چراغِ راہ تحریرمحمد عارف

”چراغِ راہ“
تحریر : محمد عارف ٹیکسلا
واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ
” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا فارمولا بتایا ہےکہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارےجائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ موت کا یہ فارمولا ہم بھول گئےکہ ہم مرتےنہیںہیں، ہم صرف مارےجاتےہیں، سسکتی اور کراہتی ہوئی موت عذاب ہی، ہم نےتڑپنے، پھڑکنےکی توفیق مانگنا چھوڑ دی ہی، ہم میں دلِ مرتضیٰ نہیں، سوزِ صدیق نہیں، زندگی اگر مقصد کےلئےاگر گزری تو موت قبولیت کی سند بن کےآئےگی اور حیات ِ جاوداں کہلائےگی۔ کثرتِ مقاصد نےہمارےلئےقلتِ سکون پیدا کر دیا ہی، ہم بہت سی زندگیاں گزارتےہیں، اس لئےبہت سی اموات سےگزرتےہیں۔ اگر وحدتِ مقصد مل جائےتو کثرت سےبچا جا سکتا ہی۔ جن لوگوں نےزندگی سےکچھ حاصل کیا یا زندگی کو کچھ عطا کیا، وہ لوگ وحدتِ مقصد والےلوگ تھی، نہ وہ خوفزدہ کئےجا سکتےتھےاور نہ خریدےجا سکتےتھےاور نتیجہ یہ کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کےلئےزندہ ہیں۔لوگ زندگی میں مر جاتےہیں اور وہ لوگ موت میں بھی زندہ ہیں۔ کیا ہم غور نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔۔“
خواجہ محمد ایوب کریمی ایک وسیع المطالعہ اور صائب الرائےانسان ہیں جنہوں نےعمر بھر اپنےمطالعہ میں آنےوالےمنتخب اخباری کالم ، مضامین اور شاعری ”روشن چراغ“ کےنام سےمرتب کی جس کا مرکزی موضوع یہی ہےکہ بنی نوعِ انسان کو ایک نصب العین کےتحت زندگی بسر کرنی چاہیئےاور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کےحبیب حضرت محمد الرسول اللہ کی خوشنودی ہو تاکہ دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کی جا سکیں۔ اس کارِ جہاں میں پروردگار اپنےہر بندےکو کسی نہ کسی ہنر سےنواز کر بھیجتا ہےتاکہ وہ اس کےذریعےنہ صرف اپنی ذات کا اظہار کر سکےبلکہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کا شکر بھی ادا کر سکی۔ کہ یہی اس کا مصرف ہی۔ اب یہ اور بات ہےکہ کچھ لوگ ساری عمر اس جوہر سےبےخبری میں گزار دیتےہیں کہ ان کےپاس کتنی بڑی دولت ہی۔ بہر حال یہ انسان کا مقدر ہےکہ وہ کیا پاتا ہی؟
خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کو اللہ تعالیٰ نےکتاب اور قلم سےگہراقلبی و جذباتی رشتہ تفویض فرما کر ان پر احسانِ عظیم کیا ہی۔ وہ نہ صرف روزانہ کےاخبارات کا عمیق نظری سےمطالعہ کرتےہیں بلکہ ہر اچھی کتاب کو بھی ذوق و شوق سےپڑھتےہیں۔ انہوں نےمختلف بزرگانِ دین اور اولیائےاللہ کےفرمودات بھی اکٹھےکئےہوئےہیں جو کہ لائقِ تحسین اور صحت مند علمی مشغلہ ہی۔ ان کی اس مثبت اور صحت مند علمی سرگرمی کو دیکھ کر حضور اکرم کی یہ حدیثِ مبارکہ یاد آ جاتی ہےکہ ” علم مومن کی گم شدہ میراث ہےجہاں سےملےحاصل کر لو“۔وہ یقیناََ اسی حدیث کےمصداق اپنا فریضہ ادا کرنےمیں مصروف رہتےہیں۔
خواجہ محمدعرفان ایوب کریمی ”چراغِ راہ“ کےحرفِ اول میں رقمطراز ہیں کہ ” عرصہِ ¾ دراز سےمیری یہ خواہش تھی کہ میں وہ کالم اور نادر تحریریں جو اپنی زندگی بھر پڑھ کر جمع کرتا رہا ہوں ان کو کتابی شکل میں ترتیب دےکر قارئین کی دلچسپی اور مطالعہ کےلئےپیش کروں۔ میں نےوہ کالم جمع کئے جو فلاحِ معاشرہ اور ادب کےبارےمیں مختلف کالم نویسوں اور دانش وروں نےلکھےہیں یا وہ کالم جو بعض روحانی اور بزرگ ہستیوں کےبارےمیں تحریر کئےگئےہیں“۔
”روشن چراغ“ میں شامل تحریریں انتہائی محنت ، محبت اور خوش سلیقی سےاکٹھی کی گئی ہیں جن کا مقصد قارئین کی ذہنی اور فکری راہنمائی کرکےانہیں ایک بامقصد زندگی گزرنےکےقابل بنانا ہی۔ یوں تو عطاءالحق قاسمی نے”روزنِ دیوار“ کےنام سےاپنےکالموں کا مجموعہ ترتیب دےدیا ہی۔ جاوید چوہدری نے”زیرو پوائنٹ“ کالم کو زیورِاشاعت سےآراستہ و پیراستہ کر دیا ہی، اشفاق احمد نےپی ٹی وی پر متصوفانہ اور اصلاحی موضوعات پر جو لیکچر دیئےہیں،”زاویہ“ کےنام سےچھپ چکےہیں۔ واصف علی واصف کی ایک ہزار نائٹس پر مشتمل گفتگو بھی کتابی صورت میں مل جاتی ہےلیکن اس مختصر سی کتاب ”روشن چراغ“ میں متنوع الجہات اور ہمہ گیر مضامین و موضوعات پر وہ رشحاتِ قلم اکٹھےگئےہیں جو ہر ذوق ا و رذہنی سطح کےقاری کےلئےراہنمائی کا سامان بہم پہنچاتےہیں۔ انتساب ان اللہ رب العزت کےبرگزیدہ بندوں کےنام ہے، جن کی محنتوں ، ریاضتوں اور قربانیوں کےطفیل آج ہم ایک آزاد اور خودمختار وطن میں اپنےربِ کریم کی رحمتوں سےبہرہ مند ہیں۔ خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی نے”روشن چراغ“ میں ”آستانہ عالیہ عید گاہ شریف“ اور” طبقاتی کشمکش“ کےعنوان سےاپنےدو مضامین شامل کئےہیں جو لائقِ توجہ ہیں۔ ان مضامین سےپتہ چلتا ہےکہ وہ خود بھی ایک اچھےمضمون نگار ہیں مگر باضابطہ طور پر اس صنفِ سخن سےابھی تک وابستہ نہیں ہوئی۔ ان کےمحولہ بالا مضامین سےان کی روحانیت اور عصری مسائل سےدلچسپی واضح ہوتی ہی۔ ان سےالتماس ہےکہ وہ ان موضوعات پر قلم اٹھائیں تاکہ ان کےوسیع مطالعہ سےقارئین کو فیض یاب ہونےکا موقع مل سکی۔
واصف علی واصف نےبالکل درست کہا ہےکہ ہر انسان گوہرِ نایاب ہے، ہر انسان کےپاس شرف ہے، سب کی گٹھڑی میں لعل ہی، سب کےآنگن میں چاند نکلتا ہی، سب کےسر پر سایہءافلاک ہی، سب کےپاو¿ں کےنیچےوہی زمین ہے، دولتِ احساس ہر ایک کےلئےہی، سرمایہ¾ خیال ہر ذہن کےلئےہی، ہر نظر کو نظاروں سےلطف اندوز ہونےکا یکساں حق ہی، جو بیان نہیں کرتا وہ بھی صاحبِ بیان ہی، جو دیوان چھپ نہیں سکتا وہ بھی دیوان ہی۔ مکمل دیوان مرصع اعلیٰ مگر جس انسان کےدل میں روشنی نہ ہو وہ چراغوںکےمیلےسےکیا حاصل کرےگا“۔۔۔۔
خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی مدینےکی تجلی سےلو لگائےہوئےہیں اور ان کا دل بقعہءنور بن چکا ہی، وہ انہی چراغوں کی لوو¿ں سےکسبِ نور کرکےہر طرف ضیا پاشیاں کرتےجا رہےہیں۔ یہ کتاب بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی ہی۔ محمد حنیف رامےکےمضمون ”حضرت فضل شاہ اور تفسیرِ فاضلی“ مطبوعہ روزنامہ جنگ مورخہ ٤١ ستمبر ٠٩٩١ ءمیں خصوصاََ ارشاد عالیہ حضرت فضل شاہ قطبِ عالم قابل ذکر ہیں جن میں سےچند ایک درج ذیل ہیں:۔
” مخلصین کا وجود واحد ہے، چونکہ ان کا مقصود واحد ہے،اور ان کا مقصود یہ ہےکہ لوگوں کو ظلمات سےنور کی طرف لانا “

” حق حال پر عائد ہوتا ہےاورحال پر ہی ادا کیا جاتا ہی۔ ماضی کی یاد یا مستقبل کی فکر دامن گیر رہےگی تو حق کی ادائیگی میں کوتاہی ضرور ہو گی“۔
”ولی اللہ وہ ہےجو اللہ کی مخلوق کےساتھ اللہ کی رضا کےلئےمعاملہ کرے اور ہو عادت سےپاک “۔
” جو وقت مخلصین کی معیت میں گزارا جائےوہ سرمایہءحیات بن جاتاہی“۔
”جسےاحسان کرنےکا شرف ہو اس کو استفادہ کرنےوالےکا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیےکہ مستفید ہونےوالےکی بدولت ہی محسن کو فانی شےکےبدلےدائمی انعام ملتا ہی“۔
”شریعت بمنزلہ دودھ ، طریقت بمنزلہ مکھن، اور معرفت بمنزلہ گھی ہی۔ اگر دودھ ہی نہ ہو تو کچھ بن سکتاہےاور نہ کوئی بنا سکتا ہی“۔
” تضاد میں مبتلا رہنےوالےکےلئےلطافت کا دیکھنا ممکن نہیں رہتا “۔
”چراغ راہ“ میں شامل بابایحییٰ خان کا ایک انٹرویو اہمیت کا حامل ہےجسےرو¿ف ظفر نےمرتب کیا ۔ صوفی ،ادیب ،درویش ،اداکار، ڈائریکٹر، سیاح اور بےحد مخیر انسان بابا جی محمد یحییٰ خان صرف اس حوالےسےمعروف نہیں ہیں کہ بانو قدسیہ، اشفاق احمد نےانہیں ملک کا سب سےبڑا رائٹر قرار دیا ہےبلکہ ان کا روحانی سلسلہ دنیابھر میںپھیلا ہواہی۔ بابا جی محمد یحییٰ خان کی کتب میں ”کاجل کوٹھا“ ”پیا رنگ کالا“ نہایت اہم ہیں۔ وہ بلاشک و شبہ اس عہد کےسب سےزیادہ پڑھےاور پسند کئےجانےوالےادیبوں میںشمار ہوتےہیں۔ ان کی کتب بنی نوعِ انسان کی اخلاقی راہنمائی ، روحانی تربیت اور تزکیہ باطن کےعلاوہ اسرار و رموزِحیات سےبھی پردہ اٹھاتی ہیں۔ وہ علامہ اقبال کی دعا سےپیدا ہوئےاور انہوں نےعمر بھر مخلوقِ خدا کی بےلوث خدمت کی ہی۔
الحاج بشیر حسین ناظم شاعرِ ہفت زبان کےطور پر جانےپہچانےجاتےہیں۔ انہوں نےغالب کی زمینوں میں نعتیں کہی ہیں۔ الحاج بشیر حسین ناظم کا ایک مضمون” حضرت بابا جی سرکار الحاج رحمت اللہ علیہ الرحمتہ والغفران دھنکہ شریف “ بھی کتاب میں شامل ہے۔ جس سےاس کتاب کی اہمیت دو چند ہو گئی ہےکیونکہ بابا جی دھنکہ سرکار عوام و خواص دونوں میں بےپناہ مقبول ہیں۔ خود صاحبِ مضمون الحاج بشیر حسین ناظم کےتبحر علمی ، وسعتِ مطالعہ، فن ِ عروض، تفحصِ الفاظ پر گرفت کا ایک زمانہ قائل ہی۔ ان کی شخصیت و فن پر بھی پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا جا سکتا ہی۔
رو¿ف ظفر کا ایک اور انٹرویو ”اشفاق احمدکےبابے“ کےعنوان سےشامل ہےجو معروف ادیب اور دانش ور اشفاق احمد کےروحانی سفر کےبارےمیں بانو قدسیہ سےخصوصی گفتگو پر مشتمل ہی۔ معروف ادیب اور دانش ور اشفاق احمد کےحوالےسےایک کتاب ” بابا صاحبا“ منظر عام پر آئی کہ اس میں اشفاق احمد نےان بابوں کا ذکر کیا ہےجن کی انہیں زندگی بھر تلاش رہی۔ معروف افسانہ نگار ، شاعر، اور نقاد محمد حمید شاہد ایک زمانےمیں اشفاق احمد شخصیت و فن پر کام کر رہےتھےمعلوم نہیں کہ یہ کتاب چھپی ہےیاکہ نہیں۔ واصف علی واصف کو بھی اشفاق احمد نےمتعارف کروایا۔ وہ ایک ایسی عظیم الشان شخصیت تھےکہ جنہیں شہرت و نام و نمود کےبھوکےبعض ادباءنےتنقید کا نشانہ بنایا ہی۔ حالانکہ وہ یہ بات بھول گئےہیں کہ اشفاق احمد جیسےلوگ بلا شک و شبہ صدیوں کےبعد پیدا ہوتےہیں۔ انہیں صرف اردو ادب میں زندہ رہنےکےلئےان کا افسانہ ”گڈریا“ ہی کافی ہی۔ بعض بالشتیئےایسےبھی ہیں کہ جنہیں ادب میں آئےہوئےشاید جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہ ہوئےہوں کہ وہ تلواریں سونت کر ان عظیم الجہات شخصیات کےدرپےآزار ہو گئےہیں جن میں اشفاق احمد، علامہ محمد یوسف جبریل، چوہدری عنایت اللہ، پروفیسر شوکت محمود کنڈان جیسےلوگ شامل ہیں۔ اس کا انشاءاللہ مفصل اور بھرپور جواب تیار ہےجو عنقریب منظر عام پر آ جائےگا۔
ڈاکٹر محمد اجمل نیازی وطنِ عزیز کےمایہءناز شاعر، صوفی دانش ور اور ملک گیر شہرت کےحامل کالم نگار ہیں۔ پاکستان روحانیت اور عصری مسائل سےدلچسپی ان کی شناخت بن چکی ہی۔ ان کاکالم دنیا بھر کےاردو دان طبقےمیں ذوق و شوق سےپڑھا جاتا ہی۔ وہ اپنےمنفرد اسلوب کی وجہ سےلاکھوں میں پہچانےجاتےہیں۔ ان کا ایک کالم ” داتا صاحب کی حکومت“ انتہائی دلچسپ ہےجسےشاملِ کتاب کیا گیا ہی۔ جو اس کتاب کی تزئین اور معلومات میں اضافےکا باعث ہے۔ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی شہرت عام اور فیض سینہ بہ سینہ صدیوں سےمنتقل ہوتا چلا آ رہا ہی۔ حامد میر کا مضمون ” مدینےکےبابی“ مطبوعہ روزنامہ نوائےوقت یکم مارچ ٨٠٠٢ ءبھی اہمیت کا حامل ہی۔ یہ مضمون پڑھتےہوئےممتازمفتی کا” لبیک“ اور قدرت اللہ شہاب کا” شہاب نامہ“ یاد آ جاتا ہی۔ ڈاکٹرتصدق حسین کی علمی تصنیف ”متاعِ فقیر“ بھی اسی تسلسل میں لکھی گئی ایک کتاب ہی۔ ”مدینےکےبابی“ مستقبل کےخدشات اور اعمال کی اصلاح کی طرف دعوت ہی۔ ڈاکٹر مطلوب حسین نے”سو فی صد نتائج کا حامل ایک تجزیہ“ میں آج کےمضطرب انسان کی بےسکونی کا انتہائی سائنٹفک علاج بتایا ہےکہ خدمتِ خلق کو شعار بنا لیا جائی۔وہ لکھتےہیں :۔
” صرف ایک مہینہ کےلئےہر روز ایک، دو، چاریا دس بیس انسانوں کا کوئی کام کریں، ان کی مدد کریں اورا ن کےلئےایثار کریں، ان کی خدمت کریں، پھر ٹھیک ایک ماہ بعد اگرذہنی اور دلی سکون نصیب نہ ہو توجو چاہےمجھے کیہئےگا“۔
جدید دور میں فقراءکا انتخاب اسطرح ہوتا ہےکہ جو شخص مخلوقِ خدا کی خدمت میں سب سےسبقت لےجاتا ہی۔ حضور اکرم اپنےمقربین بھیج کر اسےبلاتےہیں ۔ سید مبارک شاہ کا ایک شعرتکریمِ انسانیت کےموضوع پر ہمیشہ یادگار رہےگا :۔
آدم کی کسی روپ میں تحقیر نہ کرنا پھرتا ہےزمانےمیں خدا بھیس بدل کی
ڈاکٹر مطلوب حسین کا ایک کالم ”قدرت کےفیصلےغلط نہیں ہوتی“ بھی شاملِ کتا ب ہے۔ محولہ بالا کالم میں سےایک منتخب پیرا گراف ملاحظہ فرمائیے :۔
” بعض مرتبہ بندےکی قسمت میں جسم یا عزت کا نقصان لکھا ہوتاہےتو اللہ تعالیٰ جسم یا عزت کو محفوظ فرما کر پیسےکا نقصان فرما دیتےہیں۔ سیانےکہتےہیں کہ جب کوئی نقصان ہوتا ہےتو بندےکا کہیںنہ کہیں فالٹ ضرور ہوتا ہی“۔
جاوید چوہدری کےکالم ”ریڈ سگنل“ اور” صدقہ“ بھی اردو کالم نگاری کی روایت میں ہمیشہ زندہ رہنےکی صلاحیت رکھتےہیں ۔ سید عطرت حسین شاہ کا کالم” بحث کرنا چھوڑدی“ چونکا دینےوالا واقعہ ہی۔ محمد ظفراللہ شنواری کا مضمون ”آفات و بلیات سےحفاظت“ بھی سبق آموز تحریر ہی۔ رشید نثار کی تصنیف ”تاریخ سیالکوٹ“ سےایک باب منتخب کرکےشاملِ کتاب کیا گیا ہی۔ رشید نثار خطہءپوٹھوار کی ایک عظیم الشان علمی اور ادبی شخصیت تھی۔ وہ بری امام کےبالکےہی نہیں بلکہ ایک فاضل محقق، بلند پایہ شاعر اور ادب دوست انسان تھی۔ وہ باقی صدیقی مرحوم کی یاد میں ہر سال ادیبوں اور شاعروں کاقافلہ لےکر سہام( راولپنڈی) جاتےتھی۔ رشید نثار کی علمی و ادبی خدمات کا قومی سطح پر اعتراف کیا جا نا ضروری ہی۔
نوید مسعود ہاشمی کا مضمون ”نگاہ ِمردِ مومن سےبدل جاتی ہیں تقدیریں“ ایک سبق آموز اور نصیحت آمیز تحریر ہی۔ انتخابِ شعر میں عرضِ حال بحضور سرور کائنات ازمسدس حالی، شورش کاشمیری کی نعت ، بارگاہِ رسالتمآب میں از علامہ اقبال ، اشعار اقبال ، رومانی شاعر اختر شیرانی کی ایک نعت، ساحر لدھیانوی کی ایک نظم ” ماں کی دعا“ ٥٦٩١ ءکی جنگ کا ایک نغمہ ، سقوطِ ڈھاکہ پر منیر نیازی کےاشعاراور استاد دامن کےاشعار وغیرہ شامل ہیں۔
خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کی ان متخب تحریروں سےپتہ چلتا ہےکہ وہ بزرگانِ دین ،فقراءو اولیاءاللہ سےایک خاص نسبت رکھتےہیں۔ کیونکہ اس کتاب میں شامل کئےگئےمنتخب مضامین ان نابغہءعصر ہستیوں پر مشتمل ہیں جن میں اشفاق احمد، بابا جی محمد یحیٰ خان، بابا فضل شاہ جیسےبزرگ شامل ہیں۔ خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی نےان روحانی شخصیات سےمتعلق لوگوں کو معلومات فراہم کرکےاس کتاب کو محققین اور صوفیانہ ادب سےدلچسپی رکھنےوالےقارئین کےلئےایک ریفرنس بک بنا دیا ہےکیونکہ لوگ ان مشاہیر کےبارےمیں بڑی شدت سےجاننا اور سمجھنا چاہتےہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وہ یا کوئی اور اس موضوع پر مطالعےکو مزید تقویت دےاور اس میں سےمنتخب سرمائےکو چھاپ دےتو اس کی یہ خدمت تادیر یاد رکھی جائےگی۔ اگر مصنفین کو خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی جیسےقاری میسر آ جائیں تو اہلِ قلم کو اچھی کتابیں اور کالم ضرور لکھنےچاہیئں ورنہ تو اب ادب کا اچھا قاری ختم ہوتا جا رہا ہی۔ خواجہ صاحب خوش نصیب انسان ہیں انہیں یہ کتاب دوستی اور علم سےمحبت عرفان کی منزلوں سےہمکنار کرےگی۔ میں آخر میں اس کتاب میں شامل مضامین و موضوعات کےبنیادی فکر وفلسفہ کو واصف علی واصف کےالفاظ میں یوں بیان کرسکتا ہوں کہ:۔
”باز اور شکروں کی موجودگی میں چڑیا کےبچےپرورش پاتےرہتےہیں۔ آندھیاں سب چراغ نہیں بجھا سکتیں ، شیر دھاڑتےرہتےہیں اور ہرن کےخو ب صورت بچےکلیلیں بھرتےرہتےہیں۔ فرعون نےسب بچےہلاک کر دیئےمگر وہ بچہ بچ گیا۔ زمانہ ترقی کر گیا مگر مکھی ، مچھر اور چوہےاب بھی پیدا ہوتےہیں۔ جراثیم کش دوائیں نئےجراثیم پیدا کرتی ہیں۔ طبِ مشرق و مغرب میں بڑی ترقی ہوئی ، بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا۔ انسان کل بھی دکھی تھا آج بھی سکھی نہیں۔ اصل میں علاج خالق کےقرب میں ہی۔ لوگ کیوں نہیں سمجھتی؟؟؟
کتاب الحکیم میں عزیز الحکیم کا ارشاد ہےکہ ” وہ جس کو چاہےدانائی عطا کرتا ہےاور جس کو حکمت ملی اسےبہت بڑی حکمت ملی، اسےبہت بڑی نعمت ملی“۔
”آوازِ دوست“ کےمصنف مختار مسعود کےمطابق خیرِ کثیر کےکئی نام ہیں۔ اہلِ شہادت ، اہلِ احسان اوراہلِ جمال۔ چنانچہ ”آوازِ دوست“ کےمصنف کےمطابق یہ حکمت اہلِ شہادت کو ملی تو جنوں کہلائی ، اہلِ احساں کو ملی تو خیرِ کثیر ہو گئی اور اہلِ جمال تک پہنچی تو حسن بن گئی ۔خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی صاحب کی شخصیت اہلِ شہادت، اہلِ احسان اور اہلِ جمال سےکسبِ فیض کا حسین مرقع ہی۔ خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی نےجنوں، جمال اور جلال وخیرِ کثیر کی آمیزش سےنہایت عام فہم انداز میں زندگی کےچلن مرتب کئےاور خوش بختی کی راہ دکھائی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قولِ جمیل ہےکہ ” جس طرح جسم تھک جاتےہیں اسی طرح دل بھی تھک جاتےہیں ، لہذا ان کی راحت و تسکین کےلئےپر’ از حکمت باتیں کیا کرو“۔
خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی نےبھی دلوں کی راحت و تسکین کا سامان بہم کر دیا ہےجو یقینا ان کےلئے دنیا میںعزت و کامرانی اور آخرت میں سعادت کا باعث ہو گا۔ بقولِ میر :
بارےدنیا میں رہو، غم زدہ یا شاد رہو ایسا کچھ کر کےچلو یاں کہ بہت یاد رہو

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 92
    ”ادب دےنگینے“ تحریر: محمد عارف (ٹیکسلا) میاں محمد اعظم کا تعلق راولپنڈی سےہےجسےشاعروں اور افسانہ نگاروں کا شہر کہا جاتا ہی۔ میاں محمد اعظم نے”ادب دےنگینی“ کےعنوان سےحال ہی میں ایک خوبصورت شعری مجموعہ زیورِ اشاعت سےآراستہ کیا ہی، جس کا انتساب” پروفیسر زہیر کنجاہی صاحب “کےنام ہےجو راولپنڈی کےمعروف…
  • 86
    ماہنامہ” شعوب“ پر ایک اچٹتی ہوئی نظر تحریر : محمد عارف محبت حسین اعوان ، اعوان قبیلےکےایک عظیم سپوت ہیں، جنہوں نے”شعوب“ کےنام سےایک ادبی پرچےکا اجرا کیا ۔ جس کا دوسرا شمارہ فروری 2015 میں چھپ کر ا یا ہے۔ زیرِ نظر پرچہ” شعوب“ اپنےحسنِ اسلوب اور جامع و…
  • 82
    رو ئف امیر چند یادیں، چند باتیں تحریر محمد عارف رو¿ف امیر کا نام کراچی سےلےکر خیبر تک پورےملک کےعلمی و ادبی حلقوںمیں ہی نہیں جانا پہچانا جاتا ہےبلکہ وہ بیرونِ ملک وسطِ ایشیاءکی ریاست قازقستان میں پاکستان چیئر پر سکالر کی حیثیت سےاپنی خدمات سرانجام دےرہےتھی۔ وہ ایک عمدہ…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply