وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر محمد عار ف

وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر
تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا)
طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“ بک کارنر جہلم نےشائع کیا ہےجس میں اس کا شفاف لب و لہجہ ، نکھری ہوئی زبان اور دوسروں سےمختلف اندازِ بیان قاری کےلئےباعثِ حیرت و استعجاب ہی۔ نورالحسن ہاشمی کا خیال ہےکہ ” شاعری اگر بقولِ جانسن مترنم خیالات کا اظہار ہےتو غزل سےبہتر کوئی ہیئت اس شعری جذبہ کےاظہار کی نہیں۔ کسی زبان میں غزل سےبہتر ایجاد نہیں ہوئی اور ممکن بھی نہ تھی، کیوں کہ قوافی کی کثرت جتنی ہماری زبان میں ہےکسی دوسری زبان میں نہیں۔ مصروں میں بحر کی یکسانی، قافیوں کی تکرار، آخر میں ردیف کی وجہ سےصوتی ہم آہنگی یہ سب مل کر غزل کی ساخت میں خود ہی تال و سر ، نغمہءو صوت کی خوش آئند لےپیدا کر دیتےہیں۔ ایسی شعر نوازی پھر کسی موسیقی کےسازگار گویئےکی راگ کی محتاج نہیں رہ جاتی۔دنیا کی کسی زبان کی شاعرانہ لےکو لیجئےتقریباََ سب کسی نہ کسی راگ کےسہارےچلتی نظر آئیں گی۔ لیکن ہماری غزل اپنی ساخت کےاعتبار سےخود ہی ایسی چیز ہےجو آدمی کو مترنم بنانی، گانےیا گنگنانےپر مجبور کر دیتی ہی۔ محض اس کا پڑھ لینا ہی نغمہ نوازی کو مائل کر دینےکےلئےکافی ہی۔ یہ غزل کی بہت بڑی خوبی اور بڑی خصوصیت ہی“۔
غزل کی ہیئت کی اس بحث سےیہ واضح ہوتا ہےکہ غزل کی ہیئت بھی اپنےچند امتیازی اوصاف کےسبب مقبول و محبوب رہی ہی۔ نوجوان غزل گو وقاص شریف کےشعری مجموعے” سازِ دل“ میں بھی ایک خاص لی، سر، تال اورآہنگ سےمزین غزل ملتی ہی۔ آہنگ لفظ میں شامل حروف یا جملےمیں شامل الفاظ کےباہم ٹکراو¿ سےپیداہونےوالی آواز کو کہتےہیں۔ آہنگ اور آواز میں فرق یہ ہےکہ آواز مجرد ہوتی ہے، جیسےا، ب ، پ، ج، د ، وغیرہ ،(حروف تہجی کی آوازیں) جب کہ آہنگ آوازوں کےآپس میں ملنےسےمجموعی طور پر پیدا ہونےوالی آوازوں کا اتار چڑھاو¿ ہی۔ جملےیا شعر میں الفاظ کےاتار چڑھاو¿ کی جامع کیفیت آہنگ کہلاتی ہی۔ آہنگ شاعری اور موسیقی کی بنیاد ہی۔ جس کےبغیر دونوں فن نامکمل ہیں۔
وقاص شریف کی شاعری میں مسلسل سوچنے، جانچنے، اور پرکھنےکا عمل ملتا ہی۔ وہ نہ صرف اپنی شاعری میں نفسی و عصبی پیچیدگیوں کو سموتا چلا جاتاہےبلکہ اپنےغیر معمولی افکار و تخیلات کےپسِ پردہ محرکات کو بھی سامنےلانےسےہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ وہ عشق و رومان کی دلکش فضائ، فلسفہ و دانش کےپیچیدہ و ادق سوالات اور حالات ِ حاضرہ کےگمبھیر مسائل کی بجائےانسانی باطن میں ابھرنےوالےفکری سوالات کو موضوعِ سخن بناتا ہی۔ وقاص شریف کی شاعری کشمکشِ حیات اور رازِ درون ِ ذات کی شاعری ہی، وہ کبھی خود کا متلاشی نظر آتاہےاور کبھی عظمتِ انسان کےبھیدوں کو پانےکےلئےمحوِ سفر دکھائی دیتا ہے۔وقاص شریف علم و آگہی اور شعور کی منزلوں سےگزر کر تلاشِ حقیقت کےلئےسرگرداں شخص ہی، اسےذہنی الجھنوں کی منطقی ترتیب کا شاعر قرار دیا جا سکتا ہی۔ اسےاپنےفکر و تخیل کی مدد سےشعورِ ذات حاصل کرنا ہےتاکہ کائنات میں اپنےفرائض کی ادائیگی کےوسیع تر عمل کو درست انداز میں انجام دےسکی۔ وقاص شریف انسانی فکر کو بےپناہ اہمیت دیتا ہی، وہ یہ امر بخوبی سمجھتا ہےکہ جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سےنمود ہوتی ہی۔ وقاص شریف کا زندگی کےمسائل کےحل کےلئےعلمی رویہ زمان و مکان کےدائرہ در دائرہ سفر کو طےکرنےکےلئےضروری ہے۔مولانا الطاف حسین حالی” مقدمہ شعرو شاعری“ میں رقم طراز ہیں کہ ” تخیل ایک ایسی ذہنی قوت ہےجو معلومات کا ذخیرہ ، تجربے یا مشاہدےکےذریعےسےپہلےسےمہیا ہوتا ہی، یہ اسی کو مکررترتیب دےکر نئی صورت بخشتی ہی۔“۔
وقاص شریف بھی قوت ِ متخیلہ کو بروئےکار لاتےہوئےحسن و عشق کےروائتی مضامین کی بجائےشعرِ تر کےذریعےبنی نوع انسان کو وقت کےسمندر میں ڈوب جانےاور عرفان و آگہی کا سراغ لانےکا پتہ دیتا ہی۔ وقاص شریف صدیوں اور زمانوں کےبھید پانےکےلئےبےقرار ہےاور اسےرازِ حیات کی مسلسل تلاش مضطرب رکھتی ہی۔
وقاص شریف انسانی زندگی کےاسرار و رموز کی تلاش میں ازل سےسرگرداں ہی۔ وہ گناہ و ثواب سےپہلو تہی کرکےاپنےلئےایسا انوکھا راستہ منتخب کرنا چاہتا ہےجہاں اسےکوئی روکنےٹوکنےوالا نہ ہو۔ وہ ایسا آزاد فطرت مسافر ہےکہ جسےمعاشرےکی بےجا پابندیاں ، سماج کی کہنہ روایات اور بےرحم قانون و ضوابط پسند نہیں ہیں۔ وہ اپنےاسلوبِ حیات میں زندہ رہنےکا عادی ہی۔ وہ ایک جینئس اور انٹیلیکچوئل شاعر ہی۔ وہ جہاں ایک عام انسان کی حیثیت سےمعاشرےکی طرف سےملنےوالی تکلیفوں ، رنجشوں اور زمانےکی بےوفائیوں کو بھی موضوع بناتا ہی۔ وہاں وہ ایک فلسفیاتی سوچ کا اظہار بھی کرتا ہی۔ جس کےذریعےوہ انسان ، خدا اور کائنات کےسربستہ رازوں سےپردہ اٹھاتا ہی۔
فکر تشکیل دیتی ہےجنت فکر ہی سےعذاب بنتا ہی
وہ مجھےدیکھ کر میں اسےدیکھ کر ہر گھڑی شادماں کش مکش او ر میں
فراق گورکھپوری نےکہا ہےکہ : ” غزل انتہاو¿ں کا ایک سلسلہ ہی۔ (A series of climates) یعنی حیات و کائنات کےوہ مرکزی حقائق جوانسانی زندگی کوزیادہ سےزیادہ متاثر کرتےہیں ۔ تاثرات کی انہی انتہاو¿ں یا منتہاو¿ں کا مترنم خیالات و محسوسات بن جانا اور مناسب ترین یا موزوں ترین الفاظ واندازِ بیان میں ان کا صورت پکڑ لینا اس کا نام غزل ہی“۔
تغزل کی تعریف کرتےہوئےمولانا شبلی نعمانی رقم طراز ہیں کہ ” تغزل سےمراد ہےعشق و عاشقی کےجذبات موثر الفاظ میں ادا کئےجائیں“۔
وقاص شریف جذبوں کی زبان کو بھی سمجھتا ہے، اس کی غزلوں میں سےہمیں چند ایسےاشعار بھی ملےہیں جو خالصتاََ محبت کےحوالےسےاہمیت کےحامل ہیں۔ یہ امر بھی بدیہی حقیقت ہےکہ اس کےہاں مجموعی طور پر یہ موضوع کم ہی ملتا ہی۔ مگر یہ نکتہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیئےکہ اگر وہ انسانی جذبوں میں سےاس خوبصورت احساس پر مزید قلم اٹھائےتو ہمیں اس سےبےشمار توقعات وابستہ ہیں ۔ محبت کےموضوع پر اس کےصرف چند اشعار ہی سےاس کی جولائی ءفکر کا بھر پور اندازہ ہوتا ہی۔
سارےالفاظ جان دیتےہیں ایک ذکرِ جناب بنتا ہی
ہو سکےتو یہ آزما لینا ایک جذبہ کتاب بنتا ہی
وقاص شریف اپنےبطون میں چھپےہوئےجہانوں کو تلاش کرنےکےلئےبےقرار ہےاور فکرِ نورستہ سےاپنےلئےامکانات کےدر وا کرتا ہی۔ وہ انسان کو نائب اللہ فی الارض سمجھتا ہےاور اس کی حقیقتوں کو پانےکےلئےسرگرم ِسفر ہی۔ وقاص شریف کی شاعری پر نظرِ عمیق ڈالنےسےپتہ چلتا ہےکہ وہ فکرِ اقبال سےبےپناہ متاثر ہی۔ وہ نہ صرف عام انسانی زندگی بلکہ فکر وفن میں بھی علامہ اقبال سےمسلسل راہنمائی لیتا نظر آتا ہی۔
ہمیں تو کام آنا ہےکسی کی تجھےواعظ عبادت ڈھونڈنا ہی
وقاص شریف اپنی غیرمعمولی شاعری کےذریعےقاری کو کائنات میں اپنا مقام متعین کرنےکی ضرورت کا احساس دلاتا ہی۔ اس کی شاعری میں تحقیق و جستجو اور علم و آگہی کےحصول کا درس ملتا ہے،جس سےپتہ چلتا ہےکہ وہ ایک مبلغ و معلم ہی نہیں بلکہ قومی سوچ کا حامل دانش ور بھی ہی۔ وہ تاریخ کےتصورِ حرکیت پر نظر رکھتا ہےاور انقلاباتِ زمانہ سےبھی واقف و آگاہ ہی۔ اسی لئےوہ ارتقائےحیات کا قائل ہی۔ وہ ایک ایسی آئیڈیل فضاکا متلاشی ہےجہاں اس کی اپنی ہی تخلیق کردہ کائنات ہو اور وہ وہاں پر ہر لحظہ نیا طور ، نئی برقِ تجلی کےلئےکوشاں رہی۔ وقاص شریف بھی حرکت و عمل اور مسلسل سعیِ پیہم کا علمبردار ہی۔ چند اشعار ملاحظہ فرمایئے:۔
ہر روز نئی شان خدا کی ہےجہاں میں تبدیلیءافکار رکی ہےنہ رکےگی
بس ایک ہی نکتہ ہےکہ واضح نہیں ہوتا تاریخ کی تکرار رکی ہےنہ رکےگی
وقاص شریف بنی نوع انسان سےبےپناہ محبت کرتا ہی۔ وہ ابو بن ادھم کےاس قول سےمتفق نظر آتا ہےکہ خدا ان لوگوں سےمحبت کرتا ہےجو اس کےبندوں سےمحبت کرتےہیں۔ اردو میں اس عظیم موضوع پر متعدد اشعار مل جاتےہیں جن سےاس نکتےکی مختلف گرہیں کھلتی اور سامنےآتی ہیں۔ وقاص شریف یہ امر بخوبی جانتا ہےکہ خدا کی تلاش کےلئےجنگلوں ، بیابانوں میں جانےاور چلہ کشی کرنےکی ہرگز ضرورت نہیں بلکہ انسانوں میں رہ کر بھی اسےتلاش کیا جا سکتا ہی۔ وقاص شریف کےکلام میں اس موضوع پر جگہ جگہہ خوبصورت اظہار خیال ملتا ہی۔ ایک شعر :۔
خدا کےبندو! خدا کو اب تو قدم قدم ساتھ ساتھ سمجھو خدا وہ کیسا خدا رہا پھرہوا تو عرشِ بریں ہوا جو
معروف دانش ورحضرت واصف علی واصف نےبھی اس موضوع پر قلم اٹھاتےہوئےیقینا درست لکھا ہے” انسان محبت کی سائنس سمجھنا چاہتاہےاور یہ ممکن نہیں ۔ زندگی صرف حاصل ہی نہیں ایثار بھی ہی۔ ہرن کا گوشت الگ حقیقت ہے۔ چشمِ آہو الگ مقام ہی۔ زندگی صرف میں ہی نہیں زندگی وہ بھی ہےتو بھی ہی۔ زندگی صرف مشینیں ہی نہیں چہرےبھی ہےزندگی مادہ ہی نہیں روح بھی ہی۔ اور زندگی خود ہی معراجِ محبت ہی۔“
بقولِ وقاص شریف :۔
خوشی خوشی سےخوشی ملےگی رہا کرو خوش رکھا کرو خوش حزیں رہا ہےحزیں رہےگا حزیں ہوا خود حزیں ہوا جو
ہمیں انتہائی تلاش و بسیار کےبعد وقاص شریف کی غزلوں میں سےوقت کی اہمیت پر بھی ایک شعر دستیاب ہوا ہی۔ جس میں ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیا گیا ہی۔ واضح ہو کہ ان کا یہ شعر وقت کےموضوع پر یادگار حیثیت رکھتا ہی۔ یہ شعر اپنی لطافِت اظہار اور سادگی و دل آویزی کی وجہ سےہمیشہ کےلئےحافظےمیں محفوظ رہنےکی بھرپو ر صلاحتیت سےبہرہ ور ہی۔ یہ امر بھی ملحوظِ خاطر رہےکہ اس موضوع پر دیگر شعراءکےشعر بھی مشہور ہوئےہیں مگر اس شعر میں زبان زد عام ہونےکی خوبی نظر آتی ہی۔
وقت پر کام ہوتےہیں ساری آدمی وقت پر نظر رکھی
ایسےکلام کو شیریں کہا جاتا ہےجس میں موسیقیت ، سلاست اور روانی پائی جائی۔یعنی جو کلام سماعتوں میں رس گھولنےکا کام کری، شیریں ہی۔ شیرینی کی وضاحت کرتےہوئےمعروف نقاد عابد علی عابد اپنی تنقیدی کتاب ” اصولِ انتقادِ ادبیات“ میں رقم طراز ہیں کہ ” شیریں گفتاری سےمراد یہ لیتےہیں کہ شاعر کےاسلوبِ نگارش میں جمالیاتی صفات پائی جاتی ہیں۔ ان صفات میں ترنم اور نغمہ بنیادی ہے“۔خوش لہجگی ،شیریں کلامی ، شیریں مقالی، ایسی تعریف کےذیل میں آتی ہیں۔ وقاص شریف کی غزلوں میں بھی بعض مقامات پر تکرارِ لفظی اور موسیقیت و روانی سےکام لیا گیا ہی۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں اس کی فنی مہارت اور خوش سلیقگی ، مصرعہ در مصرعہ لو دیتی ہوئی نظر آتی ہی۔
جب دل لگی دل کو لگی دل کا لگانا آ گیا من کی رہےمن میں دبی من کا لبھانا آ گیا
جب غم ملےغم سےکہو غم نہ کرےغم غم رہے غم کم کیا غم کم ہوا غم کا مٹانا آگیا
شاعری میں برسوں سےاستعمال ہونےوالےمضامین ، تشبہیات و استعارات اور اندازِبیان کےکثرت استعمال کی وجہ سےتازگی اور ندرت کا ختم ہونا فرسودگی کہلاتا ہی۔ وقاص شریف کا کلام نئےپیرائےاور نئےاسلوب کا آئینہ دار ہی۔ اسی جدت ِ ادا کی وضاحت کرتےہوئےمحمد حسین اپنی علمی تصنیف ” مشرق و مغرب میں تنقیدی تصورات“ میں لکھتےہیں کہ ” جدتِ ادا یا نغز گوئی مضمون آفرینی کی توسیع ہی۔ اس کی مختلف شکلیں ممکن ہیں۔ اور اس پراسرار کیفیت یا اہمیت کا اظہار شاعر کی اپنی انفرادیت سےہوتا ہی۔ جب اس کےہر شعر پر اس کی اپنی شخصیت کےانوکھےپن کی مہر ثبت ہو اور وہ شاعری میں کیفیت اور تاثیر پیداکر دے، تب ہی اس کی شاعری پر نغز گوئی کا اطلاق ہوسکتا ہی۔ دراصل نغز گوئی کی جڑیں ندرتِ احساس اور جدتِ ادا تک پہنچتی ہیں۔ تلاشِ لفظِ تازہ اس کا اہم جزو ہےاور تاثیر اس کی اہم کڑی“ ۔ وقاص شریف کی خاص خوبی یہ ہےکہ اس کی شاعری اسی جدتِ ادا کی آئینہ دار ہی۔ اس کی غزلیں کی غزلیں بلند پروازی، بےساختگی اور سادگی و پرکاری کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ اس کےاشعار بعض اوقات سہلِ ممتنع کےقریب پہنچتےہیں جس سےاس کی قادرالکلامی اور فنی مہارت کا بدرجہ تم اندازہ ہوتا ہی۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :۔
ضرورت ہی نہیں تجھ کو کسی کی کہاں مشکل ضرورت ڈھونڈھناہی
کب کہیں آنا جانا ہےاس کا میرا غم میرےپاس ہوتاہی
ہم لوگ تمنا کےقیدی ہیں زمانےمیں اک عہد ہی باندھا تھا ناکام نبھانےمیں
رکھ دےخونِ جگر چراغوں میں راستےخود خبر دیں منزل کی
چلےتیر جب بھی مثییت کےساری فقط ذات میری نشانہ بنی ہی
یہ کبھی تیرا تو کبھی میرا اب کسےاعتبار ہےدل کا
وقاص شریف نے”سازِ دل“ کےابتدائیےمیں ” ہےپرےمرغِ تحیل کی رسائی تا کجا“ میں سےاس کےتنقیدی نظریات اور شعری منشور کا پتہ چلتا ہی۔ اس کےافکار و تخیلات میں سےاقتباسات ملاحظہ کیجئے،جن سےاندازہ ہوتا ہےکہ وہ شعر کہتےہوئےکون کون سےاسلوب پیش ِ نظر رکھتا ہی۔
” در حقیقت الفاظ کی قدرو قیمت ان کےاندر چھپےہوئےمعنی متعین کرتےہیں یہی وجہ ہےکہ مولانا روم نےالفاظ کو پوست ، چھلکا کہا ہی۔ اور معانی کو مغز۔ اقبال نےالفاظ کو صدف اور معانی کو گوہر کہا ہی۔ بلکہ ایک مقام پر تو اقبال نےارتباطِ حرف و معانی کو اختلاطِ جان و تن کہہ دیا“،۔
” جذبےکی شدت ہی آمد کا باعث بنتی ہی۔ بحور اور قافیےردیف کی پابندیاں جذبےکی شدت کےسنگ خونِ جگر کےچراغ روشن کرتی ہیں۔ اور علمِ بیان اور صنائع و بدائع کی بھدی صورتیں سامنےآتی ہیں اور شعر میں تاثیر نام کی کوئی چیز کا سراغ چراغ لےکر بھی ڈھونڈھنےسےنہیں ملتا“۔
وقاص شریف کی شاعری دل گداز کی وہ داستان ہےجو حواس کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہی، اس کےذہنی مدرکات اور محسوسات میں ایک گہرائی ملتی ہی۔ وہ مبالغہ آمیزی سےپہلو تہی بھی کرتاہےاور سنجیدگی اور متانت سےمسائلِ حیات پر قلم اٹھاتا ہےاس کی حتیٰ الوسع کوشش ہوتی ہےکہ فکر نورستہ میں معانی آفرینی کا وصف پیدا کر دیا جائی۔ 2015 ءکےادبی منظر نامےپر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہےکہ ہر طرف دور ازکا تشبیہات و استعارات ، گنجلک الفاظ و معانی اور ابہام و علامات کا ایک سیلاب آیا ہوا ہی۔ اہلِ قلم سہل انگاری اختیار کرتےہوئےنام نہاد جدت کےشوق میں مافوق الفطرت طلسماتی فضاو¿ں کی تشکیل کی خاطر زبان و بیان کےساتھ بےجا آزادی کےمرتکب ہو رہےہیں۔ مقلدین و معتقدین ِغزل گو ظفر اقبال کےحلقہءتلمیذ نےوالےلوگوں کو دیکھیں تو انڈیا میں باقاعدہ طور پر مخالفین و متابعین ظفر اقبال ملتےہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہےکہ نوجوان شعراءتخلیقی تجربےکی روح سےسرشار ہو کر زندگی کی حرکت و حرارت سےلبریز شستہ و رواں اسلوب میں اپنےدل گداختہ کی تشریح و تعبیر صفحہءقرطاس پر منتقل کریں جو پر تاثیر ہونےکےساتھ ساتھ زندگی آمیز بھی ہو اور زندگی آموز بھی ہو۔ مجھے جہاں آج کل کےمتعد د شعری مجموعوں کی اشاعت سےسخت مایوسی ہوئی ہےوہیں وقاص شریف کےشعری مجموعے” سازِ دل“ کی اشاعت سےمیرےپست ہوتےہوئےحوصلوں کو ایک نئی اٹھان اور آن بان ملی ہے۔ میرا غزل پر اعتماد بحال ہوا اور مجھےاندازہ ہوا کہ ابھی ایسےبہت سےلوگ موجود ہیں جو جذبےو احساس کی زیریں لےسےپر تاثیر شعر کہنےکی صلاحیت رکھتےہیں۔ اسی لئےغزل کا مستقبل روشن ہی۔ معروف شاعر ناصر کاظمی نےصنفِ غزل کےحوالےسےبہت خوب صورت شعر کہا تھا کہ
شاعری خونِ جگر مانگتی ہی کام مشکل ہےتو رستہ دیکھو
کسی شاعر نےاسی موضوع پر اظہار خیال کرتےہوئےکتنےخوب صورت اشعار کہےہیں :۔
دل کی باتوں میں اثر ہو تو غزل ہوتی ہی زندگی سر کا سفر ہو تو غزل ہوتی ہی
رنگ ہمراہ چلیں ساتھ لئےخوشبو کو اور چلتےمیں سحر ہو تو غزل ہوتی ہی
وقاص شریف مبارک باد کا مستحق ہےکہ وہ غزل جیسی سخت جان صنف ِ سخن میں طبع آزمائی کرتاہی۔ یہ بھی اس کی طرف دیکھتی مسکراتی ، اوراسے توجہ دیتی ہےورنہ یہ صنف سخن تو بعض لوگوں کو ساری زندگی آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتی۔
محبت کا موضوع اردو نظم کا ایک اہم موضوع ہی۔ ہمیں ان کےشعری مجموعے” سازِ دل “ میںاس موضوع پر صرف ایک ہی نظم ملی ہے۔ جو اس شعری مجموعےمیں خصوصی اہمیت کی حامل ہی۔ اس نظم کےمطالعہ سےپتہ چلتا ہےکہ اگر وقاص شریف اردو نظم کی طرف توجہ دےتو وہ ایک کامیاب نظم گو بھی بن سکتا ہی۔ یہ نظم وقاص شریف کی والہانہ وارفتگی ، بھول پن اور معصومیت کی علامت ہی۔ نظم میں سےدو اشعار :۔
دلِ انساں محبت دونوں ہاتھوں سےپکڑتی ہی نہ جانےکیسی قوت ہےکہاں سےیہ جکڑتی ہی
محبت کی نگاہوں میں نہ کچھ معیوب ہوتاہی جہاں محبوب ہوتا ہےوہاں سب خوب ہوتا ہی
ایک دفعہ اشفاق احمد نےپی ٹی وی کےپروگرام زاویہ میں یہ واقعہ سنایا ۔ کہ ایک دن میرا بیٹا کالج سےواپس آیا اور اپنی ماں سےپوچھنےلگا کہ ماما ! محبوب کیا ہوتا ہے؟ اس کی ماں نےمجھ سےپوچھا تو میں نےکہا کہ شام کو بابا جی کےپاس چلیں گےاور پوچھیں گی۔ چنانچہ ہم وہاں گئےاور ہم نےپوچھا کہ محبوب کیا ہوتا ہی۔ تو جواب ملا کہ محبوب وہ ہوتا ہےجس کا نا خوب بھی خوب ہوتا ہی۔
المختصر وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“ اپنےخوبصورت گٹ اپ، معیاری انتخاب اور مقدار و معیار کےاعتبار سےدیدہ زیب ہی۔ وقاص شریف کی شاعری، اس کےنجی احوال و آثار اور واردات قلبی کا واشگاف اظہار ہی۔ اس نےنہ تو بھاری بھر کم الفاط اور تشبیہات و استعارات کا سہارا لیا ہےاور نہ ہی پیچیدہ و ادق انداز اپنایا ہےبلکہ سیدھےسادھےانداز میں اپنےجذبات کو صفحہءقرطاس پر سمو دیا ہی۔ اس کےاشعار سیدھےدل میں اتر جاتےہیں اور ہمیشہ یاد رہنےکی صلاحیت سےبہرہ ور ہیں۔
اللہ کرےزورِ قلم اور زیادہ
میں ابھی سےاس کےدوسرےشعری مجموعےکا انتظار کرتا ہوں۔


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 85
    کینسر سےشدید بیمار، مایوس اور بےبس انسانوں کی نجات کےلئےکینسر کا روحانی علاج تحریر : شوکت محمود اعوان، ایڈیٹر کوارڈینیشن ہفت روزہ وطن اسلام آباد انسان کےلئےجہاں بےپناہ بیماریاں پیدا ہوئی ہیں،وہاں ان بیماریوں کےلئےعلاج بھی مہیا کر دیا گیا ہی۔ مگر علاج کی تراکیب مختلف ہیں جیسےدوا سے، نفسیاتی…
  • 83
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 82
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply