وادی سون کی پراسرار روحانی شخصیات تحریر شوکت محمود اعوان

وادی سون کی پراسرار روحانی شخصیات
تحریر: شوکت محمود اعوان
وادی سون سکیسر کا چپہ چپہ اولیائےکرام اور روحانی شخصیات کےنور سےچمک رہا ہی۔ وادی کےایک کونےسےلےکردوسرےکونےتک یہ روحانی شخصیات مختلف ادوار میں اپنی اپنی روحانی ذمہ داریاں اور فرائض سرانجام دےکراب نہایت پرسکون انداز سےانسانی نسلوں کےلئےایک روشن دلیل بنےہوئےہیں۔ تقریباََ بائیس یا کم و بیش گاو¿ں پر مشتمل یہ وادی مادہ پرستی، کےبےہنگم دو ر سےدور بلکہ کوسوں دور، روحانی ارتقاءکی کڑیاں جوڑتی رہی ہی۔ محمود غزنوی کےساتھ آئےہوئےمجاہدین نےاسلامی عظمت کی جو بنیاد رکھی تھی وہ اگرچہ تاریخ کا ایک نمایاں باب ہےتاہم اس کےبعد بھی بےشمار شخصیات نےاس خطےمیں جنم لیا اور انسانیت کو روحانیت کےاعلیٰ معیار سےہمکنار کیا۔ یہ لوگ دن کو اپنی کھیتی باڑی میں مصروف رہتےتھےاور رات کا اکثر حصہ یاد الہیٰ میں مصروف رہتا تھا۔ یہ علاقہ روحانی عظمتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ اس کی واضح نشانی یہ ہےکہ اس علاقہ میں چار سلطان العارفین آج بھی تاریک دلوں کو روحانی روشنی،رشد و ہدایت سےہمکنار کر ہےہیں اور طالب ان سےبہت کچھ حاصل کر تےہیں ۔ تاہم طلب کی حقیقی کروٹ انسان کےدل میں ضروری موجزن ہونی چاہیئی۔ محققین نےانہیں روحانی شخصیات کےبارےمیں کچھ تاریخ مرتب کی ہی۔ جن کےبارےمیں انہیں معلوامات میسر آ سکیں تاہم بےشمار اولیائےکرام اب بھی وادی سون میں آج بھی مدفون ہیں جن کےبارےمیں اتنا معلوم ہےکہ وہ اپنےدور کی عظیم روحانی شخصیات تھیں۔ واقعات، حالات اور تاریخی مدارج کےبارے میں قطعی طور پر ان کےبارےمیں معلومات مہیا نہیں ہوئیں۔ کچھ روایات سینہ بہ سینہ ہم تک منتقل ہو ئی ہیں۔ تاہم یہ بہت بڑا المیہ ہےکہ ان شخصیات کی روحانی عظمت و سطوت کےبارےمیں ہمیں بہت کم معلوم ہی۔ حتیٰ کہ ان کےنام تک سےہم ناواقف ہیں۔ صرف ان کی روحانی عظمت مقام، اور جگہ کےاور معروفی نام کےحوالےسےپہچانی جاتی ہی۔اور ان کےاصلی نام کی جگہ ان کےروحانی القاب ہمیں ان سےشناسائی کی دعوت دیتےہیں۔ میں نےخود ان بزرگوں کی قبروں پر حاضری دی ہےاور جتنےلمحات بھی وہاں گزارےہیں۔ عجیب روحانی کیفیت سےدوچار رہا ہوں۔ میرےدل میں ان کی روحانی عظمت بڑھتی رہی ہی۔ واقعی وہ عظیم لوگ تھےجنہوں نےزندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالی ٰکی یاد میں گذارا ہی۔ میرےبچپن کا ایک واقعہ مجھےاب بھی یاد ہے۔ میں اور میرا بھائی طاہر محمود اپنےگھر موضع کھبکی میں کھیل رہےتھی۔ کھیلتےکھیلےایک چھوٹا سا پتھر بھائی کےدائیں فوطےپر لگ گیا۔ جس کی وجہ سےاس کےفوطےمیں زخم آ گیا۔ جس کی وجہ سےاسےشدید درد شروع ہو گیا ۔جس کی وجہ سےہمارےماں باپ کافی پریشان رہتےتھی۔ ایک روز میرےوالد محترم میرےبھائی کو لاہور کےکسی قابل ڈاکٹر کےپاس لےگئی، جس نےمعائنہ کرنےکےبعد آپریشن لکھ دیا اور کہا کہ سوائےآپریشن کےاس مرض کا کوئی علاج نہیں۔ ناچار والد محترم اس کو واپس گاو¿ں لےآئےکیوں کہ والدہ محترمہ اپریشن نہیں کروانا چاہتی تھیں۔ انہوں نےکہا کہ اوپریشن کی ضرورت نہیں، اسےبابا سخی محمد خوشحال بابا کی قبر مبارک پر تین جمعرات کےلئےلےجاتےہیں سلام کرواتےہیں ۔اور انشاءاللہ یہ ٹھیک ہو جائےگا۔ پھر ہم نےتین جمعرات تک مسلسل حضرت سخی محمد خوشحال کےروضہ مبارک گاو¿ں دھدھڑ وادی سون سکیسر پر حاضری دی۔ اور پھر خدا کےفضل و کرم سےیہ تکلیف رفع ہو گئی اور آج تک کبھی بھی چھوٹےبھائی کو یہ عارضہ لاحق نہیں ہوا۔ حضرت سخی محمد خوشحال وادی سون سکیسر کی عظیم روحانی شخصیت ہیں۔ ہم صبح سویرےجب کہ ابھی اذانیں بھی نہیں ہوتی تھیں اور لوگ پر سکون نیند میں ہوتے،میں اور میرا چھوٹا بھائی حضرت سخی محمد خوشحال کےآستانہ عالیہ کی طرف روانہ ہو جاتے۔ میں ان دنوں شائد ساتویں جماعت میں کھبیکی کےسکول میں پڑھتا تھا۔اور نو عمر تھا۔ رات کےگھپ اندھیرےمیں جب ہم کھبکی گاو¿ں سےنکل کے گاو¿ں کی جھیل کےساتھ ملحقہ قبرستان سےگذرتےتو ہمارا دل دہل جاتا۔ رات کی تاریکی کےساتھ ساتھ قبرستان کی فطرتی پر اسرار خاموشی ہمارےننھےمنھےذہنوں پر کافی اثر انداز ہوتی البتہ ڈرتےڈرتےہم اس قبرستان سےگذر جاتی۔ تاہم پیچھےپیچھےضرور دیکھتےجاتے اور عجیب خوف سا ذہنون پر مسلط رہتا۔ ہم صبح سویرےاس لئےنکل جاتےکہ ہمارےگاو¿ں کھبیکی سےموضع دھدھڑتقریباََ تین میل کےفاصلےپر ہےاور آنےجانےمیں کافی وقت کی ضرورت تھی اور پھر ہمیں سکول بھی جانا ہوتا تھا۔ راستےمیں ہم جس قبرستان (قہوےوالا قبرستان) سےگذرتے۔ یہ قبرستان قہوےوالا قبرستان کہلاتا ہےاور بہت قدیمی قبرستان ہے۔اس میں معروف شخصیات مدفون ہیں۔بابا خود ایک جری اور سخت مزاج کا مالک ہونےکےحوالےسےپہچانا جاتاہےاور کئی واقعات ایسےرونما ہوئےجن کی وجہ سےیہ شواہد صحیح ثابت ہوئےکہ حضرت قہوےوالا فقیر سخت مزاج بزرگ ہیں اور کوئی شخص قبرستان کی بےحرمتی کرےتو اسےسخت سزا بھگتنا پڑتی ہے۔کوئی شخص رات کےوقت اس قبرستان سےگذرنےکی جسارت نہیں کر سکتا تھا۔ بھلا ہم دو بچےکہاں اتنی جرات کر سکیں تاہم یہ مجبوری تھی اور اس کےعلاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا۔ جہاں سےہم گذر جاتےکیوں کہ دور دور تک پانی کی ایک جھیل پھیلی ہوئی تھی اور یہ جھیل اب اس قبرستان کےقریب پہنچ چکی ہی۔ ہم نےایک رات عجیب تماشہ دیکھا ۔ میں آگےآگےاور میرا بھائی طاہر پیچھےپیچھے، خوف زدہ حالت میں جا رہےتھےجب ہم قبرستان کےقریب پہنچےتو حضرت قہوےوالےبزرگ کی قبر سی” اللہ ہو،ہو اللہ“ کی پراسرار آواز ا رہی تھی۔ یہ آواز اس قدر مافوق الفطرت اور پرسرار تھی کہ ہمارےدل دہل گئی۔ یہ آواز تھوڑےتھوڑےعرصےکےبعد سنائی دیتی تھی جیسا کہ کوئی شخص وقفےوقفےسےذکر کر رہا ہو لیکن اس میں مافوق الفطرت پہلو زیادہ واضح تھا۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پوری وادی سون کیا پوری کائنات اس لفظ ”ہو’‘ کی بازگشت دےرہی ہی۔ رات کاعالم، تاریکی، خوف اور پرسرار آواز ” ھو“ کی آواز آج بھی میرےکانوں میں سنائی دےرہی ہےاور جب بھی میں بابا جی قہوےوالےقبرستان سےگذرتا ہوں تو مجھےبچپن کا یہ واقعہ یا ا جاتا ہی۔ اور میں بےاختیار بابا جی کےقدموں میں سلام کےلئےچلا جاتا ہوں۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 72
    حطمہ کی اہمیت پر نقاط تحریر شوکت محمود اعوان 1962 ءمیں علامہ محمد یوسف جبریل کو قرآن حکیم میں حطمہ( ایٹمی سائنس اور قران حکیم )کےبارےمیں انکشاف ہوا ۔ حطمہ کےبارےمیں آقا نبی کریم اور صحابہ کرام کےارشادات موجود ہیں۔ بعد میں مفسرین کرام نےاس پر خصوصی تحقیق کی اور…
  • 72
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 71
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply