وادی سون کا قدرتی ماحول تحریر شوکت محمود اعوان

وادی سون کا قدرتی ماحول
تحریر شوکت محمود اعوان
وادی سون کا ماحول ایک قدرتی ماحول ہی۔ جہاں جنگل، پربت وادیاں، ندیاں، نالی، جھیلیں، درختوں کےجھنڈ، آبشاریں، لہلہاتی فصلیں، جنگلی جانور، جنگلی بوٹیاں موجود ہیں۔ یہاں پر جنگلی حیات بھی موجود ہےجو کہ قدرت کی صناعی کےحسین ترین مظاہر میں شامل ہی۔ قدرتی نظاروں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی حسین مخلوقات کو قریب سےقریب تر دیکھنا اور اس کی افادیت و اہمیت کو محسوس کرنا دل کےلئےایک خوش کن موقع ہوتاہی۔ ہر انسان ایسےفطری ماحول میں ہمیشہ ہمیشہ کےلئےبس جانےکی خواہش تو رکھتا ہی۔ لیکن ایسا کر نہیں سکتا کیوں کہ زندگی کی دوسری اہم ضروریات اس کو ان نظاروں کو محدود کرنےپرمجبور کر دیتی ہیں اور بہت کم خوش نصیب لوگ ہیں جو ایک طویل عرصہ تک ان قدرتی نظاروں کےساتھ دلجمعی سےگذارا کر سکیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل کو بھی اپنےعلاقےوادی سون سکیسر سےبہت محبت تھی اور وہ بھی ان نظاروں سےلطف اندوز ہونا چاہتےتھےلیکن روحانی ذمہ داریوں نےان کو ایسا کرنےکا موقع ہی نہیں دیا۔ وہ اس حیاتیاتی مخلوق سےبہت دلچسپی رکھتےتھی۔ ان کی زندگی اور ان کےزندگی کےسفر سےوہ واقف تھی۔ انہوں نےبیالوجی کا مطالعہ کیا ہوا تھا اور دنیا کےبےشمار ملکوں میں سیروسیاحت کےدوران جانوروں اور نباتاتی زندگی کو بہتےقریب سےدیکھاتھا۔ مثلا مشرق وسطی میں شام، مصر، شارجہ، ایران، عراق، فلسطین، کےدور دراز علاقوں اور پہاڑوں پر سیاحت کےدوران انہوں نےجنگلی زندگی کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ حیاتیاتی زندگی کا روحانیت سےبھی گہرا تعلق ہےاور یہ متوکل مخلوق انسان کو روحانیت کی تعلیم سےآگاہی دلاتی ہےاور انسانی زندگی اور ماحولیاتی زندگی کا فرق نمایاں ہوتا ہی۔ یہ بےضرر مخلوق انسان کےلئےخوش اخلاقی اور طمانیت قلب کےمواقع فراہم کرتی ہی۔ تو انسان کی کھانےپینےکی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہی۔ اس کےساتھ ساتھ انسان جو آج تک قدرت کےمعاشی اور معاشرتی نظام کو نہیں سمجھ سکا وہ جانور اور پرندےاور جنگلوں کی حیاتیاتی زندگی انسان کو بہت قریب سےسکھا دیتی ہی۔ ان میں ہوس، بغض، حسد اور کینہ جیسی چیزیں نہیں ہوتیں۔ ان کےاندر دوسروں کےلئےقربانی دینےکا جذبہ ہوتا ہی۔ جب کہ انسان خودغرض واقع ہواہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کےگھر کےساتھ جھیل کھبکی موجود تھی۔ اور جب وہ گاو¿ں تشریف لاتےتو اپنےدوستوں کےہمراہ جھیل پر شکار کرتےاور ہرنوں کےشکار کےلئےوادی سون کی پہاڑیوں پر سفر کرتی۔کبھی کبھی شکار مل جاتا اور کبھی خالی مڑنا پڑتا لیکن اس سفر میں بھی ایک دلچسپی قائم تھی۔وادی سون سکیسر کےمکینوں نےجب کھبیکی جھیل کو ختم کرنےکا مطالبہ کیا تو علامہ صاحب نےاس جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اگر اس جھیل کو خالی کر دیا گیا تو ارد گرد کےتمام علاقوں میں پانی نیچےچلا جائےگا اور لوگوں کےلئےایک بہت بڑی پریشانی پیدا ہو جائےگی۔ اس زمانےمیں پانی کی تہہ بہت نیچےچلی گئی تھی۔علامہ صاحب نےہر معاملےمیں وادی سون کی خوشحالی کےلئےکچھ نہ کچھ کام کیا۔ اگرچہ انہیں نہایت ہی برےحالات میں گاو¿ں کو چھوڑنا پڑا۔ یہ ایک الگ کہانی ہی۔
علامہ صاحب نے جانوروں کی نفسیات کا مطالعہ یہاں سےسیکھا۔ جب بھی برطانیہ کی ٹیمیں یہاں آتیں تو سب سےپہلےوہ محمد یوسف کا پوچھتیں اگر وہ وادی سون میں ہوتےتو یہ انگریز ان کو اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیتےاور علامہ صاحب بھی بہت خوش ہوتےاور ان کےساتھ گفتگو کرتےاور ان کےہمراہ سفر کرتےاور چونکہ علامہ صاحب صاحبِ علم انسان تھےلہذا انگریز ان کو بہت پسند کرتےتھےاور ساتھ ہی وہ انگریزی زبان پر نہ صرف عبور رکھتےتھےبلکہ انسانی، غیر انسانی مخلوق کی نفسیات کا گہرا مطالعہ بھی ان کےپاس تھا جس کی وجہ سےانگریز ان کےاس علم سےبہت فائدہ اٹھاتےاور بالخصوص کھبکی کی جھیل میں جب مرغابیاں آتیں تو یہ انگریز ان کی سفر کی تاریخیں لکھتےاور انہیں لندن سےچھوڑتےتو یہ دیکھتےکہ کب یہ پاکستان یا انڈیا میں پہنچی ہیں باقاعدہ وہ ان کےپاو¿ں میں لوہےکےچھوٹےچھوٹےکڑےڈالتےاور ان پر نمبر اور تاریخ بھی لکھتے۔ بعد میں یہ دیکھتے کہ یہ مخلوق کتنےعرصےمیں لندن سےیہاں وادی سون میں پہنچی ہی۔اور دوسری جھیلوں کےبارےمیں بھی وہ یہ معلومات اکٹھی کرتےاور موسمیات پر اپنی معلومات مکمل کرتی۔ وہ عجیب و غریب تجربےکیا کرتےتھی۔ تاہم ان کو ارضیات سےبہت دلچسپی تھی۔ جڑی بوٹیوں کےبارےمیں علامہ صاحب کےپاس گہرا علم تھا ۔ علامہ صاحب انگریزوں کو ان کی افادیت سےآگاہ کرتےاور میڈیسن میں استعمال ہونےوالی جڑی بوٹیوں کےبارےمیں انگریز کو آگاہی ملتی تو اس سےاستفادہ کیا جاتا۔ مقامی لوگوں کو اس بات کا علم تھا کہ علامہ محمد یوسف جبریل سونا بنانےکا علم رکھتےہیں۔ لیکن وہ دنیاوی سہولتوں سےبہت دور تھےان کا مشن ہی کچھ اور تھا۔
شوکت محمود اعوان جنرل سیکرٹری ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان، نواب آباد واہ کینٹ wwwoqasa.org www.allamayousuf.net


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 89
    حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان 1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور…
  • 85
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 81
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply