وادی سون کاتعارف تحریر شوکت محموداعوان

وادی سون کاتعارف
تحریر : شوکت محموداعوان
پاکستان کی حسین و جمیل وادیوں میں وادی سون دلفریب مناظر کی حامل ایک مشہور وادی ہی۔ یہ وادی کوہستان نمک کےعلاقےکا حصہ ہےاور اپنےقدرتی مناظر ، خوش گوار ماحول، ٹھنڈےموسم اور زمین میں معدنیات کےبھر پور خزانوں سےمزین مشہور وادی ہی۔ اس وادی کی شہرت کےکئی نمایاں پہلو ہیں ۔ جیالوجی کےحوالےکےساتھ ساتھ اس علاقےمیں اولیائےکرام اور مشہور و معروف شخصیات نےبھی جنم لیا ہے۔جن کی وجہ سےاس وادی کو شہرت کےچار چاند لگےہیں۔ وادی سرسبز ہونےکےساتھ خوبصورت دراز اور بلند چوٹیوں سےنمایاں نظر آتی ہی۔ علاقےمیں خوبصورت اور پرقار جھیلیں موجود ہیں۔ پہاڑوں کےاندر بےشمار ٹھنڈےاور میٹھےچشمےموجود ہیں۔ علاقےکی سرزمین زرعی ہےاور سونا اگلتی ہی۔ اگرچہ زمین دار طبقہ کےپاس زیادہ وسائل نہیں پھر بھی کسان طبقہ محنتی اور جفاکش ہی۔ جس کہ وجہ سےگندم کی فصل کیسا تھ ساتھ آلو، مٹر، ٹماٹر، بیگن، مرچ، غرض ہر قسم کی سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ ساتھ ساتھ جانوروں کی زیادہ پیداوار کی وجہ سےدودہ اور لسی وافر مقدار میں موجود ہی۔ زمین کی کاشت میں اگرچہ جدید نظام سےفائدہ اٹھایا نہیں جاتا تاہم پرانےنظام کےساتھ زمین سےاچھی فصل اگائی جاتی ہی۔ جنگلی درخت بہت اگےہوئےہیں۔ اورگرچہ علاقہ کی ضرورت کےلئےدرختوں کو کاٹا جاتا ہےلیکن قدرتی امر کےساتھ ساتھ یہ جنگلی درخت دوبارہ اگتےرہتےہیں۔ علاقےمیں جڑی بوٹیاں مختلف نوعیت کی موجود ہیں۔ اگرچہ ان کااستعمال بہت کم ہےلیکن بارشوں کےدنوں یہ تاحد نظر اگ آتی ہیں۔ تاہم ان جڑی بوٹیوں سےدوائیوں میں استعمال کرنےکےلئےبھرپور استفادہ کیاجا سکتا ہی۔ پھلاہی کا درخت، کہو،، کریٹر، سنتھا ،کےعلاوہ نہایت اعلی اقسام کےپودےوہاں پر اگتےہیں۔ جو دوائیوں میں کام ا سکتےہیں۔ ان خود رو بوٹیوں کو جلانےکےکام میں بھی لایا جاتاہی۔ دو ردراز سےلوگ وادی کےحسن و جمال اور موسمی بدلتےرنگوں کو دیکھنےکےلئےتشریف لاتےہیں۔ واضح ہےکہ پودےاور پھول جمالیاتی حسن کی تسکین کےپہلو سنبھالےہوئےہیں۔ وادی سون میں چھوٹی چھوٹی بےشمار پہاڑیاں موجود ہیں اور ہر پہاڑی کا اپنا وجود ، تاریخ اور اہمیت الگ تھلگ ہی۔ تاہم قدوقامت کےحوالےسےسکیسردنیا میں مشہور و معروف ہی۔ جو ایک اندازےکےمطابق پانچ ہزار فٹ بلند ہی۔یہ چوٹی ڈیفنس کےحوالےسےاپنا ایک اہم مقام رکھتی ہےاور پاکستان کےارد گرد کےممالک اس پہاڑ ی کی دفاعی عظمت کو اچھی طرح سےجانتےہیں۔ اس وادی کےجغرافیائی حقائق کو دیکھا جائےتو جناب زاہد حسین ماہر اثمار اور ملک اللہ بخش ریسرچ آفیسر کےایک اجمالی جائزےکےحوالےسےکل سطح سمندر سےاوسط بلندی اٹھائیس سو فٹ ہی۔ کل رقبہ دو لاکھ بتیس ہزار سات سو چھتیس ایکڑ ہےکاشت رقبہ تقریبا پچپن ہزار چار سو پینتیس ایکٹر ہے۔سیراب شدہ رقبہ تقریبا دس ہزار نو سو اسی ایکٹر ہے۔سالانہ بارش ٥٣۔٠٥ سم ہے۔درجہ حرارت ٧٣۔تا ٥٤ تک ہےتاہم یہ کم و بیش ہوتا رہتا ہی۔ وادی سون سکیسر کا شمار کم بارش والےعلاقوں میں ہوتاہےلیکن کسانوں نےاب ٹیوب ویلوں کےذریعے اپنی اپنی زمینوں میں سبزیاں کاشت کرنا شروع کر دی ہی۔ بالخصوص گوبھی اور آلو بہت زیادہ کاشت ہوتےہیں۔ اور اگر بارشوں کی وجہ سےفصل کو نقصان پہنچےیا کیڑا وغیرہ لگے۔ تو کسان بہت نقصان میں رہتےہیں۔ علاقہ ٹھنڈا ہےاور گرمی قابل برداشت ہوتی ہی۔ البتہ موسم سرما سر خشک ہوتا ہی۔ محکمہ زراعت کی خصوصی توجہ سےیہاں پر تحقیقی سلسلہ جاری ہی۔ اور سب سےپہلے1964 ءمیں موسمی سبزیات پر تحقیقاتی تجربات کئےگئےاور جن کےنتائج حوسلہ افزا ثابت ہوئے،جس کی وجہ سےآج بھی وہاں پر بےموسمی سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں اور مقامی لوگ ان سبزیوں پر ہی اکتفا کرتےہیں۔ 1972 ءمیں پہاڑی پھلوں کی افزئش کےلئےبمقام کٹھوائی ایک سب سٹیشن قائم کیا گیا۔ تاکہ سبزیوں کےساتھ ساتھ مقامی پھلوں پر بھی توجہ مرکوز کی جائی۔1984 ءمیں اس سب سٹیشن کو ایک باقاعدہ تحقیقی ادارےکا نام ملا اگرچہ عارضی طور پر تحقیقاتی سرگرمیوں کےلئےزمین پٹےپر لی گئی ۔ ڈاکٹر غلام احمد چوہدری صاحب اور ڈاکٹر عابد محمو اعوان صاحب جو محکمہ زراعت سےمنسلک تھےانہوں نےاپنی خصوصی توجہ سے٨٣ کنال رقبہ خرید اتاکہ ان تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکی۔ اس سب سٹیشن پر سیب، بادام، آڑو، آلو بخارا، ناشپاتی، انار، انگور کی مختلف اقسام نےشاندار نتائج فراہم کئی۔
وادی سون کےعلاقےکی مخصوص آب و ہوا زعفران کےلئےبہت موزوں ثابت ہوئی ہی۔ ادارہ نےترشاوہ پھلوں کی کاشت میں بھی کئی کامیاب تجربات کئے۔سیب، بادام ، ناشپاتی، آڑو ،خوبانی ،آلوبخارا اور انگور کی فصلوں پر تجربات کئےگئےاور بہتر سےبہترنتائج حاصل کرنےکےلئےمحکمہ زراعت کی کوششیں جاری ہیں۔ تحقیقی سرگرمیوں کےدور رس نتائج کو بہتر سےبہتر بنانےکےلئےکاوشوں کو تیز سےتیز تر کیا جائے۔ علاقےکےاندر پانی بہت ضائع ہوتا ہی۔ اگر اس پر کنٹرول کیا جائےتو اس تمام علاقےکی پانی کی ضروریات کو قدرتی چشموں سےپورا کیا جا سکتا ہی۔ بالخصوص کنہٹی کےگردونواح میں پانی کا ضیاع صدیوں سےہو رہا ہی۔ اگر علاقےمیں جدید ذرائع آبپاشی اور ڈرپ ایریگیشن کاتجارتی طور پر تعارف کرایا جائے۔ انگو اور زیتون کی کمرشل کاشت کی ترویج کی جائےپھلوں کی کاشت کو ترقی یافتہ بنا کر اس نظام کو نجی صنعت کےحوالےسےاستعمال عام کیا جائے۔ فصلونںکی کاشت میںتبدیلی لائی جائےاور اس کےلئےجدید نوعیت کا جدید نظام اگر وسائل میسر ہوں تو تخلیق کیا جائےکیونکہ کسان کو دو فصلوںکی وجہ سےفائدہ ہو سکتا ہی۔ علاقےمیں مقامی کھاد کا استعمال ہوتا ہےلیکن اگر نامیاتی کھادوں کااستعمال زیادہ کیا جائےتو زمین کو زرخیز سےبہت زرخیز بنا یا جاسکتاہی۔ فصلوں اور پھلوں کی دیکھ بھال کےلئےحالات سازگار بنائےجائیں اور کسانوں کی مالی مدد کی جائےتو فصلوں اور پھلوں کو بہت بہتر طور پرا گایا اور محفوظ کیا جا سکتا ہی۔ کسانوں کو اس کےلئےمقامی طور پر اکٹھا کر کےان چیزوں کی معلومات دی جائیں ان کو محکمہ زراعت راہنمائی فراہم کرےتو بہترسےبہت رنتائج کی توقع ہو سکتی ہے۔علاقےمیں باغات کےفروغ کےلئےحالات سازگار کئےجائیں اور حفاظت کےاقدامات زیادہ کئےجائیں تاکہ پھل ضائع یا چوری نہ ہوں۔ آلو،اور گوبھی کےبیج مقامی طور پر بنائےجائیں تاکہ کسان جودور دراز سےمہنگا بیچ لاتےہیںاس سےبچ جائیں۔اور اپنی فصلوں کو بہ حفاظت سرگودھا خوشاب ، راولپنڈی یا لاہور پہنچا سکیں ایک اور اہم بات یہ ہےکہ علاقےمیں باغبانی اور مرغ بانی کےلئےتربیتی پروگرام شروع کئےجائیں ۔ امید ہےکہ وقت کےان تقاضوں کو کسان اور محکمہ زراعت مل کر اچھےنتائج حاصل کرنےکی بھرپور کوشش کریں گےجس سےعلاقہ میں معاشی بہار آ سکتی ہی۔
(شوکت محمود اعوان ادارہ افکار جبریل واہ کینت، جنرل سیکرٹری ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان، ایڈیٹر ویکلی وطن اسلام آباد)


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 84
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 80
    ”ناد وقت سنانےوالاملنگ “بابا جی عنایت اللہ تحریر :داکٹر رشید نثار ہمارےعہد میں روحِ عصر کےنمائندہ واصف علی واصف تھی۔ ان کی دانش کےروشن چراغ بابا جی عنایت اللہ ہیں۔ جن کےپاس علم، دانش اور vision تینوں موجود ہیں۔راقم التحریر جناب واصف علی واصف کو اس عہدکاکشادہ ظرف انسان اور…
  • 80
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 77
    وادی سون (م ش) wadi soon a column by meem sheen nawaiwaqt lahore produced by shaukat mehmud awan general secretary adara tehqiqul awan pkistan سرگودھا ڈویژن میںاعوان کاری میں ایک ایساعلاقہ بھی شامل ہےجوقران کریم کےحفاظ کی تعداد کےلحاظ سےشاید سارےعالم اسلام میں اولیت کا دعویدار کہلا سکتا ہی۔ اس…
  • 76
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…
  • 73
    علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتےاور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہےمگر اس امر سےانکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سےگہری مماثلت رکھتےہیں۔…
  • 72
    ایک نابغہء روزگار روحانی شخصیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریل تحریر : محمدعارف پروفیسر سید اللطائفہ حضرت جنید بغدادی کو فقر کا منصب اس لئےعطا ہوا کہ انہوں نےاہلِ بیت کی تعظیم کی۔ فقراءاور اہل اللہ نےاپنی تعلیمات کو ساد ہ و آسان اسلوب میں ڈھال کر ہمیشہ پیش کیا…
  • 72
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 71
    کیا پاکستانی ادب لمحہءموجود کی ضرورت ہے؟ تحریر محمدعارف ادب جغرافیائی حدود و قیود کا نام نہیں، بلکہ یہ ملکی سرحدوں کو عبور کرکےخطےکےجذبوں کو زبان عطا کرتا ہی۔ ادب پاکستانی نہیں ، ادب ایرانی نہیں، افغانی نہیں، انسانی ہوتا ہی۔ ہر ملک کی نظریاتی، جغرافیائی سرحدوں کو تحریروں میں…
  • 71
    نصب العین : علامہ محمد اقبال ، علامہ یوسف جبریل ، اور دیگر مفکرین و بزرگانِ دین کےاُفکار کی عام فہم انداز میں ترویج و اشاعت اغراض و مقاصد: ٭نوجوانوں کی فکری راہنمائی اور فکری بہبود کیلئےکام کرنا۔ ٭تعلیمی اداروں میں جا کر نصب العین کا پرچار کرنا۔ ٭نصب العین…
  • 71
    اپنی موج میں ،اپنی دُھن میں ،بہتا بولتا رہتا ہے تحریر : شمشیر حیدر جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتو ایسےمیںاگر ایک جگنو بھی چمکتا دکھائی دےتو حوصلہ ہونےلگتا ہے،کچھ کچھ اپنےہونےکےنشاں کھلنےلگتےہیں اور وحشتوں کےفریب میں کمی آنےلگتی ہے۔ہم ایسےعہدِبےچراغ میں زندہ ہیںکہ جب ہرآدمی زندگی جبرِمسلسل کی طرح…
  • 70
    ”متاعِ فقیر“۔ تعارف و تجزیہ تحریر: محمد عارف ڈاکٹرتصدق حسین آبائی گاو¿ں بادشاہ پور ضلع چکوال سےتعلق رکھتےہیں۔ ایم اےانگریزی، ایم اےاردو کرنےکےبعدانہوں نےاردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1985ءمیں ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ نسیم حجازی اور ان کی ناول نگاری پر لکھا۔ 1960 ءسے1984 ءتک درس و تدریس…
  • 70
    مجرم عدلیہ کا کیس عوام الناس کی عدالت میں تحریر : رضوان یوسف اعوان بادشاہی کفر میں قائم رہ سکتی ہےمگر ظلم اور ناانصافی میں نہیں۔ جن قوموں میں عدل و انصاف ناپید ہو جاتا ہےتباہی و بربادی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہی۔ عدل و انصاف قائم کرنا…
  • 69
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 69
    وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر تحریر : ملک شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسرنےبےشمار ادیب، شاعر، عالم، فاضل، مفسر، مقرر، دیندار،سائنس دان، فلسفی، ولی اللہ،مجاہد،فوجی افسر اور فوجی جوان، ٹیچر، زاہد، عابد اور علمائےکرام کو جنم دیا ہی، ان میں ہم جس شخصیت…
  • 69
    بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات تحریر : محمد عارف یہ جون کی ایک کڑکتی ہوئی دوپہر تھی کہ جب میرےمحترم دوست شوکت محمود اعوان (واہ کینٹ) نےمجھےبتایا کہ میرےایک دوست (سعید صاحب ) ٹریول لاج ، ٥ سڑکی پٹرول پمپ ، سکالر کالج ، پی سی ہوٹل کےنزدیک صدر…
  • 69
    ”کن فیکون“ پر خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کا تبصرہ ”کن فیکون“ نامی کتاب تحریر محمد عارف میں ملک شوکت محموداعوان نےمندرجہ مضمون میں اپنےوالد محترم کی شخصیت کےمختلف پہلو اجاگر کئےہیں۔ بہر حال شوکت محمود اعوان کو یہ اعزاز حاصل ہےکہ انہوں نےاپنےوقت کےعظیم دانش ور کی خدمت کا…
  • 68
    Introduction of shaukat m awan gen. secretary adara tehqiqul awan pakistan President Yousuf Jibreel Foundation sarparast ala bazme afqare gabriel wah cantt editor coordinator weekly watan islamabad شوکت اعوان شخصیت اور خدمات تحریر محمد عارف ١۔ شوکت محمود اعوان گیارہ نومبر انیس سو ترپن 11-11-1953میں بمقام کھبیکی وادی سون سکیسر…
  • 68
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 68
    اجڑ سکےگی کسی سےنہ خانقاہ مری تحریر : محمدعارف ٹیکسلا راولپنڈی سےپشاور کی طرف آئیں تو پتھروں کےشہر ٹیکسلا سےچند قدم آگےایک چھوٹی سی مضافاتی بستی نواب آباد ہےجو صنعتی شہر واہ کینٹ کا ایک جزو لاینفک ہوتےہوئےبھی دیہات کی دلفریب فضا کا دلنشین رنگ لئےہوئےہے۔اس بستی کی آبادی بھی…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Copied!