آئینہ وقت دعوت فکر و عمل تحریرجنرل (ر) حمید گل

042

hameedgul


عنائیت اللہ صاحب نے اپنی کتاب’’ آئینہ وقت‘‘ میں بڑے احسن انداز میں حقیقت نگاری کی ہے۔ اگرچہ یہ ان کی پہلی کاوش ہے۔ لیکن بڑے سلیس و سادہ زبان میں بڑے درد دل کے ساتھ اعلیٰ جذبوں کے ساتھ، اعلیٰ جذبوں سے مزین ہو کر عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ عنائیت اللہ صاحب کے روحانی پیشواء جناب واصف علی واصف صاحب( مرحوم) ہیں۔ جن سے ان کا چار دہائیوں سے واسطہ رہا ہے۔ جو کہ خود دو درجن سے زائید کتابوں کے مصنف ہیں۔ اگرچہ مجھے واصف علی واصف صاحب سے ذاتی طور پر ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ لیکن یقینی طور پر کتاب’’ آئینہ وقت‘‘ میں ان کی برسوں کی صحبت کا اثر نمایاں ہے۔
پاکستان برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی صدیوں کی بے پناہ قربانیوں اور انتھک جدوجہد کا ثمر ہے۔ لیکن ہم نے اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کے فرمان اور قائد اعظم کے ارشادات کو پس پشت ڈال کر سامراجی نظام کو تقویت دی۔ جو کہ آزادی کے بعد بھی ۵۲ سال سے ہم پر مسلط ہے ۔ اسی سامراجی نظام کی بدولت ہم پر فرعونی (حکمران طبقہ) ہامانی (وزراء نوکر شاہی، وڈیرہ شاہی) ، قارونی ( سودخور اور سرمایہ دار) آزری ( ان تینوں طبقوں کے حمائتی مذہبی پیشوا) ہم پر مسلط ہیں۔ ’’آئینہ وقت‘‘ میں ا س طبقاتی کشمکش کی بہت خوبی سے عکاسی کی گئی ہے۔ جوں جوں وقت گذرتا جائے گا۔’’ آئینہ وقت‘‘ کے احوال واضح ہوتے جائیں گے۔ یہی ایک سچی کتاب کی خوبی ہوتی ہے۔
کتاب کے آخر میں مصنف کے اکیس سوالات ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ ہمارے اہل دانش اور اہل قلم حضرات کو دعوت فکر اور عمل دیتے ہیں۔ کہ وہ آگے آئیں۔ ان سوالات کی روشنی میں جو زاد راہ کا کام کر رہے ہیں۔ اصلاح احوال کے لئے یعنی مقاصد پاکستان کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہو جائیں گے۔
اپنی ملت پرقیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
((اقبال))
ہمیں مغرب کی جمہوری اقدار کی بجائے اپنی اقدار کو اپنانا ہو گا۔ کیونکہ مغرب کی جمہوری روایات کا منبع و مخرج ان کی پارلیمنٹ ہے ۔جب کہ ہمارے لئے قران و سنت آخری حکم ہے۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق نہیں کیونکہ اللہ کی کتاب مکمل ہے۔ پارلیمنٹ صرف اللہ کے دیئے ہوئے قانون کی روشنی میں قانون بنانے کی پابند ہے۔ عنائیت اللہ صاحب نے مغرب کے جمہوری نظام کے اس سلسلہ کی بڑے احسن طریقے سے خرابیوں کو آشکار کیا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عنائیت اللہ صاحب کے زور قلم میں اضافہ کرے۔

میری عنائیت اللہ صاحب سے استدعا ہے ۔کہ وہ اپنی نگارشات کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا مقاصد پاکستان کی تکمیل میں حامی و ناصر ہو۔

((جنرل (ر) حمید گل))

 


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 69
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 57
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 49
    محترم عنائیت اللہ صاحب کا ۔’’ آئینہ وقت‘‘ میرے سامنے ہے۔ میں نے جب اس کااحتساب دیکھا۔ تو میں یکدم چونگا۔ محترم عنائیت اللہ صاحب سے تعلق آج سے اکتالیس سال پہلے قائم ہوا۔ اور وہ تعلق آج تک قائم ہے۔ اس تعلق کی وجہ برادرم محترم قبلہ واصف علی…
  • 44
    کتاب لکھنا ، کتاب پڑھنا اور پھر کتاب پر تبصرہ کرنا ایک انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے ۔ کتاب کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک صاحبِ کتاب کی شخصیت اور اس کے افکار سے شناسائی نہ ہو ۔ آئیے ! پہلے صاحب کتاب کی شخصیت سے…
  • 43
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 42
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 42
    عنائیت اللہ صاحب ان مقربان خاص میں سے ہیں۔ جنہیں جناب واصف علی واصف صاحب جیسے درویش طبع دانشور کی خدمت میں رہنے کا شرف انتہائی ابتدائی زمانہ سے نصیب رہا ہے۔ سرکاری ملازمت کی مصروفیات کے باوجود انہوں نے اپنے رفیق خاص کی خدمت میں اپنے وقت اور وسائل…
  • 40
    ’’آئینہ وقت‘‘ کم و بیش سو (۱۰۰) صفحات پر مشتمل عنائیت اللہ صاحب کی پہلی قلمی کاوش ہے۔ ہر چند کہ تصنیف و تالیف کی دنیا میں اس کتاب کا نام نیا ہے۔ لیکن اس کے مصنف کا نام نہ نیا ہے نہ ہمارے لئے اجنبی ! آپ مشہورو معروف…
  • 40
    بابا عنایت اللہ صاحب کی مختصر عرصے میں پانچ کتابیں قارئین تک پہنچ چکی ہیں ۔ چراغ وقت ۔سے پہلے ناد وقت،آواز وقت،ندائے وقت،صدائے وقت اور آئینہ ء وقت یکے بعد دیگرے شائع ہوچکی ہیں۔جیسا کہ میں اس سے قبل شائع ہونے والی کتاب میں یہ عرض کر چکا ہوں…
  • 39
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 38
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 38
    عنایت اللہ صاحب کی تازہ تصنیف (چراغ وقت) پر میرا اظہار خیال ایسا ہی ہے ۔ کہ جیسے سورج کو چراغ دکھانا۔ کہنے کو تو یہ وقت کے عنوان سے ان کی تقریبا نصف درجن کتابوں کا تسلسل ہے۔ لیکن در حقیقت یہ نوع انسانی کے موجودہ تصورات کو بدلنے…
  • 37
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 35
    عالمِ اسلام کے لئے جمہوریت ایکاہم مسئلہ ہے۔ جسے کبھی لطافت اور کبھی دل کی کسک کے ساتھ سو چا گیا ۔ اور کبھی جمہوریت کو بانسری کا الم نامہ بنا کر پیش کیا گیا اوریوں جمہوریت مسلمانوں کے لئے حقیقت، عرفان ، روحانی رموز و حقیقت کاروپ دھا ر…
  • 33
      انسانی ارتقاء تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ تبدیلی ماحول کی ہو، نظریات کی ہو یا خیالات کی، اس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ بنیادی مشکل انسان کو ہر لحظہ درپیش رہتی ہے۔ وہ چاہے تبدیلی کاخیر مقدم کرے۔ یااسے کلی طور پر رد کر دے۔ ہر مقام پراسے…
  • 33
    اشفاق احمد داستان سرائے ۱۲۱ سی ماڈل ٹاؤن،لاہور۔ ہم عنائیت کو نہیں جانتے ۔ مگر وہ ہمیں اور ہمارے مسائل کو بڑ ی اچھی طرح سے جانتا ہے۔زیر نظر کتاب سے پہلے ’’ آئینہ وقت ‘‘، ’’صدائے وقت‘‘ ، ’’ندائے وقت ‘‘ ، ’’ آواز وقت ‘‘ ، چار کتابچے…
  • 33
     کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ۔۔جب آئینہ وقت کی اشاعت نے محبان ملک وملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔ یہ ایک کتابچہ تھا ۔۔۔ کم و بیش سو صفحات پر مشتمل ۔۔۔جس میں مصنف نے پاکستان کی ۵۲ سالہ تاریخ کی کتاب کو ورق ورق کھول کر اپنے…
  • 32
    کتاب ’’آئینہ وقت‘‘ کے مصنف کو میں عرصہ پچیس سال سے جانتا ہوں۔ اور اس کے ساتھ وقت کی ہر بنت سے گذرا ہوں۔ جو دن ، دوپہر، شام ، رات، اور صبح کاذب اور صادق کے درمیان نئے نئے چھاپے چھاپتی ہے۔ اور نئے نئے رنگ ابھارتی ہے۔ عنائیت…
  • 31
    اس کتاب کا مسودہ پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ اللہ کا یہ شعر میں دیر تک زیرلب گنگناتا رہا ۔ وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام عیاری ۔ ۔ اس مسودہ کو پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ  اللہ کا…
  • 31
    زیر نظر کتاب’’ نسخہ ء انقلاب وقت‘‘ عنایت اللہ صاحب کی ساتویں کتاب ہے۔ اس سے قبل انکی شائع ہونے والی کتابوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:۔ ۱۔آئینہ وقت۔۲۔صدائے وقت۔۳۔ندائے وقت۔۴۔آوازوقت۔۵۔ناد وقت۔ ۶ ۔ چراغ وقت مصنف نے اس کتاب میںبہت سے سوال اٹھائے ہیں،ا ن میں سب سے…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Copied!