ہاویہ اور حطمہ میں موازنہ تحریررضوان یوسف

031

rizwanyousaf

ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں نہ تو دولت کی خوشی باقی ہے نہ غربت کے لئے صبر بلکہ خوشی اور صبر دونوں ہی فکر آلودہ اور غم انگیز ہیں۔ سب جذبات ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ ہوکر کسی حد تک اپنی امتیازی خصوصیات سے محروم ہوچکے ہیں۔ فکر ،آنسو ،آہ اور حقیقی خوشی دنیا سے نا پید ہوچکی ہے۔ ذہن دل آج ایک ایسے بے آب وگیاہ نہایت ہی بنجر،بے رونق اور مایوس صحرا ہے۔ جس میں فکر کی ہواؤں میں پریشانی کے بگولے ہر سواٹھتے نظر آتے ہیں۔ ہر شخص ہوس وبے اطمینانی کا ایک بھوت بنا پھرتا ہے انسان آج مادی ترقی آسائش اور تحفظ کے لئے مادہ پر ستی کے ایک دہکتے ہوئے جہنم میں بڑبڑا رہا ہے۔ ایک ایسا جہنم جو اس شدت سے دہک رہا ہے جسکی مثال دینے سے تاریخِ انسانی قاصر ہے۔ لوگ جدید یت کے تقاضوں کی ذنجیروں میں جکڑے مادی جدوجہد کے میدان میں اترنے پر مجبور ہیں انہوں نے اپنے پہننے کے لئے خود ہی بیٹریاں تیار کر رکھی ہیں۔
ٓٓآخر اس مادہ پرستی ا ور ہوس کی منزل کیا ہے؟جو مال انسان اندھا دھند جمع کر رہا ہے اور بڑھانے کی فکر میں سرگرداں ہے ، سورۃ الھمزہ اس مال کا ٹھکانہ ’’حطمہ‘‘بتاتی ہے۔ مفسرین کرام کی رائے میں یہ آگ جہنم کی آگ ہے۔ معروف مفکر حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کی رائے میں یہ ایٹمی جہنم کی آگ ہے جو کہ اگلے دور کے جہنم کا ایک پر تو ہے، جسکے زیر اثر آنے والی ہر شے ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ بقول علامہ یوسف جبریل ’’حطمہ کا مطلب ہے آگ کا جہنم جو بھڑکتا ہے۔ ایٹمی آگ سے ان تمام خواص کے ساتھ جو ایٹمی فینامنن کے ساتھ ملحق ہیں یعنی ہیٹ یڈی ایشن ،بلاسٹ اور ریڈیو ایکٹویٹی۔ حطمہ کا لفظ لسانی اعتبار سے فعلی جذر،ح۔ط۔م یعنی حطم پر تعمیر ہوتا ہے اور حطم کے معنی ہیں کہ کسی چیز کو ریزہ ریزہ کردینا ۔ایٹم کا لفظ یونانی لفظ(Atomos)سے اخذ ہے۔ اٹامس کے معنی ہیں جسکو مزید توڑا نہ جاسکے۔حطم اور ایٹم کے لفظوں میں جوصوتی مماثلت موجود ہے وہ بالکل واضح ہے‘‘۔
علامہ یوسف جبریل نے اپنی کتب میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے۔ قرآن حکیم میں جہنم کی آگ کا تذکرہ بہت مقام پر آیا ہے۔ جسکی بنیاد پر علامہ یوسف جبریل نے کوہ ہمالیہ جیسی وزنی بات کر ڈالی۔ اس مختصر مضمون میں اتنے وسیع موضوع کو بیان کرنا سمندر کو کوزے میں بند کردینے کے مترادف ہے۔ تاہم سورۃ القارعۃ قیامت کا منظر خوبصورت مختصر اور جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس سورۃ میں اعمال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ جن کے اعمال کے وزن بھاری ہوں گے وہ جنت میں جائیں گے جب کہ جن کے اعمال کے وزن ہلکے ہوں گے وہ اپنی منزل’’ہاویہ‘‘کو پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ’’ہاویہ‘‘کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ غرض یہ کہ’’ہاویہ‘‘کو صرف بھڑکتی ہوئی آگ ہی بیان کیا گیا ہے۔ اگر ہم سورۃ الھمزہ کے ترجمہ کا بغور مطالعہ کریں تو اسکے آغاز میں عیب چننے والوں اور مال سمیٹنے والوں کے لئے وعید ہے کہ ان کا مال سدا رہنےکے لئے نہیں ہے۔ جس پر وہ نازاں ہیں اور بڑھانے اور گننے کی فکر میں مصروف ہیں بلکہ یہ مال تو ’’حطمہ‘‘میںڈالا جائے گا۔ حطمہ کی حقیقت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہی ہے لیکن یہ آگ چند ایسی خصوصیات کی حامل ہے جن کا ذکر’’ہاویہ‘‘ کے ضمن میں نہیں کیا گیا۔ وہ خصوصیات یہ بتائی گئی ہیں کہ اول تو یہ’’چڑھتی ہے دلوںتک‘‘۔ جدید تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ ایٹم بم کے دھماکے کے بعد اس بم کی قوت کے مطابق ایک خاص علاقے سے ہوا کا اخراج ہوجاتا ہے۔ اسکے نتیجے کے طور پر اس جگہ پر گرمی کی شدت حد درجہ تک بڑھ جاتی ہے اور اسکا پہلا اثر تو انسانی دل پر پڑتا ہے اور نتیجتاًدل جل کر بھن جاتا ہے۔ اسکے بعد جب وہ ہوا واپس اس علاقے میں آتی ہے تو ایک بھونچال آجاتا ہے۔ ہوا اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز حتیٰ کہ ہوائی جہاز جیسی وزن دار چیزوں کو بھی پرزے پرزے کر ڈالتی ہے۔ عام ہوا بھی انسان کے پرخچے اڑا دیتی ہے اگر انسان کے جسم کے اندر کی ہوا نہ ہوتی۔
اسکے علاوہ یہ کہ یہ آگ ’’بند کی ہوئی ہے ستونوں میں‘‘اگر ایٹم بم کے دھماکہ کی تصویر کو بغو ر دیکھا جائے تو یہ بھی ستون نما ہے۔ اگر ہم ڈبے میں بارو بھر کر اسے میز پر رکھ دیں اور اسے آگ کی سلائی دکھائیں تو وہ بھک سے اڑجائے گا اور آگ نکلنے لگے گی توہر ذی شعور انسان اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ڈبے میں آگ ہی بند ہے۔ قرآن حکیم کی ایرانیوں پر رومیوں کے غلبے کی متعلق پیشن گوئی نوبرس کے قلیل عرصے میں پوری ہوگئی لیکن قرآن حکیم کی ایٹمی آگ کے متعلق اس عظیم پیش گوئی کو پورا ہونے کے لئے صدیوں کی مسافت طے کرنا پڑے گی اور اگرانسانیت نے اس حوالے سے احتیاط نہ برتی تو یقیناایک دردناک انجام سے دوچار ہونا پڑیگا۔
بقول علامہ یوسف جبریل’’اگرچہ میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا لیکن اس بات کا امکان ضرور موجود ہے کہ یہ ساری پیشن گوئی جس پر موجودہ انسانیت کی موت وحیات کا دارومدار ہے۔ پردہ اخفاء میں رہ جاتی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ پیشن گوئی صیغہ ء راز میں رکھنے کے لئے قرآن میں نہیں رکھی تھی بلکہ اسے انسانیت سے اتمام حجت کا فریضہ انجام دینا تھا‘‘۔
آگ ہے اولادِابراہیم ہے نمرودہے
کیاکسی کوپھرکسی کا امتحان مقصود ہے
(علامہ اقبال)

 


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 44
    دور جدید میں قران حکیم کا ایک لازوال اور محیرالعقول سائنسی اور ایٹمی معجزہ معروف ِزمانہ یہودی مشتشرق اینی مری شمل اور علامہ یوسف جبریل کےدرمیان قران حکیم کےاس اہم موضوع پر یادگار مذاکرےکی تفصیل و روئیداد تحریر علامہ محمد یوسف جبریلؔ ستمبر 1963 ءکا واقعہ ہے۔ انہیں دنوں مائینڈ…
  • 42
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 40
      ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply