Goals & Objectives

نصب العین : علامہ محمد اقبال ، علامہ یوسف جبریل ، اور دیگر مفکرین و بزرگانِ دین کےاُفکار کی عام فہم انداز میں ترویج و اشاعت اغراض و مقاصد:
٭نوجوانوں کی فکری راہنمائی اور فکری بہبود کیلئےکام کرنا۔
٭تعلیمی اداروں میں جا کر نصب العین کا پرچار کرنا۔
٭نصب العین کی روشنی میں طلباءمیں مقابلےکا رجحان پیدا کرنا۔
٭قومی ایام کی اہمیت کو اُجاگر کرنا اور منانا۔
٭اساتذہ کرام کی فکری راہنمائی کیلئےنشستیں منعقد کرنا۔
٭ صحت،خون ،تعلیم اور روزگارکےشعبوں میں فلاح وبہبود کا رجحان پیدا کرنا۔
٭ مخیر حضرات کےتعاون سےکتابوں کی مفت تقسیم ۔

:تحقیقی ایجنڈا:
یہ ایجنڈا نصب العین کی تحقیق و تشریح سےاُبھرنےوالےنکات پر مشتمل ہےاور اس میں اضافہ یاکمی نصب العین پر تحقیق کی بنیاد پر ہی ہوسکتاہی۔تحقیق کتب،مضامین یاخطابات کی صورت میں کوئی بھی ممبر پیش کرسکتا ہی۔
(١)قران حکیم کےپیغامِ امن کو انسانیت میں عام کرنا ۔دنیا میں امن کےقیام اور اُن وجوہات کو ختم کرنےکی کوشش کرنا جنہوں نےباہم دست و گریبان ہونےکی صورتحال پیدا کی ہی۔
(٢)قران حکیم کےمطابق حقیقی فلاحی معاشی وسیاسی نظا م کی حقیقت و اہمیت، عملی اصول و ضوابط ، نفاذ کا لائحہءعمل وغیرہ کو واضح کرنا ۔دیگر معاشی و سیاسی نظریات اور نظاموں کا اسلامی معاشی وسیاسی نظام کےساتھ تقابلی جائزہ دےکر واضح کرنا۔ جاگیرداری، سرمایہ داری ، سیاسی تقسیم کی بنیاد پر قائم نظام ِ سیاست کی اصلاح کرکےمسلمانوں کو ایک مرکز اور نظریہ پر مجتمع کرنےکی عملی کوششیں کرنا۔
(٣)قران حکیم کےمطابق مادیت اور سائنس پر انسان کےاندھےبھروسےکےعقیدےکی اصلاح کرنا۔روحانیات اور اخلاقی قدروں کا فروغ اور موجودہ دور میں دین کےکردار کو واضح کرتےہوئےفرقہ واریت کےاثرات کو کم کرنیکی کوشش کرنا ۔دینِ اسلام کےتمام بنیادی نظاموں (نظامِ معیشت، مذہب، سیاست، معاشرت ، ثقافت) پر تحقیق اور تمام نظاموں کا یکےبعد دیگرےعملی نفاذ بالخصوص ان نظاموں کو عملی حیثیت دلوانا کہ جن کو دین کا حصہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔
(٤)ایک دوسرےسےجوڑنے،بھائی چارہ اور اُخروی فوائدکی بنیاد پر ایک بلاشبہ فلاحی نظام کاتعارف اور قیام کی کوشش کرنا۔لالچ ، ہوس ،جہالت ،کم علمی،ناانصافی،ظلم ،بےایمانی ،بددیانتی کی نفی کرتےہوئےاجتماعی فائد ےکی سوچ اپنانےکی ترغیب دلانا۔
(٥) انسان کو انسان کی پہچان اور عام آدمی کو انسانیت کےبنیادی اصولوں سےمتعارف کرواکر معاشرےکا مفید شہری بنانےکی کوشش کر نا۔ذمہ دار،ایماندار، تربیت یافتہ، انسانیت دوست لوگوں کو متحد اور مضبوط کرنا ۔
(٦) تحقیق ، جائزےاور اندازوں سےایسی حکمت ِ عملی ترتیب دینا جس سےمادی وروحانی خواہشات کو توازن میں رکھتےہوئےمعاشرتی ترقی اور انسانی زندگی کےمعیار کو بلند کیا جاسکی۔
(٧)طبقاتی و تفاوتی نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کا خاتمہ، مغربی لادین نظریہءتعلیم کےمقابلےمیں اسلامی نظریہ و طریقہءتعلیم کی تحقیق ، تشریح اوربنیادی فرق واضح کرنا۔ (جاری ہی)

OQASA Goals and Objectives:

  1. Economically stabilize the community and moving it toward prosperity through economic and social justice.
  2. To conduct policy through research, surveys and assessments to enhance productivity and quality of life of Humanity through a balance between Material and Spiritual Desires.
  3. To serve those most in need. We help individuals and families to maximize their potential and provide financial assistance if needed to individuals who want to eliminate interest based debts through mutual cooperation.
  4. To fight hunger and injustice through community partnerships with generous contributor and people of faith and ethics.
  5. Activities to Enhance the Psychological, Social, and Spiritual health ofSociety and amplify new voices within the global discussion.
  6. Provision of resources and social services to the poor but good character sections of society to improve their quality of life.
  7. Networking and partnership building for collective and collaborative action to facilitate development process and to evolve good policies and planning for social development.
  1. To assemble people to help themselves, for revolutionize expansion so as to diminish and eradicate worse desires, scarcity, nastiness, lack of knowledge, inequality, aggression and cruelty.

 

OQASA Mission:

  1. Efforts to establish and maintain Peace situation on the Globe and eliminate the root causes which created issues. Spread of message of Peace given by Quran to whole mankind.
  2. Introduction, Implementation and Maintenance of Real Socio-Economical and Political System one best for human beings and society according to Holy Quran.
  3. Rectification of Ideology of Trust in Science and material according to the Order of God Almighty and explanations of his beloved ones.
  4. Introduction, Implementation and Maintenance of Genuine fool proof Welfare System through networking on the basis of After World Benefit and brotherhood.
  5. Introduction of reality and value of Human being and converting simple man to human being and thus a Productive citizen of the Globe.
  6. Explore the role of Religion in the Present state of World. Encourage Spiritualism and Moral Values and reduce the effect of Sectarianism by invoking other Branches of Religion.
  7. Unifying and Empowering the Responsible Human Being to eradicate irresponsible from Command and Control System.
Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 81
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 80
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 80
    شعبہ جات شعبہ ریسرچ اینڈپلاننگ نوٹ: اصلاحی معاشرےکیلئےفلاحی ذہن کی ،فلاحی ذہن کیلئےذہن سازی کی،ذہن سازی کیلئےدلائل کی اور دلائل کیلئےتحقیق و مطالعہ کی ضرورت ہو تی ہے۔ ا)تحقیقی ایجنڈےکےمطابق مضامین اور کتابیں تیار کرنا اور نئےتحقیقی پہلوئوں کو اجاگر کرنا۔ ب)نصب العین سےمتعلق موضوعات پر کام کرنےوالوں کو ایک…