آئینہ وقت ۔۔۔۔فیض نگاہ مرد درویش تحریرپروفیسر شوکت محمودکنڈان

039

shaukatkandan


محترم عنائیت اللہ صاحب کا ۔’’ آئینہ وقت‘‘ میرے سامنے ہے۔ میں نے جب اس کااحتساب دیکھا۔ تو میں یکدم چونگا۔
محترم عنائیت اللہ صاحب سے تعلق آج سے اکتالیس سال پہلے قائم ہوا۔ اور وہ تعلق آج تک قائم ہے۔ اس تعلق کی وجہ برادرم محترم قبلہ واصف علی واصف صاحب سے ان کی نیاز مندی اور عقیدت مندی ہے۔ جو دم تحریر موجود ہے۔ سردی و گرمی کا زمانہ ان اکتالیس سالوں کی رفاقت کو نہ مٹا سکا۔ بلکہ اس میں تیزی آئی، کمی نہ آئی۔ محترم عنائیت اللہ صاحب کی تعلیمی اور روحانی تربیت اسی مرد درویش کی نگاہ کے فیض کانتیجہ ہے۔ عنائیت اللہ صاحب قبلہ واصف علی واصف صاحب کے شاگرد ان خاص میں سے ہیں۔ اور ان کے شب و روز کی ریاضت سے جتنی آشنائی جناب عنائیت اللہ صاحب کو ہوئی۔ کسی اور کو نہیں۔ یہی وجہ ہے۔ کہ جناب واصف علی واصف صاحب نے عنائیت اللہ صاحب کو اپنے فیض سے خصوصی فیض یاب کیا ۔ یہ اسی فیض کا نتیجہ ہے۔ کہ’’ آئینہ وقت‘‘ آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ ’’آئینہ وقت‘‘ میں بیباکی ء کلام اور کلمہ حق کہنے کی جرات اس بات کی مظہر ہے۔ کہ درویش صفت روباہ صفت نہیں ہوتے۔ ان کی زبان تلوار کی دھار کی طرح ہوتی ہے۔ لیکن نگاہ میں التفات مقناطیس کشش کا حامل ہوتا ہے۔
’’آئینہ وقت ‘‘ در حقیقت وقت کاآئینہ ہے۔ آئینہ اہل تصوف کے لئے وفا کا پیکر ہے۔ جب کہ دنیا داروں کے لئے بے وفائی کی علامت۔ اہل تصوف نے دل کو آئینہ سے تشبیہ دی ہے۔ اور اس کی شکستگی آئینہ ء ساز کے قرب کا جواز پیدا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔’’ آئینہ وقت‘‘ ایک ایسا ہی شاہکار ہے۔ جس میں محترم عنائیت اللہ صاحب نے تاریخ کے اوراق کی گرد کو جھاڑا۔ اور وقت کا اجلا چہرہ دنیا داروں کودکھایا۔ اصل چہرہ یہ ہے ۔ جس کی تلاش کے ہم سب متلاشی ہیں۔ جوں جوں عنائیت اللہ صاحب وقت کے چہرے سے نقاب الٹتے جاتے ہیں۔ توں توں دنیا داروں کے چہروں کے رنگ فق ہوتے جاتے ہیں۔ کیونکہ’’ آئینہ وقت‘‘ میں اپنا چہرہ دیکھنے کی جرات سوائے اہل باطن کے اور کسی کو نہیں ہو سکتی۔ اس لئے محترم عنائیت اللہ صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کہ انہوں نے اس کتابچے کو لکھ کر آنے والے وقت کی آواز سنا دی ہے۔ اب یہ ہم سب کا فرض ہے۔ کہ اس کتابچے میں چھپے اس کرب کا مداوا کریں۔ جو محترم عنائیت اللہ صاحب کے دل میں موجود ہے۔ اور جو امت مسلمہ کو ندا دے رہا ہے۔ کہ اب وقت آ گیا ہے۔ انقلاب کے آنے کا۔ اس انقلاب کا جس کی طرف قبلہ واصف علی واصف صاحب نے اشارہ اپنی ایک طویل نظم (دور کی آواز) میں کیا۔ یہ کتابچہ اسی آواز کا نقیب بھی ہے۔ جب واصف علی واصف صاحب فرماتے ہیں۔
آنے والے کمال کے دن ہیں
عظمت ذوالجلال کے دن ہیں
تو عنائیت اللہ صاحب بھی اسی عظمت ذوالجلال کے متلاشی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی تڑپ بے معنی نہیں ہے۔
عنائیت اللہ صاحب اس سے پہلے صاحب قلم نہ تھے۔ لیکن جب فیض کا سرچشمہ جاری ہو جائے۔ تو ایسی کئی کتابیں منصۂ شہود پر آ جاتی ہیں۔ کیونکہ عطا کسی کے فیض نظر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور جب اس بات کا احساس ہو جائے۔ کہ فیض کا مطمع نظر کیا ہے۔ تو ’’ آئینہ وقت‘‘ تخلیق ہو جاتا ہے۔ ’’آئینہ وقت ‘‘ در حقیقت ایک ایسا آئینہ ہے۔ جس میں ۱۹۴۷ ء سے لے کر آج تک حاکمان وقت اور صاحبان سیاست اپنا اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں ۴۵ پیراگرافوں میں تاریخ پاکستان اور موجودہ پاکستان کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کتابچے میں مردان حق اور درویشوں سے اپناکردار ادا کرنے کی التجا کی گئی ہے۔ اور لوٹ مار کی سیاست او ر مغربی جمہوریت کو امت مسلمہ کے لئے سم قاتل اور شریعت محمدی  کا نفاذ پاکستان کے لئے منبع فیض قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اکیس ایسے چبھتے ہوئے سوالات کئے گئے ہیں۔ جن کے جوابات اہل نظر کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہیں۔ ان میں محب وطن لوگوں کے لئے دعوت فکر و عمل بھی ہے۔ اور ملکی ترقی کے راز سے شناسائی بھی۔ عنائیت اللہ صاحب نے واصف علی واصف صاحب سے نیاز مندی اور ان کے افکار کی خوشہ چینی کا حق ادا کر دیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو قائم رکھے۔ آمین۔
دعا گو
((پروفیسر شوکت محمود))


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 52
    عنائیت اللہ صاحب ان مقربان خاص میں سے ہیں۔ جنہیں جناب واصف علی واصف صاحب جیسے درویش طبع دانشور کی خدمت میں رہنے کا شرف انتہائی ابتدائی زمانہ سے نصیب رہا ہے۔ سرکاری ملازمت کی مصروفیات کے باوجود انہوں نے اپنے رفیق خاص کی خدمت میں اپنے وقت اور وسائل…
  • 49
    عنائیت اللہ صاحب نے اپنی کتاب’’ آئینہ وقت‘‘ میں بڑے احسن انداز میں حقیقت نگاری کی ہے۔ اگرچہ یہ ان کی پہلی کاوش ہے۔ لیکن بڑے سلیس و سادہ زبان میں بڑے درد دل کے ساتھ اعلیٰ جذبوں کے ساتھ، اعلیٰ جذبوں سے مزین ہو کر عوام کی دکھتی رگ…
  • 48
    کتاب لکھنا ، کتاب پڑھنا اور پھر کتاب پر تبصرہ کرنا ایک انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے ۔ کتاب کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک صاحبِ کتاب کی شخصیت اور اس کے افکار سے شناسائی نہ ہو ۔ آئیے ! پہلے صاحب کتاب کی شخصیت سے…

Share Your Thoughts

Make A comment

2 thoughts on “آئینہ وقت ۔۔۔۔فیض نگاہ مرد درویش تحریرپروفیسر شوکت محمودکنڈان

Leave a Reply