علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف

030

arifseemabi

علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہے۔ مگر اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سے گہری مماثلت رکھتے ہیں۔ قدرت کاملہ نے علامہ اقبال کو وہ ارفع و اعلیٰ ادبی مقام عطا کیا ہے ۔جس بلند تر منصب تک کسی کی رسائی بھی ممکن نہیں۔ فکر اقبال کے تسلسل میں علامہ محمدیوسف جبریل کی قومی شاعری پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اسلامی تاریخ ،تہذیب مغرب، فتنۂ دجال اور عصر حاضر کی سائنسی تباہ کاریوں جیسے موضوعات پر بلند آہنگ خطابیہ لہجے میں قلم اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری کی اساس فکراقبال پر استوار کرتے ،خاک مدینہ و نجف کو اپنی آنکھ کا سرمہ بناتے اور فتنہ دور یہودی کی ہلاکت وبربادی کا سامان بہم پہنچانے کی کدوکاوش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ وہ لمحۂ موجود میں دجالی قوتوں کی ہرزہ سرائیوں کو تہس نہس کرنے کے لئے برسرپیکار ہیں، جو مغربی فلسفی فرانسس بیکن کے مادی فلسفے کو اپنے بطون میں جذب کرکے امت مسلمہ کے قومی تشخص، ملی غیرت اور عزت و وقار کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کرنے کی ناپاک کوشش میں مصروف ہیں۔ آج کا اہل علم طبقہ مشرق و مغرب کے علمی خزانوں کی حکمت و دانش سے اپنے دامن مرادکوبھرنے کی سعی میں روحانی بالیدگی، تقوی، فکر آخرت اور تعمیر سیرت و کردارسے محروم ہو کر الحاد و بے دینی اور تقلید مغرب کی روش پر چل نکلا ہے، لہذا علامہ محمدیوسف جبریل نئی نسل کو جھنجھوڑتے اور بیدار کرتے ہیں کہ وہ سر پر کفن باندھ کر اٹھے اور سائنسی علوم و فنون کو اسلامی افکار و نظریات کی روشنی میں جانچے ، پرکھے ۔ علامہ محمد یوسف جبریل خبردار کرتے ہیں کہ مغربی الیکٹرانک میڈیا اور فخاشی و عریانی کے بڑھتے ہوئے سیلاب نے ہمیں قرون اولی کے مسلمانوں کی سادگی، سچائی ، امانت ، دیانت اور صداقت کے اوصاف سے محروم کرکے کفر و شرک کی معصیتوں میں مبتلا کردیا ہے۔ مسلمان نوجوان یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہندوانہ ثقافتی یلغار اور اقوام مغرب کی ریشہ دوانیاں اسے خواب غفلت کی میٹھی نیند سلا کر قران حکیم کی تعلیمات ، جذبۂ جہاد، اور حسن عمل سے دور کرنے کے لئے رونما ہو رہی ہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل ہمیں بار بار متنبہ کرتے ہیں کہ یہ مادہ پرستی کا دور پرفتن ہے ۔ مادہ پرستی نے روحانی اقدار کا خاتمہ کردیا ہے ۔جس کی وجہ سے ہم سب تن پروری کو اپناشعار بنانے میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ بقول علامہ اقبال
من کی دنیا ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں تن کی دنیا چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
اپنے من میںڈوب کر پا جا سراغ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من
علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال کی فکری و فنی کاوشیں مسلم امہ کی نشاۃ ثانیہ کے لئے کی گئی کاوشیں ہیں۔ مگر یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ علامہ محمد یوسف جبریل نے اپنے مخصوص ادبی اسلوب میں قوم کے دل میں ملی جوش و جذبہ اجاگر کرنے کی سعی پیہم کی ہے۔ تاکہ وہ اپنے حقیقی نصب العین کو سمجھے۔ علامہ محمداقبال کے قومی موضوعات کے تتبع میں دو سواشعار پرمشتمل طویل نظم ’’نغمۂ جبریل آشوب‘‘ پڑھتے ہوئے کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ محض فکر اقبال کے تسلسل میں ہی قوم کی ذہنی آبیاری کے عمل میں مصروف ہیں۔بلکہ علامہ محمد یوسف جبریل کی قومی شاعری میں موجود ان کی تشبیہات ، استعارات، تلمیحات اور مخصوص شعری آہنگ تک ان کی فکر بلیغ گہری دینی بصیرت ، عصر حاضر پر نظر عمیق سے پھوٹتا ہے۔ جو عطیہ ء خداوندی ہے۔ ورنہ علامہ اقبال جیسے قدآور عظیم فلسفی شاعر کے اسلوب کی تقلید دراصل کار دشوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1938 ء کے بعد سے لے کر اب تک کی قومی شاعری کے مطالعے سے کوئی ایک بھی ایسا مضبوط اور توانا شاعر نظر نہیںآتا، جس نے قوم کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ بھی رکھا ہو اور وہ تکرار، توارداورکلیشے کی زد میں نہ آیا ہو ۔ مگر کمال یہ ہے کہ علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری اپنی جداگانہ ادبی شناخت اور موضوعاتی تنوع کے اعتبار سے ادبی دنیا میں ممتاز مقام حاصل کرنے کا حقدار قرار پاتی ہے۔
علامہ ابن خلدون نے ایک جگہ لکھا ہے۔ کہ جب ایک قوم دوسری قوم پر غالب آتی ہے تو یہ غلبہ صرف سیاسی اور ظاہری برتری کا نہیں ہوتا بلکہ حاکم قوم کی حکومت دلوں اور دماغوں پر بھی مسلط ہو جاتی ہے اور اخلاق و تہذیب اور مذہب میں بھی حاکم قوم کے خیالات محکوم قوم کے خیالات پر غالب آ جاتے ہیں ۔تقلید یورپ کامسئلہ مصطفی کمال پاشااور امیر امان اللہ خان کی کوششوںسے اب بہت نمایاں صورت میں مسلمانوں کے سامنے ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر پرستی اور کورانہ تقلید کا جو سبق بعض کم فہم ملادیا کرتے تھے آج شیدائیان فرنگ بھی اس کو راہ اصلاح سمجھتے ہیں اور آنکھیں بند کرکے مغرب کی ظاہری تقلید پر زور دے رہے ہیں۔ اقبال کو شکایت ہے کہ ان راہبروں نے ضروری اور غیر ضروری چیزوں میں تمیز نہیں کی اور جندل کو عود سمجھ کر غلط راستے پر جا رہے ہیں۔
قوت مغرب نہ از چنگ و رباب نے زرقص دختران بے حجاب
نے نہ سحرساحرانہ لالہ روست نے زعریاں ساق داز قطع موت
محکمی ورانہ از لادینی است نے فروغش از خط لاطینی است
قوت افرنگ از علم وفن است از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قع او برید جامہ نیست مانع علم و ہنر عمامہ نیست
اندریں راہ جزو نگہہ مطلوب نیست ایںکلہ یا آں کلہ مطلوب نیست
فکر چالاکے اگر داری بس است طبع دراکے اگر داری بس است
مصطفی کمال پاشا کی بلند بانگ مجددانہ کوششوں کی نسبت اقبال لکھتا ہے۔
مصطفی کو از تحددمہ سرود گفت نقش کہنہ را باید ربود
نونگر دوکعبہ را رخت حیات گرز افرنگ آیدش لات و منات
ترک را آہنگ نو در چنگ نیست تازہ اش جزکہنہ افرنگ نیست
مغربی تہذیب کی سطحی اور رسمی تقلید کے متعلق اقبال کا جو نکتہ نظر ہے وہ مندرجہ بالا اقتباسات سے ظاہر ہے ۔لیکن اس کے باوجود یہ بتا دینا ضروری ہے کہ اقبال ہمارے چند بااثر بزرگوں کی طرح قدامت پرست نہیں۔ وہ مغرب کی کورانہ تقلید کامخالف ہے۔ لیکن اچھی چیزیں اخذ کرنے میں کوئی نقص نہیں رکھتا بلکہ حالات زمانہ کے مطابق اسے ضروری سمجھتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اقبال نے مغرب پر سختی سے نکتہ چینی کی ہے۔اس کی ایک کتاب’ ضرب کلیم‘‘ کا سب ٹائیٹل ہے ۔’’ اعلان جنگ دور حاضر کے خلاف‘‘۔ اور اس کے کلام میں اسطرح کے کئی اشعار موجود ہیں ۔
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہو گا
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا
لیکن باوجودیکہ کلام اقبال میں کئی ایسے اشعار ہیں جنہیں قدامت پرست حلقے اپنے خیالات کو آب و رنگ دینے کے لئے پیش کرتے ہیں۔ اور اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ اقبال اپنے ماحول اور اس ردعمل سے جومغرب کے خلاف بیسویں صدی کے ربع اول میں جاری ہواتھا ۔اثر پذیر ہوا۔ علامہ محمد یوسف جبریل بھی اقوام مغرب کی علم دوستی ، تحقیق و جستجو کے زبردست مداح ہیں مگر وہ علامہ اقبال  کی طرح تہذیب مغرب کے مادی پہلوؤں پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ وہ روئے ارض کو بہشتی معاشرہ بنانے کے ساتھ ساتھ فکر آخرت پر بھی زور دیتے ہیں تاکہ بنی نوع انسان زرو مال و جواہر اکٹھے کرنے، بینک بیلنس، عالی شان عمارات، اقتدار و سلطنت ، قوت جاہ و حشمت کی اسیرہی نہ ہو کر رہ جائے۔ وہ جدید مغربی معاشرت کو دجال کے فتنے سے تعبیر کرتے ہیں۔
مولنا مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت میں رقمطراز ہیں کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ دجال ظاہر ہو گا۔ اس کا فتنہ بہت شدید ہوگا۔ ایک باغ اور ایک آگ اس کے ہمراہ ہوں گی۔ جن کا نام جنت و دوزخ رکھے گا، جہاں جائے گا یہ بھی جائیں گی مگر وہ جو دیکھنے میں جنت معلوم ہوگی۔وہ حقیقتا آگ ہو گی۔ اور جو جہنم دکھائی دے گا وہ آرام کی جگہہ ہو گی اور وہ خدائی کادعوی کرے گا ، جو اس پر ایمان لائے گا اسے اپنی جنت میں ڈالے گا۔ اور جو اس کا انکار کرے گااسے جہنم میں داخل کرے گا۔مردے جلائے گا۔ زمین کو حکم دے گا وہ سبزے اگائے گی ۔ آسمان سے پانی برسائے گا اور ان لوگوں کے جانور لمبے چوڑے خوب تیار اور دودھ والے ہو جائیں گے اور ویرانے میں جائے گا تو وہاں کے دفینے شہد کی مکھیوں کی طرح دل کے دل اس کے ہمراہ ہو جائیں گے ۔ کسی قسم کے بہت سے شعبدے دکھائے گا۔ اور حقیقت میں یہ سب جادو کے کرشمے ہوں گے ۔ اور شیاطین کے تماشے ۔ جن کو واقعیت سے کچھ تعلق نہیں ۔ اسی لئے اس کے وہاں سے جاتے ہی لوگوں کے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔
علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری کے مضامین و موضوعات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ موجودہ مغربی معاشرے کی وضع قطع ،اور اس کے تہذیبی و ثقافتی خدوخال میں فتنۂ دجال کی یہی تمام خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ لہذا امت مسلمہ کو ان جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری سے متاثر ہونے کی بجائے قران و سنت کی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرکے ان پر عمل پیرا ہونا چاہیئے۔ تاکہ وہ اپنی قابل فخر تہذیب کو اپنا سکے۔
خلق عیار کے دھوکے میں گرفتار ہوئی جھوٹے دجال کے جادو میں نگوں سار ہوئی
سحرِ کذاب ستم گر میں جو گفتار ہوئی نشۂ حرص کی شدت میں ہوس کار ہوئی
بانورے گرگ ہیں دیوانے ہوئے پھرتے ہیں لئے کفگیر دہاں تانے ہوئے پھرتے ہیں
حضرت علامہ محمد اقبال نے سرمایہ و محنت کے موضوع پر شہرہ آفاق نظم لکھی۔ وہ قران و سنت کے تابع رہ کر معاشی جدوجہد کے قائل تھے۔ وہ جاگیردارانہ سماج کے جبر و تسلط پر کاری ضرب لگاتے اور معاشی ناہمواریوں کو تہ خاک کرتے نظر آتے ہیں۔
عصر حاضر ملک الموت ہے ترا جس نے قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش
جس کھیتی سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کوجلا دو
حضرت محمد یوسف جبریل نے آج کے فتنہ انگیز دور میں بنی نوع انسان کی ہوس کاری اور حب جاہ و مال کو بطور خاص موضوع بنایا ہے۔ وہ ہمیں قران حکیم کے اس ابدالآباد پیغام کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے۔ وہ اپنے اشعار کے عمیق مطالعے اور گہرے فنی تجزیے سے ایک ایسے صوفیء کامل اور مرد درویش نظر آتے ہیں جو مال و متاع دنیا کو ہیچ سمجھتے ہوئے سوز ایمان و ایقان کے دعوے دار ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ دفینے زیر خاک دفن ہو جائیںگے اور موت عنقریب ہمارے تعاقب میں ہے۔ فنا کا موضوع صوفیوں اور جوگیوں سے عبارت ہے۔ اردو کے معروف شعراء نظیر اکبر آبادی، خواجہ میر درد، میر تقی میر،علامہ محمداقبال ،مرزا اسداللہ غالب اور اصغر گونڈوی نے بھی اس مضمون کو بحسن و خوبی نبھایا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
موت کیا آ کے فقیروں سے تجھے لینا ہے۔ موت سے پہلے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں
(درد)
موت اک ماندگی کا اک وقفہ ہے یعنی آگے چلیںگے دم لے کر
(میر تقی میر)
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیاصورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
(غالب)
جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا جب آحمدمرسل  نہ رہے کون رہے گا
(میر انیس)
وہ آج کے عہد ناپرساں میں عوام و خواص ہردو کی مادی جدوجہد اور کاوش پیہم کو روحانی ارتقاء ،تزکیہ باطن کے ذریعے متوازن کرنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ فتنہ یہودیت کو ختم کرنے کے لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سی شجاعت، ہمت، جرات اور استقامت و پامردی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ وہ شب بیداری، آہ سحرگاہی ، ایمان بالقلب اور مسلم فقر کی خصوصیات کے ذریعے اس عہد کے نامساعد حالات اور یورپی استعمارکا مقابلہ کرنے کا شعور و احساس پیدا کرتے ہیں۔ وہ امت مسلمہ کے لئے چشم بصیرت ، روحانی علوم کی تحصیل اور مادہ و روح کے توازن پر نظر ضروری قرار دیتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو مادی ترقی اور ایٹمی ہتھیاروں پر بھروسا کرنے کیبجائے قوت ایمانی سے کام لینے پر آمادہ کرتے دکھائی پڑتے ہیں۔ ان کا یہ سوز دروں دراصل علامہ محمداقبال کے سوز و ساز رومی اور پیچ و تاب رازی کا فکری تسلسل ہے۔ ماخذات
(۱) موج کوثر شیخ محمد اکرام (۲) بہار شریعت مصنفہ مولنا مفتی امجد علی اعظمی (۳) نغمۂ جبریل آشوب علامہ محمدیوسف جبریل

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 43
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 43
    علامہ محمد اقبال ترجمان حقیقت ،شاعر مشرق اور حکیم الامت فلسفی شاعر کی حیثیت سےنہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان بلکہ پورےعالم اسلام میں جانےپہچانےجاتےہیں۔ آپ نےاردو کی کلاسیکی شاعری کےمخصوص استعارات اور تلازمہ کاری کو مسلم تشخص، احساس خودی، ملت اسلامیہ کےعروج کےلئےاستعمال کیا ۔ علامہ محمد اقبال نےتاریخ اسلام…
  • 42
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “علامہ محمد یوسف جبریل اور علامہ محمداقبال۔ چند فکری مباحث تحریر محمدعارف

Leave a Reply