وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ تحریر ملک محمد شیر اعوان وساوال

وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ
تحریر
ملک محمد شیر اعوان وساوال
۔ کہتےہیں کہ قدرت جب کسی سےکوئی مخصوص کام لینا چاہتی ہی۔ تو اس کام کےلئےاسی قوم میںسےمخصوص افراد کو چن لیتی ہی۔ جو اس کام کی انجام دہی میں شب و روز ایک کر دیتےہیں۔ اور اس کام کی تکمیل اس طریقہ سےکرتےہیں۔ کہ لوگ ان کےمحیرالعقول کام کو دیکھ کر حیران رہ جاتےہیں۔ آئندہ آنےوالی نسلیں ان کےان کارناموں پر ناز و فخر کرتی ہیں۔ ان کو ہدیہ ءتبریک پیش کرتی ہیں۔ یہ لوگ حقیقت میں زندہ جاوید ہو جاتےہیں۔اور تاریخ میں اپنا ایک منفرد نام چھوڑ جاتےہیں۔ جور ہتی دنیا تک قائم دائم رہتا ہی۔ اس سلسلےکی ایک مثال یوں پیش کی جا سکتی ہی۔ کہ اعوان قبیلہ کی تاریخ پر کئی کتابیں رقم کی جا چکی ہیں ۔ جو اپنی جگہہ بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ لیکن ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان سےشائع ہونےوالی کتاب ”تاریخ علوی اعوان“ مشہور بہ علوی اعوان تاریخ کےآئینےمیں قوم اعوان پر شائع شدہ تاریخوں میں ایک نہایت ہی خوبصورت اضافہ ہی۔ جس پر راقم اس کےمولف ملک محبت حسین اعوان، علامہ محمد یوسف جبریل،ڈاکٹر رشید نثار ، اور شوکت محمود اعوان جنرل سیکرٹری اداہ ھذا کو سلام عقیدت پیش کرتا ہی۔ اس کےعلاوہ جناب زین العابدین علوی، ملک سرور اعوان ، ملک رفیق اعوان علوی، مولانا ریاض سیالوی ، ملک شاہسوار علی ناصر ، ایوب اختر، وزیرالحسین علوی، ملک گل محمد پھلیال اعوان اور دیگر قلمی معاونین کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سےخراج تحسین پیش کرتا ہی۔ اور مستقبل میں ان سےقوم اعوان کی خدمت کا بدستور تقاضابھی کرتا ہی۔
ہاں راقم اپنےاصلی موضوع کی طرف آتا ہی۔ یہ کہ دوست محمد المعروف فقیر ٠٨٨١ ءمیںموضع کھبکی وادی سون سکیسر میں محمد بن وساوا کےگھر پیدا ہوئی۔ ٣٩٨١ ءمیں پرائمری کا امتحان ڈسٹرکٹ بورڈ پرائمری سکول کھبیکی سےپاس کیا۔ان کو یکےبعد دیگرےپٹوار اور نائب تحصیلدار کی پیش کش ہوئی۔ لیکن انہوں نےقبول نہ کی۔ ٣١٩١ ءمیں شروع ہونےوالی جنگ عظیم میں انگریز نےان کو اعلیٰ عہدہ پر بھرتی کرنا چاہا۔ لیکن موصوف نےانکار کر دیا۔ اور زندگی میں کاشتکاری کےپیشہ کو اپنانا پسند کیا۔آپ آٹھ نومبر ٣٧٩١ ءکو اس دنیا سےپردہ فرما گئی۔
موصوف دوست محمدصاحب بتاتےہیں کہ” میں ایک دن گہری نیند سویا ہوا تھا ۔ خواب میں دیکھا کہ دو شخص جن کےچہرےبڑےنورانی تھی۔ اونٹ کےکجاوہ میں بیٹھےمیرےپاس سےگذرے۔دائیں طرف بیٹھےہوئےشخص نےپھونک ماری۔ اس کےمنہ سےدرمیان والی انگلی کےبرابر دودھ کی ایک دھار نکلی ۔جو میرےمنہ میں چلی گئی۔میں فوری طور پر مضطرب حالت میں جاگ اٹھا۔ میرےجسم پر کپکپی طاری تھی۔ اور میں نےمنہ پر ہاتھ ماراتو منہ گیلا تھا“ ۔
اس خواب کی تاثیر تھی ۔کہ اس دن سےان کی زبان پر ذکراللہ ھو جاری ہو گیا ۔ اور آخری دم تک اللہ ہو، اللہ ہو، کا ذکر ببانگ بلند کرتےرہی۔وہ ہر شخص لئے دعا گو رہتےتھی۔ قدیم شخصیت ہونےکےحوالےسےانہوں نےکئی روایات بیان کی ہیں۔ چند ایک درج ذیل ہیں :۔
وہ روایت کرتےہیں۔ کہ موضع کھبیکی وادی سون سکیسر میں اعوان قبیلہ کےایک شخص ملک نور خان تھی۔ جن سےگوت نورخنال مشہور ہی۔ یہ خدارسیدہ، جرات مند،باحوصلہ ،بہادر اور مدبر انسان تھی۔ جنگجو اس قدر تھی۔ کہ قلعہ اکراند راجہ تاتار خان کا مضبوط قلعہ تھا ۔ سکھوں نےاپنےتوسیعی عزائم کےپیش نظر اس قلعےپر کئی بار حملےکئی۔ لیکن ہر بار ناکام ہوئی۔ آخر ملک نور خان کی حکمت عملی نےکام کر دکھایا۔ اور سکھ قلعہ پر قابض ہو گئی۔
موصوف نےموضع جابہ میں اپنادارا ( بیٹھک) بنانا چاہا۔ اور کام شروع کر دیا۔ نیچےایک ولی کامل حضرت شاہ فتح اللہ نامی کا گھر تھا ۔ شاہ صاحب نےملک نور خان سےکہا ۔ کہ اس جگہہ دارا نہ بناو¿۔ میرےگھر کی بےپردگی ہو گی۔ موصوف نےدارا بنانا بند کر دیا۔ کچھ دنوں بعد پھر دارا بنانےکا کام شروع کر دیا ۔ پھر شاہ فتح اللہ صاحب نےمنع کیا۔ تو ملک نور خان گویا ہوئے۔ کہ یہ جگہہ دارا کےلئےبہت موزوں ہی۔لہذا میں اس جگہہ داراضرور بناو¿ں گا۔ اس دوران شاہ صاحب سےجھگڑا کی نوبت آ گئی ۔ملک نور خان نےشاہ صاحب سےدوران گفتگو تلخی میں یہ کہہ دیا۔ کہ شاہ جی تمہارےجیسےمیں نےبیسیوں ولی دیکھےہیں۔ شاہ جی نےغصہ میں آ کرمقامی زبان میں یوں بدعا کی۔ جو حسب ذیل ہے:۔
” ملک نور۔ پتر مری ممور۔ اکھی دےحضور۔ سر َوکھ تےدھڑ دور۔ دھڑ ونج پوی ببور۔ ملکا تیڈےمینڈےوچ دہاڑےاٹھ ون ۔ اگر توں اٹھاں دہاڑیاں دےاندر مر گئیوں تاں انجےسمجھیں شاہ جی دی بدعا لگ گئی ای“
ترجمہ:۔” اےملک نور خان۔ تمہارا بیٹا تمہاری آنکھوں کےسامنےمرے۔ جس کا سر اور جسم الگ الگ ہو ۔ اور اس کا جسم ببور جھیل کےساتھ جا پڑے۔اےملک نور خان میرےاور آپ کے درمیان صرف آٹھ دن کا وعدہ ہی۔اگر تم آٹھ دن کےاندر مر گئےتو سمجھ لینا کہ تمہیں شاہ جی کی بدعا لگ گئی ہی“۔
ملک صاحب یہ سن کر بہت گھبرا گئی۔ اور کام بند کروا دیا۔خطرناک صورت حال کو مدنظر رکھتےہوئے ملک صاحب موضع چینجی کےمیاں محمد بدھوڑ (ولی کامل) کےپاس چلےگئے۔اور ان سےساراماجرا بیان کیا۔ اور دعا کےلئےکہا ۔ میاں بدھوڑ فرمانےلگی۔ کہ شاہ صاحب کی بدعا کام کر گئی ہی۔البتہ خان شاہ موضع ناڑی کےپاس جاو¿ ۔ جن کا مرتبہ بہت بلند ہے۔اوران سےدعاکرواو¿۔ ممکن ہےکچھ آپ کی بچت ہو جائے۔ ملک صاحب کھانڈ(چینی) کی شیرینی لےکر خان شاہ کےپاس حاضرہوا۔ان کی خدمت میں انہوں نےشیرینی پیش کی۔ اورتمام واقعہ بیان کیا۔اور دعا کےلئےدرخواست بھی کی۔ وہاں ایک عجیب واقعہ پیش آ یا ۔ کہ شاہ جی کچھ مقدار کھانڈ کی منہ میں ڈال لیتےتھے۔ اور کچھ منہ پر مل لیتےتھی۔ پاس بیٹھےہوئےحاضرین نےاس کی وجہ دریافت کی۔ تو فرمانےلگے۔ کہ ُمکالی ( شہرُی پنجابی لفظ یعنی شرمندگی ) کھانڈ پھکَ رہا ہوں۔ (یعنی شرمندگی کی کھانڈ کھا رہا ہوں ) اب کچھ نہیں ہو سکتا۔البتہ جھنگےوالا گاو¿ں کےنزدیک کی پہاڑی کی چوٹی پر بیٹھ جاو¿۔ اور کچھ بھی ہو نیچےنہ اترو۔ ہو سکتا ہے۔ کہ بدعا کا اثر زائل ہو جائی۔ ملک نور خان نےاپنےبیٹےممور کےساتھ جھنگےوالا پہاڑی کی چوٹی پر ڈیرہ ڈال دیا۔ سکھا شاہی کازمانہ تھا ۔ کوئی قانون یا لاءاینڈ آرڈر نہ تھا ۔ جو طاقت ور تھا۔ سب کچھ وہی تھا۔ یہاں تک طاقت کا اصول کارفرماتھا ۔کہ ایک علاقہ سےلوگوں کےگروہ دوسرےعلاقہ پر حملہ کرتےتھی۔ اور چند آدمیوں کو جو جتھہ حملہ آور ہوتا ۔ اس جتھےکو علاقائی زبان میں دھاڑ کہا کرتےتھے۔ یہ جتھہ لوگوں کا سازو سامان اور مال مویشی وغیرہ لوٹ کر لےجاتےتھے۔ یہاں تک کہ ان کی زمینوں اور جائیداد پر بھی ناجائز قابض ہو جایا کرتےتھی۔ یہی سلسلہ جاری و ساری تھا۔ اس دوران موضع کٹھہ مصرال سےایک دھاڑ آ ئی ۔ انہوں نےخوب لوٹ مار کی۔ اور موضع جابہ کو آگ لگا دی۔ جابہ گاو¿ں موضع جھنگےوالےکےنزدیک واقع ایک مشہور گاو¿ں ہی۔ جو جُھنگےوالا گاو¿ں کی پہاڑی سےنظر آتا ہے۔ ملک صاحب یہ نظارہ اپنی آنکھوں سےدیکھ رہا تھا ۔ اور لوگوں نےبھی آ کر اطلاع کی۔ ملک صاحب نےکہا۔ مجھےپہاڑی سےنیچےاترنےکا حکم نہیں۔ دھاڑ جابہ سےآگے بڑھی۔ اور جُھنگےوالا گاو¿ں کو نرغےمیں لینےلگی ۔ تو ملک نور خان کو مجبوری طورپر نیچے اترنا پڑا۔ دھاڑ والوں نےدونوں باپ بیٹا کو پکڑ لیا۔ ملک نور خان کےبیٹےممور نے مزاحمت کی۔ تو دھاڑ والوں نےباپ کےسامنےبیٹےکو قتل کر دیا ۔ اور دھاڑ نےملک نو ر خان کو ساتھ لےکر واپس کٹھہ مصرال کی راہ لی۔ راستہ میں دھاڑ والوں نےپوچھا ۔ کہ ملک صاحب تمہاری زمین کی حد کہاں تک ہی۔ تو انہوں نےجواب دیا۔ کہ جہاں میرا سر وہیں زمین کابنہ(آخری سرا) ۔اس پردھاڑ والوں نےملک صاحب کو بھی قتل کر دیا۔ اور ملک نور خان کا سر کاٹ کر کٹھہ لےگئے۔کچھ دنوں بعد علاقہ کےلوگوں نےبدلہ لینےکےلئےکٹھہ پر حملہ کر دیا ۔اور کافی لوٹ مار کی ۔اوروہاں کےراجہ کا سر کاٹ دیا۔ راجہ کی دوبیٹیاں تھیں ۔جو کہ جوان تھیں ۔جو اپنی عزت و عفت بچانےکی خاطر سراسیمگی اور خوف کےعالم میں دوڑتی ہوئیں ایک شخص ملک حاکم خان جو ملک عظمت خان کی اولاد سےتھے۔ کی گود سےلپٹ کر زاروقطار رونےلگیں ۔” ہمیں بچاو¿۔ ہمیں بچاو¿“ ۔یہ لوگ ہمیں مار دیں گی۔ ملک حاکم خان ر عب اور دبدبہ والےانسان تھے۔ اور لوگ ان کا سامنا کرنےسےکتراتےتھے۔ انہوں نےلوگوں کو خبردار کیا۔ کہ کوئی بچیوں سےتعرض نہ کرے۔ یہ میری بیٹیاں ہیں۔ دھاڑ والےراجہ کا سر اور دو بیٹیاں اپنےساتھ لےکر گاو¿ں واپس آئی۔ملک حاکم خان نےلڑکیوں کو اپنی لڑکیوں کی طرح اپنےپاس رکھا۔ کچھ عر صہ بعد ہی دونوں دھاڑوں میں صلح صفائی ہو گئی۔ تو دونوں طرف سےسروں کا معاہدہ ہوا کہ سروں کاتبادلہ کیا جائے۔ اس دوران کٹھہ والےسخت پریشان تھے۔اور دوسری طرف کےلوگوں نےجب اس پریشانی اور گھبراہٹ کا سبب پوچھا۔تو وہ کہنےلگے۔کہ ہماری رات کی نیندیں حرام ہو گئی تھیں ۔ کیونکہ ملک نور خان کا سر تمام وقت” تو ہی تو، تو ہی تو“ کا ورد کرتا رہتا تھا ۔ سروں کا تبادلہ تو ہو گیا ۔ لیکن راجہ کی لڑکیوں نےاپنےرشتہ داروں کےساتھ جانےسےانکار کر دیا۔ اور کہا۔کہ ملک حاکم خان ہمارےبزرگ ہیں۔اور ہم اس کےساتھ ہی رہیں گی۔ آخر کار ملک حاکم خان نےکٹھہ کےدو راجاو¿ں سےان لڑکیوں کی شادی کرا دی۔ اور وقت کےلحاظ سےان کو جہیز بھی دیا۔
مقام حیرت ہی۔ کہ ایک ولی کامل شاہ فتح اللہ کی بدعا پوری ہو گئی۔بد دعا کس طرح حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ ملک صاحب کابیٹا ملک ممور اپنی آّنکھوں کےسامنےقتل کر دیا جاتا ہی۔ اور سر بدن سےالگ ہو جاتا ہی۔ اور اس بدعا میں تھوڑا سا دعا کاعنصر بھی شامل ہے۔ کہ دھڑ ونج پوی ببور ( یعنی تمہارا جسم ببور (ڈھن ۔ پانی کا ذخیرہ) میں گر جائی۔ ببور ایک چشمہ ہے۔ جہاں سےہر وقت پانی رستا رہتا ہے۔ اور قریب ہی حضرت سلطان مہدی کا مزار مبارک ہی۔جو وادی سون کےایک عظیم ولی و بزرگ تھی۔ اورچار سلطانوں میں ایک سلطان ہیں۔ حیرت کی بات ہی۔ کہ ملک صاحب کی ز مین کی حد بھی ببور چشمہ تک ہے۔ جہاں ان کاسر قلم کیا گیا ۔گویا کہ اس موت نےان کی زمین کی حد بھی ببور تک مقرر کر دی۔ ان کےدھڑ (جسم) اور سر کو عارضی طور پر علحدہ علحدہ دفن کیا گیا ۔ ان کا مدفون اپنےگاو¿ں کےآبائی قبرستان میں ہوا۔ان کےمتعلق ایک اور روایت مشہور ہے۔ کہ ایک دن ملک نورخان ،گاو¿ں کےلوہار کی بھٹی پر اپنےچند ساتھیوں سمیت بیٹھا ہوا تھا۔ اور لوہار بھٹی میں کچھ اوزار گرم کر رہا تھا ۔ سامنےایک حسین و جمیل عورت سر پر گاگ اٹھائےپانی لینےعظمت والےکھوہ (کنوئیں) پر جارہی تھی۔ مذکور کی نظر عورت پر پڑ گئی اور اس پر جم کر رہ گئی ۔ پاس بیٹھےہوئےلوگوں نےموصوف کا بہت مذاق اڑایا ۔ اور کہنےلگے۔ کہ آپ تو ستی ہونےکےدعویدار ہیں۔لیکن اس عورت کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہےہیں۔ گویا کہ آپ نےکبھی عورت دیکھی ہی نہیں۔ حال آپ کا یہ ہی۔ اور کہلاتےآپ ستی جتی ۔ اس پر وہ کہنےلگے۔ کہ میں تو قدرت کی صناعی دیکھ رہا تھا ۔ جب گرماگرم بحث ہوئی ۔تو آپ نےکہا ۔ کہ اگر آپ لوگوں کو مجھ پر اعتبار نہیں تو گرم تکلا لےکر میری آنکھوں میں پھیر دو۔ اگر میں نےبدنیت نظر سےدیکھا ہو گا۔ تو میری آنکھیں یقینی طور پر جل جائیں گی ۔آخرکار ملک صاحب نے دیکھتے ہی دیکھتےاز خود اپنی آنکھوں میں گرم تکلا پھیر دیا۔ لیکن آنکھیں جلنےسےمحفوظ رہیں۔
یوں تو ملک نور خان کےپانچ بیٹےتھے۔لیکن ان میں سلطان محمود عرف موندا کو خاص حیثیت حاصل تھی ۔ا س نےاپنےوالد کی حاصل کردہ زمینوں کو انگریز کےدور میں قانونی حیثیت دلوائی ۔ شخص مذکور تنومند، شہ زور اور دانشمند تھا۔ یہ شاہ فتح اللہ کی حویلی میں مشک اٹھائےرات کو چپکےسےخالی پڑےہوئےگھڑےبھرجاتاتھا۔چند د ن یہ معاملہ معمول ہوا ۔ صاحب زادیاں حیران تھیں ۔ کہ ہرروز پانی رات کےاندھیرےمیں کون بھرکر چلا جاتا ہے۔ ایک صاحب زادی نےرکھوالی کی۔ تو کیا دیکھاکہ کوئی شخص رات کےاندھیرےمیں مٹکےبھر رہا تھا۔ صاحب زادی نےپوچھا۔تم کون ہو۔ جواب آیا۔ میں موندا ہوں ۔ صاحبزادی نےکہا ۔ کہ تم یہاں کیوں آتےہو۔ کہنےلگا کہ ا س گھرانےسے بدعا ملی ہی۔ دعا لینےآیا ہوں ۔صاحب زادی فرمانےلگیں ۔کہ شاہ فتح اللہ کا پوتا (نام یاد نہیں) شر ف والی ڈھن پر چلہ کشی میں مصروف ہی۔ فلاں دن ان کےچلہ کی مدت پوری ہو گی ۔ جاو¿ ان سےدعا لےلو ۔مذکورہ ڈھن پہاڑ میں واقع ہے۔اور اس تک رسائی کا صرف ایک ہی راستہ ہی۔ جو بہت دشوار گزار ہی۔ ایک وقت میں ایک ہی آدمی اس راستےسےگزر سکتا ہی۔، موندا فوراََ اس مخصوص رات راستہ میں جا کردعا لینےکی خاطر بیٹھ گیا ۔ شاہ صاحب چلہ کشی سےفارغ ہوئی۔ تو واپس گھر کو چل دیئے۔رات بہت تاریک تھی۔ رات کی تاریکی میں ایک آدمی کو اپنےراستےپر بیٹھےہوئےدیکھا ۔ تو شاہ جی نےاس سے استفسار کیا ۔ کہ تم کون ہو۔اور میرےراستہ میں اس وقت کیوں بیٹھےہو ۔ موندا نےجواب دیا۔ جی حضور میں موندا ہوں ۔ شاہ صاحب فرمانےلگی۔ ہٹ جاو¿ میرےراستےسی۔ دور ہو جاو¿ میری نظروں سے۔ اُدھلیوں کو کوئی داج( جہیز) دیتا ہی؟۔ موندےنےجواب دیا۔ کہ ”جناب شاہ صاحب داج تو کوئی نہیں دیتا۔لیکن گلےتو لگا لیتےہیں“۔ اس بات سےشاہ جی کادل پسیج گیا۔اور فرمایا۔ آو¿ میرےگلےلگ جاو¿ ۔گلےلگا کر اپنی لوکار (لوئی) اس پر ڈال دی ۔اور یوںدعا کی ۔
جٹا اتےتیڈےلوکار ماہنےتپےدی بہار
دھیاں پتر تیڈےسردار
پتر، پوترا، پڑوترا، تینڈےہوسن سردار
±©©ہم دیکھتےہیں۔ کہ ان کی اولاد میں سےملک شاہ محمد ڈسٹرکٹ آنریری مجسٹریٹ ہوئی۔ ملک سرفراز خان ممبر صوبائی اسمبلی اور ملک مختار احمداعوان ایم پی اے ہوئے۔ یوں ان کی دی ہوئی دعالفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔ ضلع خوشاب کی سیاست اس خاندان کےپاس ہی۔ اور وہ لوکار اس خاندان کےپاس آج تک محفوظ ہی
سخی محمد خوشحال خان اعوان موضع دھدھڑ وادی سون سکیسر کےایک ولی کامل تھے۔ خیر محمد عرف کھیرا ان کی خدمت پر مامور تھا۔ اس شخص نےزندگی بھر ان کی خدمت کی ۔ یہ بہت غریب آدمی تھا۔جس کی وجہ سےکوئی بھی اس کو رشتہ دینےپر رضامند نہ ہوتا تھا ۔حضرت سخی محمد خوشحال کھیرےسےایک دن موج میں آ کر کہنےلگے۔ کھیرےتم شادی کیوں نہیں کرتی۔ کھیرےنےجواب دیا۔ جی کوئی اپنی لڑکی مجھ کو دینےکےلئےتیار نہیں ۔کیوں کہ میں غریب ہوں۔ فرمانےلگے۔آو¿ کیوںنہ تمہاری شادی کرادوں۔ دونوں مرشد و مرید گاو¿ں مکڑمی کےایک گھر میں گئی۔ اور ان سےکھیرےکےلئےرشتہ مانگا ۔ اس پر لڑکی کےوالدین اور برادری بپھر گئی ۔ اور سخی صاحب کو برا بھلا کہا۔ سخی صاحب جب اٹھ کر کھڑےہوئی۔ اور فرمایا۔ یہ انسانوں کی جگہہ نہیں ۔بلکہ بھونڈوں (سوروں ) کی جگہہ ہے۔ ابھی تھوڑی دور گئےتھی۔ کہ شہر میں بھونڈیں (سور) داخل ہو گئیں۔ لوگ سخت خوفزدہ اور گھبرا گئی۔ اور سخی صاحب کےپیچھےدوڑی۔ ان کےقدموں میں پڑ گئے۔ اور معافی کےخواستگار ہوئی۔ عرض کیا۔ کہ آپ واپس چلیں ۔ رشتہ ہم دیتےہیں۔ کھیر ےکی شادی ہو گئی۔ اور بھونڈ یں غائب ہو گئیں۔
چوری کےجرم میں کسی نےسخی صاحب کےخلاف مقامی تھانہ میں رپورٹ درج کرا دی۔ تھانہ دار موقع پر آیا۔ اسےپتہ چلا کہ سخی صاحب اپنی زمین سےمویشیوں کےلئےچارہ کاٹنےکےواسطےگئےہیں۔ تھانہ دار بھی وہاں جا پہنچا ۔اور سخی صاحب کو پکڑ لیا۔ اور حکم دیا۔ کہ جو گھاس آپ نےکاٹ لیا ہی۔ اس کوگھٹڑی میں ڈال دو۔ اور سر پر اٹھا کر میرےساتھ چلو ۔ تھانہ دار گھوڑےپر سوار تھا۔ ابھی کچھ دور گیا ہی تھا ۔ کہ پیچھےمڑ کر دیکھا ۔ تو کیا دیکھتا ہے۔کہ وہ گھٹٹری سخی صاحب کےسر سےدو فٹ اونچی فضا میں معلق ہے۔اور سخی صاحب کےساتھ ساتھ چلی آ رہی ہی۔ تھانےدار نے بات سمجھ لی ۔ اور فوری معذرت کی۔ اور ان کو باعزت طور پر رہا کردیا ۔ ان کےمتعلق ایک اور روایت ہی۔ کہ ایک دفعہ علاقہ میں قحط پڑ گیا ۔ علاقہ کےلوگوں کےپاس کھانےکو کچھ نہ تھا۔ جب لوگ بہت تنگ ہوئےتو سخی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ سخی صاحب نےفرمایا۔ کہ اس سکار میں گندم کےدانےہیں کناہ کھولو۔ سکار دیہاتوں میں تقریبََا چھ فٹ لمبا اور گول سا مٹی کا بنا ہوا برتن ہوتا ہی۔ جس میں گندم سال بھر کےلئے رکھی جاتی ہی۔ سخی صاحب نےفرمایا ۔ کہ تم لوگ اپنی اپنی ضرورت کےمطابق لےجائو۔ لوگوں نےگندم کےدانےحسب منشا لےگئی۔ لیکن سکار خالی نہ ہوئی۔
مشہور ہے۔کہ ایک دفعہ علاقہ سون والوں نےتپہ کےلوگوں پر حملہ کرنا چاہا۔ جب وہ سخی صاحب کےدربار سےکچھ فاصلہ پر تھی۔ تو مرقد سےنصف دھڑ کےقریبََانکل کر ہاتھ اوپر کرکےتپہ والوں سےکہا۔کہ مارو۔ مارو۔ اور وہ لوگ یہ ماجرا دیکھ کر بدحواس ہو کر تتر بتر ہو گئے۔ ان کی کرامت ہی۔ کہ کوئی مرد و زن جو اولاد سےمحروم ہوں۔ وہ اگر پانچ جمعہ لگاتار ان کےرو ضہ مبارک پر حاضری دیں۔ تو اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم سےان کےہاں اولادہو گی۔
سلطان حاجی احمد صاحب ایک ولی کامل ہو گذرےہیں۔ ان کا مزار اوچھالہ وادی سون سکیسر میں ہے۔ حاجی صاحب مکہ مکرمہ میں گئےہوئے تھی۔ جب انہوں نے واپس آنےکا قصد کیا۔تو ان کےپاس کچھ بھی زاد سفر نہ تھا۔ لیکن ایک شب رات کو انہوں نےخواب دیکھا ۔ ان کو کسی مرد نےکہا۔ کہ صبح جب نماز اداکرنےکےبعد جو آدمی تمہاری دائیں طرف بیٹھا ہو۔ اسےفورا پکڑ لو ۔ اور اس سےکہو ۔ کہ مجھےموضع اوچھالہ سون سکیسر میں پہنچاو¿۔ تو اس آدمی نےان کو موضع اوچھالہ کےاوپر پہاڑ پر پہنچادیا ۔ اور جب رخصت ہونےلگا۔ سلطان حاجی احمد نےپوچھا۔ کہ جی آپ مجھےیہ تو بتادیں کہ آپ کون ہیں۔ تو اس نےفرمایا۔ کہ میں شاہ اورنگزیب ہوں ۔ اور جب کوئی ضرورت پڑےتو مجھےآ کر دہلی میں مل لینا ۔کچھ دنوں بعد موصوف نےشاہ اورنگزیب والیءہند سےملنےکا ارادہ کیا۔ اور عازم سفر ہوئے۔آپ دہلی پہنچی۔ اور شہنشاہ سےملاقات ہوئی ۔ سلطان حاجی احمد صاحب نےاپنی زمین جو رشتہ داروں کےقبضہ میں تھی ۔ واگزار کرانےکےلئےدرخواست کی۔ شہنشاہ نےنہ صرف مقبوضہ زمین آزاد کروا کر دی۔ بلکہ موضع کنڈان میں بہت سارا چاہی رقبہ بھی عطا کیا ۔
ہر ولی کی کچھ کرامات ہوتی ہیں۔ ان کی کرامت ہے۔کہ ان کی قبر پر پھلاہ کا ایک درخت ہےجس کا ایک لڑ ّ (شاخ) خشک ہے۔ اگر کسی بچےکو سایہ ہو ( سایہ ایک مرض ہوتا ہےجو چھوٹےمعصوم بچوں کو ہوجاتا ہی۔ اس سےوہ سوکھنا شروع ہو جاتےہیں۔ خون کی کمی کی وجہ سےموت سےہمکنار ہو جاتےہیں۔ ) تو دو عورتیں سانس روک کر سات مرتبہ بچےکو اس لڑ کےگرد گھمائیں۔ تو فقیر کی برکت سےسایہ کی یہ خوفناک بیماری جاتی رہتی ہے۔
سلطان مہدی ولی اللہ تھی۔ ان کےمتعلق رویات ہی۔ جب دریائےاٹک پر پل بنانا تھا ۔تو یہ بہت مشکل مسئلہ تھا۔ شیر شاہ سوری نےآپ سےاستدعا کی کہ ہم نےاٹک پر پل تعمیر کرنا ہی۔ لیکن ہم ایسا نہیں کر سکتی۔ تو آپ نےدریائےاٹک کو حکم دیا۔ کہ رک جا اور دریا رک گیا ۔آپ نے شیر شاہ سوری سےکہا۔ کہ پل کی بنیاد قائم کر لو۔جب پل تعمیر ہو گیا تو آپ نے دوبارہ پانی کو چلنےکا حکم دیا ۔اور پانی چل پڑا۔ اس وقت سےدریا کا نام دریائےاٹک پڑ گیا ۔ اٹک مقامی زبان میں رکنےکو کہتےہیں۔ ان کےمزار کےقریب ایک ڈھن ببور (ببول) شریف ہی۔ ڈھن کا پانی پینےسےبفضل خدا مثانہ سےپتھری فوری طور پر خارج ہو جاتی ہی۔ کہتےہیں کہ ایک رات مردےخور جانور مردہ نکالنےکےلئےقبر کو کھود رہا تھا ۔کہ انہوں نےاسےہاتھ مارا۔ اور وہ وہیں مر گیا ۔ جب صبح مجاور قبر پر گئےتو جناب کا ہاتھ قبر سےباہر تھا ۔مجاوروں نےہاتھ کو غسل دیا۔ تو ہاتھ دوبارہ قبر کےاندر چلا گیا۔
یہ ایک حقیقت ہے۔کہ جب قدرت دیتی ہی۔ تو چھپڑ پھاڑ کر دیتی ہے۔ وہ بڑی رحمدل ، فیاض اور مہربان ہی۔ جس کو نوازتی ہےبےانتہا نوازتی ہےاس کی مثال وڑھی میاں عیسال کی دی جا سکتی ہی۔ موضع کھبیکی وادی سون سکیسر میں ایک ولی اللہ حضرت میاں عیسی ہو گزرےہیں۔ کہتےہیں ۔ کھبیکی شہر پہلےپہاڑی پر واقع تھا ۔ انہوں نےایک چاہڑی (زمین کا ٹکڑا) نیا شہر آباد کرنےکےلئےدی تھی۔ جس کو تین بھائیوں ملک اعظم خان، عظمت خان، اور برخوردار خان بن دریا خان نےآباد کیا۔ بنو عیسال میاں عیسی سےمنسوب ہی۔ جو دھدھڑ ، جابہ اور کھبیکی میں آباد ہی۔ اغلب قیاس ہےکہ ان شہروں کی زمین میاں عیسی کی تھی ۔جو انہوں نےدوسرے لوگوں کو آباد ہونےکو دی ہو گی۔ مشہور ہےکہ جامع مسجد کھبیکی کےمغرب میں ایک کچی دیوار تھی۔ جس پر بیٹھ کر اور ہاتھ میں رسی لےکر وہ دیوار کو ایڑ لگاتےتھے۔ جو دوڑتی تھی ۔ گویا آپ اس دیوار سےسواری کا کام لیتےتھی۔ یہ دیوار معروف شاعر اور مفکر اسلام علامہ یوسف جبریل صاحب کےگھر کےپاس تھی۔ کچھ عرصہ پیشتر یہ موجود تھی ۔ لیکن وقت گذرنےکےساتھ ساتھ منہدم ہو چکی ہی۔ اس گوت پر قدرت کی بڑی مہربانیاں اور نوازشات ہیں۔ ایک دفعہ اس گوت کی ایک عورت کےگھر میں چوری ہو گئی۔ چور سازو سا مان اور مویشی لیکر چلےگئی۔ عورت مذکورہ بابا میاں عیسی کی قبر پر دوڑتی گئی ۔اور قبر کی منی کو جھٹکےدینےلگی۔ جن سےمنی ٹیڑھی ہو گئی۔ اور رو رو کر کہنےلگی ©©” بابا تم یہاں آرام کر رہےہو۔ میرا گھر چور لوٹ کر لےگئےہیں“۔ دھدھڑ سےکچھ فاصلہ پر پوچھلی والا قبرستان ہی۔جب چور وہاں پہنچے۔ تو ان کوآگےجانےکےلئےکچھ نظر نہ آتا تھا ۔جدھر جاتےاندھے ہو جاتے۔ مجبوراپیچھےمڑے ۔تو راستہ نظر آنےلگا۔بات سمجھ گئی۔ اور سارا سامان عوت کےگھر پہنچا کر اس کو واپس دےدیدیا ۔
یہ ایک بڑی گوت ہی۔ اور اسےیہ اعزاز حاصل ہےکہ اس میں اولیاءکرام ، حکماءاور نامور افسران ہو گذرےہیں۔ اولیاءکرام میں سےبابا محمد پناہ، جو حضرت میاں عیسی کےپوتےتھی۔ پیدائشی طور پر ولی تھی۔ ان کےمتعلق مشہور ہی۔ کہ ان کی والدہ ماجدہ مویشیوں کےلئےچارہ لینےکےلئےباہر کھیتوں میں گئی۔ تو اپنےننھےبچےکو پنگھوڑےمیں ڈال کر اپنےبیٹے محمدپناہ کو کہہ گئی ۔ کہ اس کو جھولےدےرکھنا ۔ تاکہ یہ سو جائی۔ اور روئےنہیں۔ بابا محمد پناہ اسےجھولےدے دےکرکہنےلگے۔ سو جاو¿ بھائی ۔سو جاو¿ بھائی۔ جب والدہ واپس آئی۔ تو دیکھا کہ بچہ ابدی نیند سو چکا تھا ۔ بابا محمد پناہ سےا ستفسار کرنےپر جواب ملا ۔ کہ ماں آپ نہ کہتی تھیں ۔ کہ اسےجھولےدےرکھنا تاکہ یہ سو جائے۔ پس یہ سو گیا ۔ ان کا مزار آبائی گاو¿ں کےقبرستان مشہور بہ بابا محمد پناہ والا قبرستان میں ہی۔ لوگ یہاں اپنی مرادیں پانےکےلئےچلہ کشی کرتےہیں۔ اس موہنی سےمولوی غلام احمد تھے۔جو بیک وقت ولی، حکیم اور امیر تھی۔ یہ ریاست جموں کےراجہ کےوزیر مال تھی۔ ایک دفعہ راجہ کی لڑکی بیمار ہوگئی۔راجہ نےبہت علاج معالجہ کروایا۔ لیکن لڑکی صحت یاب نہ ہوسکی۔ مولوی صاحب نےراجہ سےکہا کہ لڑکی مجھےدکھاو¿ ۔میں اس کاعلاج کروں گا۔ راجہ نےکہا۔ لڑکی میں نہیں دکھلا سکتا ۔ یہ ہماری غیرت کےخلاف ہی۔ کہنےلگے۔ ایک برتن میں سیاہی ڈال کر اس پر لڑکی کےہاتھ کا پنجہ لگوا کےلےآو¿۔ یہ تو کر سکتےہو۔ راجہ نےکہا ہاں۔یہ کر سکتا ہوں۔ مولوی صاحب نےپنجہ دیکھ کر اس کاعلاج کیا۔ چند دنوں بعد لڑکی مکمل طور پر معمولی نسخہ سے شفا یاب ہو گئی۔ علاوہ ازیں اس وڑھی میں ڈاکٹر محمد اقبال ، شاہد محبوب، فوزیہ محبوب کےنام قابل ذکر ہیں۔مولوی غلام محمد ولی بھی تھی۔ ٤١۔٣١٩١ ءکی جنگ عظیم میں لڑائی کی خبریں دیا کرتےتھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ وہ چھپر کےنیچےبیٹھےتھی۔ آپ نےاپنےپاس بیٹھےہوئےآدمیوں سےکہا ۔ کہ میرا سامان اور چارپائی فوراچھپر سےباہر نکال دو۔ جب لوگوں نےحکم کی تعمیل کر لی۔ تو چھپر دھڑام سے نیچےگر گیا ۔ وہ اعلیٰ درجہ کےکاتب بھی تھی۔ پیر مہر علی شاہ نےکتابت ان سےسیکھی ۔ جس کی وجہ سےپیر صاحب ان کو ضعیف العمری میں وظیفہ دیتےرہی۔ ان کےمتعلق درویش دوست محمد سےایک اور روایت منقول ہی۔ کہ ایک دن میں ان کےپاس گیا۔ انہوں نےمجھ سےکہا۔ کہ چائےبناو¿۔ میں نےچائےبنانا شروع کی ۔ میں نےچینی کی بجائےمصری کےبارےمیں پوچھا۔اس زمانےمیں چینی کی بجائےمصری استعمال کی جاتی تھی۔ تو فرمانےلگی۔ صندوق میں پڑی ہی۔ لیکن جب صندوق کھولاتو مصری وہاں موجود نہ تھی ۔میں نے مولوی صاحب کو بتایا ۔ تو کہنےلگی۔ دوست محمد ذر ااچھی طرح سےدیکھو ۔ تو دیکھا ۔تو ایک ڈل مصری کی اس میں موجود تھی۔
انگریز نےکھدھر وادی سون سکیسر (جنگلات وادی سون سکیسر ) سےتیل نکالنےکا بندوبست کیا ۔ لوگوں نےکہا۔ کہ مولوی صاحب سےدعا کراو¿ ۔وہ دعا کریں گےتو تیل نکل آئےگا۔ برماشیل کےافسران شہر آئے۔انہوں نےمولوی صاحب کو ساتھ لیا۔ اور وہاں جا کر دعا کروائی ۔ تھارٹی بنگلہ انگریز نےکمپنی کےملازمین کی رہائش کےلئےبنوایا تھا ۔یہ بنگلہ انہوں نےمولوی صاحب کو رہنےکےلئےد یدیا ۔ جب تیل نکل آیا۔ تو انگریز نےمولوی صاحب کو بنگلہ چھوڑنےکےلئےکہا ۔اس پر مولوی صاحب غضب ناک ہو کر بولی۔ کہ بنگلہ تم چھوڑو گےمیں نہ چھوڑوں گا۔ تیل میں نےسمندر میں دھکیل دیا ہے۔نتیجتہ تیل نکلنا بند ہو گیا۔ اور انگریز بنگلہ چھوڑ کر چلےگئے۔یہ اپنےگاو¿ں میں آسودہ خاک ہیں۔ اس وڑھی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہےکہ اس نےبڑےبڑے نامورفوجی افسران پیدا کئےہیں۔ جن میں کرنل عطارسول، کرنل محبوب عالم، کرنل ملک محمد اشفاق ، میجر ظفر سعید، کرنل ملک نذیر عالم، میجر ملک عطا محمد ، میجر ملک محمد الطاف ، کےنام جنہوں نےایک عرصہ تک فوج میں خدمات انجام دیں اور بڑا نام پایا۔ اس مونہی میں غلام حبیب ہو گذرےہیں ۔بڑےنیک اور پرھیزگار تھے۔ بےشمار لوگ ان کےعقیدت مند تھے۔ آنےوالوں کو دعا دیا کرتےتھے۔ جوبارگاہ الہیٰ میں قبول ہو جاتی تھی ۔وہ دنیاداری سےمکمل طور پر بےنیاز تھے۔ ایک اور شخصیت میاں گل محمد، زاہد، متقی، او ر پرہیزگار تھے۔بڑےحسن اخلاق کےمالک تھے۔ وہ نامور عالم دین بھی تھے۔دور دور تک ان کا چرچا تھا ۔ انہوں نےایک دینی درس قائم کر رکھا تھا ۔ جس سےبہتوں نےقران حکیم حفظ کیا۔ ڈھیروں نےیہاں سےعلوم دین سیکھی۔ مشہور ہےکہ ان کی شخصیت اس قدر مسحور کن تھی ۔کہ جس نےان کو دیکھا ۔ وہ ان کا شیدائی ہو کر رہ گیا ۔ ہمہ وقت ان کےہاں اہل علم لوگوں کی مجلس لگی رہتی تھی ۔ کوئی اگر شرعی مسئلہ پوچھتا تو شیریں بیان سےمسئلہ کو کھول کر بتاتے۔اور پوچھنےوالا مطمئن ہو جاتا ۔ دینی فریفتگی کا یہ عالم تھا ۔کہ ساری عمردین کی خدمت میںوقف کر دی۔ اسی گوت میں ملک علی محمد ہو گذرےہیں۔ مدبر اور دور اندیش صاحب فہم و فراست اور رعب دبدبہ والےانسان تھے۔ یہ کئی اوصاف کےحامل تھی۔ سانپ کےڈسےکودم درود کرتےتھے۔ ایک دفعہ ایک گائےپاگل ہو گئی ۔ ڈرکےمارےگائےکےمالک نےگائےکو ایک مکان کےاندر بند کر دیا ۔ مالک نےآ کر ان سےماجرا بیان کیا۔تو یہ اس کےساتھ ہو لئے۔اور مکان کادروازہ کھلوایا۔ اور اندر جا کر گائےکو گلےلگا لیا ۔اس کےبعدانہوں نے مالک کو کہا۔ کہ اب دودھ دوھ لو ۔ایک اور چیزجو مذکور کوبلند مقام پر فائز کرتی ہے۔یہ ہےکہ کہ گاو¿ں کےپہلےشخص ہیں۔ جنہوں نےاپنی اولاد کو زیور تعلیم سےآراستہ کیا ۔ اور لوگوں کی اس میدان میں رہنمائی کی ۔ قدرت خدا کی ان کےسب بیٹےاعلیٰ اعلیٰ عہدوں پر فائر ہوئی۔ لوگوں نےبعد میں ان کی تقلید کی ۔ان کی گفتگو کا انداز یہ تھا ۔ کہ لوگ ان کی گفتار اور صحبت سےحوصلہ پاتےتھے ۔اسی ممتاز ہستی نےاس دار فانی سے٦٦٩١ ءمیں رحلت فرمائی ۔ انا لللہ و انا الیہ راجعون۔ مذکورہ ہستی کےفرزند ارجمند ملک بشیر عالم ایک سماجی کارکن ہیں۔ وہ فلاحی کاموں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتےہیں۔ حال ہی میں انہوں نےقاضیوں والی مسجد از سر نو تعمیر کروائی ہے۔ اس لحاظ سےیہ وڑھی (گوت) رفاعی کاموں میں کسی سےپیچھےنہیں۔ موصوف حکیم بھی ہیں۔ ٧٤٩١ ءمیں طیبہ کالج دہلی سےفارغ التحصیل ہوئی۔وہ مدرس بھی رہے۔اور بہت قابل مدرس رہی۔ علاقہ کےبےشمار بچوں نےان سےتعلیم حاصل کی۔ان کےبیٹےملک صفدرصاحب فلاحی کاموں میں بےحد دلچسپی لیتےہیں۔ اور ملک امجد صاحب ادارہ تحقیق الاعوان سےوابستہ ہیں۔ ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان کےجنرل سیکرٹری جناب شوکت محمود اعوان بھی جناب ملک بشیر عالم صاحب کےہونہار شاگردوں میں شامل تھی۔
وادی سون سکیسر کو قدرت نےخوبصورتی اوربےشمار رعنا ئیوں سےنوازا ہی۔ اس کی سرسبز پہاڑیوں، ندی نالوں، آبشاروں، اور باغات کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہی۔ اور دیکھنےوالا ان نظاروں میں گم ہو کر رہ جاتا ہی۔ اس کی تین جھیلیں اوچھالی، کھبیکی، جاہلر، او رسرسبز و شاداب پہاڑیاں قابل دید نی ہیں۔ صحت افزا مقامات میں موضع انگہ میں ایک قلندر اسم گرامی شاہ شرف ہو گذرےہیں ۔ ان کےچار صاحب زادےپیر شہابل شاہ، پیر گلاب شاہ، پیر ولایت شاہ اور پیر محبوب عالم گیلانی اپنےاپنےوقت کےقلندر تھے۔ روحانیت میں ان کا اپنا اپنا منفرد مقام تھا ۔ ان کےمنہ سےنکلی ہوئی ہر بات پوری ہوتی تھی۔ میں یہاں پیر محبوب عالم گیلانی کا تذکرہ کروں گا۔ کیوں کہ میرا تعلق موضع کھبیکی سےہے۔ اور وہ وہیں رہائش پذیر تھے۔ ان کی کرامات جوزبان زد خلائق ہیں۔ بیان کرتا ہوں۔ جو قارعین کےلئےدلچسپی کا باعث ہو ںگی۔ سنا ہے۔ کہ شہر میں ایک دفعہ وبا پھوٹ پڑی ۔ اور دھڑا دھڑ اموات ہونےلگیں ۔ لوگوں نےان سےدعا کےلئےکہا۔ انہوں نےشہر کےگردا گرد کڑا دیا۔ اسی دن کےبعد و با ختم ہو گئی ۔ ایک اور کرامت ان کی یہ ہے۔ کہ جب کبھی کسی کو سانپ ڈس لیتا ۔ تو رشتہ دار اس کو ان کےپاس د م درود کےلئےلاتےتھے۔ آپ فرماتےتھی۔ کہ اسکو سانپ نےنہیں بلکہ ڈڈ ( مینڈک ) نےکاٹا ہے۔ وہ ہر بیماری کا دم درود کرتےتھی۔ اور وہ آدمی فوراََ خدا کےفضل و کرم سےٹھیک ہو جاتا تھا ۔ موضع کھبیکی کےمشرق میں زمین کا بہت سارا رقبہ موسوم بہ مشرقی کہار ہی۔ جو پہاڑوں سےگھرا ہوا ہے۔ بارش کا پانی ندی نالوں سےگزرکر اس میں جا پڑتا ہی۔ اوریہ ڈوب جاتا ہے۔ اور اس کی جھیل بن جاتی ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہی۔ کہ لوگ پیر صاحب کےپاس بیٹھےہوئےتھے۔ ایک مجمع لگا ہوا تھا ۔ اور مشرقی کہار کےڈوب جانےکی باتیں ہو رہی تھیں۔ سوئےاتفاق سےایک میراثن کا بھی سامنےسےگزر ہوا۔ اور کہار کی بات سن کر اس نےیوں بدعا کی۔
اگےچھج تےپیچھےٹنڈانا ۔کہارےنت بڈا رہنا ۔سن گھن کسانا
اس پر پیر صاحب نےغضبناک ہو کر فرمایا:۔
اگےچھج تےپیچھےٹنڈانا
سخی دا آیا اےپروانا
کہارےنت نہیں بڈا رہنا
سن گھن کسانا
اس دعا کےبعد شائید کہار(جھیل) شاذ و نادر ہی ڈوبا ہو ۔ قلندر صاحب اپنے دوست و احباب سےاکثر فرمایا کرتےتھے۔ کہ میری رحلت پہلےروزہ کو ہو گی ۔ پہلاروزہ تھا ۔ لوگ مجلس میں بیٹھےہوئےتھے۔ ان میں سےچند آدمی بوقت افطاری اٹھ کھڑےہوئے۔ قلند ر صاحب فرمانےلگے۔ بیٹھو ! مت جاو¿۔ کہ روزہ کھولنےکا وقت قریب ہے ۔ پیر صاحب نےکہا ۔ اوہو۔ آج تو میرا خالق حقیقی کےپاس جانےکا دن ہے۔ اسی اثنا ءمیں پیر صاحب پر غشی طاری ہو ئی۔ اور وہ دار فانی سےکوچ کرگئی۔ یہ ٥٢٩١ ءکا واقعہ ہی۔ انکےپوتےپیر بہاولشیر گیلانی اپنےدادا کےنقش قدم پر رواں دواں ہیں۔ کوئی وبا ہو ۔ خواہ اس کاتعلق انسانوں یا حیوانوں سےہو۔ وہ شہر کےگرد کڑا دیتےہیں۔ اور پھر وہ دو پول گاڑ کر ان کو ایک رسی سےباندھ دیتےہیں۔ جس کےنیچےسےحیوان اور انسان گذرتےہیں۔ پیر صاحب دم درود کرتےہیں اور اللہ کی مدد سےعوام اس وبا سےنجات پا جاتےہیں۔

ملک محمد شیر موضع کھبیکی وادی سون سکیسر خوشاب

 


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 80
    مفتی محمد عبدالشکوراعوان تحریر شوکت محمود اعوان مفتی محمد عبدالشکور اعوان( راولپنڈی) کےآباو¿ اجداد جبی شریف سےتعلق رکھتےہیں۔ ان کےبزرگ حافظ فتح محمد ایک ولی اللہ شخصیت ہو گزرےہیں۔ وہ جبی گاو¿ں سےاٹھ کر دامان ضلع ڈیرہ اسمعیل خان میں منتقل ہو گئی۔ وہاں ان کی اولاد موجود ہی۔ حافظ…
  • 77
    وادی سون کا قدرتی ماحول تحریر شوکت محمود اعوان وادی سون کا ماحول ایک قدرتی ماحول ہی۔ جہاں جنگل، پربت وادیاں، ندیاں، نالی، جھیلیں، درختوں کےجھنڈ، آبشاریں، لہلہاتی فصلیں، جنگلی جانور، جنگلی بوٹیاں موجود ہیں۔ یہاں پر جنگلی حیات بھی موجود ہےجو کہ قدرت کی صناعی کےحسین ترین مظاہر میں…
  • 75
    حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان 1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور…
  • 75
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…
  • 74
    مسیحائےوقت“ کےبارےمیں صدائےزمان لاہور کےکالم تحریر : محمد عارف رائےمحمد اشرف صاحب کےروزنامہ ” صدائےزمان“ لاہور میں ” مسیحائےوقت“ کےنام سےجناب عنایت اللہ صاحب کا ایک کالم نظر سےگذرا۔ جناب عنایت اللہ صاحب محب وطن پاکستانی اور قومی نقطہءنظر کےحامل دانشور ہیں۔ جناب عنایت اللہ صاحب کی علمی تصنیف ”…
  • 73
    ماہنامہ ”شعوب “ میری نظر میں تحریر شوکت محمود اعوان مجھےماہنامہ شعوب کراچی پر قلم اٹھاتےہوئےطمانیت کا احساس ہو رہا ہی۔ میری نگاہوں کےسامنےوہ سارا زمانہ آ گیا جب میں اور ملک محبت حسین اعوان نےاعوان قبیلےکی تاریخ مرتب کرنےکا بیڑہ اٹھایا۔ مجھےوہ وقت کبھی بھی نہیں بھول سکتا کہ…
  • 71
    ”کن فیکون“ پر خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کا تبصرہ ”کن فیکون“ نامی کتاب تحریر محمد عارف میں ملک شوکت محموداعوان نےمندرجہ مضمون میں اپنےوالد محترم کی شخصیت کےمختلف پہلو اجاگر کئےہیں۔ بہر حال شوکت محمود اعوان کو یہ اعزاز حاصل ہےکہ انہوں نےاپنےوقت کےعظیم دانش ور کی خدمت کا…
  • 70
    وادی سون کی پراسرار روحانی شخصیات تحریر: شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسر کا چپہ چپہ اولیائےکرام اور روحانی شخصیات کےنور سےچمک رہا ہی۔ وادی کےایک کونےسےلےکردوسرےکونےتک یہ روحانی شخصیات مختلف ادوار میں اپنی اپنی روحانی ذمہ داریاں اور فرائض سرانجام دےکراب نہایت پرسکون انداز سےانسانی نسلوں کےلئےایک روشن دلیل…
  • 70
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 69
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 69
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 69
    قران حکیم کی ایک عظیم پیشین گوئی ایٹم بم تحریر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد افضل حضرت مسیح موعود کا ایک شعر ہی یا الہیٰ تیرا فرقان ہےکہ اک عالم ہی جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا یہ شعر قرآن حکیم کی جامع تفسیر ہی۔ دنیا کی ہر…
  • 68
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…
  • 68
    علامہ محمد یوسف جبریل ،وادی سون اور انگریز کی نوکری تحریر : شوکت محمود اعوان جب تک انگریز دنیا کی سپر پاور بن کر دنیا پر حکمرانی کرتےرہی۔ تو ان کی مقبوضات میں شامل ہندوستان کا ایک کوہستانی علاقہ بھی ان کی فوج کےلئےایندھن کا کام دیتا رہا۔ یہ پنجاب…
  • 67
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 67
    ”حالِ فقیر“ (محمد عارف ٹیکسلا) گروپ کیپٹن(ر) شہزاد منیر سےٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔ تو وہ مجھےپہلےسےہی جانتےتھی۔ میں نےانہیں اپنی اس خواہش سےآگاہ کیا کہ میں ڈاکٹر تصدق حسین کےبارےمیں کچھ خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہیں ”حالِ فقیر “میں شامل کر لیا جائےتو میرےلئےسعادت کی بات ہو…
  • 66
    مجرم عدلیہ کا کیس عوام الناس کی عدالت میں تحریر : رضوان یوسف اعوان بادشاہی کفر میں قائم رہ سکتی ہےمگر ظلم اور ناانصافی میں نہیں۔ جن قوموں میں عدل و انصاف ناپید ہو جاتا ہےتباہی و بربادی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہی۔ عدل و انصاف قائم کرنا…
  • 64
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 63
    وادی سون سکیسر کی ایک عظیم ادبی شخصیت ۔ ملک خدابخش مسافر تحریر : ملک شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسرنےبےشمار ادیب، شاعر، عالم، فاضل، مفسر، مقرر، دیندار،سائنس دان، فلسفی، ولی اللہ،مجاہد،فوجی افسر اور فوجی جوان، ٹیچر، زاہد، عابد اور علمائےکرام کو جنم دیا ہی، ان میں ہم جس شخصیت…
  • 62
    بابا جی عنایت اللہ اور جمہوری نظام مملکت تحریر : پروفیسرمحمد عارف بابا جی عنایت اللہ اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ بابا جی نےاپنی نثری تالیفات میں صبح جمہوریت کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہی۔ وہ فرنگی سیاست کی چالبازیوں، دو قومی نظریئےاور تشکیل پاکستان جسےموضوعات پر خامہ…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Copied!