ جگہہ ملک فضل محمود ادیڈوکیٹ کی تھی اور اس کے بیٹے وہ جگہہ کسی طریقے سے بھی اس کے حوالے کرنے پر تیار نہیں تھے۔ لڑائی ہوئی ۔ آدمی مارے گئے۔ فضل محمود مرحوم کے دو بیٹے مفرور ہوئے۔ ایک ان کا دوست سزائے موت کا قیدی ہوا اور اسی سلسلے کی کڑی نور احمد مصلی جو کہ اس وقت ستر سال زندگی کے گزار چکا ہے۔ اس کو بھی اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا اور جج صاحب نے اس کو پچاس سال قید کی سزا سنائی۔ اپیل پر بری ہو کر گھر آ گیا اور فی الحال کنہتی باغ کی نواح میں اپنی زندگی کے بقیہ دن پورے کر رہا ہے۔ عالم شیر اعوان نے آپ کی خدمت میں التماس کیا ہے کہ اس جہان میں مصور فطرت کی عنایات کو شمار کرنا لا محالہ مشکل کام ہے۔ مگر باری تعالیٰ نے ہمیں جو قطعہ اراضی عطا کیا ہے اس کو ظاہری حسن بھی عطا فرمایا۔ زرخیز زمین، بلند و بالا پہاڑ ،شفاء یاب چشمے، قدرتی حسن سے مالا مال درختوں کی فراوانی ،خوب صورت جھیلوں کے مناظر، جنگل مخلوق کے مسکن طائران کے غول کے غول یہ سب عنایات روح و جسم کے لئے تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ یہاں معلم قرآن، اولیائے کرام، مفسر قرآن، مجاہد صالحین اتنی بے پناہ عنایتیں اس خطے کو عطافرمائیں کہ حدو و شمار مشکل ہے۔
    عالم شیر اعوان لاہور
    یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    http://www.oqasa.org
    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

Leave a Reply