وادی سون سکیسر کی تاریخ اور ثقافت کا تحقیقی جائزہ : تحریر شوکت محمود اعوان

وادی سون سکیسر کی تاریخ اور ثقافت کا تحقیقی جائزہ : تحریر : شوکت محمود اعوان
ملک محمد سرور اعوان وادی سون سکیسر نوشہرہ کی ایک مشہور و معروف شخصیت ہو گزری ہیں۔ وہ تحقیقی دنیا میں اعلیٰ شہرت رکھنےوالی شخصیت تھیں۔ملک صاحب نےاپنی ساری عمر علم و تعلم میں گذاری ۔ انہوں نےاپنی زندگی کا زیادہ حصہ وادی سون کےگاو¿ں کےرہنےوالےبچوں کی زندگیوں کو تربیت دینےمیں گذارا۔ سروس کےدوران بھی انہوں نےاعوان کاری کی تاریخ ، جغرافیہ، سماج ، ثقافت اور روایات کےبارےمیں علمی اور تحقیقی کام شروع کر دیا تھا۔ بعد میں بھی انہوں نےاس تخلیقی کام کو جاری رکھا اور متعدد کتب شائع کیں۔ اس دوران، مجھےان سےبارہا ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ملک محمد سرور اعوان کےتحقیقی کام کی بنیاد پر بےشمار ماہرین تاریخ، تحقیق اور جیولوجیکل شخصیات نےآثار قدیمہ ، تاریخ اور ثقافت پر کام کیا۔جناب محمد سرور اعوان نےجیولوجیکل حوالےسےبھی راہنمائی اور مدد کی۔ انہوں نے اسلام آباد کےلوک ورثہ کےلئےجہاں کتابیں لکھ کر دیں وہاں وادی سون سکیسر کی بےشمار سوغاتیں ان کو فراہم کیں جو کہ سرور اعوان کےنام کےایک سیکشن کےساتھ لوک ورثہ میں موجود ہیں۔ اور وہاں پر ملک سرور اعوان صاحب کی ایک قد آدم تصویر بھی آویزاں ہی۔ باقی میوزیم کی جو چیزیں بچ گئیں انہوں نےانہیں اپنےگھر نوشہرہ میں سنبھال کر رکھ دیا۔ ان کےبیٹےملک صبغت اللہ اعوان محبت اور خلوص سےبھرپور شخصیت ہیں۔ انہوں نےاپنےوالد محترم کےاس تخلیقی کام میں بےحد تعاون کیا ۔ اعوان کاری سےمتعلقہ کچھ عجائبات آج بھی ان کےگھر میں موجودہ ہیں۔ وادی سون سکیسر کےاعوان قبیلہ اور دوسرےقبائل کی تاریخ اور ثقافت پر بہت سارےمحقیقین نےکام کیا ہی۔ وادی سون سکیسر کےایک گاو¿ں موضع کھبیکی میںملک گل محمد اعوان نےوادی سون سکیسر کی تام وڑھیوں کا شجرہءنسب ترتیب دیا۔ وہ اس سلسلےمیں دوران سروس عراق بھی تشریف لےگئےاور وہاں سےبھی تحقیقی مواد لائےلیکن انہوں نےزیادہ کام وادی سون سکیسر کےتمام گاو¿ں میں مقیم خاندانوں کےشجرہءنسب پر کیا۔ اس زمانےمیں حضرت غازی عباس کےحوالےسےعون بن یعلی اور بابا قطب شاہ پر تحقیقی کام بھی ہو رہا تھا۔ ملک گل محمد اعوان نےبھی میسر شدہ شجرہءنسب میں حضرت غازی عباس کا شجرہ ءنسب تحریر کیا۔ یہ سلسلہ متنازعیہ فیہ بھی تھا۔ لیکن جو کام انہوں نےبھرپور طور پر سرانجام دیا وہ وادی سون سکیسر کےبائیس گاو¿ں کےخاندانوں کےشجرہءنسب کی ترتیب تھا۔ اس پر انہوں نےمثالی کام کیا۔ باقی انہوں نےسابقہ کتابیں زادالاعوان اور باب لاعوان سےحضرت غازی عباس کا شجرہءنسب تحریر کیا۔ جو مروجہ النسب تھا۔ ایک دفعہ میں اور والد محترم علامہ محمد یوسف جبریل وادی سون ان کی ڈھوک پر گئےاور ان سےشجرہءنسب پر بات چیت کی۔ انہوں نےدینےسےانکار کر دیا کہ ابھی ناکمل ہےجوں ہی مکمل ہو گا آپ کےحوالےکر دیا جائےگا۔ دوسری دفعہ علامہ صاحب تو نہ جا سکےلیکن میں خود گیا تو انہیں تمام حالات سےآگاہی دی کہ آجکل کیمپیوٹر کا دور ہےاور اس کو کتابی شکل میں ترتیب دیا جائےگا تاکہ اس عظیم کام کی اشاعت آئندہ ہو سکی۔ تو انہوں نےاپنا مکمل شجرہ ءنسب مجھےعطا کیا جس میں ایک ایک خاندان کو الگ الگ ترتیب دےکر الگ خاندان کی شکل میں منصہ تحریر پر لےآیا۔ اس پر مجھےتقریبا پانچ برس کا عرصہ لگا بعد میں باباجی کی بیٹی نےیہ شجرہءنسب واپس مانگا تو ہم نےیہ اصلی شجرہ ان کےحوالےکر دیا اور اس کی تمام کاپی مختلف خاندانوں کےروپ میں اپنےپاس رکھ لی جس کو شائع کیا گیا اور دو سو کےقریب کاپیاں وادی سون میں بھیجی گئیں تاکہ اس میں جو غلطیاں یا اضافےہیں کر دیئےجائیں اور غلطیاں درست کر دی جائیں۔ بابا جی ملک گل محمد اعوان بھی فوت ہو گئےلیکن ان کےاس شجرہ نسب پر کام ہوتا رہا۔ ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان کی تشکیل کےبعد اور مختلف محقیقین کےاسرار پر اس شجرہءنسب کی بےشمار کاپیاں جسےمیں نےپرنٹ کیا اور دو سو پچاس کاپیاں مجلد کروا کر وادی سون کےعلاوہ کشمیر تک بھجوائیں۔ اس شجرہءنسب پر تمام اعوان قبیلہ کی بنیاد چلتی ہےبعد میں جب اعوان گوتیں لکھی گئی تو وادی سون کی اکثر گوتیں اسی شجرہ سےتخریج کی گئیں جب مختلف دوستوں نےاس شجرہ نسب کی کاپیاں مانگیں تو میں نےمحبت اور خلوص کےساتھ ان شجرہءنسب کی کاپیاں بہت سارےمحقیقین کو دیں حتی کہ ملک سرور اعوان صاحب کو بھی دیں ۔ حضرت غازی عباس سےاختلاف ہونےکےباوجود اس شجرہ پر کام ہوا ۔ کیونکہ وادی سون سکیسر کےنیچےکےشجرہ میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ اختلاف صرف اور صرف حضرت محمد بن حنفیہ اور حضرت غازی عباس پر تھا۔ اور آج تمام محقیقین جہاں دوسرےشجرہ جات سےفائدہ اٹھا رہےہیں وہاں اس شجرہ سےبھی فائدہ حاصل کر رہےہیں۔ یہ اللہ کا کرم ہےکہ مجھےعلامہ محمد یوسف جبریل کےبھرپور اسرار پر کئی بار وادی سون جانا پڑا اور وہ خود بھی تشریف لےگئےاور ملک گل محمد اعوان صاحب چونکہ علامہ صاحب کےقریبی رشتہ دار بھی تھےاور بچپن سےلےکر جوانی تک وہ اور ملک خدا بخش اعوان ، اعوان قبیلہ کی تحقیق پر کام کرتےرہی۔ علامہ صاحب بھی عراق میں تقریبا چالیس برس کی مسافت کےساتھ رہی۔ لیکن ان کی ذہنی تربیت بالکل بدل گئی اور انہوں نےقران حکیم میں موجودہ سائنسی علوم پر تحقیق جاری رکھی ۔انہیں اپنےقبیلےسےبہت محبت تھی۔ اور وہ چاہتےتھےکہ اعوان قبیلےپر تحقیق کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائےاور یہی وجہ ہےکہ اسلام آباد میں ایک پروگرام میںا نہوں نےاعوان قبیلےپر انگریزی زبان میں بھرپور تقریر کی اور ملک محبت حسین اعوان اس تقریر سےمتاثر ہو کر واہ کینٹ تشریف لائے۔علامہ صاحب نےاس نوجوان کی علمی بصیرت کا ادراک کرتےہوئےانہیں اپنی روحانی بیعت کرائی۔ انہیں فرمایا کہ محبت حسین لوگ روحانی طور پر بیعت کرتےہیں اور اپ کی بیعت کےبعد انشاءاللہ اعوان قبیلہ پر آپ مدلل تحقیق کریں گےاور آپ کی کتابیں دنیا میں پڑھی جائیں گی۔ ساتھ ہی مجھےبھی حکم دیا کہ میں جناب محبت حسین اعوان کےساتھ بھرپور تعاون کروں اور ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان کی ابتدا ہو ئی۔ علامہ صاحب سےسینکڑوں اعوانوں نےرجوع کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ خود اعوان قبیلہ کی ایک مدلل اور غیر متنازعہ تحقیق لکھیں۔ ایک روز میں اور علامہ صاحب ،جناب کرم بخش اعوان صاحب کی خدمت میں اسلام آباد حاضر ہوئےاور پورا ایک دن علامہ صاحب نےبحث و مباحثہ کیا اور کہا کہ مجھےانڈیا ، افغانستان اور برطانیہ کےٹکٹ مل جائٰیں تو میں وہاں جا کر اعوان قبیلہ کی ایک مدلل تاریخ لکھ کر واپس آ سکتا ہوں۔ لیکن میرےپاس اس کازاد راہ نہیں ۔ ملک کرم بخش اعوا ن نےان کی قابلیت کو سراہا ۔ لیکن بد نصیبی سےایسا نہ ہو سکا۔ علامہ صاحب نےمختلف اخبارات میں وادی سون اور اعوان قبیلےکےحوالےسےبہت سارےمضامین لکھی۔ جو ملک کی مایہ ناز اخبار” نوائےوقت“ میں بھی شائع ہوتےرہی۔ ماہنامہ الاعوان لاہور اور اسلام آباد میں وہ باقاعدگی سےاپنےمضامین بھیجا کرتےتھےاور دلچسپی کا بھرپور اظہار کرتی۔ ماہنامہ اعوان اسلام آباد جب معرض وجود میں آیاتو بھی وہ مسلسل مضامین اس میں شائع کراتےرہی۔ لیکن اس کام کو عملی طور پر ملک محبت حسین اعوان نےشروع کیا اور میںنےان کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس طرح کئی کتابیں اور ڈائیرکٹریاں معرض وجود میں آئیں اور اعوان قبیلہ میں ایک جذبہ پیداہواجو آج تک موجود ہے۔ علامہ محمد یوسف جبریل صاحب کی روحانی ڈیوٹیوں اور ان کی ذاتی مسافرت کےباوجود انہوں نےز ندگی کا بہت سارا حصہ اس قبیلےکی شناخت کروانے میں گذارا۔ لیکن کبھی بھی انہوں نےاپنی ذاتی شناخت نہ کرائی۔ جس سےان کو کوئی ذاتی یا مالی فائدہ حاصل ہو سکی۔ محمد رفیق صاحب جو اعوان قبیلہ کےبڑےمحقق ثابت ہوئے۔ علامہ صاحب سےاس سلسلہ میں بیعت ہوئی۔ عبدالحفیظ علوی صاحب ٹیکسلا سےعلامہ صاحب سےکئی ملاقاتیں کرتےتھی۔ اور علامہ صاحب خودان کےپاس جا کر اعوان قبیلہ کی تحریر و تحقیق میں دلچسپی کا اظہار کرتی۔ ملک گل محمد ااعوان نےبچپن سےعلامہ صاحب کےساتھ کچھ وقت گذارا اور گاو¿ں کی زندگی میں وہ ایک دوسرےسےتبادلہ خیال کرتےتھی۔ اختلاف رائےمیں وہ متشدد نہ تھی۔ علامہ صاحب کےخیال میں اعوان محمد بن حنفیہ کی جب کہ ملک سرور اعوان اور ملک گل محمد اعوان کےخیال میں حضرت غازی عباس کی اولاد سےہیں۔ یہ اختلاف آخر تک رہا۔ اور اب بھی ہےلیکن ملک گل محمد اعوان کےتکمیل شدہ شجرہ نسب کو دیمک سےبچا کر منصہءشہود پر لانےوالی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل ہی تھی۔ آجکل تمام محققین انہی کےشجرہ نسب سےاستفادہ کر رہےہیں اور ملک گل محمد کا نظریہ کوئی الگ نہیں پاکستان میں کئی محققین موجود ہیں جو حضرت غازی عباس کو اپنا جد امجد تصور کرتےہیں۔ اس اختلاف کےباوجود علامہ صاحب اور میں نےملک گل محمد اعوان کےشجرہ نسب کو ترتیب دیا اور آج تمام محققین اس سےفائدہ اٹھا رہےہیں بلکہ معترضین اور حمایت یافتہ محققین دونوں ۔اب بھی بےشمار دوستوں کو حضرت غازی عباس سےاختلاف ہےلیکن حضرت قطب شاہ سےنیچےجو تحقیقی کام ہوا وہ وادی سون سکیسر میں ہی ہوا جس میں ہمارےعلاقےکےقریشی حضرات نےبےپایاں خدمات سرانجام دیں۔ اگر وہ لوگ ان شجرہءجات کو زبانی یاد نہ کرتےتو شاید آج یہ شجرہ جات ہمیں نہ ملتےاور ہماری تاریخ ادھوری رہ جاتی ۔اگرچہ ان کےپاس اب شجرہءنسب نہیں ہیںکیوں کہ انہوں نےیہ کام کرنا چھوڑ دیا ہےلیکن قریشی حضرات کو شجرہءجات لکھنےکےلئے اعوان قبیلہ کےسردار حضرات مالی تعاون کیا کرتےتھےبلکہ انکےسالانہ اخراجات بھی یہی لوگ پورا کرتےتھےاور وہ نہایت دلجمعی سےاعوانوں کےشجرہءجات مکمل کرتےتھے۔بعض لوگ قریشی حضرات کی خدمات کو نظر انداز کر دیتےہیں لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیئے، غلطیاں سرزد ہونا اور بات ہےاور اخلاص اور بات ہی۔ انہوں نے اخلاص سےشجرہءنسب لکھےہیں۔ وہ تنقید نگار یا تجزیہ نگار نہیں تھے۔ روایات لکھتےرہےاور یہ روایات سینہ بہ سینہ انہوں نےاگلی نسل کو منتقل کیں۔جو بعد میں تجزیہ نگاروں تک پہنچیں۔وادی سون سکیسر میں اعوان کئی صدیوں سےالگ تھلگ رہ رہےہیں ۔ الگ رہنےکی وجہ سےان میں کچھ ایسی خصوصیات محفوظ ہیں جو ان کےآباو¿ اجداد افغانستان اور عرب سےساتھ لائےتھی۔ اگرچہ نفسیاتی، مذہبی اور معاشرتی تبدیلیاں ساتھ ساتھ اثر انداز ہوتی رہیں۔ بعض لوگ سوال بھی کرتےہیں کہ ایک قوم عرب سےاٹھی ،افغانستان سےہوتی ہوئی انڈیا میں آئی، عربی زبان بدل کر پشتو ،فارسی زبان سےاردو میں منتقل ہو کر خالصتا پنجابی زبان میں کیسےمنتقل ہوئی اس وجہ سےکئی لوگ اعوانوںکو عربی ماننےکےلئےتیار نہیں کیوں کہ وہ یہ سمجھتےہیں کہ عربی اقدار سےاس قدر جلدی کیسےفارسی اور پنجابی اقدار میں تبدیلی آ گئی۔ اور ایک عرب قبیلہ کس قدر تیزی سےمقامی ماحول سےہندوستان کےماحول میں بدل گیا۔ عربی زبان سےفارسی زبان کی منتقلی اور پھر وہاں سےپنجابی زبان میں اس کی ارتقائی تربیت بالکل مشکل نظر آتی ہی۔ وادی سون میں بسنےوالےلوگ عربی ثقافت اور ہندو ثقافت،بدوی تہذیب، سکھوں کی ثقافت اور اب انگریزی ثقافت سےمانوس ہو چکےہیں۔ زبان کی ارتقاءکےساتھ ساتھ فطرت میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ ہندو فطرت نےان پر بہت اثرات چھوڑےاور آج بھی ان میں ہندووں کی تمام رسم ورواج موجود ہیں۔ اور عربی روایات ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ سکھوںاور انگریزوں کی آمد نےجہاں پورےپاکستان اور ہندوستان پر اپنےثقافتی اثرات مرتب کئےوہاں وادی سون کےلوگ اس سےمستثنی نہیں رہی۔ بلکہ اعوان قبیلہ میںخودی بجائےغلامانہ ذہنیت عود کر آئی۔ اور اعوان بھی غلامانہ زندگی گذارنےلگی۔ سیاسی نظام اور جاگیردارانہ نظام نےباقی ملک کی طرح ان کو بھی غلامی کےادوار میں سےگذارا۔ عربی، فارسی اور بےشمار الفاظ ان کی زبان کا حصہ بنی۔ اور صدیوں سےبولےجانےوالےالفاظ آج بھی وادی سون میں بولےجا رہےہیں جب کہ یہ الفاظ اور الفاظ کےاستعمال کا طریقہ کار دوسرےعلاقائی ثقافتوں سےالگ تھلگ ہی۔ وادی سون کا کوئی شخص جہاں پر براجمان ہو گا اس کی بولی سےہی سمجھا جا سکتا ہےکہ یہ شخص وادی سون سےتعلق رکھتا ہی۔ جہاں الفاظ سےآپ مانوس ہوں گےوہاں ان کا لسانی ، تاریخی اور ثقافتی رنگ بھی آپ کےدماغ میں عود کر آئےگا۔ زبان اور قدیم ثقافت کےوہ نقشےآج بھی آپ وادی سون سکیسر میںدیکھ سکتےہیں۔ وادی سون میںجہاں تاریخ و ثقافت پر کام ہوا۔ وہاں اس قبیلےکےعلاقائی لہجےمیں بولےجانےوالےروزمرہ کےالفاظ بھی کتابی شکل میں آتےگئی۔ ان الفاظ میں انسانی فطرت کا پر تو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان الفاظ کو اکھان کےنام سےمنسوب کیا جاتاہی۔ جو صدیوں سےانسانی فطرت کےمتعلق بہت ساری جہتیں پیش کر رہےہیں اور اہل لوگوں نےمقامی فطرت کو ملکی فطرت کےساتھ منعکس کرتےہوئےان تخلیقی الفاظ کو ہمیشہ فطرت کےساتھ منعکس کر دیا ہی۔ فطرت انسان کی ایک جیسی ہےاور اصول لسانیات بھی ایک جیسےہوتےہیںلہذا وادی سون کی فطرت کےساتھ ساتھ تاریخ کو آپ ان اکھانوں کی مدد سےسمجھ سکتےہیں۔ اس سلسلہ میںجناب سرور اعوان صاحب کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پھر ان کی ان تخلیقات کو بہت سےدوستوں نےآگےبڑھایا ،جس میں پروفیسر محترم عبدالقادر حسن، ڈاکٹر ظہور احمد ظہر، جناب ڈاکٹر عصمت اللہ زاہد، جناب عدنان عالم، جناب زین العابدین علوی، جناب عبدالکریم اعوان، جناب محمد ریاض انوال،پروفیسر شاہین ملک، جناب شاہ دل اعوان، جناب محمد ریاض سیالوی، جناب محبت حسین اعوان ، جناب وزیرالحسین علوی، جناب علامہ محمد یوسف جبریل اور راقم شوکت محمود اعوان شامل ہیں۔ ملک محمد سرور اعوان ، اعوان کاری کی ثقافت سےآشنا تھی۔ اور علاقائی لہجےمیں استعمال ہونےوالےالفاظ کو اکھان کی شکل میں ان سےبہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا۔ انہوں نےتاریخ کےاسباق کےساتھ ساتھ لسانیات پر بھی کام کیا اور وادی سون کےاکھان بھی ترتیب دیئی۔ پروفیسر ظہور احمد اظہر فرماتےہیں کہ ہمارےگاو¿ں موضع کھبیکی سےایک ہندو گھرانہ تلہ گنگ چلا گیا۔ اس گھرانہ کےایک فرد نےجو کہ ایچی سن کالج لاہور میں پڑھتا رہا۔ نےوادی سون سکیسر کےاعوان کاری لہجےپر ایک تحقیقی مقالہ لکھا۔ اور پنجاب یونیورسٹی میں پیش کیا۔ یہ مقالہ 1961 ءتک وہاں موجود رہا۔ بعد میں کہیں گم ہو گیا۔ تو اس طرح اس موضوع پر جناب ملک سرور اعوان صاحب نےاپنا علمی کارنامہ پیش کیا۔ اور اسےسب سےپہلا علمی کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہی۔“ بعد میں جناب ڈاکٹر عصمت اللہ زاہدصاحب جو کہ شعبہ پنجابی پنجاب یونیورسٹی کےچیئرمین تعینات تھےنےملک سرور اعوان صاحب کےاس علمی کارنامےپر نظر ثانی کی اور اس کا مقدمہ لکھا اور اس موضوع پر بہت سی قیمتی آرا پیش کرنےکےبعد اس کوکتابی شکل میں پیش کیا۔ جس پر ان کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکتا ہی۔
علمی اور ثقافتی کام کےساتھ ساتھ اس علامہ یوسف جبریل، ملک حبیب نور ثاقب، عمر حیات ضیا اعوان، الحاج ملک کرم بخش اعوان، عبداللہ اعوان، کرنل محبوب عالم، جسٹس غلام علی، قاضی مقصود الحسن، کرنل محمد اقبال اور ملک محمد بخش نے22-10-1982 کو ایک میٹنگ میں وادی سون کی تعمیر و ترقی کےلئےاسلامی فلاحی تنظیم کا قیام عمل میں لایا۔ جس میں علامہ محمد یوسف جبریل کو متفقہ طور پر سرپرست اعلی مقرر کیا گیا۔ اس کےبعد ملاقاتوں اور اجلاسوں کا ایک سلسلہ جاری رہا۔1983 ءمیں اخبارات میں ایڈیٹوریل لکھےگئی۔ ساتھ ہی خبریں شائع کروائی گئیں اور وادی سون کےمسائل کےحل کےلئےتجاویز پیش کی گئیں۔ تعلیمی پسماندگی کو ختم کرنےپر زور دیا گیا اور ساتھ ہی علاقےمیں بجلی کی سپلائی ، سڑکوں کی تعمیر اور زرعی زمین کو تباہی سےبچانےکےاقدامات پر حکومت سےرابطہ کیا گیا۔ جہاں نہ صرف وادی سون کا نام پریس میڈیا میں آیا بلکہ اس وادی کی ایک خصوصی اہمیت قائم ہوئی۔ اس دوران علامہ محمد یوسف جبریل کی سرپرستی میں کئی وفود کئی بار جنرل محمد ضیاءالحق صاحب سےملےاور وادی سون کےلئےبجلی کی گرانٹ اور سڑکیں، گلیاں، ٹینکیاں پختہ بنوانےکےلئےاپنی گذارشات پیش کیں اور وادی سون کو بجلی سپلائی کےساتھ ساتھ سکول، کالج اور سڑکیں تعمیر ہوئیں۔ وادی سون کی علمی ، روحانی اور سیاسی شخصیات پر بحث و مباحثہ چلا اور اخبارات میں ان پر مضامین تحریر کئےگئی۔جناب عبدالقادر حسن صاحب نےوادی سون اور اعوان قبیلہ کی تاریخ پر کئی مضامین اور کالم لکھےجو بہت مقبول ہوئی۔ انہوں نےوادی سون کی معاشرتی حالت پر اپنےکالموں میں بہت تفصیل سےلکھا۔ علامہ محمد یوسف جبریل کےکئی مضامین مختلف اخبارات میں شائع ہوئی۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کےجیو فزکس کےطلباء نےوادی سون کا دورہ کیا ۔ امروز اخبارنےبالخصوص ہمارےساتھ بڑا تعاون کیا ور وادی سون پر بہت سےمضامین، اور مسائل کےحل کےلئےمراسلات شائع کئی۔ وادی سون سےکئی شخصیات نےاس سلسلہ میں تعاون کیا اور وادی سون کےکئی جیولوجیکل سروےہوئی۔ جھیلوں کےبارےمیں رپورٹیں شائع ہوئیں۔ اور جیالوجیکل سروےکےاراکین نےجیالوجیکل کےحوالےسےوادی سون کا جائزہ لینا شروع کیا۔ جن میں عدنان عالم اعوان صاحب کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب تو ماشاءاللہ بہت سارےدوست جیالوجیکل کےحوالےسےوادی سون کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہےہیں ۔دوسری تہذیبوں کی طرح واد ی سون صرف علاقہ ہی نہیں موہنجوداڑو، ٹیکسلا اور ہڑپہ کی طرح ایک تہذیب بھی ہےجس کا اظہار ہم نےبارہا کیا اور اس پر تحقیق جاری ہی۔
(شوکت محمو د اعوان جنرل سیکرٹری ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان ، جنرل سیکرٹری ادارہ افکار جبریل ، ایڈیٹر کوارڈینیشن وطن اسلام آباد www.oqasa.org www.allamayousuf.net


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 76
    وادی سون کا قدرتی ماحول تحریر شوکت محمود اعوان وادی سون کا ماحول ایک قدرتی ماحول ہی۔ جہاں جنگل، پربت وادیاں، ندیاں، نالی، جھیلیں، درختوں کےجھنڈ، آبشاریں، لہلہاتی فصلیں، جنگلی جانور، جنگلی بوٹیاں موجود ہیں۔ یہاں پر جنگلی حیات بھی موجود ہےجو کہ قدرت کی صناعی کےحسین ترین مظاہر میں…
  • 74
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 72
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply