کیا پاکستانی ادب لمحہءموجود کی ضرورت ہے؟ تحریر محمدعارف

کیا پاکستانی ادب لمحہءموجود کی ضرورت ہے؟
تحریر محمدعارف
ادب جغرافیائی حدود و قیود کا نام نہیں، بلکہ یہ ملکی سرحدوں کو عبور کرکےخطےکےجذبوں کو زبان عطا کرتا ہی۔ ادب پاکستانی نہیں ، ادب ایرانی نہیں، افغانی نہیں، انسانی ہوتا ہی۔ ہر ملک کی نظریاتی، جغرافیائی سرحدوں کو تحریروں میں جگہہ دیناادبِ عالیہ کا خاصہ رہا ہی، پاکستان میں بھی تخلیق ہونےوالےادب کی اجتماعی تصویر کشی سےپتہ چلتا ہےکہ وطنِ عزیز کےقیام کےاسباب، تحریکِ پاکستان ، پاکستان کی نظریاتی و ثقافتی اساس، قومی تاریخ کےاہم واقعات، ٦ ستمبر، ٦١ دسمبر 1971 ءجیسےمواقع کی واضح جھلک ہر جگہہ موجود نظر آتی ہی۔ سرحدوں پر منڈلاتےہوئے، بغاوت کےخطرات، ہمسایہ ملک کی بڑھتی ہوئی ثقافتی یلغار کےپیش نظر آج کےاہلِ قوم کی اولین ترجیح محولہ بالا موضوعات کا تخلیقی سطح پر اظہار ہی۔ ڈاکٹر رشید امجد نےایف جی، سرسید کالج کےپلیٹ فارم سے”پاکستانی ادب نمبر“ شائع کر کےاہم کام کیاہی۔ مغربی دانشوروں کی تحریروں نےنظریہءپاکستان کےتصور کو دھندلا دیا ہی۔ وہ یہ نکتہ واضح کرنےکی کوشش میں مصروف ہیں کہ پاکستان کا قیام محض اتفاق ہی، حالانکہ یہ ایک روشن حقیقت ہےکہ یہ ملک دنیاکےنقشےپر ایک خالصتاََ اسلامی نظریئےکی خاطر وجود میں آیا، مولانا حالی، اقبال اور اکبر الہ آبادی کےبعد ا‘متِ مسلمہ کی زبوں حالی، قومی عروج و زوال کا نوحہ کسی نےبھی اس شدومد سےبیان نہیں کیا جو وقت کا تقاضا تھا۔ ہمارےنظام ِ تعلیم میں نئی نسل کو تحریکِ پاکستان کےاسباب، واقعات اور شخصیات سےآگاہ کرنےکی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں ملتی۔ فیض احمد فیض کی انقلابی نظموں میں سیاست اور رومان کی باہم یکجائی فنی حسن، جمالیاتی خوش ذوقی کا باعث بنتی ہی۔ ”مجھ سےپہلی سی محبت میرےمحبوب نہ مانگ“، ”ہم دیکھیں گی“ جیسی نظموں سےانہیں شہرت ملی ۔ احمد فراز نےبھی ٦ ستمبر کےموضوع پر” شب خون“ میں شامل نظمیں کہیں، مارشل لا ، بنیادی انسانی حقوق کی پامالی بھی ان کےموضوع رہےہیں۔ ڈاکٹر مظفر عباس نےاردو میں قومی شاعری کےموضوع پر مفصل کام کیا ہےمگر آج کےپاکستانی اہلِ قلم پربھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ اسلامی جمہوریہ¾ پاکستان کےقومی تشخص اور ملی وقار کو اجاگر کرنےکےلئےکوشش کریںکیونکہ مغربی میڈیا اور دانشور دن رات اسلامی اقدار و روایات اور پاکستانی تہذیب و ثقافت کےحقیقی رخ کو مسخ کرنےکےدرپےہیں۔ پاکستان کےکالم نگاروں، مبصروں اوراہلِ قلم کو مشاہیرِ پاکستان، تحریک و تاریخِ پاکستان، قومی زبان کےحوالےسےاپنی نظموں، افسانوں، تحریروں کو پوری آب و تاب سےمزین کرنا چاہیئی۔ علامہ محمداقبال ترجمانِ حقیقت، شاعر مشرق گزرےہیں جن کی قومی شاعری نےپوری قوم کےدل میں ایک جوش وجذبہ قومی ولولہ پیدا کر دیا۔ نتیجتاََ دنیا کےنقشےپر ایک اور اسلامی نظریاتی ملک سامنےآیا، آج کےپر آشوب عہد میں تحریکِ تحفظ و استحکام ِ پاکستان کی بھی اتنی ہی شدید ضرورت ہی، کیونکہ ہم اپنی ناعاقبت اندیشیوں اور غفلتوں کی وجہ سےپہلےہی اپنا ایک بازو ختم کر چکےہیں۔ باقی ماندہ بچےکھچےپاکستان میں بھی اس وقت نسلی ، علاقائی اور لسانی تعصبات کی لہر محسوس کی جارہی ہی۔ کیا خدیجہ مستور کے”آنگن“ عبداللہ حسین کے” اداس نسلیں“ قرة العین حیدر کےناول ” آگ کا دریا“ کےبعد تقسیم اور فسادات کےموضوع پر اسقدر پائےکا کوئی ناول ملتا ہی۔ پاکستانی افسانہ نگاروں میں سےاحمد ندیم قاسمی کےافسانوں میں وطن کی مٹی سےمحبت کا احساس غالب ملتاہی۔ ٠٨٩١ ءکی دہائی میں ابھرنےوالےسیاسی مبصر اور قومی طرزِ احساس کےحامل دانشور بابا جی عنایت اللہ بھی تیزی سےشہرت و مقبولیت کی منازل طےکررہےہیں۔ ان کی تحریریں ”نادِ وقت“، ”آئینہ وقت“،” صدائےوقت“ کےنام سےچھپ کرسامنےآ رہی ہیں۔ بابا جی عنایت اللہ کےعلاوہ اس موضوع پرکوئی مفصل کام نظر نہیںگزرا، جو مغربی جمہوریت اور سیاسی اداروں کےحوالےسےدرست تاریخی منظرکو سمجھنےاور جاننےکی اہم کوشش کےطور پر سامنےآرہا ہو۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ پاکستانی دانشور اس موضوع کی وسعت، جامعیت اور مقتصدیت کےپیشِ نظر اسےادبی سطح پر سامنےلانےکی کوشش کریں۔
پروفیسر محمد عارف ترنول کالج، ترنول ضلع اسلام آباد


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 81
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 80
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 79
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply