Introduction

مختصر تعارف
علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر آج کی دنیاکو ایٹمی تباہ کاری کا طوفان در پیش ہی۔آپ اعوان قبیلےسےتعلق رکھتےہیں اور آپ کا شجرہ نسب حضرت علی تک پہنچتا ہی۔بچپن سےہی اعلٰی ذہانت ،یاداشت اور غور وفکر والی طبیعت تھی۔ابتدائی تعلیم خوشاب اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں حاصل کی پھر علاقائی رواج کےمطابق فوج میں بھرتی ہوگئی۔وانا آپریشن میں حصہ لیا اور پھر عراق بھیج دیےگئی۔گورکھا ٹوپی پہننےسےانکار پرسزا کےطورپر فوج سےکورٹ مارشل ہو گیااور وہیں جیل میں حضرت ابراہیم ، حضرت خضر ،حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سےروحانی ملاقات ہوئی اور انسانیت کو آگ سےبچانےکا مشن عطا فرمایا گیا ۔اُس کےبعد اُنکی قلبی ہئیت ہی بدل گئی اور حصولِ علم کی جستجو میں لگ گئی۔قدیم وجدید سائنس،معاشیات ،فلسفہ،تاریخ ،فقہ،تصوف،ادب،تکنیکی علوم غرضیکہ ہر شعبہ میں کاوشِ حصولِ علم کرتےرہی۔آپ نےقدیم و جدید علوم کاوسیع مطالعہ کیا اور اسطرح پڑھا کہ ہر نکتےاور ہرپوائنٹ پر غوروفکر کیا اور اس کےسقم و خوبی کو پرکھااور سب کچھ بغیر استاد کےپڑھااور اس حصول ِ علم کےساتھ ساتھ روحانی منازل بھی طےکرتےرہی۔آپ روزگار کےسلسلےمیں زیادہ وقت مشرق ِ وسطیٰ میں مقیم رہی۔قران کریم کی سورہ الھمزہ کی موجودہ دور کےحوالےسےچودہ جلدوں پر مشتمل سائنسی تفسیرلکھی اور قران حکیم میں ایٹم بم کےتذکرےپر بحث کی۔یہ سائنسی تفسیر انگریزی زبان میں امریکہ سےشائع ہوئی ہےجبکہ اس کا ابتدائی اظہار اردو زبان میں پاکستان سےبھی شائع ہوا ہی۔حضرت علامہ صاحب نےخدا کی اس زمین پر بسنےوالی مخلوق کو ایٹمی جہنم اور حطمہ کی تباہ کن ہولناکیوں اور بربادیوں سےبچانےکیلئےقرآن حکیم اور سائنس کی واضح روشنی میں بتایا کہ ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری کس طرح انسانیت کےلئےایک بہت بڑےخطرےکی شکل میں اژدھا کی مانند منہ کھولےکھڑی ہی۔ صرف قرآن حکیم انسانیت کو اس المناک عذاب سےنجات دلا سکتا ہےاور اس عذاب سےنجات صرف اسی صورت میں مل سکتی ہی۔ جب اس سزا کی مذکورہ بالا ان تین وجوہ کو ختم کیا جا سکےجن کا ذکر آج سےچودہ سو برس قبل قرا ن حکیم میں آ گیا تھا۔ سائنس دانوںنےلفظ (مکمل تباہی) استعمال کیا اور کہا کہ جھگڑےختم کرنےکےلئےپیداوار بڑھاو¿۔ قرآن حکیم نےاس کےبرعکس سارےجھگڑےکی وجوہ بیان کرکےمعجزہ کردیا اور علامہ صاحب فرماتےتھےکہ اس معجزےکو اجاگر کرنا اس کی تشریح کرنا اور اسےانسانیت تک پہنچانا ان کا کام ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل قرآن حکیم کےتلمذ، علامہ اقبال کےشیدائی اور ہادیءاکرم ، تاجدار عرب و عجم حضرت محمد کےفدائی تھی۔ اس کا ثبوت علامہ صاحب کی زندگی تھی۔ وہ کٹھن راستہ تھا جس پر وہ ثابت قدمی سےگامزن رہےاور مشکل سےمشکل لمحات میں بھی ان کےپایہ ءاستقلال میں لغزش نہیں آئی تھی۔ سائنس نےمسلمانوں کےعقائد پر جو منفی اثرات ڈالےہیں ، اُنکی اصلاح کیلئےآپ کی تحریریں نمایاں خدمات سرانجام دےرہی ہیں مثلاً فلسفہ تخلیق کائنات اور ہتھیاروں کی دوڑ اور دُنیائےانسانیت کےامن کو پائےجانےوالےخطرات کی نشاندہی کرتےہوئےان مسائل پر تفصیل سےبحث کی اور قران حکیم کی روشنی میں اُنکا حل تجویز کیا۔آپ نےدنیا میں پائےجانےوالےتمام چھوٹےبڑےفسادوں کی جڑ لالچ و ہوس کو قرار دیتےہوئےخود بھی تمام زندگی اس عفریت کےخلاف عَلم جہاد بلند کرتےرہےاور زندگی کےمختلف شعبوں میں اسکےکردار کو واضح کرتےرہی۔اسکےعلاوہ انہوں نےمسلم اُمہ کو جدید بت پرستی سےروکنےمیں اپنی توانائیاں صرف کیں۔وہ اکثر تلقین فرماتےہیں کہ جدید دور کےبت بھی اتنےجدید ہیں کہ اکثر اُن کو بت تصور ہی نہیں کیا جاتا۔ بیکنی فلسفےپر علامہ صاحب بہت زور دیتےتھےاور کہتےتھےکہ دنیا کا تمام تر نظام اب بیکنی فلسفےپر چل رہا ہےاور مادیت پرستی اس قدرپھیل چکی ہےاور مستقبل میںپھیلےگی کہ مسلمان اور غیر مسلم میں فرق مٹ جائےگا۔ وہی دنیاوی اغراض، وہی دنیاوی حسرتیں وہی دنیاوی لالچ، وہی دنیاوی فخر و غرور، بڑی بڑی بلڈنگیں تعمیر کرنا اور ترقی کےمراحل سےحطمہ کی طرف بڑھنا ہی۔ دنیا کےبڑےبڑےسائنسدانوں،فلسفیوں،سکالرز کو قران حکیم کےپیغام سےروشناس کروایا۔ہائیڈروجن بم کےبانی ایڈورڈ ٹیلر اور معروف فلسفی برٹرینڈ رسل سےاُنکی خط و کتابت بہت اہمیت کی حامل رہی۔بہت سی دیگر ملکی و غیر ملکی شخصیات سےخط و کتابت رہی۔قرآن حکیم کےحوالےسےمتعدد مناظروں میں بھی شرکت کی۔مستشرقین کےاعتراضات کےجواب دیتےرہی۔ڈاکٹراینی میری شمل سےقران کی الہامی حیشیت پر اُنکا مناظرہ بہت مشہور ہی۔ معاشیاتِ اسلام پر چار جلدیں تحریر فرمائیںاور اُمتِ مسلمہ کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔آپ کےخیا ل میں جب تک ملکیت کا صحیح اسلامی تصور نافذ نہیں کیا جائےگا تب تک غربت ،بےایمانی اور بےانصافی ختم نہیں ہو سکتی۔انہوں نےاسلامی معاشی نظام کےبنیادی ستونوں کی وضاحت فرمائی جو کہ قانون کی حیشیت رکھتی ہیں اور اگر اسلامی ریاست میں نافذکردیےجائیں تو ریاست جنت نظیر ہو سکتی ہیں۔ اُمت ِمسلمہ کو درپیش چیلنجز پر اُنہیں مکمل عبور تھا اور اُنکی تحریریں اُمت کیلئےایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتی ہیں۔تحریک ِ پاکستان میں اہم کردار رہا۔ قائد ِ اعظم سےاپنےساتھیوں کےہمراہ ایک یادگار ملاقات اُس وقت کی جب قائد مسلمانوں کےرویوں سےنالاں ہو کر لندن جانےکا سوچ رہےتھے۔وہا ں علامہ صاحب نےایک بھرپور جذ باتی تقریر کی اور انکو تعاون کی بھرپور یقین دہانی کروائی ۔علامہ اقبال اُنکےروحانی مرشد کا درجہ رکھتےہیں اور اُنہی کی طرز پر شعری مجموعےبھی مرتب کیےمگر وہ اپنےکلام کو شاعری کہنےسےمنع فرمایا کرتےتھی۔درحقیقت اُنکا کلام تفریح ِ طبع کیلئےنہیں بلکہ اُمت کو نقصان کا احساس دلا کر ایک نئےحوصلےسےاُٹھنےکی دعوت دیتا ہی۔ اسی شاعری کےبارےمیں حضرت اقبال کےفرزند جسٹس جاویداقبال نےتبصرہ کرتےہوئےفرمایا تھا : ” اس شاعری میں فکر اقبال کا عکس ملتا ہےاور ایک طرح سےیہ اقبال کی شاعری کی بازگشت ہے“۔نظریہ پاکستان کےحوالےسےاُنکی خدمات نمایاں ہیں شاید یہی وجہ ہےکہ نوائےوقت اُنکےمضامین بالا تاخیر شائع کرتا تھا۔جب پاکستان میں قانون سازی کا مرحلہ چل رہا تھا تو اُس وقت علامہ صاحب بادشاہی مسجد میں ریسرچ سکالر انوسٹیگیٹرتھے۔آپ نےمصر کےگورنر کیلئےاُسکےوالد کا خط انگریزی میں ترجمہ کرواکر تمام افسران اور ممبران اسمبلی کو بھیجا ۔کئی بار ملکی و غیر ملکی سفیروں اور وکلاءسےخطاب کیےاور متعدد جگہ قران اور سائنس کےموضوع پر لیکچر کےلیےبلائےجاتےتھی۔طب اور ہومیو پیتھی پر گہر ا عبور رکھتےتھے۔کینسر کےعلاج کےحوالےسےکافی سرگرم رہےاور ایک نسخہ بھی ©©آپکےنام سےمنسوب ہی۔جنرل ضیاءالحق کےدور میں جب مغربی دنیا اور بھارت نےپاکستان کےایٹمی پروگرام کو اسلامی بم قرار دیتےہوئےاس کےخلاف زہر اُگلا تو جنرل صاحب کےکہنےپر علامہ صاحب نےایک کتاب ”اسلامی بم“ لکھی جس نےاُنکےاُس پروپیگنڈہ کو خاموش کروادیا۔طنز ومزاح کےحوالےسےاُنکی کتاب” چڑیا گھر کا الیکشن“ نےکانی پذیرائی حاصل کی اور کئی اخباروں میں قسط وار شائع بھی ہوئی۔آپ کےہزاروں مضامین پانچ دہائیوں تک اخبارات و رسائل کی زینت بنتےرہی۔ واصف علی واصف،ڈاکٹر علائوالدین صدیقی،پیربہاول شیر گیلانی اورپیر کرم شاہ صاحب اُن کےاچھےدوستوں میں تھی۔اولیاءکرام سےآپ بہت تعلق رکھتےتھےاور اکثر مزارات پر حاضری معمول ہوا کرتی تھی۔1982ءمیں تصانیف مکمل کیں اور پھر روحانی منازل کو مکمل کرنےمیں باقی عمر صرف کی مگر علم سےوابستگی قائم رہی۔آپ نےزندگی میں بہت سےخواب دیکھےاور اُن میں سےچودہ خوابوں کو وہ رویائےصادقہ کہا کرتےتھےجو اُنکی زندگی ہی میں شرمندہ ِ تعبیر ہوئی۔علامہ صاحب نےاپنےمشن کی تکمیل کےلئےخوابوں کا سہار ا کبھی نہیں لیا تھا۔ چالیس برس پر محیط مجنونانہ علمی تحصیل کی جدوجہد ایک ذہن پاش، کمرشکن، اور زہرہ گداز جنگ تھی جو علامہ صاحب نےاستاد، کالج، یونیورسٹی اور مالی تعاون کےبغیر تن تنہا لڑی۔ ایسی کوئی دوسری مثال بڑی مشکل سےتلاش کی جا سکتی ہی۔ علامہ صاحب کی علمی فتوحات کی گہرائی تک اس وقت پہنچا جا سکےگاجب آپ کی تمام تصانیف شائع ہو کر تشنہ گان علم کےہاتھوں میں جا پہنچیں گی۔ اسےعلامہ صاحب نےہمیشہ اپنےپروردگار کی عنایت سمجھا نہ اس پر کبھی فخر کیا نہ شہرت و ناموری کی تمنا رہی۔5جنوری 2006ءبمطابق ٦ ذی الحج بروز جمعرات دارِ فانی سےکوچ کر گئی۔وفات سےلےکر دفن ہونےتک بےمثال کرامات کا ظہور ہوا۔آپ کےجنازےمیں لاکھوں کی تعداد میں عوام وخواص نےشرکت کی۔آپ کا مزار مبارک جبریل روڈ ،غربی ملک آباد واہ کینٹ میں ہےجہا ں ہر سال ذی الحج کےپہلےہفتےمیں خراج ِ عقیدت پیش کرنےکیلئےتقریب ِ عرُس منعقد کی جاتی ہی۔اُنکی بےپناہ کرامات لوگوں میں مقبول ہیں اور روزانہ کئی لوگ آپ کےمزار پر حاضری دیتےہیں اور عقیدت کےپھول برساتےہیں۔
علامہ یوسف جبریل نےاپنی زندگی میں QAASA(Quran Antiatomic Scientific Arguments) کی بنیاد رکھی تھی جو قرانِ حکیم کےابدی پیغام کو سائنسی حوالےسےعالمِ انسانیت تک پہنچانےکی نیت سےبنائی گئی ۔اس کا آغاز اُس وقت کیا گیا جب علامہ صاحب قرانِ حکیم اور ایٹم بم کےحوالےسےتحقیق مکمل کر چکےتھی۔ بعد میں اُنہوں نےاسلامی معاشی نظام،سیاسیات، معاشرتی مسائل اوردیگر موضوعات پر بھی تفصیلی کام کیا اور ایک انقلابی سوچ دی،جو فکرِ اقبال کا تسلسل ہی۔1984ءکےبعد اپنا علمی کام مکمل کرنےکےبعد روحانی منازل مکمل کرنےکیلئےمکمل گوشہ نشینی اختیار کر لی اور باقی زندگی اُسی پراپنی پوری توجہ مرکوز کیےرکھی۔اسی لئےیہ تنظیمی طور پر فعال نہ ہو سکی۔البتہ اُن کےبڑےصاحبزادےشوکت محمود اعوان نےادارہ تصانیف ِ جبریل کی بنیاد علامہ صاحب کی زندگی میں ہی رکھ دی تھی ۔اس ادارےکےزیرِاہتمام علامہ یوسف جبریل کی لگ بھگ ٥٢ کتابوں کی اشاعت عمل میں آئی ۔بعد میں اس ادارےکا نام بدل کر ادارہ اُفکارِ جبریل رکھا گیا جس کےذریعےکتابو ں کی اشاعت کےساتھ ساتھ تحقیق و تدقیق کا کام بھی شروع ہوا اور علامہ صاحب کےاُفکار کی تشریحات کی گئیں اور انکو تحریر کےذریعےعوام تک پہنچانےکی سعی کی گئی۔
علامہ صاحب کا کوئی بھی موضوع ہو سب میں ایک چیز مشترک ہےاور وہ ہےمادیت پرستی میں انتہا پسندی کی نفی اخلاقی قدروں کا فروغ ، زندگی کےتمام شعبوں میں اسلامی فلاحی اصولوں کی حاکمیت ،امت ِمسلمہ کےزوال کےاسباب کی نشاندہی اور تدارک،قرانِ کریم کےپیغام کو عالمِ انسانیت تک پہنچانا وغیرہ وغیرہ۔لحاظہ 2005ءمیں QAASA کا نام بدل کر OQASA (Organization for Quran’s Antimaterialism Scientific Arguments) رکھا گیا ۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےاسلامی معاشی نظام پر جامع کام کیا اور اسلامی معاشی نظام کی ابتدا قربانی کےجذ بےاورفلاح و بہبود کےتصور سےہوتی ہےاور اسکی انتہائی شکل ایک اسلامی فلاحی ریاست ہوتی ہے ۔ انسانو ں کےبنائےہوئےکسی نظام میں اتنی وسعت اور بالید گی نہیں ہےجتنی کہ اسلام میں ہی۔مسلمانو ں کی اکثیریت اس حوالےسےشدید لاپرواہی برتےہوئےہی۔یہی وجہ ہےکہ دیگر نظام تو زبان زدِعام ہیں مگر اسلامی نظامِ معاش کےمتعلق واقفیت نہ ہونےکےبرابر ہی۔ہر فلاحی سوچ رکھنےوالا انسان اس نظام کو پسند کر تا ہی۔فلاحی سوچ پیدا کرنےکیلئےایک ابتدائی تربیت گا ہ کی ضرورت ہوتی ہےجو لالچ و ہوس پر مبنی اس معاشرےمیں بھائی چارےکا نہ صرف درس دےبلکہ عملی نمونہ بھی پیش کری۔اس مقصد کےلیےجبریل ویلفئر سوسائٹی کا آغاز کیا گیاتھا ۔تکنیکی اعتبار سےپائیداری کیلئےضروری ہےکہ ہر شخص وہ کام کرےجس کا وہ تجربہ رکھتا ہو۔لحاظہ وکیلوں ،کسانوں ، مزدوروں وغیرہ کےعلحدہ شعبےہوں جو اپنی مدد آپ کا جذبہ اور حقوق و فرائض کا تعین کرتےہوئے، مثبت سوچ اور عمل کےساتھ بھلائی کےکاموں میں تعاون کو یقینی بنا ئیں اور برائی کو ہر ممکن روکنےکی کوشش کریں۔
فلاحی شعبو ں کا بنیادی نظریہ: ہر ممبر کوئی ایک کام کر ےاور اور اُسکا فائدہ تمام سوسائٹی یا کچھ طبقےحاصل کر سکیں ۔ہر کام کو ترتیب سےمخصوص ممبران کو دیا جاتا ہےجو باقی ممبران کیلئےوہ کام کرتےہیں اور باتی ممبران بھی اسی طرح کچھ کام کرتےہیں اور فائدہ نہ صرف تمام ممبران کو پہنچتا ہےبلکہ اس کےاثرات معاشرےمیں پھیلتےہیں ۔ہر ممبر کی طرف سےکچھ قربانی پیش کی جا رہی ہو اور اُ س کےبھی بہت سےمسائل دوسروں کےہاتھ حل ہو رہےہوں ۔یہ وہ لازمی اصول ہےجس کی پابندی ہر ممبر کیلئےضروری ہے۔اس کا مقصد ایک طرف تو ہر ممبر میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا اور اُسکو معاشرےکا ایک بہترین فرد بنانا ہےاور دوسری طرف ©©©’بھائی بھائی‘ کا جو خوبصورت تصور اسلام نےپیش کیا ہےاُس کی عملی تصویر پیش کرنا ہی۔اسکےعلاوہ یہ کہ ’اگر جسم کےایک حصےمیں تکلیف ہو تو وہ دوسرےحصےمیں بھی محسوس ہو ‘ اور اُس کےتدارک کا انتظام کیا جائے۔ بنیادی مقصد فلاح و بہبود کا ذہن تیا ر کرنا اور معاشیاتِ اسلام کو مدِنظر رکھتےہوئےفلاحی ریاست کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہےاور مدینےکی پہلی فلاحی ریاست کو اپنا رول ماڈل اور مشن بنا نا ہی۔
دنیا کی بہت سی فلاحی ریاستوں کےافراد رضاکارانہ طور پر کام کرنےکو اپنےلئےباعثِ فخر محسوس کرتےہیں مگر ہمارےہاں یہ سوچ صرف چند افراد تک محدود ہی۔اکثر یت تو اپنےفرائض سےہی غافل ہےاور خواہش ِ نفس کی پیروی میں اپنےذاتی مفادات کو ہی فوقیت دیےہوئےہے تاہم ایسا ماحول پیدا کرنےکی کوشش کرنا ہےجو ہمیں پانی کا پیالہ آگےبڑھانےپر مائل کر سکی۔
علامہ صاحب کا مشن کسی خاص مکتبہ فکر سےمتعلق نہیں بلکہ جملہ انسانیت کیلئےہےاور اسلئےاس میں حصہ لینا اور اسکو پایہ تکمیل تک پہنچانےکی کوشش کرنےمیں ہی انسانیت کی فتح ہی۔ اس مقصد کیلئے٩ نومبر ٥١٠٢ءکو یوسف جبریل فائو نڈیشن کی بنیاد رکھی گئی اور اوکاسا اور جبریل ویلفئر سوسائٹی کےتمام شعبوں کو اس میں ضم کر تےہوئےعوامی کردار کیلئےممبر شپ کا آغاز کر دیا گیا ہی۔

٭٭٭٭٭٭٭

Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 96
    علامہ محمد یوسف جبریل ایک جائزہ تحریر محمد عارف علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمانان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل رہی۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دیتےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب…
  • 84
    وادی سون کاتعارف تحریر : شوکت محموداعوان پاکستان کی حسین و جمیل وادیوں میں وادی سون دلفریب مناظر کی حامل ایک مشہور وادی ہی۔ یہ وادی کوہستان نمک کےعلاقےکا حصہ ہےاور اپنےقدرتی مناظر ، خوش گوار ماحول، ٹھنڈےموسم اور زمین میں معدنیات کےبھر پور خزانوں سےمزین مشہور وادی ہی۔ اس…
  • 83
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…