”کن فیکون“ پر خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کا تبصرہ

”کن فیکون“ پر خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کا تبصرہ
”کن فیکون“ نامی کتاب تحریر محمد عارف میں ملک شوکت محموداعوان نےمندرجہ مضمون میں اپنےوالد محترم کی شخصیت کےمختلف پہلو اجاگر کئےہیں۔ بہر حال شوکت محمود اعوان کو یہ اعزاز حاصل ہےکہ انہوں نےاپنےوقت کےعظیم دانش ور کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا ہر مدعی کےواسطےدارورسن کہاں
اپنےاس تبصرہ میں میں برادرم شوکت محمود اعوان صاحب کےروز مرہ زندگی پر ان کےرویہ پر اپنا اظہار خیال چاہوں گا جو کہ انہوں نےفرما یا ہےکہ یہ عدم توازن کا شکار ہی، یہ رویہ ایک مناسب حد تک ہو تو یہ بڑا کارآمد ثابت ہوتا ہےچونکہ معاشرہ کےانحطاط پذیر ہونےکی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ اس لئےاس صورتِ حال پر زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیئی۔ یہ رویہ آپ کی علمی سطح کو بلندی کی بجائےپستی کی طرف لےجاتا ہےاور انسان معاشرہ کےلئےکارآمد فرد بننےکی بجائےمعاشرہ پر بوجھ بن جاتاہی۔ ظاہر ہےآپ امر بالمعروف کےلئےکوشاں ہیں، اس لئےاللہ تعالیٰ سےامید رکھنی چاہیئےکہ اس کا نتیجہ بہر حال اچھا ہی نکلےگا، قدرت کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتی۔ حتیٰ کہ منفی کام کرنےوالا چور اور مکار بھی محروم نہیں رہتا۔ چاہےیہ وقتی فائدہ ہو۔ اس کےمقابلہ میں مثبت مشن کو اپنانےوالوںکو کبھی مایوس نہیں ہو نا چاہیی۔ اگر آپ کی یہ خواہش ہو کہ آپ کی تمام کاوشوں کےثمرات فوراََ اور جلد از جلد آپ کےمشاہدےمیں آ جائیں۔ یہ ممکن نہیں کہ سو فی صد نتائج آپ دیکھ سکیں۔ اس کی مثال حکیم الامت علامہ محمد اقبال کےمسلمانوں کےلئےایک الگ خطہءارض کےلئےدیکھا گیا خواب ہی۔ جو کہ ان کی وفات سےتقریباََ دس سال کےبعد پاکستان کی شکل میں معرضِ وجود میں آیا۔ آپ اپنےکام میں آہستہ آہستہ لگےرہیں، انشاءاللہ اس کااچھا نتیجہ آپ کےمشاہدہ میں آتا رہےگا اور آپ کےمثبت اندازِ فکر کو اپنانےسےمعاشرہ آپ کی علمی اور روحانی خدمات سےبےبہا مستفید ہوتا رہےگا۔ انشاءاللہ۔ پیوستہ رہ شجر سےامیدِبہار رکھ۔دانشور حضرات کا کہنا ہےکہ معاشرہ کو رہنمائی صاحبِ حال لوگوں کی وجہ سےملتی ہےاور صاحب حال وہ ہوتا ہےجو راضی بہ رضائےالہیٰ ہو۔ حال جو ہم پر گزر رہا ہوتا ہےوہ قدرت کی طرف سےہوتا ہےاس کو بہر حال قبول کرنا ہی پڑتا ہی، چاہےکوئی خوشی سےکرےیا پریشانی سی۔ اس حال میں اگر مشکلات ہوں تو اس کےلئےحیلہ و کوششیں کرنا اور اللہ تعالیٰ سےبہتری کی دعا مانگناہی ایک راستہ ہی۔ حیلےاور کوششیں بھی تب ہی سےکامیابی حاصل کرتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کی رضاو منظوری ہو۔اس لئےدعا ہی سب سےطاقت ور اور آخری حل ہوتاہی۔ کوئی فرد بھی بےروزگار، بیمار، خستہ حال اور پریشان نہیں ہو نا چاہتا مگر گردشِ ایام میں ہرذی روح کو مسائل و مشکلات کا ہمہ وقت سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک عظیم دانش ور اور منیر احمد خان ، چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن اسلام آباد کےروحانی رہنما،حکیم محمد فاضل ظہیر کا قول ہے۔” اذیتِ دنیا دلیل ِخالق ہےاور اس پر صبر کرنا سعادت ہے“۔ان کےاس قول کا مقصد یہ ہےکہ اگر انسان کو مشکلات نہ ہوں تو وہ کبھی اپنےخالق کو یاد نہیں کرےگا۔ سخت پریشانی میں اللہ تعالیٰ کا نام یا ماں ہی یاد آتی ہی۔ شاہ حسین کا کلام اس طرح ہی:۔
مائےنی میں کنوں آکھاں دردوچھوڑےدا حال نی
دھواں دکھےمیرےمرشد والا جاں ویکھاں تےلال نی
فرمانِ الہیٰ یہی ہےکہ ہر مشکل کےبعد ضرور آسانی ہی۔ اس لئےکسی بھی راستےکےمسافر کو گبھرانا نہیں چاہیی۔ اندھیرےکےبعد روشنی کی کرن ضرور نمودار ہوتی ہے۔ بقولِ اقبال
دلیل صبح روشن ہےستاروں کی تنک تابی
فلک سےآفتاب ابھر ا گیا دور گراں خوابی
جہاں تک معاشرہ کی اصلاح کا تعلق ہےاس سلسلہ میں الہامی علوم یہی کہتےہیں کہ ہدایت اس کو ہی ملتی ہےجسےاللہ تعالیٰ اس قابل سمجھتا ہےکہ اسےہدایت عطا کی جائے،یہ بندہ ضرور ہدایت پرعمل کرےگا۔کسی مکار یا فراڈیا کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی ۔اگرفرد کےدل میں ہدایت حاصل کرنےکےلئےخلوص نہیں ہوگا تو اسےہدایت عطا نہیں کی جاتی۔ اہل تصوف کہتےہیں کہ سعید روح والےلوگ کسی کی تحریر پڑھ کر یا تقریر سن کر مثبت باتوں کو ذہن نشین کر لیتےہیں اور ہدایات حاصل کرنےکےمعاملہ میں ترقی کرتےچلےجاتےہیں جب کہ خامی شوقیہ و عظ و نصیحت و میلاد کی محفلیں سننےوالےواہ واہ کرکےسن کر ایک کان سےسن کر دوسرےسےنکال دیتےہیں ۔ان میں خلوص نہیں ہوتا۔ اس لئےان کی ترقی آگےنہیں ہوتی ،بہر حال دکھاوےوالاعمل مقبول نہیں ہوتا بلکہ خلوص والاعمل دربارِ الہیٰ اور درباررسالت مآب میں قبول کیا جاتاہی۔ یہی انسان کو آگےبڑھاتا ہی۔ ہمارےمعاشرہ کا یہ المیہ ہےکہ ہر آدمی دوسرےکو فراڈیا اور چور سمجھتاہےخود اپنا حساب نہیں کرتا۔ اور ہروقت شک میں مبتلا رہتا ہےکہ میرےساتھ دکانداردھوکہ نہ کر جائےوغیرہ ۔اس بات کا تجزیہ محترم اشفاق احمد اور قدرت اللہ شہاب کےروحانی رہنما حضرت فضل شاہ صاحب کےاس قول کےحوالہ سےکیا جاتاہے” تضاد اور شک میں مبتلارہنےوالوں کےلئےلطائف یعنی حقیقی علم تک پہنچنا ناممکن ہوتاہی“ ۔ یہی وجہ ہےکہ شیطان اور دجال کا سارا کاروبار شک ووسوسہ کی وجہ سےآگےبڑھتا ہے،اس کا بس کام ہےکہ لوگوں کےدلوں میں ہمیشہ شک و شبہ ڈال کر آدم کی اولاد کو باہم دست و گریبان کرتا رہی۔ اس لئےکامیابی حاصل کرنےکےلئےہمیں شیطانی وسوسوں سےبچنا چاہیےاور مثبت انداز فکر اپنانا چاہیی۔ مایوسی کی بات ادیب اور دانشور کو زیب نہیں دیتی۔ حکیم الامت کا کہنا ہے
”اک ولولہ ءتازہ دیا میں نےدلوں کو
لاہور سےتاخاک بخاراو ثمرقند
آپ نشرواشاعت کےجس مشن پر لگےہوئےہیں اگر تعداد میں کم افراد بھی آپ کےکام سےمستفید ہو گئےتو انشاءاللہ آپ دونوں جہانوںمیں کامیاب انسانوں کی فہرست میںشامل ہو جائیںگی۔ ایک زمانہ تا دیر آ پ کو اعلیٰ الفاظ میںیاد کرتا رہےگا۔ آخر میں میری دلی دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ آپ کےذوق وشوق اور علم وعمل اور عمر میں لافانی اور جان و مال اور اولاد میں بھی خصوصی برکت عنایت فرمائے۔آمین ۔
خواجہ محمد عرفان ایوب مکی سٹریٹ مسلم ٹاو¿ن راولپنڈی 03015483127


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 82
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 81
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 80
    بابا جی یحییٰ خان سےایک ملاقات تحریر : محمد عارف یہ جون کی ایک کڑکتی ہوئی دوپہر تھی کہ جب میرےمحترم دوست شوکت محمود اعوان (واہ کینٹ) نےمجھےبتایا کہ میرےایک دوست (سعید صاحب ) ٹریول لاج ، ٥ سڑکی پٹرول پمپ ، سکالر کالج ، پی سی ہوٹل کےنزدیک صدر…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply